Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

وه اسکے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے رب کرتے ہوئے کہنے لگا تو زویا اسے دھکا دیتی بھاگتی ہوئی مینشن میں
چلی گئی تو وہ مسکراتا ہوا گاڑی بهگا لے گیا _ ساری رات جاگ کر گزارنے کی وجہ سے اسکی آنکھ لیٹ کھلی تھی اور جب اٹھ کر ٹائم دیکھا تو دن کے 11 بج رہے تھے پھر وه جلدی سے اٹھ کر واش روم گئی اور فریش ہو کر نیچے لاؤنچ میں آئی تو ملازموں کی فوج گھر میں نظر آئی اور نور میڈم کبھی ایک پہ حکم چلاتی تو کبھی کسی دوسرے پر_
یہ دیکھو یہاں اس صوفے اور ٹیبل پر کتنی مٹی ہے تمہیں دکھائی نہیں دے رہا اپنی آنکھیں کھول کر صفائی کرو_ اور تم یہاں کیا کر رہے ہو جلدی جاؤ ڈرآئنگ روم کی صفائی کرو اور بھی بہت سارے کام پڑے ہیں تمہیں پتا نہیں ہے ولی برہان ملک آرہے ہیں وه ھمارے گھر میں گند دیکھیں گے تو کیا کہیں گے اور وه کہیں پہ بھی تھوڑی سی بھی مٹی اور گند برداشت نہیں کرتے اور پھر میری معصوم بہن کو تو طعانے دے دے کر مار دیں گے کہیں گے _
دیکھو جب میں تمہارے گھر ہماری شادی کی بات پکی کرنے گیا تو تمہارے گھر میں اس قدر گند تھا کہ میرا وہاں رہنا مشکل ہو گیا اور ٹینشن ہونے لگی کہیں یہ گند مجھے ہی گندا نہ کر دے

وہ کسی بڑی عورتوں کی طرح اپنا رونا رونے لگی تو وه بچارے ملازم ایک بار پھر سے لاؤنچ کی صفائی کرنے لگے
یہ ان کی زبان دراز میڈم کا آرڈر تھا اگر نہ مانتے تو وه اپنی زبان کے جوہر دکھا دکھا کر مار دیتی_ اور لاؤنچ کے درمیان کھڑی زویا یہ سب دیکھتی رات کے سارے سین آنکھوں کے سامنے آنے لگے اسکا غصہ میں ولی کے آفس جانا پھر ولی کے کالر کو پکڑنا اور پھر ولی کا غصہ اور پھر ولی کا یوں اس پر حق جمانا وه سب یاد کرتی ایک بار پھر سبز آنکھوں میں آنسو لے آئی اسے بلکل بھی امید نہیں تھی ولی اس کے ساتھ ایسا کچھ بھی کر سکتا ہے اس پر اس قدر غصہ کرے گا زویا نے کبھی نہیں سوچا تھا اسنے تو کبھی ولی سے شادی کا بھی نہیں سوچا تھا_
میں کیسے آپ جیسے انسان کے ساتھ شادی کر سکتی ہوں جس نے میری دوست کے ساتھ برا کیا پھر آپ جیسے انسان کو تو محبت جیسے لفظ کا بھی علم نہیں ہو گا محبت تو بہت دور کی بات ہے جس انسان کو صرف غصہ آتا ہو جس انسان کو صرف خود سے محبت ہو جو انسان بہت مغرور ہو کسی سے بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتا ہو اپنے مقام سے جس شخص کو محبت ہو وه کبھی بھی کسی سے محبت نہیں کر سکتا میں آپ کی ملاذمہ نہیں ہوں جس پر آپ غصہ اپنا روعب چھاڑیں گے آپ تو مجھ سے محبت کے دعوےدار تھے آپ نے تو 5 سال پہلے سب کے سامنے مجھ سے نکاح کی بات میرے بابا سے کی پھر مجھ سے نکاح کر کے میری ہی دوست کی عزت خراب کر دی نفرت کرتی ہوں آپ سے شدید ترین میں کبھی بھی آپ جیسے گھٹیا انسان سے شادی نہیں کروں گی وه اپنی سبز آنکھوں میں ولی برہان ملک کے لیے نفرت لیے خود سے باتیں کرنے لگی اور پھر اپنے دل کی آوازوں پر آنکھوں میں آنسوں خود با خود بہنے لگے زندگی میں ایک ہی شخص سے محبت کی تھی جو اس کا مہرم تھا مگر اسی نے اس کا مان بھروسہ سب کچھ توڑ دیا تھا
اوئے زوئی کی بچی رو کیوں رہی ہو کیا ہوا ہے ولی بھائی کی ہارٹ بیٹ
نور اسے روتا دیکھ بھاگ کر اسکے پاس آئی تو زویا اسے دیکھ کر اور زیادہ رونے لگی زویا جانو بھائی کی گڑیا میری بہن کیا ہوا ہے میں نے کچھ کہا ہے کیا پلیز چپ ہو جاؤ جانو بھائی آج گھر پر ہی ہیں اور پھر ماما بابا نے بھی آ کر مجھ معصوم کو ہی ڈانٹنا ہے کہ تمہاری ہی زبان چلی ہو گی ہماری زویا معصوم کو لڑائی کا کیا پتا__

نور اسے ہگ کرتی ہوئی سوفے پر بیٹھا کر خود اسکے پاؤں میں گھٹنوں کے بل بیٹھتی اس چپ کروانے لگی_ پلیز نور مجھے نہیں جانا کہیں بھی جہاں تم سب کو چھوڑ کر جانا پڑے میں وہاں کیسے رہوں گی اتنے بڑے گھر میں اور پھر وه ولی اتنا غصہ کرتے ہیں چیختے رہتے ہیں
زویا اپنے آنسوں کو صاف کرتی نور کو بولی جو اسکی بات پر آنکھیں پھاڑے ہوئی تھی پھر زور سے پاگلوں کی طرح قہقہ لگانے لگی
اہو نو نو یا میرے اللّه زوئی کی بچی تم اس بات پہ رو رہی تھی یا میرے خدایا سب لوگ پاگل ڈھونڈتے ہیں ھمارے گھر سے جتنے مرضی لے جاؤ
نور فرش پہ گری ایک بار پھر سے قہقہ لگانے لگی اور سب ملازم ان کو خود میں مصروف دیکھ باہر کی جانب کھسک گئے آخر نور میڈم نے ان کو پاگل جو کر دیا تھا _

نوراں بیگم تم میرا مزاق اڑا رہی ہو میں نے بھائی کو بتا دینا ہے پھر اپنی بستی کی ذمہدار تم خود ہو گی_ زویا اسکو گھورتی اپنے بالوں کو پونی میں قید کرنے لگی
یار ہاہاہا ولی بھائی کی ہارٹ بیٹہاہاہا
وه اس قدر ہنس رہی تھی کہ اس سے بات نہیں کی جارہی تھی نہ ہی اس نے اپنے نام کی طرف دھیان دیا تھا کہ زویا نے اسے اس وقت کیا پکارا ہے ورنہ وه اب ہنس نہ رہی ہوتی _

کیا بکواس کر رہی ہو اور تمہیں کیسے پتا اس نام کا اور آیندہ ایسا گھٹیا لفظ میرے لئے یوز مت کرنا

اس نام پر زویا ایک دم جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اور شرم سے سرخ لال ہوتی نور کو گھورنے لگی کیوں کہ اسے پھر سے رات والی منظر سامنے آنے لگے جو سب ولی نے اس کے ساتھ کیا تھا اور رات میں وه بھی اسے اسی نام سے پکار رہا تھا نور تو وہاں نہیں تھی پھر اسے اس نام کا کیسے پتا چلا

ہارٹ بیٹ تم جانتی ہو تمہارے یہ غصہ والے پرنس روز مجھے مسیج کرتے ہیں اور پتا ہے کا کہتے ہیں _ نور اسکی گھوری پر اٹھ کر کھڑی ہوئی اور دو تین قدم پیچھے ہوئی کیوں کہ جو بات وه کرنے والی تھی اس بات پر زویا نے آج اسے بخشنا نہیں تھا
کیاااا_ تم ان سے روز بات کرتی ہو
زویا چیختی ہوئی اسکی طرف قدم لینے لگی جو مسکرا کر اپنی آئی بروز کو اوپر نیچے کرنے کے ساتھ پیچھے کی جانب قدم لے رہی تھی یس ہارٹ بیٹ
اور ولی بھائی میرا مطلب تمہارے سڑیل پرنس روز مجھ سٹار کو میسج کرتے ہیں میں بلکل بھی نہیں کرتی بلکے وه کرتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں نہیں بلکے منتیں کرتے ہیں کہ _ پلیز نور پیاری ٹوپ سٹار مجھے میری پیاری سی ہارٹ بیٹ کی پک سینڈ کر دو یہ میری گزارش ہے تم سے اور اگر تم ٹوپ سٹار میری یہ گزارش مان لو گی تو یہ ولی برہان ملک تمہارا بہت بڑا احسان مند رہے گا _
یہ بات کہتے نور کہیں کھو گئی تھی
ٹرن_ ٹرن_

وه اپنے کمرے میں بیٹھی موبائل میں ناول پڑھنے میں مصروف تھی جب ناول کی جگہ اسے دی کھڑوس زویا ہسبنڈ کالینگ لکھا آنے لگا نام پڑھتے اسکے ہاتھ سے موبائل گرتا گرتا بچا کامپتے ہاتھوں سے کال اٹینڈ کی
ججی
جی ولی بھائی_ اٹکتے اٹکتے نور نے اپنی بات مکمل کی
نور تم نے آج میری ہارٹ بیٹ کی پک سینڈ نہیں کی کیا میں اس کی وجہ جان سکتا ہوں کہ تم نے ایسی غلطی کیوں کی

ولی برہان ملک کی غصہ بھری آواز سپیکر میں گونجی_ نہیں بلکل بھی نہیں جان سکتے ایسا حق اور اجازت میں نے آج تک کسی کو بھی نہیں دی مجھ سٹار یعنی نور میران ملک سے کوئی سوال جواب کرے آگئی سمجھ
نور ایک دم سوفے سے اٹھتی ہوئی کونفیڈینٹ سے بولی
کیاااا
کیا کہا تم نے ایک بار پھر سے کہو مجھے کچھ سنائی نہیں دیا کس کو حق نہیں دیا تم نے
ولی ایک دم غصہ سے چیخا اور اس آواز سے ناجانے کتنے بڑے بڑے لوگ ڈرتے تھے یہ تو پھر بھی نور ٹوپ سٹار تھی

سوریسوری بھائی میں یہ آپ کو نہیں کہہ رہی تھی یہ تو میں آج کا اپنے ناول کی ہیرویںن کا فیمس ڈائیلاگ سنا رہی تھی پلیز مجھے معاف کر دیں میں آیندہ ایسا چول مزاق کبھی بھی آپ سے نہیں کروں گی اور میں بھول گئی تھی بس ابھی آپ کو پک سینڈ کرتی ہوں آیندہ ایسی میسٹک غلطی سے بھی نہیں کروں گی _
نور اپنی زبان کو دل میں گالیاں دیتی ولی سے معافی مانگنے لگی وہ تو اس کی غصہ بھری آواز پہ ہی دڑنے لگی تھی

گڈ آئندہ اپنی زبان کو دھیان سے چلا نا ورنہ زرام سے پہلے میں کاٹ دوں گا اور یہ ناولز کو چھوڑ کر پڑھائی پر دھیان دو ورنہ کیمسٹری میں تمہیں فیل ہونے سے یہ کرونا بھی بھی نہیں بچا سکے گا نور مس ٹوپ سٹار
اور آخری بات آیندہ پک سینڈ کرنے کے لیے مجھے دوبارہ مت کہنا پڑے
ولی برہان ملک ہمیشہ کی طرح اپنا آرڈر چلاتا کال کاٹ گیا

اہ میرے خدا یا اللّه تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میں بچ گئی _

واہ کیا کہنے نور ٹوپ سٹار آپ کے اگر یہ بات ولی بھائی دی کھڑوس سن لیتے تو میں ٹوپ سٹار کیا میرا ٹوپ جنازہ اٹھتا

وه ایک دم سے اپنے خیال سے باہر آئی تھی اور زویا کو دیکھنے لگی جو اس کو اپنی سبز آنکھوں کو چھوٹا کیے اسکی طرف قدم لے رہی تھی
تم ہر روز انکو میری پکس بھیجتی تھی شرم تو نہیں آئی تمہیں اتنا گندہ کام کرتے ہوئے آیندہ مجھ سے بات مت کرنا

زویا آنکھوں میں آنسوں لیے واپس اپنے کمرے میں بھاگ گئی اور نور صدمے سے اسکو جاتا دیکھنے لگی

یہ زویا کو کیا ہوا پہلے بھی تو میں مزاق کرتی ہوں یہ آج اتنا رو کیوں رہی ہے یا اللّه میں تو مزاق کر رہی تھی اب کیا کروں
نور زویا کے بارے میں سوچتی شازل کے کمرے میں گئی جہاں وه اپنے امریکہ کے نیو ماڈلینگ پراجیکٹ کے بارے میں فون پر بات کر رہا تھا

یس وائے نوٹ آئیل بی کم آفٹر ٹو ویکس

اوکے بائے
شازل اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا بات کر رہا تھا جب دروازہ ناک ہوا تو وه 2 ہفتوں بعد آنے کا کہتا کال کاٹ گیا
یس کم ان
اجازت ملتے نور کمرے میں داخل ہوئی اور شازل کے پاس گئی
جانو بھائی

وه شازل کے ہاتھوں کو پکڑے پریشان سی بولی

کیا ہوا اینجل اتنی پریشان کیوں ہو
شازل اسے اپنے ساتھ لگائے اس سے پوچھنے لگا
جانو بھائی وه زوئی پتا نہیں کب سے رو رہی ہے میں تو اس سے مزاق کر رہی تھی پتا نہیں اسے کیا ہوا ہے ایک تو آج لیٹ اٹھی پھر روتی ہوئی نیچے آئی میں نے جب پوچھا تو وه رونے لگی نور شازل کو سب بتاتی چلی گئی جس پر شازل نے اس کی طرف دیکھا جو خود رونے کو تیار تھی

کچھ نہیں ہوا اسے میں اس سے بات کرتا ہوں اور اینجل تم تھوڑا کم مزاق کیا کرو آج کل وه سیڈ رہتی ہے نہ اسکی شادی ہو رہی ہے تم یہاں بیٹھو میں دیکھتا ہوں اسے _

شازل اسکا ماتھے پر بوسہ دیتا روم سے چلا گیا ____

زویا بیڈ پہ لیٹی ہوئی آنسوں بہا رہی تھی جب دروازہ نوک ہوا تو وه اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنا دوپٹا سینے پہ پھیلایا
جی آ جائیں
آواز سنتے ہی شازل کمرے میں داخل ہوا جو بلیو ڈریس شرٹ جس کے بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا اور ساتھ بلیک پینٹ پہںنے رف سے حلیے میں بھی انتہا کا ہینڈسم لگ رہا تھا زویا نے دل میں ماشاء اللّه پڑھا

میری گڑیا کیوں رو رہی ہے کیا ہوا ہے میری پیاری سی گڑیا کو
شازل اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھتا اسے ہگ کرتا ہوا بولا

بھائی پلیزمجھے یہ شادی نہیں کرنی کیوں آپ لوگ مجھے خود سے دور کر رہے ہیں ولی بلکل اچھے نہیں ہیں وه بہت روڈ انسان ہیں آپ سب جانتے ہیں پھر کیوں مجھے نہیں رہنا ان کے ساتھ
وه روتی ہوئی شازل کے سینے سے لگی اپنے دل کی باتیں بتانے لگی
کیوں گڑیا تم جانتی ہو تمہیں اس دنیا میں اگر سب سے زیادہ پیار ھمارے علاوہ کوئی کرے گا تو وه ولی ہی ہے وه تم سے پاگلوں کی طرح پیار کرتا ہے پھر ایسا کیوں کہہ رہی ہو مجھے سچ بتاؤ کوئی مسلہ ہے تم بے جھیجک بتاؤ یہ مت سمجھو میں تمہارا بڑا بھائی ہوں بلکے اپنا دوست سمجھ کر سب کچھ بتاؤ جو دل میں ہے جو چیز میری گڑیا کو پریشان کر رہی ہے_

شازل اس کے سر پہ بوسہ دیتا ہوا بولا

بھائی وه بہت غصے والے ہیں ہر وقت سب کو ڈانٹتے رهتے ہیں کبھی بھی کسی سے بات نہیں کرتے خود میں مغرور رهتے ہیں کوئی اگر کچھ پوچھ لے تو سمجھو وه اس دنیا میں اپنا سکون کھو چکا ہے آپ بتائیں میں ایسے انسان کے ساتھ کیسے رہوں گی جو صرف خود کو جانتا ہو
زویا اپنی آنکھیں بند کیے دل کی سب باتیں بتانے لگی مگر وه چاہا کر بھی سب سے بڑی بات نہیں بتا سکی

بس اتنا سا میری گڑیا اتنی سی بات پہ خود کو پریشان کیا ہوا ہے ادھر دیکھو میری طرف تم جانتی ہو ولی نے کیسی زندگی گزاری ہے بچپن میں خالہ اور خالو کا انتقال ہو جانا پھر اسفند ماموں کے پاس آجانا اور پھر چھوٹی سی عمر میں اپنا بزنس سمبھالنا ان سب چیزوں نے اسے ایسا بنا دیا اور پھر اتنی بڑی جائیداد کا وارث ہونا اور پھر اس دولت اور پیسے کے باوجود اکیلا ہونا انسان کو بہت بدل دیتا ہے اور پھر تم یہ بھی جانتی ہو انسان اپنے اندر پلنے والی تنہائی اور وحشت کو کبھی کسی سے شیر نہیں کرتا ماموں اور ممانی جان اسے جتنا مرضی پیار دیں مگر اس کے اندر کے خول کو کبھی نہیں بھر سکتے
شازل کچھ دیر کے لیے روکا تھا اور زویا کی طرف دیکھا جو اس کے سینے لگی سب باتیں سنتی آنسوں بہانے لگی_ ولی جیسا انسان اگر ہم اس دنیا میں بھی ڈھونڈنا چاہیں نہ تب بھی کہیں نہیں ملے گا میں نے اور زرام نے ساری زندگی اس کے ساتھ گزاری ہے ہم نے کبھی بھی اسے کسی سے دوستی کرتے نہیں دیکھا نہ ہی بات کرتے اس نے آج تک ہم دونوں کے علاوہ کسی سے دوستی نہیں کی اور آج تک اس انسان نے کبھی بھی ہم سے نہ تو کبھی اپنا درد ہمیں بتایا ہے نہ ہی اسے کبھی ہم نے ہنستے دیکھا ہے وه مغرور نہیں ہے اسے خالہ اور خالو کی ڈیتھ نے اس قدر خاموش اور تنہا بنا دیا ہے کہ اسے ہر طرف خاموشی پسند ہے اور زیادہ بولنے والے لوگوں سے وه یریٹیٹ ہوتا ہے
زندگی میں آج تک اس نے کسی سے کچھ نہیں مانگا تھا نہ ہم سے نہ ہی اسفند ماموں سے مگر 5 سال پہلے اس نے ہم سب کے سامنے تمہیں مانگا تھا یاد ہے نہ کیسے کہا تھا اس نے کہ_ . میں آج تک آپ سب سے کچھ بھی نہیں مانگوں گا بس اپنی یہ چھوٹی سی سبز آنکھوں والی معصوم گڑیا ولی کے نام کر دو میران خالو میں اس کی حفاظت اپنی جان سے بھی بڑھ کر کروں گا کبھی اس کی آنکھوں میں آنسوں نہیں آنے دوں گا پلیز آج اور اسی وقت میرا اس سے نکاح کر دیں_
وه ولی برہان ملک جو آج تک اپنے بابا اور ماما کو موت پر کسی کے سامنے نہیں رویا تھا وه تمہارے لیے سب کے سامنے رو کر تمہیں مانگ رہا تھا جسے تم مغرور کہہ رہی ہو گڑیا اس نے اپنی سب آنا سائیڈ پہ رکھ کر تمہیں رو کر ہم سے مانگا کہ اپنی یہ بیٹی مجھے دے دو ورنہ یہ ولی مر جائے گا اس کے بغیر سانسیں نہیں لے پائے گا چاہے آپ لوگ اسکی رخصتی نہ کریں بس میرے نام کر دیں میں زندگی میں کبھی بھی آپ سے کچھ نہیں مانگوں گا

تو پھر گڑیا تم اسے مغرور کیوں کہہ رہی ہو کیا ایسا شخص مغرور ہو سکتا ہے جو رو رو کر کسی انسان کے آگے ہاتھ پھلائے اور دیکھو گڑیا تم وه واحد لڑکی ہو جو ولی برہان ملک کو اندھیروں کی دنیا سے نکال سکتی ہے جو اس کا ہر درد بانٹ سکتی ہو جس نے آج تک مجھے اور زرام سے بھی نہیں بانٹا پلیز گڑیا ولی کے لیے دل میں نفرت پیدا مت کرنا وه تمہارے دل میں اپنے لیے کبھی بھی نفرت برداشت نہیں کر سکے گا

تم مجھسے وعدہ کرو تم کبھی بھی ولی کو تکلیف نہیں پہنچاؤ گی بولو گڑیا وعدہ کرو گی_
شازل اس کے سامنے ہاتھ كیے اسکے جواب کا انتظار کرنے لگا جو اپنی سبز آنکھوں میں آنسوں لیے شازل کو دیکھ رہی تھی پھر نہ چاھتے ہوئے بھی شازل کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر وعدہ کر گئی مگر شازل کہاں جانتا تھا کہ وه تو 5 سال پہلے سے ہی اسکو ناجانے کتنی تکلیفوں سے دو چار کر چکی ہے