No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
اوکے میں آیا فریش ہو کر
وه کہتا ہوا سیڑھیاں چڑتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا_ جیسے ہی وه کمرے میں داخل ہوا تو اندھیرا ہی اندھیرا نظر آیا پھر ہاتھ بڑھا کر لائٹ ان کی تو کمرہ روشنی سے نہا گیا شازل نے رکی ہوئی سانس خارج کی آج بھی اسکا کمرہ ویسا ہی تھا جیسا وه 5 سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا جہازی سائز بیڈ جس پر نیوی بلو چادر بیچھی ہوئی تھی بلیک کلر کی بیک وال جس پہ اسکی ڈھیر ساری تصویریں لگی ہوئیں تھی باکی والز پہ شیشے کا کام ہوا ہوا تھا بلو اور بلیک کلر کے پردے ، دائیں جانب ڈریسینگ روم اور اٹیچ واش روم اور بائیں جانب 2 سینڑ سوفہ اور اسکے سامنے رکھی چھوٹی کانچ کی ٹیبل اور سامنے ڈریسینگ ٹیبل،وه چلتا ہوا شیشے کے سامنے گیا اور اپنی ٹی شرٹ اتارتا اور بالوں کو کھولا چھوڑتا واشروم گھس گیا_
20 منٹ بعد ٹاول باندهے باہر نکلا اور ڈریسینگ روم میں چلا گیا اسے یقین تھا اسکے کپڑے پڑے ہوں گے ابھی کے لیے اسے گزارہ کرنا تھا کیوں کہ وه اپنے ساتھ کوئی سامان نہیں لے کر آیا تھا بلکے اسے ٹھیک 1 مہینے بعد واپس جانا تھا _
وائٹ ڈریس شرٹ کے ساتھ ٹراوزر پہنے باہر نکلا اور شیشے کے سامنے کھڑا ہوتا بال كنگهی کرنے لگا
اس بار تمہیں اپنا نہ بنایا تو کہنا مس جان میں شازل میران ملک تم سے وعدہ کرتا ہوں اس بار پیچھے نہیں ہٹوں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے اس بار اس 1 مہینے کے اندر تمہیں اپنی بیوی نہ بنایا تو کہنا اس بار تمہاری ایک نہیں سنوں گا تمہیں خود میں قید کر لوں گا اس قدر تمہیں اپنا عادی بنا دوں گا کہ تم میرے بنا ایک پل سانس بھی نہیں لے پاؤ گی میری جان مس جاناں تیار ہو جاؤ شاز کا بننے کے لیے شازل میران ملک اس بار تیار ہو کر آیا ہے تمہیں اپنا بنانے مائی لو _ شاز مسكراتا ہوا خود سے باتیں کرتا روم سے باہر چلا گیا _________
ہائے میرے مولا کہاں چلا گیا میرا شونا مل جاؤ پلیز ورنہ تمہاری یہ نور تمہارے بغیر بلکل تنہا ہے _
نور لاؤنچ میں ہر جگہ دیکھتی اپنی کل جائیداد ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ تھی کہ اسکی مینتوں پر بھی سامنے ہی نہیں آ رہی تھی_
کیا ہوا مائی اینجل کیا ڈھونڈ رہی ہو
شازل سیڑھیاں اترتا ہوا اسکے پاس آیا
جانو بھائی میرا همسفر نہیں مل رہا پتا نہیں کہاں کھو گیا ہے
وه منہ بسورتی سوفے پہ جا کے بیٹھ گئی_ اینجل تمہیں پتا بھی ہے تم کیا کہ رہی ہو ڈیڈ کو اس بارے میں پتا ہے کیا اور تم نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی
شازل تو شاکڈ ہی ہو گیا کہ اسکی چھوٹی سی اینجل اتنی بڑی ہو گئی پریشانی سے وه اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرنے لگا
ارے جانو بھائی میرے همسفر کے بارے میں تو سب جانتے ہیں بابا نے ہی تو لا کر دیا ہے وه بھی اپنی پسند کا_ وه خوش ہوتی اپنے جانو بھائی کو شاک دینے لگی
کیا ڈیڈ نے تمہیں لا کر دیا ڈیڈ پاگل ہو گئے تھے کیا مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی ڈیڈ نے تمہیں اتنی چھوٹی سی عمر میں اففف میرے مولا آگے چل کہ پتا نہیں کون سے شوک ملنے ہیں
وه اپنے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتا اسکی جانب جھکتا پوچھ رہا تھا اور پریشانی اسکے چہرے سے صاف نظر آ رہی تھی _
اہ جانو بھائی اب آپ نے مما جان کی طرح میرے همسفر کے بارے میں کچھ نہیں کہنا نہیں تو میں نے ناراض ہو جانا ہے
وه شازل کو سائیڈ پہ کرتی سوفوں کے نیچے دیکھنے لگی
یہ کیا کر رہی ہو اینجل
وه اسکی عجیب سی حرکتوں پر حیران ہونے لگا_ جانو بھائی بتایا تو ہے اپنے همسفر کو ڈھونڈ رہی ہوں جو نجانے اپنی نور ڈارلنگ کے بغیر کون سے سیر سپاٹوں پہ نکل گیا_
نور اپنی گردن شازل کی طرف گھوما کر جواب دیتی واپس اپنے کام میں مصروف ہو گئی
اف اینجل وه انسان ہے سوفوں کے نیچے فٹ تھوڑی ہو گا مجھے تو ڈیڈ پہ غصہ آ رہا ہے اور اب تم مجھے غصہ دلا رہی ہو
وه سوفے پر بیٹھتا اسکی حرکتوں کو دیکھنے لگا
آآآآآ _
وه چیختی ہوئی فرش سے اٹھ کھڑی ہوئی اینجل کیا ہوا کچھ لگ گیا کیا گڑیا بتاؤ کیا ہوا
شازل بھاگ کر اسکے پاس گیا اور اسکے ہاتھوں اور پاؤں کو دیکھنے لگا
کیا ہوا نور کیوں چیخ رہی ہو میری تو جان ہی نکال دی تم نے کیا ہوا ہے ایسے کیوں رو رہی ہو میری گڑیا __
صوفیہ بیگم بھی کیچن سے باہر نکلتی اسکے پاس آئیں _ بھائی کیا ہوا ہے نور کو اور یہ اس طرح خاموش کیوں کھڑی ہے جیسے اسے کوئی صدمہ لگا ہو_
زویا نور کے بال چہرے سے ہٹاتے پریشانی سے اپنی بھائی سے پوچھنے لگی جو خود پریشان سا کھڑا تھا نہ تو نور کچھ بول رہی تھی نہ ہی کچھ سن رہی تھی بس آنسوں بہا رہی تھی
پتا نہیں گڑیا مجھے خود کچھ نہیں بتا رہی اینجل بتاؤ یار کیا ہوا ہے اور آنسوں بہانہ بند کرو مجھے تکلیف ہو رہی ہے
وه اسکے آنسوں صاف کرتا اپنی اینجل کو چپ کروانے لگا
میرا همسفر ٹوٹ گیا وه دیکھیں
وه سامنے سوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئی پھر سے رونے لگی تو شازل نے غصے سے سامنے سوفے کی طرف دیکھا جہاں اسکا همسفر مطلب اسکا موبائل ٹوٹی ہوئی سکرین کے ساتھ پڑا اپنی نور ڈارلنگ کی طرح رو رہا تھا
افف ہو تم نے ڈرا دیا ہمیں کوئی بات نہیں میری گڑیا ہم تمہیں نیا لا دیں گے_ صوفیہ بیگم اسے اپنے ساتھ لگاتی ہوئی بولیں اور زویا اسکا همسفر اٹھا کر لائی____
ہاں نور بابا تمہیں سیم ایسا لا دیں گے تم رونا بند کرو ورنہ میں نے بھی رونے لگ جانا ہے
انکو کہاں برداشت تھا ان کا سکون انکی جان نور روئے اس لیے نور جب بھی روتی تھی تو زویا بھی ساتھ رونے لگ جاتی_
شاز تمہیں کیا ہوا ہے تم کیوں صدمے میں چلے گئے ہو_ صوفیہ بیگم شازل کو دیکھنے لگی جو کب سے خاموش کھڑا تھا جیسے اسے بہت گہرا شاک لگا ہو
موم کیا یہ موبائل نور کا همسفر تھا کیا یہ ڈیڈ نے لا کر دیا تھا جس کی وجہ سے یہ رو رہی تھی اور خود کو اسکی ڈارلنگ کہہ رہی تھی_
شازل گم سم سا اپنی موم سے پوچھنے لگا جو اس کو حیران ہو کر دیکھ رہیں تھی_ ہاں یہی ہے نور کا همسفر 1 سال پہلے اس کے بابا نے اسے یونیورسٹی جانے سے پہلے لے کر دیا تھا تو تب سے یہ اسے اپنا همسفر کہتی ہے_______
اففف میرے خدایا _ وه ایک دم سوفے پہ گرا تھا_
کیا ہوا جانو بھائی آپ کو بھی میرے همسفر کا افسوس ہو رہا ہے
وه سوں سوں کرتی شازل کے پاس آئی تو شازل نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا
میری پیاری اینجل کیوں اس پرانے همسفر کے لیے رو رہی ہو میں تمہیں نیا لا دوں گا وه بھی آئی فون کا لیٹیسٹ ماڈل اب تم نے رونا نہیں ہے اوکے
وه اسے اپنے سینے سے لگا گیا
سچچچچچ جانو بھائی
نور اپنے جانو بھائی کی بات سن کر خوشی سے چیخی تھی
یس میری اینجل اب رونا نہیں ہے اوکے_ همم اب نہیں روں گی ٹوٹنے والی چیز تھی ٹوٹ گئی زوئی تم اسے سٹور روم میں رکھ دینا ٹھیک ہے
وه سوفے پہ ٹیک لگاتے ہوئی زویا کو آرڈر دینے لگی تو شازل اور اسکی موم تو اس ڈرامے باز کو دیکھ رہے تھے آئی فون کا نام سنتے ہی بچارے اپنے همسفر کو سٹور روم میں رکھنے کا کہہ رہی تھی جس کی وجہ سے اسنے شازل کو اتنا بڑا صدمہ دے دیا تھا کیا چیز تھی آخر
ابھی تمہارا آئی فون نہیں آیا جو تم مجھے آرڈر دے رہی ہو اور کتنی بےوفا ہو جو اس همسفر کو بھول گئی ہو
زویا اسکو شرم دلانے لگی جو نور میں تو بلکل نہیں پائی جاتی تھی
زویا کی بچی تم تو چپ کرو بس یہ سوچو جب میں یونی جاؤں گی تو مجھ سے جلنے والے اور زیادہ جل جائیں گے بلکے جل کر راکھ ہو جائیں گے
وه اٹھ کر گول گول گھومنے لگی
اسکا کچھ نہیں ہو سکتا آؤ زویا کیچن میں چلیں تمہارے بابا بھی آنے والے ہیں
صوفیہ بیگم زویا کو ساتھ لیتی واپس کیچن میں چلی گئیںتو وه بھی اپنے جانو بھائی کے پاس بیٹھتی آئی فون کے بارے میں پوچھنے لگی آخر اب وه بھی اس پہ ٹک ٹاک بنائے گی اور پھر اپنی فرینڈز کو دکھائے گی _ سلطان ملک اور فہمیدہ بیگم کے تین بچے تھے سب سے بڑا اسفند ملک اسکے بعد سعدیہ ملک اور سب سے چھوٹی صوفیہ ملک اسفند ملک نے آمنہ بیگم سے شادی اپنی پسند سے کی تھی جن کے تین بچے ہیں( فیضان ،زرام اور سب سے چھوٹی جاناں ) اور اسکے بعد سعدیہ ملک کی شادی اپنے بھتیجے برہان ملک کے ساتھ کی جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا جن کے 2 بچے ہیں (سب سے بڑی ماہین اور اس سے چھوٹا ولی) اور سب سے آخر میں صوفیہ کی شادی اپنی بہن کے بیٹے میران ملک کے ساتھ کی جن کو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پالا تھا کیوں کہ ان کی بہن بیوہ ہو کر اپنے میران کے ساتھ واپس اپنے بڑے بھائی سلطان کے گھر واپس آگئی تھی پھر کچھ عرصے بعد دنیا سے چلی گئیں تھی جب میران نے اپنی بزنس اسٹڈی مکمل کی اور پھر اپنا بزنس سٹارٹ کیا جس میں اسفند ملک اور سلطان صاحب نے مدد کی تھی اور پھر شادی کے بعد اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو گئے اللّه نے ان کو 3 بچوں سے نوازا شازل ،زویا اور نور جو ابھی بھی پڑھ رہی ہے کیوں کہ وہ خاندان میں سب سے چھوٹی اور شرارتی ہے باکی سب اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں________
رات آٹھ بجے سب کھانے کی میز کے گرد بیٹھے تھے سربراہی کرسی پر اسفند صاحب انکی دائیں جانب آمنہ بیگم انکے ساتھ جاناں اور بائیں جانب فیضان بھائی ان کے ساتھ ماہین بھابی جن کی شادی 1 سال پہلے ہی ہوئی تھی_ اب کیسی طبیت ہے میری بیٹی کی
اسفند صاحب نے جاناں کو پكارا جو خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف تھی_ جی بابا جان اب ٹھیک ہوں ہلکا سا بخار ہو گیا تھا
وه مسکرا کر اپنے بابا کی طرف متوجہ ہوئی
ارے چندا کوئی ٹینشن تھی کیا
فیضان بھائی نے اسکے بیمار ہونے کی وجہ پوچھی
نہیں نہیں بھائی بس ایسے ہو گیا تھا 3 دن سے آفس میں بہت کام تھا تو تھکاوٹ ہو گئی تھی آپ لوگ پریشان نہ ہوں میں اب ٹھیک ہوں ہاں سہی کہہ رہی ہے چندا اب بار بار پوچھ کر اسے پریشان نہیں کرو فیضان
ماہین بھابی اسکے چہرے پہ پریشانی دیکھتی ہوئیں فیضان کو ٹوکا
اسفند وه مجھے آپ کو اور فیضان کو ایک اچھی خبر سنانی تھی پتا ہے شازل واپس آ گیا ہے
آمنہ بیگم خوشی سے ان کو بتانے لگی جو پہلے سے ہی مسکرا رہے تھے __
ہاں وه میں نے نیوز سنی تھی میں اور فیضان ایک ساتھ ہی تھے بہی ہمارا شہزادہ بہت مشہور ہو گیا ہے مجھ تو بہت خوشی ہوئی یہ سب جان کر_
اسلام و علیکم!!!!!!!!!!
اسفند صاحب کی بات بیچ میں رہ گئی جب زرام اسفند ملک لاؤنچ میں داخل ہوا اور سب کو سلام کیا _
والیکم اسلام برخردار آج اتنی جلدی کیسے اپنا دیدار کروا دیا_
Oh Come on dad
روز ہی کرواتا ہوں وه الگ بات ہے آج کچھ جلدی کروا دیا_
زرام چلتا ہوا ان کے پاس آیا اور فیضان کی کرسی کے پاس کھڑا ہوا
بہت ہی کوئی تیز انسان ہو تم باپ سے بھی زیادہ ہوشیار ہو _
اسفند صاحب نے اپنے خوبرو بیٹے کی طرف دیکھا
ہاہاہا ڈیڈ اگر ہوشیار نہ ہوتا تو آج یہ وردی مجھ پہ نہ ہوتی__
وه اپنی وردی کی طرف اشارہ کرنے لگا_ بلکل سہی کہہ رہا میرا زر اگر یہ ہوشیار نہ ہوتا تو آج یہ پولیس والا نہیں ہوتا
فیضان زرام کو محبت سے دیکھتا ہوا بولا جو اب اس کے بال خراب کر رہا تھا
اچھا بہی تم لوگوں نے اسے باتوں میں لگا لیا آجاؤ بیٹھو زرام میں تمہاری پلیٹ میں کھانا نکالتی ہوں
آمنہ بیگم اپنے بیٹے کو بیٹھنے کا کہنے لگی جو جاناں کو دیکھ رہا تھا
نہیں مما جان میں ابھی فریش ہوں گا پھر ایک کیس کی اسٹڈی کرنی ہے پھر ٹائم ہوا تو کھانا کھا لوں گا اب میں روم میں جا رہا ہوں فریش ہونے_
بھائی
ابھی وه مڑا ہی تھا کہ جاناں جھٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی جو اس سے بات نہیں کر رہا تھا نہ ہی آج اس کے پاس آیا تھا همم بولو
وه اسکی طرف متوجہ ہوا جو اسکے پاس آکر کھڑی ہو گئی تھی اور پھر تھوڑا اٹھ کر زرام کے ماتھے پہ بوسہ دیا تھا اسکی عادت تھی وه جب بھی گھر آتا تھا وه اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتی تھی کیوں کہ زرام اسفند ملک جاناں کا فخر تھا ایک بہن کا فخر تھا
سوری آیندہ بیمار نہیں ہوں گی آج کے لیے معاف کر دیں
وه اسکے کندھے پہ سر رکھ گئی_
میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہو سکتا جاناں گڑیا_ زرام نے اسکے سر پہ بوسہ دیا_
افف تم دونوں کبھی اپنی اس بھابی کو بھی پوچھ لیا کرو
ماہین منہ بسورتی دونوں بہن بھائیوں کے پاس آئی ارے آپ کو کون بھول سکتا ہے میری بھابی کم بڑی بہن زیادہ ہیں یہ فیضی بھیا نے سب بیگاڑ دیا ورنہ آپ ہماری بڑی بہن ہی رہتیں
زرام ماہین کے ہاتھوں پہ بوسہ دیتا اپنے بھائی کو چھیڑا جو اسے گھور رہا تھا جاناں کھلکھلا کر ہنسی تو ماہین نے زرام کے کندھے پہ چپیٹ ماری
اسفند صاحب اور آمنہ بیگم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے کہ اللّه نے ان کو کتنی اچھی اور نیک اولاد سے نوازا تھا
بس کرو بغیرتو کبھی باپ کا بھی لحاظ کر لیا کرو
وه اپنی بے شرم اولاد کو شرم دلانے لگے
ارے ڈیڈ آپ نے کبھی ہمارا لحاظ کیا ہے جو اپنے جوان جہاں اولاد کے سامنے ہماری مما جان کو گھور رہے ہوتے ہیں ہاہاہا زرام کی بات پر لاؤنچ میں سب کا کہکا گونجا تھا
وه زرام اسفند ملک تھا جو ہر طرف نہ دیکھنے کے باوجود سب دیکھ لیتا تھاکوئی بھی چیز اس سے چھپی نہیں رہ سکتی تھی ایسے تو وه ایس پی زرام اسفند ملک نہیں بنا تھا
شرم کر لو بیٹا جو تمہارے پاس ہے نہیں پھر بھی تمہیں نصیحت کر رہا ہوں جو تم میرے ساتھ کرتے ہو یہ نہ ہو کل تمہاری اولاد بھی تمہارے ساتھ یہی کرے اور تمہیں اپنی ماں کے پاس بھٹکنے نہ دیں _
اسفند صاحب نے ہمیشہ کی طرح اسے شرم دلائی جو ہمیشہ سب کے سامنے ان کو شرمندہ کر دیتا تھا
ارے ڈیڈ ٹینشن نہ لیں میں ان کے پیدا ہوتے ہی ان کو بورڈینگ اسکول بھیج دو گا
وه ان کو اپنی ہمیشہ والی بات کہتا اور آخر میں آنکھ مارتا سیڑھیان چڑھ گیا
پتا نہیں یہ کس پہ چلا گیا بےشرم آدمی
اسفند صاحب زرام کو گھورتے بولے جہاں وه آخری سیڑھی چڑھ رہا تھا
بابا مما کہتی ہیں زرام بھائی آپ پر گئے ہیں هاهاهاهاها جاناں اپنی مسكراہٹ روکتی اپنے بابا کو چھیڑنے لگی تو ایک بار پھر سے سب کا کہکا گونجا جس میں سب سے اؤنچا اسفند صاحب کا تھا پھر اپنی ہنسی کو روکتے فیضان کو پكارا جو ناجانے ماہین کو آہستہ آواز میں کیا کہہ رہا تھا _________
اچھا فیضان ٹائم کیا ہوا ہے _ بابا ابھی تو ساڑھے آٹھ ہوئے ہیں خیریت
وه سیدھا ہوتا اپنے بابا کی طرف متوجہ ہوا _ ہاں میں سوچ رہا تھا میران کے گھر چلتے ہیں پتا نہیں وہاں کیا ہو رہا ہو گا دونوں باپ بیٹے زدیوں کے سردار ہیں
انکی بات پہ سب انکی طرف متوجہ ہوئے
ہاں سہی کہہ رہے ہیں آپ میں نے شازل بیٹے کو بھی کہا تھا ہم شام میں چکر لگائیں گے مگر میران اسے معاف نہیں کرے گا تو پھر_
آمنہ بیگم اسفند صاحب سے اتفاق کرتی ہوئیں بولیں_ ارے یہ ہماری جاناں ہے نہ وه منائے گی میران انکل کو اس کو ساتھ لے چلتے اس کی تو انکل کوئی بھی بات نہیں ٹالتے کیوں جاناں چلو گی نہ_
فیضان کی بات پر سب جاناں کو دیکھنے لگے جو شازل نامے سے بیزار ہوئی بیٹھی تھی_
ہاں چندا بولو نہ چلو گی _
ماہین بھابی بھی اسکی رائے لینے لگی_ اوکے میں تیار ہو کر آتی ہوں مگر ہم گھر جلدی سے آ جائیں گے _
وه ان سب کی مدد طلب نظروں کو دیکھتی ہامی بھر گئی جو مدد طلب نظریں شازل میران ملک کے لیے تھیں _ اوکے اوکے تم چلو تو سہی
ہمم میں 15 منٹ میں آئی
وه کہتی اپنے روم کی طرف چل دی
اہمممم اچھا ہوتا اس واحیات انسان کو انکل سے مار پڑتی اور ساری ریپو کا بیڑا غرق ہوتا بڑے بالوں والا جنگلی کہیں کا بس اللّه نے اتنے پیارے خوبصورت دمپل اسکو دیے ورنہ تو کچھ نہیں اس جنگلی میں پتا نہیں کون سی حوریں ہیں جو اس کو پسند کرتی ہیں آیا بڑا دی نمبر ون _
جاناں اپنے كپڑے لیتی شازل دی نمبر ون کو برا بھلا کہتی واش روم گھس گئی اور اگر وه خود یہاں ہوتا اور اپنی اتنی خوبصورت تعریف پہ پہلی فرصت میں ہی اوپر کا ٹکٹ کٹوا چکا ہوتا
وه سکن کرتا اور وائٹ کیپری کے ساتھ چھوٹی مگر خوبصورت بلیک ہیلز پہنے دوپٹے کو ایک سائیڈ پہ گرائے ،بالوں کو کھولا چھوڑے اور میک اپ کے نام پہ پنک كلر کی لیپسٹک لگائے وه سادگی میں بھی غضب ڈھا رہی تھی_ چلیں بابا جان
جاناں تیار ہو کر لاؤنچ میں آئی جہاں اسفند صاحب اس کا انتظار کر رہے تھے باکی سب پہلے سے ہی گاڑی میں بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے
ہانجی چلو بابا کی جان _ اسفند صاحب اسے اپنے حصار میں لیتے باہر کی جانب بڑھ گئے__
بس کر دیں ڈیڈ ضروری نہیں ہے باپ بزنس مین ہو تو بیٹا بھی بزنس مین ہی ہوتا ہے مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے بزنس میں کیوں کہ میرا پیشن موڈلینگ تھا ہے اور ہمیشہ سے یہی رہے گا_
اگر تم نے یہ بیغیرتی والا کام کرنا تھا تو واپس ہی کیوں آئے ہو میں نے تمہیں واپس آنے کا نہیں کہا تھا اگر یہاں رہنا ہے تو میرے ساتھ آفس کو سمبھالنا ہو گا ورنہ میں آج بھی اور ہمیشہ کی طرح یہی کہوں گا مجھے ضرورت نہیں ہے تمہاری تم جا سکتے ہو واپس اگر یہ کتا کام کرنا ہے تو
میران ملک اور شازل میران ملک لاؤنچ میں آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے سے ہمیشہ کی طرح لڑنے میں مصروف تھے اور صوفیہ بیگم اور زویا پریشانی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی کہ آخر ان کی آپس میں کیوں نہیں بنتی تھی کہنے کو دونوں باپ بیٹا تھے مگر لڑتے میاں بیوی کی طرح تھے جن کو زبردستی ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا گیا ہو
اور نور میڈم ان کے پاس کھڑی اپنی باری آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ کب وه چپ ہوں اور وه بولنا سٹارٹ کرے آخر کو اسکی زبان پہ خارش جو ہو رہی تھی
میری بات بھی سن لیں میں آج اگر واپس آیا ہوں تو صرف اپنی موم اور بہنوں کے لیے نہ کے آپ کے لیے کیوں کہ مجھے پتا تھا آپ کو میری کبھی ضرورت نہیں پڑے گی مجھے تو موم پہ افسوس ہوتا ہے آخر اتنے سال کیسے گزار لیے آپ جیسے ذیدی انسان کے ساتھ نہایت افسوس کی بات ہے موم بیچاری کی زندگی خراب ہو گئی
ہاہاہہاہا
شازل کی اس بات پہ نور کا کہکا نکلا مگر میران صاحب کی گھوری پر اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھ گئی اور چہرے پر تاسر ایسے تھے کہ اب میرا کیا قصور ہے جانو بھائی نے بات ہی ایسی کہی تھی
اور صوفیہ بیگم تو اپنے بیٹے کی باتوں پر اسکو گھورے جا رہی تھیں کہ بیٹا تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا اور زویا میڈم ہمیشہ کی طرح ویڈیو بنانے میں مصروف تھی جیسے یہاں تو فلم کی شوٹنگ چل رہی ہے اور وه ٹھہری کیمرا مین اہ معاف کرنا کیمرا مین نہیں نہیں کیمرا ویمن
بکواس بند کرو شازل میں تمہارا باپ ہوں تم میرے باپ نہیں ہو اور اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھو ورنہ میں ہاتھ اٹھانے میں بھی گریز نہیں کروں گا
اب کی بار میران ملک دھاڑے تھے جس پر سب کامپ کے رہ گئے اور نور تو بھاگ کر اپنی مما جان کے پاس گئی تھی مگر سدا کا ڈھیٹ شازل میران ملک اب بھی مسکرا کر اپنے ڈیڈ کو دیکھتا اپنے ڈممپلز کی نمائش کر رہا تھا___
اچھا تو آپ مجھے ماریں گے
وه چلتا ہوا ان کے نزدیک گیا تو باکی سب حیرت سے اس کو دیکھنے لگی حیران تو میران ملک بھی ہو گئے تھے مگر یہ کیا
تو ماریں نہ یار میں تو ان پانچ سالوں میں ترس گیا ہوں آپ کی مار کو یار آپ گلے لگائیں نہ لگائیں مگر ایک تھپڑ تو ضرور ماریں میں افف تک نہیں کہوں گا بس آپ نے یہ آفس کا نام نہیں لینا موڑ ہی سارا خراب ہو جاتا ہے
وه جاناں کی طرح ناک چڑہاتا ہوا اتنا پیارا لگا کہ زویا نے پھر سے کیمرہ ان کرتی اسکی تصویر بنا گئی
ہاہاہا
اب کی بار پھر سے کہکا نکلا تھا مگر یہ کہکا نور کا نہیں بلکہ اسفند صاحب، آمنہ بیگم، فیضان اور ماہین کا نکلا تھا جو کب سے لاؤنچ کے اینٹرنس میں کھڑے ان کو لڑتا دیکھ رہے تھے اور جاناں تو مسلسل شازل کو گھور رہی تھی کہ کتنا بدتمیز انسان ہے اسکے فیورٹ انکل کا مذاک اڑا رہا ہے_ اسلام و علیکم انکل__
جاناں آگے بڑھتی میران انکل کو سلام کیا جو سب کو دیکھتے ان کے پاس آ رہے تھے
والیکم سلام میری بیٹی
میران صاحب اسکے پاس آئے اور اس کے سر پہ پیار کیا تو باکی سب شازل سے اور صوفیہ، زویا اور نور سے ملنے لگے اور پھر سب سوفوں پر جا کر بیٹھے
اسلام و علیکم جان مائی لو کیسی ہو
شازل اسکا راستہ روکتا سامنے آ کر کھڑا ہو گیا جو سامنے سوفے پر بیٹھنے جا رہی تھی
پیچھے ہٹیں اور یہ گھٹیا بکواس کسی اور سے کیجیے گا اور یہ ڈمملز کو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ میں____
ورنہ تم ان کو چوم لو گی رآئٹ
شازل جاناں کی انگلی نیچے کرتا اسکی بات بیچ میں پکڑ گیا جو اسکو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی
افف بےشرم آدمی چھوڑو میری فینگر سب دیکھ رہے ہیں جاناں اپنی فینگر اسکے ہاتھ چھڑواتی آہستہ آواز میں غصے سے غرآئی
بہت خوبصورت لگ رہی ہو جان دل تو چاہ رہا ہے سب یہی ہیں کیوں نہ مولوی صاحب کو بلا کر نکاح پڑھوا لیں_ شازل مسکراتا ہوا اسکو آنکھ مارتا ہوا بولا تو وہ اسکی اس بات پر اپنا ہاتھ چھڑواتی اسکے پاؤں پہ ھیل زور سے مارتی ہوئی سوفہ پہ جا کر بیٹھ گئی اور اپنی نظریں غصے سے پھیر گئی تو وه بھی اسکو گھورتا اسی کے ساتھ سوفے پر بیٹھ گیا کیونکہ باکی سوفوں پر جگہ نہیں تھی _
یار میران جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا_ اسفند صاحب میران صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے جو ان کے سامنے سوفے پہ صوفیہ بیگم کے ساتھ بیٹھے تھے ساتھ والے سوفے پہ جاناں نور اور شازل بیٹھے تھے جاناں کو وہاں بیٹھے دیکھ نور اس کے ساتھ آ کر بیٹھی تھی اور اس کا ہاتھ پکڑے ہوئی تھی آخر کو اسکی فیورٹ آپی تھی_
اسفند صاحب، آمنہ بیگم ایک ساتھ جب کہ فیضان ماہین اور زویا ایک سوفے پہ بیٹھے تھے
کیا مطلب بھائی صاحب میں سمجھا نہیں_ ارے میران تم شازل بیٹے کو معاف کیوں نہیں کر دیتے اور ویسے بھی موڈلینگ میں تو یہ دنیا کا نمبر ون ماڈل مانا جاتا ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہئے مگر تم اس بچارے کو گھر سے نکلنے کا کہہ رہے ہو___
اسفند صاحب کی جگہ پہ آمنہ بیگم شازل کے حق میں بولیں تو وه خود مسکرا اٹھا جو سوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا_ ہاں خالو جان امی جان بلکل سہی کہہ رہی ہیں آپ مان جائیں نہ_
ماہین بھابی بھی اسکے حق میں بولی
ماہین یار آج زندگی میں پہلی بار تم نے کوئی اچھی بات کہی ہے
فیضان ماہین کو چھیڑتے ہوئے کہا تو سب نے کہکا لگایا
فیضی بھائی آب ایسے تو نہ کہیں آپو کو
نور ماہین کی سائیڈ لیتی ہوئی بولی تو فیضان اسکو ناک چڑہا گیا تو وه منہ بناتی اپنے بابا جان کی طرف متوجہ ہو گئی جو کچھ کہہ رہے تھے
نہیں میں اس کو ہرگز معاف نہیں کروں گا اگر اس نے اپنا یہ کتا کام نہ چھوڑا اور پھر یہ بھی بھول جائے اس کا کوئی باپ تھا
میران صاحب ایک بار پھر سے غصے سے بولے تو جاناں نے صوفیہ اپنی پھوپو اور زویا کی طرف دیکھا جو رونے جیسی شکل بنا کر بیٹھی تھیں پھر اس نے شازل کی طرف دیکھا جو لاپروہ سا بیٹھا تھا جاناں اسکو دیکھ کر سر نفی میں هلايا کہ خدا جانے وه اتنا زدی کیوں تھا
جی میران انکل آپ مان جائیں نہ شازل کو معاف کر دیں بلکے آپ کو تو اللّه کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس بندے نے آپ کا آفس نہیں سمبھالا ورنہ تو آپ کی كمپنی اب تک بند ہو چکی ہوتی_
جاناں میران صاحب کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتی ہوئی ان کو راضی کرنے لگی تو اس کی اس بات پر سب کے ہونٹ مسكراہٹ میں ڈھل گئے مگر اس کی اس بات پر شازل کو تو تپ چڑھ گئی
اہ ہیلو محترمہ میں نے اکنامکس میں ایم بی اے کیا ہوا ہے تو مجھے تم سے بھی زیادہ پتا ہے بزنس کو کیسے چلانا ہے_
شازل کی بات پر سب اسکی طرف دیکھنے لگے کہ بیٹا تم کسی حال میں خوش نہ ہونا
تو پھر ٹھیک ہے 2 دن بعد اگر یہ آفس آ گیا تو میں اس کو معاف کر دوں گا اور اس کے کام کو قبول کر لوں گا
بولو منظور ہے تمہیں
میران صاحب کی بات پر سب اسکی طرف دیکھنے لگے کہ اب تم پر ہے تم کیا چوز کرتے ہو تو وه اپنی داڑ ھی پر ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر کچھ سوچتا سب کو ایک نظر دیکھتا اپنا سر ہاں میں ہلا دیا__
چلو اس خوشی میں میں سب کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں
جاناں اٹھ کر کھڑی ہوئی تو زویا بھی ساتھ کھڑی ہو گئی
چلو میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں
ہاں جاؤ تم دونوں مجھے بہت طلب ہو رہی تھی چائے کی___
فیضان چائے کے نام پر خوش ہوتا ہوا بولا تو وه دونوں مسکراتی کیچن میں چلی گئیں اور نور بھی اپنا دوپٹا سمبھالتی ماہین کے پاس جا کر بیٹھی جو اسے اپنے پاس بلا رہی تھی اور فیضان شازل کے پاس جا کر بیٹھا اور آپس میں باتیں کرنے لگے
اسلام و علیکم ولی برہان ملک از سپیکنگ وه اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا سموکنگ کر رہا تھا جب اسکا فون بجا بغیر فون نمبر دیکھے اس نے کال اٹینڈ کی
میں جانتا ہوں تو کمینہ ولی برہان ملک ہی ہے جس نے قسم کھا رکھی ہے وه ایس پی زرام اسفند ملک کو بلیک میل کرنا نہیں چھوڑے گا بیغرت وه دن کیا وه گھڑی منہوس تھی جس دن تو دنیا میں آیا تھا اور پھر میری قسمت خراب تھی جب میں نے تجھے اپنا سب سے بڑا راز بتایا اس سالے شازل سے بچنے کے لیے ہاہاہا میں جانتا ہوں میں بہت بڑا کمینہ ہوں اور تو یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے جب میں کمینگی پہ اترتا ہوں تو تیرے جیسے کیڑے مکوڑے ایس پی رونے بیٹھ جاتے ہیں_
دیکھ ولی میرے بھائی زویا کبھی نہیں مانے گی اتنی جلدی شادی پر تو کیوں نہیں سمجھ رہا ایسی کون سی لڑکی کی شادی ہوتی ہے جو ایک ہفتے کے اندر ہو جائے
زرام اب کی بار اسے سیدھے طریقے سے سمجھاتا ہوا بولا
ٹھیک ہے اگر وه نہ مانی تو میں تیرا وه راز شازل کو جا کر بتا دوں گا اور تو جانتا ہے کہ میں بار بار اپنی بات نہیں دہراتا__
وہ یہ بات کہتا سیگرٹ کے گہرے کش لینے لگا
بہت ہی گھٹتا کتا کمینہ انسان ہے تو میں کوشش کرتا ہوں باکی تیری قسمت
کہتے ہی زرام کال کاٹ گیا تو وه بھی فون بیڈ پہ پھینکتا سویچ بوڑ کے قریب آیا جو کمرے کے دروازے کے دائیں جانب دیوار میں فٹ تھا پھر وه ایک ہاتھ سے اپنی بلیک شرٹ کے بٹن کھولتا اور دوسرے ہاتھ سے سیگرٹ منہ میں دباتا اور دوسرے ہاتھ کی مدد سے لائٹ ان کر دی جس سے کمرہ روشنی سے نہا گیا_ کمرہ کیا تھا وه تو کوئی بہت بڑا محل لگ رہا تھا جہازی سائز بیڈ جس پر وائٹ کالر کی چادر بچھائی ہوئی تھی بائیں جانب اٹیچ واشروم اور اسکے ساتھ ڈریسینگ روم اور اس کے بلکل سامنے اسٹڈی روم اور اسکے دائیں جانب ونڈو تھی جہاں سے باہر کا خوبصورت سویمینگ پول نظر آتا تھا
اس کی خاص بات یہ تھی کہ وه جگہ ہر وقت رات کا منظر پیش کرتی تھی اور ہر چیز نیلی نظر آتی تھی کیوں کہ وہاں بہت بڑی اور کافی بڑی تعداد میں نیلی روشنی کا انتظام کیا گیا تھا جس سے وہاں کا پانی اور تمام پھول اور پودے نیلے نظر آتے اور اس سے بڑھ کر اس جگہ کی دیواریں تھیں جو کانچ کی نظر آتیں اور جو شخص ولی برہان ملک کے کمرے میں آتا تو وه اس خوبصورتی میں کھو جاتا وه یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ دیواریں کانچ کی ہیں یا انٹوں کی یہی حال اسکے کمرے کی دیواروں کا تھا جہاں ہر چیز کانچ کی تھی مگر یہ کانچ کوئی معمولی کانچ نہیں تھا کہ کوئی چیز لگنے سے ٹوٹ جائے اکثر لوگوں کا اس سے یہی سوال ہوتا تھا کہ جو کانچ آپ نے اپنے گھر میں لگایا ہوا ہے وه کون سا کانچ ہے اور یہ ہمیں کیوں نہیں ملتا ہم نے بہت ڈھونڈا ہے مگر کہیں نہیں ملا
جو چیز عام ہو جائے جو سب کے پاس آسانی سے مل جائے اور اس چیز کا علم ہر ایک کو ہو تو ایسی چیز اور اس چیز کو ولی برہان ملک اپنے پاس بھی نہیں آنے دیتا اپنے میرر ہاؤس میں رکھنا تو بہت دور کی بات ہے اسی طرح یہ کانچ بھی بہت خاص اور قیمتی ہے جس کو سب ڈھوڈنا بھی چاہیں تب بھی ان کو نہیں مل سکتا_
اسکے اس جواب پر سب خاموش ہو جاتے تھے کیوں کہ وه اتنی ہمت نہیں رکھتے تھے کہ وہ ولی برہان ملک سے دوبارہ پوچھ سکیںوه ولی برہان ملک تھا جو سو سوالوں کا ایک جواب دیتا تھا اگر موڈ نہ ہو تو یہ ایک جواب بھی نہیں دیتا تھا اگر کوئی غلطی سے پوچھ بھی لیتا تھا وہ اسے یہ کہ کے چپ کروا دیتا تھا کہ وہ ولی برہان ملک ہے جو کسی کو جواب دینے کا پابند نہیں ہے اور اگر دوبارہ زبان چلانے کی کوشش کی تو پھر ساری زندگی سوال پوچھنے کے قابل نہیں رہو گے_ وہ ایک مغرور انسان تھا جس کو اللّه نے انتہا کا ذہین بنایا تھا اور اسکو حد سے زیادہ خوبصورتی دی تھی لمبا قد، گوری رنگت، کالے بال، کالی گہری آنکھیں جن میں کوئی ایک دفہ دیکھ لیتا تو وه ان آنکھوں کا دیوانہ ہو جاتا، لمبی مغرور ناک، خوبصورت ہونٹ، ہلکی مگر کالی داڑھی جو اس پر انتہا کی جچتی تھی اور جو چیز اسے سب سے زیادہ مغرور اور پرکشش بناتی تھی وه تھی اسکی حد سے زیادہ سنجیدگی تھ نہ تو وه زیادہ بولنا پسند کرتا تھا اور نہ ہی کسی کو زیادہ سننا ولی برہان ملک نے زندگی میں تین ہی دوست بنائے تھے ایک زرام اور دوسرا شازل اور تیسرے کو شائد وه کھو بیٹھا تھا
ولی برہان ملک نے یہ سب چیزیں اپنے باپ سے چرآئی تھیں وه ملک برہان کی كاربن کاپی تھا ویسا ہی ذہین ویسا ہی خوبصورت مگر وه اس کی طرح شدت پسند نہیں تھے ولی برہان ملک اس دن تنہا پسند اور شدت پسند بن گیا تھا جس دن اسے کال آئی تھی کہ اس کے بابا اور مما اس دنیا میں نہیں رہے جب اسے بتایا گیا تھا کہ لندن سے پاکستان آنے والی فلائٹ حادثے کا شکار ہو گئی ہے جس سے تمام مسافر وہیں دم توڑ گئے ہیں تب وه بارہ اور ماہین 15 سال کی تھی اور اس کے بعد وه ہمیشہ کے لیے اسفند صاحب کے پاس آگئے تھے پھر نجانے 5 سال پہلے ایسا کیا ہوا کہ وه سب کو چھوڑتا واپس اپنے گھر آگیا تب سے ولی برہان ملک نے اپنے وائٹ ہاؤس کو میرر ہاؤس میں بدل کر رکھ دیا اسے کے بابا ملک برہان بزنس مین تو تھے مگر اس نے آکر بزنس کی دنیا کا نقشہ ہی بدل کے رکھ دیا وه بزنس کی دنیا کا مغرور بادشاہ بن گیا تھا انٹرنیشنل بزنس مین جس کا بزنس پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں پھیلا ہوا تھا________
آج سارے ملازم نظر نہیں آ رہے خیریت_ جاناں نے خالی کیچن میں قدم رکھا تو زوئی سے پوچھنے لگی جو اسکے ساتھ ہی آ رہی تھی
مت پوچھو جاناں یار یہ مما جان نے سب کو چھوٹی دے دی ہیں وه کہتی ہیں تمہاری تعلیم مکمل ہو چکی ہے تو تم اب کھانا پكانا سیکھو ورنہ اگلے گھر جاکر میری ناک کٹواؤ گی _
زویا ہونٹوں کو باہر نکالتی ہوئی بہت پیاری لگی
افف زوئی تم کتنی پیاری ہو بلکل ڈول جیسی
جاناں نے آگے بڑھ کر اسکے گلابی بھرے بھرے گال کھینچے تو وه شرماتی ہوئی اپنے چہرے پہ دونوں ہاتھ رکھ گئی__
ہاں وه ایسی ہی تھی گلابی نازک سی زویا دیکھنے میں وه کوئی گڑیا لگتی تھی اور جو اسکی تعریف کرتا وه شرما جاتی اور وه پیاری تب زیادہ لگتی تھی جب وه چھوٹی چھوٹی آنکھیں کر کے کسی کو دیکھتی تھی_
مناسب قد، گورا مگر گلابی رنگ، سبز آنکھیں اور دائیں آنکھ کے نیچے چھوٹا سا تل جو اسکی آنکھوں کو پر کشش بناتا تھا، لمبی ناک جس میں خوبصورت چھوٹی سفید نوز پن پہنی ہوئی تھی ، گلابی ہونٹ، بھورے بھاری بال جن کو وه تھوڑا سا اوپر اٹھا کر پونی میں قید رکھتی باکی کے پیچھے کمر پہ کھولا چھوڑ دیتی جو نیچے سے قدرتی طور پر ھلکے ھلکے كرل تھے اگر کوئی زویا سے پوچھتا کہ اسے دنیا میں سب سے زیادہ کیا چیز پیاری ہے تو وه اپنے بالوں کا نام لیتی ہاں کوئی شک نہیں تھا اللّه نے اسے نہایت بھاری سلکی خوبصورت بال دیے تھے مگر اسے اپنی آنکھوں سے چیڑ تھی ایک تو ان کا رنگ سبز تھا اور دوسرا غضب اسکا تل جو ولی برہان ملک کو اپنا دیوانہ بناتا تھا وه اسکی آنکھوں کا دیوانہ تھا_____
وه کسی سے اپنے لاڈ نہیں اٹھواتی تھی نہ شازل سے نہ ہی اپنے بابا سے اگر وه کسی کے نزدیک تھی تو وه جاناں سے یا اپنی مما جان سے جاناں کے علاوہ نہ تو اسکی کوئی دوست تھی نہ نہ اسنے کبھی بنائی تھی زویا سمجھتی تھی دوست ایک ہی اچھا ہوتا ہے ورنہ زیادہ دوست انسان کو تکلیف دیتے ہیں وه جذباتوں سے بھری لڑکی تھی وه زویا تھی جو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ رونے بیٹھ جاتی تھی زویا نور کے بلکل بر عکس تھی اگر نور چلاک تھی تو زویا معصوم تھی نور اپنی باتوں سے سب کو گھوما سکتی تھی تو وہیں زویا سب کی باتوں میں آ جاتی تھی اس لیے ولی برہان ملک اسے سبز آنکھوں والی معصوم گڑیا کہتا تھا
زوئی یہ چائے سب کو دے آؤ تب تک میں شازل کے لیے کافی بنا لوں پھر لے کر آتی ہوں چاہے تم وہیں بیٹھ جانا
جاناں اسے چائے کی ٹرے اسکی طرف کرتی ہوئی بولی جو اسکو مسکرا کر دیکھ رہی تھی
جاناں تمہیں یاد ہے بھائی کوفی پیتے ہیں
ہاں غلطی سے یاد آ گیا اور اب تم مسكرآنا بند کرو اور چائے لے کر جاؤ ٹھنڈی ہو رہی ہے
جاناں اسکے سر پہ تھپڑ مارتی ہوئی بولی تو وه چائے کی ٹرے اٹھاتی کیچن سے باہر چلی گئی_
کچھ دیر بعد وه کوفی بنا کر فارغ ہوئی تو دودھ کو فریج میں رکھتی پلٹی ہی تھی کہ کسی نے زور سے پکڑ کر فریج کے ساتھ لگا دیا اور خود اسکے قریب ہو گیا اتنا کے جاناں اسکی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرنے لگی
چھوڑیں مجھے کیا کر رہے ہیں آپ شازل پچھے ہٹیں تمیز نہیں آپ کو_
وه اسکے ہاتھوں سے اپنے دونوں ہاتھ چھڑواتی ہوئی بولی تو شازل نے اسکے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر فریج کی ساتھ لگا دیے اور خود جاناں کے بے حد نزدیک ہوا تو اسکی آنکھیں حیرت سے کھول گئی
یہہیہ کیا کر رہے ہیں شاز پچھے ہٹیں
جاناں گھبراتی ہوئی اسے پچھے کرنے لگی
ششش خاموش آواز نہ آئے
وه کہتے اس کی گردن پہ جھکا اور وہاں اپنا لمس چھوڑتا پیچھے ہٹا اور مسكرآتا ہوا اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا جو بڑی بڑی آنکھیں کھولے اسے گھور رہی تھی_
یہ کیا تھا شازل میران ملک سہی کہتی ہوں میں آپ کو آپ سچ میں ایک واحیات انسان ہیں
جاناں دھیمی آواز میں غرائی
یہ شازل میران ملک کا لمس ہے جو تمہیں ہر پل یاد کروآئے گا تم میری ہو صرف اور صرف شازل میران ملک کی اور تھینک یو سو مچ جان اتنی پیاری کوفی کے لیے_ وه اسکا ماتھا چومتا اپنی کوفی اٹھاتا باہر چلا گیا تو جاناں آنکھیں بند کیے رونے لگی کتنی بےبس تھی وه نہ تو اس شخص سے لڑ سکتی تھی نہ ہی اس سے پیار کر سکتی تھی زندگی نے اسے کیا سے کیا بنا دیا تھا نجانے کتنے آنسو ٹوٹ کر بے مول ہوئے تھے __
کیا ہوا ہے جاناں کیوں رو رہی ہو_ زویا کیچن میں داخل ہوئی تو اسے روتا دیکھ بھاگ کر اس کے پاس آئی__
کچھ نہیں ہوا زوئی میرا دل گھبرا رہا ہے تم پریشان نہیں ہو _
جاناں اسکی رونی صورت دیکھ کر جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتی بہانہ بنایا وه اسے نہیں بتا سکتی تھی اگر وه اسے بتاتی تو وه رونے بیٹھ جاتی مگر وه نہیں جانتی تھی زویا 5 سال پہلے سے سب جانتی ہے اور وه اپنی زندگی میں جاناں کے لیے کیا کچھ کر چکی ہے صرف جاناں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیوں کو داؤ پہ لگا چکی ہے وه جاناں کو کبھی بھی دکھ میں نہیں دیکھ سکتی تھی
یار زویا چلو میرے ساتھ باہر لان میں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے
ہاں چلو باہر تمہیں اچھا لگے گا اگر اور کچھ ہے تو پلیز مجھے بتاؤ _
زویا اپنی سبز آنکھوں میں آنسو لیے اس سے پوچھنے لگی_
ادھر آؤ میری جان کچھ نہیں ہوا مجھے تمہیں پتا تو ہے کبھی کبھی میرا دل گھبرانے لگتا ہے_
جاناں اسے سینے سے لگاتی ہوئی بولی
افف بدتمیز میں نہیں ہوں تمہاری جان وه تو تمہارا شوہر ہو گا زویا ہنستی ہوئی اس سے دور ہوئی تو جاناں اسے مارنے کے لیے اس ہاتھ بڑھایا تو زویا اسے زبان چڑھاتی لان کی طرف بھاگی جہاں کیچن کا بیک ڈور تھا___
روکو تم زوئی کی بچی نور تمہیں سہی کہتی ہے دکھنے میں معصوم ہو تم آویں ڈرامیں کرتی ہو رونے کے_ جاناں بھی اسکے پیچھے بھاگی مگر پھر لان کے درمیان میں آ کر روک گئی کیوں کہ اسنے ہیلز پہنی ہوئی تھی_
یہ تم لوگوں کو شرم تو آتی نہیں ہے کہاں ہے میری بچی ابھی اس دنیا میں آئی نہیں ہے اور تم لوگوں نے اسے بدنام کر دیا ہے_
زویا خود ہی چل کر اس کے پاس آئی اور غصے سے اپنی چھوٹی آنکھیں کر کے جاناں کو گھورنے لگی_ ہاہاہہاہا لڑکی تمہیں بڑی جلدی ہے بچی کی کہتی ہو تو بات کروں تمہاری رخصتی کی_
جاناں قہقہ لگاتی ہوئی اسے تنگ کرنے لگی تو وه اسکی بات پر اسے گھورتی گھاس پہ جا کر بیٹھ گئی اور پیٹھ جاناں کی طرف کر دی مطلب تمہاری اس بات پر میں تم سے ناراض ہوں__
ہائے سبز آنکھوں والی معصوم گڑیا ناراض ہو گئی
جاناں بھی مسكراتی ہوئی اسکے پاس جا کر بیٹھی اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں لیے
بات مت کرو تم مجھ سے بہت بدتمیز ہو گئی ہو تم بےوفا کہیں کی نور کم ہے جو ہر وقت مجھے تنگ کرتی رہتی ہے اب تم بھی شروع ہو گئی میں کبھی بھی شادی نہیں کروں گی میں بابا کو انکار کر دوں گی__
زویا کی پھر سےسبز آنکھیں آنسوں سے بھر گئیں تو جاناں نے اسے گلے لگایا
سوری زوئی مجھے نہیں پتا تھا تم میرے مزاق کو اتنا سیریس لے جاؤ گی نہیں کر رہے یار تمہاری رخصتی جب تم کہو گی تب ہی ہو گی اب میں دوبارہ تمہاری ان سبز آنکھوں میں آنسوں نہ دیکھوں____
جاناں اسکے آنسوں صاف کرتی اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا تو وه کھلکھلا گئی__
ہائے جاناں جب تم ایسے کرتی ہو نہ تو مجھے بڑی بہنوں والی فیلنگز آتی ہیں
زویا نے بھی اسکے گال چومے
ہاں تو میں تم سے ایک سال بڑی ہوں اور میں تمہاری بڑی بہن ہی ہوں سمجھی اور تمہاری آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں دیکھ سکتی_
جاناں زویا کی ناک کھینچتی ہوئی بولی_،
ہاں مجھے یاد ہے جب ایک بار ہماری کلاس کی صباء نے مجھ دھکا دے کر گرانے کی کوشش کی تھی تو تم نے اسے سب کے سامنے کیسے گرایا تھا اور پھر ہمیشہ کی طرح تم نے میرے آنسو اپنے دوپٹے سے صاف كیے تھے اور میرے ماتھے پہ بوسہ دیا تھا بلکل بڑی بہنوں کی طرح اور پھر تم نے میری وجہ سے اپنا ایک سال زائع کیا تاکہ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں ایڈمشن لے سکیں
اب کی بار زویا کی سبز آنکھیں مسكرآئی تھیں
ہانجی تم مجھے بہت عزیز ہو اور تمہاری آنکھوں میں ایک بھی آنسو برداشت نہیں کر سکتی وه تو پھر بھی ایک سال تھا تمہارے لیے تو تمہاری جاناں اپنی جان بھی دے سکتی ہے کیوں کہ تم جاناں کی چھوٹی سی معصوم سی بہن ہو__
