Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

شازل اپنے ماما بابا کے کمرے کا دروازہ نوک کرتا ہوا اندر داخل ہوا جو کچھ دیر پہلے بازار سے آئے تھے میران صاحب کمرے میں آرام کر رہے تھے اور صوفیہ بیگم وارڈروب سے آج کے کپڑے نکال رہی تھیں
ہاں شازل بیٹا کیا بات ہے؟؟؟؟؟؟؟
صوفیہ بیگم اسکے پاس آتی ہوئی بولیں جو سنجیده سا کھڑا تھا تو میران صاحب بھی اٹھ کر بیٹھ گئے مجھے آپ لوگوں سے بہت ضروری بات کرنی ہے یہی سمجھ لیں کہ میں یہاں آج آپ لوگوں کو درخواست کر رہا ہوں جو آپ لوگوں کو ہر صورت ماننی ہو گی _
شازل اپنی موم کا ہاتھ پکڑتا صوفے پر بیٹھا تو وه اس کے انداز پر پریشان ہو گئیں_
ماڈل صاحب جس انداز میں تم کہہ رہے ہو نہ اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ تم ہم لوگوں کو دهمكا رہے ہو اور ایک بات یاد رکھنا اب اگر تم واپس امریکا گئے تو اس گھر کے دروازے تم پر ہمیشہ کےلیے بند ہو جائیں گے

میران صاحب اسکے انداز پر غصے سے بولے تو صوفیہ بیگم بھی پریشان ہوگئں جو آج خود اس کے انداز پر ڈر گئں تھیں

ڈیڈ میں اس بارے میں بات کرنے نہیں آیا میں آپ کو یہ کہنے آیا ہوں کہ میں نے لڑکی پسند کر لی ہے اور میں زویا کی مہندی والے دن اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں اور اسی سے شادی کروں گا

شازل سنجیدگی سے کہتا دونوں کے سروں پر دهماكہ کر گیا

یہ کیا کہہ رہے ہو شازل کس سے نکاح کرنا چاہتے ہو میری بات کان کھول کر سن لو میرے گھر کی بہو صرف جاناں بنے گی اور کوئی نہیں جس کسی کو پسند کرتے ہو اس کو بھول جاؤ__

صوفیہ بیگم غصے سے اپنے ہاتھ شازل سے چھڑوا کر بولی اور یہی حال میران صاحب کا تھا
اگر میں کہوں وه لڑکی کوئی اور نہیں جاناں ہی ہے تو پھر بھی میں اسکو بھول جاؤں ____

شازل اپنی ہنسی کنٹرول کرتا اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھتا ان کو آنکھ ماری جس پر وه اس کو گھورنے لگے_ کیا تم سچ کہہ رہے ہو شازل بیٹا تم مزاق تو نہیں کر رہے ہو _
صوفیہ بیگم اسکا چہرہ اپنی طرف کرتی ہوئی بولیں
یس موم میں جاناں سے ہی نکاح کرنا چاہتا ہوں
شازل کی بات پر انہوں نے خوشی سے اسکا ماتھا چوما

ماڈل صاحب آج زندگی میں پہلی بار مجھے تمہارے فیصلے پر خوشی ہو رہی ہے آجاؤ اس خوشی میں گلے تو لگو یار _

میران صاحب کی بات پر شازل اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان کے گلے لگا
مگر یار پتا نہیں جاناں بیٹی اتنی جلدی پر مانے گی بھی یا نہیں باکی سب تو مان جائیں گے
ڈیڈ یار پھر خامخوا آپ میری بیٹی میری بیٹی کرتے رهتے ہیں جب اس نے آپ کی بات نہیں ماننی کمال ہی ہو گیا بیٹی صاحبہ اب اپنے باپ جیسے انکل کا مان بھی نہیں رکھ سکتی

وه اپنی موم کو اشارہ کرتا بولا تو وه ہںسنے لگی
بکواس بند کرو وه مجھے اپنے بابا کی طرح مانتی ہے اور مجھے پورا یقین ہے وه میرا مان ضرور رکھے گی جو تم تو کبھی بھی نہیں رکھ سکتے

دیکھتے ہیں ڈیڈ کیا ہوتا ہے وه آپ کا بھرم رکھتی ہے یا نہیں میں تو ٹھہرا نافرمان جو تاحیات رہے گا
شازل قہقہ لگاتا باہر چلا گیا اب اسکا کام جو ہو گیا تھا
ناجانے اسکو پیدا کر کے کون سی غلطی کر دی ہے ہم نے _

وه صوفیہ بیگم کی طرف دیکھ کر بولے جو خود ہنس رہی تھی
اسکے پیدا ہونے پر سب سے زیادہ آپ ہی خوش تھے
ہاں مجھے کیا پتا تھا یہ خوشی میرے لیے ساری زندگی کا غم بن جائے گی ___

ھاھاھا ھاھا
صوفیہ بیگم کا روکا ہوا قہقہ کمرے میں گونجا
جب وه گھر آیا تو اسے کوئی بھی لاؤنچ میں دکھائی نہ دیا صرف کام والی نجمہ کھانے کی ٹیبل سے برتن اکھٹے کر رہی تھی_
نجمہ بات سنو
اس نے نجمہ کو پكارا کیوں کہ اسے ضرور پتا ہو گا سب کہاں ہیں کیوں کہ وه جب بھی گھر آتا تھا سب لاؤنچ میں ہی ہوتے تھے مگر آج نہیں تھے اسے حیرت ہوئی تھی

جی صاحب
نجمہ اپنے ہینڈسم سے پولیس والے مالک کو دیکھنے لگی جو آج حد سے زیادہ سنجیده اور غصے میں لگ رہا تھا اس نے آج تک زرام اسفند ملک کو اتنا خاموش اور غصے والے تاثرات میں کبھی بھی نہیں دیکھا تھا

سب لوگ کہاں ہیں نظر نہیں آرہے ؟؟؟؟؟؟
وه یہاں وہاں دیکھتا پوچھنے لگا_ جی صاحب سب لوگ اپنے کمروں میں تیار ہو رہے ہیں آج والی صاحب کی شادی کی تاریخ لینے جانا ہے نہ آپ کا ہی سب انتظار کر رہے تھے پھر خود تیار ہونے چلے گئے آپ کو یاد نہیں کیا کہیں تو بڑی بیگم صاحبہ کو بلاؤں _____
نجمہ خاص عورتوں کی طرح ہاتھ چلاتی زرام کو جواب دینے لگی
ہاں ہاں یاد آیا خیر تم اپنا کام کرو میں دیکھتا ہوں

وه اسے جواب دیتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا تو اس کے منہ سے چیخ نکلی __

ماشا اللّه زوئی کی بچی تم تو غضب ڈھا رہی ہو اپنے سڑیل پرنس کو جان سے مارنا ہے کیا وه تو تمہیں دیکھ کر ہی اپنا آپ بھول جائے گا
سہی تو نور کہہ رہی تھی وه لگ ہی بہت خوبصورت رہی تھی وائٹ كلر کی گھیر دار فراک جس پر مرون رنگ کی پرریشمی دهاگے کی کڑھائی کی گئی تھی اور کھولے کھولے بازو جو چوڑیوں سے تھوڑا اوپر تھے جن پر مرون ہی دهاگے کے ٹسلز لگاۓ گئے تھے اور ساتھ مرون رنگ کا کھولا کھولا ٹروزر تھا اور پرینٹ لمبا شفون کا دوپٹا اور ہلکا ہلکا میک اپ کیے بالوں کی ایک سائیڈ پہ چوٹیا کیے ،کانوں میں بڑے بڑے جھمکے دیکھنے میں وه کوئی نازک گڑیا لگ رہی تھی__

نور تم جب بھی بولنا بکواس کرنا کبھی سوچ کر بولا کرو اللّه ولی کی حفاظت کرے دوبارہ ان کے مرنے کی بات مت کرنا_
وه غصہ سے نور کو دیکھتی دائیں ہاتھ میں ملٹی کلر کی چوڑیاں پہہننے لگی کیوں کہ دائیں ہاتھ میں وه پہلے ہی گرے کلر کی چوڑیاں پہن رکھی تھی اور اب اپنی سبز آنکھوں میں غصہ لیے نور کو دیکھنے لگی جو ہمیشہ کی طرح پٹیالہ شلوار پہنے مگر شفون کے ریشمی پنک اور پرپل کلر کے ساتھ ھلکے سے میك اپ کیے بالوں کو کھولا چھوڑے معصوم چھوٹے سے فیس کے ساتھ وه بہت خوبصورت لگ رہی تھی _

واہ جی واھ پہلے تو ان کے ساتھ شادی کرنے پر رو رو کر سب کو پریشان کیا ہوا تھا اب دیکھو کیسے مجھ سے لڑ رہی ہو_
نور اس کے پاس آتی ہوئی اسکے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی

ہاں تو آب تم ان کے لیے ایسا کہو گی تو میں چپ کر کے سنتی رہوں میں مانتی ہوں میں ان سے شادی نہیں کرنا چاہتی مگر کبھی ان کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی
زویا اپنی سبز آنکھوں میں نمی لیے نور کے گلے لگی

تو میری پیاری سی زویا کی بچی تم سب کچھ اللّه پہ چھوڑ دو پھر دیکھنا تم اللّه تمہارے دل میں ولی بھائی کے لیے سب پریشانیوں سے آزاد کر دیں گے اور ولی بھائی کے لیے تمہارے دل سے ڈر بھی نکال دیں گے

نور اسکا چہرہ اپنے سامنے کیے بولی تو زویا اس کی اتنی سمجھداری پر مسکرا دی
واہ نوراں بیگم تم کب سے سمجھدار ہو گئی میں تو آج دو نفل ادا کروں گی

زویا قہقہ لگاتی ہوئی نور کا موڑ خراب کر گئی

زوئی کی بچی تم نے مجھے نوراں بیگم کہا چلاک عورت انتا گندہ بوڈھا نام _
نور اس کے ہاتھ پر تھپڑ مارتی غصہ سے بولی_

ہاں میں تو زرام بھائی کو بھی بتاؤں گی
زویا باہر کی جانب بھاگتی ہوئی اسے اور غصہ دلا گئی

روکو تم تو اس زہریلے ناگ کو پتا چلا تو میرا مزاق اڑا اڑا کر مار دے گا_

نور بھی اسکے پیچھے بھاگتی ہوئی زرام کو دل میں گالیاں دینے لگی جو اس کو ہر وقت پریشان کرتا رہتا تھا
وه اپنے کمرے میں داخل ہوا تو بےہوش ہوتے ہوتے بچا اور اپنے کمرے کی حالت دیکھنے لگا جو اسکی زندگی میں آج تک نہیں ہوئی تھی
ڈریسینگ مرر کی ساری چیزیں زمین پر ، بیڈ کی چادر اور تکیے بھی آدھے نیچے اور کچھ اوپر ، اس کی وارڈروب کھولی ہوئی اور سارے کپڑے نیچے ادھر أدھر پڑے اپنے ساتھ کی گئی زیادتی پر رو رہے تھے اور جس چیز پر اسے سب سے زیادہ غصہ آیا وه اسکی ساری کیس کی فائلز تھی جن کے ورک بھکرے پڑے تھے

وه ہوش میں آیا تو اسے واش روم میں پانی گرنے کی آواز آنے لگی مطلب جو کوئی بھی تھا اب وه اس کا واش روم بھی استمال کر رہا تھا زرام غصہ سے آگے بڑھا اور واش روم کا دروازہ زور سے کھٹکھٹانے لگا
کون ہے اندر باہر نکلو ورنہ میں نے تمہیں اپنی گن سے شوٹ کر دینا ہے نونسینس باہر نکلو تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں داخل ہونے کی اور اس کی یہ حالت کرنے کی

وه غصے سے دروازے کو پیٹنے لگا ایک تو پہلے سے اسکا موڑ خراب تھا اور اب کمرے کی حالت دیکھ کر نیلی آنکھیں غصے سے سرخ ہونے لگی _

ایک دم اسکی آنکھیں اپنے اصلی رنگ میں آئی اور ان میں حیرت کے تاثررات آئے جب ولی برہان ملک ٹاول کو گردن میں ڈالے شرٹ لیس بلیک ٹراوزر پہنے باہر نکلا اور اسے فلائنیگ کس کرتا شیشے کے سامنے جا کر کھڑا ہوا

تو کیسا لگا سرپرآئز میری جان ولی اسکو بت بنا دیکھ قہقہ لگا کر بولا_______

اوئے کمینے تونے مجھے بتایا تک نہیں بیغرت آدمی جب میں تیری مینتیں کر رہا تھا تب تو آیا نہیں آب اچانک آ گیا شرم نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے مگر تم میں کہاں پائی جا سکتی ہے _ زرام خوشی اور غصے کے ملے جلے تاسرات کے اس کے پاس آیا اور ایک مکہ اس کی کمر پر جڑھا
تو مجھے مارنا بند کر اور اب میں ہمیشہ کے لیے واپس آ گیا ہوں صبح اپنے پورشن میں چلا جاؤں گا اور تو جانتا ہے مجھ میں شرم کے کیپسول نہیں پائے جاتے تو ہر روز کیوں کوشش کرتا ہے کیڑے مکوڑے ایس پی
ولی بھی اسکی کمر پر مکا مارتا اپنے بال سیٹ کرنے لگا
ہاں جانتا ہوں تو بیشرم ہے تب ہی تو زویا گڑیا تجھ سے دور بھاگتی ہے اور یہ بتا تو نے میرے کمرے کی ایسی حالت کیوں کی یہ تو شکر کر تیرے واپس آنے کی خوشی میں تجھ جیسے کمینے آدمی کو میں نے کچھ نہیں کہا

زرام اسکو اپنا بیگ کھولتا دیکھ بولا جو اپنے لیے پریسشدہ کپڑے نکال رہا تھا

ہاں تو میں بیشرم آدمی آب زویا اپنی ہارٹ بیٹ کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس بھی تو لا رہا ہوں اب وہ مجھ سے کبھی بھی دور نہیں بھاگ سکے گی میں اسے خود میں قید کر لوں گا اور اسے اس قدر پیار دوں گا وه کہیں بھاگ ہی نہیں سکے گی اور یہ کمرے کی حالت میرے لیپ ٹاپ کی تو نے کی تھی اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے _
وه اسے آنکھ مارتا ہوا ڈریسینگ روم میں چلا گیا
کمینے کبھی تو تھوڑی بہت شرم پیدا کر لیا کر جو تیرے لیے مشکل ضرور ہے مگر نہ ممکن نہیں

زرام بند دروازے کو دیکھتا بولا تو اندر سے ولی کا قہقہ گونجا جس پر زرام اسکو گالی دیتا اپنا کپڑے اٹھانے لگا جو نیچے گرے پڑے تھے__
ولی اور زرام نیچے آئے تو سب لوگ لاؤنچ میں تیار کھڑے ان کا انتظار کر رہے تھے
اسلام و علیکم ڈیڈ اور بھائی
ولی اسفند صاحب کے پاس جا کر بولا جو فیضان کو کچھ سمجھا رہے تھے

والیکم سلام میرے شیر کیسے ہو آخر آہی گئے

اسفند صاحب اسے گلے لگاۓ بولے اور پھر وه فیضان سے ملا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا یار ڈیڈ بس اب تھک گیا تھا اکیلے اکیلے رهتے__

ولی ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیتا آمنہ بیگم کی طرف دیکھا جو اس کی نظر اتار رہی تھی
اہ بس کر کمینے ایسے کہہ نہ کہ تو اپنی شادی کے لیے واپس آیا ہے بڑا آیا

زرام کو کہاں برداشت تھا اسکا جھوٹ__

بس بس اب تم لوگ بعد میں لڑنا پہلے ہی بہت لیٹ ہو گئے ہیں یہ پہلی شادی ہو گی جس کی تاریخ رات میں پکی ہو گی
آمنہ بیگم جو پہلے سے اس ٹائم جانے پر غصہ تھیں اب ان کی ڈرامے بازی پر غصہ ہوئیں
یار مما جان گھر کی شادی ہے ہم کون سا باہر کہیں جا رہے ہیں_

ہاں سہی کہا ماہی تم نے میں تو کہہ رہا تھا بس زویا کو ڈائریکٹ ابھی جا کر لے آتے ہیں مجھے تو یہ سب شور شرابہ بلکل پسند نہیں ہے_
ولی اپنے دل کی بات بولتا سب کو گھورنے پر مجبور کر گیا

بیٹا اتنی بھی جلد بازی اچھی نہیں ہوتی بعد میں رونا پڑتا ہے کیوں ڈیڈ ایسا ہی ہے نہ
فیضان اپنا دوکھڑا روتا بولا جس پر ماہین نے اسکو بس گھور سکی باکی سب مرد حضرات کا قہقہ گونجا اور آمنہ بیگم نے فیضان کے سر پر چپت لگائی_

چلیں

جاناں کی آواز پر سب نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا جہاں وه بلیک کلر کی شفون کی ساڑھی پہنے جو اسے ہر طرح سے اس کو کور کیے ہوئی تھی، لائٹ میک اپ كیے بالوں کو پیچھے کھولا چھوڑے اور ہمیشہ کی طرح ہائی ہیلز میں وه بہت خوبصورت لگ رہی تھی اگر شازل دیکھتا تو وه اس کی تعریفیں کرتا رہ جاتا
سب کے منہ سے بےساختا ماشااللّه نکلا اور وہیں ولی نے اپنا رخ موڑ گیا جو ماہین اور جاناں دونوں نے دیکھا تو ماہین نے اسے تسلی دی

زرام میں تیرا گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں جلدی سے آجا اور آپ سب لوگ بھی آجائیں _ ولی زرام کو غصہ سے کہتا باہر جانے لگا جب جاناں بھاگ کر اسکے پاس آئی_
ولی بھائی میں آپ کے ساتھ جاؤں گی زرام بھائی مما جان لوگوں کو لے کر جائیں گے آپ سب لوگ جائیں میں اور ولی بھائی آجائیں گے

وه ولی کی غصے بھری نظروں کو نظر انداز کرتی سب کو بولی تو زرام اسکو دیکھتا جو اسے مدد طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی سب کو لیتا باہر چلا گیا اور آمنہ بیگم جاتے ہوئے ان کو جلدی آنے کی ہدایت کرتی چلی گئیں_

کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ میں نے جب ایک بار تم سے کہا ہے میرے سامنے کبھی مت آنا تو پھر یہ بکواس کرنے کی ضرورت میری ایک بات تمہیں سمجھ نہیں آتی دور رہا کرو مجھ سے میں ایک ہوس پرست انسان ہوں تمہارے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہوں_

ولی اتنی زور سے دھاڑا کہ جاناں زور سے آنکھیں بند کر گئی اور رونے لگی

پلیز ولی بھائی مجھے معاف کر دیں وه سب مجھ سے جانے انجانے میں ہوا میں آپ کو وه سب کہنا نہیں چاہتی تھی پھر وه سب دیکھ کر اور جو اس شخص نے میرے ساتھ کیا میں پاگل ہو گئی تھی آپ ایک بار تو میری بات سنتے مجھے اتنی بڑی تکلیف میں مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے میں تو آپ کی بیٹی کی طرح تھی نہ پھر آپ مجھے یوں تنہا چھوڑ کر چلے گئے اگر آپ چاھتے ہیں میں آپ سے معافی مانگوں تو میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں__

وه روتے ہوئی ولی کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی تو ولی نے بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا اور اسے سر پر بوسہ دیا کہا برداشت تھا وه اس کی آنکھوں میں آنسوں دیکھے وه تو اس کے سامنے ہاتھ تک جوڑ گئی تھی
آیندہ ایسے مت کرنا چندا ورنہ تمہارا یہ ولی بھائی خود کے ساتھ کچھ کر لے گا تم نے مجھے بہت تکلیف دی تھی میں نے کبھی نہی سوچا تھا تم میرے ساتھ ایسا کرو گی میں سب سے زیادہ یقین تم پر کرتا تھا جو تم نے اس دن توڑ دیا تھا میں ٹوٹ گیا تھا مجھ میں ہمت نہیں تھی تمہارا سامنا کرنے کی تمہاری آنکھوں میں شرمندگی برداشت نہیں کر سکتا تھا اس لیے چلا گیا تھا

ولی اسے اپنے سامنے کرتا ہوا بولا تو نم آنکھوں سے ولی کو دیکھنے لگی جو اتنا کچھ برداشت کرنے کے باوجود اس کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکا تھا
بھائی آپ نے مجھے معاف کر دیا کیا
ہاں ایک شرط پر معاف کروں گا جب تم شازل سے نکاح کرنے پر راضی ہو گی_

ولی کی بات جاناں کے سر پر ہتھوڑے کی طرح لگی جو اس سے ایک قدم دور ہوئی
یہ۔۔۔یہ بات نہیں نہیں اس بات کا یہاں کیا ذکر ولی بھائی میں ان سے شادی نہیں کر سکتی

وه روتے ہوئی ولی سے بولی جو اسے رونے سے روک رہا تھا
دیکھو چندا آج میران انکل تم سے بات کرنے والے ہیں میں نہیں چاہتا تم ان کو انکار کرو شازل تم سے بہت پیار کرتا ہے تم کیوں اسے اتنی تکلیف دے رہی ہو میں سب جانتا ہوں وه 5 سال پہلے تمہارے انکار کی وجہ سے امریکا گیا تھا اور اب بھی تم نے اس کے ساتھ بہت برا کیا ہے تم کیوں ایسا کر رہی ہو چندا میری بات مان لو پلیز اسکو اتنی تکلیف مت دو کہ بعد میں تمہیں پچھتانا پڑے_

ولی جاناں کو اپنے سامنے کرتا پیار سے سمجھانے لگا جو اس کو خاموش نظروں سے دیکھ رہی تھی
نہیں ولی بھائی میں ان کو تکلیف نہیں دیتی میں ان سے شادی نہیں کر سکتی میں کسی سے شادی نہیں کر سکتی
پلیز ولی بھائی آپ تو سمجھیں مجھے آپ ان کو سمجھائیں نہ میں کیسے کر سکتی ہوں ____

وه روتی ہوئی ولی کندھے پہ سر رکھ گئی جسے ناجانے کب سے سے اس کندھے کا انتظار کر رہی تھی
چندا اپنے بھائی کی بھی بات نہیں مانو گی میران انکل کی بھی نہیں گڑیا سوچ سمجھ کر میران انکل کو جواب دینا جاؤ چہرہ صاف کر کے آؤ رونے سے سارا میکاپ خراب ہو گیا ہے میں باہر ویٹ کر رہا ہوں اور ایک بات ہماری صلح ہو گئی ہے یہ بات زویا کو پتا نہیں چلنی چاہیے اوکے

لیکن ولی بھائی اسے تو اس بارے میں بھی کچھ پتا نہیں ہے پھر آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں

جاناں اپنے آنسو صاف کرتی حیران نظروں سے دیکھنے لگی
ابھی ٹائم نہیں ہے بعد میں بتاؤں گا ابھی جاؤ سب ویٹ کر رہے ہوں گے_ اوکے بھائی
وه کہتی اپنے کمرے میں گئی تو ولی باہر چلا گیا اور اپنے گارڈز کو سمجھانے لگا جو باہر اس کا انتظار کر رہے تھے پھر کچھ دیر بعد جاناں باہر آئی تو وه اپنے گارڈز کے ہمرا میران مینشن کی طرف روانہ ہو گیا آج وه انتہا کا خوش تھا اسکی بہن اسے واپس مل گئی تھی جس سے وه بہت محبت کرتا تھا مگر وه نہیں جانتا تھا اس کی 5 سال کی ناراضگی نے اسے بہت بڑے دکھ میں مبتلا کیا ہوا تھا جس سے شائد سب بےخبر تھے_

سب لوگ کھانا کھانے کے بعد لاؤنچ میں بیٹھے تھے
اور زویا ولی کے ساتھ بیٹھی اسکی نظروں سے گھبرانے لگی جو ہر تھوڑی دیر بعد اس کو دیکھتا تو وه سر جھکا جاتی
تو ٹھیک ہے طے پایا اس منگل کو مہندی اور اس سے اگلے دن بارات اور ایک دن چھوڑ کر ولیمہ

اسفند صاحب نے کہا تو سب نے خوشی سے ہاں کہا
نہیں نہیں ماموں ابٹن بھی تو رکھیں ورنہ میں نے یہ شادی نہیں ہونے دینی
نور ایک دم اٹھ کر اسفند صاحب کے پاس آکر بیٹھی تو سب کا قہقہ بلند ہوا

ہاں ہاں وه بھی رکھی ہے اتوار کو ابٹن اور اس سے دو دن بعد مہندی اب خوش ہو
اسفند صاحب نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو وه جھٹ سے سر ہلا گئی_

اور جاناں شازل کا مکمل اگنور کیے جانے پر حد سے زیادہ غصہ میں بیٹھی تھی کہ اب وه ایسے ڈرامے کیوں کر رہا تھا جب وه سب کچھ ولی کو بتا چکا تھا مگر وه نہیں جانتی تھی یہ سب شازل نے نہیں بلکے زرام نے ولی کو سب بتایا ہے جب وه نور سے ملنے ان کے گھر گیا تھا تب لان سے گزرتے وه سب سن چکا تھا اور پھر کچھ دیر وہیں کھڑے رهنے کے بعد وه نور کے کمرے کی بیک سائیڈ کو طرف بڑھ گیا اور ان سب کے جانے کا انتظار کرنے لگا اور نور سے مل کر ولی کے پاس گیا تھا اور اسے سب کچھ بتا دیا تھا اور آج اسفند صاحب نے اسے بتایا تھا کہ میران صاحب نے شازل کے لیے جاناں کا ہاتھ مانگا ہے اور زویا کے ساتھ ساتھ شازل کا نکاح جاناں سے کرنا چاہتے ہیں

تو بھائی صاحب کیا سوچا ہے اس بارے میں جو میں نے آپ سے کہی تھی
میران صاحب نے کہا تو سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جاناں کا کیا فیصلہ ہو گا مگر وه تو پہلے سے ولی کو اپنا فیصلہ سنا چکی تھی _

جی خالو جاناں راضی ہے اور آپ کے فیصلے پر خوش بھی ہے
اسفند صاحب کی جگہ ولی نے کہا تو شازل نے جاناں کی طرف دیکھا جو اسے ایک نظر دیکھ کر نظریں پھیر گئی جس پر شازل کو دکھ ہوا آخر کیوں وه ایسا کرتی تھی کیا کمی تھی اس میں ناجانے کتنی لڑكیاں پاگل تھیں اس کے لیے اور ایک یہ تھی جو ہر بار اسے ریجیکٹ کرتی تھی آج بھی صرف بڑوں کا مان رکھنے کے لیے ہاں بول گئی تھی جو شازل سب جانتا تھا اس کے انداز سے ہی لگ رہا تھا وه راضی نہیں ہے

میران یہ ھمارے لیے تو خوشی کی بات ہو گی اگر شازل بیٹا میری جاناں کا نصیب بنیں
آمنہ بیگم خوشی سے بولیں تو شازل مسکرا دیا یہ تو ہماری خوش بختی ہے کہ جاناں اس گھر کی بہو بنے بھابی

صوفیہ بیگم جاناں کو محبت سے دیکھتی بولیں

اور اس طرح شازل اور جاناں کے نکاح کی ڈیٹ فكس ہوئی جو ولی اور زویا کی مہندی کی رات تھی اور اس رات ان کا نکاح ہونا طے پایا_
جانو بھائی کی شادی وہ بھی میری پیاری آپی کے ساتھ کہیں میں یہ سب خواب تو نہیں دیکھ رہی

نور خوشی سے چیختی ہوئی ایک دم صوفہ سے اٹھ کر جاناں اور شازل کے پاس آئی

جی بلکل تمہاری آپی کی تمہارے جانو بھائی کے ساتھ
ماہین اور فیضان ایک ساتھ بولے جو باہر لان میں جا رہے تھے جہاں اسفند صاحب ،آمنہ بیگم ،میران صاحب اور صوفیہ بیگم شادی کے بارے میں صلاح مشورہ کر رہے تھے _

نور شازل کے ساتھ آ کر بیٹھی جو آج بہت خاموش نظر آرہا تھا

جانو بھائی کیا ہوا ہے آپ خوش نہیں ہیں کیا آپ بھی بتائیں جاناں آپی
نہیں نہیں میں تو بہت خوش ہوں مائی اینجل تم اپنی آپی سے پوچھ لو_

شازل جاناں کو آنکھ مارتا بولا جو اسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھی اور اس کی یہ حرکت ولی نے دیکھی تو وہ کھانسنے لگا

کمینے کیا ہوا تجھے زیادہ کھا لیا کیا کہہ بھی رہا تھا تھوڑا کھا پر نہیں تجھے تو آج ہی اپنا ندید پن پورا کرنا تھا کچھ شرم کر لیتا اپنے سسرال میں آیا ہوا ہے

زرام اپنی جگہ سے اٹھ کر ولی کے پاس آیا جو زویا کے ساتھ بیٹھا تھا اور اب وه زرام کو گھور رہا تھا کہ تو سب کے بیچ مجھے بے عزت کر رہا ہے
یہ لیں پانی

زویا نے جلدی سے کامپتے ہاتھوں کے ساتھ اسے پانی کا گلاس پکڑایا تو وہ زویا کو دیکھتا سارا پانی پی گیا

کیڑے مکوڑے ایس پی بکواس بند کر اپنی ورنہ میں نے شازل کو تیرا راز بتا دینا ہے جو تیرے موبائل میں ہے
ولی اپنی ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بولا جو ہمیشہ کی طرح بلیک تھری پیس سوٹ میں تھا

ولی کی بات پر شازل کے کان کھڑے ہو گئے اور زرام بیچارہ رونی صورت بنائے ولی کو دیکھنے لگا_

کس بارے میں بات کر رہے ہو تم دونوں جو میں نہیں جانتا اور ہمیشہ کی طرح آج کیا کھیچڑی پکائی ہوئی ہے تم دونوں نے اور زرام اپنا موبائل دکھاؤ مجھے
شازل اٹھ کر زرام کے پاس آیا

زویا چلو ہم کمرے میں چلیں تم بھی آجاؤ نور میرا تو دل گھبرا رہا ہے یہاں_
جاناں کو جب یہاں بیٹھنا برداشت نہ ہوا تو شازل کو دیکھ کر زویا سے کہتی اور نور کا ہاتھ پکڑے زویا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تو زویا ولی کے ہاتھ کو پچھے کرنے لگی جو اسکی کمر کو جکڑے ہوئے تھا اور کوئی بھی نہیں دیکھ سکا تھا کیوں کہ وه بیٹھا اس سٹائل سے تھا کہ دیکھنے والے کو لگتا وه سوفے کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے نہ تو وه کچھ بول پا رہی تھی نہ ہی ہل سکتی تھی اگر هلتی تو خود کو ہی شرمندگی ہونی تھی کیوں کہ ولی برہان ملک میں تو شرم کے کیپسول پائے ہی نہیں جاتے تھے تو اسے شرمندگی کیسے ہوتی

پلیز ولی چھوڑیں مجھے جاناں کے پاس جانا ہے بھائی لوگ دیکھ لیں گے پلیز جانے دیں
زویا زرام اور شازل کو ایک دوسرے سے بحس کرتے دیکھ ولی کی جانب جھکی جو اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا
جو اسے گھبرائی گھبرائی حد سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی
ہاں تو چلی جاؤ ہارٹ بیٹ کس نے روکا ہے مگر مجھے ایک کس دے کر جاسکتی ہو_

ولی نے اسکے کان میں سرگوشی کی تو زویا کی سبز آنکھیں حیرت سے کھول گئی کبھی وه ولی کو دیکھتی تو کبھی شازل کو جو زرام سے اس کا موبائل چھیننے کی کوشش کر رہا تھا مگر انکا سارا دھیان ایک دوسرے میں تھا جس کا فائدہ ولی برہان ملک بھرپور اٹھا رہا تھا

میں کیسے آپ کو پلیز مجھےجانے دیں میرے دونوں بھائی یہی پہ ہیں پلیز ان کا ہی لحاظ کر لیں
زویا آنکھوں میں نمی لائے بولی تو ولی ایک دم سیدھا ہوا اور ہاتھ پیچھے کیا
ہے ہارٹ بیٹ رونا نہیں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا اور اب جاؤ____

ولی غصہ بھری آواز میں سرگوشی کی تو وه ایک جھٹکے سے اٹھ کر بھاگ گئی_
گھٹیا انسان شرم نہیں آتی ان کو اتنی گندی بات کرتے ہوئے وه بھی میرے بھائیوں کے سامنے افف اللّه اتنا بیشرم انسان میرے ہی نصیب میں لکھنا تھا اللّه جی آگے پتا نہیں کیا کریں گے یہ بدتمیز ولی

زویا بھاگتی ہوئی سیڑهیاں بھلانگ کر اپنے کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑی ہوئی اور ولی کو برا بھلا کہنے لگی کہ ایک دم دروازہ کھولا اور وه زمین بوس ہو گئی کیوں کہ نور میڈم اس سے زور سے ٹکرآئی تھی

یا اللّه میری کمر توڑ دی بھینس نے سارے بیکار لوگ میرے پلے باندھ دیے اللّه جی آپ نے_ ایک وه منہوس ولی اور اب یہ بھینس
زویا آنکھیں بند کیے ولی کو منہوس کہتے رونے لگی جو شائد خود بھی نہیں جانتی تھی کیا کہہ گئی ہے اور یہ جانے بغیر نور میڈم اسکو خونخوار نظروں سے دیکھ رہی ہے_

زوئی کی بچی تمیز ہے تم میں تم نے مجھے بھینس کہا کہاں سے میں تمہیں بھینس لگتی ہوں اور تم نے ولی بھائی دی کھڑوس کو منہوس کہہ کر دل خوش کر دیا

نور اسکے سامنے کھڑے ہوتی بولی جو ولی کے لیے منہوس سن کر بےہوش ہونے لگی تھی
ہاں تم بھینس ہی ہو اور میں نے کب کہا ولی کو منہوس تم مجھ پر الزام مت لگاؤ میں ان کو کیوں کہنے لگی تم خود دل میں کہتی ہو گی

زویا اٹھتی ہوئی اسکے سامنے کھڑی ہوئی جو اب مسکرا مسکرا کر دیکھ رہی تھی
ولی بھائی کی ہارٹ بیٹ تم ان کو منہوس کہہ چکی ہو وه بھی اپنی خوبصورت زبان سے اور اب میں اپنی تیز زبان کے زریعے تمہارے دی منہوس پرنس کو بتاؤ گی کہ اسکی ہارٹ بیٹ نے اسے کیا کہا ہے

کہتے ہی وه نیچے بھاگ گئی اور زویا ڈر کے مارے کامپنے لگی
کیا ہوا ہے زویا ایسے کیوں کھڑی ہو
جاناں باہر آتی ہوئی زویا سے بولی جو بت بنے کھڑی تھی کیوں کہ اسے وه رات یاد آنے لگی جب وہ ولی کے آفس گئی تھی اور ولی نے اس کے ساتھ کیا کچھ کیا تھا_

وه وه جاناں نور ولی کو بتانے گئی کہ میں نے اسے منہوس کہا ہے میں نے نہیں کہا وه خود ہی کہہ رہی تھی اب میرا نام لے دے گی میں کیا کروں

زویا رونے لگی تو جاناں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا_ کچھ نہیں کہیں گے وه تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں ڈر رہی ہو اتنا چپ ہو جاؤ اگر ان کو پتا چلا تم رو رہی ہو پھر ضرور تمہیں ڈانٹیں گے_
وه نور تو _ اھم وه خود ولی بھائی سے ڈرتی ہے اتنی ہمت نہیں ہے اس میں __
جاناں قہقہ لگاتی ہوئی اسے هنسا گئی_ سچ کہہ رہی ہو جاناں_
زویا اس سے الگ ہوتی ہوئی بولی

یس مائی ڈول اب چلو کیچن میں چائے بنانے میرا بہت دل کر رہا چائے کا اور میں نے ہی نور کو نیچے بھیجا ہے سب سے پوچھنے کہ کس کس نے چائے پینی ہے اور وه تم سے جھوٹ بول کر گئی ہے_ اللّه پوچھے اس سے تو _
وه دونوں باتیں کرتی نیچے چلی گئیں_

زرام موبائل چھوڑ دے ورنہ مجھے تو کچھ نہیں ہونا مگر تمہارا فون ٹوٹ جائے گا اب تو مجھے پورا یقین ہے تو بہت بڑی کھیچڑی پکا رہا ہے

شازل اسکے موبائل کی سکرین سے پکڑ کر کھینچنے لگا جو اسکے ہاتھ میں تھا تو زرام کی گرفت اور مضبوط ہو گئی


دیکھ شازل میرے فون میں کچھ نہیں ہے انسان کی اپنی بھی کوئی پرائیویسی ہوتی ہے پر تم اور ولی کمینے کو کیا پتا وہ کیا ہوتی ہے کیوں کہ خود تو بےشرموں کی طرح ہر چیز کھلے عام کرتے ہو میں تو شریف سا بندہ ہوں
زرام زور سے چیختا ہوا بولا اور سیڑھیوں کے پاس کھڑی جاناں اور زویا ان کو اس طرح لڑتا ہوا دیکھنے لگیں اور نور میڈم مسکراتی ہوئی لاؤنچ کے دروازے پر کھڑی ہو گئی اور دل میں دعا کرنے لگی اللّه کرے اس زہریلے ناگ کا موبائل ٹوٹ جائے اور ولی صاحب ان کی ویڈیو بنانے لگا بیٹا جو بات یہ سالا ولی بولتا ہے وه ہمیشہ سچ ہوتی ہے اور جس طرح تو اپنے موبائل کو سینے سے لگا رہا ہے نہ اس سے تو مجھے لگ رہا کہ تو کسی کے ساتھ چکر میں ہے اور یہ چکر کسی لڑکی کا ہے ____

شازل ایک ہاتھ کی مدد سے اسے سوفے پہ گراتا ہوا بولا تو نور میڈم کی ہنسی کو بریک لگی اور دل کی دھڑکن رکنے لگی
دیکھ شازل ایسا کچھ نہیں ہے یہ کمینہ جھوٹ بول رہا ہے پلیز میرا یار نہیں ہے تو چھوڑ دے میرے بھائی
زرام کو جب اپنی پول کھولتی محسوس ہوئی تو شازل کی منتتیں کرنے لگا جس پر جاناں اور زویا کا قہقہ گونجا تو ان تینوں نے مڑ کر دیکھا اور پھر کیا ولی اور شازل وہیں تھم گئے اور ان کو محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگے
اور یہی موقع پا کر زرام نے شازل کے ہاتھ سے آہیستہ سے موبائل چھینا اور اس سے دور ہوا

اھم چھچھورو ذرا یہاں بھی دهیان دے لو میری بہنوں کو تاڑنا بند کرو زرام کی آواز پر ان دونوں کو ہوش آیا تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر کیا زرام آگے اگے اور شازل اور ولی اسکے پیچھے پچھے اور نور تو خاموش نظروں سے زرام کو دیکھ رہی تھی جانے کب کیسے چھوٹی چھوٹی نوک جھوک میں وه نور کو اپنا دیوانہ بنا گیا تھا اب اچانک یہ سب وه اپنے دل کے درد کو محسوس کرنے لگی_

زرام بھائی یہ چیٹینگ ہے آپ سچ بتاؤ کیا چکر ہے_ جاناں اپنا حصہ ڈالتی ہوئی زرام کا دل دکھا گئی
جاناں چندا تم سے یہ امید ذرا نہیں تھی تم میرے خلاف ہو گی_

زرام صوفہ کے پچھے کھڑا ہوتا ہوا جاناں کو گھورنے لگا
نہیں بھائی جاناں سہی کہہ رہی ہے آپ ہمیں بتا دو ہم اس لڑکی کے گھر جا کر اپ کے لیے بات کر آئیں گے
زویا کہاں پچھے رهنے والی تھی وه بھی زرام کی کلاس لینے لگی_

ہارٹ بیٹ تم پریشان نہیں ہو میں بتاتا ہوں اس کا راز

ولی زویا کو محبت بھری نظروں سے دیکھ کر بولا تو شازل زرام کو چھوڑ کر ولی کے پاس آیا اور سب ولی کی اگلی بات کا انتظار کرنے لگے
اور نور دھک دھک کرتے دل کے ساتھ شازل کے پاس آ کر کھڑی ہوئی

یہ کیڑا مکوڑا ایس پی کسی کے عشق میں اس قدر پاگل ہے کہ _
ولی زرام کو مسکراتی نظروں سے دیکھتے روکا جو اسے خاموش رهنے کا اشارہ کر رہا تھا _ یہ بھی بھول گیا وه لڑکی اس سے چھ سات سال چھوٹی ہے اور اس کے دوست کی چھوٹی بہن ہے اور ہر روز اس سے ملنے جاتا ہے___
ولی کی بات نے سب کو گم سم کر دیا اور سب زرام کو دیکھنے لگے جو خود ولی کی بات سن کر بت بن گیا تھا کہ اس کمینے نے کیا شوشا چھوڑا ہے اور نور کا ایک آنسو فرش پر گرا تھا جو کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا
زرام بھائی آپ یہ سب کیا یہ سچ ہے
جاناں سب سے پہلے ہوش میں آئی اور زرام کے پاس گئی تو سب ہوش میں آگے اور ولی پورسکون ہوتا زویا کے پاس جا کر کھڑا ہوا اور اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا_

ہارٹ بیٹ 2 منٹ میں اپنے کمرے میں آؤ ورنہ اپنی سزا کی ذمہدار تم خود ہو گی
ولی اسکے کان کی لو چومتا سڑھیاں چڑھ گیا اور وه اپنی دھڑکنوں کا شور سننے لگی جو اسکے کانوں تک سنائی دے رہا تھا اور پھر وه سب کو ایک دوسرے میں بحس کرتے دیکھ اس کے پیچھے چلی گئی وه نہیں چاہتی تھی ولی اسے اس رات کی طرح ڈانٹے وه اس رات ولی سے بہت ڈر گئی تھی __

دیکھو چندا وه کمینہ جھوٹ بول رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہے اور شازل تو تو جانتا ہے نہ ولی کتنا کمینہ ہے پلیز سمجھ نہ
زرام نور کو دیکھنے لگا جو شکوا بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اور پھر اپنی نم آنکھیں صاف کرتی لاؤنچ سے باہر چلی گئی تو وه شازل اور جاناں کو سمجھانے لگا جو اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے

تو پھر کیا سچ ہے میں وه سننا چاہوں گا تو نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا شرم آتی ہے تجھے تم اور ولی اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو ہاں
شازل غصہ سے بولا تو زرام کو جو ڈر تھا وہی ہوا اب وه شازل کو کیا بتائے اگر اس نے زرام کو غلط سمجھا تو اور جاناں شازل کو دیکھنے لگی جو ایک دم غصے میں آگیا تھا اسکے غصے سے تو وه پہلے سے ڈرتی تھی کیوں کہ شازل کو جب غصہ آتا تھا وه کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتا تھا

دیکھ میرے یار میں سب سچ بتانا چاہتا ہوں مگر ابھی نہیں بتا سکتا سمجھ نہ یار
زرام شازل کے پاس جاتے کہنے لگا اور جاناں کو مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگا کہ پلیز ہیلپ یار

ٹھیک ہے جب مجھے بتانا ضروری ہو تو بتا دینا تب تک مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے _

شازل کہتا کیچن کی طرف چلا گیا اب اسے اپنا غصہ کم کرنا تھا جو صرف کوفی سے ہی ہو سکتا تھا _

یار یہ ولی کمینہ اتنا چول انسان ہو گا میں ہمیشہ یہی سوچتا تھا مگر اتنا فسادی ہو گا یہ نہیں سوچا تھا

زرام اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا ولی کو گالی دینے لگا جو لاؤنچ میں تھا ہی نہیں جس پر اسے اسکی چلاکی سمجھ آئی
زرام بھائی آپ سے یہ امید تو بلکل نہیں تھی ہمیں تو بتا سکتے تھے نہ _

بعد میں بتاؤں گا ابھی نہیں
بعد میں بتانے کا کہتا زرام اسکا ماتھا چومتا باہر بھاگا اور جاناں نے ایک لمبی سانس خارج کی
وه کمرے میں داخل ہوئی تو ولی برہان ملک اسکے بیڈ کو اپنی ملكیت سمجھے آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اور کوٹ اتار کر بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ رکھے جب کے دوسرے ہاتھ کی پہلی دو انگلیوں میں سگرٹ دبايے بیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا اسے اس طرح دیکھ کر زویا کو حد سے زیادہ غصہ آیا کیوں کہ زویا کو سخت نفرت تھی سگرٹ سے مگر وه کچھ کر نہیں سکتی تھی اسی لیے دروازہ بند کیے وہیں کھڑی ہو گئی_

ہارٹ بیٹ یہاں میرے پاس آؤ وہاں کھڑے رهنے کے لیے نہیں بلايا جلدی سے ادھر آؤ
ولی اسکی موجودگی کو محسوس کرتا آنکھوں پر سے بازو ہٹا دیا اور ایک گہرا کش لیتا بیڈ سے نیچے جھک کر اسے ہاتھ کی مدد سے بجھایا اور سیدھا ہو کر لیٹ گیا

نہیں میں آپ کے پاس نہیں آوں گی مجھے اچھا نہیں لگتا آپ کے پاس آنا دور رہا کریں میں یہاں بھی صرف اپنے گھر والوں کی وجہ سے کھڑی ہوں ورنہ میں آپ کا حکم کبھی نہ مانتی
زویا ہمت کرتی ایک ہی سانس میں سب کچھ بول گئی مگر نظریں نیچے ہی رکھی کیوں کہ جو بات اس نے کی تھی وه ولی جیسے بندے کو غصہ دلانے کے لیے کافی تھی
سنا نہیں تم نے ہارٹ بیٹ میں کیا کہہ رہا ہوں یہاں آؤ اگر میں تمہارے پاس آیا تو تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا جانتی ہو نہ پھر مجھ سے مقابلہ مت کیا کرو اب جلدی سے یہاں آؤ

ولی کی غصے بھری آواز آئی تو زویا نے ایک دم اسکی طرف دیکھا جس کی آنکھیں حد سے زیادہ سرخ ہو رہی تھی اور ماتھے پر بہت زیادہ بل آئے ہوئے تھے جو اسکے غصے کی علامت تھے تو وه ایک سیکنڈ میں اس کے پاس پہنچی تو ولی نے اسے کھینچ کر اپنے پاس بٹھایا اور اسکے پیٹ پر ہاتھ رکھتے اپنی طرف جھکایا
ہارٹ بیٹ جانتی ہو نہ اتنی ہمت میں نے صرف تمہیں دی ہے جو مجھ سے جب چاہے بدتمیزی کر سکتی ہے اور جب چاہے میری بات کی نفی کر سکتی ہے ورنہ آج تک اتنی کسی میں ہمت پیدا نہیں ہوئی کہ وه ولی برہان ملک کی بےعزتی کرے

وه غصہ سے اسکا چہرہ اپنے چہرے کے نزدیک کیے گھمبیر آواز میں بولا تو زویا ڈر کے مارے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ گئی مگر اس بار اسکے کالر کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی جو ولی کو مسکرانے پر مجبور کر گئی_
آپ بہت برے ہیں ولی اپنی غلطی کو ماننے کی بجائے مجھ پر اپنا روعب جھاڑتے ہیں اسی وجہ سے مجھے بہت برے لگتے ہیں آپ بہت گندے ہیں آپ اس رات بہت برا کیا میرے ساتھ_

وه سسکتی ہوئی اسکے سینے پر سر رکھ گئی اور رونے لگی جس کی وجہ سے ولی کی شرٹ گیلی ہونے لگی اور ولی اسے رونے دیتا اپنا ایک ہاتھ جو اسکے پیٹ پر تھا اور دوسرا ہاتھ کی انگلیاں زویا کے بالوں میں چلانے لگا
کیا چاہتی ہو ہارٹ بیٹ 5 سال کم ہیں کیا مجھے تکلیف دینے کے لیے اس قدر مجھے تکلیف مت دو کہ بعد میں تم خود اس تکلیف سے گزرو جو مجھے اور زیادہ تكلیف دے گی مجھے تم سے صرف یقین چاہیے جو تم مجھ پر کرو مجھ سے بد گمان مت ہو میں تمہاری بے اعتباری برداشت نہیں کر سکتا

تم میری سانسوں میں بستی ہو ہارٹ بیٹ تمہارے بغیر میں بلکل تنہا ہوں مجھے تمہارے علاوہ کوئی بھی وجود نہیں چاہیے تم بھلے مجھ سے محبت نہ کرو مگر ولی برہان ملک جو صرف تمہارا ہے وه اپنی آخری سانس تک صرف تم سے عشق کرے گا میری سبز آنکھوں والی معصوم گڑیا
وه اسے اپنی باہوں میں قید کیے زویا کے کان میں سرگوشی کرنے لگا جس پر وه اس کی قید میں کامپنے لگی
نہیں چاہیے مجھے ایسی محبت ولی جس میں صرف درد ہو جو صرف ایک دھوکہ ہو اور_

اسکے باکی کے الفاظ منہ میں رہ گئے جب ولی نے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور ان پر اپنی شدت لٹانے لگا اور زویا سرخ چہرے کے ساتھ آنکھیں بند کر گئی اور اس کے کالر کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا جو کبھی کرنا نہیں چاہتی تھی مگر ولی کی حرکت نے اسے مجبور کر دیا تھا __

آیندہ میری محبت کو دھوکے کا نام مت دیتا ہارٹ بیٹ ورنہ اس سے بھی بری سزا دوں گا
کچھ دیر بعد وه اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشتا اسے وارن کرنے لگا جو روتی ہوئی اسکے سینے پہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کے مکے برسا رہی تھی

شاز
وه کیچن میں داخل ہوتی شازل کو پکارنے لگی جو اپنے لیے کوفی بنا رہا تھا اسکی آواز پر شازل نے پلٹ کر دیکھا جو اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی
جی بولیں مس جاناں اسفند ملک___

وه سنجیدگی سے کہتا واپس اپنے کام میں لگ گیا مطلب ابھی تک وه غصہ میں تھا اور جاناں تو اس کے مخاطب کرنے والے انداز پر غصہ ہونے لگی مطلب وه اپنی بات منوانے کے باوجود اس کو اگنور کر رہا ہے جاناں ایک دم غصہ سے اسکی طرف دیکھا جوہمیشہ کی طرح براؤن ڈریس شرٹ جس کے اوپر کے دو بٹن کھولے تھے اور بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھے اور ساتھ بلیو جینز پہنے بالوں کو پونی میں قید کیے سنجیده سا مگر حد سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا
آپ اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں یہ ایٹیٹیوڈ اپنے بےہوده فینز کو دیکھایا کریں مسڑ واہیات میں آپ کی فین نہیں ہوں
جاناں کی بات سن کر شازل نے غصے میں اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر بازو سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا اور خود اسکے نزدیک ہوا اور ایک ہاتھ اسکی گردن پر رکھے اسکا چہرہ اوپر کیا جو آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی کہ اس کے ساتھ اچانک ہوا کیا ہے

جان مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ نہ تو تمہیں میرا پیار سے بات کرنا پسند ہے نہ تم میرا غصہ دیکھ سکتی ہو نہ ہی اپنے لیے میری لاپرواہی برداشت کر سکتی ہو آخر چاہتی کیا ہو مجھ سے اب بھی تم کبھی بھی میرا پرپوزل اکسیپٹ نہ کرتی اگر ڈیڈ ماموں لوگوں سے بات نہ کرتے
شازل اسکے چہرے کو دیکھتا ہوا غصہ سے بولا جو اپنی آنکھوں کو بند کیے دیوار کے ساتھ سر ٹکائے کھڑی تھی_

آپ ہیں میرے لیے مسلہ شاز نہ آپ واپس آتے نہ آپ مجھ سے نکاح کرنے کی زد کرتے آپ نے ولی بھائی کو سب کچھ بتایا شرم نہیں آئی آپ کو بھائی ہیں وه میرے کیا سوچتے ہوں گے کہ ہم دونوں بغیر کسی رشتے کے 5 سالوں سے ریلیشن شپ میں تھے جو ایسا ہے ہی نہیں

وه آنکھیں کھولے اسکی آنکھوں میں دیکھتی غصہ سے بولی جو خونخوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا

یہ بکواس کس نے کی تم سے مس جان جب تم اچھے سے جانتی ہو مجھے ہم دونوں کے بیچ کی باتیں کسی کو بھی بتانا بلکل پسند نہیں ہے پھر یہ بکواس کرنے کا مقصد اور جب میں نے 5 سال تم سے دوری برداشت کی تب میں نے کسی کو نہیں بتایا تو اب کیوں بتاتا اور نکاح کا صرف میں نے موم اور ڈیڈ کو بتایا ہے جن کے بغیر میں تم سے نکاح نہیں کر سکتا اب جاؤ یہاں سے ورنہ غصے میں تمہارے ساتھ کچھ کر نہ بیٹھوں جس کا پچھتاوا بعد میں مجھے ہو اور آیندہ نکاح سے پہلے یوں سج سنور کر میرے سامنے مت آنا ورنہ میں خود کا کنٹرول کھو دوں گا _

وه غصہ سے کہتا جاناں سے دور ہو گیا اور اپنا رخ موڑ گیا جس پر جاناں بے آواز رو دی کیوں کہ آج پھر اس نے شازل کو تکلیف دے تھی کچھ بھی جانے بغیر_

شاز وه میری بات سنیں پلیز

جاناں ہمت کرتی شاز کا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا جو سرخ چہرہ لیے اس کو گھور رہا تھا جس پر جاناں کا دل زور سے دھڑکا_

اب کس وجہ سے آنسو بہا رہی ہو جان _

شازل کی بات پر جاناں نے اسکے گیریبان کو اپنے دونوں ہاتھوں میں جکڑا اور اسکی آنکھوں میں اپنی نم آنکھیں گاڑهی جس پر شازل اسکو حیران نظروں سے دیکھنے لگا__

آپ مجھ سے نکاح کر کے کبھی خوش نہیں رہ سکیں گے شاز ابھی بھی وقت ہے آپ کے پاس پلیز نکاح سے انکار کر دیں میں آپ سے نکاح نہیں کر سکتی _
وه روتے ہوئی اسکے کندھے پر سر رکھ گئی
مجھے ایسی خوشی نہیں چاہیے جان جس میں تم میرے ساتھ نہ ہو میری ساری خوشیاں تم سے ہیں

وه اسکو ہگ کرتا گھمبیر آواز میں بولا تو جاناں کو ہوش آیا وه کیا کر چکی ہے اسکے اتنے نزدیک وه ایک دم پیچھے ہوئی اور ایک نظر اس کو دیکھتی باہر بھاگ گئی تو شازل بھی اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا کوفی دیکھنے لگا جو ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوئی تھی کیوں کہ اس نے جاناں کے آنے پر چولہا بند کر دیا تھا وه صرف اسے ٹائم دینا چاہتا تھا_
،،
وه اسے دھونڈتا لان کے پیچھلے حصّے کی طرف آیا جہاں وہ گھٹنوں میں سر دیے رونے کا شوغل فرما رہی تھی اسے روتا دیکھ زرام کو دکھ بھی ہوا تھا اور خوشی بھی اسے آج بن کہے اپنی محبت کا جواب مل گیا تھا عجیب خاموش محبت تھی ان کی جس میں کوئی اظہار نہ تھا۔
زرام چلتا ہوا نور کے پاس آیا اور خاموشی سے اس کے ساتھ نیچے گھاس پر بیٹھ گیا اور اسے دیکھنے لگا مطلب وه اس سفر میں اکیلا نہیں تھا وه بھی اسے چاہتی تھی جو ولی کے جھوٹ کو سچ سمجھتی روئے جا رہی تھی وه جان گیا تھا وه بھی اس سے محبت کرتی ہے مگر وه اسے کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
“کیوں رو رہی ہو؟؟ مجھے بتاؤ۔”
زرام اوپر آسمان کی طرف دیکھتا اس سے استفسار کرنے لگا–
“میں رؤں یا خوش ہوں اس سے آپ کو مطلب نہیں ہونا چاہئے میں نے یہ سب پوچھنے کا حق آپ کو نہیں دیا تو یہ سب آپ مجھ سے مت پوچھیں”۔
نور پہلے ہی اسکی موجودگی محسوس کر چکی تھی وه چاہتی تھی زرام اسے کہے جو ولی کہہ رہا تھا وه جھوٹ ہے میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں مگر اس نے تو پوچھا بھی تو کیا جس پر وه غصے سے اپنا سر اوپر اٹھاتی آنسوں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی اپنی ساری بھرڑاس نکال دی اور واپس اسی پوزیشن میں چلی گئی جس پوزیشن میں وه پہلے بیٹھی تھی_
“جانتی بھی ہو کس لہجے میں مجھ سے بات کر رہی ہو مجھے ایک سیکنڈ بھی نہیں لگے گا تمہاری زبان کاٹنے میں چھوٹی ہو مجھ سے بھول گئی ہو کیا اور رونا بند کرو ورنہ زرام اسفند ملک کو اپنے طریقے سے چپ کروانا بہت اچھے سے آتا ہے”۔
وه اسے بازو سے پکڑ کر سیدھا کرتا ہوا دھاڑا کیوں کہ وه حیران ہی تو رہ گیا تھا اس کا غصے بھرا انداز دیکھ کر۔ آج تک وه ہی اس پر غصہ کرتا آیا تھا اور روعب جھاڑتا تھا مگر آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ نور اس سے اس لہجے میں بات کر رہی تھی جس پر اسے بھی غصہ آ گیا تھا چاہے وه اس سے محبت کرتا تھا مگر وه اس سے چھوٹی تھی وه یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اسکی محبت اس سے بدتمیزی سے بات کرے وه اس سے محبت کے ساتھ ساتھ عزت اور احترام بھی چاہتا تھا۔
“ممیں—– آپ سےبدتمیزی —— نہیں کر رہی پلیز بازو چھوڑیں میرا——- آپ تکلیف دے رہے ہیں مجھے آپ اپنی اس محبت کے پاس جائیں جس کے بارے میں وه زوئی کی بچی کے کھڑوس پرنس بات کر رہے تھے”۔
زرام کے غصے اور اسکی اتنی زور کی پکڑ پر ہی وه رونے لگی ایک تو وه اس سے محبت نہیں کرتا تھا اور پھر اس کو تكلیف بھی دے رہا تھا جس پر اسکے رونے کی شدت بڑھ رہی تھی اس کی تو دوستیں کہتی تھی کہ زرام اسفند ملک اس سے محبت کرتا ہے اس لیے تم پر اپنا روعب جھاڑتا ہے مگر آج تو وه سب جھوٹ ثابت ہو گیا تھا _
“کیا تمہیں میری آنکھوں میں اپنے لیے محبت نظر نہیں آتی کیا تم نے کبھی بھی محسوس نہیں کیا کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں بولو جواب دو”۔
نجانے آج وه کیوں اسے دکھ دے رہا تھا کیوں اسے اپنی شدت دکھا رہا تھا کیوں جنونی ہو رہا یہ تک بھول گیا جس بات سے وه ڈرتا تھا وه اس سے 7 سال چھوٹی تھی اگر وه ستائیس کا تھا تو وه بیس کی تھی وه رو رہی تھی اسکی آنکھوں میں دیکھتی اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی مگر وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا اس سے پوچھ رہا تھا کہ اس نے کبھی زرام اسفند ملک کی آنکهوں میں محبت محسوس نہیں کی_
“نہیں کی میں نے م?