Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ڈیڈ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ کو سب کے سامنے جھکنا پڑے ۔۔۔۔۔حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے مجھے جاناں سے نکاح کرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔میں آپ کو انفارم کرنا چاہتا تھا مگر کسی وجہ سے نہیں کر سکا۔۔۔۔۔ مجھ نہیں پتا تھا آپ اس نیوز کو اتنا سیریس لے لیں گے۔۔۔۔۔۔ پلیز ڈیڈ اس بار معاف کر دیں۔۔۔۔۔ آیندہ کچھ بھی کرنے سے پہلے آپ کو پہلے بتایا کروں گا۔۔۔۔۔”
وه انکے ہاتھوں پر بوسہ دیتا آج کی ساری صورتحال بتانے لگا کس طرح اس نے جاناں سے نکاح کیا اور کس طرح اس نیوز اینكر نے اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے یہ سب کیا۔ کچھ دیر پہلے والے غم کے بادل جھڑ گئے تھے اب اس لاؤنچ میں خوشی کا سماں تھا کیوں کہ انکا بیٹا اب شادی شدہ ہو گیا تھا میران صاحب نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا پھر کچھ دیر ادھر ادہر کی باتوں کے بعد شازل فریش ہونے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا اور میران صاحب اور صوفیہ بیگم اسفند ملک ہاؤس جانے کی تیاری کرنے لگے نور اور زویا نے صبح جانے کا فیصلہ کیا کیوں کہ وه ایک دن وہاں جاناں کے پاس رہنا چاہتی تھیں آج تو وه ٹھیک بھی نہیں تھی وه اس کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
جانو بھائی ہم لوگ آ جائیں ۔۔۔؟؟؟؟
زویا اور نور اسکے کمرے میں داخل ہوتی ہوئیں بولیں تو وه جو اپنی وارڈروب سے کپڑے نکال رہا تھا موڑ کر انکی طرف دیکھا تو مسکرا کر رہ گیا۔
“ہاہاہاہا جانو بھائی کی جانوں آپ لوگ پہلے سے ہی کمرے میں داخل ہو چکی ہیں۔۔۔۔۔ میری کیسی اجازت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
وه قہقہ لگاتا ہوا بولا تو اس کے خوبصورت ڈیمپلز بھی اپنی آمد کا بتانے لگے۔
بھائی یہ نور مجھے تنگ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ کہ تمہارے کھڑوس پرنس تمہیں دھوکا دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے باہر بھی کہیں شادی کی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔کیا ایسا ہی ہے ؟؟؟؟؟
وه اپنی سبز آنکھوں میں نمی لیے شازل کے بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی انداز ایسا تھا کہ اگر یہ سچ ہوا تو میں رو دوں گی۔شازل کو تو اسکی معصومیت پر انتہا کا پیار آیا اور آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا کر سر پر بوسہ دیا اور نور کو گھورنے لگا جو اسکا موبائل اٹھائے اس میں نجانے کیا کر رہی تھی۔
اینجل بری بات ہے ایسے نہیں کہتے ورنہ میں نے ولی کو بتا دینا کہ تم اسکی ہارٹ بیٹ کو اسکے خلاف بھڑکاتی ہو ۔۔۔
شازل مصنوئی غصے سے اپنی اینجل کی گھورتا بچاری ولی کی معصوم سی ہارٹ بیٹ کو بوکھلانے پر مجبور کر دیا جو اسکی بات سنتی شرماتی ہوئی شاز کے کندھے میں منہ چھپایا تو نور اور شازل کا قہقہ گونجا تو وه ناراض سی اپنا رخ موڑ گئی۔۔۔
“جانو بھائی میں آپ کا فون اپنے کمرے میں لے کر جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے فون کی سمجھ نہیں آرہی ۔۔”
وه شازل کو کہتی روم سے باہر چلی گئی کیوں کہ شاز نے اپنے وعدے کے مطابق اسے آئی فون کا لیٹیسٹ ماڈل لا کر دیا تھا اب جب بھی اسکی سمجھ نہیں آتی تھی وه اپنے جانو بھائی کا فون اٹھا کر چلی جاتی ۔۔۔۔
شازل زویا کو منانے لگا اور اسے کچھ اہم باتیں بتانے لگا جس کے بعد وه اپنی ساری ناراضگی بھلائے اسکے گلے لگی سسکنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسٹر شاز آپ شادی شدہ ہیں یہ بات آپ نے اپنے فینز سے کیوں چھپائی؟یا آپ کو ڈر تھا کہیں اس سب سے آپ کی فین فالوینگ متاثر نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟؟؟”
صحافی کے سوال پر شاز کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی جس کے لاکھوں لوگ دیوانے تھے سب نے اس کی قاتل مسکراہٹ کو جی بھر کر دیکھا تھا اسکی مسکراہٹ تھی ہی اتنی جانلیوہ کوئی ایک بار دیکھتا تو دوبارہ دیکھنے کا شوق پیدا ہوتا اور اس کے شرارتی ڈمپلز پل بھر میں اپنا دیدار کروا رہے تھے کوئی نہیں جانتا تھا شازل میران ملک کے خوب صورت ڈمپل کسی کے دل میں ہل چل مچا رہے تھے وه دل تھامے اپنے لاپرواہ ہینڈسم مسٹر واحیات کو دیکھ رہی تھی کچھ مصروفیت کی بنا پر ایک دن لیٹ كانفرنس رکھی تھی ۔
جاناں اپنے کمرے میں بیٹھی تھی باکی سب لاؤنچ میں بیٹھے اسکی كانفرنس سن اور اسے دیکھ رہے تھے اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ سب میں بیٹھ کر اپنے شوہر کی باتیں سنے۔
“مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ اس سب کے بعد مجھے چاھتے ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔مگر جو لوگ مجھے اب بھی چاھتے ہیں میں ان کو سچے دل سے قدر کرتا ہوں ۔۔۔۔جو چیز میں چاہتا ہوں یا جسے میں چاہتا ہوں مجھے اس سے فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔شدی میرا ذاتی مسلہ ہے میں اسے چھپا کر رکھوں یا سب کے سامنے اس سے کسی کو فرق نہیں پڑنا چاہیے ۔۔۔۔جہاں تک رہی بات میری فین فالووینگ کی تو وه مجھے یقین ہے اس پر اس چیز کا کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔”
وه تحمل سے جواب دیتا جاناں کا دل زور سے دھڑکا گیا اسکے جواب پر دل معمول سے ہٹ کر دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر آجائے گا ۔
کسی اور صحافی کے سوال پر جاناں کا دل کیا اسکا سر پھاڑ دے جو اسکے شوہر سے ایسے سوال کر رہے تھے مگر اس کا سوال سن کر شازل کا قہقہ برآمد ہوا تھا ایک بار پھر سے سب لوگ اپنا دل تھام گئے تھے ۔یہی حال جاناں کا تھا اگر وه اس کے سامنے ہوتا تو یہ بات سو فیصد ممکن تھی کہ جاناں بےخود ہوتی اسکے ڈمپلز کو چھو جاتی جاناں اپنی سوچ پر ہی شرما گئی تھی۔
“سر اپکی شادی سے ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لڑکیوں کے دل چکنا چور ہوئے ہیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟
تو شاز نے ان کا ٹھیکا لیا ہوا ہے اہمم ۔۔۔۔
جاناں ناک چڑھاتی ہوئی بولی اور پھر شاز کی طرف متوجہ ہوئی جو جواب دے رہا تھا۔
“کیا میں نے ان سب سے وعدے کیے ہوئے تھے ؟؟؟؟کہ میں ان سے شادی کروں گا ۔۔۔خیر میں ان سے ایک ہی بات کہوں گا میں جس کا نصیب تھا اس کا نصیب بن چکا ہوں۔۔۔۔۔میں اپنی بیوی کا ہوں اور ہمیشہ اس کا رہوں گا ۔۔۔۔۔”
شاز کا جواب سن کر اس کے دل میں ڈھیروں سکون اترا تھا اور چہرے پر سرخی در آئی تھی وه مسکراتی ہوئی اپنے فون کی گیلری آن کیے اسکی تصویر پر اپنے لب رکھ گئی تھی وه ہمیشہ سے اس کا تھا بچپن سے اسکا تھا وه ساری دنیا کے سامنے اظہار کر رہا تھا کہ وه صرف اپنی بیوی کا ہے مگر وه پاگل لڑکی یہ سوچ سوچ کر بیمار ہو گئی تھی کہ اگر شازل کی اسکے کل کا پتا چلا تو وه اسے چھوڑ کر چلا جائے گا مگر وه یہ نہیں جانتی تھی شازل میران ملک سانس لینا تو چھوڑ سکتا ہے مگر اپنی جان کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
آمنہ بیگم تو اپنی بیٹی کے نصیب پر اللّه کا شکر ادا کرتے تھک نہیں رہی تھیں اور شازل کے گھر والوں نے آج خود کو خوش نصیب سمجھ رہے تھے کہ اتنا اچھا بیٹا اس گھر کا غرور تھا ۔میران صاحب کو آج سہی معینوں میں اپنے بیٹے پر فخر ہوا تھا۔
______
رات کی سیاہی چارو طرف پھیلی ہوئی تھی مگر اسے اس پل بھی سکون نہیں تھا وه دبے قدموں سے چلتا ہوا اسکے کمرے میں داخل ہوا اس کے لیے مشکل نہیں تھا یہاں تک پہنچنا اس لیے اب وه اپنے رف سے حولیے میں ہمیشہ کی طرح بلیک جینز پر بلیک ہی شرٹ پہنے اوپر کے تین بٹن کھولے کالے سیاہ بال ماتھے پہ گرائے سرخ آنکھیں جو سیگرٹ پینے اور اتنی دیر تک جاگنے کی چغلی کھا رہی تھیں وه دھیرے دھیرے قدم لیتا اسکے بیڈ کے قریب آیا ۔ زیرو نائٹ بلب میں معصوم مگر خوبصورت نقوش والی پری کا چہرہ نظر آرہا تھا جو اسکا سکون برباد کیے خود سکون کی نند لے رہی تھی جس پر ولی برہان ملک کی تیوری چڑھی تھی پھراس نے غصے سے اس پر سے كمبل اٹھا کے نیچے پھینکا تھا اور خود اسکے پاس دائیں جانب لیٹا اور اسکے نرم نازک وجود کو اپنی باہوں کے حصار میں جکڑ کر اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپا لیا اور اسکی خوشبو کو خود میں اتارنے لگا تو وه معصوم کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتی ہوئی اپنی آنکھیں کھول گئی ڈر اور خوف کی وجہ سے زویا پر کپکپاہٹ طاری ہو گئی اور تھر تھر کامپنے لگی اور ہمت کرتی خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروانے لگی زبان پر تو جیسے طالو سے چیپک گئی تھی اور سوچنے کی ساری صلاحیتیں جیسے مفلوج ہو گئی تھیں ۔
کمرے میں پھیلا اندھیرا اور کسی انجانے وجود کی جان لیواقربت اسے اسے اس وقت خطرناک حد تک خوفزدہ کر رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کون ہے جو اسکے اس قدر قریب اور اسے ہراساں کر رہا تھا اسے خود کے ڈر سے آج شدت سے نفرت ہونے لگی تھی کہ وه کیوں نور کی طرح بہادر نہیں اگر اس کی طرح بہادر ہوتی تو اس وجود سے مقابلہ کر لیتی مگر وه اس مضبوط گرفت سے آزاد ہونے کی مسلسل مزاحمت کرتی رہی مگر وه نازک سی جان اس چٹانی وجود کو خود پر سے ہٹانے کی بس کی بات نہیں تھی وه تو اس پر قابض ہوا زویا کی نازک صراہی دار گردن پر اپنے شدت بھرے لمس کی مہر لگانے میں اس قدر مصروف تھا کہ اس نازک سی جان کی پروا کی بغیر اپنی جان لیوه قربت سے اس پر ظلم ڈھا رہا تھا زویا کی مسلسل مزاہمت سے بدمزہ ہوتا اپنے مظبوط ہاتھوں کی انگلیاں اسکے ہاتھوں کی نازک انگلیوں میں بھنسا گیاتو زویا کو لگا آج وه خوف سے یا اس شخص کی قربت سے ہی مر جائے گی زویا کی ٹھوڈی اسکے بالوں پر تھی جس سے اسکے بالوں کی چبھن محسوس کر رہی تھی جب کہ وه اس پر چھکا اپنی داڑھی کی چبھن اسکی گردن اور گالوں پر پر مسلتا اسکی سانسوں کو اتھل پتھل کر گیا ۔وه اپنی بند ہوتی سانسوں کے بیچ اپنا ضبط کھوتی بے آواز آنسوں بہانے لگی اسے لگا وه ہمیشہ کے لیے اپنی آواز سے محروم ہو گئی ہے۔
زویا کی مزاحمت اور اسکے آنسوں کی پرواہ کیے بغیر وه اس کی گردن سے اپنا چہرہ نکالتے دوبارہ جھک کر اسکی سماعتوں میں اپنی سرد پهنكار گھولتا اسے پل بھر کو ساکت کر گیا اسکے لرزتے وجود کی کپكپاہٹ کو محسوس کرتا اور اس کی دڑ اور خوف کے زیر اثر شورمچاتی دھڑکنیں اسے صاف بتا رہی تھی کہ وه اسکے لمس کو پہچان نہیں سکی اور کسی انجان وجود کو سمجھتی ڈر رہی ہے۔
“ہارٹ بیٹ تمہارے وجود کی لرزش اور میری قربت سے شورمچاتی تمہاری دھڑکنیں یہ ظاہر کر رہیں ہیں ۔۔۔۔۔اور تم سمجھنے سے قاصر ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اس وقت تم ولی برہان ملک کی قید میں ہو۔۔۔۔۔۔میرے لمس کو انجان لمس سمجھنا تمہاری سب سے بڑی غلطی ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔جس کی سزا میں آج تمہیں اپنے لمس کی پہچان کروا کر دوں گا ۔۔۔۔تا کہ آیندہ میں جب بھی تمہارے قریب آؤں تو میری قربت اور میرے لمس سے خوفزدہ اور ہراساں نہ ہو سکو۔۔۔۔۔۔”
وه اسکے کان کی لو کو چومتا ایک بار پھر اسکے ڈر اور خوف میں اضافہ کر گیا مگر یہ ڈر اس کے پہلے کے ڈر جیسا بلکل نہیں تھا اب وه اسکی آواز پر پر سکون ہوئی تھی کہجس کی قید میں وه ہے جس کے وه قریب تر ہے وه کوئی انجان نہیں بلکے اسکا شوہر اسکا ولی برہان ملک ہے مگر اسکی سرد آواز پر بامشکل وه اپنی گھٹی آواز اپنے حلق سے نکالنے میں کامیاب ہو سکی کیوں کہ وہ ابھی بھی اسکی مظبوط گرفت میں قید تھی ۔۔۔
وو۔۔ولی ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔۔معاف ۔۔۔۔۔۔کر دیں ۔۔۔۔آیندہ ایسا ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔اس طرح آپ مجھے ۔۔۔۔تکلیف دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے شام والے میسج کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدلہ لے رہے ہیں میں کیا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔ وه نور نے مجھے کہا کہ۔۔۔۔۔۔۔ آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے کسی اور سے کرتے ہیں۔۔۔۔”
وه سسکتی ہوئی اسکے سینے میں چھپنے لگی جیسے اس کی سزا سے بچنے کا واحد زریعہ اسکا سینہ ہو آج شام ہی اسنے ولی کو میسج کیا تھا کہ وه اس سے پیار نہیں کرتا وه کسی اور سے کرتا ہے اس لیے وه اب اس سے کبھی بات نہیں کرے گی اسنے کہیں اور شادی کی ہوئی ہے جزباتی ہو کر وه ولی کو میسج کر چکی تھی ۔وه اچھے سے جانتا تھا یہ اخرفات اسکے چھوٹے سے ذہن میں کس نے ڈالی ہیں یہ الفاظ اسکی ہارٹ بیٹ کے ہو ہی نہیں سکتے تھے جس پر ولی کو غصہ آیا تھا کہ اس کی ہارٹ بیٹ ہر بار کسی کی باتوں میں آ کر اسکی محبت کی توہین کر جاتی ہے وه اسے آج سزا دینے آیا تھا جیسے اس نے اپنے آفس میں اسے دی تھی جس کے ڈر کی وجہ سے اب وه جاناں والے واقعہ پر اس سے نفرت کا اظہار نہیں کرتی تھی کہ کہیں ولی اسے سزا ہی نہ دے دے مگر آج پھر وه غلطی کر گئی تھی جس کی سزا آج اسے بھگتنی تھی۔
“ہارٹ بیٹ رونا بند کرو ورنہ جس طریقے سے میں نے تمہیں چپ کروایا وه طریقہ تمہیں کچھ خاص پسند نہیں آئے گا۔۔۔۔”
ولی اپنی نازک سی ہارٹ بیٹ پر رحم کھاتا اسکے ہاتھوں کو اپنی قید سے آزاد کرتا اسکا سر سرہانے پر رکھتا ایک بار پھر اس پر جھکتا اسکی آنکھوں پر لب رکھتا اس کی نازک سی جان کی مشکل بڑھا گیا وه آنکھیں بند کیے اپنی شور مچاتی دھڑکنوں سے گھبرانے لگی اور اس پہر میں بھی اسکی پیشانی پر پسینے کے ننھے ننھے قطروں کا اضافہ ہوا تو اس کی گهبراہٹ دیکھ کر ولی کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ نے احاطہ کیا تو اسکی پیشانی پر شدت سے بوسہ دیتا ایک سائیڈ پر دراز ہو گیا۔
“پرسکون رہو ہارٹبیٹ ۔۔۔۔۔میں سکون حاصل کرنے آیا تھا ۔۔۔۔۔۔جو مجھے مل گیا ہے۔۔۔۔۔۔ تم میرا سکون ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ آیندہ میرے بارے میں الٹا سیدھا مت سوچنا ۔۔۔۔۔۔۔ولی برہان ملک صرف اپنی ہارٹ بیٹ سے عشق کرتا ہے اب سکون سے سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو۔۔۔۔”
وه اسے اپنی پناہوں میں لے کر محبت بھری سرگوشیاں کرتا اسکا سر اپنے سینے پہ رکھے سکون سے آنکھیں موند گیا مگر میری نند خراب کیے وه دل میں سوچتی رہ گئی جب کہ وه اس سے پوچھنا چاہتی تھی آپ یہاں کیسے آئے مگر وه تو کبھی اس کی سنتا کب تھا بس اپنی چلاتا تھا اسے سوتا دیکھ زویا اسکے ماتھے پہ آئے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے پچھے کرنے لگی مگر یہ اسکی معصوم سوچ تھی کہ وه اپنی ہارٹ بیٹ کے اتنا قریب ہونے پر سو سکتا تھا وه تو اس پر رحم کیے خود کے منہ زور جذباتوں کو سلا رہا تھا ورنہ وه اسے بہکنے پر مجبور کر رہی تھی تو وه اسے سونے کا کہتا اپنی آنکھیں بند کر گیا مگر اس کی معصوم حرکت پر اسکا دل ایک دم پھر سے بہکنا چاہتا تھا وه تو آج حیران ہو رہا تھا کیا یہ اسکی ہارٹ بیٹ تھی ۔
“آپ بہت برے ہیں ولی ہمیشہ اپنی چلاتے ہیں سب لوگ آپ کو ہینڈسم کہتے ہیں مگر مغرور لگانا بھول جاتے ہیں آپ اپنے آپ کو پتا نہیں سمجھتے کیا ہیں بھائی کہتے ہیں وه تمہاری سنے گا مگر آپ تو ہر چھوٹی بات کی مجھے سزا دیتے ہیں پھر کہتے ہیں میں تم سے عشق کرتا ہوں آپ جیسے بھی ہوں میں جانتی ہوں آپ صرف میرے ہیں مجھے شازل بھائی نے سب سچ بتا دیا ہے مگر میں آپ سے معافی نہیں مانگوں گی کیوں کہ آپ کون سا اپنی غلطی کی معافی مانگتے ہیں جو میں مانگوں ۔۔۔۔۔۔۔”
وه آہستہ آواز میں سرگوشی کرتی اسکے سینے پہ دھیرے سے لب رکھتی مسكراتی آنکھوں سے ولی کو دیکھتی آنکھیں بند کر گئی مگر ولی کے دل کی دنیا میں ھلچل مچا گئی وه پٹ سے آنکھیں کھولتا اس کے گلابی خوب صورت چہرے کو دیکھنے لگا جو آج پہلی دفعہ اسکے اتنے قریب ہونے پر وہ پرسکون نظر آئی تھی جو ادھ کھلے ہونٹوں سے نیند کی وادیوں میں چلی گئی تو وه مسکراتی نظروں سے اسکے آدھ کھولے ہونٹوں کو نرمی سے چھوتا اور شازل کا دل میں شکریہ ادا کرتا خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا۔
صبح ہونے سے پہلے ہی وه اپنے گھر آگیا تھا دل تو اس کا نہیں چاہ رہا تھا اپنی ہارٹ بیٹ سے دور ہونے کو مگر خود کے دل کو ڈپٹتا اس کے جاگنے سے پہلے وہاں سے نکل آیا تھا اب وه شاور لے کر ہمیشہ کی طرح شرٹ لیس واش روم سے باہر نکلا تو سامنے اپنے بیڈ پر لیٹے زرام اسفند ملک کو دیکھ کر ماتھے پر ہزاروں بلوں کا اضافہ ہوا تھا جو مسکراتا ہوا اسکا موبائل استمعال کرنے میں مگن تھا۔
“تو یہاں میرے کمرے بلکے میرے پورشن میں کیا کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میں اپنا کنٹرول کھوں تو شرافت سے دفع ہو جا میرے کمرے سے ۔۔۔۔۔۔”
وه اپنے غصیلے انداز میں کہتا اس کے سر پر کھڑا ہو کر اسے یہاں سے دفع ہو جانے کا کہنے لگا جو اسے مکمل اگنور کیے اسکے فون میں ٹاائپینگ کرنے میں مگن تھا جس پر اسے کچھ برا ہونے کا شک ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“لو ہو گیا ۔۔۔۔اب جتنا دل چاہتا ہے دھاڑ لے ۔۔۔۔۔میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا ۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں بغیر دھاڑے تجھے سکون نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
زرام اسکا موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتا اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
“تو بتائے گا تو میرے موبائل کے ساتھ کیا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔کیڑے مکوڑے ایس پی اگر تو نے سچ نہیں بتایا نہ تو مجھ سے آج تو بچ نہیں سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔”
ولی غصے سے اسے بیڈ پر دھکا دیتا اپنا غصہ اتارنے لگا جو اس سے معافی مانگے بغیر اسکا موبائل یوز کر رہا تھا مگر ولی جانتا تھا وه بھی اسکا بھائی ہے معافی مانگنا تو اسکی بھی ڈیکشنری میں نہیں ہے۔۔۔۔۔
“میں شازل سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اب تم لوگ تو میرا سوچتے ہی نہیں ہو۔۔۔۔ تو سوچا۔۔۔۔۔۔ چل بیٹا ۔۔۔۔۔اپنا خود ہی سوچ لے تیرا یہاں کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
وه اٹھتا ہوا مصنوئی آنسوں بہاتا شیثے کے سامنے جا کر کھڑا ہوا تو ولی نہ سمجھی سے اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہا ہے تو ۔۔۔۔۔اور یہ ڈرامیں کرنا بند کر ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔کہ تمہیں پولیس میں بھرتی بیواقوف نے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رک میں خود ہی چیک کر لیتا ہوں تو میرے موبائل کے ساتھ کر کیا رہا تھا ۔۔۔۔۔
ولی اسے گھورتا اپنا فون اٹھاتا واٹس ایپ چیک کرنے لگا اور زرام مسکراتا ہوا اسے آنکھ مارتا باہر کو بھاگا کیوں کہ اگر وه یہاں ركتا تو اس کی شامت ولی کے ہاتھوں پکی تھی ۔۔۔۔۔
ولی نے شازل کے نام کی چیٹ اوپن کی تو آج زندگی میں پہلی بار اسے جھٹکا لگا اور سر چکرا گیا کیوں کہ میسج کچھ اس طرح تھے ۔۔۔۔۔
“ہیلو شازل ۔۔۔۔۔”
“ہاں بول۔۔۔”
“یار مجھے تجھ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔ مگر سمجھ نہیں آرہی کیسے کروں ۔۔۔۔۔۔۔”
“یار ولی تو کب سے بات کرتے ہوئے سوچنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
ساتھ آنکھ مارنے والا اموجی تھا “
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔۔یار مجھے تجھ سے زرام کے لیے بات کرنی تھی۔۔۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں ہم زرام کا نکاح نور سے کروا دیں۔۔۔۔۔۔ زرام اور نور کی جوڑی بہت اچھی لگے گی۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں نور بہت چھوٹی ہے زرام سے مگر یار وه بہت اچھا انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔ مانا کے میں اسے کمینہ کہتا ہوں مگر ہے تو میری جان نہ۔۔۔۔۔۔ تو پلیز مان جا ان دونوں کے رشتے کے کے لیے۔۔۔۔۔۔ اور میران انکل سے بات کر۔۔۔۔۔ میں ڈیڈ سے بات کر چکا ہوں۔۔۔۔۔۔”
“یار تو ہوش میں تو ہے نور ابھی بہت چھوٹی ہے۔۔۔ اور زرام بہت بڑا ہے۔۔۔۔۔”
“تو ٹھیک ہے اگر تجھے نور اور اسکا رشتہ نہیں پسند تو میں زویا سے شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔ اور تیری جاناں سے بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔۔۔ اب تو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔۔۔۔۔ اور مجھ سے بات تب کرنا جب تو ان کے رشتے کے لیے مان جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ولی ساری چیٹ پڑھ کر اپنی ٹی شرٹ پہنتا لاؤنچ میں آیا جہاں سب کھانے کی میز پر بیٹھے تھے ایک دم چیخا تھا جس پر سب گھر والے گھبرا گئے تھے آواز اس قدر اونچی تھی کہ سب ہڑبڑا کر اسکے طرف دیکھا تھا جو ٹی شرٹ ٹراؤزر میں غصے سے بھرا کھڑا تھا۔۔
زرااااا م ۔۔۔۔۔۔ذرااااااااا م
مگر وه ہوتا تو جواب دیتا
“بیٹا کیا ہوا کیوں صبح صبح اتنا غصہ کر رہے ہو ۔۔۔۔”
آمنہ بیگم اسکے پاس آتی ہوئیں بولیں ۔۔۔۔
“موم اس كمینے زرام نے بہت گھٹیا حرکت کی ہے میں اس کو چھوڑوں گا نہیں آج ۔۔۔۔۔”
“ولی یار ہوا کیا ہے یہ تو بتاؤ جس پر تم غصہ کر رہے ہو وه تو گھر میں ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
فیضان کے پوچھنے پر وه سب کو میسجز پڑھ کر سنانے لگا تو پہلے تو سب خاموش ہو گئے مگر ولی کی شکل دیکھ کر جاناں کا قہقہ پورے لاؤنچ میں گونجا ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔”۔ولی بھائی ۔۔۔۔۔یہ تو بہت برا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن آپ ٹینشن نہ لیں آپ کی ہارٹ بیٹ آپ سے دور کہیں نہیں جائے گی ۔۔”
جاناں کی بات پر ایک بار پھر سے سب کا مشترکہ قہقہ گونجا تو وه سب کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
“برخردار وه تمہارا بھائی ہے۔۔۔۔۔۔۔ جیسے تم نے ڈنکے کی چوٹ پر میران سے زویا گڑیا کا رشتہ مانگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وه بھی نور کے لیے ان سے بات کر چکا تھا وه بھی ہم سے پوچھے بغیر۔۔۔۔۔۔۔ اور کل میران اور صوفیہ ان دونوں کا رشتہ پکا کر کے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ جمعہ کی نماز کے بعد سادگی کے ساتھ اسکا نکاح ہے اور رخصتی نور کی پڑھائی کے بعد ۔۔۔”
اسفند صاحب کے بتانے پر ولی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا دل میں اس سے بدلہ لینے کا سوچتے کھانا کھانے بیٹھ گیا اور پھر کھانا کھانے تک ولی کو سب چھیڑتے رہے جس پر ولی کو زندگی میں پہلی بار شرمندگی ہوئی تھی کیوں کہ اس بار اسکو پاگل بنایا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم”
وه لاؤنچ میں داخل ہوتا یہاں وہاں اپنی جان کو ڈھونڈتے ہوا بولا جہاں سب رات کے کھانے کے بعد چائے پی رہے تھے سوائے اس کی جان کے ،دل اسے نہ دیکھ کر اداس ہو گیا تھا ۔
سب نے اسکی طرف مڑ کر دیکھا جو وائٹ ڈریس شرٹ جس کے اوپر کے بٹن ہمیشہ کی طرح کھولے تھے ساتھ بلو جینز پہنے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا اسے دیکھ کر سب نے دل میں ماشاءالله کہا اور اس کے سلام کا جواب دیتے اسے بیٹھنے کا کہا وہی ولی اسے مکمل نظرانداز کرتا اپنی چائے پینے لگا اور زرام اٹھ کر اسکے گلے لگا۔
“آجا میرے نئے نئے بنے سالے صاحب ۔۔۔۔میں تجھے اپنے ہاتھوں سے چائے سرو کرتا ہوں۔۔۔۔”
اسکی بات سن کر شازل نے اسکی قمر پر ایک مکا جڑا تو وہ بلبلا اٹھا
“میرا ہاتھ بہت بھاری ہے زر۔۔۔۔ میں ولی نہیں ہوں جو تجھ پر دھاڑتا ہے ۔۔۔۔۔میں شازل ہوں اور میں صرف مارتا ہوں۔۔۔””
شازل اسکا گال تهپتھپاتا ہوا ولی کے ساتھ جا کر بیٹھا اور اسکے ہاتھ سے چائے کا کپ پکڑ کر سامنے ٹیبل پر رکھا تو وه اسے گھورنے لگا تو شاز اپنی ہنسی ضبط کرتا اسفند صاحب کی بات سننے لگا جو اس سے کچھ پوچھ رہے تھے۔۔۔
“شازل میرے شہزادے ۔۔۔۔۔بزنس کیسا جا رہا ؟؟؟اور تمہارا وه امریکہ کا پراجیکٹ کہاں تک پہنچا؟؟؟
“جی ماموں ۔۔۔وه میں نے ڈیڈ کا بزنس سمبھالنے کا سوچا ہے اور امریکہ کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر اپنے تمام پراجیکٹس یہیں پاکستان میں کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔میں ڈیڈ کو بہت دکھ دے چکا ہوں اب اپنی خوشی کے لیے میں ڈیڈ اور موم کو اور زیادہ تکلیف نہیں پہنچاسکتا اس طرح میں ڈیڈ بھی خوش اور میرا خواب بھی پورا ہو جائے گا۔۔۔”
وه ان سب کو اپنے مخسوس انداز میں مسکرا کر جواب دیتا ایک نظر زرام کو دیکھا جو معنی خیز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا شازل کو اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل لگا تو وه ماہین کو کافی بنانے کا کہتا مٹھی بناتا اپنے ہونٹوں پر رکھ لی اور ولی ان دونوں کی حرکتوں پر سر جھٹکتا رہ گیا۔
“ماں صدقے میرے بچے”
آمنہ بیگم اٹھ کر اس کا ماتھا چومتی سر پر ہاتھ رکھ کر اسکی کامیابی کی دعا دینے لگی سب ان کی محبت پر مسکرانے لگے وہیں یہ سب دیکھ کر زرام کی زبان پر خارش ہوئی۔۔
“موم مجھے تو ایسے کبھی پیار نہیں کیا بلکے میرے حصے کا پیار بھی آپ کمینے ولی اور سالے شازل کو دے دیتی ہیں۔۔۔”
زرام منہ بناتا ہوا بولا تو آمنہ بیگم نے اسکے سر پر چپت لگائی اور ولی اور شازل نے اسے گالی دینے پر بیک وقت گھورا اور وہیں فیضان اٹھ کر زرام کے پاس آیا اور اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔
“ارے میرے شیر ۔۔۔میں ہوں نہ تمہیں پیار کرنے کو “
زرام اس کی محبت پر اپنے بڑے بھائی کو گلے لگایا فیضان کی جان بستی تھی اپنے شوخ سے چھوٹے بھائی میں جو گھر میں بلکل بچہ بن جاتا تھا اور وہیں شہر میں سب اس سر پھرے ایس پی سے دڑتے تھے اسکا کیا بھروسہ تھا کسی بھی وقت کچھ بھی کر جاتا انصاف کے لیے تو ہر حد پار کر جاتا۔۔۔
“شازل بیٹا یہ تم نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے مگر اتنے سال تم وہاں گزار کر آئے ہو ایک بار تو تمہیں وہاں جانا پڑے گا۔۔”
آمنہ بیگم کے سوال پر سب اپنی مستیاں چھوڑ کر شازل کو دیکھنے لگے جو آمنہ بیگم کو دیکھتا اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر رہا تھا وه ایسا تب ہی کرتا تھا جب اسے بےچینی ہوتی تھی جیسے اب ان کے سوال پر ہو رہی تھی۔
“ممانی جان۔۔۔اتنے دن سے مجھے سمجھ نہیں آرہی میں کیسے آپ سب سے اس بارے میں بات کروں ۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میرے اٹھائے گئے قدم سے آپ سب کو تکلیف ہو میں بغیر آپ لوگوں کی اطلاع دیے ۔۔۔۔۔بغیر آپ سب کے مشورے کے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا میں آپ سب کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ولیمے والی رات پاکستان سے چلا جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔میں یہاں صرف جاناں سے نکاح کرنے آیا تھا۔۔۔”
وه اپنی بات کہتے پل میں ساکت ہوا تھا کیوں کہ سامنے ہی اس کی جان آنکھوں میں بےیقینی لیے آنسوں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی شائد وه ابھی آئی تھی اور اسکی آخری بات ہی سنی تھی جس کی وجہ سے وه شاز کو ایسے دیکھ رہی تھی اور پھر روتی ہوئی وہاں سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی جس پر شازل اسکی حالت کا سوچتا پریشان ہو گیا اور پھر فیضان کی الجھن بھری آواز اسکے کانوں میں سنائی دی تو وه اسکی طرف دیکھنے لگا پریشان تو سب ہو گئے تھے مگر سوائے ولی اور زرام کے جو پرسکون سے بیٹھے تھے جیسے وه اس سب سے پہلے سے واقف ہوں۔۔
“شاز یار ۔۔۔۔۔۔ابھی تو تم کہہ رہے تھے تم خیر باد کہہ رہے ہو تو پھر اس بات کا مطلب اور جہاں تک رہی بات جاناں سے نکاح کی تو ہم اس سے بہت خوش ہیں۔۔۔۔تم سے بڑھ کر جاناں کے لیے اس دنیا میں کوئی ہو ہی نہیں سکتا”
” یار فیضی میں نے یہ نہیں کہا کہ میں ماڈلینگ کے کریر کو خیر باد کہہ رہا ہوں بلکہ میں نے کہا ہے ۔۔۔۔میں امریکہ کو خیر باد کر رہا ہوں ۔۔۔۔پہلے میرے ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر اب میں ہمیشہ یہاں رہنا چاہتا ہوں یہیں رہ کر ڈیڈ کا بزنس سمبھالنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔اور بھی میرے وہاں بہت سارے پراجیکٹس چل رہے ہیں جن کو میں ختم نہیں کر سکتا مگر میری ان سے بات ہوئی ہے کہ وه لوگ یہاں پاکستان میں پراجیکٹس مکمل کریں ۔۔وه میری بات مان بھی گئے جس کے لیے ایک بار مجھے وہاں جانا ہو گا۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد میں ہمیشہ کے لیے واپس آجاؤں گا میرا وہاں جانا بہت زیادہ ضروری ہے آپ سب کی حامی بھی میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے ڈیڈ بھی مان گئے اب آپ لوگ بھی مان جائیں۔۔۔”
وه سب کو بتاتا دل میں میں جاناں کے لیے پریشان ہونے لگا کہ وه رو رو کر اپنی حالت خراب کر لے گی مگر اس طرح اٹھ کر جا بھی نہیں سکتا تھا اس لیے ضبط کرتا ان سب سے باتیں کرنے لگا جو اب ہر طرح سے خوش نظر آرہے تھے زرام اپنے فون پر آتے زویا کے مسیج پر اٹھ کر باہر لان میں چلا گیا تو باکی سب اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے۔
وه کمرے میں آتی غصے اور درد کو ملی جلی کیفیت میں روتی ہوئی بیڈ پر ڈھیر ہو گئی اور شازل سے شیکوے کرنے لگی۔۔۔۔
“آپ تو بہت جھوٹے ہیں شاز اگر جانا تھا تو مجھ سے نکاح کیوں کیا ۔۔۔کیا آپ بھی باکی عام مردوں کی طرح اپنی بےعزتی اور ریجیکشن کو اپنی انا کا مسلہ بنا کر مجھ سے بدلہ لیا ۔۔۔۔اب مجھے خود سے جوڑ کر یہاں سے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔۔”
وه روتے روتے اپنا ہوش کھو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے اسے اپنے نکاح کا پتا چلا تھا وه بلکل خاموش ہو گئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ زرام ایسا کیوں کر رہا ہے وه محبت کسی اور سے کرتا ہے اور نکاح اس سے کر رہا ہے اس کے بابا اور جانو بھائی نے اسکی رضامندی پوچھی تھی تو وه ان کو تو یہ کہہ کر خوش کر گئی تھی کہ جیسی آپ کو ٹھیک لگے وه دونوں تو اسکی بات سن کر ہی نہال ہو گئے تھے۔ ان کو اور چاہیے ہی کیا تھا ؟زرام بہت اچھا اور مخلص شخص تھا اور سب سے بڑھ کر اس گھر کا بیٹا تھا اور شازل کا زر تھا جس پر وہ آنکھ بند کر یقین کرتا تھا جو زرام کے کہنے پر اس کی محبت کا یقین کرتا اپنی اینجل کا ہاتھ اپنے زر کے ہاتھ تھما دیا تھا ۔اس دن ولی کو بیواقوف بنانا زرام کا پلان تھا جس میں اسنے شازل سے مدد مانگی تھی۔
نور لان میں واک کرتی مسلسل زرام کے بارے میں سوچ رہی تھی جب اس کے موبائل پر رنگ ہوئی تو وه اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو گھورنے لگی وه رات کے اس وقت کیوں کال کر رہا ہے جب وه اسکی رضامندی جانے بغیر
نکاح کی تاریخ پکی کروا چکا تھا جس پر نور کو بہت زیادہ دکھ ہوا تھا اسے ڈر لگنے لگا تھا وه شخص اس کا شوہر بننے جا رہا تھا وه بہت ڈری ہوئی تھی دل میں عجیب سے وسوسے پیدا ہو ریے تھے اب روز روز زویا اسکو تنگ کر کے اپنے بدلے لیتی مگر نور وہاں سے واک آؤٹ کر جاتی مگر وه معصوم سی زویا اسکی واک آؤٹ کو شرمانے کا نام دیتی مسکرا دیتی اور دل میں اپنی بہن کی خوشیوں کی دعا کرتی۔
وه اپنی سوچوں میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ ایک بار پھر سے اسکے موبائل رنگ ہوئی تو وه اپنے آنسو صاف کرتی دل کی دھڑکنوں کے شور سے لڑتی فون کو کان سے لگا گئی مگر سامنے سےہنوز خاموشی پر اور اسکا دل دھک دھک کرنے لگا اسے لگا وه اسکے ضبط کو آزما رہا ہے پھر وه خود ہمت کرتی اپنے ہونٹوں کو زبان سے تر کرتی آہستہ مگر میٹھی آواز میں زرام کا دل دھڑکا گئی۔
“جی بولیں کیوں کال کی ہے آپ نے؟؟؟
وه کہتی بے آواز آنسو بہانے لگی۔
“رونا بند کرو اور اپنے آنسو صاف کرو ورنہ میں وہاں آکر بھی یہ کام کر سکتا ہوں مگر آج نہیں ۔۔۔۔۔۔آج یہ کام تمہیں خود کرنا ہے سو اپنے آنسو صاف کرو کل سے یہ سارے حق میرے پاس ہوں گے۔۔”
وه نرم مگر گھمبیر آواز میں کہتا اسکی گهبراہٹ کا باعث بنا تو وه ہمت کرتی اس سے ان سب کی وجہ پوچھنے لگی۔۔۔
“یہ سب کیوں کر رہے ہیں آپ؟؟کیا ملے گا آپ کو یہ سب کر کے؟؟؟؟
“میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں ؟؟؟؟اس کا جواب میں تمہارے تمام حقوق اپنے نام کروا کر دوں گا بلکے اپنے عمل سے بتاؤ گا کہ میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں اور مجھے اس سے کیا مل رہا ہے ۔۔۔اب اپنے آنسو صاف کرو اور اپنے کمرے میں جا کر ریسٹ کرو میں تمہیں نکاح میں بلکل فریش دیکھنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ میری بیوی میری لیے پور پور سجی ہو۔”
اس کی معنی خیز باتیں سن کر نور کے ہاتھوں کی ہتھیلیاں بھیگنے لگیں اسے اپنی ٹانگوں پہ کھڑا رہنا مشکل لگنے لگا اور پھر یہاں وہاں دیکھتی فون بند کرتی اندر کی طرف بھاگی کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
اسکو اس طرح بھاگتے دیکھ کر سائیڈ پہ کھڑی زویا نے قہقہ لگایا وه زرام کے دوسرے نمبر اور موبائل پر ویڈیو کال کرتی نور کو دکھا رہی تھی زرام کی باتوں نے زویا بچاری کو بھی شرمانے پر مجبور کر دیا۔زرام نے اسے نور کی جاسوسی کرنے کا کام دیا تھا جو وه بہت اچھے سے نبها رہی تھی۔۔۔۔
ایسے ہی کچھ دیر باتوں کے بعد سب لوگ اپنے کمرے میں چلے گئے ۔ولی تو اپنے آفس کے کام کی وجہ سے پہلے ہی اٹھ کر اپنے پورشن میں چلا گیا تھا اب لاؤنچ میں صرف شازل اور زرام بیٹھے تھے ۔شازل کا ارادہ آج یہاں رکنے کا تھا وه یہاں کل کی ساری ارینجمنٹ کی ڈسکشن کرنے آیا تھا کیوں کہ یہ کام اسے ولی اور زرام کو کرنا تھا ۔فیضان اپنے آفس میں بہت بزی تھا آج کل وہ اکیلا آفس کو سمبھال رہا تھا اسفند صاحب کی کچھ دنوں سے طبیت ٹھیک نہیں تھی انکا اور میران صاحب کا کہنا تھا کہ اب ہم لوگ تو بوڑھے ہو گئے ہیں تو اب یہ کام تم لوگ ہی جانو۔
“چلیں شازل میرے نئے نئے بنے سالے صاحب۔۔۔”
زرام شرارت سے بولتا ہوا شازل کو تنگ کرنے لگا تو وه اٹھ کر اس کے پاس آنے لگا جس پر زرام ایک دم اچھل کر اس سے دور ہوا تو اسکے ڈر پر شازل نے قہقہ لگایا اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں چمک لیے اٹھ کر ولی کے پورشن کی جانب بڑھے۔
ولی جو اپنے بیڈ پر بیٹھا گود میں لیپ ٹاپ رکھے تیز تیز اونگلیاں چلانے میں مگن تھا کہ دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر ایک دم اسکی چلتی انگلیاں رکی تھیں اور کڑے تیوروں کے ساتھ سامنے دیکھا جہاں وه دونوں کھڑے مسکرا رہے تھے جس پر وه ایک دم دھاڑا تھا کیوں کہ اسے اپنے کام میں مداخلت بلکل بھی پسند نہیں تھی۔
کیا بے ہودگی ہے ؟؟؟”دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے میں تم لوگوں سے بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”
اسکی بات سن کر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور دنوں اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کے بیڈ پر جوتوں سمیت چڑھ کر بیٹھ گئے تو وه خونخوار نظروں سے ان کے جوتوں کو اور پھر ان کو دیکھنے لگا جو معصوم سی شکل بنا کر بیٹھے اسکی طرف دیکھ رہے تھے جیسے ان جیسا معصوم اس دنیا میں کوئی نہیں ہے وه لوگ جانتے تھے ولی کو صفائی کس قدر پسند ہے اس لیے اب بھی وہ اسے تنگ کرنے کی غرض سے اس کے بیڈ پر بیٹھے تھے۔
مینرز نہیں ہیں تم دونوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔ اترو میرے بیڈ سے اور میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو جب میں تم لوگوں سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا تو کیوں میرے سر پر ناچ رہے ہو ۔۔۔۔۔
ولی غصے سے بولا تو شازل اس سے زیادہ پیار سے بولا جس پر ولی کے آئی بروز اوپر کو اٹھیں مطلب سیریسلی۔۔۔۔
“یار ولی میری جان کے ٹوٹے ہم تم سے بات کرنے نہیں آئے بلکے تیرے پاس سونے آئے ہیں۔”
شازل اسکی گود سے لیپ ٹاپ اٹھا کر سوفے پہ پھینکتا ہوا بولا تو ولی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تو وه ایک دم اٹھ کر کھڑا ہوا جیسے اسکی عزت کو خطرہ ہو۔۔۔
تم لوگ کیوں میرے پاس سونے لگے زرام تو اپنے کمرے میں جا میں تیرے پاس بلکل نہیں سو سکتا دفع ہو میرے کمرے سے میں تو بات بھی نہیں کرنا چاہتا تم لوگوں سے ۔۔۔۔۔۔
ولی ایک بار پھر سے دھاڑا تو زرام نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے اور شازل تو لاپرواہ بنا اسکے بیڈ پر لیٹ گیا۔
“کیا شازل میرے نئے نئے بنے سالے چھوڑ اس کو۔۔۔۔۔ اس كمینے کے تو نکھرے ہی ختم نہیں ہونے خود تو کتنے سالوں سے نکاح کر کے بیٹھا ہے۔۔۔۔۔۔ مجھ معصوم نے اپنے بچپن کی خواہش کو پورا کرنا چاہ تو یہ ایسے ناراض ہو کر بیٹھا ہے جیسے میں اس کی سوتن لا رہا ہوں۔”
وه شازل کو آنکھ مارتا ہوا بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا مگر شاز تو اس کی بات سن کر اور ولی کی شکل دیکھ کر اپنی ہنسی ضبط کرنے لگا جس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
“بہت ہی کوئی گھٹیا سوچ کا آدمی ہے تو کیڑے مکوڑے اور کہاں سے تو معصوم لگتا ہے اپنی سوچ کو تو سوچ اور پھر ڈوب کر مر جا۔۔”
ولی سرخ چہرے کے ساتھ اسکے پاس آیا اور اسکے پیٹ میں مکوں کی برسات کر دی جس پر شازل اسکی پیٹائی پر دل سے خوش ہونے لگا کمینہ سالہ اور دل میں اسے نئے القابات سے نوازا سامنے کہتا تو وه زیادہ گندے نام سے پكارتا۔
یار ولی تیرا چہرہ دیکھ کتنا سرخ ہو رہا ہے جیسے تو زرام سے بہت شرما رہا ہے اب مجھے بھی لگنے لگا ہے تو سچ میں اس سے بہت محبت کرتا ہے تبھی اس کے نکاح پر خوش نہیں ہے۔
شازل شرارت سے بولا تو ولی کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔۔۔
“شاز بہت ہی کوئی گندی سوچ ہے تیری ۔۔۔۔۔اپنی کمپنی چینج کر۔۔
ولی زرام کی طرف دیکھ کر بولا تو زرام نے اسے کھینچ کر اسے بیڈ پر گرایا ۔۔۔۔
تو کیا خیال ہے پھر پھر میں تیرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
زرام اسکو دیکھ کر آنکھ مار کر بولا تو ولی نے اسے ٹانگ مار کر نیچے گرایا اور پھر اس کی دهلائی شروع کر دی جس پر زرام کی چیخیں عروج پر تھی اور شازل ان دونوں کی ویڈیو بنانے لگا اور ولی اور زرام ایک دم اٹھے اور شازل پر ٹوٹ پڑے اور کچھ دیر بعد کمرے میں تینوں کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔
جب وه ایسے ہی لیٹے لیٹے تھک گیا تو اپنی آنکھیں کھول کو پورے روم میں اپنی نظر دوڑآئی تو ولی اسے کاؤچ پہ سویا نظر آیا تو بےساختا ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور پھر اپنے ساتھ لیٹے زرام پر نظر گئی تو اسے ولی کا صوفے پہ سونا سمجھ آیا کیوں کہ زرام آدھے سے زیادہ اس پر لیٹا پر سکون سو رہا تھا پھر وه زرام کو آہستہ سے سائیڈ پر کرتا اٹھ کر بیٹھا اور سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا جہاں رات کے 2 بج رہے تھے پھر وه خاموشی سے بیڈ سے اتر کر دبے قدموں سے باہر کو بڑھنے ہی لگا تھا جب اسے زرام کی نیند میں ڈوبی آواز اپنے کان میں سنائی دی۔
” نئے نئے بنے سالے صاحب۔۔۔۔۔۔ پولیس والا سوتے ہوئے بھی جاگتا ہے تو احتیاط کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔خیر جا میرے ترسے ہوئے سالے اپنی بیوی کے پاس ورنہ تجھے نیند نہیں آنی۔۔۔”
شازل اسکی بات سن کر اس پر لعنت بھیجتا باہر جانے لگا تو اس بار بولنے کی باری ولی کی تھی جس پر وه دانت پیستا واپس مڑا ۔۔۔
“میرے بھائی اپنے بال پونی میں قید کر لے ورنہ میری چندا ڈر جائے گی۔۔۔”
ولی اپنی آنکھیں کھولتا ہوا اس کو تپانے لگا تو وه سچ میں تپ گیا اور اسکے پاس آیا اور اسکے پیٹ میں مکہ مارتے باہر چلا گیا مگر پچھے ولی اور زرام کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب اسے اپنے اوپر کسی بھاری وزن محسوس ہوا تو پٹ سے آنکھیں کھولے اپنے اوپر چھکے شازل کو دیکھ کر چیخ مار گئی مگر اسکی چیخ اسکے منہ میں ہی دم توڑ گئی جب شازل نے گھورتے ہوئے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تو وه اپنی آنکھوں کو بڑا کرتی دیکھنے لگی تو وه ذرا سا اور اسکی جانب جھکا اور اسکی سوجھی آنکھوں پر اپنے دهکتا لمس رکھتا اسکی آنکھوں کو اپنے لمس سے معتبر کر گیا پھر اسکے کان میں جھک کر گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا تو جاناں کی دھڑکنوں کی آواز اسے اپنے اپنے کانوں میں گونجتی محسوس ہونے لگی وہ روشن کمرے میں اسے خود پر جھکے دیکھ شرم سے سرخ ہوتی بلکل سن ہو گئی وه اسکے کان میں جھکا اپنی آواز کا سحر گھول رہا تھا۔
“میں تم سے عشق کرتا ہوں جان ۔۔۔۔۔تمہارے بغیر میری سانسیں بند ہونے لگتی ہیں تمہاری دوری مجھے موت کے قریب لے جاتی ہے۔۔۔۔۔ تم میرے درد کو میری محبت کو کب سمجھو گی ۔۔۔۔۔پانچ سال پہلے صرف تمہاری خوشی پر تم سے بہت دور چلا گیا تھا۔۔۔۔۔ خود کے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر واپس آیا ہوں اگر نہ آتا تو میں مر جاتا ۔۔۔۔۔۔بچپن سے صرف تم سے محبت کی ہے ۔۔۔۔۔تم سے دوری پر میری محبت عشق کی حدد کو پار کر چکی ہے۔۔۔۔”
وه اسکے دل کی دھڑکوں کی پروا کیے بغیر اسکے کان کی لو کو اپنے لبوں سے چھوتا اپنے دل کا حال ایک بار پھر سے سنانے لگا اور اپنی محبت کا اظہار کرتے اسکے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹاتا اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو لبوں سے چھوتا اسکی گردن پر جھک کر اسکی شہ رگ پر لب رکھتا اسکی جان ھلک تک لے آیا تو وه اسکی جسارتوں پر مزاحمت کرتی خود پر سے ہٹانے لگی مگر وه اسکی تمام مزاحمتوں کو نظرانداز کرتا اسکی خوشبو کو خود میں اتارنے لگا تو وه اسکی حرکت پر بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت لیے کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑانے لگی اور خود کے ہاتھوں کو اسکے مضبوط ہاتھوں کی انگلیوں سے چھڑوانے لگی جو اس پر مکمل قابض ہوئے اسکی جان نکالنے کے در پر تھا۔بلاآخر وه اپنی مزاحمت کو ترک کرتی اپنا ضبط کھوتی بےآواز رونے لگی تو شاز تڑپ کر اس کو آزاد کرتا اٹھ کر بیٹھ گیا اور خود کو کوسنے لگا ۔وه کیوں اس کی مرضی کے بنا اس پر ظلم ڈھا رہا تھا؟؟؟ وه تو اسکی غلط فہمی دور کرنے آیا تھا یہ کیا کر گیا تھا۔وه اس سے رخ موڑے خود کو کوسنے لگا کہ وه کیوں اپنی جان کے رونے کا باعث بنا تھا۔
“شاز آپ مجھے چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔آپ مجھ سے اپنی بےعزتی کا بدلہ لے رہے ہیں نہ میں آپ کو ریجیکٹ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میں تو آپ کی دوری سے ڈرتی تھی کہیں آپ مجھے بدکردار کہہ کر چھوڑ کر نہ چلے جاؤ ۔۔۔۔۔میرا یقین کریں شاز میں نے کچھ نہیں کیا تھا میں پاک صاف ہوں میرا کردار بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔مجھے چھوڑ کر مت جائیں جاناں مر جائے گی ۔۔۔۔میں آپ کی بیوی ہوں آپ سے محبت کرتی ہوں شاز میرا یقین کریں۔۔۔”
وه سسکتی ہوئی اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے شازل کو حیرتزدہ کرتی رونے کا شغل فرمانے لگی شاز تو اس کی طرف چہرہ کیے اسے دیکھنے لگا جو اسکے دل میں ھل چل مچا کر رونے میں مصروف تھی۔شازل کا نرم خوبصورت لمس جاناں کو اپنی پیشانی پر محسوس ہوا تو وه آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی جو مسکرا کر اپنے ڈیمپلز دکھاتا جاناں کو ناک چڑھانے پر مجبور کر گیا تو اپنی جان کو ایسے کرتے دیکھ وه اسکی ناک پر لب رکھ گیا تو وہ سرخ انار ہوئی۔اسکے پل میں بدلتے چہرے کے خوبصورت رنگوں کو وه مہوت سے دیکھنے لگا ہوش تو تب آیا جب وه پھر سے روتی ہوئی امریکہ جانے سے روکنے لگی تو وه اسکی بھیگے سرخ رخسار پر اپنے لب رکھتا گھمبیر آواز میں بولتا اسکو دنیا بھر کا سکون بخش گیا۔۔۔۔
“میں کہیں نہیں جا رہا ۔۔۔۔۔۔بس تم پر سکون رہو ۔۔۔جیسا میری جان اپنے مسڑ واحیات کو کہے گی ۔۔۔۔۔وه ویسا ہی کرے گا۔۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے اپنی جان کی آنکھ میں ایک آنسوں بھی نظر نہیں آنا چاہئے ۔۔۔۔۔۔”
وه اسے اپنی باہوں کے حصار میں لیتا اسے مسکرانے کا باعث بنا تو وه خوشی خوشی اسکے سینے سے لگی چہرہ اوپر کرتی شاز کو دیکھنے لگی جو اسے اس طرح دیکھ کر شدت اپنے سینے میں جکڑتا اسکے ماتھے پر اپنی محبت کی شدتبھری مہر ثبت کی تو وه بھی دل سے مسکراتی شرم سے آنکھیں بند کر گئی مگر کچھ یاد آنے پر اس سے الگ ہونے لگی تو وہ اسے گھورتا واپس اپنے حصار میں لے گیا کچھ دیر بعد جاناں کی جھنجھلائی آواز کمرے میں گونجی۔
شاز آپ اس وقت یہاں ھمارے گھر میں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔تو کیا آپ واپس گھر نہیں گئے ۔۔۔۔اٹھو کوئی آگیا تو کیا سوچے گا ۔۔۔پلیز اٹھیں نہ ۔۔۔بھائی لوگ آگئے تو ۔۔۔۔۔
ششش ۔۔۔۔۔۔
“کوئی نہیں آئے گا سب اپنے کمروں میں سو رہے ہیں اور میں آج رات یہیں ٹھہرا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں تو اپنے شوہر کی پرواہ ہی نہیں ۔۔۔مگر مجھے تھی اس لیے ولی لوگوں کے سونے کے بعد اپنی جان کے پاس آیا ہوں ۔۔۔۔”
شازل اسکے لبوں پر انگلی رکھتا خاموش کروا گیا تو وه اسکے سینے پر سر رکھے خاموش ہو گئی تو وه مسکراتا ہوا اسے محسوس کرتے سوچنے لگا ولی سہی کہتا تھا اللّه اسکی محبت اسے ضرور اسکے حق میں دے گا وه آنکھیں بند کیے مسکرا رہا تھا جب اسے اپنی گال لب محسوس ہوئے تو وہ آنکھیں کھولے دیکھنے لگا تو جاناں اسکے ڈمپلز کی جگہ پر لب رکھتی اسکو بےخود کرنے لگی۔۔
شاز ۔۔۔۔۔””
وه واپس اسکے سینے پر سر رکھے پیار سے بولی تو شازل دل و جان سے قربان ہوتا اسکے جانب متوجہ ہوا ۔
“همم ۔۔۔۔۔ جان بولو . ۔۔۔۔۔۔۔۔آج میں تمہیں سننا چاہتا ہوں ۔”
وه اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔۔
“وه اب میں آفس نہیں آنا چاہتی ۔۔۔۔اب آپ آگئے ہیں تو پلیز میں نہ آؤں میں ریسٹ کرنا چاہتی ہوں۔”
وه اسکی شرٹ کے کالر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتی درخواست کرنے لگی جو اسے گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔۔ ۔۔
“بلکل بھی نہیں میرا دل نہیں لگے گا آفس میں ۔۔۔۔ہاں شادی کے بعد چاہے نہ آنا کیوں کہ میں چاہتا ہوں تم میرے گھر کو سمبھالو مجھے سمبھالو ۔”
وه اسکی گردن پر اپنی داڑھی رگڑنے لگا تو جاناں کی کھلکھلاہٹیں کمرے میں نجانے کتنے لمبے عرصے بعد گونجنے لگی تو شازل دل میں اللّه کا شکر ادا کرتا اس سے ڈھیروں باتیں کرنے لگا بلکے اسکی سننے لگا۔رات ختم ہونے کو تھی مگر ان کی باتیں ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں ساری رات وه جاناں کو کبھی گهبرانے پر مجبور کرتا تو کبھی اسے کھلکھلانے پر مگر آج وہ اسکی پناہوں میں پرسکون اور بہت خوش تھی۔
صبح کی سنہری کرنیں کھڑکی سے آتی ہوئیں اسکے روشن چہرے پر پڑی تو اس نے کسمساتے ہوئے کھڑکی کی طرف دیکھا اور مسکرا کر پھر سے سونے لگی مگر آنکھوں کے سامنے رات کے سارے منظر چلنے لگے تو وه پٹ سے آنکھیں کھولتی اوپر کی جانب اپنی نظریں دوڑائی تو ہونٹ خود باخود مسکراہٹ میں ڈھل گئے کیوں کہ وه اس وقت شازل کی گود میں سر رکھے ہوئی تھی اور شازل بیڈ سے ٹیک لگائے سکون سے سویا ہوا تھا جب کہ ہاتھ ابھی تک جاناں کے سلكی خوبصورت بالوں میں تھے وه اسکو ایسے دیکھ کر ایک بار پھر رات کے منظر میں کھو گئی۔
“شاز ۔۔۔۔۔۔”
“همم ۔۔۔۔” بولو جان ۔۔۔۔۔۔”
وه اسے کے سینے پر سر رکھے محبت سے بولا تو جاناں کو اس پر ڈھیر سارا پیار آیا مگر وه سوئے ہوئے شیر کو جگانا نہیں چاہتی تھی اس لیے اپنی خواہش کا اظہار کرنے لگی ۔۔۔
“شاز جب میں بہت ازیت اور تکلیف میں تھی، جب مجھے لگتا تھا میرا دل درد سے پھٹ جائے گا میں اگلی سانس نہیں لے سکوں گی تب مجھے اس تكلیف میں نند نہیں آتی تھی تب میرا دل آپ کو یاد کرتا تھا میرا دل چاہتا تھا میں آپ کی گود میں سر رکھے سکون سے سوؤں پھر آپ کو اپنی ساری تکلیف کا بتاؤ کہ دیکھیں شاز آپ سے دور رہ کر آپ کی جان بھی اتنی ہی ازیت میں ہے جتنی ازیت وه آپ کو دے چکی ہے ۔”
جاناں آنکھوں میں نمی لیے شازل کی شرٹ کو اپنے ہاتھوں میں تھامتی ہوئی نم لہجے میں بولی تو شازل اس کو اپنے سینے میں جکڑ گیا اوراس کو لگا اسکا دل ایک بار پھر بےآواز رو رہا ہے کتنی ازیت میں تھی اس کی جان ۔وه دل میں عہد کر گیا تھا اب سے آج سے وه اپنی جاناں کی آنکھ?
Rehna Wajid
Very nice 👍
3y
Reply
Talha Amir
Absolutely amazing
3y
Reply
Mish Ti
Absolutely amazing❣
3y
Reply
Hoor Ain
Awesome
3y
Reply
Shazia Ikram
·
Nice
3y
Reply
Hoor Ain
Very nice 👍
3y
Reply
Maham Sheikh
Wow amazin
3y
Reply
Rehna Wajid
Next
3y
Reply
Hoor Ain
Zaram or noor ka seen missing ha novel main room main enter k baad agge koi seen nahin ha
3y
Reply
See translation
Anaya Awais Anaya Awais
Han aik eapisod miss hai
3y
Reply
See translation
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook