Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

وه تو میں تم دونوں کو تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا اب میں نے تم لوگوں کی تڑپ دیکھ لی تو تم لوگ جا سکتے ہو ۔”
زرام ہنستا ہوا واپس لیٹ گیا تو شازل اور ولی نے آگے بڑھ کر اسکے پیٹ میں مکوں کی برسات شروع کر دی ۔۔۔۔
“جاناں بھوک لگی ہے” ۔۔۔۔کیچن میں کھانا کھانے چلیں؟؟
زویا اور جاناں ولی کے کمرے میں اسکے بیڈ پر لیٹی ہوئیں تھیں نیند تو انکو آ نہیں رہی تھی جب زویا معصوم سا منہ بنا کر اٹھ بیٹھی اور جاناں اسکے پیارے سے چہرے کو دیکھ کر یہ نہ کہہ سکی کہ اگر کوئی اٹھ گیا تو سب کیا سوچیں گے مایوں کی دولہنیں اس طرح کیچن میں کیوں کہ وه دونوں مایوں کے لباس میں ہی تھیں بس چہرہ اس وقت ہر بناوٹی چیز سے پاک تھا ۔۔۔۔
“یار جاناں یہ ولی کا میرر ہاؤس کتنا پیارا ہے نہ ۔۔”
بریانی گرم کرتی جاناں کو دیکھ کر زویا ستائش سے بولی ۔۔
“زوئی ولی بھائی کا میرر ہاؤس تمہارا بھی ہے آخر کو تم انکی بیوی ہو۔ بھائی کو کہہ دینا وه شادی کے بعد کچھ دن کے لیے تمہیں یہاں پر لے آئیں ۔۔۔”
جاناں نے اسکے سامنے پلیٹ رکھتی ہوئی پیار سے بولی تو وه منہ بسور گئی ۔۔
“میں انکی دوسری بیوی ہوں ۔۔۔مجھے وه یہاں کیوں لے کر آئیں گے وه تو اپنی پہلی بیوی گندی سیگرٹ کو لے کر آئیں گے ۔۔”
زویا کیچن میں رکھی چیر پر بیٹھی اور خفا خفا اور اداس لہجے میں بولی تو جاناں کو پہلے تو ہنسی آئی مگر دروازے پر کھڑے ولی کو دیکھ کر شاکڈ ہوئی اور آہستہ سے اسکے پاس گئی اور زویا اپنے آنسوں ضبط کرتی پلیٹ پر جھکی رہی۔۔۔
بھائی آپ یہاں کیسے ؟؟؟
جاناں دھیمی آواز میں اس سے اسفسار کرنے لگی ۔
“چندا ابھی تم کمرے میں جاؤ اس سے پہلے کوئی یہاں آجائے “
ولی اسکے سر پر بوسہ دیتا ہوا بولا تو جاناں مسکرا کر ایک نظر زویا پر ڈال کر چلی گئی۔۔۔ تو ولی اپنی خفا خفا سی ہارٹ بیٹ کے پاس گیا اور پچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا تو وه بوکھلا گئی اور ڈر سے گرنے لگی تو ولی نے اسے اپنی گود میں اٹھا لیا ۔۔۔۔۔
یہ۔۔۔یہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟؟”چھوڑیں مجھے ۔۔۔ورنہ میں نے چیخ مار دینی ہے اور جاناں کہاں گئی”۔
زویا غصے اور شرم سے سے اسے گھورنے لگی جو مسکرا کر چلتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
“ہارٹ بیٹ فلحال خاموش رہو ۔۔۔تھوڑی دیر تک بتاتا ہوں ۔۔”
ولی اسکی غصے سے سرخ ہوتی ناک کو چھو کر بولا تو وه خود میں سیمٹ گئی اور ولی کے سینے میں منہ چھپا لیا تو ولی اس کی ادا پر مسکرا کر رہ گیا ۔
“لو ہارٹ بیٹ اب پوچھو جو پوچھنا ہے ۔۔”
ولی اسے سویمینگ پول کی طرف لاتا ہوا بولا اور اسے دیوار کی کے ساتھ لگا کر کھڑا کیا تو وه آنکھیں کھولتی ولی کو دیکھنے لگی اور ارد گرد دیکھا جہاں بہت کم روشنی تھی اور وه دونوں مدهم روشنی میں ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے تھے ولی نے اسکے دونوں ہاتھ اوپر دیوار کے ساتھ لگائے ہوئے تھے جس پر زویا کو گهبراہٹ ہونے لگی اور دل زور زور زور سے دھڑکنے لگا اور اس پر کپكپاہٹ طاری ہو گئی ۔۔۔۔
“یہ ۔۔ولی کیا کر رہے ہیں ۔۔۔دور ہٹیں ۔۔۔میں ناراض ہوں آپ سے ۔”
وه اسے خود پر جھکتا دیکھ زور سے چیخی تو ولی نے اسکی سانسوں کو بند کر دیا اور خود کا سارا غصہ جو اسکی دوری کا تھا اپنی بےچینی سب کچھ زویا میں انڈیلنے لگا زویا اپنے دل کی دھڑکن پر ولی کی دھڑکنیں محسوس کرتی اور اسکے شدت بھرے لمس سے کانپنے لگی مگر ولی تو اپنی منمانیاں کرنے میں مصروف رہا ۔۔۔۔
۔ اور جب پچھے ہٹا تو زویا شرم سے سرخ ہوتی اسکے سینے پر تهپڑ مارنے لگی ۔۔
“بہت بورے ہیں آپ ولی ۔۔۔۔میں تو دوسری بیوی ہوں نہ اس لیے میرے ساتھ ایسے کرتے ہیں ۔۔”
وه پھولی ہوئی سانس کے درمیان بولی تو ولی نے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔
“تم میری سب کچھ ہو میرا سکون میرا چین سب کچھ ہو میرے جینے کی وجہ ہو تم ۔۔۔”
وه اسکے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ایک بار پھر سے اسے خود میں اؤلجھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آآپ ۔۔۔آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
جاناں اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو بیڈ پر لیٹے شازل کو دیکھ کر بولی اور جلدی سے دروازہ بند کیا اگر کوئی ریشتے دار دیکھ لیتا تو اور اسکے گھبرائے چہرے کو دیکھ کر شازل محفوظ ہوا اور مسکرا کر اپنے ڈیملز کا دیدار کروایا تو جاناں اسکی حرکت پر ناک چڑہھا گئی ۔۔
“یہاں میرے پاس آؤ ۔۔۔”
وه ہاتھ آگے کیے اسے اپنے پاس بلانے لگا
“نہیں آپ یہیں بتائیں میں سن رہیں ہوں ۔”
وه اس کی گہری نظروں سے گھبراتی ہوئی بامشکل بولی جو اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا وه نکھری نکھری سیدھا شازل کے دل کو چھو رہی تھی ۔۔۔
“جان آجاؤ ورنہ میں تمہارے قریب آیا تو تمہیں مسلہ ہو سکتا ہے ۔۔۔”
شازل اسے آنکھ مارتا شرارت سے بولا تو جاناں سانس روکے اسکے قریب جانے لگی اور اسکے پاس پھنچی تو شازل نے کھینچ کر اسے اپنے اوپر گرایا تو اسکا دوپٹا نیچے فرش پر گرا اور خود اسکے سینے سے جالگی اس سے پہلے کے وه کچھ سمجھتی یا سیدھی ہوتی شازل نے اپنے ہاتھوں کی مدد سے اسے بیڈ پر کھینچا اور سیدھا لیٹا کر خود اس پر جھک گیا جو اپنی بڑی آنکھوں کو مزید بڑا کیے اسے گھور رہی تھی دھڑکتے دل کے ساتھ اسے ہٹانے لگی تو شازل نے اسکے ہاتھوں میں اپنی انگلیاں پھنسائی تو وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
“مسٹر واحیات یہ کیا حرکتیں کر رہے ہیں ۔۔۔پچھے ہٹیں مجھے سانس نہیں آرہی ۔۔۔۔”
وه اسے خود پر جھکتے دیکھ جلدی سے بولی تو شازل نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروا دیا ۔۔۔
“شش ۔۔۔۔تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا جان ۔۔۔۔بس کچھ دیر کے لیے خاموش رہو اور مجھے تمہاری خوشبو کو محسوس کرنے دو ۔۔۔۔۔”
کہتے ساتھ ہی وہ اسکی گردن پر جھک گیا اور وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا اور اسکی هلدی کی ملی جلی خوشبو کو محسوس کرنے لگا تو جاناں اپنی سانس روکے اسے منمانیاں کرنے دیں جاناں اسکے ہونٹوں کو اپنے کندہوں پر محسوس کرتی آنکھیں زور سے بند کر دیں۔۔۔۔
“جان آنکھیں کھولو ۔۔۔۔”
اسکی سرگوشی پر وه دیھرے سے آنکھ کھولتی اسکی طرف دیکھنے لگی جو اسکے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا جاناں کو اب اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تو وه اس پہلے کچھ بولتی شازل اسکے ہونٹوں پر جھک آیا اور خود کو سیراب کرنے لگا اور کچھ دیر بعد مسکراتا ہوا پچھے ہٹا تو جاناں لمبے لمبے سانس لینے لگی وه ایک بار پھر سے اس پر جھک آیا تو جاناں مزاحمت کرتی خود کو چھڑوانے لگی مگر بے سد جب شازل کو لگا وه سانس نہیں لے پا رہی تب اس کو آزاد کرتا اٹھ کھڑا ہوا تو بری طرح کھانستی اٹھ کر بیٹھی اس کی حالت پر شاز پریشان ہوتا اسکے پاس بیٹھا اور اپنے سینے سے لگا گیا ۔۔۔۔۔۔
سوری جان ۔۔۔۔۔
اسکے سوری کرنے پر وہ اسکے سینے پر مکے مارنے لگی ۔۔۔
بہت واحیات ہیں آپ شاز۔۔۔
وه اسے دھکا دیتی لیٹ گئی ۔
“جان خود کو مظبوط بناؤ ایک دن ہے تمہارے پاس پھر تمہیں میری شدتیں برداشت کرنی پڑیں گی۔۔”
وه اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا کمرے سے باہر چلا گیا تو جاناں نے شرم سے خود کو كمبل میں چھپایا ۔۔۔
بلاآخر آج مہندی کی رات بھی آن پہنچی تھی پورا میرر ہاؤس روشنیوں سے جگما رہا تھا ہر طرف شورشربے گانوں اور قہقہوں کی آواز گونج رہی تھی ہر طرف رنگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا ۔ بڑی تعداد میں میڈیا شاز دی نمبر ون اور ولی برہان ملک کی مہندی کی خبریں چلا رہی تھی ہر طرف خوشی کا سماں تھا
بلیک کلر کی قمیض شلوار میں ملبوس ،پشاوری چپل پہنے ،گلوں میں ییلو چنری ڈالے اپنی دولہن کے ساتھ سٹیج پر بیٹھے انتہا کے ہینڈسم لگ رہے سب لڑکیاں اپنی نظریں ان پر جمائے ہوئیں تھیں تو کچھ انکی دھڑا دھڑ تصیویریں بناتیں اپنی موبائل میں قید کر رہی تھیں دونوں دولہنوں کو دیکھ کر سب مہبوت رہ گیے تھے وه لگ ہی اس قدر خوبصورت رہیں تھیں ہر ایک ستائش سے ان کو دیکھ رہا تھا ۔
کوئی شازل اور ولی کی قسمت پر رشک کر رہا تھا تو کوئی جاناں اور زویا کی قسمت پر جو گرین اور پنک کلر کے کامدار بھاری مگر خوبصورت لہنگوں میں چہرے کو گھوگھٹ میں چھپائے ہاتھوں میں خوبصورت گجرے پہنے وه دونوں ولی اور شازل کا دل زور سے دھڑکا رہیں تھی کانپ تو وه دونوں بھی رہیں تھیں جو انکے قریب تر بیٹھے مسلسل اپنے ہاتھوں سے ان کی سانسوں کو وتھل پتھل کر رہے تھے ۔
شازل اور ولی کو ان دونوں کو گھونگھٹ میں دیکھ کر انتہا کا غصہ آیا تھا یہ سب زرام کی وجہ سے ہو رہا تھا اسکے کہنے پر ہی مہندی کا كمبائن فنگشن رکھا تھا صرف اور صرف شازل اور ولی کی منت سماجت پر زرام کو ان پر بلاآخر ترس آہی گیاتھا ۔۔
مہندی کی رسم اور کھانے کے بعد سب لوگ ينگ جنریشن کا ڈانس انجوئے کر رہے تھے جہاں ڈانس فلور پر سب خوبصورت گانے پر ڈانس کر رہے تھے ۔۔
اوئے کوڑیے اوئے کوڑئیے تیرے تن سے پھسل نہ جائے
اوئے کوڑیے اوئے کوڑئیے تیرے تن سے پھسل نہ جائے
تیرا لال دوپٹا مل مل کا
تیرا لال دوپٹا مل مل کا
اوئے منڈیا اوئے منڈیا سینے سے نکل نہ جائے
اوئے منڈیا اوئے منڈیا سینے سے نکل نہ جائے
ارمان تیرے دل پاگل کا
ارمان تیرے دل پاگل کا
عاشق مجنو آوارہ تھا سب کی نظروں کا مارا تھا
کیا چین سے اڑتا پھرتا تھا کتنا خوشحال کنوارہ تھا
اوئے گوریے اؤئے گوریے تونے اڑتے پہنچھی کو
اوئے گوریے اؤئے گوریے تونے اڑتے پہنچھی کو
دل کے پینجرے میں بند کیا
دل کے پینجرے میں بند کیا
دل کے پینجرے میں بند کیا
دل کے پینجرے میں بند کیا
اؤ اؤ اؤ اؤ اؤ اؤ
ہوش میں آ نادان ذرا تو مان میرا احسان ذرا
چل دیکھ میری ان آنکھوں میں میری چاہت کو پہچان ذرا
اوئے پگلے اوئے پگلے کیسے تجھ کو سمجھاؤں
اوئے پگلے اوئے پگلے کیسے تجھ کو سمجھاؤں
کیوں میں نے اسے پسند کیا
کیوں میں نے اسے پسند کیا
کیوں میں نے اسے پسند کیا
کیوں میں نے اسے پسند کیا
میرا بھائی سیدھا سادھا ہے یہ لڑکی چھیل چھبیلی ہے
ہے رنگ روپ تو ٹھیک ٹھاک بھیجے سے تھوڑی ڈھیلی ہے
اوئے بلیے اوئے بلیے میرے یار جمے گی کیسے
اوئے بلیے اوئے بلیے میرے یار جمے گی کیسے
جاناں کو شازل کی انگلیاں اپنی قمر پر رینگتی محسوس ہوئیں تو اسکی سانسیں تھم گئی دل کی دھڑکنیں معمول سے ہٹ کر تیز رفتاری سے چلنے لگی جاناں نے گھونگٹ میں ہی سر اوپر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا جو لاپرواہ بنا مسكراتا ہوا سمانے ڈانس دیکھ رہا تھا ۔۔
“پلیز اپنے ہاتھ پچھے کریں شاز ۔۔۔۔۔میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔آپ کو شرم نہیں آرہی اتنے سارے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں ۔۔۔اور ساتھ بیٹھے ولی بھائی کا لحاظ کر لیں ۔۔”
جاناں اسکے ہاتھوں کی جسارتوں سے گھبراتی اسکی جانب ہلکا سا جھک کر غصے سے بولی تو شازل مسکراتا ہوا اسے کمر سے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا تو وه بوکھلا گئی ۔۔
“جان یہ تمہاری مجھ سے اپنا خوبصورت چہرہ چھپانے کی سزا ہے جب تک فنکشن ختم نہیں ہوتا ایسے ہی میری جسارتوں کو برداشت کرو ۔”
شازل اسکے کان میں سرگوشی کرتا اسے گهبرانے پر مجبور کر گیا اور پھر سامنے آتے زرام کو دیکھ کر سیدھا ہوا جو انکی طرح کا لباس پہنے نور اور ماہین اور فیضان کے ساتھ مسكراتا ہوا سٹیج کے قریب آرہا تھا ۔۔۔۔۔
“ماہی یار یہ اتنا بڑا گھونگٹ اٹھاو مجھے اپنی ہارٹ بیٹ کو دیکھنا ہے ورنہ میں نے کسی کا لحاظ نہیں کرنا ۔۔”
ولی ماہین کو دیکھ کر غصے سے بولا تو ماہین کے ساتھ ساتھ سب نے قہقہ لگایا تو وہیں زویا نے گھونگٹ میں ہی اسے گھورا اور شرم سے سرخ ہوتی اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کروانے لگی جو کسی کا لحاظ کیے بنا سب کے سامنے ہاتھ پکڑے ہوئے تھا اور پھر بھی کہہ رہا تھا کہ میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا پہلے کون سا کر رہے ہیں زویا دل میں ولی پر غصہ کرنے لگی سامنے تو کر نہیں سکتی تھی ۔۔۔
“میرے كمینے یار ۔۔۔۔۔۔۔ہمیں تجھ سے یہی امید تھی کہ تو زویا کو دیکھ کر کسی کا لحاظ نہیں کرے گا وه بیچاری تو شرم سے ہی بےہوش ہو جائے گی اس لیے ہم نے اس گھونگٹ کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔”
زرام اسکے غصے بھرے چہرے کو دیکھ کر شرارت سے بولا تو ایک بار پھر سب کا قہقہ گونجا ۔۔۔۔۔
“تجھے تو میں دیکھ لوں گا ۔۔۔۔۔”ولی اسے گھورتا ہوا بولا ۔۔۔
“یار تم لوگ اتنے اتاولے کیوں ہو رہے ہو ۔۔۔۔۔۔بعد میں خود ہی دور بھاگو گے ۔۔۔مجھے ہی دیکھ لو ۔۔۔”
فیضان ماہین کی طرف دیکھ کر شرارت سے بولا تو وه اسے گھور کر رہ گئی وہیں زویا اور جاناں ایک ساتھ بولیں تھیں ۔۔۔
“بھائی آپ بہت برے ہیں ہم کیوں انکے ساتھ برا کرنے لگیں “
ہاہاہاہا ۔۔۔
“بیٹا میں ان کو انکا مستقبل بتا رہا ۔۔۔۔۔”
فیضان ہنستا ہوا انکے سروں پر ہاتھ رکھا ۔۔
“جانو بھائی ۔۔۔۔آپ خاموش ہیں تو اسکا مطلب آپ کو گھونگٹ سے کوئی مسلہ نہیں ہے ۔۔۔”
نور کی بات پر سب نے شازل کی شکل دیکھ کر قہقہ لگایا تو وہیں زرام نے گھور کر اپنی بیوی کو دیکھا جو آج اسکو تڑپا رہی تھی کیوں کہ نور بہت خوبصورت لگ رہی تھی پرپل اور پنک لہنگا پہنے دوپٹے کو گلے میں ڈالے لائٹ میك اپ میں بالوں کو ہمیشہ کی طرح کھولا چھوڑے اسکے دل کو بار بار دھڑکا رہی تھی زرام کو تھوڑا سا بھی ٹایم نہیں مل پارہا تھا کہ وه اسے ایک بار اپنے قریب کرتا اسکے خوبصورت چہرے کی تعریف کر سکے اور پھر بار بار اسکا جانو نامہ جو اسے انگاروں پر دهكیل دیتا تھا اب بھی وه اسے نظر انداز کیے شازل کے پاس جا کر بیٹھی تھی ۔۔۔
“اینجل یہ سب تمہارے اس زہریلے ناگ کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔۔ اب میں بھی اپنے دل پر پتھر رکھ چکا ہوں”
شازل دکھی ہوتا ہوا بولا تو وہاں آتے اسفند صاحب میران صوفیہ اور آمنہ بیگم ہنسے ۔۔۔۔
“ارے ماڈل صاحب ۔۔۔۔۔مجھ سے تو قابو میں نہیں آتے تھے میرے شیر نے کر لیا نہ اپنے قابو میں ۔۔۔۔”
میران صاحب زرام کے کندہے پر ہاتھ پھلاتے ہوئے شرارت سے بولے تو شازل نے ولی کی طرف دیکھا جو اپنی ہنسی ظبط کرنے کے چکر میں اپنا چہرہ سرخ کر بیٹھا تھا ۔۔۔
“ڈیڈ ۔۔۔مجھے کبھی کبھی نہیں ہمیشہ شک ہوتا ہے میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں بلکے یہ زہریلا ناگ اپکا بیٹا ہے مجھے لگتا آپ نے اسفند ماموں جان کو زرام دے دیا اور مجھے ان سے لے لیا ۔۔۔۔”
شازل منہ بسورتا ہوا خفا خفا سا بولا تو اسفند صاحب مسکرائے ۔۔۔
“ارے میرے شہزادے تو ولی اور تم لوگ ہو یہ زرام تو مجھے اپنا بیٹا لگتا ہی نہیں ہے ۔۔۔”
وه ولی اور شازل کو محبت سے دیکھ کر بولے تو آمنہ بیگم اٹھ کر ولی کے پاس گئی جو ان کو اپنے سب بچوں میں سب سے زیادہ عزیز تھا ۔۔۔۔
“ہاں بہی مجھے تو ولی فیضان اور شازل ہی پیارے ہیں بھی زر توبلکل دو نمبر ہے کل سے میرے بچوں کے ساتھ بہت برا کیا ہے ۔۔۔۔”
انکی بات پر جہاں سب مسکرائے تھے وہیں زرام نے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔اور منہ بناتا ہوا بولا ۔۔
“موم بہت زیادہ خراب ہیں آپ خیر مجھے بھی کوئی ٹینشن نہیں ہے میری صوفیہ پھوپو ہی میری موم ہیں ۔۔۔۔۔”
“ہاں میرا بچہ تم تو میرے شہزادے ہو ۔۔۔”
صوفیہ بیگم نے اسے اپنے ساتھ لگایا تو زویا جاناں ماہین اور نور منہ بنا۔گئیں ۔مگر بولیں کچھ نہیں کیوں کہ ان کے شوہر بہت تیز تھے سب کے سامنے شرمنده کر دیتے ۔۔۔۔
بہت شور شرابے ہنسے مسکراتے اور ہلےگلے کے بعد 1 بجے جا کر مہندی کا فنکشن ختم ہوا تھا دونوں دولہنوں کو کمرے میں بھیج دیا گیا تھا میرر ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے مہمان بھی سونے کے لیے چلے گئے شازل اور ولی کے ساتھ سب مرد حضرات اسفند ملک ہاؤس روانہ ہو گئے تھے
“زر روکیں ۔۔”
ذرام بھی سب سیکورٹی سیسٹم چیک کرتا ہوا جا رہا تھا ابھی وہ لاؤنچ کے دروازے پر تھا جب نور کی آواز پر روکا تھا مگر پلٹا نہیں کیوں کہ وه اس سے خفا تھا اور وه اسے روکتا دیکھ بھاگ کر اسکے سامنے آئی تھی ۔۔۔۔۔
“وه آپ سے بات کرنی تھی زر ۔۔۔”
وه اسکی سوالیہ نظروں کو دیکھتی پھولتی ہوئی سانسوں کے درمیان بولی تو زر نے اسے بازو سے پکڑ کر ایک سائیڈ پر ہوا جہاں ان پر کسی کی نظر نہ پڑے اور اسکی کمر پر دونوں ہاتھ رکھتا اپنے بےحد نزدیک کیا تو وہ اسکی حرکت پر ایک دم بوکھلا گئی اور اسکی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتی گھبرانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
“بولو کیا بات کرنی تھی ۔۔۔”
زرام اسکے کان کے قریب جھکتا ہوا سرگوشی میں بولا تو نور کو اسے روکنے پر پچھتاوا ہونے لگا نور اسکے کندہوں پر ہاتھ رکھتی خود سے دور کرنے لگی تو زر اسے مزید قریب کر گیا اور اسکی گردن پر اپنی چھاپ چھوڑنے لگا وه اسکے دھکتے لمس پر کانپ کر رہ گئی ۔۔۔۔
“زر ۔۔۔۔صبح دودھ پلائی کی رسم ھونی ہے ۔۔۔۔۔۔اسکا نیگ لیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔پلیز آپ ولی بھائی سے مجھے لے کر دینا مجھے انسے ڈر لگتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔وه کمرے میں جانے سے پہلے بھی نیگ لیا جاتا ہے ۔۔۔میں یہاں نہیں ہوں گی تو پلیز وہ بھی آپ نے لینا ہے ۔۔۔پلیز ۔۔۔۔۔۔”
وه اسے خود میں مصروف ہوتے دیکھ جلدی سے منمنائی تھی اور اسکی بات سن کر زر اسکے بالوں سے چہرہ ہٹاتا اسے گھورنے لگا تو وہ اسکی گھوری پر گھبرا گئی اور دل زور سے دھک دھک کرنے لگا۔۔۔
“میں ایسا کیوں کرنے لگا ۔۔۔۔۔مجھے کیا ملے گا اس سے۔۔۔”
وه اسکے رخسار چھوتا ہوا اپنی آواز کو بھاری بناتے ہوئے بولا تو نور اسکے تیور دیکھ کر حیران ہوتی منہ بناتی ہوئی اپنے زہریلے ناگ کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
“آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ناراض ہیں مجھ سے ۔۔۔۔”
وه اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکی شرٹ کے کالر کو نرمی سے تھامتی ہوئی نم آواز میں استفسار کرنے لگی تو زرام کو اپنی سختی کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔۔
“تو نہیں ہونا چاہیے کتنی بار تمہیں منا کیا ہے شازل کو جانو بھائی مت کہا کرو ۔۔مگر تم سنتی ہی نہیں ہو ۔۔۔۔۔”
وه اسکی آنکھوں کو نرمی سے چھوتا ہوا اپنی ناراضی کی وجہ بتانے لگا تو وہ سن کر مسکرا دی ۔۔۔۔۔
“اوہ تو میرے زہریلے سے ہوئے میٹھے ناگ اس وجہ سے ناراض ہیں چلو اس بارے میں سوچیں گے ۔۔۔۔پہلی میری ساری ڈیمانڈز پوری کریں جو ابھی میں نے کہیں ہیں ۔۔۔۔”
وه آنکھوں میں چمک لیے بولی تو زرام کو اسکی چالاکی پر حیران ہوا ۔۔۔۔۔۔
“اہ تو اب تم مجھ سے یعنی ایس پی سے چلاکی کر رهی ہو بہت اچھے ۔۔۔”
وه پچھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگاتا ہوا اسے اپنے نزدیک کرتا داد دینے والی نظروں سے اسے دیکھا تو نور کو اسکی دھڑکن اپنے سینے میں سنائی دینے لگی تو وه اسکی نظروں سے گھبراتی آنکھیں بند کرتی ہاں میں سر ہلا گئی زر تو اسکی ادا پر مسکراتا ہوا اس پر جھک آیا اور اسے سٹپٹانے پر مجبور کر دیا وه اس حرکت پر گھبراتی ہوئی اسکی شرٹ کے کالر کو سختی سے تھامتی اسکے لمس کو محسوس کرنے لگی کچھ دیر بعد ذرام پچھے ہٹا تو وه لمبے لمبے سانس لیتی اپنا سرخ چہرہ اسکے سینے میں چھپا گئی تو وه اسے سینے سے لگاتا اسکی کمر تهپتھپانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔
“آپ کو شرم نہیں آتی کہیں مرضی شروع ہو جاتے ہیں کوئی آجاتا تو ۔۔۔۔”
وه شرم سے سرخ پڑتی اس سے الگ ہوتی اسے گھورنے لگی ۔
“اب تمہاری اتنی مہنگی ڈیمانڈ پر ایڈوانس میں کچھ تو مجھے لینا تھا اب اپنی بات پر برکرار رہنا ۔۔”
وه اسکے ماتھے کو چھوتا تنبیہ کرنے لگا تو وه ہاں میں سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی اور زرام مسکراتا ہوا اسفند ملک ہاؤس کے لیے روانہ ہو گیا ۔
جاناں آپی پلیز اٹھ جاؤ نہ اور زوئی کی بچی تم بھی اٹھ جاؤ آج تمہاری بارات ہے ایسے سوئی ہوئی ہو جیسے دوبارہ تو تمہیں موقع نہیں ملے گا ۔۔۔۔”
وه پٹیالہ شلوار قمیض پہنے دوپٹے کو گلے میں ڈالے بالوں کا جوڑا کیے اپنے رف حلیے میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی اور اب ان دونوں کے سر پر کھڑی مسلسل انھیں اٹھا رہی تھی جو دنیا جہاں سے بے خبر سونے میں مصروف تھیں اب نور کو رونا آنے لگا تھا کیوں نہیں اٹھ رہی یہ دونوں ۔۔۔۔۔
“یار سب باہر ڈانس کر رہی ہیں جن کے بہن بھائیوں کی شادی ہے وه میری طرح ترس رہے ہیں ڈانس کرنے کو پلیز اٹھ جائیں مجھے ڈانس کرنا ہے کل مہندی میں بھی زر نے ڈانس کرنے نہیں دیا تھا پلیز اٹھ جاؤ۔۔۔۔”
وه جاناں کے چہرے سے كمبل ہٹاتی اداسی سے بولی وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا جو چہرے پر معصومیت سجائے منہ بنا رہی تھی اور آنکھوں میں هلكی سی نمی بھی جھلک رہی تھی جیسے ابھی یہ دونوں نہ اٹھی تو رونے بیٹھ جانا ۔۔۔۔۔
“ارے میری پیاری سی گڑیا کیوں اداس ہو رہی ہے ۔۔۔۔تم آج ڈانس ضرور کرنا زر بھائی بھی یہاں نہیں ہیں تم نیچے چلو میں زوئی کو اٹھا کر لاتی ہوں ۔۔۔۔”
وه اسکے گلابی روئی نما گال کھینچتی ہوئی محبت سے بولی تو وہ خوشی سے چہکتی اسکے گال چومتی نیچے بھاگی تھی تو جاناں اپنے بالوں کا جوڑا کرتی زویا کو اٹھانے لگی ۔۔۔۔۔
“زوئی یار اٹھو نیچے چلتے ہیں سب لڑكیاں ڈانس کر رہی ہیں اپنی نور بھی کر رہی ہے فٹا فٹ اٹھو ورنہ نور کا ڈانس دیکھنے سے محروم رہ جاؤ گی ۔۔۔”
جاناں اسکے بال چہرے سے ہٹاتی اسے اٹھانے لگی اور ساتھ مسکراہٹ دبا کر وارنینگ بھی دے ڈالی ۔۔۔۔۔
“کیا سچ میں نور ڈانس کر رہی ہے پہلے کیوں نہیں بتایا جانو ۔۔۔۔۔۔”
زویا بیڈ سے چھلانگ لگاتی اٹھ کھڑی ہوئی اور جاناں کو گھورتی جلدی سے واشروم میں بند ہوئی تو پچھے جاناں مسکرا کر رہ گئی وہ بہت ایکسائیٹڈ نظر آرہی تھی کیوں کہ پورے خاندان میں نور سب سے اچھا ڈانس کرتی تھی اسے ڈانس کا بہت شوک تھا جب بھی بور ہوا کرتی تھی تو ڈانس پریکٹس کر لیا کرتی تھی جس کی وجہ سے وہ پروفیشنل ڈانسر کی طرح ہر ایک موو کرتی تھی سب کی نظریں اس کے ہر ایک موو پر ہوتی تھیں اکثر اسے سب کی نظر لگ جاتی تھی تب ہی زرام نے اسے کل مہندی کے فنکشن میں سختی سے منع کیا تھا وه اسکی سختی پر ڈر گئی تھی اور آج زرام یہاں نہیں تھا تو اسے موقع مل گیا تھا ۔۔۔۔
“یہ کیا کر رہی ہو تم نور بال کیوں کھول رہی ہو ؟اور خبردار اگر تم نے ڈانس کیا تو ۔۔”
لاؤنچ میں صوفیہ بیگم اسے بال کھولتے اور لڑکیوں کو سائیڈ پر کرتے دیکھ وه اسے تنبیہ کرنے لگی ۔۔۔۔
“پلیز مما جان ۔۔۔۔۔جانو بھائی اور ولی بھائی کی شادی بار بار نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔”
وه منت کرتی ہوئی بولی تو سب اس کی طرف متوجہ ہوئیں ۔۔۔۔۔
“نہیں تم ڈانس نہیں کرو گی صوفیہ سہی کہہ رہی ہے ۔۔۔”
آمنہ بیگم بھی اسے روکنے لگی تو وه منہ بنا گئی ۔۔۔۔
“ارے مما جانی اور ممانی جان پلیز نہ ڈانس کرنے دیں اسے ۔۔۔۔”
جاناں کے ساتھ زویا سیڑھیاں اترتی ہوئی جھٹ سے بولی تو نور کو اس پر رج کے پیار آیا ۔۔۔۔۔۔
“ہاں مما اور پھوپو کچھ نہیں ہوتا کرنے دیں ۔۔۔”
جاناں زویا کو ساتھ لیے صوفے پر اپنی ماؤں کے پاس بیٹھیں سب خواتین اور لڑکیاں انکا نکھرا نکھرا روپ مہبوت سے دیکھنے لگی ان پر بہت روپ آیا تھا پیلے جوڑے میں وه بہت پیاری لگ رہیں تھی دل میں سب نے ماشاءالله کہا تھا اور پھر وه سب بھی نور کو ڈانس کرنے پر فورس کرنے لگیں تو صوفیہ اور آمنہ بیگم کو ہاں کرنی ہی پڑی تھی جس پر نور خوشی خوشی اپنی پسند کا گانا لگواتی لاؤنچ کے درمیان میں آئی اور گانے کے بول کے ساتھ ساتھ موو کرنے لگی ۔
بول چوڑیاں بول كنگنا
ہائے میں ہو گئی تیری ساجنا
تیرے بن جی نہیں لگدا میں تے مر گئی آں
لے جا لے جا سونیے
دل لے جا لے جا ہو ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے ہائے میں مر جانواں مر جانواں تیرے بن
اب تو میری راتیں کٹتی تارے گن گن
بس تجھ کو پكارا کرے
میری بندیا اشارہ کرے
ہوئے لشکارا لشکارا تیری بندیا کا لشکارا
ایسے چمکے جیسے چمکے چاند کے پاس ستارہ
میری پائل بلائے تجھے ،جو روٹھے منائے تجھے
ہو سجن جی ہو سجن جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ سوچو ،کچھ سمجھو میری بات کو
بول چوڑیاں بول كنگنا
ہائے میں ہو گئی تیری ساجنا
تیرے بن جی نہیں لگدا میں تے مر گئی آں
لے جا لے جا سونیے
دل لے جا لے جا ہو ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی مانگ سہاگن ہو ،سنگ ہمیشہ ساجن ہو
آکے میری دنیا میں واپس نہ جانا
سہرا باندھ کے ماہی تو میرے گھر آنا ۔
جیسے ہی میرر ہاؤس کے لاؤنچ میں قدم رکھا سب خواتین نے مڑکر اسے دیکھا تھا نظریں تو جیسے رک سی گئیں تھیں ركتی بھی کیوں نہ وه نیویبلو اور بلیک کلر کی شیروانی پہنے بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا بلاشبہ نیلی آنکھوں والا ایس پی زرام اسفند ملک بلا کا حسین مرد تھا وه ان سب کی نظروں کو نظرانداز کرتا سب کو سلام کرتا تیار بیٹھیں صوفیہ بیگم اور آمنہ بیگم کے پاس گیا تھا جو اسے یہاں اس وقت دیکھ کر حیران ہو رہیں تھیں کیوں کہ کچھ دیر بعد بارات آنے کا ٹائم ہو رہا تھا ۔۔۔
“اسلام و علیکم موم اور پھوپو جان ۔۔”
وه انکے سامنے جھکتے ہوئے سلام کیا تو وه اسکے سلام کا جواب دیتیں اسکا ماتھا چوما ۔۔۔
بیٹا اس وقت تم یہاں سب ٹھیک تو ہے ؟
صوفیہ بیگم پریشانی سے استفسار کرنے لگیں تو وه ان دونوں کو دیکھ کر مسكرايا ۔۔۔۔
“ارے خوبصورت لیڈیز ڈونٹ ووری سب ٹھیک ہے میں ماہین بھابی کو لینے آیا ہوں وہاں انکی ضرورت ہے ۔۔۔۔”
وه مسکرا کر کہتا انکی پریشانی ختم کر گیا ۔۔۔
“ہاں وه زویا اور جاناں کو دیکھنے گئی ہے جاؤ لے آؤ مگر دھیان سے لے کر جانا اسے ۔۔۔۔”
آمنہ بیگم اسے ہدایت کرتی ہوئیں بولیں تو وہ مسكراتا ہوا سیڑھیاں چڑھتا کمرے کی طرف گیا ۔۔۔۔۔۔۔
وه دروازہ ناک کرتا جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو ایک دم رک گیا اور سامنے بیڈ پر بیٹھیں حوروں کو دیکھنے لگا ۔۔
جاناں اور نور ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگوں میں، برائیڈل میک اپ کیے ، ہیوی جیولری ،دوپٹا سر پر سیٹ کیے ،ہاتھوں میں چوڑیاں جو انکےمہندی والے ہاتھوں پر بہت جچ رہیں تھی وه دونوں سمان سے اتری پریاں لگ رہی تھی پھر وه مسكراتا ہوا اندر داخل ہوا اور شرارت سے بولا ۔۔۔۔
“ارے واہ آج تو لگتا ہے پریاں آسمان سے سیدھا زمین پر بھیج دی گئیں ہیں ۔۔۔۔”
اسکی بات پر جاناں اور زویا مسکرائی اور دل میں اسے دیکھ کر بے ساختہ ماشاءالله کہا ۔۔۔۔۔۔
“ارے دیور صاحب یہ کہو کہ میری بیوی پری لگ رہی ہے ہم برا نہیں منائیں گے ۔۔۔۔”
ماہین نور کو دیکھ کر شرارت سے زرام کو بولی تو سب مسکرا دیں اور نور تو نظریں نیچے کیے اسکی نظروں کی تپش سے گھبرا گئی تھی۔۔۔
“ان کی تو کھول کے تعریف کروں گا جو کہ آپ سب کے سامنے ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔”
وه اسے نظروں کے حصار میں لیے بےباکی سے بولا جو پرینٹ بھاری کڑھائی دار ملٹائی شیڈ لہنگے کے ساتھ خوب صورت جیولری میں کوئی اپسرا لگ رہی تھی اور غضب اسکی ڈیپ ریڈ لیپسٹیک زرام کا دل بار بار دھڑکا رہی تھی جاناں اور زویا تو اپنے زر بھائی کو دیکھ کر حیران ہوئیں وه تو اسے شریف سمجھتی تھیں یہ تو صرف انکی سوچ تھی نور تو اسکی بےشرمی پر اسے گھور بھی نہ سکی اور ماہین نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر تھپڑ مارا تو وہ مسکراتا ہوا نور کو آنکھ مارتا ماہین کو لیے باہر چلا گیا وه بے چاری تو اس کی طرف دیکھ کر پچھتائی تھی اور وہیں جاناں اور زویا اسے تنگ کرنے لگیں ۔
زرام ماہین کو لے کر اسفند ہاؤس پہنچا تو لاؤنچ میں سب انکا انتظار کررہے تھے کیوں کہ وہاں سہرا بندی اور كاجل کی رسم ہونا تھی وه دونوں بلیک شیروانی میں بلا کے ہینڈسم لگ رہے تھے آج تو شازل میران ملک کے چہرے سے مسکراہٹ جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اسکے خوبصورت قاتل ڈیمپلز اٹکلیاں کھاتے شازل کے ساتھ وه بھی بہت خوش تھے ۔۔
ولی تو زرام کی بےفضول رسموں سے تنگ آچکا تھا جو صبح سے ناجانے کون کون سے رسموں سے اسے تنگ کیے ہوا تھا اور سب سے بڑھ کر کان پھاڑ دینے والا ساؤنڈ سسٹم جس نے صبح سے ولی کے سر میں شدید ترین درد کر رکھا تھا کل رات سے زرام نے انکو سونے بھی نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے وه بلیک کلر پہنے شدید ترین غصے میں اپنی مخصوص سحرانگیز پرسنیلیٹی کے ساتھ لاؤنچ میں صوفے پر براجمان تھا جس کو دیکھ کر سب دل میں اسے کھڑوس کہتے خاموش کھڑے تھے ۔
اور پھر ماہین نے آکر ان دونوں پر کچھ پڑھ کر پھونکتی انکے ماتھے پر بوسہ دیتی فیضان کے ساتھ جا کر بیٹھی جو اسے سجاسنورا دیکھ کر اسکے کان کے پاس جھکا تھا اور سرگوشی کی تھی جس پر وه شرم سے سرخ ہوئی تھی اور اسے گھورنے لگی تو وه سیدھا ہوا جہاں زرام اسے بلا رہا تھا اور اسفند صاحب اور میران اپنی ہنسی روکے ہوئے تھے ۔۔۔۔
“یار بھائی آپ کو پیسوں کی قیلط ہے کیا ؟ میرے خیال سے ایک بزنس مین کو پیسوں کی کمی نہیں ہوتی تو اس حساب سے سہرا بندی کا نیگ مجھے ملنا چاہئے جو ایک گورنمنٹ کا ملازم ہے جس کی انکم بہت کم ہے ۔۔۔”
وه معصوم سی شکل بناتا فیضان کو آنکھوں سے کچھ اشارہ کرنے لگا ۔۔۔۔
“کیا کہنا چاہتا ہے تو جلدی سے بول میری دولہن میرا انتظار کر رہی ہو گی بہت ہی کوئی فضول انسان ہے تو شادی کے نام پر تو ہمارا صبر آزما رہا ہے ۔۔۔۔”
شازل اسکی پہلیوں سے تنگ آتا ہوا بولا تو میران صاحب نے اپنے بیٹے کی بےتابی پر اسے گھورا تو وہ ڈھیٹائی سے مسکرا دیا ۔۔۔۔۔
“پہلے وعدہ کرو جو مانگوں گا وہ دو گے ورنہ بھول جاؤ کوئی بارات شرات اور کوئی سہرا بندی ۔۔۔”
وه انکے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھتا ہوا ہاتھ آگے کیے بولا تو شازل نے فورن سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا مگر ولی اپنی ابررو اٹھآئے اسے دیکھنے لگا انداز ایسا تھا کہ اب تو روکے گا مجھے بارات لے جانے سے ۔۔۔۔۔
“یار مان جا کیا مسلہ ہو رہا ولی میرے یار تو کیوں اپنی ہارٹ بیٹ کو انتظار کروا رہا ہے اور تو جانتا ہے یہ کتا کمینہ اپنی شرط منوا کر رہے گا ۔۔۔۔”
شازل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
“ہاں ولی مان جاؤ تمہیں کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے دے دینا اسے جو مانگنا چاہ رہا ہے ۔۔۔”
فیضان زرام کو آنکھ مارتا ہوا بولا تو وہ اپنی بستی پر بدمزہ ہوا اور اپنے بھائی کو گھورتے ہوئے ماہین کو مدد طلب نظروں سے دیکھا۔
“ولی مان جاؤ نہ یہ چھوٹا سا شہزاده تو ہے ہمارا یہ تم لوگوں سے نہیں مانگے گا تو کس سے مانگے گا ۔۔۔”
ماہین کے شرارت سے کہنے پر وه دونوں میاں بیوی کو گھورنے لگا جن کی وجہ سے سب کزنز اس پر ہنس رہے تھے ۔
“ہاں بتا کیا چاہیے ۔۔۔۔”
بلا آخر ولی مان گیا تو وہ خوشی سے نہال ہوتا فیضان کو بلاتا سہرا بندی کی رسم کرنے لگا اور پھر اپنی خوائش کا اظہار کرتا سب کو حیران کر گیا ۔۔۔۔
“میں معصوم سا بندہ ہوں میں شازل سے زیادہ کچھ نہیں مانگوں گا میں آج ان kiکی شادی میں نور کی رخصتی چاہتا ہوں نکاح تو سب خاندان والوں کی موجودگی میں ہو گیا تھا تو اب میں رخصتی بھی چاہتا ہوں نور کی پڑھائی کا ذمہ میرا ہے اور ولی سے میں 1 لکھ کا نیگ لوں گا۔۔بس اتنا ہی اور کچھ نہیں چاھیے مجھے ۔۔۔۔”
وه معصوم سی شکل بناتا ہوا اپنی چھوٹی سی خواہش کا اظہار کرتا سب کو گھورنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔۔
“یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔نور ابھی پڑھ رہی ہے 1 سال تک یہ سوچنا بھی مت ۔۔۔۔”
شازل نے اسے کڑے تیوروں کے ساتھ گھورا تو وه بھی اسے گھورنے لگا باکی سب تو حیران و پریشان تھے جب کے ولی اپنی مسکراہٹ دبانے لگا کیوں کہ اسے کوئی مسلہ نہ تھا ۔۔۔
‘کیوں تجھے کیا مسلہ ہے ایک تو سالے میں تجھے عزت دے رہا ہوں کہ تجھ سے اجازت لے لوں مگر کچھ لوگوں کو عزت راس نہیں آتی جن میں تو بھی شامل ہے ۔۔۔۔۔۔ میں ہی غلط تھا جو تجھے عزت دینے چلا تھا میں میران انکل سے پوچھتا ہوں ۔۔۔۔۔”
وه شازل کی اچھی خاصی کرتا میران کی طرف گھوما جو اپنی مسکراہٹ روکے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔اور اسفند صاحب تو اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے ماہین تو سب جانتی تھی وه اسے یہاں لایا ہی اسی لیے تھا باکی خاندان والے اتاولے ایس پی کو دیکھنے میں مصروف تھے اور کزنز تو بےہوش ہونے کو ہو رہے تھے اس کے کانفیڈینس پر ۔۔۔۔۔
‘مجھے تو کوئی مسلہ نہیں ہے زر تم بھائی صاحب سے پوچھ لو ۔۔۔”
میران نے شرارت سے کہا تو زرام نے ماہین کو دیکھا جیسے کہنا چاہا رہا ہو بات کریں ڈیڈ سے ۔۔۔
“بابا جانی مان جائیں نہ پلیز ہمارا زر نور کا بہت سارا خیال رکھے گا پوری ذمہداری کے ساتھ اسکا خیال رکھے گا نکاح تو ہو چکا ہے ۔۔۔۔”
ماہین اٹھ کر اسفند صاحب کے پاس گئی اور انکے ہاتھ تھامے تو ولی اور فیضان بھی اسکے حق میں بول پڑے تو سب کو ماننا پڑا شازل تو اس ایس پی میسنے کو گھور کر رہ گیا کہ اس سالے نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا زرام تو ولی سے چیک لیتا خوشی سے بهنگڑا ڈالنے لگا اور پھر سب لوگ بڑی تعداد میں ہائی سکیورٹی میں ڈھول کی تھاپ پر بهنگڑا ڈالتے اپنی گاڑیوں میں بیٹھتے بارات لیے میرر ہاؤس روانہ ہوئے ۔۔۔۔۔
پیچھے باراتی آگے بینڈ باجا
آئے دولہے راجہ گوری کھول دروازہ
پیچھے باراتی آگے بینڈ باجا
آئے دولہے راجہ گوری کھول دروازہ
لاج شرم کی ریکھا کو پار کر لے
نہ نہ کر ہاں تو پیار کر لے
لاج شرم کی ریکھا کو پار کر لے
نہ نہ کر ہاں تو پیار کر لے
ناچتے گاتے تیری گلی ہم آئیں گے
تجھ کو اٹھا کے گوری ہم لے جائیں گے
اپنی مرضی سے آجا دل میں سما جا
آئے دولہے راجہ گوری کھول دروازہ
مہندی لگا لے سولہ سنگار کر لے
دولہن بن جا خود کو تیار کر لے
مہندی لگا لے سولہ سنگار کر لے
دولہن بن جا خود کو تیار کر لے
کب سے نجانے تیرے پچھے پڑا ہوں
دیکھ تیرے گھر کے سامنے کھڑا ہوں
میں اندر آؤں یا باہر تو آجا
آئے دولہے راجہ گوری کھول دروازہ
پیچھے باراتی آگے بینڈ باجا
آئے دولہے راجہ گوری کھول دروازہ
پیچھے باراتی آگے بینڈ باجا
آئے دولہے راجہ گوری کھول دروازہ
میرر ہاؤس میں بارات کی آمد کا شور اٹھا تھا زرام اسفند ملک خوبصورت گانے پر ڈانس کرتا اور پھر سب ولی اور شازل کے ساتھ اندر داخل ہوئے تھے سب کی نظریں ان پر جم سی گئیں تھیں مگر انکو کہاں پرواہ تھیں نور اپنی سب کزنز کے ساتھ انکا بہت خوبصورتی سے استقبال کیا تھا انکے بن مانگے دونوں نے خوشی سے انکی سوچ سے بڑھ کر نیگ دیا تھا پھر وه اپنے ماں باپ کے ہمرا سٹیج پر آئے تھے جو لان میں بنایا گیا تھا کچھ دیر بعد دونوں دولہنوں کو سٹیج پر لایا گیا تو ولی اور شازل انکا ہاتھ تھامے ان کو اپنے ساتھ بیٹھآیا تھا وه دونوں تو آج پھر ان دونوں کو دیکھ کر کڑھ گئے تھے کیوں کہ آج بھی وه دونوں گھونگٹ میں تھیں پھر کچھ دیر کے بعد دودھ پلائی کی رسم کے لیے نور اپنی کزنوں کے ساتھ سٹیج پر پہنچی ۔۔۔۔۔
“جانو بھائی اور ولی بھائی چلیں اس خوبصورت سے گلاس کا دودھ پی کر اسے قیمتی ہونے کا شرف بخشیں ۔۔۔۔”
نور مسکراتی ہوئی ان دونوں کے سامنے ٹرے میں سجے دو گلاس کرتی ہوئی بولی تو وه دونوں گلاس کو حیران نظروں سے دیکھنے لگے اور گھونگٹ میں بیٹھی جاناں اور زویا اپنی ہنسی روکنے لگی کیوں کہ دونوں نے ہی آج تک دودھ نہیں پیا تھا ۔۔۔۔۔۔
“میں نہیں پی سکتا نور تم اس کو لے کر واپس جاؤ۔۔۔۔”
ولی جلدی سے اپنے تاثر سخت کرتے ہوئے بولا کیوں کہ نور اس سے دڑتی تھی ۔۔۔۔۔۔
“ہاں اینجل اسے لے کر جاؤ ایسا کرو ھمارے حصے کا زر کو پلا دو ۔۔۔اسے بہت شوق ہے ان سب چیزوں کا ۔۔۔”
شازل وہاں آتے زرام کو دیکھ کر جھٹ سے بولا ولی نے بھی جلدی سے گردن ہاں میں ہلائی ۔
“میں کیوں پینے لگا؟مجھے کوئی شوق نہیں ہے ۔۔۔میں تو خود لڑکی والوں کی طرف سے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔دودھ تو پینا پڑے گا ساتھ ہی تم دونوں کو 1 ،1 لاکھ کا چیک بھی دینا ہو گا ۔۔۔۔۔”
نور زرام کو دیکھ کر مسکرائی تھی مگر یہ کچھ پل کی مسکراہٹ تھی اور ولی اور شازل تو اسکے دوگلے پن پر حیران ہو ریے تھے ۔۔۔۔۔
“نہیں ہم دودھ نہیں پییں گے تم پیسے لے لو مگر نور اسنے تمہیں دھوکہ دیا ہے آج جاناں اور ہارٹ بیٹ کے ساتھ تمہاری بھی رخصتی ہے آج ہی اس نے شرط رکھی تھی ۔۔۔۔”
ولی زرام کی گھوریوں کو نظرانداز کرتا نور کے سر پر دهماکہ کیا وہیں شازل اس کی شکل دیکھ کر اپنی ہنسی ضبط کرنے لگا زویا اور جاناں تو سن کر خوشی سے نہال ہو گئیں وه دونوں گھونگٹ سے ہی نور کی شکل دیکھنے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔
“وه بعد کی بات ہے آپ پہلے نیگ دیں ۔۔۔۔”
نور اپنے آنسوں پر ضبط کرتی ہوئی مسکرا کر بولی تو سب کو حیران کر گئی زرام وہاں سے ہٹ گیا تھا اور اپنی پھوپو اور موم کے پاس چلا گیا جہاں سب بڑوں میں رخصتی کی باتیں چل رہیں تھیں اور پھر وه نور کو نیگ دیتے اپنی دولہنوں میں مگن ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وه روتے ہوئی اپنے کمرے میں آئی اور بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی کہ ایک دم صوفیہ اور آمنہ بیگم دروازہ ناک کرتی کمرے میں داخل ہوئیں اور دائیں بائیں اسکے پاس بیٹھی تو نور نے اپنے آنسوں صاف کیے وه ایسے کر کے ذرام اسفند ملک کی عزت کم نہیں کرنا چاہتی تھی وه اپنے اور اپنے شوہر کی سب باتوں کو پردے میں رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔
نور بچے کیا تم اس فیصلے سے خوش نہیں ہو ؟کیا ہم غلط کر رہے ہیں ؟؟”جیسا تم کہو گی ویسا ہی ہو گا ۔”
آمنہ بیگم اسکے ہاتھ تھامتی نرم لہجے میں استفسار کرنے لگییں ۔۔۔۔۔
“مم جان آپ سب کے فیصلہ میرا فیصلہ ہے جیسا آپ سب کو ٹھیک لگے ۔۔۔”
وه صوفیہ بیگم کو دیکھتی نظریں جھکا کر بولی تو انہوں نے آگے بڑھ کر اسکا ماتھا چوما ۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد رخصتی کا شور اٹھا اور پھر سب روتیں بکھرتی اپنے مجازی خدا کے ہمرا رخصت ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی سب کزنز نے انکا زبردست استقبال کیا اور پھر کچھ رسموں کے بعد ان کو کمرے میں بھیج دیا گیا ۔۔۔۔۔۔
وه مسکراتا ہوا اپنے پورشن میں آیا اور پھر دروازے پر کھڑے مسکراتے زرام کو دیکھ کر ماتھے پر ہزاروں بلوں کا اضافہ ہوا
“تو اس وقت یہاں کیا کر رہا ہے اس وقت تجھے اپنے کمرے میں ہونا چاہئے نہ کے میرے کمرے کے دروازے پر ۔۔۔”
ولی سخت غصے میں استفسار کرنے لگا جس پر زرام کی مسکراہٹ میں ذرا بھی فرق نہ آیا ۔۔۔۔۔
“مجھے اچھے سے پتا ہے مجھے اس وقت کہاں ہونا چاہئے اس لیے میں یہاں کھڑا ہوں ۔۔۔خیر میں یہاں نیگ لینے آیا ہوں اس لیے تو نیگ دیے بنا اندر نہیں جا سکتا۔۔۔۔”
وه مسکرا کر بولا تو ولی استزاہیہ ہنسی هنسا ۔۔۔۔۔
“یہی میں بھی تیرے ساتھ کر سکتا ہوں آج تو تو بھی دولہا ہے وہ بھی زبردستی کا ۔۔۔۔”
ہاہاہا ہاہاہا
ولی کی بات پر زرام نے قہقہ لگایا ۔۔۔۔۔
“اب بزنس ٹائیکون بقول تمہارے مجھ کیڑے مکوڑے سے پیسے مانگتا ہوا اچھا تھوڑی لگے گا میں تجھے دوست ہونے کی حیثیت سے فری کا مشورہ دیتا ہوں کہ 1 لاکھ مجھے دے اور آرام سے کمرے میں چلا جا ورنہ تو جانتا ہے یہ زبردستی کا بنا دولہا کیا کچھ کر سکتا ہے اور تیری یہ فرسٹ نائٹ تو پھر سمجھ ہو گئی خراب ۔۔۔”
وه اسکے کان میں شرارت سے بولا تو ولی نے اسے دھکا دیا ۔۔۔۔۔۔
“بہت ہی بڑا کمینہ ہے تو ۔۔۔۔۔یہ پکڑ اور دفع ہو یہاں سے ۔۔۔۔شادی کے نام پر بہت لوٹا ہے تو نے ۔۔۔اور بیسٹ آف لک تیری لڑآئی والی ویڈینگ نائٹ ۔۔۔۔۔۔۔”
وه اسے اسکی ڈیمانڈ کے مطابق چیک دیتا ہوا اسکا مذاق بناتا کمرے میں چلا گیا تو وہ بھی کچھ سوچتا اپنے کمرے میں جانے لگا ۔۔۔۔۔
جاناں اپنا گھونگٹ اٹھاتی ہوئی کمرے کا جائزہ لینے لگی جو اپنا عروسی جوڑا بیڈ پر پھیلائے اپنے مجازی خدا کا انتظار کر رہی تھی مگر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد جب وه نہیں آیا تو اسکے دل کی دھڑکنیں تیز تیز چلنے لگیں ہاتھ پیر کانپنے لگے پورا کمرہ لائٹوں ، کینڈل اور گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا کارپٹ پر جگہ جگہ پھول بکھرے پڑے تھے ٹیبل ،ڈریسینگ پر پھول کی پتیاں اور کینڈل سے سجا ہوا تھا کمرے میں پھولوں کی خوبصورت مہک پورے کمرے کو مہکا رہی تھی بیڈ پر بھی خوبصورتی سے پھولوں کی سجاوٹ کی گئی تھی پورا کمرہ رومانوی منظر پیش کر رہا تھا جس پر جاناں کی سانسیں پھولنے لگیں تھی دروازے پر پاؤں کی چاپ پر جلدی سے گھونگٹ لیا اور دل کی دھڑکنوں کو قابو کرنے لگی جو بہت مشکل تھا ۔۔۔۔
شازل کمرے میں داخل ہوتا ہوا دروازہ بند کرتا اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاتا جاناں کی طرف دیکھا جو ہلکا ہلکا كانپ رہی تھی اسکی حالت دیکھ کر وه محفوظ ہوا پھر اپنی شیروانی اتارتا ہوا صوفے پر اچھالی اب وه کرتا شلوار میں تھا اور دھیرے دھیرے قدم لیتا اس تک پہنچا اور اسکے قریب بیڈ پر بیٹھا پھر اسکو اپنی نظروں کے حصار میں لیتا گلا کھنگارا ۔۔۔۔۔
“اسلام و علیکم جان “
“والیکم سلام “
کچھ دیر خاموشی کے بعد دھیمی مگر كانپتی آواز میں سلام کیا تو شاز اپنی جان کی حالت پر ہنسی آنے لگی مگر ضبط کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔
“جان تم گھبرا رہی ہو اپنے مسٹر واحیات سے ۔۔۔”
وه اسکا گھونگٹ ہٹاتا ہوا بولا مگر باکی کے الفاظ اسکے منہ میں رہ گئے وه مہبوت سے اسے دیکھنے لگا خوبصورتی سے سجے میك اپ میں ، ڈیپ ریڈ لیپسٹیک میں وه غضب ڈھا رہی تھی بے ساختہ اسکے منہ سے ماشاءالله نکلا تھا جس پر خود میں سیمٹی تھی تو شازل اسکے مزید قریب ہوا اور ٹھوڑی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر اٹھایا تو وه لزرتی پلکوں کو اوپر اٹھاتی ایک نظر اسے دیکھ کر واپس نظریں جھکا گئی تو شازل کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم کچھ بولو گی نہیں جان ۔۔۔۔”
وه اسکے سر سے دوپٹا آزاد کرتا اسکے کان میں جھک کر سرگوشی کرتا اسکے جھمکے اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا وہاں اپنا لمس چھوڑا تو وہ کانپ گئی اور ہاتھ بڑھا کر اسکے کرتے کے گریبان کو سختی سے جکڑا اسکی حالت کو دیکھ کر شازل نے اسے کمر سے پکڑ کر نزیک کیا اور ایک ایک کر کے ساری جیولری اتارنے لگا ان سب سے اسے آزاد کرتا اسکے بالوں کو جوڑے کی قید سے آزاد کیا اور پھر اسے بیڈ پر لیٹاتا اس پر جھکنے لگا ۔۔۔۔
“شاز ۔۔۔میری منہ دیکھائی ۔۔۔”
وه اسکا کالر پکڑے پھولتی سانسوں کے درمیان بولی تو شازل اسکی بند آنکھوں پر لب رکھتا سرگوشی کرنے لگا ۔۔۔۔۔
“صبح مل جائے گی جان ۔۔۔۔۔اس وقت مجھے صرف تمہیں محسوس کرنا ہے ۔۔۔اپنے درمیان تمام فاصلوں کو ختم کرنا ہے ۔۔۔۔کیا مجھے اجازت ہے ۔۔۔۔تمہاری اجازت میرے لئے بہت معینے رکھتی ہے ۔۔۔۔
“میں آپ کی ہوں شاز ۔۔۔۔پھر اجازت کیسی ۔۔؟
وه اس کی آنکھوں میں دیکھتی سرخ انار ہوئی شازل اسکے جواب پر سرشار ہوتا سائیڈ لیمپ بند کرتا اس پر جھک آیا اور اپنی محبت کی برسات شروع کردی جاناں اسکی جسارتوں سے گھبراتی اسکے سینے میں منہ چھپاتی اپناآپ اسے سپرد کر گئی
دروازہ بند کرتا جیسے ہی پلٹا تو نظریں ایک ہی منظر پر جیسے رک گئیں کمرے میں ہر چیز خوبصورت لگنے لگی اسکی ہارٹ بیٹ بغیر دوپٹے کے اسکے بیڈ پر استحاق سے بیڈ کی بیک سے ٹیک لگائے معصومیت سے سوئی اسکے دل کو زور سے دھڑکانے لگی ڈیپ ریڈ کلر کے عروسی جوڑے میں برائیڈل میكاپ میں معصومیت لیے ولی برہان ملک کا دل زور سے دھڑکانے لگی جو غصہ اسے کمرے میں آنے سے پہلے تھا وه تو جیسے کہیں سو گیا تھا وه مسکراتا ہوا دھیمے قدم لیتا اسکے پاس آیا اور جھک کر اسکی پیشانی پر اپنی مہر ثبت کرتا آہستگی سے پچھے ہٹا کہیں وه اٹھ نہ جائے پھر ایک بھرپور نظر اس پر ڈالتا وارڈروب سے اپنا ٹراؤزر لیتا واشروم میں بند ہو گیا
جب باہر آیا تو اسکی ہارٹ بیٹ ایسے ہی سوئی ہوئی تھی ولی مسکراتا ہوا اسکے پاس آیا اور اسکی گود میں سر رکھتا لیٹ گیا اور پھر دوشمن جاں کی طرف دونوں ہاتھ بڑھا کر اسکا ہیوی نیکلیس اتارنے لگا جو اسکی گردن کو سرخ کر رہا تھا اور نظریں اس کے خوبصورت چہرے پر مرکوز تھیں اور پھر بھٹکتی ہوئیں اسکے سرخ ہونٹوں پر رک گئی اور دل نے چاہا اسے چھو لے ۔۔۔۔۔
زویا کسی کی انگلیوں کے لمس کو اپنی گردن پر محسوس کرتی آنکھیں کھول گئی اور جب نظر اپنی گود میں سر رکھے سوئے شرٹ لیس ولی پر پڑی اس سے پہلے کہ وه چیخ مارتی ولی اسکی گردن پر اپنا ہاتھ رکھتا نیچے جھکاتا اسکی چیخ کو اسکے منہ میں دبا دیا اور زویا اسکی حرکت پر پھڑپھڑآتی اپنے ہاتھوں کے ناخون اسکے سینے پر مارتی پچھے کرنے لگی مگر وه ایک جھٹکے سے اسے بیڈ پر لیٹاتا اس پر جھک آیا ۔۔۔۔۔۔
“بہت بدتمیز ہیں آپ ولی ۔۔۔میں سوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میری منہ دکھائی بھی نہیں دی میری تعریف بھی نہیں کی ۔۔۔۔ میں ناراض تھی آپ سے آپ نے منایا بھی نہیں مجھے”
جب وه پیچھے ہٹا تو وہ اسکے سینے میں منہ چھپاتی بیگڑے تنفس کے بیچ شکواہ کرنے لگی جس پر ولی نے اسے اپنی باہوں میں قید کیا تو اسکی خوشبو کو محسوس کرنے لگی۔۔۔۔
“ہارٹ بیٹ تمہیں تعریف کی ضرورت ہے تو میں اپنے عمل سے تمہاری تعریف کروں گا اور منہ دکھائی جب تم صبح اٹھو گی تو مل جائے گی اور رہی بات منانے کی تو وه میں ابھی مناؤں گا جس پر تم شرما جاؤ گی ۔۔۔۔”
وه اسکے کان میں زومعنی سرگوشی کرتا ہوا اسے سرخ انار کرتا لائٹ آف کردی اور اس پر جابجا اپنی محبت ثبت کرنے لگا زویا بوکھلائی گھبرائی اسکی پناہوں میں چھپنے لگی