No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
“نہیں کی میں نے محبت آپ جھوٹ بول رہے ہیں جانو بھائی نے ہمیشہ مجھے ایک بات کہی ہے ولی بھائی کبھی جھوٹ نہیں بولتے اس لیے آپ ایک جھوٹھے انسان ہیں پتا نہیں کون سی لڑکی کے ساتھ آپ”————
“خاموش بلکل خاموش تم یہ پہلے اپنا جانو بھائی جانو بھائی کی رٹ ختم کرو میرا دماغ خراب ہو جاتا ہے یہ لفظ سن کر”
زرام اس کا بازو چھوڑتا غصہ سے کھڑا ہوتا ہوا بولا وه ساری باتیں سائیڈ پہ کرتا اس کا جانو بھائی کہنا برداشت نہ کر سکا _ “تو آپ کو کیا مسلہ ہو رہا ہے میں کہوں گی جانو بھائی جانو بھائی جانو بھائی اب بتائیں کیا کریں گے “۔ وه اسکے سامنے غصے سے اپنے آنسو صاف کرتی زدی انداز میں بولی تو زرام کو اسکی ڈھٹائی پر غصہ آنے لگا اور ولی پہ تو حد سے زیادہ تھا جس نے یہ فساد کھڑا کر دیا تھا اس سے تو بعد میں نبٹنا تھا ابھی اس پٹاخے کو ہینڈل کرنا تھا جو اسکی بات تو سن نہیں رہی تھی بس لڑنے میں مصروف تھی_
“میں نے ابھی کیا سمجھایا تھا کہ میں تم سے بڑا ہوں۔ تمیز سے بات کیا کرو۔ تمہاری سمجھ میں نہیں آ رہا کیا؟؟؟ اب تم میری نرمی کا فائدہ اٹھا رہی ہو میڈم باز آجاؤ” ۔
وه ایک بار پھر اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا ہوا غصے سے بولا مگر اس کی پکڑ اس بار بہت نرم تھی اور نور کو تو اس کے رویے پر رونا آنے لگا جو پہلے کبھی نہیں ایسے ہوتا تھا وه بدگمان ہو رہی تھی اسکے ذہن میں تھا تو بس یہ کہ زرام اسفند ملک کسی اور سے محبت کرتا ہے اور روعب اس پہ جھاڑتا ہے _ “نہیں کروں گی اب بدتمیزی نہ ہی آپ سے بات کروں گی اب جائیں اس اپنی گرل فرینڈ کے پاس مجھ سے بات مت کریے گا”۔ وه روتی ہوئی اپنا بازو چھڑواتی اندر کی جانب بھاگ گئی اور زرام اپنا غصہ برداشت کرنے لگا جو اسے صرف اپنی ڈیوٹی کے وقت آتا تھا مگر آج اسے نور کے بچپنے پہ آ رہا تھا جو ولی اور شازل کی بات پلے باندھ کے بیٹھ گئی تھی جو اسکے اظہار کو بھی جھوٹ کا نام دے رہی تھی
“تیرا کچھ نہیں ہو سکتا زرام جب تک یہ منہوس ولی تیری زندگی میں ہے مگر اب اس کو میں بتاؤں گا زرام اسفند ملک کیا چیز ہے”_
وه اپنے موبائل پے آتے نوٹیفیکیشن کو چیک کرتا اپنے بڑوں کی طرف جانے لگا کیوں کہ اسے ابھی پولیس سٹیشن جانا تھا_
“موم ڈیڈ چلیں ۔۔۔۔۔۔مجھے ابھی پولیس سٹیشن جانا ہے یہ ولی اور جاناں نظر نہیں آرہے”
وه لان کے فرنٹ میں آتا ہوا بولا جہاں سب لوگ بیٹھے تھے سوائے ولی اور جاناں کے ویسے تو نور بھی نہیں تھی مگر وه جانتا تھا اب وه اپنے کمرے میں چلی گئی ہو گی زویا اور شازل بیٹھے تھے تو جاناں اور ولی کی غیرموجودگی پر وه حیران ہوا تھا_ “وه بیٹا پتا نہیں جاناں کو کیا ہوا تھا اچانک سر میں درد ہونے لگا تھا بہت رو رہی تھی تو ولی اسے گھر لے گیا اب ہم بھی چلتے ہیں بہت دیر ہو گئی ہے”
آمنہ بیگم اسے جواب دیتی اٹھ کھڑی ہوئیں تو باکی بھی جانے کے لیے کھڑے ہو گئے وه سب ایک دوسرے سے ملتے پورچ میں چلے گئے تو زرام شازل کو دیکھنے لگا جو اس سے ملے بغیر اندر کی جانب بڑھ گیا تھا جس کا صاف مطلب تھا وه اس سے ناراض ہے اور وه یہ بھی جانتا تھا جو بات شازل میران ملک ایک بار کہہ دیتا تو اس بات سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹتا تھا پھر وه بھی زویا کے سر پہ ہاتھ رکھتا باہر کی جانب پڑھ گیا_
شازل جب کروٹ بدل کر تھک گیا تو اٹھ کر بیٹھ گیا اور کمرے کی لائٹ آن کر دی اور اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرنے لگا وه جب بھی پریشان ہوتا تھا وه ایسے ہی کرتا تھا جب اسے سکون نہیں ملتا تھا تو ایسے ہی ساری رات جاگتا رہتا ابھی بھی اسکے ساتھ یہی ہو رہا تھا رات کے دو بج رہے تھے اور اسے نیند ہی نہیں آرہی تھی ۔اس کے دماغ میں ایک ہی جنگ چھڑی ہوئی تھی کہ جاناں ایسا کیوں کر رہی ہے وه کیوں خوش نہیں ہے جب وه اس سے محبت کرتی ہے تو اس کے ساتھ رہنا کیوں نہیں چاہتی ایسے بھی کیا ہوا ہے اسے کہ اس کے سر میں اس قدر درد ہونے لگا ہے کیوں ایسی ہو گئی ہے وه کیوں ایسے کہہ رہی تھی کہ وه اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکے گا_
“مجھے اپنی مس جان سے ملنا ہو گا پتا نہیں ٹھیک ہو گی بھی یا نہیں مجھے سکون نہیں ملے گا اسے دیکھے بغیر”_
وه خود سے باتیں کرتا بیڈ سے اٹھا اور ٹی شرٹ پہنے بغیر صرف ہڈ پہنتا گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھاتا باہر چلا گیا_
جہاں رات کی سیاہی ہر طرف پھیلی ہوئی تمام علاقے سب سڑکیں سنسان پڑی تھیں ہر طرف اندھیرے نے اپنا بسیرا کیا ہوا تھا کسی بھی انسانی روح کا کوئی نام و نشان نہ تھا سوائے ایک شخص کے جہاں سب اتنی اندھیری رات میں سکون سے اپنے گھروں میں سو رہے تھے
اور ایک وه تھا شازل میران ملک جو کھڑکی کے زریعے اپنے ماموں کے گھر کے اوپر والے کمرے میں گھس رہا تھا جو جاناں مطلب اسکی مس جان کا تھا پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وه اپنے موبائلکی سکرین کی لائٹ کے ظریعے اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگا_
وه کمرے میں داخل ہوا تو وہاں صرف زیرو لائٹ بلب کی روشنی تھی جس کی مدد سے شازل نے بیڈ پہ لیٹے نقوس کو دیکھا تھا جو دنیا جہاں سے بے خبر سو ررہا تھا جس پر وه دھیرے سے مسكرايا تو اسکے خوبصورت ڈیمپل نمودار ہوئے تھے اگر جاناں ان کو دیکھتی تو ناک ضرور چڑہاتی کیوں کہ وه ان کو چھو نہیں سکتی تھی_
وه چلتا ہوا بیڈ کے نزدیک گیا اور اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور اسے دیکھنے لگا جو ٹی شرٹ ٹراؤزر پہنے بالوں کو کھولا چھوڑے ایک ہاتھ پیٹ پر اور دوسرا ہاتھ بیڈ پر رکھے پر سکون سی سو رہی تھی _
اسکا مکمل جائزہ لینے کے بعد وه اپنی ہڈ اتارتے اس پر جھکتا اسکی صاف شفاف سراہی دار گردن پہ بوسہ دینے لگا پھر کچھ پل بعد پیچھے ہٹا اور اسے غور سے دیکھنے لگا اور اپنی بےخودی پر غصہ آنے لگا وه جب بھی اسکے پاس آتا تھا ایسے ہی ہو جاتا تھا کسی بھی چیز کا خیال نہیں رہتا تھا یہ بھی بھول جاتا تھا وہ اسکا محرم نہیں ہے وه اس پر اپنا حق سمجھتا تھا جس کی وجہ سے اسے کوئی خیال نہیں رہتا تھا وه اسکے قریب آکر غلط کرتا تھا وه یہ بات جانتا تھا مگر وه ہر بار اپنے اللّه سے معافی بھی مانگ لیتا تھا اب یہ راز تو بس وه پاک ذات ہی جانتی تھی کہ وه گنہگار تھا یا نہیں یا وه پاک ذات اسے معاف کرتی ہے یا نہیں۔
وه ایک بار پھر اس کے معصوم پاکیزہ چہرے میں کھو گیا تھا جو سوتے ہوئے بھی انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی اور اسکی ناک میں چمکتی قاتل نوز پن جس پر شازل کا دل زور سے دھڑکا تھا اور دل نے خوائش کی تھی کاش وه اسے چھو سکتا پہلے بھی بےخود ہوتا اسکی گردن پر اپنا لمس چھوڑا تھا مگر اب نہیں چھو سکتا تھا وه بہت پاکیزہ تھی اور وه اس کا نہ محرم تھا وه اسکی طرف دیکھ رہا تھا جب اسکی نظر اسکے سائیڈ دراز پر پڑی جہاں اسکی میڈیسنز رکھی گئی تھی وہ ایک دم شاکڈ ہوا اور اپنا دائیاں ہاتھ لمبا کرتا ان میڈیسنز کو اٹھا کر دیکھا تو اسکی حیرت سے آنکھیں کھول گئیں وه کبھی میڈیسنز کو دیکھتا تو کبھی آپنی جان کے چہرے کو تو وه اس قدر تكلیف میں تھی تو یہ وجہ تھی وہ اس سے دور بھاگتی تھی تو یہ وجہ تھی وه مسكرانا بھول گئی تھی_ پھر وه سر نفی میں ہلاتا اس کے کان کے پاس جھکا اور سرگووشی کرنے لگا_ “مائی لو کیوں ہو گئی ہو ایسی کیوں تم اس ایپیلیپسی کی بیماری کا شکار ہو گئی ہو کیوں اپنے ہر درد خود میں چھپا کر رکھتی ہو کیوں نہیں ظاہر ہونے دیتی ہو کہ تم تکلیف میں ہو کیوں سب کو مسکرا کر یقین دلاتی ہو کہ تم ٹھیک ہو ایک بار صرف ایک بار تم مجھے اجازت دے دو ایک بار تم مجھے کہہ دو کہ تم صرف میرا ساتھ چاہتی ہو میں تمہارے سب دکھ درد کو اپنا بنا لوں گا تمہیں اس اندھیری دنیا سے کہیں دور لے جاؤں گا جہاں تمہارے نزدیک کوئی دکھ کوئی تکلیف نہیں ہو گی صرف ایک بار اپنا درد مجھے سنا دو میں تمہیں خود میں گم کر لوں گا جہاں کوئی تکلیف نہیں ہو گی جہاں کسی درد کو برداشت کرنے کی دوایاں نہیں ہوں گی صرف سکون ہو گا جو تمہیں مجھ میں ملے گا”_ وه یہ سب کہتا بےآواز رو دیا اسکے آنسوں جاناں کے کندھے پر گرنے لگے اگر وه ہوش میں ہوتی تو یہ سب دیکھ نہ پاتی وه کبھی اپنے شاز کو روتا نہیں دیکھ سکتی تھی وه ان میڈیسنز کے زیر اثر سو رہی تھی جو انسان کو پرسکون کر دیتی تھیں جس کی وجہ سے جاناں کو کوئی ہوش نہیں تھا_ “مگر بس اب بہت ہو گیا اب میں تمہاری ہاں کا انتظار نہیں کروں گا اب میں تمہیں اپنا بنا کر ہی رہوں گا چاہے مائی لو تم راضی ہو یا نہ ہو اب تم خود کو میرا ہونے سے نہیں روک سکتی اب میں تمہیں ہر درد سے دور کر دوں گا تمہیں خود میں گم کر دوں گا جہاں تمہیں صرف میری محبت نظر آئے گی میں اب تمہاری ہاں کے انتظار میں نہیں رہوں گا اب میں نکاح کے ساتھ تمہیں اپنے پاس لے آوں گا تم اس بار مجھ سے دور نہیں رہ سکتی”_ اس کی آواز میں زد تھی جنون تھا اپنے لو کو اپنا بنانے کا ساری رات وه اسکے سرہانے بیٹھا رہا اور جاناں کی تكلیف پر آنسوں بہاتا رہا وه اسکی تكلیف کو اپنی تکلیف سمجھ رہا تھا_ صبح ہونے سے کچھ دیر پہلے وه اسکی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا پیچھے ہٹا اور پھر اپنے دل کی سنتا اسکا ماتھا چومتا جس راستے سے آیا تھا اسی سے واپس چلا گیا __
آج جاناں کی اہم میٹنگ تھی اس لیے وه جلدی آفس چلی گئی تھی فیضان اور اسفند صاحب تو جاناں کے ساتھ ہی چلے گئے تھے مگر ولی ابھی نہیں گیا تھا وه زرام کا ویٹ کر رہا تھا وه ساری رات گھر نہیں لوٹا تھا اس نے ولی کو میسج کیا تھا کہ آج گھر پر میرا ویٹ کرے اسی لیے اب وه لاؤنچ میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا اب اسے غصہ آنے لگا تھا وه آج تک آفس سے لیٹ نہیں ہوا تھا آج زرام نے کر دیا تھا ۔وه وائٹ ڈریس شرٹ کے اوپر بلیک کوٹ پہنے ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا_
“ولی میرے بچے بیٹھ جاؤ یا زرام کو کال کر لو ایسے تھک جاؤ گے یوں ٹہلتے ٹہلتے”_
آمنہ بیگم اسے یوں چلتے دیکھ آخر بول اٹھی جو بار بار اپنی واچ کی طرف دیکھتا تو کبھی لاونچ کے دروازے کی طرف_
“موم بس وه آتا ہو گا میں بس——-“
وه بول ہی رہا تھا جب زرام لاؤنچ میں داخل ہوا تھکا ہارا بکھرے بال جو ماتھے پہ گرے ہوئے تھے شرٹ کے بازوں کو فولڈ کیے سرخ آنکھیں جو رات بھر جاگنے کی چغلی کھا رہی تھیں آمنہ بیگم اٹھ کر اس کے پاس آئیں۔۔۔
“زرام میرے بچے کیا حالت بنائی ہوئی ہے”_
” اسلام و علیکم —-موم ابھی آپ سے بات نہیں کر سکتا مجھے ابھی واپس جانا ہے آپ بس دعا کریں آپ کا بیٹا انصاف دلا کر گھر لوٹے اور ولی تم میرے ساتھ میرے کمرے میں چلو جلدی”-
وه آمنہ بیگم سے کہتا ولی کو اپنے ساتھ لیتا اپنے کمرے میں چلا گیا__
“مس جان آج کی میٹنگ کی فائلز کہاں ہیں مل نہیں رہی” _
شازل جاناں کے روم میں داخل ہوتا ہوا بولا جو اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی_ “جان کیا ہوا طبیت تو ٹھیک ہے”_ وه لمبے ڈاگ بھرتا اسکے پاس آیا تو اس نے اپنی نم آنکھیں اٹھا کر شازل کو دیکھا وه تو وه ایک دم ڈراتھا اور پھر اس کے پاس گٹھنوں بل بیٹھا—– “سر میں درد ہو رہا ہے کیا جان بتاؤ میں دبا دیتا ہوں پلیز رونا بند کرو ——- تم ایسا کرو اٹھو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں” _ وه اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتا نرمی سے بولا تو جاناں زیادہ رونے لگی اور آنکھیں بند کیے شازل کے کندھے پہ سر رکھ دیا_ ”میرا دل درد سے پھٹ رہا ہے میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے پلیز مجھے یہاں سے دور لے جائیں جہاں کوئی پریشانی نہ ہو جہاں سکون ہو جہاں کوئی ڈر کوئی خوف نہ ہو “—— وه آہستہ آہستہ آواز میں سرگوشی کرتی شازل کے کندھے پہ سر رکھے بےہوش ہو گی_
“جان آنکھیں کھولو کیا ہوا پلیز یار —–“
شازل اسے سیدھا کرتا زور سے چیخا مگر وه آنکھیں بند کیے سوئی رہی تو شازل اسے اپنی باہوں میں اٹھاتا باہر کی جانب بھاگا اور اپنے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا کہتا جاناں کو پچھلی سیٹ پہ لٹایا اور اسکا سر اپنی گود میں رکھا_
“ڈرائیور جلدی ہوسپیٹل چلو “_
“وه ڈرائیور پر چیخا تو وه بیچارہ یس بوس کہتے گاڑی تیز رفتار میں چلانے لگا اور شازل کے گارڈز بھی اپنے بوس کی گاڑی کے پچھے روانہ ہوئے”_
کیا ہوا ہے زرام تجھے آج تو کافی غصے میں ہے”_
ولی اسکے پچھے کمرے میں داخل ہوتا ہوا بولا تو زرام نے اسکے منہ پر مکا مارا وه جو اس سب کے لیے تیار نہیں تھا اتنے زور کے مکے پر گرتے گرتے بچا اور دروازے کا سہارا لیا_ “زرام “۔ ولی زور سے دھاڑا اور اپنے بالوں کو ہاتھوں سے پیچھے کرنے لگا جو ماتھے پہ بکھر گئے تھے اور پھر غصے سے زرام کو دیکھنے لگا جو خود آج بہت غصے میں تھا
“چیخنا بند کرو ولی برہان ملک میں یہاں تیرا دوست تیرا بھائی نہیں بلکے ملک کا محافظ ایس پی زرام اسفند ملک کی حیثیت سے کھڑا ہوں اب میں تجھ سے جو پوچھوں گا اس کا جواب مجھے ہاں یا ناں میں چاہئے ورنہ تجھے جیل جانے سے نہ تو تیرا بھائی زرام روک سکے گا نہ ہی تیری دولت نہ اور نہ ہی تیری طاقت”۔
زرام اسکی سرخ ہوتی آنکھوں میں دیکھتا سرد آواز میں بولا تو ولی دو قدم اس کے نزدیک ہوا اور اس سے بھی زیادہ سرد آواز میں بولا_
“تو تو ایس پی زرام اسفند ملک کی حیثیت سے میرے سامنے کھڑا ہے تو شائد بھول رہا ہے ایس پی تو اس وقت کس سے مخاطب ہے تو تجھے یاد دلا دوں تو اس وقت ولی برہان ملک کے سامنے کھڑا ہے جس کے پیسوں پر نجانے کتنے تم جیسے چھوٹے موٹے ایس پی پلتے ہیں آیندہ سوچ سمجھ کر اپنا ہاتھ اٹھانا ورنہ ولی برہان ملک ان ہاتھوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی طاقت رکھتا ہے اور ایک بات میں کسی بھی چھوٹے موٹے ایس پی کو جواب دینے کا پابند نہیں ہوں اگر میرے بھائی کی حیثیت سے پوچھتے تو تمہارے ان سوالوں کا جواب ضرور دیتا”۔
اس نے زرام کا گال تھپتھپایا جو غصہ کی وجہ سے سرخ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا پھر ولی جانے کے لیے مڑا مگر اسکی اگلی بات پر مسکراتا ہوا واپس پلٹا_
“تیرا سارا غرور خاک مل جائے گا جب ہر جگہ قاتل ولی برہان ملک کی نشریات چلیں گی جب دکھایا جائے گا بزنس کی دنیا کا بادشاہ اپنی طاقت کے نشے میں قتل کرنے لگا جب اس کے فارم ہاؤس سے نامور بزنس مین کے بیٹے کی لاش ملے گی جس کو 3 مہینے سے پولیس ڈھونڈ رہی تھی وه مردہ حالت میں ملا بھی تو ولی برہان ملک کے فارم ہاؤس سے اور پھر تو خود جھکے سر کے ساتھ اپنے ہاتھ اس چھوٹے موٹے ایس پی کے سامنے کرے گا تب تیری طاقت بھی کچھ نہیں کر سکے گی”۔
زرام غصے چیخا ایک تو وه اسے سچ نہیں بتا رہا تھا اور پھر وه اسکی بےعزتی بھی کرنے لگا تھا جس پر اس کی برداشت ختم ہوئی تھی_
“ہاہاہا بھول ہے تمہاری ایسا دن کبھی بھی نہیں آئے گا جب ولی برہان ملک بے عزت ہو اور تو چاہے کچھ بھی کہہ لے تو مجھے کبھی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا اور اتنی بڑی باتیں مت کر اور تو شکر ادا کر ایک ریپیسٹ کی کمی ہو گئی ھمارے ملکمیں اور مجھے لگ رہا ہے اسے دل کے مقام پر گولی لگی تھی ایسا ہی ہے نہ”۔
وه مسکرا کر کہتا روم سے باہر چلا گیا اور زرام پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا اسے جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا اور پھر اسکی آخری بات پر اسے یقین ہو گیا تھا شاہزیب اسحاق خان کا قتل ولی نے کیا تھا یہ سب باتیں جو اسنے ولی سے کہیں تھیں وه صرف اسے غصہ دلانے کے لیے تھیں کیوں کہ زرام جانتا تھا ولی کبھی بھی اسے نہیں بتائے گا اس لیے اسنے ولی کے منہ پر مکہ مارا تھا اور اسے غصہ دلايا ۔مگر زرام نہیں جانتا تھا آج پورے تین مہینوں بعد اسے شاہزیب ملا تھا تو صرف ولی کی وجہ سے اگر ولی برہان ملک نہ چاہتا تو اسے کبھی بھی شاہزیب خان کا پتا نہ چلتا_
