Dil Mein Ho Tum By Mannat Riaz Readelle50188
Last updated: 24 August 2025
No Download Link
Dil Mein Ho Tum
By Mannat Riaz
وه اسکے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے رب کرتے ہوئے کہنے لگا تو زویا اسے دھکا دیتی بھاگتی ہوئی مینشن میں
چلی گئی تو وہ مسکراتا ہوا گاڑی بهگا لے گیا ______
ساری رات جاگ کر گزارنے کی وجہ سے اسکی آنکھ لیٹ کھلی تھی اور جب اٹھ کر ٹائم دیکھا تو دن کے 11 بج رہے تھے پھر وه جلدی سے اٹھ کر واش روم گئی اور فریش ہو کر نیچے لاؤنچ میں آئی تو ملازموں کی فوج گھر میں نظر آئی اور نور میڈم کبھی ایک پہ حکم چلاتی تو کبھی کسی دوسرے پر________
یہ دیکھو یہاں اس صوفے اور ٹیبل پر کتنی مٹی ہے تمہیں دکھائی نہیں دے رہا اپنی آنکھیں کھول کر صفائی کرو_____
اور تم یہاں کیا کر رہے ہو جلدی جاؤ ڈرآئنگ روم کی صفائی کرو اور بھی بہت سارے کام پڑے ہیں تمہیں پتا نہیں ہے ولی برہان ملک آرہے ہیں وه ھمارے گھر میں گند دیکھیں گے تو کیا کہیں گے اور وه کہیں پہ بھی تھوڑی سی بھی مٹی اور گند برداشت نہیں کرتے اور پھر میری معصوم بہن کو تو طعانے دے دے کر مار دیں گے کہیں گے _______
دیکھو جب میں تمہارے گھر ہماری شادی کی بات پکی کرنے گیا تو تمہارے گھر میں اس قدر گند تھا کہ میرا وہاں رہنا مشکل ہو گیا اور ٹینشن ہونے لگی کہیں یہ گند مجھے ہی گندا نہ کر دے________
وہ کسی بڑی عورتوں کی طرح اپنا رونا رونے لگی تو وه بچارے ملازم ایک بار پھر سے لاؤنچ کی صفائی کرنے لگے
یہ ان کی زبان دراز میڈم کا آرڈر تھا اگر نہ مانتے تو وه اپنی زبان کے جوہر دکھا دکھا کر مار دیتی______
اور لاؤنچ کے درمیان کھڑی زویا یہ سب دیکھتی رات کے سارے سین آنکھوں کے سامنے آنے لگے اسکا غصہ میں ولی کے آفس جانا پھر ولی کے کالر کو پکڑنا اور پھر ولی کا غصہ اور پھر ولی کا یوں اس پر حق جمانا وه سب یاد کرتی ایک بار پھر سبز آنکھوں میں آنسو لے آئی اسے بلکل بھی امید نہیں تھی ولی اس کے ساتھ ایسا کچھ بھی کر سکتا ہے اس پر اس قدر غصہ کرے گا زویا نے کبھی نہیں سوچا تھا اسنے تو کبھی ولی سے شادی کا بھی نہیں سوچا تھا_______
میں کیسے آپ جیسے انسان کے ساتھ شادی کر سکتی ہوں جس نے میری دوست کے ساتھ برا کیا پھر آپ جیسے انسان کو تو محبت جیسے لفظ کا بھی علم نہیں ہو گا محبت تو بہت دور کی بات ہے جس انسان کو صرف غصہ آتا ہو جس انسان کو صرف خود سے محبت ہو جو انسان بہت مغرور ہو کسی سے بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتا ہو اپنے مقام سے جس شخص کو محبت ہو وه کبھی بھی کسی سے محبت نہیں کر سکتا میں آپ کی ملاذمہ نہیں ہوں جس پر آپ غصہ اپنا روعب چھاڑیں گے آپ تو مجھ سے محبت کے دعوےدار تھے آپ نے تو 5 سال پہلے سب کے سامنے مجھ سے نکاح کی بات میرے بابا سے کی پھر مجھ سے نکاح کر کے میری ہی دوست کی عزت خراب کر دی نفرت کرتی ہوں آپ سے شدید ترین میں کبھی بھی آپ جیسے گھٹیا انسان سے شادی نہیں کروں گی______
وه اپنی سبز آنکھوں میں ولی برہان ملک کے لیے نفرت لیے خود سے باتیں کرنے لگی اور پھر اپنے دل کی آوازوں پر آنکھوں میں آنسوں خود با خود بہنے لگے زندگی میں ایک ہی شخص سے محبت کی تھی جو اس کا مہرم تھا مگر اسی نے اس کا مان بھروسہ سب کچھ توڑ دیا تھا ______
اوئے زوئی کی بچی رو کیوں رہی ہو کیا ہوا ہے ولی بھائی کی ہارٹ بیٹ
نور اسے روتا دیکھ بھاگ کر اسکے پاس آئی تو زویا اسے دیکھ کر اور زیادہ رونے لگی______
زویا جانو بھائی کی گڑیا میری بہن کیا ہوا ہے میں نے کچھ کہا ہے کیا پلیز چپ ہو جاؤ جانو بھائی آج گھر پر ہی ہیں اور پھر ماما بابا نے بھی آ کر مجھ معصوم کو ہی ڈانٹنا ہے کہ تمہاری ہی زبان چلی ہو گی ہماری زویا معصوم کو لڑائی کا کیا پتا_________
نور اسے ہگ کرتی ہوئی سوفے پر بیٹھا کر خود اسکے پاؤں میں گھٹنوں کے بل بیٹھتی اس چپ کروانے لگی______
پلیز نور مجھے نہیں جانا کہیں بھی جہاں تم سب کو چھوڑ کر جانا پڑے میں وہاں کیسے رہوں گی اتنے بڑے گھر میں اور پھر وه ولی اتنا غصہ کرتے ہیں چیختے رہتے ہیں_____
زویا اپنے آنسوں کو صاف کرتی نور کو بولی جو اسکی بات پر آنکھیں پھاڑے ہوئی تھی پھر زور سے پاگلوں کی طرح قہقہ لگانے لگی ________
اہو نو نو یا میرے اللّه زوئی کی بچی تم اس بات پہ رو رہی تھی یا میرے خدایا سب لوگ پاگل ڈھونڈتے ہیں ھمارے گھر سے جتنے مرضی لے جاؤ______
نور فرش پہ گری ایک بار پھر سے قہقہ لگانے لگی اور سب ملازم ان کو خود میں مصروف دیکھ باہر کی جانب کھسک گئے آخر نور میڈم نے ان کو پاگل جو کر دیا تھا _________
نوراں بیگم تم میرا مزاق اڑا رہی ہو میں نے بھائی کو بتا دینا ہے پھر اپنی بستی کی ذمہدار تم خود ہو گی_____
زویا اسکو گھورتی اپنے بالوں کو پونی میں قید کرنے لگی ________
