Dil Mein Ho Tum By Mannat Riaz Readelle50188 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
وه اسے کمرے میں واش روم میں اور ڈریسنگ روم میں نہ پا کر پریشان ہوتا اسے پکارنے لگا اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا شیروانی اتار کر صوفے پر اچھالی تو نظر ٹیرس کے کھولے دروازے پر گئی تو وه جلدی سے اس طرف گیا ۔۔۔۔۔
“جانم میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہا تھا یار ۔۔۔۔۔مانا کے زبردستی کا دولہا ہوں مگر یار میں تمہیں اپنے کمرے میں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔”
زرام نور کو پچھے سے ہگ کرتا ہوا اسکا دوپٹا اتار کر ریلینگ پر رکھا اور وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا تو وه ایک دم بوکھلا گئی اور اسے پچھے کرتی اسکے سامنے آئی تو زرام اسے روتا دیکھ پریشان ہوا ۔۔۔۔۔۔
“آپ ہر بار کیوں ہرٹ کرتے ہیں پھر میرا رییکشن آپ کو بہت برا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔کیا آپ ایک بار مجھ سے پوچھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے تھے کیوں آپ ۔۔۔۔۔۔”
وه اسکا گیریبان اپنے نرم ہاتھوں میں جکڑتی اس سے استفسار کرنے لگی تو زرام نے اسے اپنے سینے سے لگایا تو وه سسکتی اسکے سینے میں منہ چھپا گئی ۔۔۔۔۔۔
“جانم مجھے یقین تھا تم میرے ہر فیصلے میں میرا ساتھ دو گی اس لیے تمہیں نہیں بتایا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا تمہیں ہرٹ کرنے کا پلیز یار رونا بند کرو ۔۔۔۔۔”
وه اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں لیتا اس کی غلط فیہمی دور کرنے لگا وه بھی اسکی بات سن کر پر سکون ہوئی تھی اور جھک کر اسکی نم آنکھوں پر اپنے لب رکھے تو شرما کر اس سے دور ہونے لگی تو زر نے اسے اپنے اور قریب کر لیا ۔۔۔۔۔
“نہیں جانم اب تم مجھ سے دور نہیں جا سکتی بہت دوری برداشت کر لی ۔۔۔”
وه اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھوتا اسے سرخ انار کر گیا ۔۔۔۔۔
زر ۔۔۔۔۔۔پلیز روکیں نہ ۔۔۔۔۔۔۔
نور اسکے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے روکنے لگی جو اس پر جھک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
“ہم چھت پر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کہیں بھی شروع ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔”
نور اس کی گھورتی آنکھوں کو دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
“تو چلو جانم کمرے میں چلتے ہیں میں کب یہاں ہی شروع ہو رہا ہوں ؟ ویسے بھی بہت خوبصورت لگ رہی ہو تو یہاں تعریف کرنا بہت مشکل ہے ۔۔۔۔”
وه اسے ایک چھٹکے سے اپنی باہوں میں اٹھاتا ہوا اسکی ناک سے ناک مس کرتا معنی خیزی سے بولتا کمرے میں جانے لگا وه اسکی باتوں اور اپنے دل کی دھڑکنوں سے گهبراتی اسکے سینے میں منہ چھپاگئی جس پر زرام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔۔۔
اس نے کسمساتے ہوئی اپنی بند آنکھوں کو کھولا تو خود کو ولی کی باہوں کے حصار میں پایا تو نظریں اسکے شرٹ لیس وجود پر ٹک گئیں جو اسکی طرف رخ کیے اپنے حصار میں جکڑے ہوئے تھا ماتھے پہ کالے سیاہ بال بکھرے ہوئے تھے سوتے ہوئے بھی چہرے پر مسکراہٹ کی بجائے غصہ تھا زویا کو دیکھ کر اس پر ڈھیرو پیار آیا اور پھر رات کا منظر یاد کرتی سرخ ہوئی اور ہونٹ خودباخود مسکراہٹ میں ڈھلے پھر وه اسکی نیند سے جاگنے کے ڈر سے آہستہ سے اوپر کی جانب ہوئی اور دھڑکتے دل کے ساتھ اسکے ماتھے سے دو انگلیوں کی مدد سے بالوں کو پچھے کرتی وہاں اپنے لب رکھے اور پھر جلدی سے واپس نیچے ہوئی مگر اس جلد بازی میں یہ نہ دیکھ سکی کہ اسکی اس ننھی حرکت پر ولی کے ماتھے پر بل غائب ہوئے تھے زویا کچھ دیر اپنی دھڑکنوں پر کابو پاتی اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکے چہرے کی طرف مہبت سی دیکھنے لگی ۔۔۔۔
آپ بہت پیارے ہیں ولی ۔۔۔۔۔اتنے کہ میں نے آج تک اتنا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا ۔۔۔مگر آپ ہر وقت غصہ کرتے رهتے ہیں ۔۔۔۔آپ کے سر میں درد نہیں ہوتا ۔۔۔۔اور ایٹیٹیوڈ اور روعب تو ایسے دکھاتے ہیں جسے سب آپ کے غلام ہوں ۔۔۔۔۔ایسے نہیں کرنا چاہئے آپ کو ۔۔۔اس طرح آپ زیادہ پیارے لگتے تبھی تو سب واحیات لڑکیاں آپ کو تاڑنے لگتی ہیں ۔۔۔۔ان کو تو کچھ نہیں کہتے مجھ پر بس روعب جھاڑتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مگر مجھے بہت پیارے لگتے ہیں آپ ۔۔۔میں ہی آپ کی پہلی بیوی ہوں سمجھے آپ ۔۔۔۔۔۔
وه دھیمی آواز میں سرگوشی کرتی ولی کی ہنسی ضبط کرنے کا امتحان لینے لگی مگر اسکی اگلی حرکت پر ولی کے دل پر گدگدی ہونے لگی اب اسے اپنے منہ زور جزباتوں کو کنٹرول کرنا مشکل لگنے لگا ۔۔۔۔
وه جھک کر اسکے دونوں گال چھوتی خود ہی شرما کر اسکے سینے میں منہ چھپا گئی ۔۔۔۔۔۔
“بس اتنا سا پیار آیا تھا اپنے ولی پر ۔۔۔ابھی تو کہہ رہی تھی مجھے آپ بہت پیارے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔”
ولی اسے بیڈ پر لیٹاتا اس پر جھک آیا اور وه اسے جاگتا دیکھ پریشان ہوئی ۔۔۔۔
“آپ ۔۔۔آپ جاگ رہے تھے ۔۔۔۔۔اااااپ نے میری سب باتیں سنی ۔۔۔۔ بہت غلط بات ہے یہ اس طرح کسی کی چھپ کر باتیں نہیں سنتے”
وه اپنی خفت مٹاتی اسے گھور کر بولی ۔۔۔۔
“اور چوری چھوپے کسی کو جی بھر کر دیکھتے نہیں ہیں۔۔اور پھر اس کو محبت سے چھوتے بھی نہیں ہیں ۔۔۔اور محبت کا اظہار بھی ایسے نہیں کرتے ۔۔۔۔۔”
وه اسکی غصے بھری ناک کو چھوتا شرارت سے بولا تو وه شرم سے سرخ ہوئی۔۔۔۔
“میں نے آپ کو ایسا کب کہا ؟میں تو اپنے شوہر کو بتا رہی تھی اور دیکھ بھی اسے رہی تھی ۔۔۔”
زویا آنکھوں میں شرارت لیے اسکے بالوں کو کھینچا تو وه اسکی چالاکی پر اسے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔
“اچھا اب پھر دیکھو میں کیا کرتا ہوں ۔۔۔۔”
وه کہتا اسکے ہاتھوں کو بیڈ کے ساتھ لگاتا گردن پر جھک آیا تو وہ ایک دم پھڑپھڑآئی ۔۔۔۔۔
“ولی پلیز ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔سب باہر کھانے پر ویٹ کر ریے ہیں پیچھے ہٹیں ۔۔۔۔۔بہت ٹائم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔”
وه اسے رات والی جسارتوں پر اترتا دیکھ جلدی سے منمنائی تو وه ایک بھرپور جسارت کرتا پچھے ہٹا زویا نے جلدی سے بیڈ سے چھلانگ لگائی جس پر ولی مسکرایا ۔۔۔۔۔۔۔
“بے شرم انسان ۔۔۔۔۔۔شرم ہی نہیں آتی انکو تو میں نے ایسے تھوڑی نہ کیا تھا ۔۔۔۔۔”
وه بڑبڑاتی ہوئی اپنے كپڑے نکالنے لگی اسکی بڑبڑاہٹ پر ولی کو شرارت سوجھی۔
“اب ہارٹ بیٹ تم ٹھیہری بچی ۔۔۔۔میں تو نہیں ہوں نہ ۔۔۔میں ولی برہان ملک ہوں ۔۔۔ہر کام اپنے حساب سے کرتا ہوں ۔۔۔۔یہاں میرے قریب آؤ پھر تمہیں بھی سکھاتا ہوں تب شائد تمہارا شکواہ ختم ہو جائے”
وه اسکی بات سن کر شرم سے دوھری ہوتی جلدی سے واشروم بھاگی جس پر ولی کا قہقہ پورے کمرے میں گونجا ۔۔۔۔۔
“اففف ولی اٹھ بھی جائیں ۔۔۔”
وه پنک فراک اور کیپری میں بالوں کو ٹاول میں قید کیے جیسے ہی باہر نکلی ولی کو ایسے ہی بیڈ پر لیٹے دیکھ کر جھنجھلائی کچھ دیر پہلے والے شرم کے تاثر کہیں جا سوئے تھے ۔۔۔
اسکی جھنجھلائی آواز پر اٹھ کر اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا تو زویا اپنا رخ بدل گئی دل کی دھڑکنیں تیز رفتار سے بھاگنے لگی تھی وه ولی کو اپنے رنگ میں رنگی اسکی قربت سے نکھری نکھری لگی وه اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیتا اٹھ کر اسکے پاس آیا اور بلکل اسکے پچھے کھڑا ہوا اور ہاتھ بڑھا کر بالوں کو ٹاول سے آزاد کروایا تو زویا گھبرا گئی اور اسکی سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتی آنکھوں کو سختی سے بند کیا تو وه اس کا اور اپنا عکس میرر میں دیکھا اور اسکی سبز آنکھوں کو بند ہوتا اور اسکی لرزش پر مسکرا کر اسکا رخ اپنی طرف کیا اور پھر اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے زویا نے مسکرا کر آنکھیں کھولی تو وه سائیڈ دراز سے کوئی مخلی ڈبی نکالے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
“یہ کیا ہے ولی۔۔۔۔۔ “
وه تجسس لیے پوچھنے لگی۔۔۔
“تم بھول رہی ہو رات کو تم مجھ سے منہ دکھائی مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔”
ولی اسکی خوبصورت سبز آنکھوں پر لب رکھتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔۔
“سچ ولی یہ میری منہ دکھائی ہے ۔۔۔دیں مجھے میں دیکھؤں ۔۔۔”
وه ولی کے ہاتھ سے وه ڈبی لیتی خوشی سے چہکی تو ولی مسکراتا ہوا اسے لا کے بیڈ پر بیٹھایا اور خود اسکے پاؤں میں بیٹھا تو وہ حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
اور اسکے پاؤں اپنے گھٹنوں پر رکھے وہ گھبراتی اپنے پاؤں پچھے کھینچنے لگی تو ولی نے اسے گھورا جس پر وہ بغیر مزاحمت کے اسکی کاروائی دیکھنے لگی جو ڈبی کو کھولتا اس میں سے خوبصورت پائلیں نکالی اور اسکے پاؤں میں پہنانے لگا ان خوبصورت پائلوں کو دیکھ کر زویا کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی بچپن سے اسے پائلوں کا بہت شوق تھا
“ہائے ولی یہ تو بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔تھینک یو سو مچ پیارے سے ولی میں بہت خوش ہوں میں جاناں لوگوں کو دکھاؤں گی ۔۔۔”
وه خوش ہوتی ولی کا گال چوم گئی جس پر ولی مسكرايا تھا ۔
“چلو آب تم یہاں میرا انتظار کرو میں فریش ہو کر اتا ہوں پھر ساتھ چلیں گے ۔۔”
ولی اسکا ماتھا چھوتا کپڑے لیتا واشروم میں بند ہو گیا اور پچھے زویا پائلوں کو چھو کر دیکھنے لگی آیا یہ اصلی ہیں میں کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی افف ولی کی معصوم ہارٹ بیٹ ۔۔۔۔۔
اٹھ بھی جائیں شاز کب سے اٹھا رہی ہوں ۔۔۔میں تیار ہو چکی ہوں پلیز اٹھ جائیں ۔۔۔۔”
وه اس کے پاس بیٹھ کر اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلاتی اٹھانے کوشش کرنے لگی جو کافی دیر سے اٹھی ہوئی تھی اب تو بلکل تیار تھی وه جب صبح اٹھی تھی تو اسے اس کی منہ دکھائی مل گئی تھی کیوں کہ رات کو ہی نجانے کب شازل نے خوبصورت پینڈینٹ اسکو پہنا دیا تھا جاناں کو بہت پسند آیا تھا مگر ایک شاز تھا جو دنیا جہاں سے بیگانہ اسکی طرف چہرہ کیے سویا ہوا تھا مگر جاناں کی مسلسل آواز پر مندی مندی آنکھیں کھولتا اسے دیکھنے لگا جو ریڈ فراک پہنے لائٹ میك اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی اسے دیکھ کر شازل کے مسکراہٹ آئی تو ڈمپلز بھی جاگے تھے تو جاناں جھک کر ان ڈیمپلز کو باری چھوتی اپنے دل کی خواہش پوری کرنے لگی اور پھر سیدھی ہوئی۔۔۔۔
‘تھینک یو جان اتنی پیاری صبح کے لیے اور گزری رات کے لیے ۔۔”
وه اٹھ کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا ہوا بولا تو جاناں شرما گئی اور اسکے سینے میں منہ چھپایا ۔۔۔۔۔
“چلیں جلدی سے اٹھ جائیں پلیز ۔۔۔۔”
وه اسکے گردن میں اپنے ہاتھوں کا حصار بناتی ہوئی پیار سے بولی تو شازل اسے ہگ کرتا اٹھ کھڑا ہوا اور واشروم میں بند ہوا ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وه دونوں تیار ہوئے نیچے آئے شازل بلیک جینز پر بلو ڈریس شرٹ پہنے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا سب مہمان انکو دیکھ کر مسکرائے وه سب کو سلام کرتے اپنے موم ڈیڈ کے پاس گئے اور انسے ڈھیروں دعائیں لی اور پھر ناشتہ کرنے بیٹھ گئے ۔۔۔۔
“زر پچھے ہٹیں تنگ نہیں کریں ۔۔۔سب باہر کھانے پر انتظار کر رہے ہوں گے اور آپ کی مستیاں ختم نہیں ہو رہیں ۔۔۔”
وه دونوں نیچے جانے کو تیار کھڑے تھے دونوں نے وائٹ اور گرے کلر کے کنٹراس میں تھے اور دونوں بہت پیارے لگ رہے تھے دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی نور دروازہ کھولنے ہی لگی تھی جب زرام نے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ سیدھی اسکے سینے سے لگی تو زرام نے اسکی کمر پر دونوں ہاتھ رکھتا اپنے قریب تر کیا اور اسکے کان کے قریب جھکا ۔۔۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو جانم ۔۔۔”
وه اس کی گردن پر جھکتا اپنا لمس چھوڑنے لگا وه خود میں سیمٹی تھی دھڑکنں شور مچانے لگیں تھی وه اسے پچھے کرنے لگی مگر وه اسے مزید قریب کرتا بھرپور جسارت کرتا پچھے ہٹا نور تو سرخ ہوتی لمبے لمبے سانس لیتی اسکے سینے پر سر ٹکایا تو وه اسے سینے سے لگا گیا ۔۔
“تھینک یو جانم میری زندگی میں آنے کے لیے”تمہیں منہ دکھائی تو پسند آئی نہ ؟
وه اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیتا استفسار کرنے لگا تو وه شرم سے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
زرام نے نور کو خوبصورت ڈآئمنڈ کی رنگ دی تھی صبح جب وه اٹھی تھی تو اسکی انگلی میں وه رنگ تھی یقینن رات میں زرام نے اسے پہنائی تھی ۔
پھر نور اپنا میک اپ درست کرتی اسکے سساتھ کمرے سے باہر نکلی وه دونوں نیچے کھانے کی ٹیبل پر آئے تو ولی اور زویا اور باکی گھر والے سب موجود تھے پھر وه دونوں ان سب سے ملتے بیٹھے اور کھانا کھانے لگے نور اور زویا شرمائی گھبرائی گھر والوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
گھر کی شادی تھی کوئی بھی دوسری رسم کر کے ٹائم زاآئع نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے کھانے کے بعد شازل جاناں کو اسفند ہاؤس میں چھوڑ کر خود میرر ہاؤس چلا گیا جہاں ولیمہ ہونا تھا تمام مہمان میران مینشن میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ولی زرام اور ایونٹ ارگناآئزر کی ٹیم میرر ہاؤس میں اسکا انتظار کر رہے تھے کیوں کہ آج بڑی تعداد میں میڈیا کی شمولیت ہونا تھی جس کی ارینجمنٹ شازل نہیں کرنی تھی ۔
زرام کے ذمہ سکیورٹی کی ارینجمنٹ کرنا تھی ایک ایس پی کی حثیت سے وه بہت اچھی اور بہترین طریقے سے یہ ذمہداری سرانجام دے سکتا تھا وه لوگ کسی بھی قسم کا رسک نہیں لینا چاھتے تھے ابھی کچھ دن قبل خان ملک سے فرار ہو چکا تھا بہت کوشش کرنے کے باوجود وه ان کے ہاتھ نہیں لگ سکا تھا غیرقانونی کاموں میں اسکا بہت بڑا نام تھا ملک کے بہت بڑے وحدےداروں کی سپورٹ اسے حاصل تھی جس کی بنا پر وه مجرم ہونے کے باوجود ایک ملک سے کسی دوسرے ملک میں جا چکا تھا ۔
“اسلام و علیکم مما جان اور ماہین بھابی ۔”
جاناں ریڈ فراک زیبتن کیے ،بالوں کو کمر پر کھولا چھوڑے ،لائٹ میک اپ میں ،دوپٹے کو ایک سائیڈ پہ سیٹ کیے،ہاتھوں میں چوڑیاں ، ساتھ ہائی ہیلز پہنے وه بہت خوبصورت لگ رہی تھی اسکی آواز پر دونوں نے اس کی طرف دیکھا ماہین کا اٹھنا مشکل تھا آج کل اسے بہت كمزوری محسوس ہورہی تھی اور آمنہ بیگم اٹھ کر اسکے پاس گئیں ۔۔
جاناں میری بچی کیسی ہو؟ گھر میں سب کیسے ہیں ؟شازل نہیں آیا ؟
آمنہ بیگم اسے گلے لگاتی ایک ہی سانس میں سارے سوال کر ڈالے جس پر وه مسکرائی تھی ۔۔۔
“ارے مماجان اسے بیٹھنے تو دیں ۔۔پھر سب سوال کر لیجیے گا ۔۔”
ماہین جلدی سے بولی تھی تو آمنہ بیگم اسکا ماتھا چومتی وہاں سے چلی گئیں تو وه ماہین کی معنی خیز نظروں سے گھبراتی ان سے گلے میلی اور انکے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھی ۔۔۔۔۔
“افف بھابی ایسے تو نہیں دیکھیں ایسے تو شاز نے بھی کبھی نہیں دیکھا جیسے آپ دیکھ رہی ہیں ۔۔”
وه جھنجھلائی تو ماہین نے قہقہ لگایا ۔۔
“ارے پھر بتاؤ شاز کیسے دیکھتے ہیں ویسے تم پر شازل کی محبت کا بہت اثر ہوا ہے بہت نکھری نکھری لگ رہی ہو ۔۔”
ماہین بھابی ایک بار پھر شرارت سے بولیں تو وه شرم سے سرخ ہوئی ۔۔۔۔
“پلیز بھابی بس کر دیں ۔۔۔”
جاناں نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپایا تھا ۔۔۔
“اچھا یہ بتاؤ۔۔” منہ دکھائی میں کیا ملا ؟
ماہین بھابی کے سوال پر جاناں نے گلے میں پہنے پینڈینٹ کی طرف اشارہ کیا تو ماہین کے منہ سے بےاختیار ماشاءالله نکلا ۔ہارٹ شیپ بنا پینڈینٹ بہت خوبصورت تھا پھر اس میں خوبصورتی سے لکھا ایس جے جو موتییوں سے جڑا ہوا تھا ۔۔۔
“اچھا بھابی۔۔۔ یہ ہماری پٹاخا اور اور معصوم گڑیا نظر نہیں آرہیں ۔۔” اور بابا اور بھائی کہاں ہیں ؟
جاناں لاؤنچ میں اپنی نظریں دوڑاتی انکی غیرموجودگی کی وجہ پوچھنے لگی ۔۔۔
“ہاں وه دونوں اپنے ڈریسز چیک کر رہی ہیں ابھی ولی نے بھیجے ہیں تمہارا بھی وہیں زرام کے روم میں ہے ایک بار چیک کر لینا ۔اور بابا اور فیضی آفس گئے کچھ کام تھا ان کو “
ماہین کے بتانے پر اسنے اثبات میں سر هلايا اور اپنی مما جان کی طرف دیکھا جو ماہین کو جوس دے رہیں تھی اب وه اسکو پکڑاتی اسکے ساتھ بیٹھیں ۔۔
“مما جان میں خود لے لیتی آپ کیوں لے کرآئیں ہیں ۔۔۔”
وه ان سے خفا ہوئی تو انہوں نے اسے ساتھ لگایا
“کوئی بات نہیں میری جان ایسے خفا نہیں ہوتے ۔۔۔”
شاز کیوں نہیں آیا ؟ “اسے اندر آنے کا تو کہتی بیٹا ۔”
آمنہ بیگم کے سوال پر وه اور ماہین مسکرائیں ۔۔۔
“مما جان وه میرر ہاؤس گئے ہیں ولی بھائی اور زرام بھائی ان کا انتظار کر رہے تھے ۔۔”
وه جواب دیتی جوس پینے لگی ۔۔۔ابے میرے پکے سالے یہ ولی مجھے بدلہ بدلہ لگ رها ہمارا ولی ایسے تو نہیں تھا یہ تو کب سے مسکرا رہا ہے مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ۔۔”
لاؤنچ میں رکھے صوفے پر زرام شازل کے ساتھ بیٹھتا ہوا بولا اور اسکی توجہ ولی کی طرف کروائی جو سامنے صوفے پر براجمان تھا نجانے مسکرا کر اپنے موبائل میں کیا دیکھ رہا تھا…
“پہلے تو تو یہ مجھے سالا کہنا بند کر ورنہ میں نے تیرا منہ توڑ دینا ہے ۔۔۔”
شازل نے اسے گھور کر دیکھا جس پر اس نے منہ بنایا ۔۔
اب سالے کو سالا نہیں کہوں گا تو کیا کہوں گا ؟ “تو ہی بتا دے ۔۔۔”
وه معصوم سی شکل بناتا ہوا پوچھنے لگا تو وه اسے دیکھ کر رہ گیا ۔۔۔
“بیٹا مجھے اچھے سے پتا ہے تو مجھے کون سے والا سالا کہتا ہے اس لیے معصوم بننے کی کوشش مت کر ۔۔۔”
شازل اسکا گال تھپتھپاتا ہوا اسے گھور کر کہا ۔۔۔۔۔
“ہائے میری جان کے ٹوٹے تو کتنی اچھی طرح سے واقف ہے مجھ سے صدقے جاؤں ۔۔۔”
وه اسکے دونوں گال چومتا ہوا اسکے گلے لگا ۔۔۔۔
“میں تیری بیوی نہیں ہوں کمینے پچھے ہٹ اور تمیز سے رہا کر ۔۔۔”
شازل اسے پچھے دھکا دیتا ہوا غصے سے بولا تو وہ منہ بنا کر رہ گیا ۔۔۔۔
“اچھا غصہ چھوڑ ولی کو دیکھ یہ آج بہت مسکرا رہا ہے چل اسکو دیکھتے ہیں ۔۔۔یہ ضرور آج کچھ کر رہا ہے ۔۔۔”
زرام نے اسکی متوجہ اسکی طرف کروائی اب تو شازل کو بھی ٹینشن ہونے لگی اس لیے وہ دونوں اٹھ کر اسکے پاس گئے ۔۔۔
“ولی کمینے میرے یار تو اتنا کیوں مسکرا رہا ہے ہمیں بھی بتا ہم بھی مسکرا لیں ۔۔۔”
وه دونوں اسکے دائیں بائیں جانب بیٹھے تو زرام نے اسکے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر پوچھا تو وہ ان دونوں کو دیکھ کر پچھے ٹیک لگا گیا اور موبائل جیب میں رکھا ۔۔۔۔
کیوں میں مسکرا نہیں سکتا ؟”صرف تم لوگ مسکرا سکتے ۔”
وه دونوں کو گھورتا ہوا پوچھنے لگا ۔۔۔
