No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
دیکھو کس قدر بےشرم اور بدکردارلڑکی ہے باہر کوئی اور اسے محبت کا اظہار کر رہا تھااور اب بند کمرے میں اپنے کسی اور عاشق کے ساتھ مزے کر رہی ہے
نہیںییییییں ۔۔۔۔۔۔۔
ناجانے رات کا کون سا پہر تھا وه چیخ مارتی اٹھ بیٹھی اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرنے لگی جو ڈر کی وجہ سے پسینے سے شرابور ہو گیا تھا وه کامپ رہی تھی رو رہی تھی ۔۔۔۔سینے میں درد اٹھ رہا تھا سانس پھول رہی تھی جیسے پتا نہیں کتنا سفر طے کر کے آئی ہو
میں بدکردار نہیں ہوں میں نے کچھ نہیں کیا کچھ بھی نہیں کیوں مجھے اس چیز کی سزا مل رہی ہے جو میں نے کی ہی نہیں اور وه بھی ناراض ہوکے چلے گئے ایک بار بھی مڑ کے نہیں دیکھا ____
یا اللّه میرے ساتھ ہی کیوں میں نے تو آج تک کسی کا دل نہیں دکھایا میرے مالک میری مدد فرما
وه روتے ہوئے اپنے بال نوچنے لگی_
یا اللّه میرا دل درد سے پھٹ رہا ہے میں کیا کروں مجھے سکون آ جائے
(جب تمہیں لگے تمہارا کوئی نہیں تو اللّه کو یاد کر لیا کرو اور جب تمہیں لگے تم تکلیف میں ہو تو سجدہ ریز ہو گیا کرو بیشک تمہارا خدا ہر چیز سے واقف ہے )
اسکے ذہن میں آج کی پڑھی ہوئی تحریر گونجی تھی
دکھتے سر اور دھڑکتے دل کے ساتھ وه بیڈ سے اٹھی تھی کمرے میں زیرو لائٹ جل رہی تھی ۔۔۔
لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وه واش روم گئی اور وضو کر کے باہر آئی_
الماری سے اپنی سفید بڑی چادر نکالی اور نماز پڑھنے کے سٹائل میں اوڑھی پھر چلتی ہوئی کمرے میں رکھی میز کے قریب گئی اور اس کے دراز سے جائے نماز نکال کے فرش پہ بیچھائی اور نفل ادا کرنے لگی
نفل ادا کرتے ہوئے اسکی آنکھوں سے مسلسل آنسوں جاری تھے جو چہرے کو بھگو رہے تھے_
یا اللّه مجھے سکون بخش دیں مجھے کہیں چین نہیں ہے آپ تو ہر ایک کے دل کے راز جانتے ہیں میرا حال آپ جانتے ہیں اللّه جی میں تیری گنہگار بندی ہوں میرے دل سے وه گزرے ہوئے تکلیف ده سالوں کے خیالات کو نکال دیں ۔ مجھے اس بیماری سے نجات دلا دیں میرے مالک۔ مجھے راحت بخش دیں
میرے مالک مجھے خود سے نفرت ہوتی ہے میں نے اپنے مما بابا کا یقین توڑا اپنے بھائی کا یقین توڑا ۔۔۔۔۔۔جب انکو پتا چلا تو ۔۔۔۔۔اس کے آگے مجھ سے سوچا نہیں جاتا میں کیا کروں ایسا کہ میں سکون سے ہمیشہ کے لیے سو جاؤں ۔۔۔۔۔
وه روتے ہوئے دعا مانگتی وہیں جائے نماز پہ سو گئی___
ماہین بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ بیگم کیچن میں داخل ہوتے ہوئیں بولیں جو ھلکے بھورے رنگ کے سادہ سے سوٹ میں ملبوس تھیں _ جی امی ۔۔۔۔۔۔۔ ماہین کیچن میں ملازموں کو دوپہر کے کھانے کی ہدایت دیتی انکی جناب متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا جاؤ جاناں کو اٹھا آؤ پتا نہیں آج اتنی دیر ہو گئی ہے وه ابھی تک نہیں اٹھی ورنہ تو اس ٹائم وه اپنے آفس ہوتی ہے اسکے بھائی اور بابا تو کب کے چلے گئے ہیں
اوہو امی آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں میں ابھی اٹھاتی ہوں اسکو۔۔۔۔۔۔۔
ماہین انکو وہاں کیچن میں رکھی کرسی پہ بیٹھاتی ہوئی خود کیچن سے باہر چلی گئی
وه دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی تو اندهیرے نے اسکا استقبال کیا
سر نفی میں ہلاتے ہوئے سویچ بٹنوں کو دبایا تو کمرہ روشنی سے نہا گیا_
بلیک، وائٹ اور گرے كلر سے سجا کمرہ وائٹ کلر کی دیواریں ، بلیک اور گرے کلر کے کنٹراس کے پردے اور فرش پہ بلیک کلر کا بیچھا کارپٹ، جو یہاں رهنے والے شخص کی تنہائی اور خاموشی کو بیان کر رہا تھا _ جونہی ماہین نے سامنے دیکھا تو خالی بیڈ کو دیکھتے اسنے پورے کمرے میں نظریں دوڑائیں تو بیڈ کے دائیں جانب وه اسے جائے نماز پہ بے سود لیٹی نظر آئی
وه ڈور کر اس کے پاس گئی اور نیچے بیٹھ کر اسکا سر اپنی گود میں رکھا
چندہ اٹھو کیا ہوا ۔۔۔۔
وہ اسکے گالوں کو چھوتی بولی
افف میرے خدایا کتنا تیز بخار ہے ۔۔۔۔۔۔۔
چندہ میری جان اٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین جاناں کو اٹھنے کا کہنے لگی
بھاااا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں میری جان ہمت کرو اٹھو بیڈ پہ چلو ۔۔۔۔
وه جاناں کو اٹھاتی بیڈ پہ لے کر آئی اسے لٹاتے خود بھاگ کے نیچے گئی کیونکہ جاناں اور زرام اسفند ملک کا کمرہ اوپر تھا باکی سب کے نیچے تھے
امی۔۔۔۔۔۔امی
وه سیڑھیاں اترتی آمنہ بیگم کو آوازیں دینے لگی جو کیچن سے نکل رہی تھیں
کیا ہوا ہے ماہین وه اسکی طرف متوجہ ہوتی بولیں امی وه جاناں کو بہت تیز بخار ہے اور اسے ہوش نہیں آ رہا آپ زرام کو کال کریں وه کہتے بھاگ کر کیچن سے ٹھنڈا پانی لے کے روم میں گئی_
کیا کروں اس لڑکی کا کیوں ایسی ہو گئی ہے ہر وقت کچھ سوچتی رہتی ہے
آمنہ بیگم پریشان ہوتیں لاؤنچ میں گئیں تاکہ زرام کو فون کر سکیں
افف یار جگر کب اے گا تو آ بھی جا میں انتظار کر کر کے تھک گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرام ایئر پورٹ پر ادھر ادھر ٹہلتا منہ میں بڑبڑایا
جب اسے سامنے سے مغرور چال چلتا بلیو جینز ،اور سکن ٹی شرٹ کے ساتھ براؤن بوٹ پہنے ساتھ ہی بلیک لونگ ہڈ چہرے پہ گیرائے ، بلیک اور گرے کلر کے رومال سے چہرے کو کور کیے اور آنکھوں پہ سن گلاسیز لگائے وه اسے اپنے پاس آتا دکھائی دیا اور آتے ہی اسنے زرام کو ٹآئٹلی ہگ
کیا ___
اففف شازل کتنا انتظار کروایا ہے تم نے مجھے ۔۔۔۔۔
زرام بھی اسے ہگ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
میری جان ناراض کیوں ہو رہا ہے فلائٹ لیٹ ہو گئی تھی ۔۔۔۔
وه زرام سے الگ ہوتا ہوا بولا
بس کر تو مجھے انتظار کروانا چاہتا تھا
وه دونوں باتیں کرتے ہوئے پارکنگ ایریا میں آگئے_ اچھا یار زرام جلدی چل سب لوگ اکھٹے ہو جائیں گے سب فینز سے چھپ چھپا کے آیا ہوں
شازل ادھر اودھر دیکھتا ہوا بولا
اچھا چل ۔۔۔۔
زرام نے کہتے ہی ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی اور شازل فرنٹ سیٹ پہ آکے بیٹھا
گاڑی سٹارٹ کرتے وه لوگ روڈ پہ نکل آئے______
یار زرام تیرا فون بج رہا ہے
شازل ڈیش بورڑ پہ بجتے فون کو دیکھتے ہوا کہنے لگا
تو اٹھا لے
زرام سڑک پہ نظریں مرکوز کیے مصروف سا بولا ۔۔
یار میں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا اٹھاتا ہوں
کچھ سوچتے ہوئے اسنے فون اٹھایا ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔۔
بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹا وه جلدی گھر آؤ جاناں کو بہت تیز بخار ہے اسے ہوش نہیں آرہا اور ڈاکٹر کو ساتھ لیتے آنا آمنہ بیگم روتے ہوئے کہنے لگی اور کچھ سنے بغیر کال کاٹ گئیں
اہ میرے خدایا یہ لڑکی آج بھی ٹھیک نہیں ہوئی ۔۔۔
شازل فون واپس رکھتا ہوا بولا
کیوں کیا ہوا شاز کس کا فون تھا
زرام نے پریشانی سے اسکی طرف دیکھا _ وه ممانی جان کا فون تھا رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں جاناں کو بہت تیز بخار ہے اسے ہوش نہیں آرہا اور کہتی ڈاکٹر کو لیتے آؤ ۔۔۔ اہ میرے مولا یہ ۔۔۔یہ پھر سے کسی ٹینشن میں تھی ۔۔۔۔۔ زرام اپنے بالوں میں پریشانی سے ہاتھ پھیرتا ہوا بولا یار زرام یار پینک ہونے کی ضرورت نہیں ہے جلدی سے ڈاکٹر کو لیتے ہیں پھر گھر چلتے ہیں ۔۔ شازل نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔ مگر تم کیسے Don’t worry میں اپنے چہرے کو رومال سے کور کر لیتا ہوں شازل نے کہا تو زرام نے گاڑی کی سپیڈ تیز کر دی وه لوگ ڈاکٹر کو لیتے ہوئے گھر پہنچے ۔۔۔۔ شکر ہے بیٹا تم آگے آمنہ بیگم سیڑھیاں اترتی ہوئی بولیں تو زرام ڈاکٹر کو لیتے جاناں کے کمرے میں چلا گیا__
ارے شازل بیٹا آپ کب آئے اور کیسے ہو
شازل کو لاؤنچ میں داخل ہوتے دیکھکر حیرت سے بولیں
ممانی جان ابھی آیا ہوں زرام کے ساتھ
وه چلتے ہوئے انکے پاس آیا
اللّه کا لاکھ لاکھ شکر ہے تم واپس آ گئے
وهخوش ہوتیں شازل کا ماتھا چومتی اللّه کا شکر ادا کرنے لگیں __________
بخار کا زور ٹوٹ گیا ہے انہوں نے پھر سے کوئی ٹینشن لی ہے جس کی وجہ سے انکو ہوش نہیں آرہا ۔۔۔۔باکی ٹینشن کی کوئی بات نہیں ہے یہ میڈیسن لکھ دی ہی یہ لے آئیں اور ان کو ٹائم پہ دیں
ڈاکٹر چیکاپ کرتا ہوا زرام سے بولا جو وہیں بیڈ کے قریب کھڑا تھا اور ماہین اسکے سرہانے بیٹھی اسکی پٹیاں کر رہی تھی ۔
جی ڈاکٹر ۔۔۔۔
یہ کہتے زرام ڈاکٹر کو لیے باہر چلا گیا _
واپس آیا تو اس کے ساتھ آمنہ بیگم اور شازل بھی تھے اور شازل کو دیکھ کر ماہین بھابی بہت حیران ہوئیں اور پھر دل میں خوش بھی ہوئیں کہ شکر ہے واپس آگیا
شازل نے جیسے ہی قدم کمرے میں رکھا وه حیران ہی تو رہ گیا اور کمرے کا جائزہ لینے لگا
جس لڑکی کو رنگوں سے عشق تھا جس کے کمرے میں بےتحشا رنگ پائے جاتے تھے اب وہاں صرف بلیک ،وائٹ اور گرے رنگ رہ گئے تھے تو مطلب اسکی زندگی میں بھی یہی رنگ رہ گئے تھے یہ سوچ آتے ہی شازل نے سامنے بیڈ کی جانب دیکھا جہاں اسکے کالے گہرے بال کسی آبشار کی طرح تكیوں پہ پھیلے ہوئے تھے گورا رنگ جو اب زرد پڑ رہا تھا گلابی بھرے بھرے لب ،معصوم چھوٹی سی ناک جس میں نوز پن پہنی ہوئی تھی، کالی آنکھیں جو ابھی بند تھی
کتنی معصومیت تھی اسکے چہرے پہ
آج 5 سال بعد بھی وه اسے اتنی ہی خوبصورت لگی جتنی پہلے تھی
بھابی ۔۔۔۔۔۔۔۔وه ہوش میں آتی ماہین کو پکارنے لگی
جی چندا اٹھو میری جان ۔۔۔۔
اسکو ہوش میں آتا دیکھ آمنہ بیگم اسکے سرہانے کے دائیں جانب بیٹھیں کیوں کہ بائیں جانب ماہین بھابی بیٹھی ہوئیں تھیں
اٹھو چندا کیا ہوا ہے ہوش کرو
آمنہ بیگم اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے جاناں کو اٹھانے لگی جو آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتی اور بند کر جاتی
مما جان ۔۔۔
کہتے اسنے آنکھیں کھول دی اور سب کو دیکھنے لگی پھر زرام کے ساتھ کھڑے شخص کو دیکھ کر جاناں نے ناک چڑہائی تھی ۔۔۔اور اسکے ناک چڑہانے پر شازل دل و جان سے مسكرايا تھا اور اسکے مسکرانے پر اسکے دونوں گالوں پر ڈمپل نمودار ہوئے تھے جس کی ناجانے کتنے ہی اسکے فینز دیوانے تھے جو اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بےتاب رہے تھے کہ کب شازل میران ملک مسکرآئے اور وه ان خوبصورت گڑھوں کو دیکھیں
گڑیا یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے کس چیز کی ٹینشن لی تھی جو اتنا تیز بخار ہو گیا
زرام اسکے پاؤں والی سائیڈ پہ بیٹھتے ہوئے جاناں سے پوچھنے لگا کچھ نہیں ہوا بھائی بس ایسے ہی بخار ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ وه نظریں چراتے ہوئی کہنے لگی اور اسکا یوں نظریں چراناں شازل نے بہت غور سے دیکھا تھا ۔ میں کچھ دیر کے لیے اکیلے رہنا چاہتی ہوں پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاناں ماتھے پہ بل لائے غصے سے کہنے لگی__
اور اسکا یہ انداز شازل کو ذرا پسند نہیں آیا تھا
اوکے ممانی جان میں گھر جا رہا ہوں سب ویٹ کر رہے ہوں گے
وه ماہین سے مل کر چلتا ہوا آمنہ بیگم کے پاس آیا جو جاناں کے سرہانے بیٹھی تھیں
اہ سوری شازل بیٹا ہم نے تمہیں کھانے کا نہیں پوچھا نہ ہی کوئی اچھا سا استقبال کیا ۔۔۔۔۔۔
ارے رهنے دیں مما جان ان کا استقبال حیدر انکل اچھے سے کریں گے ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا
جاناں نے تھوڑا سا اوپر اٹھ کے شوشا چھوڑا تو زرام کا کہکا بلند ہوا
ارے کوئی بات نہیں ممانی جان اب ہمیشہ کے لیے میں یہی ہوں
شازم نے اسکی بات کو نظرانداز کرتا ہوا کہنے لگا
چلو بیٹا ہم شام میں چکر لگائیں گے
وه اسکے ماتھے کو چومتی ہوئیں بولی
چل زرام یار اپنی گاڑی کی چابی مجھے دے دے
شازل اسکے آگے ہاتھ کرتا ہوا بولا
نہیں یار میں تمہیں خود چھوڑ کے آتا ہوں اس طرح اکیلے جانا ٹھیک نہیں کچھ بھی ہو سکتا تمہارے گارڈز بھی نہیں ہیں
اوکے چلو پھر
شازل کہتے باہر چلا گیا تو زرام بھی جاناں کے سر پہ ہاتھ پھیرتا اسکے پیچھے ہو لیا ۔۔
افف اس شخص کا ایٹیٹیوڈ
اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے ہو گا سپر اسٹار واحیات ماڈل اپنے بے حیا فینز کے لیے میرے لئے نہیں ہے ۔۔۔
وه غصے سے ناک چڑہاتی ہوئی بولی
غلط بات ہے بیٹا تم سے بڑا ہے اور اسکے غصے کا تو پتا ہے تمہیں پھر کیوں اسکو ایسے کہا ۔۔۔۔
ہاں مما جان آپ مجھے ڈانٹ لیں ۔۔۔۔
وه روتے ہوئے کہنے لگی
افف لڑکی میں نے کب ڈانٹا ۔۔۔
آمنہ بیگم اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولیں
سہی کہہ رہی ہیں امی ہماری چندا کو کوئی نہیں ڈانٹ رہا
ماہین بھابی اسکے بالوں کو سمیٹتی کہنے لگی
کچھ دیر یونہی باتیں کرتی رہیں جب وه ٹھیک ہو گئی تو اسے ریسٹ کرنے کا کہتیں لائٹ آف کرتی باہر آگئیں
یہ یہاں میڈیا کیا کر رہا ہے پکا کسی نے انفارم کیا ہو گا اپنے مینشن کے باہر اتنے سارے میڈیا کے لوگوں کو کھڑا دیکھ کر دھاڑا ریلیکس یار میرے خیال سے یہ بیغیرتی ایک ہی شخص کر سکتا بے
زرام کچھ سوچتے ہوئے بولا
اس سالے کو کس نے بتایا اور اسے آج بھی سکون نہیں ہے
شازل نے ماتھے پہ بل لاتے ہوئے کہا
اسے سکؤن ہو یہ دنیا کی کسی ڈیکشنری میں نہیں لکھا ہوا
زرام نے اپنی بات پہکہکا لگایا
اور تو شائد بھول رہا ہے وه ولی برہان ملک ہے مشہور ومعروف بزنس مین اور اس کے لیے مشکل کام نہیں ہے یہ پتا لگوانا کہ پاکستان اور امریکا کا نمبر ون ہاٹ ماڈل پاکستان کب واپس آرہا ہے
اپنی آخری بات پہ شازل کو آنکھ مارتا ہوا بولا
جس پہ شازل نے اس کے سینے پہ مکا مارا
یار سہی تو کہہ رہا ہوں ابھی تو میران انکل تجھے بتائیں گے جب وه تیری شکل اور تیری ماڈلانگ کی تصویریں ٹی وی پہ دیکھیں گے جہاں تو شرٹ لیس اپنی باڈی کے پارٹ دکھاتا ہوا نظر آئے گا
یار یہ دیکھ میرے جوڑے ہوئے ہاتھ ایک بار میں ڈیڈ سے مل لوں پھر تم سے اور ولی بیغرت سے نبٹوں گا
زرام کو اپنے لیے اتنا برا نقشہ بناتے دیکھ وه جلدی سے بولا تھا کہیں سچ میں ایسا نہ ہو جائے
جا معاف کیا تجھے تو بھی کیا یاد رکھے گا تیرا کس سخی سے پالا پڑا ہے
زرام اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتا ہوا بولا
یہ غلام ہمیشہ آپ کا شکر گزار رہے گا_
شازل نے اپنے سر کو جھکاتے ہوئے کہا تو زرام نے اپنے کالر کو فخریا انداز میں هلايا
اچھا یار ان سے کون نیبٹے گا میں بہت تھکا ہوا ہوں
شازل ماتھا مسلتا ہوا بولا
کچھ نہیں ہوتا شاز بات کر لے ان سے تھوڑی دیر کی تو بات ہے پھر چلے جائیں گے یہ لوگ
تو پاگل تو نہیں ہو گیا یہ لوگ پورا ایک گھنٹہ ضآئع کریں گے میرا جو ابھی تو میں بلکل افورڈ نہیں کر سکتا
تو پھر زرام شازل کی طرف مڑا ایسا کر تو گاڑی مینشن کی بیک سائیڈ پہ لے چل شازل کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگا
تو شازل گاڑی کو ریورس لیتا بیک سائیڈ پہ لے گیا
اب کیا کرنا
وہاں پہنچ کر زرام نے پوچھا
چیک کر دروازہ کھولا ہے یا نہیں
شازل دروازے کو دیکھتا ہوا بولا
زرام اسکی بات سنتے باہر نکلا اور ابھی ایک قدم ہی لیا تھا کہ واپس اسکی طرف مڑا_ Wait a moment میں تیرا نوکر نہیں ہوں جو تو مجھے کب سے آرڈر دے رہا ہے_
I’m SP Zram Asfand Malik
جس کو تونے اپنا نوکر سمجھ لیا ہے جو آج اپنا اہم کیس چھوڑ کر تجھے پک اینڈ ڈراپ کر رہا ہے
زرام ماتھے پہ بل لاتے ہوئے بولا
تو شازل نے اس کی طرف دیکھا
پولیس یونیفارم میں بھورے بال ماتھے پہ گرائے ہوئے نیلی آنکھیں اور بھوری ہلکی داڑھی ، انابی لب لمبا چوڑا قد ،مغرور کھڑی ناک ، وه ایک خوبصورت مرد تھا جو کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑ سکتا تھا
ما شاء اللّه
شازل دل میں کہتا مسكرايا اور پھر
اہ بھائی معاف کر مجھے آج کے لیے آئندہ تجھے نہیں کہتا
شازل اسکے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا
اچھا صبر کر
اسکے ایسے کرنے پر زرام دروازے کو چیک کرتا فون نکالنے لگا اور شازل کو بھی اشارہ کیا کہ بند ہے______
یا اللّه یہ زرام بھائی مجھے کال کیوں کر رہے ہیں_ وه جو زویا کے ساتھ باتیں کرنے میں مگن تھی اپنے فون پہ آتی زرام کی کال پہ رونے جیسی شکل بناتے ہوئی بولی
افف نور زرام بھائی سے اتنا کیوں ڈرتی ہو کھا نہیں جائیں گے تمہیں ویسے ہمیں تو کاٹ کھانے کو ڈورتی ہو اب ادھر دو مجھے
جی بھائی
وه اس سے فون لیتی ہوئی لاؤڈ سپیکر پہ کرتی ہوئی بولی
زویا گڑیا وه نور میڈ م کہاں ہیں میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھی
زرام کی بھاری دلکش آواز سپیکر پہ گونجی
اھم زویا کو گڑیا اور مجھے میڈم
نور منہ بناتی ہوئی بولی
وه بھائی وہ کیچن میں ہے کچھ بنانے کی کوشش کر رہی ہے
وه اپنی ہنسی کنٹرول کرتی ہوئی بولی
اسکی بات پر زارم کا کہکا گونجا_
بنا ہی نہ لیں میڈم_ افف سڑیل انسان آج کیوں ہنس رہے ہیں پہلے تو کبھی نہیں هنسے نور موبائل کو گھورتی ہوئی بولی جیسے فون نہ ہو سامنے زرام اسفند ملک ہو _
اچھا گڑیا تم ایسا کرو پچھلا دروازا کھولو میں باہر کھڑا ہوں_
“مگر بھائی ۔۔۔۔۔”
وه بول ہی رہی تھی کہ فون کٹ گیا
بھائی بھی نہ
کہتے ہی وه اٹھی اور وہاں پہنچ کر دروازہ کھولا اور دروازہ کھولنے کی دیر تھی کہ اسکی چیخ نکلی
“بھائی آپ آ گے۔”
زویا اسکے گلے لگتی ہوئی بولی
جی بھائی کی جان آ گیا ہوں
شازل اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتا ہوا بولا
مگر آپ نے تو بتایا تک نہیں
بس بس گڑیا اپنے بھائی کو اندر لے جاؤ باکی اندر جا کے پوچھ لینا
شازل کی بجائے زرام جلدی سے بولا تو شازم نے اسے گھورا_
زویا پیچھے ہٹی تو وه اندر آیا
بھائی آپ بھی آجائیں نہ
وه اسے باہر کھڑا دیکھ کر اندر آنے کا کہنے لگی
جانے دو زوی اسے آویں گھر میں رش ہو جائے گا
شازل زویا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا
تو زرام نے اسکی کمر پہ مکا جڑا
اہ ظالم پولیس والے کمر توڑ دی میری
ابھی کہاں ٹوٹی ہے ابھی تو میران انکل توڑیں گے
زرام کہکا لگاتا شازل کا مذاق اڑانے لگا
بکواس نہ کر
شازل منہ بناتے ہوئے بولا
اوکے یار میں چلتا ہوں وه شازل کے گلے لگتا ہوا کہنے لگا ہمم زویا گڑیا پھوپو کو میرا سلام کہنا
جی بھائی
وه زویا کے سر پہ ہاتھ رکھتا ہوا چلا گیا_
شازل میران ملک اور زویا سیڑھیاں اترتے مینشن میں داخل ہوئے جہاں نور بقول( زرام اسفند ملک) کے میڈم سوفے پہ بیٹھی اپنے موبائل میں ناولز پڑھنے میں مگن تھی جس کو دیکھتا شازل نے سر نفی میں هلايا
ناولوں کی ملکہ
اور سامنے سوفے پہ صوفیہ بیگم نفیس سی ساڑھی زیب تن کیے حیرت سے ایل سی ڈی پہ چلتی خبر سن رہی تھیں
جہاں دکھایا جا رہا تھا میڈیا میران ملک مینشن کے باہر کھڑی دنیا کے جانے مانے اور امریکہ کے نمبر ون ماڈل شازل میران ملک کا انتظار کر رہی ہے _
یار ذویا ڈول یہ لوگ تو اپنے کاموں میں مگن ہیں کیوں نہ میں واپس چلا جاؤں لگتا ہے یہاں میری ضرورت نہیں ہے
شازل زویا کے کان کے پاس جھکتا آہستہ آواز میں رائے مانگنے لگا تو زویا کو اس بات پہ تپ ہی چڑھ گئی
خبردار اگر آپ نے دوبارہ واپس جانے کی بات کی تو میں بھول جاؤں گی کہ آپ میرے بڑے بھائی ہیں اور آپ کی دنیا میں کوئی ریپوٹیشن ہے
زویا اتنی زور سے چیخی کی شازل کو تو کچھ نہیں ہوا مگر نور میڈم کا فون فرش پہ جا گرا اور خود جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی مگر اب چیخنے کی باری نور کی تھی_ جانوووووووو بھائی اس کی چیخ پر شازل نے اپنے کان میں انگلیاں دی تھی اور اسکی موم آنکھوں میں آنسوں لیے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں جس کو انہوں نے ناجانے کتنا یاد کیا تھا مگر اس نے کبھی پلٹ کر نہ دیکھا ان 5 سالوں میں وه کتنا مشہور ہو گیا تھا ہر طرف اسی کے چرچے تھے وه تھا ہی اتنا خوبصورت کہ ہر کوئی اس کا دیوانہ بن جاتا تھا _
بلو جینز کے ساتھ براؤن ٹی شرٹ ، لونگ ہڈ جو اب سر پہ نہیں تھی اور نہ ہی اس نے اب چہرے کو کور کیا ہوا تھا جس سے اسکی خوبصورتی اب نظر آنے لگی تھی
صاف رنگت ، دونوں گالوں پہ پڑنے والے ڈمپل ،بھاری داڑھی موچھ، لمبے بھورے بال جن کو پیچھے پونی میں قید کیا ہوا تھا، انابی لب ، لمبی ناک ، 6 فٹ سے نکلتا قد، جسامت سے وه کوئی باڈی بلڈر لگتا تھا جس کی وجہ سے وه دنیا کا ہاٹ اور ہینڈسم ماڈل تھا جیسا زرام نے اسکا نقشہ کھینچا تھا وه سچ ہی تو کہہ رہا تھا ناجانے کتنی ہی لڑکیاں پاگل تھیں شازل میران ملک کے لیےاور ہر ایک کی خوائش ہوتی تھی کہ وه دی نمبر ون ہاٹ اینڈ ہینڈسم ماڈل کے گالوں پہ پڑنے والے شریر گڑھوں کو چھوئیں مگر شازل میران ملک دی نمبر ون نے کبھی کسی کو اتنی اجازت نہیں دی تھی کہ وه اس کے اتنا پاس آئیں وه ان گڑھوں پر کسی اور کا حق اور امانت سمجھتا تھا جن کو دیکھ کر کوئی بہت بری طرح ان کو گھورتا تھا _______
Oh My Allah Jii___________
میرے جانو بھائی واپس آگئے
نور بھاگتے ہوئی شازل کے گلے لگی تو شازل نے اسے اٹھا کر گول گول گھومانا شروح کر دیا اور زویا مسکراتی ہوئی اس ناولوں کی ملکہ کو دیکھ رہی تھی جو اپنے بھائی کو جانو کہتی تھی سب اس کے جانو کہنے پر اسے گھورتے تھے مگر اسے کون سا فرق پڑتا تھا وه تو اپنے بھائی کو پیار سے جانو کہتی تھی اور پھر ان کو ہمیشہ ایک جملہ کہہ کے خاموش کروا دیتی
وه ڈائیلاگ تو سنا ہو گا
Small people small soch_______
پھر خود ہی اپنی بات پہ کہکا لگا دیتی کیوں کہ کوئی اور تو اس بات پہ کہکا جو نہیں لگاتا تھا
ارے پوچھیں نہ کیوں
بھئی اس کی اس بات پر سب ناولوں کی ملکہ کو گھورنے لگ جاتے مطلب یہ اب فلمیں بھی نہیں چھوڑتی
وه شازل کے گلے لگی اسکی دونوں گالوں کو چٹا چٹ چوم گئی
سچی جانو بھائی آپ واپس آگئے
یس جانو کی گڑیا میں ہمیشہ کے لیے واپس آ گیا ہوں_ وه اسے نیچے اتارتا کہنے لگا تو شازل اپنی موم کے پاس گیا جو روتی ہوئیں اسے دیکھ کم گھور زیادہ رہیں تھیں اسلام و علیکم موم کیسی ہیں ______
چٹاخ
شازل اپنی موم کو گلے لگانے ہی لگا تھا کہ انہوں نے اسکے منہ پہ تھپڑ مار دیا اور تھپڑ کی آواز اس قدر تیز تھی کہ نور کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے اپنے جانو بھائی کے پڑنے والے تھپڑ کی وجہ سے اور زویا بھاگ کر اپنی موم کے پاس آئی
موم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہہ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ
شازل منہ پہ ہاتھ رکھے بے یقین نظروں سے اپنی ماں کو دیکھنے لگا _ مما جان یہ کیا کیا آپ نے بھائی کو کیوں تھپڑ مارا
زویا اپنی ماں کے بازو کو ہلاتی ہوئی بولی
چپ بلکل چپ زویا اور تم شازل میران ملک دنیا کے ہاٹ اور ہینڈسم ماڈل واہ بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے تم نے تو بہت مشہور ہو گئے ہو نہیں بلکے تم تو دی نمبر ون ماڈل ہو جو اپنی شہرت کے چکر میں اپنے ماں باپ اور بہنوں کو بھول گیا اپنے باپ کے منع کرنے پر امریکہ چلا گیا اور ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا ہم زندہ بھی ہیں یا مر گئے ہیں
وه روتے ہوئیں سوفے پہ ڈھ گئیں کیوں کہ انکا سانس پھولنے لگا تھا اور شازل میران ملک تو ابھی تک صدمے کی حالت میں وہیں جم کے کھڑا تھا اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا اسکی موم نے زندگی میں پہلی بار اسے تھپڑ مارا تھا وه بھی اسکی چھوٹی بہنوں کے سامنے وه جانتا تھا جتنے سال اس نے باہر اپنی دنیا میں گزاریں ہیں جب واپس جائے گا تو سب کا ریاکشن بہت بڑا ہو گا مگر اسے اپنی موم کے اس قسم کے ریاکشن کا بلکل بھی اندازہ نہیں
تھا __
وه موم میری بات
ترنترن وه بولنے ہی لگا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا تو شازل نے غصے سے فون کی طرف دیکھا جہاں اس کے مینیجر کی کال آ رہی تھی یس شاز سپیکینگ سر وه میڈیا کو پتا چل گیا ہے آپ پاکستان پہنچ چکے ہیں انہوں نے بہت مسلہ کیا ہوا ہے آپ پلیز ان سے بات کریں ارمان پریشان سے لہجے میں بولا ارمان ابھی میں ان سے نہیں مل سکتا میرے مینشن کے باہر بھی میڈیا کی فوج کھڑی ہے تم 10 منٹ میں میرے مینشن کے باہر لوگوں سے بات کرو اور ان سے کہوں کل شام 6 بجے کانفرنس میں شاز میران ملک آپ سے بات کریں گے
اوکے سر موڈلینگ کی دنیا میں وه شاز تھا اور اپنی اصلی دنیا میں شازل میران ملک اسے اپنا شارٹ نام پسند تھا جس کی وجہ سے اسنے شاز رکھا تھا موم میری بات سنیں شازل صوفیہ بیگم کے پاؤں میں بیٹھتا ہوا بولا تو نور بھی بھاگ کر اپنے جانو بھائی کے ساتھ آ کر بیٹھی ارے مما جان دیکھیں تو سہی آپ نے دی نمبر ون شاز کو گٹھنوں کے بل بیٹھنے پہ مجبور کر دیا بے جو آج تک کوئی نہ کر سکا
وه اپنی بات کہتی شازل کو آنکھ ماری جو اسے گھور رہا تھا کہ اس بات پہ تو موم اور ناراض ہو جائیں گی اور زویا اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے لیے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی__
تو کس نے کہا ہے دی نمبر ون کو کہ آ کر میرے سامنے گھٹنے ٹیکے اور تم دونوں اپنے بھائی کی سائیڈ مت لو پہلے تو تمہارے بھائی کو تھپڑ مارا ہے اب تم دونوں کے ایک لگاؤں گی _
وه سب کو گھورتے اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی تو نور اپنے جانو بھائی کی طرف مڑی
ارے جانو بھائی چھوڑیں ان کو یہ تو کسی حال میں خوش نہیں ہیں جب آپ نہیں تھے تو روتیں تھی اب آپ آگے ہیں تو ہم سب کو رلا رہی ہیں اور آپ کو مار رہی ہیں چلیں اب آپ واپس جائیں آپ نے ہم سے مل لیا ہم اتنے میں خوش ہیں
آخری بات پہ شازل کو آنکھ ماری تو وہ حیران ہو گیا اس کا یہ پٹاخا بہت تیز ہے وه اسکی بات کو سمجھتا اٹھ کھڑا ہوا اور زویا دونوں کی ایکٹینگ پہ توبہ کرنے لگی
ٹھیک ہے زویا گڑیا اور جانو کی گڑیا میں اب جا رہا ہوں میری تو یہاں ضرورت نہیں ہے مگر میرے امریکن فینز کو میری بہت قدر ہے تو میں ان کے پاس واپس جا رہا ہوں شازل اونچا اونچا بولتا صوفیہ بیگم کو سنانے لگا جو کمرے کے پاس پہنچ گئی تھیں خبر دار شازل میران ملک اگر تم نے اس گھر سے ایک قدم بھی باہر نکالا تو تم اپنی موم کو ہمیشہ کے لیے کھو دو گے وه روتے ہوئیں زور سے چیخی تھیں تو پھر اپنے بیٹے کو سینے سے لگا کر معاف کر دیں میں اب ہمیشہ کے لیے لوٹ آیا ہوں
شازل اپنی موم کے پاس جاتا ہوا بولا تو انہوں نے اسے سینے سے لگا لیا _
میں نے تمہیں بہت یاد کیا تھا شاز تم اپنے ڈیڈ سے ناراض ہو کر ہم سے بھی دور چلے گئے ایک دفع بھی فون کر کے نہیں پوچھا___
سوری موم اگر میں آپ سب سے بات کرتا تو میں کمزور ہو جاتا مجھے دنیا کا بیسٹ ماڈل بننا تھا میں جانتا تھا آپ لوگ فلحال کے لیے ناراض ہیں بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا دیکھیں اب میں واپس آ گیا ہوں_ وه انکو اپنے ساتھ لگاتا ہوا سوفے پہ بیٹھ گیا
دیکھا جانو بھائی میں جانتی تھی یہ مما جان اینویں نکھرے کر رہی ہیں
نور اپنے جانو بھائی کی دوسری سائیڈ پہ آ کر بیٹھی _ بہت ہی کوئی بدتمیز ہو تم وه زرام بیٹا تمہارے ساتھ بلکل سہی کرتا ہے پھر کیسے رونے بیٹھ جاتی ہو
صوفیہ بیگم اسے گھورتی ہوئیں بولیں تو زویا نے کہکا لگایا
اہ مما جان بلکل سہی کہا تب تو ایسے کامپتی ہے جیسے کوئی جن دیکھ لیا ہو
زویا اپنی مما کی سائیڈ پہ بیٹھتی نور کا مذاک اڑانے لگی شازل تو حیران ہو رہا تھا کیا ایسا بھی ہوتا ہے ان کے گھر ____
اھم وه بھورا بلا ،کھڑوس ، سڑا ہوا کڑوا زہریلا ناگ جب بھی بولتے ہیں منہ سے زہر اور غصہ نما اور آگ کی طرح شولے نکالتے ہیں جیسے میں تو ان کی مجرم ہوں ہر وقت گھورتے رهتے ہیں اور کہتے کیسے ہیں_ تم نور میڈم کوئی مینرز ہوتے ہیں نہ تو تمہیں کھانا آتا ہے اور نہ تمہیں پكانا خیر پكانا کیسے آئے گا جب کھانا ہی نہیں آتا اور اپنا دوپٹا دیکھو جو فرش کو سلامی دے رہا ہے تم لڑکی ہو اور لڑکی کی حفاظت اس کا دوپٹا کرتا ہے اور آیندہ تم مجھے ایسے نظر آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا____
وه زرام کے سٹائل میں کھڑی ہوتی ہوئی اسکی نقل اتارنے لگی جس پر شازل کا روکا ہوا کہکا بلند ہوا اور ساتھ زویا اور صوفیہ بیگم کا جو اپنی چھوٹی سی خوبصورت بیٹی کی دل ہی دل میں نظر اتار رہیں تھی_ جو انتہا کی خوبصورت تھی گورا رنگ ، بڑی بڑی هیزل گرین آئیز ، لمبی خوبصورت ناک ، خوبصورت گلابی ہونٹ، لمبے بال جو کمر تک آتے تھے جن کو لیرز کی شکل دی گئی تھی نہ تو وہ کالے تھے نہ ہی بھورے جو ہر وقت اسکی کمر پہ کھولے رهتے اسے بند کرنے کا شوق نہیں تھا وه کہتی تھی اگر میں نے اپنے بالوں کو پونی میں قید کیا تو ان کے ساتھ زیادتی ہو گی ، مناسب قد ، پٹیالا شلوار قمیض پہنے وه نازک سی نور بہت خوبصورت تھی اور ہر وقت چہرے پر رہنے والی مسكان اسے اور زیادہ خوبصورت بناتی تھی _
اور زویا تو چپکے سے اسکی ریکارڈنگ بنانے میں مصروف تھی
اب ان خشک مزاج آدمی سے پوچھے آپ سے برا دنیا میں ہے کیا ارے مجھے تو ماموں اور ممانی جان پہ ترس آتا ہے اور دکھ بھی
نور شازل کو دیکھتی ہوئی بولی جو اس کی بات کو بہت غور سے سن رہا تھا
کیوں بہی کیوں ترس آتا ہے تمہیں مائی اینجل شازل دلچسپی لیتے ہوئے پوچھنے لگا ارے جانو بھائی وه بھی اللّه جی سے کہتے ہوں گے ہم نے تو آپ سے بیٹا مانگا تھا مگر آپ نے تو زہریلا ناگ دے دیا جس سے ہم بھی ڈرتے ہیں _
وه معصومیت سے کہتے ہوئی افسوس کرنے لگی تو شازل نے اٹھ کر اسے اپنی گود میں اٹھایا تھا اور پھر نور کو گھومانے لگا تو وه کھلکھلا کر ہنس دی
افف مائی اینجل کیوں ہو تم اتنی پیاری
شاز اسکی خوبصورت گالوں کو چومتا ہوا بولا
کیوں کہ میں جانو بھائی کی اینجل ہوں
جانو بھائی نیچے اتاریں مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے یہ زویا کی بچی اپنے فون کے ساتھ کیا کر رہی ہے _ نور کی نظر جیسے ہی زویا پہ پڑی تو اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہونے لگا تو شازل نے بھی اسکی طرف دیکھتے نور کو نیچے اتارا تو زویا بھی بھاگ کر سوفے کے دوسری جانب چلی گئی ___
اب تو بس میں نے زرام بھائی کو سینڈ بھی کر دی اور انہوں نے دیکھ بھی لی وه آنلاین بیٹھے ہیں اب وه تمہیں بتائیں گے وه کون سے والے ناگ ہیں
زویا ہنستی ہوئی اپنا کارنامہ بتانے لگی اور نور میڈم وه تو اس کی بات سنتی نیچے بیٹھ گئی اور رونے لگی
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وه ۔۔۔۔۔۔اب مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔چھوڑیں گے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت غصہ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسا مذاک تھا زویا کی بچی
اچھا ہوا ابھی کیسے کہہ رہی تھی تم ایک ان کے ہاتھ تو آتی ہو تم ورنہ ہمیں تو کچھ سمجھتی نہیں ہو
صوفیہ بیگم اس کی حالت دیکھتی ہںسنے لگیں اور زویا میڈم اسکی تصویریں بنانے لگی_ دیکھو اینجل ذوی تمہاری تصویریں بنا رہی ہے شازل اسے اٹھاتا ہوا زویا کی طرف متوجہ کرنے لگا جو اسکی تصویر بناتی ہوئی مسکرا رہی تھی
رک جاؤ تم زوئی کی بچی تمہاری تصویریں تو میں ولی بھائی کو سینڈ کروں گی پھر دیکھنا وه کیسے ہماری جان تم سے چھڑواتے ہیں
اور یہاں لگی تھی زویا کی ہنسی کو بریک اور اس کے نام پہ دل تھما تھا
تم بدتمیز لڑکی بھائی مما اس کو دیکھ رہے ہیں کتنی بےشرم ہو گئی ہے_
کیوں گڑیا تم اس کمینے ولی کے لیے شرما رہی ہو
شازل بھی اسے تنگ کرنے لگا
ممااا
زویا نے اپنی مما کو پکارا جو شازل کے سر میں انگلیاں چلا رہیں تھی کیوں کہ شازل اب کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا
نہیں کرو شازل میری بیٹی کو تنگ
ہاں ہاں یہ تو اپکی بیٹی ہے میں تو ستیلی ہوں نہ
نور ناک چڑہاتی شازل کے سینے پہ سر رکھ گئی
ارے تم میری بیٹی ہو اس لیے سب تم سے جیلس ہوتے ہیں
شازل اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا کہنے لگا
ہاں میں صرف آپ کی بیٹی ہوں اور آپ کو ایک بات بتاؤ
وه سیدهی ہوتی ہوئی بولی
روکو تم نور تمہاری تو باتیں ختم نہیں ہو رہیں زویا ادھر آؤ میرے ساتھ ہم آج دونوں مل کر شازل کے لیے کھانا تیار کرتے ہیں کتنا عرصہ ہو گیا ہے اسے میرے ہاتھوں کا کھائے ہوئے
صوفیہ بیگم اٹھی اور زویا کو ساتھ لیتیں کیچن میں چلی گئیں_
ہاں اینجل کیا بتا رہی تھی تم
شازل نور کو اپنے پاس بیٹھاتا ہوا بولا جانو بھائی آپ کو پتا ہے جاناں آپی بابا کا سارا آفس سمبھالتی ہیں جب آپ امریکہ چلے گئے تھے تب بابا کے ساتھ انہوں نے کام کرنا سٹارٹ کیا تھا اور سب سے بڑی بات پتا ہے کیا؟؟؟؟؟؟؟ ہاں بولو کیا شازل پہلے تو حیران ہوا پھر تجسس ہوا تو پوچھنے لگا _
وه آپی پورے آفس میں غصیلی میڈم کے نام سے مشہور ہیں اور غصہ تو انکی ناک پہ بیٹھا رہتا ہے سب آفس والے ان سے اس قدر ڈرتے ہیں کہ بچارے کبھی چھوٹی بھی نہیں لے سکے اور کام کام تو ایسے کرتے ہیں کہ جاناں میڈم خوش ہو کر خود ہی چھوٹی دے دیں مگر انکی دیکشنری میں تو چھوٹی ہے ہی نہیں
وه ابھی بات کر رہی تھی کہ شازل بیچ بول پڑا
جھوٹ سرا سر جھوٹ میں مان ہی نہیں سکتا
شازل کھڑا ہوتا ہوا اپنی شرٹ سہی کرنے لگا
کیوں آپ کو جھوٹ کیوں لگا آپ تو آج آئے ہیں کیوں کہ میری اینجل آج وه چھوٹی پہ ہے میں پہلے وہاں ہی گیا تھا تو محترمہ بیمار ہوئی پڑی تھیں
کیاا اا
آپی کو کیا ہوا جانو بھائی ،_
وه پریشان ہونے لگی
ارے کچھ نہیں ہوا وه بس بخار تھا اب ٹھیک ہے
وه اسکے گالوں کو کھینچتا ہوا نور کے ماتھے پہ بوسہ دیا
اچھا اینجل میں فریش ہو کر آتا ہوں میرا کمرہ صاف تو ہے نہ
ہاں جانو بھائی مما جان روز سفائی کرواتی ہیں وه بھی اپنی نیگرانی میں
وه اپنے دوپٹے کو فرش سے اٹھاتی ہوئی بولی جو کب سے زمین پر پڑا رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا مجھے اٹھا لو پلیز نور_
