Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ولی نے بھی آج وائٹ سوٹ پہنا تھا وه بھی صرف اسکی ضد پر اسکا کہنا تھا ہم تینو وائٹ پہنیں گے اس لیے ولی نے آج بلیک نہیں پہنا تھا مگر وائٹ کلر میں وه انتہا کا ہینڈسم لگ رہا تھا اور اس پر اسکا غصہ جو اسے اور زیادہ پرکشش بنا رہا تھا سب بڑوں نے رسم کر لی تھی اب سب صوفوں پر بیٹھے تھے اور ان کی حرکتوں پر مسكرا رہے تھے اور فیضان کا تو ہنس ہنس کر برا حال تھا اسکا کہنا تھا اب بتاؤ میں نے کہا تھا نہ شادی خانہ بربادی۔ اب ينگ جنریشن ان کو گھیر کر بیٹھی تھی جن سے بات کرتے وقت سب ہزار بار سوچتے تھے آج ان کو پکڑ کر بیٹھے تھے کہیں یہ لوگ بھاگ نہ جائیں ولی بامشکل اپنے بازوں پر اپنے کزنز کی گرفت برداشت کیے ہوئے تھا ورنہ کسی کی اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی وه سب ولی کے قریب بھی جائیں یہ صرف زرام کی وجہ ہو رها تھا مگر شازل کو صرف ابٹن اور تیل سے الجھن ہو رہی تھی کیوں کہ وه اس کے کندہوں پر ٹپ ٹپ کر رہا تھا ۔اور ان دونوں کی شلواریں بھی زر نے گھٹنوں تک چڑھا دی تھیں ۔
“کیڑے مکوڑے ایس پی۔۔اگر تم نے میرا حال شاز جیسا کیا نہ تو میں تیرا اس سے بھی برا حال کروں گا ۔”
زرام کو اپنی طرف بیٹھتا دیکھ ولی نے دانت پیس کر اسے وارن کیا کیوں کہ اسنے شاز کی حالت دیکھ کر جھرجھری لی تھی مگر سامنے بھی زرام تھا جو اپنے کزنز سے اور تیل منگوا کر بیٹھا تھا۔ اور پھر سے ڈھٹائی سے مسکرایا تو ولی اور شازل جو وہ زہر سے بھی برا لگ رہا تھا ۔
“بیٹا تم دونوں جتنا مرضی مجھ پر چیخ پکار کر لو مگر آج چلے گی تو صرف زرام اسفند ملک کی ۔۔”
وه ولی کے گالوں پر هلدی لگاتا ہوا بولا تو ولی کو اس پر غصہ آنے لگا جو لگا کم مسل زیادہ رہا تھا جس پر ولی کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔اب وه اسکے سر پر تیل گرا رہا تھا جس پر ولی نے اپنی آنکھیں بند کی تھیں کیوں تیل اسکے چہرے پر گر رہا تھا ۔اور پھر اسکی حالت پر سب نے قہقہ لگایا تو ولی کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں جو اسکے غصے کی علامت تھی ۔مگر آج تو کوئی اسکے غصے کو کسی خاطر میں نہیں لا رہے تھے۔
“کمینے اب میری ٹانگوں کو تو بخش دے ۔۔”
اب پھر سے وه شاز کی طرف آیا تھا اور اسکی ٹانگوں پر لگانے لگا تو وه اپنی ٹانگوں کو پچھے کرنے لگا ۔۔
“دیکھ میرے سالے اس سے تیری ٹانگیں نکھر جائیں گی سمجھا کر میری بات کو۔۔”
زرام اسے آنکھ مارتا ہوا بولا توولی اور شاز نے اسکی بیغیرتی پر دانت پیسے تھے اور یہیں پر شاز کی برداشت ختم ہوئی تھی ۔
” تو ایسا کر کہ اسی تیل میں ڈوب کے مر جا ۔۔”
وه اپنے ہاتھ چھڑواتا اٹھ کھڑا ہوا اور ایک سیکنڈ بھی دیر کیے بغیر سیڑھیوں کی جانب بھگا تھا وہیں پچھے سے سب کاقہقہ گونجا تھا اور زرام کندھے اوچکاتا ولی کی طرف مڑا ۔۔
“چلو بھی میرے شیروں تم لوگوں کا کام ختم ہوا ۔۔یہ میرا اسپیشل بندہ ہے اسکو میں خود پروٹوکول دوں گا۔”
کہتے ساتھ ہی اسنے بچا کوچہ تیل ولی کے سر پر انڈیل دیا تو باکی سب اسے چھوڑ کر بھاگے تھے تو ولی بھی اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
“بیٹا جتنا اڑنا ہے اڑ لے تیرا بھی وقت آیے گا ۔۔”
ولی اسے دهمكی دیتا اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا جہاں شازل گیا تھا ۔
“شیر اب اپنی خیر منانا اب جلدی سے جاؤ۔۔۔وہاں سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔۔”
فیضان اسکے پاس آتا ہوا بولا جو ابٹن کی تھال کو کور کر رہا تھا فیضان کی بات پر مسكرايا ۔۔۔
ارے بھائی تب کی تب دیکھیں گے اور پلیز آپ ان دونوں پر نظر رکھنا ۔۔”
وه کہتا ہوا جلدی سے لاؤنچ سے بھاگا تھا کیوں کہ میرر ہاؤس میں سب ابٹن کا انتظار کر رہے تھے ۔اور پچھے فیضان مسکرا کر رہ گیا تھا ۔۔
شام ہو چکی تھی کچھ دیر لان میں مایوں کی رسم ہونا تھا وہاں سویمینگ پول کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور اس سے تھوڑا دور مختلف قسم کے پھولوں اور لائٹوں سے ڈیکوریٹڈ سٹیج بنایا گیا تھا اور اسکو خوبصورت بنانے والا درمیان میں رکھا گیا جھولا تھا جس کو گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا پورا لان ییلو، اؤرنج اور سبز رنگ سے سجا ہوا تھا اور سٹیج کے بلکل سامنے گاؤ تكیے لگائے گئے تھے جہاں درمیان میں ڈهولکی رکھی گئی تھی اور ارد گرد لڑکیاں بیٹھی تھی سویمینگ پول کے پاس میوزک سیسٹم سیٹ کیا گیا تھا اور بڑی عورتوں کے لیے لان میں ہی صوفے سیٹ کیے گئے تھے جن پر وه براجمان تھیں اور ارد گرد بڑی تعداد میں ولی کی خواتین ملازمین سب کچھ سمبھالے ہوئیں تھیں اتنے خوبصورت انتظام پر سب لوگوں کی زبان پر ولی برہان ملک کی تعریفیں تھی جس نے بہت کم ٹائم میں سب کچھ ارینج کر دیا تھا۔ کچھ دیر پہلے ہی دونوں کو لا کر سٹیج کے درمیان میں رکھے جھولے پر بیٹھایا تھا ۔
ییلو کلر کا لہنگا زیبتن کیے ،بالوں کی فرنٹ چوٹیا بنائے ، دوپٹے کو سر پر سیٹ کیے ،ھلکے میك اپ میں ،پھولوں کا زیور پہنے اور دونوں ہاتھووں میں خوبصورت گجرے۔ جاناں اور زویا ایک جیسی تیار ہوئیں نظر لگ جانے کی حد تک بہت خوبصورت لگ رہی تھیں آمنہ بیگم اور صوفیہ نے نجانے کتنی بار انکی نظر اتاری تھی جس پر دونوں مسکرا دیتیں اگر شاز اور ولی ان کو دیکھتے تو یقینن آج ہی ان کو اپنی قید میں کر لیتے۔آج ہر ایک کی نظروں میں ان کے لیے حسرت تھی تو کسی کے زبان پر ماشاءالله تھا ۔
“ارے آمنہ اور صوفیہ رسم کب شروع کرنی ہے 7 تو بجنے والے ہیں بچیاں تھک جائیں گی ۔۔۔”
نسرین آپا نے اپنے ساتھ صوفوں پر بیٹھیں دونوں کو مخاطب کیا جو اپنی خوبصورت بیٹیوں کو محبت سے دیکھ رہی تھیں جو شرمائی گهبرائی بہت خوبصورت پریاں لگ رہی تھیں ۔پھر آپا کی طرف متوجہ ہوئیں ۔۔۔
آپا میں نے ابھی فیضان کو کال کی تھی وه کہہ رہا تھا زرام گھر سے نکل پڑا ہے بس 15 بیس منٹ تک پہنچ جائے گا ولی اور شازل کی رسم ہو گئی ہے وه بس آنے والا ہے ۔۔۔
ان کے جواب پر آپا نے ٹھیک ہے میں سر هلايا اور پھر کچھ ارد گرد کی باتوں میں مگن ہو گئیں ۔۔۔
ویسے آج دولہے بھی یہاں ہوتے نہ تو اپنی حسین دولہنوں کے دیکھ کر آج تم دونوں کی خیر نہیں ہونی تھی ۔۔
جاناں اور زویا کو دیکھ کر ایک کزن شرارت سے بولی تو وہ دونوں شرما گئیں تو سب لڑکیوں نے ہوٹینگ کی ۔
“ہاں جانو بھائی اور زویا کے کھڑوس پرنس نے سب کے سامنے ان دونوں کو اٹھا کر لے جانا تھا۔”
اس کی بات سن کر دونوں کے چہروں پر سرخ لالی بکھری تھی اور دل کی دھڑکنیں تیز رفتار سے چلنے لگی تھیں جاناں اور زویا کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی ییلوں گھیردار فراک زیبتن کیے جس پر گوٹے کا کام کیا گیا تھا ہمرنگ کام دار دوپٹا جس کو گلے میں ڈالا ہوا تھا ،لائٹ میك اپ کے ساتھ بالوں کواپنی نازک کمر پر کھولا چھوڑے ،ہاتھوں میں گجرے پہنے اور جیولری کے نام پر کانوں میں پھولوں کے بنے جھمکے اور اپنے پیروں کو کھوسے میں قید کیے نور بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
“نور گڑیا ۔۔۔تم بھی کم حسین نہیں لگ رہی آج تو زر سے تم نہیں بچ سکو گی وه پہنچنے والا ہے ۔۔۔”
ماہین بھابی نیچے تكیے کے ساتھ ٹیک لگائے خوبصورت ییلو سوٹ پہنے نور کو دیکھ کر شرارت سے بولیں تو وه جھنپ گئی تو سب نے قہقہ لگایا اور پھر آمنہ بیگم کی آواز پر اٹھ کر بھاگی ۔۔۔۔۔
جی مما جان ۔۔۔۔۔
وو ان دونوں کے پاس آتی ہوئی بولی تو سب نے مسکرا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی ۔
بیٹا اندر جاؤ۔۔۔ زرام آیا ہے اس سے ابٹن کی تھال لے آؤ۔۔
صوفیہ بیگم نے کہا تو وہ اپنی ایک کزن کولیے دھڑکتے دل کے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گئی۔
اسنے لاؤنچ میں قدم رکھا تو اسکی نظر سامنے رکھے گئے صوفے پر وائٹ قمیض شلوار میں بیٹھے زرام پر گئی جو انتہا کا ہیندسم لگ رہا اسے دیکھ کر نور کے دل کی ایک بیٹ مس کی۔ تو پھر وه دھڑکتے دل کے ساتھ اسکے قریب آئی اور اس کی کزن نے چھٹ سے زرام کو سلام کیا۔
وه اپنے موبائل سے نظر اٹھاتا ہوا جواب دیتا اپنی نظریں نور پر جما دیں تو وه بیچاری اسکی گہری نظروں سے گھبراتی اپنے دل کی دھڑکنوں سے اؤلجهتی نظریں نیچے کر گئی جس پر زر کے سرخ ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اپنے پاس کھڑی صباء سے مخاطب ہوا۔۔
صباء بچے آپ یہ تھال لے جاؤ۔۔
اسکی بات پر نور نے ایک دم اپنی نظریں اسکی طرف اٹھائیں جو اسے نظرانداز کیے صباء کو میز پر رکھی ابٹن کی تھال اٹھا کر دے رہا تھا اور پھر وه تھال لیتی باہر چلی گئی اور پھر نور کی طرف دیکھا جو خاموش کھڑی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی ۔زر نے اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اسے اپنی اور کھینچا تو وه اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی چیختی ہوئی سیدھا اسکی گود میں گری۔۔
“یہہ ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔چھوڑیں ۔۔۔کوئی آجائے گا ۔۔۔”
وه شرم سے چور ہوتی اسکے ہاتھ اپنی کمر پر سے ہٹانے لگی جس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکی کمر کو جکڑا ہوا تھا اور اسے اپنے قریب کیے مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
“ابھی کچھ کیا کہاں ہے ۔۔۔اور اس وقت کوئی یہاں نہیں آرہا باہر رسم شروع ہو چکی ہو گی ۔۔”
وه اسکی گردن سے دوپٹا ہٹاتا ہوا آنکھوں میں چمک لیے بولا تو نور کو ماہین کی کہی بات یاد آنے لگی گهبراہٹ اور شرم سے پڑتے سرخ چہرے کے ساتھ داخلی دروازے کی طرف دیکھنے لگی جس پر زر نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اپنی طرف کیا اور اسکے کان کے پاس جھکا اور مدهم آواز میں سرگوشی کرنے لگا اسکے ہلتے لب نور کے گالوں پر مس ہونے لگے تو وه اسکی شرٹ کے کالر کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ گئی۔۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو جانم دل چاہا رہا ہے میں تمہیں سب سے دور کہیں لے جاؤں جہاں میں تمہیں اپنی محبت کی شدت سے واقف کروا سکوں ۔۔۔”
وه سرگوشی کرتا اسکی گردن پر جھک کر اسکی جان نکالنے لگا ۔۔۔وه نازک سی جان اسکے ہونٹ اپنی گردن سے ہوتے ہوئے اپنے کندہوں پر محسوس کرتی گھٹی گھوٹی آواز میں بولی اگر پہلے والی نور ہوتی تو اپنی زبان کے جوہر دکھا کر ہی اسے پچھے ہٹا چکی ہوتی مگر نکاح کے بعد اور اسکی ناراضی کے بعد وه اس سے بہت زیادہ ڈر گئی تھی اور اسکے ڈر اور گهبراہٹ زرام کو زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔
“پلیز زر چھوڑیں ۔۔۔مجھے آپی اور زویا کو هلدی لگانی ہے ۔۔”
وه اسے پچھے کرتی ہوئی کانپی مگر زر اسکے کے کپكپاتے پنک لیپسٹیک میں قید ہونٹوں پر جھکا اور نرمی سے چھوتا ہوا پچھے ہٹا تو وه اپنی رفتار سے بھاگتی دھڑکنوں سے ڈرتی اسکے سینے میں منہ چھپاتی لمبے لمبے سانس لینے لگی تو وه اسکا سر تهپتهپانے لگا ۔۔۔۔
“شش کچھ نہیں ہوا جانم ۔۔۔۔۔ریلیکس ہو جاؤ ۔۔”
وه اسکا چہرہ تھامتا ہوا پیار سے بولا تو وہ ایک نظر اسے دیکھتی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔
ممیں.۔۔۔۔میں جارہی ہوں میرا دل گهبرا رها ۔۔۔۔
وه جلدی سے کہتی باہر جانے لگی مگر زرام کی آواز پر واپس اسکی طرف مڑی ۔۔۔۔
“کیا تم ایسے ہی گھبراتی رہو گی مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمہارے چہرے پر شرم کے آثار دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔مگر دڑ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔”
وه کہتا ہوا اٹھ کر اسکے مقابل آیا جو بامشکل اسکے کندہوں پر آرہی تھی ۔۔۔۔۔
مجھے دڑ لگتا ہے ۔۔۔کہیں آپ مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں ۔۔۔میں نے آپ کے ساتھ ۔۔۔۔
ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب زرام نے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔
“میں کیوں ناراض ہونے لگا تم سے جانم؟میں کبھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔تم پہلے کی طرح مجھ سے باتیں کرو مگر اپنی زبان کے جوہر مت دکھانا ۔۔۔”
وه پہلے محبت سے پھر آخر میں شرارت سے بولا تو نور نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسکے سینے پر مکا مارا جس پر زرام کو تو اثر نہیں ہوا بلکہ اسکا ہی ہاتھ درد کرنے لگا ۔۔۔۔
“افف زر آپ انسان ہیں یا پتھر میرا ہاتھ درد کرنے لگا ۔۔”
وه خفگی سے کہتی زرام کو بہت پیاری لگی تو زرام نے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے تو شرما کر پچھے ہٹی جس پر زر نے اسے گھورا ۔۔۔۔
“ہاہاہاہا زر میرے زہریلے سے میٹھے ناگ ۔۔۔۔۔اب آپ سے میں نہیں دڑوں گی اپ نے مجھے نہ ڈرنے کی پرمیشن دے دی ۔۔”
وه داخلی دروازے پر پہنچ کر شرارت سے بولی تو زرام بھی مسکرا دیا اور اسکے جانے کے بعد سرشار ہوتا خود بھی یہاں سے جانے لگا یہ لیڈیز فنگشن تھا وه وہاں نہیں جا سکتا تھا ۔۔
شاز۔۔۔۔
رات کے 12 بجے کا وقت تھا دونوں بیڈ پر لیٹے اپنے دونوں ہاتھوں کو فولڈ کیے سر کے نیچے رکھے چھت کو گھور رہے تھے جب اسی پوزیشن میں لیٹے ولی نے شازل کو پكارا۔
همم
ایک لفظی جواب
“یار مجھے نیند نہیں آرہی ۔۔۔۔”
ولی نے اپنی پریشانی اسے بتائی اور اسکی طرف رخ پھیرا ۔
“مجھے بھی نہیں آرہی یار”۔۔۔۔۔ کیا کر سکتے ہیں؟؟
شازل نے اسکی طرف دیکھ کر بےبسی سے کہا ۔۔۔
“چلو اٹھو ۔۔۔۔”
ولی اٹھ کر بیٹھا تو شازل نے ناسمجھنے والے انداز میں اسے دیکھا
کہاں ؟
شازل اسے شرٹ پہنتے دیکھ کر پوچھا اور خود بھی اٹھ کر بیٹھا اور شرٹ پہننے لگا۔
“میرر ہاؤس ۔”
ولی کے جواب پر شازل نے سامنے رکھے صوفے کی طرف دیکھا جہاں زرام گہری نیند میں سویا ہوا تھا ۔
یار ولی یہ کمینہ دھوکے باز اٹھ گیا تو سب کے سامنے شرمندہ کر دے گا ۔۔۔
شازل آہستہ آواز میں بولا کیوں کہ زرام نے کروٹ بدلی تھی ۔
نہیں اٹھتا تو چل جلدی ۔۔۔۔
ولی کہتا ہوا کمرے کے دروازے کو کھولا اور شازل بھی اسکے پچھے آیا ابھی نکلنے لگے تھے جب زر کی آواز پر دانت پیس کر اسکی طرف مڑے تھے ۔
“پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں پولیس والا سوتے ہوئے بھی جاگتا ہے ۔۔تو مجھ سے چھپ کر کہا جا رھے ہو ۔۔”
زرام اٹھ کر بیٹھا اور اپنی ہنسی ضبط کرتا انکے غصے بھرے چہرے کو دیکھ کر بولا جو اس کو خون خوار نظروں سے گھور رہے تھے ۔
“کیڑے مکوڑے ایس پی اگر تو سننا چاہتا ہے کہ ۔”ہم کہاں جا رہے ہیں ؟تو سن ہم اپنی بیویوں سے ملنے جا رہے ہیں کوئی مسلہ ہے تجھے؟
ولی آہستہ آواز میں غرایا کیوں کہ اس وقت سب سو رہے تھے ان کی آواز پر اٹھ بھی سکتے تھے ۔
“اور اب اگر تو نے ہمیں روکنے کی کوشش کی تو میں تیرا قیمہ بنا دوں گا ۔”
شازل اسے منہ کھولتے دیکھ تنبیہ کرنے لگا۔۔
“جاؤ۔۔۔جاؤ۔۔میں کیوں تم لوگوں کو روکنے لگا شوہر ہو تم لوگ ان دونوں کے ۔۔۔۔میں نے کب کہا دیکھنا منع ہے ؟؟میں تو ویسے ہی تم لوگوں سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔”
زرام معصوم سی شکل بنا کر کہتا انکا بی پی ہائی کر گیا ۔۔۔۔
“کتے كمینے شام سے تو ہمیں وہاں جانے نہیں دے رہا تھا یہاں تک کہ فون بھی نہیں کرنے دے رہا تھا وه سب کیا تھا ۔۔۔۔”
شازل اور ولی ایک ساتھ صدمے سے چیخے تو وه انکو آنکھ مارتا ہوا انکے چہروں کو غصے سے لال کر دیا ۔