No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
اسکے ہاتھوں کو چومتی ہوئی بولی تو وه جاناں کی اتنی محبت پر مسکرا دی
ہائے اللّه یہ آپ دونوں مجھ جیسی سٹار کو کیسے بھول جاتی ہیں حد ہوتی ہے بھلکڑ پن کی
وه اپنے دوپٹے کو کندھے پہ سیٹ کرتی ہوئی جاناں کے ساتھ آ کر بیٹھی
ارے میرا شونا سٹار ہم تمہیں بھول سکتے ہیں کیا_ جاناں اسکے گالوں کو کھینچتی ہوئی بولی
ہاں وڈی آئی سٹار بہن کون سا تیر مارا ہے تم نے
زویا اسکو گھورنے لگی_
زوئی کی بچی تم تو جیلس ہوتی رہنا مجھ سے اس لیے جاناں آپی میری بہن ہیں
نور جاناں کو ہگ کرتی زویا کو چڑانے لگی جو اس نام سے پہلے ہی غصہ ہوئی بیٹھی تھی
نوراں بیگم آیندہ تم نے مجھے زوئی کی بچی کہا تو میں نے تمہیں زرام بھائی کے سامنے نوراں بیگم کہہ دینا پھر مجھے مت کچھ کہنا
زویا اپنی سبز آنکھوں سے اسے گھورتی ہوئی وارن کرنے لگی_
کیا زویا ڈارلنگ اب تم اپنی پیاری نادان سی بہن کا نام اس زہریلے ناگ کے سامنے لو گی تمہیں شرم نہیں آئے گی مجھ معصوم کے ساتھ ایسا کرتے
نور اپنے اس نام پر زویا کو شرم دلانے لگی جس کے پاس خود شرم کی کمی تھی
زہریلا ناگ هاهاهاهاهاها
جاناں کا جاندار قہقہ گونجا
افف میرے مولا کیا چیز ہو تم زرام بھائی کا نام کا نام نور تم نے رکھا اور تمہارا نام نوراں بیگم کیا نام رکھا ہے زوئی نے میں صدقے جاؤں_
کیا یار آپی اب آپ اس ڈر پوک کے کہنے پر مجھے اس بوڑھی اماں کے نام سے پکاریں گی پتا نہیں کس نے نام رکھا تھا میرا پہلے یہ تو پتا کروا لیتے کے یہ کسی بڈھی کا نام تو نہیں ہے ساری پرسنیلٹی خراب کر دیتی ہے_
نور منہ بناتی ہوئی کھڑی ہو گئی تو زویا چیخ پڑی
تم نےمجھے ڈرپوک کہا چلاک عورت روکو تمہیں تو میں بتاتی ہوں زویا بھی اٹھتی ہوئی اسکے پیچھے بھاگی جو لاؤنچ کی طرف بھاگ کے جا رہی تھی مطلب تھا آجاؤ پکڑ سکتی ہو تو
افف کیا ہو گا ان کا _
جاناں گردن کو موڑے ان کو دور جاتا دیکھنے لگی______
کیسی ہو جان“”
شازل اسکی گود میں سر رکھتا ہوا اسکے بالوں کی لٹ کو کھینچا اور اپنی طرف متوجہ کیا تو جاناں ہڑبڑ ا گئی_
یہیہ آپ کیا کر رہے ہیں تمیز نہیں ہے آپ کو اٹھئیں یہاں سے ورنہ میں نے آپکا سر پھوڑ دینا ہے
جاناں اپنی دھڑکنوں کی دھک دھک سے گھبراتی ہوئی اسے اٹھانے لگی جو مسکرا کر اپنے شریر گڑهوں کی نمائش کر رہا تھا اور جاناں نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کی جانب گھاس پر رکھے تھے کہ کہیں وه شازل سے ٹچ نہ ہو جائیں
نہیں بلکل تمیز نہیں ہے تمہارے معملے میں تو بلکل بھی نہیں میری مس جان _
شازل اس کے چہرے پہ بھونک مارتا زیچ کرنے لگا
آپ اپنی ان چھچھوری حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ میں نے سب کو بتا دینا ہے اور جو حرکت آپ نے کیچن میں کی تھی میں وه بھولی نہیں ہوں سمجھے آپ
جاناں بےآواز رو دی تھی جس سے اسکے آنسو شازل کے چہرے پر گرے تھے تب شازل کی مسکراہٹ تھمی تھی وه ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا
دیکھو جان وه جو کچھ ہوا میں مانتا ہوں مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا اس لیے میں سوری کرنے آیا تھا_ مجھے معاف کر دو آیندہ ایسی غلطی کبھی نہیں کروں گا ہاں مگر جب بھی ملوں گا تمہارے ماتھے کو ہمیشہ عقیدت چوموں گا اس کے لیے تم مجھے نہیں روک سکتی
شازل میران ملک معافی بھی مانگ رہا تو جیسے جاناں پہ احسان کر رہا ہو اس کی معافی پر جاناں اپنے اپے سے باہر ہوئی تھی
بس بہت بکواس کر لی آپ نے اور میں نے سن بھی لی اب بس بہت ہو گیا نہیں چاہیے مجھے آپ کی یہ معافی اپنے ہی پاس سمبھال کر رکھیں جاناں اسفند ملک کو ان معافیوں کی ضرورت نہیں ہے
غصے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی اور جانے کی لیے موڑی_ جان تمہیں میری محبت پر یقین کیوں نہیں آتا آخر کیوں تم مجھے اتنے سالوں سے اگنور کرتی آئی ہو اور تم جانتی ہو تمہارے انکار نے مجھے امریکہ جانے پر مجبور کر دیا صرف تمہارے لیے میں نے ڈیڈ کی ناراضگی بھی برداشت کر لی_
شازل کی تکلیف بھری آواز اور اسکی باتوں پر جاناں کے دل میں درد اٹھا تھا مگر پھر سے وه بے حس بن گئی تھی_ میں نے آپ کو نہیں کہا تھا جائیں یہاں سے میں نے آپکو نہیں کہا تھا انکل کو ناراض کر کے جائیں میں نے تو صرف آپ سے شادی کرنے سے انکار کیا تھا اور مجھ سے دور رہنے کو کہا تھا___
وه اپنے دل کی دھڑکنوں کو خاموش كرواتی شازل کو اپنی باتوں سے ازیت پہنچانے لگی
نہ تو میں 5 سال پہلے آپ سے پیار کرتی تھی نہ اب کرتی ہوں اور نہ ہی کبھی زندگی میں کروں گی آج آپ میرے نزدیک آگئے ہیں آیندہ میرے پاس مت آئیے گا کوئی حق نہیں رکھتے آپ مجھ پر اور نہ ہی کبھی رکھ سکیں گے
وه اپنی بات کہتے جانے لگی تو شازل میران ملک نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا اور ایک ہاتھ اسکی گردن پر رکھ کر دباؤ ڈالا اور پھر اسکے کان کے قریب اپنا چہرہ کیے سرغوشی کرنے لگا
تم مجھ سے کل بھی محبت کرتی تھی آج بھی کرتی ہو اور ہمیشہ مجھ سے ہی کرو گی تم میری جاناں اور میری جان ہو تم پر صرف میرا حق ہے اور اللّه نے تمہیں صرف میرے یعنی شازل میران ملک کے لیے بنایا ہے
اور تم حق کی بات کرتی ہو تو ٹھیک ہے میں اب تم سے وعدہ کرتا ہوں جب تک تمہارے تمام حق اپنے نام نہیں کروا لیتا تب تک نہ تو میں تمہارے پاس آؤں گا اور نہ ہی تم سے بات کروں گا اور ایک بات کان کھول کر سن لو تمہارے پاس صرف ایک ہفتہ ہے تو خود کو اچھی طرح تیار کر لو ٹھیک ایک ہفتے بعد تم جاناں اسفند ملک سے جاناں شازل ملک بن چکی ہو گی تب تمہارے پاس بھی آؤں گا تمہیں ہاتھ بھی لگاؤں گا تب تم مجھے روک نہیں سکو گی یہ شازل میران ملک کا وعدہ ہے تم سے _
اور پھر آخری بار شازل اس پر جھکا اور اسکا ماتھا چومتا اندر کی جانب بڑھ گیا
جاناں تو اسکے اس قدر جنونی انداز پر کامپ کے رہ گئی اس نے دیکھا ہی کب تھا شازل میران ملک کا یہ جنون وه تو پر سکون سا بندہ تھا تو پھر یہ کون سا روپ تھا تو کیا وه اپنا وعدہ پورا کرے گا یہ سوچتے جاناں ایک بار پھر سے رو دی_
جاناں لوگ سب اپنے گھر واپس چلے گئے تو وه بھی اپنے روم میں آ گئی اور اپنا نائٹ ڈریس اٹھاتی واش روم چلی گئی کچھ دیر بعد واپس آئی تو بےبی پنک کلر کے ٹراؤزر شرٹ میں تھی جس پر کارٹون بنے ہوئے تھے اور پھر اپنے بال كنگهی کرتی کیمیسٹری کی بک اٹھاتی بیڈ پہ جا کر بیٹھ گئی اور بک گود میں رکھتی پڑھنے لگی صبح اس کا آنلاین کوئز تھا کیوں کہ کراچی میں کیا ملک بھر میں سب یونیورسٹیاں بند تھی_ وه پڑھنے میں مگن تھی کہ اسے اپنے کمرے کی کھڑکی کھولتی اور بند ہوتی محسوس ہوئی تو اس نے گردن موڈ کر دیکھا تو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہونے لگی کیوں کہ وہاں زرام اسفند ملک بلیک ٹی شرٹ اور سکن ٹراؤزر پہنے رف حلیے میں ہاتھ پیچھے باندھے اسے غصے سے گھورنے میں مصروف تھا_
یہیہ زرام بھائی آپ یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں
ڈر کے مارے نور سے بولا نہیں جا رہا تھا مگر ہمت کر کے اس سے پوچھنے لگی جو اطمنان سے چلتا ہوا اس کے پاس آرہا تھا اور پھر اسکے قریب آتا اپنا ایک پاؤں اسکے پاس اسکے بیڈ پر رکھا اور اپنے گھٹنے پر کہنی سمیت بازو رکھتا اس پر ہلکا سا جھکا تو نور کی سانسوں کی رفتار تیز ہوئی اور دڑ سے کہنی کے بل بیڈ پر گری
آج کیا بکواس کر رہی تھی تم کہ میں زہریلا ناگ ہوں اور اور __
وه ایک پل روکا تھا اور اپنا ایک ہاتھ اسکے بالوں کی طرف لے جاتا اسکے بال پیچھے ہٹانے لگا جو چہرے پر آ رہے تھے زرام کے اس طرح کرنے سے نور کو اے سی میں بھی پسینے آنے لگے اور اسکے چہرے کو دیکھنے لگی جہاں سنجیدگی کے علاوہ کچھ نہیں تھا_
اور میرے پیدا ہونے پر میرے ماں باپ بھی افسوس کرتے ہوں گے اور تمہیں ان پر بہت ترس آتا ہے
ایسا ہی کہا تھا نہ همممم
زرام نے اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی اونگلی سے اسکا چہرہ اوپر اٹھایا جو ڈر سے نیچے كیے ہوئی تھی
دیکھیں زر بھائی وہوه میں کیسے کہہ سکتی ہوںمیں تو آپ کی بہت بہت عزت کرتی ہوں میری کیا مجال میں آپ کو برا بھلا کہوںوه تو زوئی مجھے کہہ رہی تھی کہ بھائی ایک زہریلے ناگ ہیں جو ہر وقت ہر ایک کو ڈسنے کو تیار رہتے ہیں اور نور بیچاری کو بلاوجہ ڈانٹتے رهتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو زہر اگلتے ہیں پتا نہیں اللّه انکو کب ہدایت دے دیں گے______
اور ہاں وه کہہ رہی تھی کبھی یہ زهریلا ناگ میرے ہاتھ لگے پھر میں اسکو ایریل میں بھگو بھگو کر ایسے دھوؤں دھوؤں کہ ایک سال تک بیہوش ہو جائیں اور نور بیچاری ایک سال تک سکون سے زندگی گزار سکے اور یہ بھی کہہ رہی تھی کہ جاناں آپی تو بلکل پری جیسی ہیں پھر یہ جلاد جن بلکے چڑیل نما جن کہاں سے پیدا ہو گیا
وه اسکے چہرے کی طرف دیکھے بغیر زویا کا نام لیتی اپنی دلی مرادیں زرام اسفند ملک کو بتانے لگی جس کے نور میڈم کے نایاب خیالات سن کر کانوں سے دوھواں نکل رہا تھا
جسٹ شٹ اپ
اگر اب تم نے یہ فیرکی نما زبان زیادہ چلائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا سمجھی
جب زرام کو اپنے کانوں پر اس قدر ظلم برداشت نہ ہوا تو اسکے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتا اسکو خاموش کروانے لگا اور تو اور زرام اسفند ملک کو اپناقہقہ روکنا مشکل لگنے لگا کیوں کہ زرام اسفند ملک کو اسکی فیرکی نما زبان بہت پسند تھی مگر وہ ہمیشہ اس کو ڈرا کر رکھنا چاہتا تھا کہ نور میڈم جب بھی اسکو دیکھے تو ڈر کے مارے اپنی زبان کے جوہر دکھانے لگے
آپ کو پتا بھی ہے آپ سے برا اس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے میں تو پہلے دن سے کہتی آ رہی ہوں آپ کو ہی مجھ پر یقین نہیں ہے اب خود ہی مان گئے نہ
وه زرام کا ہاتھ ہٹاتی پھر سے اپنی زبان کے جوہر دکھانے لگی__
یہہ_ یہ میں تو بلکل بھی نہیں کہہ رہی یہ بھی زوئی کہہ رہی تھی میں تو آپ کی بہت عزت کرتی ہوں مجھے تو زوئی پہ افسوس ہوتا ہے جو آپ جیسے پیارے انسان کو اتنا برا بھلا کہتی ہے جو اس کراچی کا محافظ ہے حد ہو گئی ہے زبان درازی کی_
زرام کی گھوری پہ اپنے سارے کارنامے زویا بیچاری پہ ڈالیتی سر نفی میں ہلانے لگی زویا تو کیا اسکے تو فریشتوں کو بھی علم نہیں ہو گا کہ وہ ایسا بھی کچھ کر سکتی ہے اور وه بھی اپنے زرام بھائی کے بارے میں افف نور میڈم کیا کہنے آپ کے آپ کو تو 21 توپوں کی سلامی پیش کرنی چاہئے
چپ بلکل چپ اب تمہاری آواز نہیں آنی چاہئے اور میری بات کان کھول کر سنو
زرام نور کا چہرہ اپنے چہرے کے نزدیک کرتا ہوا اسکی آنکھوں میں دیکھتا غرآیا تو وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی خاموش ہو گئی اور اسکی بات سننے لگی
آیندہ میں تمہاری اس فیرکی نما زبان سے شازل کو جانو بھائی کہتے نہ سنوں ورنہ میں تمہاری یہ چلتی زبان ایک سیکنڈ میں کاٹ کر شازل کو دے دوں گا کہ یہ پکڑو اس بلا کو جو ہر وقت جانو بھائی جانو بھائی کہتی رہتی ہے
زرام اپنے اصلی مدعے پہ آتا ہوا بولا جو بات اسے ہر وقت غصہ دیلاتی رہتی تھی زرام اسفند ملک کو کہاں برداشت تھا کہ اس کا یہ پٹاخا اسکے علاوہ کسی اور کو جانو کہے اس لیے اتنی رات کو وه اسکے پاس آیا تھا
دیکھیں زر بھائی اب آپ مجھے ڈرا رہے ہیں اور میری پیاری زبان کے ساتھ نہ انصافی کر رہے ہیں اگر آپ نے اسے کاٹ دیا تو آپ کی اتنی خوبصورت اور جاندار تعریفیں کون کرے گا آپ کو زہریلا ناگ کون کہے گا آپ کے ابھی تک پیدا نہ ہونے والے بچوں کو کالا کلوٹا کون کہے گا آپ کی موٹی بھنس بیوی کو بھنس کون کہے گا________
بس آخری بار معاف کر دیں آیندہ اپکو زہریلا ناگ نہیں کہوں گی نہ ہی آپکی اولاد کو افریقہ کی کالی عوام کہوں گی _ نور ڈر سے آنکھیں بند کیے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے لگی یہ دیکھے بغیر کہ زرام اسفند ملک اس کی تمام باتیں اپنے فون میں ریکارڈ کر رہا ہے اسے تو پروہ تھی تو بس یہ کہ کیا پتا اس کی زبان کل ہو نہ ہو ________
ہو گئی بکواس یا کچھ اور رہتا ہے اگر رہتا ہے تو وه بھی کر لو میں سکون سے بیٹھا ہوں
زرام سامنے صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا ہاتھ میں موبائل پکڑے نور کو طرف دیکھتے بولا جو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی“””””
اب کیا بکواس کر دی میں نے اور مجھ معصوم کو بخش دیں کل اس نسیم بیگم کھڑوس میم نے نہیں بخشنا
وه زرام کے پاس آتی ہوئی بولی اور اسکے پاس کھڑی ہو گئی_
تم اور معصوم حیرت کی بات ہے مس پٹاخا_ زرام اسے اپنے ساتھ بٹھاتا ہوا بولا _
دیکھیں زر بھائی آج کے لیے بخش دیں کیوں کہ مجھے کیمسٹری بلکل بھی نہیں آتی مجھے پڑھنا ہے_
وه رونے والی صورت بناتی بولی
وعدہ کرو آیندہ تم جانو بھائی نہیں کہو گی پھر میں چلا جاؤں گا
وه اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتا ہوا بولا
ٹھیک ہے آپ بھی مجھے سب کے سامنے ڈانٹیں گے نہیں
اوکے نہیں ڈانٹؤں گا
کہتے زرام نے اسکا ماتھا چوما اور واپس چلا گیا_
زہریلا ناگ
نور اس کو گھورتی پھر اپنے ماتھے کو چھوتی بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی اور پڑھنے لگی_
جیسا کے آپ سب جانتے ہیں اس کمپنی کے اونر میران ملک ہیں اور ان کے اکلوتے بیٹے جو 5 سالوں سے امریکہ میں مقیم تھے مگر وہ 2 دن پہلے ہی واپس آ چکے ہیں تو اب سے وه خود اپنی کمپنی کو ٹیک اوور کریں گے تو آج سے جتنے بھی پراجیکٹ یا فائلز ہوں گی تو اب سے ان کے ہی سائن ہوا کریں گے
وه بلیک کرتا اور کیپری کے ساتھ ہائی ہیلز پہنے لمبے کڑھائی دار سرخ دوپٹے کو ایک سائیڈ پہ گرائے لائٹ میک اپ کیے بالوں کو ہمیشہ کی طرح کھولا چھوڑے انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی_
وه سب ورکرز کو آج کی اہم خبر سنا رہی تھی کہ سب کی نظریں اس سے ہٹ کر سامنے اینٹرنس پہ گئیں جہاں وه بلیک تھری پیس سوٹ میں بالوں کو ہمیشہ کو طرح پونی میں قید کیے براؤن سنگلاسز لگائے مغرور چال چلتا ہوا ان کے قریب آ رہا تھا اس کو دیکھ کر جاناں کی منہ سے بے ساختا ما شاء اللّه نکلا تھا اور پھر اپنی نظریں اس پر سے ہٹا لیں کہ کہیں اسکی خود کی ہی نظر نہ لگ جائے
“””””””O M G Shaz the number one””””“””
اس کمپنی میں ہائے میرے مولا کتنا خوبصورت اور ہاٹ انسان ہے یہ آج تک اس کو ٹی وی میں دیکھا تھا آج حقیقت میں دیکھ لیا کاش یہ میرا بوئے فرینڈ بن جائے ___
تمام فیمیل ورکرز ایک دوسرے کے کان میں سرگوشیاں کرنے لگیں تو جاناں کو ان پر حد سے زیادہ غصہ آیا مگر کنٹرول کر گئی مگر میل ورکرز تو اس بندے کی پرسنیلٹی دیکھ کر حیران ہو گئے کوئی اس قدر خوبصورت اور رعب دار لگ سکتا ہے
اسلام و علیکم!!!!!!!!!!!
وه ان سب کے پاس آتا ہوا بولا اور ایک نظر جاناں کو دیکھتا دل میں مائی لو کی سرگوشی کرتا اپنی نظریں پھیر گیا
سر ہم آپ کے بہت بڑے فین ہیں پلیز کیا ہم آپ کے ساتھ ایک ایک فوٹو لے سکتے ہیں پلیز سر_
سب ورکرز جاناں کی گھوریوں کو نظر انداز کرتے شازل کو کہنے لگے
Wait a moment guys
یہاں میں شاز ملک ایک ماڈل کی حیثیت سے نہیں بلکے یہاں ایم ایس کمپنی کے اونر شازل میران ملک کی حیثیت سے کھڑا ہوں تو یہاں صرف آفس اور کام کی بات ہو گی
اشازل میران ملک کے اس تعارف پر سب حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگے انداز ایسا تھا کہ شازل میران ملک کوئی اور نہیں بلکے شاز دی نمبر ون ماڈل ہے وه سب بیہوش ہونے کو ہوئے کیوں کہ آج تک کسی کو پتا نہیں تھا کہ اس کمپنی کا سیکنڈ اونر کون ہے اب حیران ہونا تو بنتا تھا_
اینڈ یو مس جاناں اسفند ملک 10 منٹ میں میٹنگ ارینج کریں تمام سٹاف مجھے میٹنگ روم میں چاہیے وه اب اپنا چہرہ جاناں کی طرف کیے اسے حکم دینے لگا جو حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی آج زندگی میں پہلی بار شازل میران ملک نے اسے اس کے اصلی نام سے پکارا تھا جاناں کے دل میں ایک ٹیس اٹھی تھی مگر وه نظر انداز کرتی ہاں میں سر ہلا گئی اور ساتھ اپنا چہرہ بھی پھیر گئی تھی کہیں وه اس کا درد نہ جان جائے اسکے اس طرح کرنے پر شازل نے غصے سے اپنے بائیں ہاتھ کی مٹھی بنائی تھی وه سمجھ رہا تھاکہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اسکی جان نے اسے نظر انداز کیا ہے _
حیران تو سب ورکرز بھی تھے اور وه لوگ کبھی جاناں کو دیکھتے تو کبھی شازل کو کہ یہ محترم آتے ہی ان کی میڈم پر حکم چلانے لگے جو خود دوسروں پہ حکم چلاتی آئی ہیں
ڈیڈ کی سیکٹری کون ہے؟؟؟؟؟؟
شازل اب پھر جاناں کی طرف چہرہ کیے روعب دار آواز میں پوچھنے لگا جو اب اس کو آنکھوں سے گھور رہی تھی جس پر شازل دل میں مسكرايا_
یس سر میں ہوں میران سر کی سیکٹری نوشین شاہد میں آپ کی کیا ہیلپ کر سکتی ہوں
اس آواز پر شازل نے جاناں پر سے نظریں ہٹاتا اسکی طرف دیکھنے لگا جو لائٹ لیمن کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہنے ڈآئی کیے بال ،ہلکے میک اپ میں دیکھنے میں کوئی 26 سالہ لڑکی لگی
جی تو آپ ہیں مس سیکٹری _
وه چلتا ہوا اسکے پاس آیا تو وه ایک ادا سے مسکراتی اسکے پاس ہوئی جس پر جاناں نے اس کو گھور کر دیکھا اور شازل کو بھی گھورنے لگی کہ کیا ضرورت تھی اتنا پاس جانے کی
تو محترمہ مسکرانا بند کریں اور میرے ساتھ چلیں اور مجھے ڈیڈ کا روم دکھائیں مجھے اس طرح مسکرانے والی لڑکیوں سے بہت چڑ ہے تو آیندہ پرہیز کیجیے گا
شازل کی بات پر جہاں نوشین کی مسكراہٹ رکی تھی وہیں جاناں کی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور باکی ورکرز اس نوشین نامی بلا کی بے عزتی پر خوش ہوئے کیوں کہ نوشین ایک ایسی لڑکی تھی جو میران صاحب کی سیکٹری ہونے کا ہمیشہ فائده اٹھاتی اور ان کی غیر موجودگی میں ان سب پر روعب جماتی تھی_
نوشین شازل کو اوپر کی طرف اشارہ کرتی بھاگنے کے انداز میں سیڑھیاں چڑھی تو شازل بھی ایک بھر پور نظر جاناں پہ ڈالتا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا_
یار ہم نے تو ٹی وی میں سنا تھا کہ شاز ملک ایک سویٹ اور پر سکون سا بندہ ہے پر یار یہ تو بہت کھڑوس اور غصے والے ہیں
ہاں یار تم لوگوں کو ہی پڑی تھی فوٹو کی کروا لی بےعزتی___
سب ورکرز شازل میران ملک کے بارے میں باتیں کرنے لگے
اگر آپ لوگ پھر سے اپنی انسلٹ کروانا نہیں چاھتے تو 10 منٹ میں میٹنگ روم میں ملیں اور یہ دس منٹ باتوں میں ذائع نہیں ہونے چاہیے تو اب اپنے اپنے کام پہ لگیں کام کے بعد شازل میران ملک پہ ٹالک شو رکھ لینا اور شہرام تم میرے ساتھ آؤ شہرام جاناں کا پرسنل اسیسٹینٹ تھا___
جاناں کی غصہ بھری آواز پر ایک سیکنڈ میں سب اپنی اپنی ڈیسک پر جا کر بیٹھے اور اپنے کام پہ لگ گئے تو جاناں اور شہرام اوپر کی جانب بڑھ گئے کیوں کے جاناں اور میران صاحب کا روم ایک ساتھ اوپر اٹیچ تھے بس درمیان میں گلاس وال تھی جس سے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے دونوں اونرز اوپر روم میں بیٹھ کر نیچے سب ورکرز کو آسانی سے دیکھ سکتے تھے کے وہ لوگ کیا کر رہے ہیں مگر وہ لوگ اپنے بوس لوگوں کو نہیں دیکھ سکتے تھے اس لیے وه کام کے علاوہ کوئی بھی دوسری ایکٹیویٹی کرتے پکڑے جاتے تھے جس پر جاناں انکو ڈبل کام کرنے کی سزا دیتی تھی_
حیدر تمہارے پاس ایک دن کا ٹائم ہے مجھے ہماری لندن کی برانچ کے تمام پراجیکٹ کی ڈیٹیل اور رپورٹ چاہیے_ وه اپنے آفس روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ اپنے سامنے رکھے اپنے پرسنل اسیسٹینٹ کو حکم دینے لگا_
جی باس ہو جائے گا یہ کام
حیدر بھی اسکی حکم پر اپنے سر کو ہاں میں ہلاتا ہوا بولا
اور ایک بات یاد رکھنا وہاں کے مینیجر کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے آگئی سمجھ
وه لیپ ٹاپ پر اپنی انگلیاں چلاتا ہوا اسے وارن کرنے لگا .
جی با __
حیدر بولنے لگا تھا کہ دھڑم کی آواز سے کوئی اندر داخل ہوا تو دونوں نے سامنے دروازے کی طرف دیکھا جہاں وه پولیس یونیفارم میں مسکراتا ہوا کھڑا تھا_
مینرز نام کی کوئی چیز ہوتی ہے زرام اسفند ملک مگر تمہیں ان سب کا کیا پتا کیڑے مکوڑے ایس پی جو ٹھہرے
ولی برہان ملک ایک دم دھاڑا تھا جس پر حیدر بھی کامپ گیا تھا مگر وه ڈھیٹوں کی طرح کھڑا مسکرا رہا تھا
ابے آہستہ بولا کر سر میں درد کر دیتا ہے جب بھی بولتا ہے تو اور تم حیدر بھائی صاحب جاؤ جا کر میرے لیے جوس لے کر آؤ تمہارے اس سائکو بوس نے سر میں درد کر دیا ہے زرام اسکی گھوری کو نظر انداز کرتا اسکے سامنے کرسی پہ آ کر بیٹھا اور حیدر پہ حکم چلانے لگا جو باہر کی جانب جا رہا تھا_______
تمیز نام کی چیز نہیں ہے تم میں حیدر تمہیں نوکر لگ رہا ہے جو تم اس پر حکم چلا رہے ہو اور تم میرے آفس میں کیا کر رہے ہو نکلو یہاں سے مجھے بہت کام ہے
ولی اپنے مخصوص سنجیدہ اور غصے بھری آواز میں بولا__
ولی یار تو مجھے یہ بتا تو تھکتا نہیں ہے ان کالے اور سفید کپڑوں سے
زرام اسکی باتوں کو نظر انداز کرتا اسکے بلیک تھری پیس سوٹ پہ چوٹ کرنے لگا تو وه پھر سے اپنی کالی آنکھوں سے زرام کو گھورنے لگا
تم یہاں یہ بکواس کرنے آئے ہو ولی اپنا لیپ ٹاپ سائیڈ پہ کرتا ہوا اس کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہوا__“”””
نہیں میں بکواس نہیں تم سے بات کرنے آیا ہوں مگر تم ہو کہ یہ بوس گری چلا رہے ہو
زرام ٹیبل سے پنسل اٹھاتا ہوا بولا تو ولی کو اس پر رج کے پیار آیا مگر صرف ایک سیکنڈ کے لیے
تو جلدی سے بولو اور یہاں سے چلتے بنو
ولی اٹھ کر کھڑکی کے پاس آیا
ولی کتے کمینے آدمی تو مجھے مینرز سکھاتا ہے تجھے خود مینرز نہیں ہیں کہ آفس میں آئے مہمان کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں____
زرام نے وہیں سے اسکو ہاتھ میں پکڑی پنسل ماری جس پر ولی جیسے بندے کو تو کچھ نہیں ہوا مگر بچاری پنسل زمین بوس ہو گئی_
مہمان کی خدمت کرنا بہت اچھے سے آتا ہے ولی برہان ملک کو مگر روز منہ اٹھا کر آنے والوں کو ولی دروازے سے ہی چلتا کرتا ہے
ولی بغیر رخ موڑے سنجیده آواز میں بولا”””””
تو اتنا بغیرت ہو سکتا ہے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا اللّه کرے زویا گڑیا تیرے جیسے مغرور انسان کا جینا حرام کر دے پھر تو روتا ہوا میرے پاس آئے پھر میں تجھے دروازے سے دکھے دے کر سڑک پر پھینکوں گا_
زرام غصہ سے اسکی پیٹھ کو دیکھتا ہوا بولا
ایسا وقت ولی برہان ملک پر کبھی نہیں آئے گا کہ وہ تجھ جیسے کیڑے مکوڑے ایس پی کے پاس آئے
ولی اس کے پاس آتا ہوا مسکرایا تو زرام کو تپ چڑھ گئی اور اٹھ کر اس کے پیٹ میں ایک گھونسہ مارا تو ولی نے بھی اسکے پیٹ میں ایک مکا مارا_ کتے کمینے تو نے ایس پی پہ ہاتھ اٹھایا
زرام پیٹ پہ ہاتھ رکھتا ہوا ولی کو گھورنے لگا تو ولی نے قہقہ لگایا جس پر زرام اسے دیکھنے لگا اور اسے گلے لگایا
یار ولی واپس آجا موم اور ڈیڈ تجھے بہت یاد کرتے ہیں اور جاناں کے بغیر کیسے رہ رہا ہے تو
ولی اسکی بات سنتا پیچھے ہٹا اور واپس سنجیده ہو گیا اور چہرے پر چٹانوں جیسی سختی در آئی
جو چیز ممکن نہیں اسکے بارے میں بات مت کیا کرو میں اس گھر میں نہیں آسکتا مجھے اپنے ڈیڈ کے گھر رہنا ہے _
ولی واپس اپنی کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا
تم بتا کیوں نہیں دیتے کیا ہوا تھا کوئی وجہ تھی جس کی وجہ سے تم گھر چھوڑ آئے
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے دروازہ ناک ہوا اور 20 سالہ لڑکا جوس لائے کمرے میں داخل ہوا اور جوس ٹیبل پہ رکھتا واپس چلا گیا_
ہاں میں کیا کہہ رہا تھا
زرام اپنا ماتھا مسلنے لگا
تم کہہ رہے تھے کہ تم جانے لگے ہو
ولی سنجیدہ مگر آنکھوں میں شرارت لیے زرام کی طرف دیکھنے لگا
یار ولی جس دن تو پیدا ہوا ہو گا نہ وه کوئی منہوس دن ہو گا اور اس دن سب نے ماتم کیا ہو گا اور میں اوپر بیٹھا تجھے لعنتیں دے رہا ہوں گا
زرام نے جوس کا گلاس ٹیبل پہ پٹخا تو ولی کا ایک بار پھر قہقہ گونجا
یہ بات تو مجھے کوئی 10 ہزار 101 بار بتا چکا ہے
ولی نے موبائل پہ کچھ لکھتے ہوئے زرام کو جواب دیا
اور پھر بھی تجھے 10 ہزار 101 بار بھی شرم نہیں آئی ڈوب کے مر جا تو اگر کہیں تجھ جیسا گندا گٹر کا پانی مل جائے تو__
زرام کرسی سے اٹھتا ہوا ولی برہان ملک کو شرم دلانے لگا جس کے پاس شائد تھی ہی نہیں
شرم میرے پاس نہیں ہے اور میرے جیسا اس دنیا میں ایک ہی ہے سو میرے جیسا تو پانی بھی کہیں نہیں ہو گا
اچھا یہ سب چھوڑ تو جا رہا ہے
ولی زرام کو دیکھنے لگا جو دروازہ کھولنے لگا تھا پھر رک کر ولی کی بات سننے لگا
ہاں جا رہا ہوں کیوں
تو جا نہ بھائی کھڑا کیوں ہے کوئی کام وام نہیں ہے منہ اٹھا کر روز آ جاتے ہو
ولی کی بات پر زرام نے ولی کو دیکھا اور پھر واپس اسکے پاس آیا تو ولی اسکی شکل دیکھنے لگا اور پھر زرام موقع کا فائدہ اٹھاتے اسکا لیپ ٹاپ اٹھا کر نیچے فرش پر پھینک دیا اور اسکے گال کو چومتا بھاگ گیا اور ولی وہیں صد مے کو حالت میں کھڑا رہا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اس کے ساتھ ہوا کیا ہے__
کیڑے مکوڑے ایس پی
جب اسے سمجھ آیا تو وه اتنی زور سے داهاڑا کہ حیدر بھاگ کر روم میں آیا اور سامنے لیپ ٹاپ کی حالت دیکھتا تھوک نگلنے لگا
بوس یہ جسٹ شٹ اپ _اٹھاؤ اسے اور دیکھو چل رہا ہے یا نہیں اگر چل رہا ہے تو جلدی سے دوسرے لیپ ٹاپ میں سارا ڈیٹا کرو فاسٹ
جی بوس
وه بیچارہ لیپ ٹاپ اٹھاتا کرسی پہ بیٹھ گیا اور ولی غصہ سے اپنی سیگرٹ نکال کے پینے لگا اب اسے اپنا غصہ کم کرنا تھا جو صرف اسکی سیگرٹ سے ہی ہونا تھا
سب کو میٹنگ روم میں بلانے کا مقصد یہی ہے کہ میں سب کو کچھ چیزوں کے بارے میں اگاہ کرنا چاہتا ہوں تو آج سے بلکے ابھی سے مجھے کوئی بھی شخص ورک ٹائم میں ایک دوسرے سے باتیں کرتا ہوا نظر نہ آئے آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد آپ جہاں مرضی جائیں جو مرضی کریں اور سب سے اہم بات اگر کوئی بھی مجھے کسی دوسرے کے ڈیسک پہ بیٹھا نظر آیا تو میں اسے کسی بھی قسم کی وارننگ دیے بغیر اس کمپنی سے ہمیشہ کے لیے فارغ کر دوں گا
اور جو فائنینس کا مینیجر اور اسکی ٹیم ہے وه ایک گھنٹے کے اندر اپنی تمام فائلز لے کر واپس اسی روم میں آئے گو فاسٹ__
شازل میران ملک میٹنگ روم میں اپنی بوس والی کرسی کی ٹیک پر اپنی دونوں بازوں کی کہنیاں ٹکائے سنجیدگی کے ساتھ کھڑا سب ورکرز کو اہم باتوں سے آگاہ کرنے لگا
اور اس کی بات سنتے فائنینس کی ٹیم اور مینیجر بغیر اپنا وقت ذآئع کیے میٹنگ روم سے باہر چلے گئے کیوں کہ سب کو علم ہو گیا تھا اب ان پر پہلے سے بھی زیادہ برا وقت آ چکا ہے_
اور جاناں اسفند ملک بغیر پلک جھپکائے شازل کو دیکھ رہی تھی اسکو تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ سب ورکرز روم سے جا چکے ہیں وه تو بس شازل کو دیکھے ایک ہی بات سوچی جا رہی تھی کہ آج اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار شازل کو بغیر مسکراہٹ کے دیکھ رہی ہے نہ ہی آج اس نے ایک بار بھی اپنے خوبصورت ڈیملز کا دیدار کروایا جاناں کو تو وه کوئی اور ہی شازل میران ملک لگ رہا تھا
وه انہی خیالوں میں گم تھی جب شازل نے اسکے سامنے چٹکی بجائی تو وه ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور اسکی طرف دیکھنے لگی اور پھر روم کی طرف دیکھا جہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آ ریا تھا
کن خیالوں میں گم ہیں آپ مس جاناں اسفند ملک یہ آفس ہے اور یہاں ایکٹو ہو کر کام کرنا پڑتا ہے تو آپ کی جو پریشانیاں ہیں تو مہربانی کر کے ان کو اپنے گھر چھوڑ کر آیا کریں اور آیندہ میں آپ کو اس طرح نہ دیکھوں_ شازل اسکو اچھی خاصی سنا کر باہر کی جانب جانے لگا
یو مسڑ واحیات اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں آتے ہی اپنے روعب جھاڑنے لگے ہیں میں اس كمپنی کی ورکر نہیں ہوں جس پر آپ اپنا حکم چلائیں
جاناں نے اسے بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنے سامنے کیا یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ شازل کچھ سمجھ ہی نہیں پایا تھا وه کبھی جاناں کو دیکھتا جو اس کے قریب کھڑی تھی تو کبھی اسکے ہاتھ کو جو شازل کے دائیں بازو پر تھا_ اور جاناں جو اتنی دیر سے اسکا اپنے ساتھ روڈ سا رویہ دیکھ رہی تھی اب اسکی ساری برداشت ختم ہوئی تھی وه کیسے برداشت کر لیتی جس شخص نے ساری زندگی اسے ہمیشہ اس دنیا میں اسپیشل رکھا اپنی جان کہا یوں اچانک اسکا ڈانٹنا ، غصہ کرنا جاناں کیسے برداشت کر سکتی تھی______
مس جاناں اسفند ملک آپ اس کمپنی کی ورکر ہی ہیں کیوں کہ میں اس کمپنی کا اونر ہوں نہ کے آپ اور دوسری بات آپ کو تمیز نہیں ہےہاتھ چھوڑیں میرا_
شازل اسکا ہاتھ ہٹاتا ہوا پیچھے ہوا اور دونوں کے درمیان فاصلہ قائم کیا تو جاناں اسکی اس قدر بےرخی پر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی جن میں ہمیشہ اسے اپنے لیے محبت ہی محبت نظر آتی تھی مگر آج ان میں صرف سرد پن تھا جو جاناں کو تکلیف دے رہا تھا اور جو بات آج تک جاناں اسے کہتی آئی تھی آج شازل میران ملک نے اسکو وہی بات لٹائی تھی جس پر جاناں کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے جس کو دیکھ کر شازل نے اپنی نظریں پھیر لی تھیں_
مسٹر واهيات آپ شائد بھول رہے ہیں میران انکل کی جگہ اب میں اس كمپنی کی اونر ہوں کیوں کہ وه اپنی تمام ریسپونسیبیلیٹیز مجھے یعنی جاناں اسفند ملک کو دے کر گئے ہیں میران انکل کے شیرز 60℅ ہیں اور آپ کے 40℅ تو اس حساب سے اس كمپنی کی بڑی اونر میں ہوں نہ کے آپ مسٹر واهيات_______
جاناں اسکے کوٹ کے بٹن بند کرتی ہوئی اسے یاد دلانے لگی جس پر شازل نے اسکے تیور دیکھتا مسکرا رہا ٹھا مطلب اسکی جان اسکی توجہ چاہتی تھی
تو تمہارا کہنا ہے کہ اب شازل میران ملک جاناں اسفند ملک کے انڈر رہ کر کام کرے گا واہ کیا جوک مارا ہے
شازل قہقہ لگانے لگا انداز ایسا تھا کہ واہ کیا کہنے تمہارے
تو جاناں اسکے ڈیمپل دیکھنے لگی جس نے آخر اپنا دیدار کروا ہی دیا تھا بےاختیار جاناں نے اپنے دونوں ہاتھ جو اس کے کوٹ پر تھے ان کو وہاں سے ہٹاتی شازل کی دونوں گالوں پہ پڑنے والے ڈیمپلز پر رکھ دیے اور ان کو مسكراتا ہوا محسوس کرنے لگی جس پر شازل کی مسکراہٹ رکی تھی اور دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں تھی آخر اسکی جان نے اسکے ڈیمپلز کو چھو ہی لیا تھا مگر کچھ دیر بعدوہ واپس سنجیده ہو گیا تھا اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے گالوں سے ہٹا دیے تو جاناں بھی ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور آنکھوں میں آنسوں لیے اپنا رخ موڑ گئی جس پر شازل نے غصہ سے اس کی پشت کو گھورا
مس جاناں اسفند ملک 5 منٹ میں خان انڈسٹری کے پروجیکٹ کی فائل لے کر میرے روم میں پہنچو اور 5 منٹ مطلب 5 منٹ ہونے چاہیے ورنہ پھر میں تمہیں بتاؤ گا میں کس قسم کا واهيات ہوں
وه غصے سے کہتا روم سے باہر چلا گیا
افف جاناں اسفند ملک کیا ہو رہا ہے تمہیں کیوں ہو رہی ہے اب اتنی تکلیف آج تک تم اسکی انسلٹ کرتی آئی ہو اب کرو برداشت اب وه تم سے محبت نہیں کرتا وه ایک مرد ہے اور مرد کبھی بھی اپنی انسلٹ برداشت نہیں کرتا
جاناں کو اپنے ضمیر کی آواز اپنے کانوں میں سنائی دینے لگی جس پر وه شدت سے رو دی_
نہیں میں بھی اب اس کے نزدیک نہیں جاؤں گی اس سے دور رہوں گی چاہے جو ہو جائے اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وه مجھ سے بری طرح پیش آئے وه میرے لیے صرف ایک کزن کی حیثیت رکھتا ہے اور کچھ بھی نہیں
جاناں غصے سے اپنے آنسوں صاف کرتی باہر چلی گئی اور پیچھے دروازے کے پاس کھڑے شازل نے غصے سے اسکی پشت کو گھورا
یہ تمہاری بھول ہے جان تم خود چل کر آؤ گی میرے پاس اور مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرو گی تب تم مجھے بتاؤ گی میں تمہاری زندگی میں کیا حیثیت رکھتا ہوں میری سر پھری جان
شازل ایک بار پھر قہقہ لگاتا اپنے روم میں چلا گیا
اور بھی ماڈل صاحب کیسا دن گزرا آج کا
وه سب لوگ رات کے کھانے کے بعد لاؤنچ میں بیٹھے تھے جب میران صاحب نے شازل سے پوچھا جو نور اور زویا کے درمیان بیٹھا تھا
جی ڈیڈ اچھا ہی گزرا ہی ہو گا اب آپ نے سزا دی ہے تو اچھی ہو یا بری نبھانی تو ہے شازل نور کے بال خراب کرتا ہوا بولا جو اسکے موبائل لے کر بیٹھی تھی اب بیچاری کا خود کا تو همسفر ٹوٹ گیا تھا اب اپنے جانو بھائی کا لے کر بیٹھی تھی
بیٹا کبھی تو سہی طرح سے بات کر لیا کرو ڈیڈ ہیں تمہارے
صوفیہ بیگم لاؤنچ میں آتی ہوئی اسکے سر پہ چپت لگائی
موم اچھا ہے نہ گھر میں شوگل لگا رہتا ہے_
زویا شازل کے کندھے پہ سر رکھتی اپنی مما جان کو کہنے لگی__
ہاں بابا تو مذاق ہیں نہ جو آئے ان کے ساتھ کر کے چلا جائے کوئی لحاظ ہوتا ہے تمیز ہوتی ہے مگر زوئی کی بچی کو کیا پتا وه کیا ہوتی ہے
نور موبائل یوز کرتی مصروف سے انداز میں بولی جس پر زویا نے اسکی کمر پر مکہ مارا__
ہائی میری معصوم کمر توڑ دی اس ظالم نے
نور اونچا اونچا بولنے لگی بس کرو ڈرامے باز اتنا بھی نہیں مارا زویا گڑیا نے
شازل بھی اسکی کمر پہ تھپڑ مارتا ہوا بولا جس پر زویا کا قہقہ گونجا میران صاحب اور صوفیہ بیگم اس کی اداکاری پہ ہنسنے لگے__
جانو بھائی آپ نے اس زوئی کی بچی کی وجہ سے مجھے مارا اب اس زوئی کی خیر نہیں
نور کا صدمے سے برا حال ہو گیا تو شازل نے اسکو گھورا جو زویا کو مارنے لگی تھی
بہت چلاق ہو تم اینجل زویا گڑیا بہت معصوم ہے اور تم سے بڑی ہے آیندہ میں تمہیں ایسے کرتے نہ دیکھوں_
شازل اسے پیار سے سمجھاتا ہوا بولا تو وه ہاں میں سر ہلا گئی اور زویا کو دیکھا جو سچ میں بہت معصوم تھی وه ہمیشہ اسے پہلے تنگ کرتی تھی وه معصوم سبز آنکھوں والی گڑیا نور کو بہت پیاری تھی تبھی تو اسے تنگ کرتی تھی
شکر ہے بھائی آپ آ گئے ہیں ورنہ یہ ایسے ہی تنگ کرتی ہے مجھے
زویا شازل کی طرف دیکھتی معصومیت سے بولی تو اس کے ماما بابا نے ماشاء اللّه کہا
ہاں میری گڑیا میں اب یہی ہوں
شازل نے اس کا ماتھا چوما تو نور نے بھی اپنا ماتھا آگئے کر دیا تو مسكراتا ہوا اسکا بھی ماتھا چوما
اچھا ڈیڈ آپ لوگوں سے بہت ضروری بات کرنی ہے
ہاں بولو کیا بات ہے
میران صاحب اور صوفیہ بیگم اسکی جناب متوجہ ہوئے
ڈیڈ وه ولی زویا کی رخصتی چاہتا ہے اور ویسے بھی 5 سال ہو گئے نکاح کو تو مجھے بھی اسکی بات ٹھیک لگی مگر وه اسی ہفتے کا کہہ رہا ہے_
اسکی بات جہاں وہ لوگ خوش ہوئے تھے وہیں زویا کو اپنی سانس لینا مشکل لگنے لگا
میں روم میں جا رہی ہوں گڈ نائٹ
وه کہتے اٹھ کر چلی گئی تو نور بھی اس کے پیچھے جانے لگی اینجل تم یہاں آؤ میرے پاس زویا کو جانے دو_
شازل نے نور کو اپنے پاس بلايا تو وہ منہ بناتی اسکے پاس واپس بیٹھ گئی
کیا جانو بھائی مجھے زوئی کو مبارک دینی تھی اب ھمارے گھر میں بھی شادی ہو گی یاہو
ہاں اینجل بعد میں بات کرنا سہی کہہ رہا ہے تمہارا بھائی ابھی اسکے لیے یہ نیوز بہت بڑی ہے تو اسے ریلیکس ہونے دو_
میران صاحب نے کہا تو چپ ہو کر بیٹھ گئی
بیٹا باکی تو بہت خوشی کی بات ہے مگر ایک ہفتے میں تیاریاں کیسے ہوں گی
صوفیہ بیگم کو تیاریوں کی ٹینشن ہونے لگی ظاہر سی بات ہے بیٹی کی شادی وه بھی اتنی جلدی پریشانی کی تو بات تھی مگر خوش بھی بہت تھیں
ارے تیاریوں کی کیا ٹینشن گھر کی بات ہے باکی چار چار بیٹے ہیں ھمارے تو سب ہو جائے گا بس تم صبح ولی کو گھر بلاو اور اسفند بھائی اور بھابی کو_ باکی صبح بات کریں گے ٹائم بہت ہو گیا ہے تم سب کو انفارم کر دو اور نور بیٹا روم میں جاؤ ____
میران صاحب کی بات پر شازل نور سے موبائل لیتا اسکا ماتھا چومتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا آخر ان دو نمونوں کو خوش خبری سنانی تھی جنہوں نے دو روز سے تنگ کر کے رکھا ہوا تھا_
وه بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور دروازے کو بند کرتی وہیں نیچے دروازے کے ساتھ لگ کے بیٹھتی چلی گئی اور آنسوں کا سیلاب بہنے لگا
میں کبھی بھی آپ کو معاف نہیں کروں گی آپ کی وجہ سے میری بیسٹ فرینڈ آج اس حالت میں ہے جاناں کا ہر درد میں جانتی ہوں وه اگر آج تکلیف میں ہے تو اسکی وجہ صرف آپ ہیں میں آپ سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گی آپ بہت برے انسان ہیں ولی نفرت ہوتی ہے مجھے آپ سے _
وه غصہ سے اٹھتی ہوئی وارڈروب سے کپڑے نکالتی واشروم میں بند ہو گئی
10 منٹ میں فریش ہو کر باہر آئی اپنے بال سیٹ کیے اور روم سے نکل گئی
باہر آئی تو سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے وہ سانس خارج کرتی ہوئی پورچ میں آئی اپنی گاڑی میں بیٹھتی گارڈ کو دروازہ کھولنے کا کہتی مینشن سے نکلتی چلی گئی یہ سوچے بغیر رات 10 بجے اسکے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے ایسی ہی تھی وه جذباتی کچھ نہیں سوچتی تھی بس جو دل میں آتا کر دیتی
ٹھیک ادھے گھنٹے بعد وه اس شخص کی آفس کی باہر کھڑی تھی اسکو اندر جاتا دیکھ گارڈ بھاگ کر اسکے سامنے آیا_
میم آپ اس وقت اندر نہیں جا سکتی_
کیوں نہیں جا سکتی
وه اسے گھورتے ہوئی بولی
کیوں کہ میم رات کے ساڑھے 10 ہو رہے ہیں اور اس وقت کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے
اہ تو مطلب تم مجھے اندر جانے نہیں دو گے نہیں_
سہی ہے بعد میں مجھے مت کہنا بتایا نہیں_ زویا سبز آنکھوں کو گھوماتی ہوئی بولی کیا مطلب _
وه پریشان ہوتا ہوا بولا
یہی کہ میں ملک خاندان کی بیٹی، شازل میران ملک کی بہن اور _ وه اسکی طرف دیکھتی ہوئی روکی جو یہ سب سن کہ پریشان ہو گیا تھا_
ااااور
وه اٹکتا ہوا بولا
اور یس پی زرام اسفند ملک کی سالی ۔۔۔۔
اور یہ بات کہتی وه نور کو تصور کرتی دل میں مسکرآئی تھی
اب بتاؤ جانے دو گے اندر ججی جی میم آپ جائیں وه پیچھے ہٹتا ہوا بولا ڈرپوک بلکل میری طرح _
وه منہ میں بڑبڑاتی اندر کی جانب بڑھ گئی_ آفس میں داخل ہوتے اندھیرے نے استقبال کیا تو زویا کو ڈر لگا تھا وه غصہ میں آتو گئی تھی اگر وه نہ ہوا تو
وه اندھیرے میں چلتی ہوئی آگے بڑھی تو زویا کو سیکنڈ فلور پہ روشنی جلتی ہوئی نظر آئی تو بے خوف ہوتی غصہ سے سیڑھیاں چڑھی
روم کے سامنے پہنچتے دھڑم سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی وه جو گھر جانے کے لیے چیر سے اپنا کوٹ اٹھا رہا تھا شور پہ مڑ کر دیکھا تو ایک لمہے کے لیے ساکت رہ گیا
پورے 5 سال بعد وه اسکے سامنے کھڑی تھی
گرے لونگ شرٹ کے ساتھ ریڈ کیپری پہنے ، ہم رنگ ڈوپٹہ جو کندہوں اور سینے پہ پھلاآیا ہوا تھا
مناسب قد، گورا مگر گلابی رنگ، سبز آنکھیں اور دائیں آنکھ کے نیچے چھوٹا سا تل جو اسکی آنکھوں کو پر کشش بناتا تھا، لمبی ناک جس میں خوبصورت چھوٹی سفید نوز پن پہنی ہوئی تھی ، گلابی ہونٹ، بھورے بھاری بال جن کو پونی میں قید کیا ہوا تھا
دبلی پتلی نازک سی زویا آج بھی اتنی ہی دلکش اور خوبصورت تھی شائد زیادہ ہو گئی تھی
اسکا جائزہ لینے کے بعد اسنے اپنی گھڑی پہ ٹائم دیکھا جہاں ١٠: ٣٠ ہو رہے تھے
ٹائم دیکھتے اسکی کی آنکھوں میں شولے بھڑکنے لگ گے تو وه اسکی جانب بڑھنے ہی لگا تھا کہ زویا غصہ سے اس کے پاس آئی اور اسکے کالر کو اپنے دونوں ہاتھوں جکڑا ناجانے اس میں اتنی بہادری کہاں سے آگئی تھی شائد اپنی شادی کی بات سن کر
مسٹر ولی برہان ملک صرف تمہاری وجہ سے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے میری عزیز دوست آج اتنی تکلیف میں ہے میں تم سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گی نفرت کرتی ہوں میں تم سے وه بھی شدید ترین
وه اپنی سبز آنکھوں میں غصہ لیے ولی کے بہت قریب کھڑی تھی
اور ولی برہان ملک غصہ سے کبھی اسے دیکھتا تو کبھی اپنے کالر کو وه تو اس لڑکی کی ہمت پر حیران ہو رہا تھا جو اس کے کالر تک پہنچ گئی تھی_ اور زویا اپنی کہہ کر جب خاموش ہوئی اور اسکی آنکھوں کے اشارے کو سمجھی تو اپنے غصہ میں کی گئی غلطی کا احساس ہوا تو اپنے ہاتھ ہٹانے لگی تھی کہ ولی برہان ملک نے اسکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور اسکے طرف قدم لینے لگا اور اسے اپنی طرف اور اتنے نزدیک آتا دیکھ زویا کو سہی معینے میں اب ڈر لگنے لگا تھا اور اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تو وه بھی پیچھے کی جانب قدم لینے لگی اور ایک اور قدم لینے ہی لگی تھی کہ دیوار کے ساتھ جا لگی اور پھر دیوار کے ساتھ سر ٹکاتے خوف سے آنکھیں بند کر گئی____
لیکن ولی برہان ملک کی آنکھوں میں صرف غصہ تھا اور کچھ بھی نہیں
وه اسکی جانب جھکا اور اسکے کان میں غراتے ہوئے سرگووشی کرنے لگا
تم جانتی ہو تم نے آج اور اس وقت کیا غلطی کی ہے تم نے ولی برہان ملک کے کالر کو پکڑنے کی غلطی کی ہے جو آج تک کسی میں اتنی ہمت پیدا نہیں ہوئی
کہتے ہی وه اسکی گردن پہ جھکا اور وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا اور اپنے کالر سے اسکے ہاتھ چھڑواتے اوپر دیوار کے ساتھ لگا دیے زویا تو اس کے وهشت زدہ لمس اور پتھریلی آواز پہ ہی کامپنے لگی ووووو ۔۔وه میں نے
زویا کو بولتے دیکھ ولی برہان ملک نے اس کی گردن سے منہ نکالا اور اس کی آنکھوں میں گھورنے لگا
ششش تم جانتی ہو ابھی ٹائم کیا ہو رہا ہے اور اس وقت تم میرے آفس میں اکیلی ہو اور میں تمہارے بقول بہت برا ہوں جو تمہاری دوست کے ساتھ برا کر سکتا ہے تو سوچو تمہارے ساتھ کیا کچھ کر سکتا ہے
وه اسکی کامپتے خوبصورت گلابی ہونٹوں کو دیکھتے کہنے لگا تو زویا کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگی
سوری آیندہ آپ کو کچھ نہیں کہوں گی نہ ہی آپ کے کالر کو پکڑوں گی پلیز مجھے جانے دیں
زویا کی ساری بہادری ہوا ہوئی تھی اور ولی سے خوف آنے لگا وه کتنی بڑی غلطی کر چکی تھی
نو نیور آج تو بلکل بھی نہیں آج تمہیں سزا دینا بہت ضروری ہے تاکہ دوبارہ کبھی بھی رات کے وقت اکیلی میرے پاس اور گھر سے نہ نکل سکو
کہتے ہی وه اس پر جھکا اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پہ رکھ دیے اور اسکی شدت اس قدر تھی کہ زویا کے زویا کو اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہونے لگی تو وه آنکھیں بند کیے اسکی شدت بھرا لمس برداشت کرنے لگی_ کچھ دیر بعد زویا کے آنسوں ولی برہان ملک کے چہرے پر گرے تو تب جا کے ولی نے اسکے ہونٹوں کو اپنی قید سے آزاد کیا تھا مگر پیچھے نہیں ہٹا تھا
آیندہ سوچ سمجھ کر گھر سے نکلنا مائی ہارٹ بیٹ
مسکرا کر کہتے وه ایک بار پھر جھکا اور اسکے ماتھے اور اسکی سبز آنکھوں کو چومتے اور پھر اپنے ہاتھوں سے اسکے ہاتھ آزاد کرتا پیچھے ہٹ گیا آج پہلی بار ولی برہان ملک دل سے مسكرايا تھا وه بھی اپنی ہارٹ بیٹ کی وجہ سے
نہایت ہی گھٹیا انسان ہیں آپ پتا نہیں شرم نام کی چیز تو ہے نہیں آپ میں
وه اپنے ہونٹوں کو ہاتھ سے صاف کرتی ہوئی غصے سے بولی
اور بھی گھٹیا بن سکتا ہوں اگر تم کچھ دیر اور میرے پاس رکی تو چلو گھر چھوڑ دوں تمہیں
وه اسکے پاس آتا ہوا بولا_ نہیں میں آپ کے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گی
زویا روتے ہوئی کہنے لگی
چلو وه نہ ہو میں تمہیں یہیں سے رخصت کر کے اپنے گھر لے جاؤں ولی برہان ملک اسکا نرمی سے ہاتھ پکڑتا ہوا باہر جانے لگا
باہر نکلتے گارڈ کواشارہ کرتا زویا کو لا کے گاڑی میں فرنٹ سیٹ پہ بیٹھایا جو اب بھی اپنے ہونٹوں کو صاف کرنے میں مگن تھی اور خود ڈرائیورانگ سیٹ پہ آکے بیٹھا اور ایک نظر اسے دیکھ کر گاڑی سٹارٹ کی
میران ملک مینشن کے باہر گاڑی روکی تو زویا گاڑی سے نکلنے ہی لگی تھی جب ولی نے اسکی نازک کلائی اپنے مضبوط ہاتھ میں لی تو وہ اسکو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی
آئندہ بغیر چادر کے گھر سے باہر مت نکلنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا
اور آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں
زویا سوں سوں کرتی ہوئی بولی تو ولی کو وه انتہا کی پیاری لگی تو دل شرارت کرنے پہ اماده ہوا
پھر اسکی جانب جھکا
اور بےبی تمہارے ہونٹوں سے بھی زیادہ خوبصورت اور میٹھی کوئی چیز نہیں ہو گی اب جلدی سے جاؤ وه نہ ہو انکو پھر سے ٹیسٹ کرنے کا میرا دل کرنے لگے_
وه اسکے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے رب کرتے ہوئے کہنے لگا تو زویا اسے دھکا دیتی بھاگتی ہوئی مینشن میں
چلی گئی
