Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
“بریرہ وہ۔۔بابا سائیں”
“مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔۔یہ وہ فائل ہے اگر یہ ڈیل حمدانی کے ہاتھوں سے چلی گئی تو بلاج حمدانی کو ووٹ کوئی نہیں دے گا بورڈ آف ڈائیریکٹر کی میٹنگ میں۔۔”
اپنی بلیک گلاسیز پہن کر گاڑی کا شیشہ اس نے پھر سے اوپر کرلیا تھا
۔
“بہرام جس میٹنگ کے لیے تمہارے دوست کی کمپنی نے ٹینڈر دیا تھا بلاج کی ڈیل کی کچھ انفارمیشن دی ہے۔۔مجھے نئے والے اپارٹمنٹ میں ملو بابا سائیں بھی وہیں ہی ہیں۔۔”
ارسل نے جیسے ہی فون بند کیا تھا اس پر پیچھے سے کسی نے وار کردیا تھا۔۔۔
۔
“بلاج سر اسے کہاں لیکر جانا ہے۔۔؟؟”
دو لوگوں نے ارسل کو گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹا دیا تھا۔۔
“وہیں لے جاؤ جہاں اسکے باپ کو رکھا تھا۔۔بہت محنت کرلی ان لوگوں نے۔۔”
۔
“ہاہاہاہاہاہا بلاج حمدانی کو یہ سب سمجھ کیا رہے ہیں۔۔؟ بیوقوف ناسمجھ۔۔؟
یا بےوفا۔۔؟؟؟
ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔بریرہ شاہ۔۔۔۔۔۔۔”
۔
وہ ایک شیطانی ہنسی ہنسا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ شاہ ابھی کے ابھی واپس آؤ چشمش ایک تو گاڑی نہیں چل رہی اوپر سے مستی سوجھ رہی۔۔”
“بریرہ بلاج حمدانی۔۔۔مسٹر بلاج۔۔۔زیادہ شوخے نا بنا کرو۔۔۔”
بلاج اپنی ہنسی چھپا کر گاڑی کی ڈکی کھول چکا تھا۔۔
۔
“تمہیں یاد ہے ہماری سیکنڈ ڈیٹ ایسی ہی تیز بارش میں اینجوائے کی تھی۔۔”
۔
“چاند سے بچھڑی راتوں کی،،،
آدھی سی ملاقاتوں کی،،،
کچھ باتیں دردوں کی تجھے سنانی ہے۔۔۔”
۔
“ڈانس ود مئ مسٹر ہبی رومینٹک سے موسم میں اکیلے روڈ پر۔۔”
بریرہ نے جمپ کرتے ہوئے اچھلتے ہوئے ریکوسٹ کی تھی
“ہاہاہا جھلی کہیں کیآگے ہی بھیگ چکے ہیں۔۔”
“کم آن مسٹر بورنگ۔۔۔”
بریرہ نے ہاتھ پکڑ کر اسے روڈ کے درمیان میں کھینچ لیا تھا
“بریرہ۔۔۔سیریسلی۔۔۔؟؟”
“یس مسٹر۔۔یو نو میری تو ہر فینٹیسی پوری ہو رہی تم سے شادی کے بعد۔۔”
بریرہ نے بلاج کے سینے پر بوسی دیتے ہوئے کہا تھا
“جس سے محبت ہو اور وہ آپ کے ساتھ ان بارشوں میں ہو تو ان بارشوں میں اس محبت کو چار چاند لگ جاتے ہیں
بارش کے گرتے ٹھنڈے ٹھنڈے قطرے محبوب کی بانہوں میں رقص کرتی محبوبہ اور یہ گنگناتی ہوئی بارش۔۔۔”
بریرہ نے بلاج کے کان میں سرگوشی کی تھی اور جیسے ہی بوسہ لیا تھا بلاج حمدانی کو پھر سے دیوانہ بنا دیا تھا عینک پہنی اس لڑکی نے۔۔۔
“گوش۔۔۔تم بریرہ شاہ۔۔۔۔”
بلاج کی دھڑکن رکی تھی جب بریرہ نے پھر سے اسکے دل پر بوسہ دیاتھا
“اک یاد پرانی ہے تیری میری کہانی ہے۔۔۔
بارش نا سمجھی تو،،،، اکھیاں دا پانی ہے”
۔
اور کیا فینٹیسی ہیں۔۔؟ وائفی۔۔۔؟؟”
بلاج نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر جیسے ہی اسے گھمایا تھا بریرہ کی بیک بلاج کی طرف تھی۔۔
“آج بھی اس دیوانے کی ایک دیوانی ہے۔۔۔
اک یاد پرانی ہے،،،تیری میری کہانی ہے،،،”
۔
بلاج نے اسکی گردن سے بال ہٹا کر جیسے ہی اسکے کندھے پر بوسہ دیا تھا بریرہ کے پوری وجود میں اک بجلی ڈوری تھی۔۔۔
“بلاج۔۔۔”
اس نے جیسے ہی بلاج کے ہونٹ اپنے گلے پر محسوس کئیے تھے ایک سرگوشی کی تھی
“ششش۔۔۔۔میری بھی ایک فینٹیسی ہے وائفی۔۔۔”
“کیا۔۔۔مسٹر ہبی۔۔۔”
“تمہیں بھیگتی بارش میں ۔۔۔”
“کیا۔۔۔؟؟”
۔
۔
“اینی پرابلم مس۔۔؟؟”
بریرہ کی رکی ہوئی گاڑی کے پاس ایک پولیس آفیسر نے شیشے پر ناک کرکے پوچھا تھا۔۔
“نو۔۔۔نتھنگ۔۔۔۔”
پاتھے سے پسینہ آنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔جب سے وہ ہسپتال سے آئی تھی اسے کیوں ماضی یاد آرہا تھا۔۔پولیس آفیسر کی گاڑی جیسے ہی وہاں سے گئی تھی بریرہ نے بھی اپنی گاڑی سٹارٹ کی تھی
پر گاڑی سٹارٹ نہیں ہوئی تھی۔۔
آج اسے یہ بارش پسند نہیں آرہی تھی ایک لمحہ بھی۔۔پر وہ یہاں اس جگہ موبائل میں بنا سگنل ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتی تھی
وہ جیسے ہی گاڑی میں مسئلہ دیکھنے کے لیے باہر نکلی تھی۔۔
اسکی ہیل پانی میں زرا سی پھسلی تو وہ ڈر گئی تھی اپنا ہاتھ اس نے اپنے پیٹ پر جیسے ہی رکھا تھا جیسے وہ بچا رہی تھی خود کو گرنے سے
وہ خود تو بچ گئی تھی پر آنکھیں بھر آئیں تھی اس میں ہمت نہیں تھی اپنے پیٹ سے ہاتھ ہٹانے کی
“تو،،،تو نہیں ہے ساتھ میرے،،،تیری نشانی ہے۔۔۔
بارش نا سمجھی تو،،،اکھیاں دا پانی ہے۔۔۔”
۔
“بدلے لینے والے لوگ خود کو جب جذبات اور کھوئی ہوئی محبتوں میں کھو دیتے ہیں تو ایسے ہی پچھتاتے ہیں بریرہ شاہ جیسے آج تم۔۔۔
کیا کرنے آئی تھی واپس۔۔؟ بدلہ لینے یا خاندان کا خون بہانے والے کے خون کو پھر سے دنیا میں لانے کے لیے۔۔؟ یہ اولاد بھی دشمن کی اولاد ہے بریرہ۔۔۔”
بریرہ کو اپنی ہی پرچھائی اسے کوستے ہوئے دیکھائی دے رہی تھی
“بریرہ یہ اولاد ہے نعمت ہے ساری زندگی تو تم اپنےرب سے دور بھاگتی رہی ہو یہ بچہ تمہیں ایک نئی زندگی ایک موقع دے رہا ہے بریرہ۔۔۔”
بریرہ کا ہاتھ پھر سے اسکے پیٹ پر تھا۔۔۔
“بریرہ یہ بچہ ایک دشمن کی اولاد سے زیادہ کچھ نہیں۔۔بھول گئی جس اولاد کی خواہش تم نے کی تھی کس طرح اس ظالم نے تمہارے خاندان کے ساتھ اس اولاد کا بھی نام و نشان مٹا دیا تھا۔۔
بریرہ یہ غلطی مت کرنا۔۔۔”
“بریرہ وہ معصوم ہے وہ بچہ۔۔”
“میں بھی معصوم تھی۔۔۔یہ بچہ صرف بلاج حمدانی کا خون ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہا بریرہ اسے ختم کردو گی نا تم تو تمہیں لگے گا تم نے دشمن کو ہرا دیا۔۔”
اس کی اپنی پرچھائیاں اسے زہر لگنا شروع ہوگئیں تھیں
“بریرہ کیا تم سچ میں اسے نقصان پہنچاؤ گی جس کی زندگی میں تم ماں کا درجہ رکھو گی۔۔؟
کیا آسان ہوگا اسے مار دینا بریرہ۔۔؟؟”
بریرہ نے اپنے سر پکڑ لیا تھا۔۔
“بس کر جاؤ تم دونوں چپ ہوجاؤ بس۔۔۔”
۔
اسے چکر آنا شروع ہوئے تھے ٹھنڈی بارش میں بھی اسکے اپنا سر گرمائش سے پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔
۔
اسے بےہوش ہونے سے پہلے اتنا یاد تھا دو ہاتھوں نے اسے باحفاظت تھام لیا تھا گرنے سے۔۔
“آفیسر ‘بی-اے-ایچ’ انہیں بھی انکے بھائی کے ساتھ انڈر گراؤنڈ۔۔”
“میں دیکھ لوں گا۔۔۔جائیں یہاں سے۔۔۔”
۔
“چشمش۔۔۔”
پر بریرہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مدیحہ بیٹا رک جاؤ دیکھو بلاج تم سے ہی بہت محبت کرتا ہے۔۔”
داد جی کے راستہ روکنے پرمدیحہ نے اپنا بیگ بھی وہیں رکھ دیا تھا
“جی اسی لیے وہ اس دشمن کی بیٹی کے ساتھ باہر ہوٹل میں راتیں گزارتا پھرتا ہے۔۔؟”
“یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔؟ بلاج یہاں نہیں ہے بیٹا اور۔۔”
“زمرد صاحب نے سخت لہجے میں مدیحہ کو کہا تھا
“وہ نہیں ہے جھوٹ بولتا ہے آپ کا بیٹا انکل۔۔ وہ آپ لوگوں کو بھی دھوکا دے رہا ہے۔۔”
“تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے مدیحہ۔۔”
رابیعہ بیگم نے بہت پیار سے مدیحہ کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“اگر وہ راتیں گزارتیں بھی ہیں تو کونسا گناہ کرتے ہیں۔۔؟ بریرہ میرا مطلب پشمینہ بھی تو بیوی ہے نا۔۔؟ اور وہ تو پہلی بیوی ہیں بلاج بھائی کی۔۔”
ردا سیڑھیوں پر کھڑی تھی جب اس نے اونچی آواز میں کہا۔۔اور کتنے ہفتوں کے بعد وہ پہلے والی ردا نظر آئی تھی جس طرح وہ مدیحہ کو دیکھ رہی تھی
“سیریسلی۔۔؟؟ ردا میڈم۔۔؟ زخموں پر مرہم لگانے والی کی چمچی بن گئی ہو۔۔؟؟”
“چمچی تو میں آپ کی بھی تھی مدیحہ بھابھی۔۔بھائی کے ساتھ پہلی ملاقات میں نے تو کروائی تھی۔۔
وہ الگ بات ہے میں اب آپ جیسے لوگوں کا اصل چہرہ دیکھ چکی ہوں۔۔۔”
“ردا تم۔۔۔”
“بلاج بھائی آگئے ہیں۔۔”
“میں کرتا ہوں بلاج سے بات بیٹا وہ تمہارا۔۔۔”
داد جی کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب انہوں نے بلاج کو دیکھا تھا اندر داخل ہوتے ہوئے
بریرہ کو بہت پیار ے سے اپنی بانہوں میں اٹھائے جلدی سے اندر آرہا تھا۔۔وہ تو سب اگنور کرکے جا رہا تھا جب رابیعہ بیگم فکرمندی سے آگے آگئیں تھیں۔۔
“بہو ٹھیک تو ہے بیٹا۔۔؟”
“جی بس بےہوش۔۔۔”
“تم تو ملک سے باہر تھے نا۔۔؟ داد جی میں نے کہا تھا یہ جھوٹ بولنا بھی شروع ہوگئے ہیں اب میں جا رہی ہوں یہاں سے۔۔۔”
مدیحہ نے اپنا بیگ اٹھا لیا تھا۔۔
“تمہیں جو کرنا ہے کرو۔۔مدیحہ۔۔اور جانے سے پہلے یاد رکھنا میں لینے نہیں آؤں گا۔۔
اب راستہ چھوڑیں میرا سب۔۔تماشہ لگا ہوا ہے کیا۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی چلایا تھا سب پیچھے ہوگئے تھے
“داد جی۔۔۔بلاج بھیا کی بدتمیزی برداشت سے باہر ہے اب۔۔”
ربیل نے سب کی توجہ حاصل کرلی تھی جو خاموشی سے بلاج کو اوپر جاتا دیکھ رہے تھے
“اور تمہاری باتیں بھی ربیل۔۔”
“کیوں زمرد بھائی صاحب میرے بیٹے نے کیا غلط کہہ دیا۔۔؟”
اب تم مجھ سے بحث کرو گے وہاج اپنے بیٹے کے لیے۔۔؟؟”
زمرد صاحب اپنے چھوٹے بھائی کے آگے کھڑے ہوگئے تھے
“اگر آپ اپنے بیٹے کی غلطیاں جان کر بھی اسکا ساتھ دے سکتے تو۔۔”
“میرے سامنے اگر دوبارہ آواز اونچی کی وہاج تو انجام برا ہوگا مجھے پسند نہیں ہے ایسی گستاخیاں۔۔۔”
اپنے بھائی کو کندھے سے پیچھے جھٹک کر وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔
داد جی وہیں چپ کے چپ کھڑے تھے۔۔اپنے بیٹوں کو وہ آج آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔۔
۔
۔
“تم سہی کہتے ہو ربیل۔۔۔دشمن کی بیٹی کو اب اس گھر سے جانا ہی ہوگا۔۔۔”
۔
داد جی اپنی بات کر کے بہت سے لوگوں کو شوکڈ چھوڑ گئے تھے وہاں۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہاہاہاہا ریان میں اب بلاج کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔۔۔میں اسے چھوڑ آئی ہوں۔۔”
مدیحہ ریان کے اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہو بول پڑی تھی
“ہاہاہا اس بیچاری کو کیا پتا تم آج ہی اسے چھوڑ دینے والے ہو۔۔۔” ریان کے بھائی نے آہستہ آواز میں کہا تو ریان بھی ہنستے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ گیا تھا
“مدیحہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔”
“میں بھی ریان۔۔۔یہ بیجڈ مجھے بلاج کی کے کوٹ سے ملا آج صبح۔۔۔”
“بیج۔۔؟ دیکھاؤ۔۔۔”
ریان کو دے کر مدیحہ ریان کے بھائی کو ہیلو کرکے وہیں صوفہ پر بیٹھ گئی تھی۔۔
“او مائی گاڈ سیریسلی۔۔؟؟ ‘سی-بی-آئی’ ۔۔؟؟ سلمان انکل کو انفارم کرنا ہوگا۔۔”
ریان کا بھائی اٹھ کر وہ بیج کھینچ کر لے گیا تھا ریان ابھی بھی شوکڈ تھا
“بی-اے-ایچ۔۔؟؟”
اس نے خود سے بات کی تھی پر مدیحہ نے سن لیا تھا
“کیا ہوا۔۔؟ تم دونوں بھائی اتنے شوکڈ کیوں ہوگئے۔۔؟ اس بیج کا جب بلاج سے پوچھا تھا وہ بھی ایسے ہی شوکڈ ہوا تھا۔۔
“مطلب یہ بلاج کا نہیں ہے۔۔؟” ریان نے حیرانگی سے پوچھا تھا
“وٹ بلاج کا۔۔؟ وہ مافیا مین ہے ‘سی-بی-آئی’ سے کیا تعلق اسکا۔۔؟
ضرور کسی آفیسر کا مڈر کردیا ہوگا اس نے۔۔”
مدیحہ نے جیسے ہی غصے سے کہا تھا ریان نے سکون کا سانس لیا تھا
“تم اس کے پاس نہیں رہنا چاہتی۔۔؟ پہلے تو بہت محبتیں نچھاور کرتی تھی اس پر۔۔”
ریان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔۔
“جب سے اسے اس پشمینہ کے ساتھ دیکھا ہے مجھے نہیں اچھا لگتا کچھ بھی ریان۔۔
تنگ آگئی ہوں بلاج کی بےرخی سے۔۔۔”
“میں بھی تنگ آگیا ہوں تم سے دور رہ کر۔۔پر ابھی تمہارا حمدانی مینشن رہنا بہت ضروری ہے میری جان۔۔۔”
۔
“پر ریان ہمارا بچہ۔۔”
“کچھ نہیں ہوگا مدیحہ۔۔بس کچھ دن اور۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تمہیں پاکستان جانا ہے نا دفعہ ہوجاؤ۔۔یا میں خود تمہیں ائیرپورٹ تک چھوڑ کر آتا ہوں۔۔”
“ربیل میری بات سن لو۔۔”
“بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری بات۔۔”
وہ اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے گیا تھا سامنے سے بلاج آرہا تھا جو اسے دیکھ کر رکا تھا وہاں
“اس وقت اس طرح کہاں لے جا رہے ہو اپنی بیوی کو۔۔؟”
“آپ اپنی بیوی کو سنبھال لیں پہلے پھر میری زاتی زندگی میں دخل دیجئے گا۔۔۔”
“ربیل۔۔۔”
“باےئ جان رامین میڈم کا بہت دل ہے اپنے ماں باپ کے پاس جانے کا اسے ائیر پورٹ چھوڑ کر آتا ہوں۔۔”
۔
داد جی وہاں موجود نہیں تھے اور بلاج نے آگے کوئی سوال جواب نہیں کیا تھا وہ سیدھا کچن میں گیا تھا ملازمہ سے بریرہ کے لیے کھانے کا کہہ کر وہ واپس اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔
۔
پورے دن کے معاملات نمٹا کر وہ تھک گیا تھا ۔۔
۔
“تائی جان انہیں روکیں۔۔”
“ربیل ایک بار۔۔۔”
“امی پلیز تائی جان سے کہیں پیچھے ہی رہیں۔۔”
ربیل کی بات س کر اسکی امی گھبرا گئی تھیں رابیعہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر وہ انہیں وہاں سے لے گئی تھیں۔۔
ربیل بری طرح سے رامیں کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر سے ائیر پورٹ لے گیا تھا۔۔
۔
“جاؤ ائیر پورٹ۔۔”
سرخ پر سامان پھینک کر وہ واپس اپنی گاری کے لیے مڑا تھا
“ربیل تم چاہے اس بچے کی موت کے منتظر ہو گے۔۔پر میں اسے زندگی ضرور دوں گی۔۔
اور اسکے برتھ سرٹیفیکیٹ پر باپ کے نام کی جگہ تمہارا ہی نام لکھواؤں گی۔۔۔”
ربیل کے قدم رکے ضرور تھے پر وہ واپس مڑا نہیں تھا۔۔
۔
۔
وہ اس جگہ اپنی بیوی کو چھوڑ تو آیا تھا پر کچھ ہی دیر میں اسکی گاڑی کے ساتھ ایک ٹرک آ ٹکڑایا تھا اور اسکی گاڑی کا بری طرح سے ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔۔
۔
۔
وہاں رامین پاکستان جانے والی فلائٹ پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پر بریرہ میڈم۔۔”
“پشمینہ۔۔۔لے جاؤ اسے یہاں سے۔۔”
“پر بلاج سر نے سختی سے کہا تھا آپ کو ڈنر۔۔”
بریرہ نے وہ ٹرے بیڈ سے نیچے پھینک دی تھی۔۔
وہ کچھ نہیں کھانا چاہتی تھی وہ سزا دینا چاہتی تھی خود کو بھی اور اس معصوم کو بھی۔۔۔کیا آسان تھا اتنا۔۔؟؟”
۔
“ایک وقت تھا بلاج جب ہمارے پیار کی تمہاری نشانی ہماری اولاد کے لیے میں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی تھی۔۔پر آج میں وہ نہیں رہی آج میں ختم کردینا چاہتی تمہیں بھی تمہاری اس نشانی کو بھی خود کو بھی۔۔۔”
وہ زہر اگل رہی تھی۔۔۔وہ نفرت بول رہی تھی وہ کیا اتنی آگے نکل آئی تھی اس نفرت اور بدلے کی جنگ میں۔۔؟”
۔
۔
اس کا اتنے میں فون بجا تھا۔۔۔مہتاب کا نام سکرین پر وہ دیکھ کر تھوڑی حیران ہوئی تھی
“ہائے۔۔۔مہتاب۔۔۔”
“بر،،،پشمینہ۔۔۔مجھے کچھ بتانا تھا تمہیں۔۔اس سے پہلے کوئی اور بتائے۔۔”
مہتاب کی آواز میں گھبراہٹ ہچکچاہٹ درد صاف محسوس ہورہا تھا بریرہ کو
“کیا ہوا ہے مہتاب۔۔؟؟”
“بلاج بھیا نے مجھے اپنے آفس میں بلایا تھا۔۔۔اور وہاں۔۔۔ثانیہ بھی موجود تھی۔۔۔”
“ثانیہ۔۔۔نام سنا ہوا لگ رہا۔۔۔”
“بھیا چاہتے ہیں میری اور ثانیہ کی شادی ہوجائے۔۔۔”
بریرہ نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔
“اور تم۔۔۔؟؟ کیا تم نے ہاں کردی۔۔؟ بہت آسان ہے تم حمدانیز کے لیے موو آن کرنا۔۔؟؟”
“بلاج بھیا نے پہلی بار کچھ مانگا مجھ سے پشمینہ۔۔”
“گو ٹو ہیل۔۔۔”
۔
بریرہ نے اپنا فون دیوار پر مار دیا تھا۔۔۔
“بلڈڈی باسٹرڈ۔۔۔بلاج حمدانی تمہیں کیا لگتا ہے تم ایسی حرکتیں کرکے جیت جاؤ گے۔۔؟
اب میں تمہیں اپنے انداز میں یہ گیم کھیل کر بتاتی ہوں۔۔۔تمہارے اگلے پچھلے یاد رکھیں گے۔۔”
وہ کپبرڈ سے اپنے لونگ بوٹ اور بلیک جیکٹ نکال کر روم سے باہر چلی گئی تھی۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تایا جان ہم سب ساتھ جائیں گے پاکستان کاشان بھائی بریرہ۔۔۔ارسل۔۔”
“مرچکا ہے کاشان مار دیا ہوا ہے اسے ان لوگوں نے۔۔۔نہیں ہے وہ زندہ۔۔۔
بریرہ میرے لیے مر چکی ہے۔۔۔ارسل کے کندھوں پر ابھی کچھ ذمی داریاں باقی ہیں۔۔”
انہوں نے یہ کہہ کر بیگ کی زپ بند کردی تھی
“پرتایا جان پاکستان کیوں۔۔”
“میری فیملی کو لینے جا رہا ہوں۔۔۔میری بیوی کو لینے جا رہا ہوں۔۔ارسل کی بیوی بچوں کو لینے جا رہا ہوں ۔۔۔کاشان کی بیوہ کو اسکے یتیم بچوں کو لینے جا رہا ہوں۔۔۔”
انکی آواز بہت آہستہ ہوگئی تھی۔۔۔
۔
“کنزہ بھابھی رشنا آپ لوگوں نے چلنا ہے پاکستان۔۔؟ پری پر بریرہ کا سایا نا پڑنے دیں بریرہ کا منحوس سایا سب ختم کردے گا۔۔۔”
۔
اور وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
“یہ وجیح تایاکیسے ہو سکتے ہیں۔۔ وہ اپنی بیٹی کے لیے ایسے الفاظ۔۔؟؟ بریرہ سے اتنی نفرت۔۔پر اسکی حالت نے مجھے اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا تو تایا جانکیسے انتے پتھر دل ہوگئے۔۔؟؟”
بہرام کی بات پر رشنا نے اپنی بہتی ہوئی آنکھیں جلدی سے صاف کی تھیں۔۔
۔
“سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔میں ارسل کو فون کر کے پتا کرتا ہوں یہ ڈیل ہمیں ملنا ضروری ہے۔۔۔ وجیح تایا جان کی آدھی پراپرٹی آج انکے دشمنوں کو مل جائے گی۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ اگر جگہ تباہ ہوگئی تو یہی لوگ نہیں سب مافیا ایکسپوز ہوں گے۔۔۔دنیا کے سامنے بھی میڈیا کے سامنے بھی۔۔”
بریرہ کے ہاتھ میں وہ لیٹر جلتے جلتے بجھا تھا
“کیا مطلب۔۔؟ میں سمجھی نہیں۔۔”
“یہ لوگ مافیا ہیں یہ ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا بریرہ یہ انکا کوڈ ہے۔۔کوئی میڈیا کوئی باہر کا پرسن نہیں انکے تو خاندان والوں کو بھی شاید انکی اصلیت نا پتا ہو بریرہ۔۔۔
اس جگہ کی تباہی سے جو ایکسپلوئژن ہوگا وہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔۔”
بریرہ نے وہ لیٹر پیچھے کردیا تھا۔۔
“میں نے ابھی تک کچھ سوچ کرکیا تھا جو اب کروں گی وکی۔۔؟؟ 30 سیکنڈ ہیں تمہارے پاس اپنے گاڑی کو جتنی دور لے جا سکتے ہو لے جاؤ۔۔ میں چاہتی ہوں جل جائے بلاج حمدانی کی ساری محنت۔۔ اس نے مجھے مات نہیں دی اپنی کمبختی کو دعوت دی ہے۔۔۔ناؤ آؤٹ ہوجاؤ۔۔۔؟”
“وٹ دا ہیل۔۔۔بریرہ تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔”
20 سیکنڈ۔۔۔”
اور وہ اس جگہ کے پاس چلنا شروع ہوگئی تھی جہاں اسکی بائیک تھی
“بلاج حمدانی۔۔۔ایک اور تحفہ تمہارے اور تمہارے خاندان کے لیے۔۔۔”
۔
۔
اپنی بائیک پر بیٹھ کر اس نے بائیک کو اور اس جگہ لے جا کر وہ لیٹر جلا کر اس گھاس پر پھینک دیا تھا۔۔۔
جلتے جلتے جب آگ بہت پھیل گئی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے وہی آگ تھی جو اسکے اندر تھی۔۔۔
او ایک ایکسپلوثزن جیسے ہی ہونا شروع ہوا تھا اس نے بائیک سٹارٹ کردی تھی۔۔۔اسکی بائیک وکی کی گاڑی کے پاس سے گزری تھی۔۔۔اور دھماکے اس طرح ہوئے تھے کے وکی کی گاڑی ایک درخت کے ساتھ جا ٹکرائی تھی۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا وکی صاحب۔۔۔سزا کے حقدار تو آپ بھی بہت تھے۔۔۔ استعمال کرنا تھا اس لیے درگزر کر رہی تھی۔۔۔باسٹرڈ۔۔۔۔”
اس نے بنا پیچھے دیکھے بائیک اور تیز کردی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ اس بلاسٹ میں لوگ قصوروار ہیں انکا نام میڈیاکے سامنے لایا جائے آفیسر ـ ‘بی-اے -ایچ” آپ کو ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بنایا گیا ہے آپ کا پہلا آرڈر اس کرسی پر۔۔”
“کس نے کہا یہ کرسی انصاف کے لیے لی ہے میں نے۔۔؟؟ مجھے پاور چاہیے۔۔۔ہر ایک پر۔۔چاہے وہ مافیا ہو یا سی-بی-آئی۔۔۔
اس جگہ سے ہتھیار تو پہلے ہی کور کرلئیے تھے ہم نے کیوں۔۔؟ مجھے پتا تھا وجیح شاہ نے بلاج حمدانی کے گودام میں حملہ کرنا تھا۔۔
اب تم کل کا دھماکہ دیکھنا جو ہماری طرف سے ہوگا۔۔۔
“پر آفیسر۔۔۔”
سب لوگ پیچھے ہوگئے تھے جب سینئر آفیسر اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
“میں یہاں تک ایک گہرے اور خاص مقصد کے لیے آیا ہوں۔۔
ارسل شاہ کو اب یہاں سے ڈی پورٹ کروا دو پاکستان۔۔۔۔
باقی اس بہرام شاہ کو یہیں رہنے دو۔۔۔مجھے اسے ہرا کر واپس بھیجنا ہے۔۔ناکام عاشق۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
اسکی شیطانی ہنسی دیکھ کر جونئیر آفیسرز حیران ہوگئے تھے اور پریشان بھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دنوں بعد۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
پاکستان۔۔۔۔
۔
“عروج بھابھی کنزہ اور بچوں کی فلائٹ آج کی ہے ہم چلیں گے ائیرپورٹ آپ فکر نا کریں۔۔”
“امی اب تو کھانا کھا لیں۔۔۔”
۔
“مجھے نہیں پتا تھا میری بیوی میرے بعد اتنی کمزور اتنی بیمار پڑ جائے گی۔۔”
وجیح شاہ کی آواز نے سب کے ہاتھ ساکن کردئیے تھے۔۔۔
“وجیح۔۔۔”
وہ بھاگتے ہوئے اپنے شوہر کی جانب بھاگی تھیں۔۔۔
“آپ آگئے۔۔۔وجیح۔۔ارسل کہاں ہے کاشان۔۔بری۔۔۔۔”
۔
“ارسل بھی آجائے گا۔۔۔کاشان۔۔۔وہ ہم میں نہیں رہا عروج۔۔۔”
وہ وجیح شاہ کے کندھے پر سر رکھ کر رونا شروع ہوگئیں تھیں۔۔
۔
“وجیح کل کی بات تھی جب اسی طرح سب بچوں کو ناشتہ بنا کر دیا تھا۔۔۔ کاشان اور بریرہ کیسے لڑ رہے تھے کہ میں اپنے ہاتھوں سے پہلے کسے کھلاؤں گی۔۔”
روتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لئے تھے۔۔۔کاشان کی بیوی روتے ہوئے اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی
۔
“ہمارے دو بیٹے ہی ٹھیک تھے نا عروج ہم نے بیٹی کی خواہش ہی کیوں کی تھی۔۔۔؟؟”
“خدا کے لیے وجیح بھائی بس کیجئیے۔۔۔بریرہ زندہ ہے آپ اسے جیتے جی کیوں مار رہے ہیں۔۔؟؟”
“کیونکہ اس نے مجھے جیتے جی مار دیا ہے۔۔۔میرا نام عزت پہچان میری شان و شوکت کبیر۔۔۔
میری اولاد سب تو چھین لیا اس نے۔۔۔”
وہ چلائیے بھی تھے تو آنکھوں سے آتے آنسوؤں سے چہرہ بھیگ گیا تھا انکا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔
۔
“جن کی منگنی ہوئی ہے ان کپز کو ڈانس فلور پر آکر ڈانس تو کرنا چاہیے۔۔۔کیوں مہتاب ثانیہ۔۔؟؟”
بلاج اناؤنسمنٹ کرکے مہتاب اور ثانیہ کا ہاتھ پکڑ کر انکو سٹیج پر لے گیا تھا۔۔
“اور میری وائف مئے آئی۔۔؟؟”
“ہاہاہاہ۔۔۔۔”
بلاج نے جیسے ہی مائک میں کہا تھا سب مہمانوں نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
۔
“ارے کہاں بھاگ رہی۔۔؟؟ہاہاہا۔۔۔ تمہارا چہرہ تو لال ہوگیا ہے غصے سے۔۔۔ تمہاری اس لال ساڑھی کی طرح وائفی۔۔۔”
بلاج نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
۔
“ہاتھ چھوڑو بلاج مجھے ابھی کوئی بکواس نہیں سننی تمہاری۔۔”
“مہتاب کو کسی اور کا ہوتے دیکھ دکھ ہو رہا ہے پشمینہ جان۔۔؟ تم نے تو کہا تھا وہ تمہارا ہے بلا بلا۔۔۔
کہاں گئی وفائیں ۔۔۔؟؟”
بلاج نے طنز کیا تھا اسکی گرفت بریرہ کی ویسٹ پر اور مظبوط ہوگئی تھی
“تمہیں شاید نا یاد ہو۔۔میری بیوی۔۔۔ بریرہ جب بھی ایسے ساڑھی پہنتی تھی صرف مجھے منانے کے لیے پہنتی تھی۔۔۔ کہتی تھی میں ناراض ہوتا ہوں تو اسے سانس ٹھیک سے نہیں آتا۔۔
پر وہ میرے سامنے تو سانس بھرتی تھی۔۔۔جھوٹ کہتی تھی نا۔۔؟؟”
بلاج نے بریرہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا اسکی اپنی آنکھوں میں بھی ایک درد تھا
“تمہارے لیے تو تمہاری بیوی بریرہ ایک مذاق ایک تماشہ بن کر ہی رہی تھی ایک رکھیل،،
پر تم جیسے انسان کے منہ سے اسکے خلاف کوئی بھی بات مجھے سچ نہیں لگتی بلاج۔۔
دنیا کہتی ہے وہ وفائیں کرتی مر گئی تم سے۔۔۔”
“اسکے ساتھ میں نے بھی بہت وفائیں کی تھی پشمینہ۔۔محبت کی تھی میں نے۔۔”
۔
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
“کسی بےوفا کے منہ سے محبت لفظ ایسا ہے جیسے ٹھنڈے پانی میں جلتی آگ بلاج حمدانی”
“اب تم بھی مان جاؤ کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے۔۔۔تمہیں سب یاد ہے۔۔”
“ہاہاہاہا میں اور محبت۔۔؟؟ بےوفا سے۔۔۔؟؟ تم جیسے شخص سے۔۔؟ نفرت کرتی ہوں میں تم سے۔۔۔
“اسی بےوفا سے تم محبت کرتی آئی ہو ہمیشہ سے۔۔اب نفرت لفظ تمہارے منہ سے ایسےلگ رہا جیسے جلتی آگ میں پانی کے چند قطرے۔۔۔”
۔
ڈانس فلور پر ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں رہا تھا سب کی اٹینشن بس ان پر تھی
“کیسے کہوں عشق میں تیرے کتنا ہو بےتاب میں۔۔
آنکھوں سے آنکھیں ملا کے چُرا لوں تیرے خواب میں۔۔۔”
“میں تم سے ڈائیورس لیکر تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہیں ٹھکرا کر چلی جاؤں گی
اور تم دیکھتے رہ جاؤ گے۔۔”
اب کے بلاج نے جس طرح سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے گھمایا تھا اسکی بیک بلاج کی طرف تھی۔۔بلاج نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر پھر سے اپنی طرف کھینچا تھا
“بلاج حمدانی اپنی آخری سانس تک لڑے گا تمہیں لیے۔۔۔تم سے تو لڑائی میری ازل سے رہی بریرہ شاہ۔۔۔اب تمہارے اس لوور بوائے سے سہی۔۔بہرام شاہ۔۔۔”
۔
“ہے یہ نشہ یا ہے زہر،،،اس پیار کو ہم کیا نام دیں۔۔۔
کب سے ادھوری ہے اک داستان،،،،آجا اسے آج انجام دیں۔۔۔”
۔
“تم کبھی مجھے پا نہیں سکتے بلاج۔۔کبھی نہیں۔۔۔میں تمہیں کبھی میسر نہیں آؤں گی آزما لو مجھے۔۔۔”
اس کی آنکھوں میں آگ تھی جب اس نے یہ لفظ نفرت بھرے لہجے میں کہے تھے
“میں تمہیں بہت پہلے پا چکا تھا بریرہ شاہ۔۔۔اب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔۔بیوی ہو تم میری۔۔۔میں تمہیں آزما چکا ہوں۔۔ تم نے کتنی نفرت کی مجھ سے پر ایک بار بھی مجھے مار سکی ہو تم۔۔؟ تم کچھ نہیں کر سکتی۔۔تمہاری محبت میرے لیے کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔۔”
۔
۔
“ایکسکئیوزمئ مئ آئی۔۔؟؟”
مہتاب نے سب کے سامنے جیسے ہی ہاتھ بریرہ کے لیے بڑھایا تھا بلاج کے انکار کرنے سے پہلے ہی بریرہ نے بلاج کے کندھے سے ہاتھ ہٹا کر مہتاب کے ہاتھ ہر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
۔
۔
“پلیز مجھ سے بات کرو پشمینہ۔۔۔تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے نفرت برداشت نہیں ہو رہی مجھے۔۔”
“تو تم میری آنکھوں میں کیا دیکھا چاہتے ہو مہتاب۔۔؟؟”
بریرہ نے غصے سے پوچھا تھا۔۔۔ بلاج کی باتوں نے اس پاگل کردیا تھا جنون سوار ہوگیا تھا اس پر۔۔۔
۔
“میرے ساتھ چلو۔۔۔”
۔
مہتاب اس سٹیج سے سب کے سامنے بریرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے ٹیرس پر لے گیا تھا
“اسکی ہمت۔۔”
“بلاج بیٹا پلیز۔۔۔ تم جاؤ گے تو سب کی توجہ بڑھے گی۔۔”
زمرد صاحب بلاج کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دوست کے پاس اس سے ملانے لے گئے تھے۔۔
۔
۔
“داد جی یہ لڑکی میں ہے تو دشمن کا خون چاہے یاداشت ہو یا نا ہو۔۔۔دیکھیں کیا ہورہا ہے۔۔۔”
“سب دیکھ رہا ہوں وہاج۔۔اس لیے میں نے اپنے دوست اور اسکی نواسی کو انوائٹ کیا ہے یہاں۔۔
زمرد بلاج کو جن سے ملوانے گیا ہے۔۔۔اگر مدیحہ بلاج کو بریرہ شاہ کے پاس جانے سے نہیں روک پائی تو وہ لڑخی روکے گی۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہاں ڈینیل۔۔۔”
بریرہ۔۔کاشان بھیا ہم میں نہیں رہے۔۔وہ۔۔۔۔وہ تو بہت پہلے جا چکے ہیں۔۔۔بریرہ ان لوگوں کی قید میں ان لوگوں نے دشمنوں نے مار دیا کاشان بھیا کو۔۔”
ڈینیل کی سونم کی روتی ہوئیں آوازوں میں اتنی شدت تھی کی اس ٹیرس پر رئیلنگ پر ہاتھ رکھی بریرہ کے ہاتھ سے وہ موبائل نیچے گر گیا تھا۔۔مہتاب نے جیسے ہی بریرہ کو پیچھے سے اپنے حصار میں لیا تھا اسکا جسم پتھر بن گیا تھا۔۔
“ہم دونوں یہاں سے بھاگ جاتے ہیں پشمینہ۔۔”
پر بریرہ تو وہ باپ کی شفقت باپ جیسی محبت دینے والے بھائی کی یادوں میں کھو گئی تھی
“امی زیادہ پیار مجھ سے کرتی ہیں جل کُکڑی۔۔۔”
“اور بابا سائیں زیادہ پیار مجھ سے کرتے ہیں جل کُکڑے۔۔۔”
“بریرہ کی بچی۔۔۔”
“میں خود بچی ہوں بدمانس کہیں کے۔۔۔”
“ابھی بتاتا ہوں۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔بدمانس بندر۔۔۔جل ککڑے۔۔۔”
“پشمینہ۔۔میں جانتا ہوں تم بھی مجھ سے بےحد محبت کرتی ہو۔۔”
“محبت۔۔؟؟ اور وہ بھی دشمن کے بیٹے سے۔۔؟؟” بریرہ نے خود کو مہتاب کے حصار سے پیچھے کرلیا تھا
“پشمینہ۔۔۔”
“بریرہ شاہ ہوں میں۔۔بدلہ لینے آئی تھی محبت نہیں مہتاب تم تو میرے لیے ایک سیڑھی تھے اس خاندان کی جڑے کمزور کرنے کے لیے استعمان کیا تمہیں۔۔”
“بریرہ نے جتنی نفرت سے کہا تھا مہتاب کے قدم ڈگمگا گئے تھے۔۔۔
“تم پشمینہ۔۔۔ہو میری محبت۔۔”
“ہاہاہا تمہاری اتنی اوقات ہے مہتاب میں تم سے محبت کروں۔۔؟؟
صرف نفرت کرتی آئی ہوں تم سے تمہارے خاندان سے تمہارے اس بھائی سے۔۔
تم لوگ محبت کے قابل بھی ہو۔۔؟؟ اپنے گریبان میں جھانکو۔۔”
“تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔پشمینہ میرا دل برداشت نہیں کر پائے گا پلیز میں ہاتھ جوڑتا ہوں پاؤں پکڑتا ہوں۔۔”
مہتاب اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا تھا
“مہتاب تمہارے نا ماننے سے سچ بدل تھوڑی نا جائے گا ہماری پہلی ملاقات سے لیکر آج یہاں تک سب کچھ پلاننگ کے تحت ہوا تھا میں تھی ماسٹر مائنڈ مہتاب۔۔۔آج تم دشمن کے بیٹے دشمن کے بھائی ہو میری نظر میں۔۔۔
سکون مل رہا ہے تمہیں اس طرح یہاں گھٹنے پر بیٹھے دیکھ کر۔۔”
۔
“میرا کیا قصور تھا بریرہ۔۔۔؟؟ میں تو سچا پیار کرتا آیا بریرہ۔۔
دیوانوں کی طرح۔۔”
“اس بدلے میں قصور تو میرا بھی نہیں تھا مہتاب۔۔کیا ملا مجھے۔۔؟ تمہیں میرے جتنی تکلیف ملتی تو مر جاتے تم۔۔۔”
۔
وہ جیسے ہی وہاں سے گئی تھی مہتاب اپنے گھٹنوں پر سر رکھ کر رونا شروع ہوگیا تھا
“ہاہاہاہا بریرہ شاہ۔۔؟؟ بلاج حمدانی کو یہ ویڈیو دیکھانی ہی پڑے گی۔۔”
کوئی اندھیرے میں چھپا ہوا شخص وہاں سے اپنا موبائل لئیے چلا گیا تھا۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
مہتاب کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے بلاج۔۔۔”
۔
“وہ تو ابھی اوپر تھا بریرہ کے ساتھ۔۔۔وہ۔۔بریرہ کہاں ہے۔۔؟؟”
“پشمینہ بھابھی تو کچھ دیر پہلے ہی باہر گئیں ۔۔۔”
۔
کسی نے جیسے ہی کہا تھا بلاج نے اپنا موبائل اٹھایا تھا اور زمرد صاحب کے پیچھے ہسپتال بھاگ گیا تھا۔۔
۔
۔
“پئشنٹ کی حالت بہت نازک ہے۔۔۔وہ بار بار بلاج نام لے رہے ہیں۔۔”
بلاج جلدی سے آئی سی یو میں داخل ہوا تھا۔۔۔مہتاب نے اسپنے چہرے سے آکسیجن ماسک اتارنے کی کوشش کی تھی جس پر نرس نے اسے منع کیا تھا۔۔
“بھ۔۔۔بھیا۔۔۔بلاج۔۔بھائی۔۔آپ کی دشمنی نے سب چھین لیا مجھ سے۔۔
وہ۔۔بریرہ۔۔ہے میری پشمینہ نہیں ہے۔۔سب بدلہ تھا۔۔۔”
۔
“آپ باہر جائیں ڈاکٹر۔۔۔”
نرس نے مانیٹر کی بیپ سن کر بلاج کو باہر جانے کا کہہ دیا تھا
۔
۔
“ڈاکٹر میرا بھائی۔۔۔”
۔
“ایم سوری۔۔۔۔”
۔
۔
اور بلاج حمدانی ایک جھٹکے سے اس بنچ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔”
۔
“بےجان دل کو بےجان دل کو،،،
بےجان دل کو تیرے عشق نے زندہ کیا۔۔۔
پھر تیرے عشق نے ہی اس دل کو تباہ کیا۔۔۔”
۔
“کاشان بھیا میں تو دوسری قبر پر گلے شکوے کرتی رہی آپ نے تو اپنا گھر یہاں بنایا ہوا تھا۔۔۔
آپ جانتے ہیں صرف امی ہی نہیں بابا سائیں ہی نہیں یہ آپ کی بریرہ بھی آپ سے بہت زیادہ پیار کرتی آئی ہے سب سے زیادہ کاشان بھائی۔۔۔
۔
یااللہ کیوں محبت ہوگئی مجھے۔۔ مجھے تو پتا تھا محبت تباہی کے سوا کچھ نہیں کیوں اپنے ہاتھوں سے تباہ ہوگئی میں اور برباد کردی خاندان کی عزت میں نے
کاشان بھائی میرے بدلے سے سب واپس آجائے گا کیا۔۔؟ کاشان بھائی۔۔۔”
۔
۔
بریرہ کے دن ایسے ہی گزر رہے تھے۔۔۔پر آج کا دن کچھ الگ تھا۔۔اپنے ہڈ کی کیپ سے منہ چھپائے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی اسی وقت اسکے سامنے ایک بلیک گاڑی آکر کھڑی ہوگئی تھی
“سیریسلی۔۔؟؟” بریرہ نے اپنی گن نکال کر اس گارڈ کے پاؤں پر شوٹ کیا تھا جو اسکو زبردستی پکڑنے کی کوشش کررہا تھا۔۔
“باسٹرڈ۔۔۔”
لاسٹ گارڈ کو کک مار کر وہ جیسے ہی آگے بڑھنے لگی تھی اسے اپنے گلے پر کچھ چھبن محسوس ہوئی تھی اور وہ بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔۔”
۔
۔
“یو باسٹرڈ۔۔ایک قدم آگے بڑھایا تو شوٹ کردوں گی۔۔”
“یو بچ۔۔”
وہ گارڈ جیسے ہی آگے آیا تھا بریرہ نے اسکی ٹانگ پر گولی چلا دی تھی۔۔
“باسٹرڈ۔۔۔”
وہ اس کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر آگئی تھی۔۔۔
میں گیٹ کا دروازہ کھول کر جیسے ہی باہر بھاگی تھی اس لگا تھا اب وہ اس جہنم سے باہر نکل جائے گی جہاں اسے ایک ہفتے سے انجیکشن لگا کر رکھا جا رہا تھا اب وہ فائننلی یہاں سے نکل جائے گی۔۔۔پر باہر نکلتے ہی اسکے سامنے ویران خالی میدان سامنے بڑا سا سمندر تھا
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
“ہیے یو بچ۔۔۔پکڑو اسے۔۔۔”
پیچھے سے گارڈز اسکی طرف بھاگے تھے۔۔۔
اس نےگن لوڈ کی تھی پر سامنے آتے شخص کو دیکھ کر جیسے اسکی جان میں جان آگئی تھی۔۔
“بلاج۔۔۔تم آگئے ہو۔۔۔میں جانتی تھی تم آؤ گے۔۔”
بکھری حالت کھلے بال۔۔ننگے پاؤں سے وہ بلاج کی طرف بھاگی تھی۔۔۔جیسے ہی اس نے بلاج کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کی تھی سکون کا سانس لیا تھا ایک دم سے وہی گارڈز انکی طرف آئے تھے۔۔
“ایک کام دیا تھا تم لوگوں کو وہ بھی نا کرسکے۔۔۔”
“باس آج انجیکشن دینے میں دیر ہوئی اور یہ کامیاب ہوگئی بھاگنے میں۔۔۔سب نیند کی گولیاں ختم ہوگئیں تھیں۔۔”
بریرہ کی سانسیں رک گئی تھیں اس نے منہ اٹھا کر بلاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا
۔
“بےوفا کوئی ایک کمی چھوڑ دیتے کیا کوئی اتنا بےوفا بھی ہوسکتا ہے بلاج۔۔؟”
اسکے درد نے شدت اختیار کر لی تھی۔۔۔سامنے کھڑا شخص بےوفائی کی جیتی جاگتی مثال بن چکا تھا آج
“بریرہ۔۔
وہ وہیں اسکی بانہوں میں بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“ہسپتال لیکر جانا ہوگا بلاج۔۔۔”
“یہ یہاں سے کہیں نہیں جائے گی م ڈاکٹر ہو کراسے پچھے 3 گھنٹوں سے ہوش میں نہیں لاپا رہی۔۔”
وہ اپنے گارڈز کو کبھی غصے سے دیکھ رہا تھا تو کبھی اس لیڈی ڈاکٹر کو۔۔
“مجھے مکمل چیک اپ کرنا ہوگا۔۔۔کیا یہ پریگننٹ تھی۔۔؟؟”
ڈاکٹر کے سوال پر بلاج رک گیا تھا اور۔۔۔اسکی دھڑکنے بھی۔۔
“وہ۔۔۔”
“کیا انہیں ڈرگز دی گئیں ہیں۔۔؟؟”
ڈاکٹر نے جیسے ہی یہ سوال پوچھا تھا۔۔۔
“وہ سر ہم نے دیا تھا۔۔۔”
ایک لیڈی گارڈ نے جواب دیا تھا اور بلاج نے اپنے ہیڈ گارڈ کا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔۔
“اوو۔۔۔نووو۔۔۔اگر انہیں ڈرگز دئیے گئے ہیں تو انکا اب تک ابورش۔۔۔۔”
“ایک لفظ نہیں ڈاکٹر۔۔۔وہ پریگننٹ نہیں ہو سکتی۔۔چیک اپ کریں اسکا۔۔”
۔
بلاج اس گارڈ کا کالر پکڑ کر باہر لے گیا تھا۔۔
“کس کی اجازت سے اسے ڈرگز دئیے تھے۔۔۔”
“میں نے انکو منع بھی کیا تھا سر۔۔۔جب اس نے ڈرگ دینے کی بات کی تھی مس بریرہ کا ہاتھ انکے پیٹ پر تھا جیسے وہ حفاظت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔”۔
۔
اور اس لیڈی گارڈ نے سر شرم سے جھکا لیا تھا۔۔۔
۔
۔
“مس بریرہ۔۔”
“ڈاکٹر میرا بچہ ۔۔۔؟؟”
“ایم سوری۔۔۔”
بریرہ نے جیسے ہی آنکھیں بند کی تھی اسکے آنسو چھلک گئے تھے
۔
“ہممم اچھا ہے نا وہ اپنے ظالم باپ کے بجائے اپنے مامو کے پاس رہے گا۔۔۔”
اس نے خالی جگہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جیسے وہ اس دنیا میں تھی ہی نہیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سر آپ کو واپس جانا چاہیے میڈم کو بھی ساتھ لے جائیں۔۔”
“وہ تو چاہتی ہے یہاں سے جائے اور وہ شیرنی ایک بار پھر سے اپنے مشن پر نکل جائے۔۔”
بلاج نے اپنا سگار نیچے پھینک دیا تھا
“یہاں یہ ہیں تو وہاں ارسل شاہ۔۔آپ کے خاندان کو ہار پر ہار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وجیح شاہ کے آگے۔۔۔”
۔
“وجیح شاہ کی جیت اس لیے ہو رہی ہے بلاج حمدانی اسے جیتنے دے رہا ہے۔۔
بریرہ شاہ کی اکڑ جس دن مر گئی میں کیا کرتا ہوں سب دیکھیں گے
وہ میری ملکیت ہے میری بیوی اب تو دشمن جان بن گئی ہے وہ۔۔۔
اب تو بےوفا بن گئی ہے میری۔۔۔میرے بھائی کی۔۔۔”
کہتے کہتے بلاج رک گیا تھا۔۔۔
۔
“سر بریرہ میڈم بھاگ گئی ہیں اور وہ اسے چوٹی کے پاس گئیں ہیں۔۔۔”
۔
بلاج جس طرح گھبرا کر بھاگا تھا شیشے کا ٹیبل ٹانگ کے ساتھ لگنے سے گرگیا تھا۔۔۔
اسکی ٹانگ پر خراز آگئی تھی خون بہنے پر بھی وہ نہیں رکا تھا۔۔۔
۔
“یہ لڑکی چاہتی کیا ہے۔۔۔سب کچھ تو کردیا اس نے۔۔۔۔”
۔
وہ اور غصے میں بھاگا تھا۔۔۔۔اسی طرف جو راستہ ملازمہ نے بتایا تھا اسے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ۔۔۔”
بلاج بھی اسی انچائی کی طرف بھاگا تھا۔۔۔”
“بلاج حمدانی۔۔۔تمہیں کیا لگا تھا اس اسلینڈ پر لاکر تم مجھے غلام بنا لو گے اپنا۔۔۔؟؟”
“بریرہ۔۔۔کیا بچپنا ہے نیچے گر جاؤ گی۔۔۔”
۔
“وہ تو بہت پہلے گر چکی تھی نا وہ بھی منہ کے بل بلاج۔۔۔”
وہ بلاج کی جانب دیکھتے ہوئے پیچھے قدم بڑھا رہی تھی بلاج حمدانی کی دحرکن رک رہی تھی
“نیچے گر جاؤ گی بریرہ اپنا ہاتھ دو مجھے”
“ایک بار تمہیں ہاتھ دیا تھا بلاج ایک بار تمہارا ہاتھ تھاما تھا۔۔”بس تجربہ اک ہی کافی تھا وہ اس زندگی کے لیے۔”
بریرہ نے اس چوٹی سے ایک قدم اور پیچھے بڑھایاتھا بھاگتے بھاتے کب وہ اس جگہ آگئی اسے خبر ہی نا ہوئی تھی اس پہاڑ سے نیچے گرتے پانی کی چھینٹے ہر طرف اتنی تیزی سے پڑ رہیں تھیں وہ دونوں ہی بھیگ چکے تھے
“بریرہ وہاں موت ہے ڈیم اِٹ مر جاؤ گی مر جاؤ گی تم بریرہ واپس آجاؤ۔۔”
بلاج کی آواز میں بےبسی صاف جھلک رہی تھی گرتے پانی سے اٹھے شور میں بھی اسکی ہلکی آواز بریرہ کو سنائی دے رہی تھی
“میں زندہ کہاں ہوں بلاج۔۔؟ تم مار چکے ہو مجھے بہت پہلے۔۔
میرے شوہر کی بےوفائی نے مجھے بہت پہلے ماردیا تھا۔۔میں تو تمہاری اس بےوفائی کا بوجھ اٹھائے جی رہی تھی کہ سود سمیت واپس کروں گی تمہیں۔۔اب بس بلاج۔۔”
اسکا لہجہ جہاں اتنا دکھ سے بھرا ہوا تھا وہاں اتنا ہی سخت اتنا ہی تلخ ہوگیا تھا جب اس نے اپنی آنکھیں صاف کرکے ایک قدم پیچھے کیا تھا۔۔۔
“بریرہ یہاں آجاؤ میری بات سن لو پلیز۔۔”
“تاکہ تم مجھے پھر سے قید کرلو۔؟ کبھی نہیں بلاج حمدانی”
“بریرہ۔۔پلیز۔۔تم جو چاہتی ہو میں کروں گا بس یہاں آجاؤ۔۔تمہیں بہرام کے ساتھ پاکستان جانا ہے میں تمہیں جانے دوں گا۔۔”
بریرہ کی نظروں میں جیسے ہی حیرانگی عیاں ہوئی تھی بلاج نے اسی وقت بریرہ کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھاجو اتنا ڈر گیا تھا اب اسے سکون ملا تھا۔۔
ان دونوں کی وہ جگہ کب بدل گئی تھی بریرہ کو پتا نہیں چلا تھا۔۔
“بہت مرضی کرلی تم نے بریرہ۔۔میں تمہیں اب چوبیس گھنٹے اپنی نظروں کے سامنے رکھوں گا۔۔بہرام کیا تم خود بھی خود کو مجھ سے جدا نہیں کرسکتی۔۔نہیں دوں گا تمہیں کبھی طلاق میں سن لو تم میں نے جو بھی غلط کیا میں اس پر شرمندہ ہوں میری جان تم۔۔۔”
بلاج کے یہ لفظ سن کر بریرہ کا وجود پتھر بن گیا تھا۔۔۔”
بلاج کو جیسے ہی اپنے جسم پر کچھ درد محسوس ہوا تھا اس نے ایک قدم پیچھے کیا تھا نیچے جو پانی اس چوٹی سے نیچے جا رہا تھا اس میں بہتے خون کو دیکھ کر اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ لیا تھا اس نے جیسے ہی بریرہ کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سے بلیڈ دیکھی جو اس نے اپنی حفاظت کے لیے چھپائی ہوئی تھی وہ اب بلاج کے جسم پر تھی بےساختہ اسکی نظریں بریرہ پر گئیں جو خود اتنی ہی شاکڈ تھی اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ کر۔۔۔بلاج ایک قدم اور پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
۔
“میں تو سب بھلا کر تمہیں اپنانا چاہتا تھا بریرہ۔۔۔”
“بلاج۔۔۔”
بریرہ نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا بلاج نے پیچھے جھٹک دیا تھا اسکا ہاتھ اور اسکے منہ سے ایک لفظ نکلا تھا بریرہ کے لیے۔۔۔
۔
“بےوفا۔۔۔”
اور وہ اونچائی سے نیچے جا گرا تھا اس گرتے ہوئے پانی میں۔۔۔۔
۔
۔
۔
“چشمش تم میری زندگی ہو تم سے جدائی میری موت ہوگی۔۔۔”
“بلاج حمدانی یا تو میری زندگی میں آتے نا اگر آگئے ہو تو جدائی کا نام نا لینا مجھے مار دینا۔۔۔”
۔
۔
دو خاندانوں کی دشمنیاں جانے کب سے چلتی آرہی تھی۔۔۔دشمنی کے لیے زندگیاں بہت تھیں
پر محبتوں کے لیے زندگیاں نہیں ہوتی چند لمحے ہوتے ہیں پھر جدائیاں ہی مقدر ہوتی ہیں ان محبتوں کی۔۔۔
نفرتوں کے لیے زندگیاں بہت ہیں پر محبتوں کے لیے چند لمحات بھی غنیمت ہوتے ہیں۔۔
پر یاد رہے یہ محبتیں محبتیں ہی ہوں محبتوں کا لبادہ اوڑھے بدلے اور نفرت کی بھیانک شکلیں نہیں۔۔۔۔”
۔
۔
ختم شُد۔۔۔۔۔۔
