Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
“ان دونوں لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جاؤ ڈینیل میں۔۔”
“بلاج پر کسی نے نشانہ رکھا ہوا ہے۔۔؟
ڈینیل نے خود سے کہا تھا پر بریرہ نے سن لیا تھا وہ جو گن اس نے اپنی جیکٹ میں رکھنے کی کوشش کی تھی اس نے وہ نکال کر کلب کی فرسٹ فلور کی طرف دیکھا تھا بلاج کو جو اپنے لوگوں سے بات چیت میں اتنا مصروف ہوگیا تھا کہ اس یا کسی کو پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ وہ لال رنگ کی لائٹ اس کے سینے پر ٹھیک اسکے دل پر پڑ رہی تھی۔۔
بریرہ نے جب اس کی سمت دیکھی تو تھرڈ فلور پر بلیک ہڈ میں اپنا چہرہ چھپائے کوئی گن بلاج کی طرف کر کے کھڑا تھا۔۔
۔
“ڈینیل۔۔اسکے ہاتھ پر فائر کرو میں اوپر جا رہی ہوں اسکی گولی نہیں لگنی چاہیے بلاج کو۔۔۔”
وہ جلدی سے اس طرف بھاگی تھی
اور اس آدمی کی انگلی جیسے ہی ٹرگر پر لگی تھی ڈینیل نے فائر کر دی تھی۔۔
جو اسکے ہاتھ کو زخمی کر گئی تھی پر اس نے اپنے ہاتھ پر لگی گولی کی پرواہ کئیے بضیر پھر سے گن کا نشانہ لگایا تھا بلاج حمدانی پر آج وہ اپنا کام مکمل کرکے جانا چاہتا تھا یہاں سے
دوسری بار ٹرگکر پر انگلی رکھتے ہی اسے پیچھے سے کسی نے دھکا دیا تھا بہت زور سے۔۔۔اسکی گن سے نکلی گولی سے نشانہ چوک گیا تھا اور وہ گولی ہال کے درمیان میں لگے چنڈلر پر جا لگی تھی جس کے کانچ ڈانس فلور پر گرے تھے۔۔اور اسکے بعد بلاج کے گارڈز نے فائرنگ شروع کردی تھی بلاج کو پوری طرح سے کور کرلیا تھا ان لوگوں نے۔۔
۔
وہ جیسے ہی گرا تھا بریرہ اسکے ساتھ ہی پیچھے گر گئی تھی۔۔۔
“ہو آر یو۔۔۔”
اسکی ساری باتیں دم توڑ گئی تھی وہاں جب اس آدمی نے اپنے چہرے سے ماسک اتارا تھا۔۔۔۔
“ارسل۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گئی تھی۔۔اور ارسل شاہ وہ تو جیسے کسی شاکڈ میں چلا گیا تھا۔۔۔وہ پہچان گیا تھا سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر
“بریرہ۔۔۔”
بریرہ جلدی سے کھڑی ہوگئی تھی اور جیسے ہی ارسل کھڑا ہوا تھا ان جانب بلاج کے گارڈز نے فائرنگ کرنا شروع کردی تھی۔۔
“جاؤ یہاں سے۔۔۔”
ارسل بریرہ کے سامنے کھڑا ہوا تھا اسکی بیک ان گارڈز کی طرف تھی۔۔اسکی کمر پر کچھ گولیاں لگیں تھی۔۔
“بر۔۔۔پشمینہ۔۔۔”
“ارسل۔۔۔۔”
اس طرف سے ڈینیل نے بریرہ کو پیچھے کھینچا تھا تو دوسری طرف سے سجل نے۔۔۔
“بریرہ۔۔۔اسے مجھے دو سجل کے ساتھ جاؤ یہاں سے۔۔۔”
ارسل نے جلدی سے اسے کہا تھا۔۔۔پر بریرہ ارسل کا ہاتھ پکڑ کر اسے اسی کمرے میں لے گئی تھی جہاں وہ رشئین مین پڑا ہوا تھا
۔
ارسل نے آگے بڑھ کر اپنی بہن کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔
“یا اللہ تیرا شکر ہے میرا اپنا کوئی تو زندہ ہے۔۔”
ارسل کی بھیگی آنکھوں اور اللہ کا نام لیتے ہوئے لبوں نے آخر کار اپنے رب کو یاد کیا تھا اتنے گناہوں کے بعد۔۔۔
۔وہ تو اپنی چھوٹی بہن کو اپنے گلے سے لگاۓ تھا پر بریرہ کے دونوں بازو اسکی سائیڈ پر تھی اسکی طرف سے کوئی حرکت نہیں تھی۔۔۔
۔
“وٹ دا ہیل بریرہ۔۔۔”
“کون بریرہ۔۔؟ ایم پشمینہ شیخ مسٹر ہو آر یو۔۔؟؟”
اس نے غصے سے پوچھا تھا۔۔
“وٹ۔۔۔؟؟ تم بریرہ ہو میری بہن تم”
پر بریرہ نے ارسل کے ہاتھ جھٹک دئیے تھے۔۔۔
“کونسی بہن میں کسی کی بہن نہیں۔۔۔”
ارسل کا ہاتھ اٹھ گیا تھا اس بہن پر جس پر آج تک کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا
“کونسی بہن۔۔؟ وہ بہن جسکے لیے ہم سب برباد ہوگئے بریرہ شاہ۔۔”
بریرہ کا چہرہ دوسری طرف تھا اسکا ہاتھ اسکے لیفٹ گال پر تھا بالوں نے اسکا منہ کور کردیا تھا ڈینیل نے بریرہ کے کندھے پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا بریرہ نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
۔
“کونسی بریرہ۔۔؟میں بریرہ نہیں ہوں۔۔۔سنا آپ نے جائیے یہاں سے”
اس نے غصے سے اپنی گن ارسل کے سامنے کی تھی جو ڈرا نہیں تھا پر حیرت میں پڑ گیا تھا۔۔۔
“اوو شٹ کیا کردیا اسے تم نے۔۔۔؟ ایسی جگہ پر بھی کوئی مارتا ہے گولی۔۔؟؟”
ڈینیل نے اس انداز میں کہا تھا کہ سب کی نظریں اس رشئین مین پر تھیں۔۔۔
“بریرہ تم نے کب سے ہتھیار اٹھا لیا۔۔؟”
ارسل نے بہت ہلکی آواز میں کہا تھا
“جب سے کانچ کی سرخ چوڑیوں نے کلائیاں زخمی کی تب سے۔۔۔”
“بریرہ۔۔۔”
“بس چلئیے یہاں سے۔۔۔وہ لوگ یہاں تک آتے ہی ہوں گے۔۔۔”
بریرہ جس رستے سے گئی تھی ان تین لوگوں نے اسے فالو کیا تھا نیچے پارکنگ تک۔۔۔
“میں اسے مارے بغیر نہیں جاؤں گا یہاں سے۔۔۔”
“وہ میرا شکار ہے۔۔۔اسے مجھ سے پہلے کوئی نہیں مار سکتا۔۔۔۔”
۔
وہ جیسے ہی ایک کارنر میں کھڑی ایک بائیک کے پاس گئی تھی۔۔
یہ ایک اور سائیڈ تھی ارسل کے لیے جو اپنی بہن کو ایک اتنی ہیوی بائیک کو سٹارٹ کرتے دیکھ رہا تھا
“ڈینیل یہاں سے لے جاؤ انہیں گھر۔۔۔”
“ارسل کو کندھے پر گولی لگی ہے اور ہاتھ پر بھی ہم سیدھا ہسپتال جائیں گے۔۔۔”
بریرہ نے بائیک سٹارٹ کردی تھی اور اپنے بھائی کے سامنے رکی تھی جس کی آنکھوں میں بہت گلے شکوے تھے اپنی بہن کے لیے جو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“میں اب ایک بیٹی ایک بہن نہیں رہی میں باغی بن گئی ہوں اب۔۔
جو بغاوت کرچکی تھی اس دن جب کسی اور کو چنا تھا آپ سب کی محبتوں کو ٹھکرا کر۔۔۔
میں اب بیٹی نہیں رہی ہوں۔۔ اور جو بیٹیاں عزتیں رؤند دیتی ہیں نامحرم محبت کے لیے انہیں کوئی حق نہیں رہتا ان رشتوں پر۔۔۔”
۔
۔
“میں رسموں کی زنجیروں سے باغی ۔۔۔
اور سپنوں کی تعبیروں سے جاگی ہوں۔۔
کیوں اپنوں سے بیگانی میں لاگی ہوں۔۔۔”
۔
وہ ہیلمٹ پہن چکی تھی اور اس نے اپنے بھائی کے ہاتھ سے بہتے خون کو دیکھ کر اس گاڑی کو فالو کیا تھا جس میں بیٹھا شخص ان سب کا ذمہ دار تھا۔۔۔۔
۔
۔
بریرہ نے جس سپیڈ میں بائیک چلائی تھی اور جس طرح وہ بلاج کی گاڑی کو کٹ مار کر نکلی تھی ارسل کے ساتھ کھڑے وہ لوگ بھی ڈر گئے تھے
“موت نا سہی پر چوٹی چوٹی سزائیں تو برداشت کرسکتے ہو نا بلاج حمدانی۔۔۔؟؟؟”
اسکی بائیک جیسے ہی سڑک کے درمیان میں کھڑی ہوئی تھی بلاج کے ڈرائیور نے سپیڈ کم کی تھی بلاج فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا۔۔۔
اسے اتنی دور سے بائیک پر بیٹھے ہوئے انسان کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا
پر وہ بھی خطروں کا کھلاڑی تھا۔۔
اس نے اپنی گن نکال لی تھی اور اپنے گارڈ کو سپیڈ تیز کرنے کا کہا تھا۔۔۔
“بہت دشمن ہوگئے ہیں ہماری ناک کے نیچے کچل دو اسے۔۔۔”
۔
بلاج نے گارڈ کو حکم دے دیا تھا۔۔۔
۔
“بلاج حمدانی اب تکلیف برداشت کرنے کی باری تمہاری ہے۔۔۔”
بائیک کو پھر سے ریس دیکر اس نے سپیڈ تیز کی تھی اور اس گاڑی کی طرف فاصلہ تہہ کیا تھا۔۔۔
پر اسکا نشانہ بلاج یا اسکے گارڈز پر نہیں۔۔۔اسکا نشانہ بلاج حمدانی کی گاڑی پر تھا۔۔۔اس نے جیسے ہی فرنٹ کے ٹائرز پر فائر کیا تھا وہ گاڑی کچھ سیکنڈ میں الٹ گئی تھی وہاں۔۔۔۔ ایک سکون ہوا تھا اتنے شور کے بعد۔۔۔۔
“کچھ دن کے لیے سکون میں رہو تب تک تمہاری ڈیلز میں برباد کر دوں گی۔۔۔۔”
۔
وہ ہیلمٹ پہن کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔اس گاڑی میں سے دھواں نکلنا شروع ہوا تھا۔۔۔اور ایک بلاسٹ ہوا تھا وہاں۔۔۔۔۔
۔
۔
“مِٹی دا توں،،،مِٹی ہونا،،،کاہدی بلے بلے،،،،
اج مِٹی دے اُتے بدیا،،، کل مِٹی دے تھلے،،،،”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“جس دن میرا بدلہ پورا ہوجائے گا میرے بےوفا ،،اس دن تمہاری محبت کو اپنی نفرت کے ساتھ دفن کروں گی اپنے ہاتھوں سے،،،، “
۔
اسکی بائیک کو دور تک وہ بلاسٹ سنائی دیا تھا۔۔اسکے دل میں کسی ایک کونے میں ایک خلش اٹھی تھی۔۔اسکا دل چاہتا تھا وہ پیچھے مڑ کر دیکھے۔۔کہ وہ زندہ رہا ہے یا نہیں۔پر بریرہ کے دماغ نے اسکے قدم مڑنے نہیں دئیے تھے واپس۔۔۔
وہ اب کمزور نہیں بننا چاہتی تھی۔۔۔
۔
اسکی بائیک کا رخ اس نے اپنے گھر کی طرف کرلیا تھا وہ گھر جہاں کبھی اسکی چھوٹی سی فیملی بہت خوش تھی۔۔
۔
آج اسے پکڑے جانے کا ڈر نہیں تھا وہ جیسے ہی بائیک سے نیچے اتر کر اندر کی جانب بڑھی تھی اس پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی۔۔
“ہئے یو۔۔”
اس گارڈ نے گن بریرہ کے سر پر رکھ دی تھی وہ اپنا چہرہ نہیں دیکھانا چاہتی تھی۔۔
اسے جو بہتر لگا وہ اس نے کیا۔۔اس نے اپنی گن نکال کر اس گارڈ کی ٹانگ پر فائر کردی تھی۔۔۔وہ جیسے ہی تکلیف سے نیچے گرا تھا بریرہ نے غصے سے اسے کک ماری تھی۔۔
“باسٹرڈ میرا گھر ہے یہ۔۔کوئی نہیں روک سکتا مجھے اندر جانے سے۔۔”
اس نے اور ٹھڈے مارے تھے اسے سب پر غصہ آرہا تھا۔۔سب سے زیادہ بلاج حمدانی پر۔۔۔
۔
“وہ کیا سمجھتا ہے وہ اس گھر کو توڑ کر کلب بنائے گا۔؟ اسکی قبر نا بنا دوں گی میں یہاں اس کلب سے پہلے۔۔۔”
اس نے تب تک اسے مارنا نہیں چھوڑا تھا جب تک وہ بےہوش نہیں ہوا تھا۔۔
۔
وہ پھر سے اندر جانے لگی تھی پر ایک سائرن ہوا تھا اور وہاں بلاج حمدانی کے اور گارڈز آگئے تھے۔۔۔ بریرہ نے پھر سے بائیک سٹارٹ کی تھی اور حسرت بھری نظروں سے اس گھر کو دیکھا تھا اور وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج سر کو جلدی سے باہر نکالو۔۔۔گاڑی کو آگ لگ گئی ہے پٹرول پھیل چکا ہے جلدی۔۔۔”
بہت سے گارڈز نے گاری سے بلاج اور دوسرے زخمی گارڈز کو باہر نکال لیا تھا۔۔
۔
“بلاج سر۔۔۔”
“بریرہ۔۔۔”
۔
بلاج کی نظریں اس بائیک پر تھیں۔۔اور اسکی زبان پر نام ایک ہی تھا۔۔۔
“سر یہاں سے چلیں جلدی کیجئیے۔۔۔”
“میں نے داد جی کو فون کردیا ہے۔۔۔” بلاج کی آنکھیں بند ہورہیں تھی جب اسے جلدی سے گاڑی کی بیک سیٹ پر بہت آہستہ سے لٹایا گیا تھا
۔
۔
“بلاج حمدانی تمہاری سانسوں پر میرا حق ہے۔۔مرنے کی باتیں نا کیا کرو مائیکے چلی جاؤں گی۔۔”
“ہاہاہاہا اچھا چلی جانا،،،پر میرے جنازے پر وقت سے آجانا۔۔ آخری وقت میں میرا دیدار کر لینا میری اکلوتی بیوی۔۔”
بلاج نے زبردستی اسے اپنے سینے سے لگایا تھا جب وہ پاؤں پٹک کر روم سے باہر جانے والی تھی
۔
“ایک تو وائفی تم ناراض بہت جلدی ہوجاتی ہو۔۔مذاق بھی نہیں کرسکتا۔۔؟؟”
“موت کا مذاق کون کرتا ہے بلاج۔؟یا تو میری زندگی میں اس طرح سے شامل نہیں ہونا تھا کہ تمہارے جانے سے باقی کچھ نا رہے،،،اور شامل ہوگئے ہو تو اس طرح سے شامل رہو کے موت بھی آئے تو ایک ساتھ آئے ہم دونوں کو۔۔”
۔
“ساتھ کیوں بریرہ۔۔؟ میں تمہیں ہمیشہ خوش سہی سلامت۔۔۔اور زندہ دیکھنا چاہتا ہوں۔۔”
بلاج نے بریرہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر اپنی آنکھیں بند کرلی تھی
“ساتھ جینے نہیں دی گی یہ دشمنی ہمیں بلاج۔۔پر ساتھ موت ضرور مل جائے گی۔۔۔ایسا مجھے لگتا ہے۔۔۔”
۔
“بریر۔۔۔”
بلاج کو جیسے ہی ہسپتال لایا گیا تھا سب فیملی ممبرز پہلے سے ہسپتال میں موجود تھے۔۔۔
“بلاج میرے بچے۔۔”
داد جی کی آنکھیں بھیگ گئی تھی بلاج کے جسم کو خون سے بھرے دیکھ کر اس خاندان کے مرد پہلی بار اتنے کمزور نظر آئے تھے گھر کی عورتوں کو۔۔
“داد جی کچھ نہیں ہوگا بلاج کو آپ بیٹھیں زمرد آپ بھی بیٹھے۔۔”
رابیعہ بیگم نے اپنے سسر اور شوہر کو بہت ہمت دی تھی
“جس باسٹرڈ نے بھی یہ کیا ہے اسے ہم چھوڑیں گے نہیں داد جی۔۔”
۔
نوجوان نسل خاندان کی دندناتے ہوئے ہسپتال سے چلی گئی تھی۔۔
مہتاب ابھی بھی صدمے میں تھا۔۔ایک طرف پشمینہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی دوسری طرف اپنے باپ جیسے بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر وہ ڈر گیا تھا۔۔
۔
سب میں غم و غصہ تھا۔۔
“یہ کون نیا دشمن پیدا ہوگیا ہے ہمارا زمرد۔۔پتا کرو۔۔اور جب پتا چل جائے تو ختم کر دینا۔۔”
داد جی کی آواز نے للکار کر کہا تھا۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ارسل بھائی۔۔۔”
“بس بہرام شاہ وہیں رک جاؤ۔۔”
بریرہ جو واپس سونم اور ڈینیل کے اپارٹمنٹ میں داخل ہونے لگی تھی اپنے بھائی اور کزن کی اونچی آواز سے وہیں رک گئی تھی۔۔
۔
“سیریسلی سونم۔۔؟ تم ان دونوں کو یہاں لے آئی ہو،،”
اس نے آگ برساتی نگاہوں سے سونم کو دیکھا تھا جو ایک دم سے ڈینیل کے پیچھے چھپ گئی تھی
“اس نے جو کیا سہی کیا کم سے کم تمہاری طرح پاگل کوئی نہیں بریرہ وہ مر بھی سکتا تھا۔۔اگر اسکے گارڈز اسے عین ٹائم پر گاڑی سے نا نکالتے تو۔۔”
ڈینیل نے آواز اونچی کردی تھی اپنی۔۔
“کون مر سکتا تھا۔۔؟ اور کون بریرہ یو ڈفر۔۔ایڈیٹ۔۔”
وہ ڈینیل کی طرف بھاگی تھی جو اب سونم کے پیچھے چھپ گیا تھا۔۔
“بس بریرہ شاہ۔۔تمہیں کچھ بھی ہوسکتا تھا تمہیں جب میں نے کہا تھا میں آگیا ہوں۔۔”
بہرام نے اسکے بازو سے جیسے ہی اسے پکڑ کر اپنی طرف کیا تھا ارسل شاہ کو شدید غصہ آیا تھا۔۔
“اچھا اب میں سمجھا ہوں یہ کیوں آیا ہے یہاں۔؟ میری بہن کے لیے تمہاری محبت ابھی بھی مری نہیں ہے۔؟ اپنی بیوی کو تو تم نے مار دیا ہے بہرام شاہ اب میں تمہیں اپنی بہن کے پاس بھی نہیں رہنے دوں گا۔۔”
۔
ارسل کی بات جتنی تلخ سننے میں تھی اتنے ہی گہرے زخم کردئیے تھے اس بات نے بہرام کے دل پہ وہ اتنے حیران تھا ارسل کی بات سن کر اور بریرہ کی نظریں بےساختہ اٹھی تھی بہرام کی نظروں میں نظریں ڈالی تھی۔۔
اسے پتا نہیں تھا بہرام بھا۔۔۔بہرام اس سے محبت کرتا تھا۔۔اسے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا۔۔
“ارسل بھائی۔۔”
بہرام نے سرگوشی کی تھی۔۔
“ارسل بھائی کیا۔؟ دفعہ ہوجاؤ یہاں سے تم نے اپنی عمر دیکھی ہے ۔۔؟ کیا سوچ کر تم نے یہاں آنے کی کوشش کی۔۔”
“ارسل بھائی عمر کی بات کہاں سے آگئی ہے۔۔؟”
سونم نے سختی سے بات کی تھی ان سے۔۔
“سونم تم درمیان میں نا بولو۔۔تم نہیں جانتی ان لوگوں کو انکی اوقات نہیں ہے ہمارا مقابلہ کریں یہ تو ہنس رہے ہوں گے کہ وجیح شاہ اور اسکی اولاد برباد ہوگئی۔۔
یہ بریرہ کو اسی جال میں پھنسانہ چاہتا ہے جہاں سے وہ ابھی ابھی نکلی ہے۔۔۔محبت کے گھنونے جال سے۔۔نکلو یہاں سے۔۔”
بریرہ اپنی جگہ اسے ہل نہیں پائی تھی اپنے بڑے بھائی کی اتنی کڑوی باتیں سن کر نا اسکی نظریں ہٹ پائی تھی بہرام شاہ سے
ارسل نے بہرام کا ہاتھ پکڑ کر اسے دروازے کی طرف دھکا دیا تھا۔۔
بہرام جو صحت اور قد میں ارسل سے اونچا تھا کسی میں ہمت نہیں ہوئی تھی بہرام شاہ کو ہاتھ لگانے کی پر بہرام ارسل کی عزت میں کچھ نہیں کہہ رہا تھا وہ اتنا شاکڈ تھا اپنے کزن کے لگائے الزامات سے۔۔
“ارسل بھائی اننف۔۔”
ڈینیل نے ارسل کا ہاتھ روکنے کی کوشش کی تھی پر ارسل نے بہرام کے کندھے کو باہر دھکیلنے کی کوشش کی تھی
“بس ارسل بس۔۔میں عزت کر رہا ہوں آپ کی۔۔”
ابھی بہرام بات کررہا تھا کہ ارسل نے ایک زور دار مکا مارا تھا بہرام کے منہ پر۔۔
“یااللہ۔۔۔بریرہ روکوانہیں۔۔۔”
بریرہ کے کانوں میں جیسے ہی سونم کی آواز پڑی تھی اس نے اپنے بھائی کو پیچھے دھکیلا تھا بہرام سے۔۔جسے ایک اور مکا مارا تھا ارسل نے۔۔
“ارسل بھائی بس کرجائیں۔۔۔اننف از اننف۔۔۔”
ارسل جہاں اپنی چھوٹی بہن کے منہ سے بھائی لفظ سن کر خوش ہورہا تھا وہاں وہ طیش میں بھی آیا تھا جب بریرہ نے بہرام کا ہاتھ پکڑا تھا
“آپ چلیں میرے ساتھ۔۔۔”
بریرہ بہرام کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے روم میں لے گئی تھ۔۔۔
۔
“یہاں بیٹھے میں فرسٹ ایڈ۔۔۔”
“میں نے اپنی بیوی کو نہیں مارا بریرہ۔۔ میں۔۔میں تو اسے چاہنے لگا تھا۔۔۔
جس دن اس سے میں نے اپنی نئی نئی محبت کا اظہار کرنا تھا اس دن اس نے منہ پھیر لیا تھا آنکھیں بند کر لی تھی یہ کہہ کہ “آپ نے بہت دیر کردی بہرام”۔۔”
۔
اس نے بریرہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا پیچھے سے جب بہرام کی بات مکمل ہوئی بریرہ نے بہت آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا بہرام کے پاتھ سے
“آپ یہیں بیٹھے میں فرسٹ ایڈ لے آؤں۔۔”
بہرام بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔اسے فکر نہیں تھی اسکے منہ سے خون نکل رہا تھا اسکی آنکھ پر زخم آیا تھا۔۔
اس اس چیز کا بھی دکھ نہیں تھا اسے اسکی عمر کا طعنہ دیا گیا تھا اس دکھ تھا تو اس بات کا کہ اس پر الزام لگا یا گیا تھا وہ کیسے اپنی بیوی کو مار سکتا تھا جس بیوی نے اسے پیار دیا تھا اعتماد دیا تھا۔۔جب وہ بریرہ کے ہاتھوں ٹھکرائے جانے پر پوری طرح ٹوٹ گیا تھا
۔
۔
“بیٹی ہوئی ہے بہرام۔۔بہت بہت مبارک ہو بیٹا۔۔۔”
“ابو سچ میں۔۔ ماہین کیسی ہے ابو۔۔؟”
بہرام آفس سے سیدھا ہسپتال آیا تھا بھاگتے ہوئے جیسے ہی اسے گھر سے فون گیا تھا۔۔
“بیٹا ماہین کو ابھی کچھ دن یہیں رہنا ہوگا ڈاکٹر کچھ دن انڈر آبزرویشن رکھے گے۔”
“میں مل سکتا ہوں اسے۔۔۔”
“ہاں اندر جاؤ۔۔۔اسے ہوش آگیا تھا۔۔”
بہرام اندر روم میں گیا تھا۔۔جہاں اسکی سانسیں رک گئی تھی۔۔۔ اپنی کو اپنی بیوی کی آغوش میں لیٹے دیکھ کر۔۔”
“بہرام۔۔۔”
بہرام نے ماہین کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور جب ماہین نے انکی بیٹی کو آہستہ سے اپنے شوہر کی طرف کیا تھا اسے نے ڈرتے ہوئے اپنی بیٹی کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔
۔
۔
“ماہی پچھلے دو دن سے جب دیکھتا ہوں تم ایسے ہی پری کے چہرے کو دیکھتی رہتی ہو گھنٹوں۔۔۔”
“میں پری کے چہرے سے زیادہ پری کی آنکھوں میں دیکھتی ہوں بہرام۔۔۔”
“کیوں۔۔؟؟؟”
بہرام نے کرسی کو انکے بیڈ کے پاس کرلیا تھا بہت زیادہ۔۔
“کیونکہ پری کی آنکھیں آپ جیسی ہیں۔۔اور میری پہلی محبت آپ کی آنکھوں سے ہوئی تھی مجھے پر آپ نے کبھی میری آنکھوں میں دیکھا اور نا مجھے دیکھنے دیا آپکو کبھی ۔۔اب مجھے لگتا ہے میں آپ کی آنکھوں میں دیکھ رہی ہوں۔۔”
بہرام نے سر جھکا لیا تھا۔۔
“ماہی میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔”
“بہت دیر ہوگئی ہے بہرام۔۔”
بہرا نے ماہین کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا
“کیا مطلب۔۔؟؟ دیر نہیں ہوئی ماہی۔۔۔”
ماہین کی بن آنسو کے روتی آنکھیں اور ہنستے ہوئے چہرے نے بہت کچھ کہا دیا تھا بہرام شاہ سے۔۔
اور کچھ دیکنڈز کے بعد اس ہسپتال کے روم میں صرف اس مشین کی بیپ سنائی دے رہی تھی۔۔
ڈاکٹر روم میں آئے تھے بہرام تھا کہ باہر نہیں جا رہا تھا تھا۔۔جب اپنی روتی ہوئی بچی کو اس نے اپنے سینے سے لگا کر چپ کروایا اسی وقت وہ مانیٹر بھی خاموش ہوا تھا جو ماہین کی ہرٹ بیٹ کی موجودگی کا بتارہا تھا کچھ وقت پہلے۔۔۔
“ماہین۔۔۔”
۔
۔
“تھوڑا سا درد ہوگا۔۔۔”
بریرہ کی آواز سن کر بہرام نے آنکھیں کھولی تھی جو بہرام کے زخم صاف کرنا شروع ہوئی تھی
“ایم سوری نیچے جو بھی ہوا ۔۔”
اس نے بہرام کے ہونٹ کے پاس گہرے زخم کو دیکھ کر اظہار کیا تھا۔۔
“کوئی بات نہیں۔۔اس سفر میں یہ سب اور زیادہ ہوگا آگے چل کر ۔۔۔”
بہرام کی آنکھوں میں درد کی اتنی شدت تھی کی بریرہ کے ہاتھ رک گئے تھے۔۔
“ایم سووو سوری۔۔”
اس بار اس نے بہرام کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا
“میں نے ارسل بھائی کے “
“میں اس بار اس لیے معافی مانگ رہی ہوں کیونکہ آپ کی اس حالت کی وجہ میں بھی ہوں۔۔ہمارے نکاح والے دن میں چلی آئی تھی سب کچھ چھوڑ کر۔۔۔
اس وقت مجھے بھی یہی لگتا تھا آپ عمر میں بہت بڑے ہیں۔۔میں خوش نہیں رہوں گی۔۔۔آپ کے ساتھ۔۔۔ مجھے تو پتا بھی نہیں تھا آپ مجھ سے پیار کرتے تھے بہرام۔۔۔”
اس نے بہرام کا نام لے دیا تھا اور بہرام کے زخم صاف کرکے اس نے کریم لگا دی تھی۔۔۔اپنی بات ادھوری چھوڑ کر وہ اٹھ گئی تھی
“اگر میری محبت کا تمہیں پتا چلا جاتا تو کیا شادی کرلیتی اس وقت مجھ سے۔۔؟؟”
بہرام نے اب کی بار بہت آہستہ سے ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
۔
“اس مچھلی نے پتھر چاٹ کر واپس آنا تھا۔۔۔میں نے شاید تب بھی انکار کرنا تھا۔۔اور مذاق اڑا دینا تھا آپ کی محبت کا۔۔میں یہی کرتی آئی ہوں۔۔اس لیے محبت نے میرا مذاق بنا دیا۔۔
میں نے رشتوں کی عزتیں پامال کی میری محبت نے میرا وجود پامال کردیا اب مجھے
“اک لفظ محبت سے شدت کی نفرت ہے کہ نفرت لفظ چھوٹا لگتا ہے وہ جو نفرت مجھے محبت سے ہے۔۔۔”
۔
۔
“شدتِ عشق خیر ہو تیری،،،،
کیسے عالم میں لاکے چھوڑ دیا،،،”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“۔۔۔پاکستان۔۔۔”
۔
۔
“کبیر آپ یہاں ہیں میں نے سارے گھر میں ڈھونڈ لیا آپ کو۔۔”
وہ کہتے ہوئے اندر آئیں تھیں کیبر شاہ کی نظریں سامنے دیوار پر لگے ان فیملی فوٹو فریمز پر تھیں۔۔
“کنزہ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں ایک طرف بھائی نے آواز دی ہے تو دوسری طرف باپ کی قسم۔۔بہرام کا نمبر نہیں مل رہا گھر میں کس سے شئیر کروں۔۔؟
وجیح بھائی کا نام سن کر سب نیویارک بھاگیں گے خاص وجاہت بھائی کے بیٹے۔۔
وہ تو اپنے باپ کی موت کو ابھی تک نہیں بھولے پر ان سب کو روکا ہواہے میں نے۔۔آج میرا ایک غلط قدم بدلے کے بجھی ہوئی آگ کو ہوا دہ دے گا۔۔”
ان کے لہجے میں بہت درد تھا جب انکی نظریں اپنے دو جوان بھائیوں کی فوٹو پر پڑی تھی۔۔۔
“بابا سائیں نے ان دونوں کے قتل کے بعد اس بدلے کو یہیں دفن کرنے کا کہہ دیا تھا۔۔پر وجیح بھائی صاحب۔۔خاندانی دشمنی میں اپنا گھر بھی لٹا بیٹھے۔۔۔”
۔
“کبیر اللہ پر یقین رکھیں آپ بہرام سے بات کریں۔۔بہرام سب ٹھیک کردے گا۔۔”
“بہرام کے پاس کسی کو تو بھیجنا ہوگا ارسل کو یہ پیغام لازمی دینا ہوگا وجیح بھائی کا کنزہ۔۔بہرام کو شاید تم بھی نہیں جانتی وہ ایسے نہیں لوٹے گا وہاں سے۔۔”
۔
۔
“وقت کا ستم تو دیکھئیے حضور،،،،
خود گزر گیا ہمیں وہیں چھوڑ کر،،،”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ۔۔بلاج کی حالت بہت کریٹیکل ہے۔۔سب نیوز چینل یہی خبر دے رہے نیو پارک کے۔۔”
بریرہ کھانا کھاتے ہوئے رکی تھی اس پر تو پہلے ہی سب کی نظریں تھیں بہرام شاہ ارسل شاہ اور ڈینیل تینوں ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کوئی قیامت آگئی ہو۔۔
“آپ لوگ تو ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے کوئی ری ایکشن ملے گا مجھ سے۔۔؟
کھانا کھائیں ٹھنڈا ہورہا ہے۔۔”
اس نے ہنستے ہوئے کھانا شروع کیا تھا۔۔
۔
۔
“مدیحہ۔۔بلاج کو ہوش آجائے گا بیٹا رونا بند کرو۔۔”
رابیعہ ابیگم مدیحہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر بلاج کے ہسپتال کے روم میں لے گئی تھ جسے تھوڑی دیر پہلے ہی شفٹ کیا گیا تھا۔۔
۔
“بلاج میری جان۔۔”
بلاج کے چہرے پر بہت پیار سے کسی نے ہاتھ رکھا تھا
“بر۔۔۔بریرہ۔۔”
اس کمرے میں اتنے لوگوں میں ہر ایک نے یہ نا سن لیا تھا بلاج کی زبان سے نکلے ہوئے اس نام نے
“بریرہ کون ہے۔۔؟”
مہتاب نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔
“مہتاب بیٹا تم مدیحہ کو گھر لے جاؤ رابیعہ آپ بھی جائیں۔۔مدیحہ کا اس حالت میں پریشان ہونا ٹھیک نہیں ہے۔۔”
زمرد صاحب نے بات کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی مدیحہ کے چہرہ پر تکلیف صاف عیاں ہورہی تھی
۔
“پر بابا بلاج بھائی نے کسی اور لڑکی کا نام۔۔”
“مہتاب۔۔گھر جاؤ۔۔”
داد جی نے اس بار غصے سے کہا تھا۔۔
وہ تینوں چلے گئے تھے وہاں رہ گئے تھے بس داد جی اور زمرد حمدانی۔۔۔
۔
“بلاج ٹھیک ہوجائے تو میں خود بات کروں گا اس سے۔۔۔آپ فکر نا کیجئیے۔۔”
زمرد صاحب نے اپنے والد کے کندھے پر ہاتھ کر کر کہا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔”
۔
“پشمینہ۔۔۔میں بہت خوش ہوں تم نے مجھے دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان بنا دیا ہے جب گھر والوں نے شادی کی تاریخ کا کہا تھا سب ہی یہ کہہ رہے تھے تم اتنی جلدی ہاں نہیں کرو گی۔۔پر تم نے تو مجھے بہت خوشی دہ دی اسی مہینے شادی واووووو۔۔۔”
مہتاب نے بریرہ کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے بہت قریب کیا تھا سونم نے سر نیچے کرلیا تھا اسے پتا تھا اینڈ میں سب سے زیادہ دل مہتاب کا ٹوٹے گا
۔
“بس اب جلدی سے تیار ہوکر آجاؤ۔۔ آج کا ڈنر سب کے ساتھ کریں گے سونم آپ بھی ڈینیل کے ساتھ ضرور جوائن کیجئیے گا۔۔آج بہت بڑے فیصلے ہوں ۔۔”
مہتاب نے بریرہ کے ہاتھوں پر بوسہ دیا تھا وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔۔بریرہ کی ہاں نے اسکے سب شک ختم کردئیے تھے
۔
“اچھا بابا بس اب جاؤ۔۔میں سونم کے ساتھ آجاؤں گی۔۔پکا۔۔”
مہتاب کچھ دیر میں وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
“بریرہ سیریسلی۔۔؟؟ کم سے کم بہرام کا انتظار تو کرلو۔۔۔”
“کیوں بہرام نے شادی کی ڈیٹ دینی ہے سونم۔۔؟”
“بریرہ۔۔یہ سب ایک بڑا بلنڈر ہوجائے گا ۔۔”
“تو بڑا بلنڈر ہی تو کرنے جا رہی ہے بریرہ شاہ۔۔۔”
“بلاج حمدانی زخمی شیر ہے بریرہ۔۔۔”
“شیر۔۔؟؟ وہ گیدر ہے میری نظر میں۔۔گیدر بھی نہیں محبت کا عورت کا استعمال کرکے دشمن کو شکست دینے والا شیر۔۔؟”
۔
“بریرہ۔۔”
“تیار ہوجانا آج شام کو حمدانی میشن میں ڈنر کریں گے۔۔ بلاج حمدانی کے بھی دیکھ لوں گی اسی بہانے۔۔اور دیکھوں گی میرے دئیے ہوئے زخموں نے کس قدر گھائل کیا اس شیر کو۔۔۔”
۔
“کیا ہونے جا رہا ہے یہ یا اللہ اس لڑکی کو اس بار تباہ ہونے سے پہلے نیکی کی ہدایت عطا فرما دے میرے رب۔۔۔”
۔
وہ آبدیدہ ہوگئی تھی۔۔ اسے آنے والے بھیانک دن نظر آرہے تھے۔۔اور اسے پتا تھا جتنا نقصان بلاج کا ہوگا اتنا بریرہ کا بھی ہوگا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“حمدانی مینشن۔۔۔”
بلاج مہمان آتے ہی ہوں گے یہ سٹک۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔ مجھے چلنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”
بلاج نے اپنا کوٹ پہننا شروع کردیا تھا
“بلاج ڈاکٹر نے کہا تھا زخم تکلیف دیں گے۔۔”
اس نے پھر سے وہ سٹک آگے کی تھی اور اس بار بلاج نے وہ سٹک کو غصے سے پکڑ کر موڑ دیا تھا۔۔۔
“یہ لوہے کی سٹک تم اسے دو جسے ضرورت ہے مدیحہ۔۔”
“اففو۔۔۔ چلتے چلتے درد ہوگی اور اگر گر گئے تو۔؟ مہتاب کی منگیتر بھی آرہی ہے اسکی فیملی بھی سب کے سامنے شرمندہ ہونے سے اچھا ہے۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔دفعہ ہوجاؤ۔۔۔”
۔
مدیحہ بھی غصے سے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
“پشمینہ شیخ۔۔فائننلی اپنے بل سے باہر آنے والی ہو۔۔”
بلاج نے خود کو شیشے میں دیکھ کر کہا تھااسکے چہرے پر ایک الگ ہنسی تھی
ایک شیطانی ہنسی۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“موسٹ ویلکم پشمینہ بیٹی۔۔اندر آؤ بچوں۔۔”
داد جی نے پشمینہ کو بہت عزت سے ویلکم کیا تھا ور ساتھ سارے فیملی کے ممبرز موجود تھے۔۔
“اتنی عزت دے رہے کاٹنے تو نہیں لگے ہمیں کہیں۔۔؟”
ڈینیل کے سونم کے کان میں کہا تھا
“ہاہاہاہا۔۔۔” پشمینہ ہنسی تھی
“اسلام علیکم آنٹی۔۔آپ مہتاب کی مدر ہیں۔۔؟”
رابیعہ بیگم نے جیسے ہیں سلام کا جواب دے کر جواب دیا اسکی بات کا پشمینہ انکے گلے لگی تھی آگے بڑھ کہ۔۔
“مہتاب نے بہت باتیں کی آپ کی۔۔مجھے کب اپنے ہاتھ کی بریانی اور قورمہ کھلا رہی ہیں۔۔؟؟”
بریرہ نے سب کو بہت اچھے سے اگنور کردیا تھا خاص کر مردوں کو۔۔اور سب اٹینشن گھر کی عورتوں پر تھی اسکی۔۔
“بیٹا اندر چلو۔۔شادی کے بعد تم جب کہو گی میں بنا کر کھلاؤں گی۔۔”
رابیعہ بیگم نے مسکرا کر جواب دیا تھا وہ خوش ہوئی تھی اس لڑکی کے لہجے میں عزت اور احترام دیکھ کر
۔
۔
“ڈائیننگ ٹیبل پر کھانا لگ چکا تھا لیونگ روم میں اس وقت سے قہقوں کی آوازیں گونج رہیں تھیں جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی بلاج جان بوجھ کر لیٹ آیا تھا نیچے۔۔اور نیچے آتے ہی وہ ڈائیننگ ٹیبل پر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تھا
“جیٹھ جی۔۔۔اب کیسے ہیں آپ۔۔؟؟”
بریرہ کی آواز پر بلاج نے نگاہ اٹھائی تھی بریرہ سامنے والی کرسی پر بیٹھی تھی جو بلاج کے بلکل سامنے ہی پڑی تھی آج اسے پشمینہ شیخ کے لہجے میں ایک شرارت ایک خوشی ایک جیت کی جھلک نظر آرہی تھی۔۔
جو بلاج کو اس طرح آہستہ آہستہ چلتے درد میں ٹیبل کا سہارا لیتے دیکھ کر سچ میں بہت خوش ہوئی تھی
۔
“اووو ہائے پشمینہ کیسی ہو۔۔؟؟ بلاج بھی ٹھیک ہیں”
مدیحہ نے بلاج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا
“بلاج حمدانی ایکسیڈنٹ میں زبان پر بھی چوٹ آئی ہے جو بولا نہیں جا رہا آپ سے۔۔؟؟”
“چوٹ تو بہت گہری آئی تھی مس شیخ۔۔اب آپ نے اپنا دیدار کرا دیا ہے مریض کو آرام آجائے گا۔۔”
بہت سے قہقے لگے تھے۔۔پشمینہ کی آنکھوں میں بھی ہنسی کی چمک آئی تھی مدیحہ کا اترا چہرا دیکھ کر۔۔ شکار تو وہ کر رہی تھی اپنی آنکھوں سے بلاج حمدانی کا۔۔
۔
ابھی وہ بلاج کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اسے اسکے پاؤں پر کسی کا پاؤں محسوس ہوا تھا۔۔
اس نے مہتاب کی طرف دیکھا جو ڈینیل کے ساتھ ہنستے ہوئے کچھ بات کر رہا تھا اور پھر اسے وہی حرکت محسوس ہوئی۔۔
“کیا ہوا مس پشمینہ۔۔کچھ چاہیے۔۔؟؟”
“سب کچھ تو ہے یہاں۔۔۔ ضرورت ہوگی تو بتا دوں گی۔۔”
وہ پھر سے کھانا شروع ہوئی تھی تبھی داد جی نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا
“پشمینہ بیٹا۔۔یہ باتیں تو گھر کے بڑوں کے ساتھ کرنی چاہیے پر تمہارے والدین نہیں ہیں سو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا مرضہ ہے تمہاری اور مہتاب کی۔۔”
“داد جی میرے لیے سونم اور ڈینیل میری فیملی ہیں جو یہ فائنل کریں گے ڈیٹ وہ فکس کردیجئیے گا ہمارے نکاح کے لیے۔۔”
آخری لفظ اس نے بلاج کی آنکھوں میں دیکھ کر بولے تھے جو غصے میں کھانے کی پلیٹ پیچھے کرچکا تھا
“ہمم۔۔میں اور ڈینیل چاہتے ہیں اسی مہینے کے آخر میں شادی ہو جانی چاہیے داد جی۔۔مہتاب اور پشمینہ کو بہت جلدی ہے۔۔”
پشمینہ نے بلش کرتے ہوئے سر جھکا لیا تھ۔۔اور سب ہنس دئیے تھے
“تو بس فائنل کرتے ہیں تاریخ نکاح کی۔۔۔تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں بلاج۔۔؟”
“جب آپ لوگوں نے سب فائنل کرلیا ہے تو کیسا پوچھنا مجھ سے۔۔؟؟”
بلاج نے اپنے غصے کا کھل کر اظہار کیا تھا
“بلاج تم ہسپتال میں تھے بیٹا۔۔”
زمرد صاحب نے بہت آہستہ سے کہا تھا۔۔
“یا رائٹ۔۔”
بلاج ابھی بھی غصے میں تھا جب مدیحہ نے کھانے کا سپون بلاج کے ہونٹوں کے پاس کیا تھا۔۔
“تھوڑا سا کھا لو۔۔۔”
“اووووو لووو برڈز۔۔۔۔” ہوٹنگ کی کزنوں نے وہاں بیٹھے بیٹھے۔۔۔
“آئی لووو یو۔۔۔”
بلاج نے جان کر اونچی آواز میں کہا تھا مدیحہ کو۔۔
ابھی اس نے مدیحہ کا ہاتھ پکڑا ہی تھا کہ اسے اپنی ٹانگ پر کچھ حرکت محسوس ہوئی تھی۔۔اور وہ ہیل آہستہ سے جیسے جیسے بلاج کی ٹانگ سے اوپر جا رہی تھی بلاج کی سانسیں رکی تھی اسکی نظریں بےساختہ پشمینہ پر پڑی تھی۔۔جس نے بلاج کو آنکھ ماری تھی اور اپنی ڈرنک کا گلاس پینا شروع کیا تھا
“وٹ دا۔۔۔”
بریرہ کی آنکھ مارنے پر وہ اتنا شاکڈ ہوا تھا جیسے ہی وہ اٹھا تھا پانی کا گلاس اسکے کپڑوں پر گر گیا تھا
“کیا ہوا جیٹھ جی۔۔؟؟”
بریرہ کا لہجہ شرارت سے بھرا ہوا تھا
“کیا ہوا بیٹا۔۔”
کچھ نہیں۔۔میں آیا ابھی۔۔۔”
وہ وہاں سے اپنے روم میں چلا گیا تھا۔۔
۔
“ایکسکئیوزمئ میں واش روم یوز کرسکتی ہوں۔؟”
بریرہ نے پوچھا تھا۔۔
“میں دیکھاتا ہوں۔۔”
مہتاب اپنی جگہ سے اٹھنے لگا تھا جب بریرہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا تھا
“بس مجھے ڈائرکشن بتا دو مہتاب کھانا پیٹ بھر کے کھاؤ بہت مزے کا بنا ہے۔۔”
مدیحہ نے اسے ڈائیرکشن بتائی تھی۔۔
اور بریرہ شاہ اس کے بلکل برعکس گئی تھی۔۔۔وہ اسی جگہ گئی تھی جہاں بلاج حمدانی گیا تھا۔۔
جب اس نے بلاج کے بیڈروم کا دروازہ کھولا تھا تو اس دونوں کی شادی کی تصویر نے بریرہ کے دل پر تکلیف ضرور دی تھی
“مدیحہ اگر تم مجھے لے جانے آئی ہو تو میں نہیں آرہا داد جی سے کہنا۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گیا تھا شرٹ کے بٹن پوری طرح سے اوپن تھے بلاج کے۔۔
“واوووااا۔۔۔مجھے پتا ہوتا ان کپڑوں کے اندر اتنی ہوٹ باڈی ہے میں شاید تمہاری آفر نا ٹھکراتی بلاج حمدانی۔۔۔”
بریرہ کی آواز بھی اب بلاج کو سیڈیوس کر رہی تھی
“مس پشمینہ۔۔۔”
“شش۔۔۔پشمینہ کہو بس۔۔”
وہ بلاج کے سامنے کھڑی تھی
“تمہیں ہوا کیا اس دن تو بہت لیکچر دے رہی تھی میں ون نائٹ سٹینڈ نہیں کرتی۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوا تھا جب اسکی انگلیا بلاج کی بلٹ سے ہوتے ہوئے اسکے سینے پر تھی۔۔۔ اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔
“تم سچ میں مجھے مارنا چاہتی ہو۔۔؟؟”
اسکا ہاتھ پشمینہ کے ہاتھ پر تھا جو بلاج کے دل پر رکھا ہوا تھا اس نے۔۔
“میرا ارادہ تمہیں مارنے کا ہی ہے مسٹڑ بلاج۔۔”
اسکے ہونٹ جیسے ہی بلاج کے ہونٹوں کے قریب گئے تھے بلاج نے اسے گھما دیا تھا۔۔اب اسکے بیک بلاج کے سامنے تھی۔۔
بلاج نے پیچھے سے اسکی ویسٹ پر اپنا ہاتھ رکھ کہ اسکی گردن سے بال پیچھے کئیے تھے۔۔
“جانےمن پھر تو مجھے مارنے کی خواہش خواہش رہ جائے گی تمہاری۔۔۔”
اسکے ہونٹ جیسے ہی بریرہ کو اپنی گردن پر محسوس ہوئے تھے اس کی سانسیں بند ہوئیں تھیں اب۔۔۔
۔
“میری خواہشیں میری ضد ہیں بلاج حمدانی۔۔اور ضد پوری کرکے رہتی ہے پشمینہ شیخ۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے مڑی تھی وہ دونوں اتنے قریب تھے بلاج کا چہرہ اسکی طرف جھکا تھا۔۔۔
پر جیسے ہی بلاج نے اپنی آنکھیں بند کی تھی بریرہ کی ہنسی گونجی تھی پورے کمرے میں۔۔
“تم نے کہا تھا تم اس شادی کو ہونے نہیں دو گے۔۔میں نے کہا تھا یہ شادی ہوگی۔۔اب بتاؤ تم اپنی زبان کے پکے ہو یا میں۔۔؟
تم نے نیچے اپنی بیوی کو کہا تم اس سے محبت کرتے ہو۔۔۔اور یہاں تم میرے ایک لمس کے لیے تڑپ رہے ہو۔۔تمہارے تیز دھڑکنے بلاج حمدانی۔۔۔”
بلاج کی آنکھوں میں ایک غصہ آیا تھا اچانک سے اس نے بریرہ کو اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
“یہ شادی تو پھر بھی نہیں ہوگی۔۔۔اور تمہاری موجود میں میری دھڑکنے کب تیز نہیں ہوئی بریرہ بلاج حمدانی۔۔؟؟”
بلاج کی بات پر بریرہ کی آنکھیں اسکی آنکھوں میں تھیں۔۔
“ہاں تڑپ رہا ہوں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں کوئی گناہ ہے کیا اپنی بیوی کو اپنی بانہوں میں بھرنا اسے پیار کرنا۔۔؟”
بلاج نےاپنا چہرہ اور قریب کیا تھا اور بریرہ کی شاکڈ سٹیٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اسکے ہونٹوں پر بوسہ لیا تھا
“کیا ہوا بریرہ بلاج حمدانی۔۔۔”
“تم پھر سے وہی غلطی کر رہے ہو۔۔۔ابھی ابھی اپنی بیوی کے ساتھ تم نے بےوفائی کی۔۔۔اور اب مجھے بریرہ کہہ کر خود کو جسٹیفائی کر رہے ہو۔۔
تمہاری حقیقت میں نہیں ہوں بلاج حمدانی یہ تصویر ہے۔۔ اپنی بیوی کے سامنے جانے سے پہلے یہ لپسٹک کے نشان صاف ضرور کرلینا۔۔۔”
۔
۔
وہ وہاں سے چلی گئی تھی باہر اور دیوار کے ساتھ کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
“یا وہ اپارٹمنٹ کا بیڈروم ہو یا یہ کمرہ بلاج۔۔تم تو ہر جگہ ہر محبت کرنے والے کے ساتھ بےوفا نکلے ہو۔۔۔نا بھرم یہاں رکھا تم نے۔۔کہ جو پریگننٹ ہے اور زندہ ہے۔۔۔تمہاری بیوی مدیحہ۔۔۔
نا مان تم نے اس عورت کا رکھا جس کے بیڈروم میں تم نے کسی اور کو لے جا کر ذلیل کردیا اسکی یادوں کو۔۔ تم سچ میں بےوفا ہو۔۔۔بہت بڑے بےوفا ہو۔۔”
۔
“بےوفائی کہ سب کتابوں میں
تیرے جیسی کوئی مثال نہیں۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
