57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

وہ گاڑی میں واپس آکر بیٹھ گئی تھی اس کی نظریں اس موبائل پر تھیں وہ اس معصوم بچی میں اپنے بچے کو دیکھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔ بہرام ابھی بھی باہر کھڑا تھا اسے اندازہ تھا بریرہ کو وقت چاہیے۔۔وہ اور بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا اس پر۔۔
آج جو بھی ہوا اسے علم تھا یہ ٹوٹی ہوئی بیوی اور ٹوٹ گئی تھی اپنے بےوفا شوہر کی بےوفائی سے۔۔
وہ تیار تھا انتظار کرنے کو
“کیا ساری رات یہی رہنا ہے سر آپ نے۔۔؟؟”
بہرام نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔جو اب وہ ٹوٹی ہوئی بکھری ہوئی بریرہ لگ ہی نہیں رہی تھی جو کچھ دیر پہلے تھے
ونڈو سے باہر منہ نکالے جب اس نے ہاتھ کا اشارہ کیا ہوا میں لہراتے بریرہ کے بال بہرام شاہ کو گھائل کرچکے تھے
گہرا سانس لئیے وہ واپس گاڑی کی سیٹ پر بیٹھ گیا تھا
۔
“یہ آپ کا موبائل مجھے ابھی گھر نہیں جانا ایک جگہ بتادیتی ہوں وہاں مجھے ڈراپ کردیجئے۔۔”
بریرہ نے یہ کہہ کر منہ باہر کی طرف کرلیا تھا بہرام نے کچھ فاصلے تک گاڑی چلائی اور بریرہ کے کہنے پر روک بھی دی تھی
“بریرہ اس وقت یہاں کس کے اپارٹمنٹ میں جانا ہے۔۔؟”
پر وہ گاڑی سے اتر گئی تھی
“پہلی بات بریرہ نہیں پشمینہ۔۔میں یہاں اس مقام پر بہت محنت سے پہنچی ہوں سر
اسے خراب مت کیجئیے۔۔واپس چلے جائیں پاکستان آپ کی مہربانی ہوگی سر۔۔”
وہ اندر کی جانب مڑنی لگی تھی پر بہرام نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“کیا میرے آنے سے تم بلکل بھی خوش نہیں ہو بریرہ۔۔؟”
“بریرہ مت کہیں سر مجھے۔۔۔”
تو پھر تم مجھے سر مت کہو بریرہ۔۔”
وہ ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی پر بہرام نہیں چھوڑ رہا تھا
“آپ نے بھائی کہنے سے منع کیا ہے بہرام بھائی تو سر ہی کہوں گی نا۔۔؟”
اس نے تلخ لہجے میں کہا تھا
“بھائی کہنے سے منع کیا ہے بہرام نہیں۔۔مجھے میرے نام سے پکارو۔۔”
بہرام نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا
“نہیں پکار سکتی نام لیکر۔۔آپ جائیں اب یہاں سے اور اس ملک سے بھی۔۔۔میری زندگی میں اور بوجھ نا ڈالیں۔۔”
۔
وہ اندر چلی گئی تھی اس نے وہ ایک کوڈ لگایا تھا اس لاکڈ ڈوڑ پر جواسے یاد تھا ابھی تک۔۔
اسے پتا تھا یہاں کوئی نہیں ہوگا یہ جنت تو صرف اسکی تھا۔۔یہ اپارٹمنٹ اسکی دوسری محبت تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہائے ایم پشمینہ ایم سوری پر آپ کو پہلے یہاں دیکھا نہیں۔۔”
“ہائے ایم مہتاب حمدانی۔۔میں نے ریسنٹلی جوائن کی ہیں کلاسز”
۔
“ول۔۔ول یو بی مائی گرلفرینڈ پشمینہ۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ ایک سال لگا تمہیں سیریسلی مہتاب۔۔؟؟”
۔
۔
“ابھی ابھی بھولے بھی نا تھے تمہیں،،خیال بن کہ پھر تم آگئے،،
احساس جو تھے دل میں کئی ان کہیں،،لفظوں پہ وہ پھریوں آگئے۔۔”
۔
(“”پشمینہ میں تمہارے ساتھ ساری زندگی گزارنا چاہتا ہوں ہمارے اس رشتے کو عزت والا نام دینا چاہتا ہوں۔۔۔شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے۔۔”
“مہتاب یہ سب بہت جلدی نہیں ہے۔۔؟ آئی مین اتنی جلدی یہ سب”
“جلدی کچھ بھی نہیں ہے دو سال ہوگئے ہمیں۔۔اور اس لونگ ڈسٹنس ریلیشنشپ سے اب ڈر لگتا ہے۔۔”
“مہتاب تمہیں ڈرنے کہ ضرورت نہیں ہے،،میں ہوں تمہارے ساتھ””)
۔
“سانسوں کی سرزمیں پر،،برسات لاگئے،،،
ایک جھپکی میں تیرے سووو خواب آگئے۔۔۔”
۔
۔
“مہتاب۔۔مہتاب بیٹا۔۔”
دروازہ کھلنے سے ہلکی سی روشنی اندر داخل ہوئی تھی اس اندھیرے سے بھرے کمرے میں
جہاں ایک کارنر پر مہتاب اپنے گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھا ہوا تھا
“مہتاب۔۔۔”
“امی لائٹ آن مت کیجئیے گا پلیز۔۔”
رابیعہ بیگم کی انگلیاں رک گئی تھی اس بٹن پر۔۔وہ جلدی سے اپنے بیٹے کی جانب بڑھیں تھیں
“کیا ہوا ہے مہتاب بیٹا تم اس وقت سے کمرے میں بیٹھے ہو سب خیریت ہے میرے بچے۔۔؟”
“خیریت ہی نہیں ہے امی۔۔۔بلاج بھائی کو پشمینہ کو جس طرح نیچے سب کے سامنے ڈیفینڈ کرکے آیا ہوں میرا اپنا یقین ڈگمگا رہا ہے۔۔۔پتا نہیں کیوں مجھے ایک پل کو بھی ان دونوں کا اتنا قریب ہونا اچھا نہیں لگا امی۔۔”
مہتاب نے جیسے ہی چہرہ اوپر کیا تھا رابیعہ نے بےساختہ مہتاب کے چہرے پر ہاتھ رکھے تھے اپنے
ان کے ہاتھ کی انگلیاں بھی بھیگ چکی تھی مہتاب کے آنسوؤں سے۔۔
“مہتاب تم۔۔۔بس بچے رونا بند کرو،،، تم تو میرے بہادر بیٹے ہو”
وہ بھی رو دی تھیں اپنے بیٹے کو اس طرح کمزور دیکھ کر
“امی میں آپ کا بیٹا ہی تو نہیں بن پایا،،ہمیشہ کوشش کی داد جی کے بتائے راستے پر چلنے کی بلاج بھائی کو فالو کرنے کی۔۔آپ کی ہر بات رد کرتا آیا ہوں میں۔۔”
مہتاب کے پاس جیسے ہیں وہ فلور پر بیٹھیں تھیں مہتاب نے انکی گود پہ سر رکھ دیا تھا۔۔
“مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں ہے مہتاب بھلا ماں کو کبھی اپنی اولاد سے کوئی شکایت بھی ہوئی ہے۔۔؟”
“امی بہت بُرا لگا مجھے ان دو لوگوں کے کردار پر جس طرح سب انگلیاں اٹھا رہے تھے۔۔
میں ان دونوں کو بہت پیار کرتا ہوں۔۔بلاج بھائی اور پشمینہ دونوں میری زندگی ہیں۔۔”
۔
رابیعہ بیگم چپ ہوگئیں تھیں۔۔وہ کیسے اپنے بیٹے کو بتاتی کہ جو نیچے ہوا وہ انہیں بلکل بھی پسند نہیں آیا انہیں بلاج پر غصہ تھا انہیں ان سب میں بلاج ہی قصوروار نظر آرہا تھا ۔۔
۔
“مہتاب کیا تمہیں یقین نہیں ہے ان دونوں پر۔۔؟ ایک طرف تمہارا خون کا رشتہ ہے تو دوسری طرف تمہاری محبت۔۔”
“امی میرا یقین ہی تو ڈگمگا رہا ہے آج۔۔پتا نہیں کیوں۔۔میں پشمینہ کو کھونا نہیں چاہتا کبھی نہیں امی۔۔کتنا بھلانے کی کوشش کر رہا ہوں جو بھی آج میری آنکھوں نے اس ڈانس فلور میں دیکھا۔۔پر بھول نہیں پا رہاامی۔۔”
۔
وہ آج کے صرف اس ڈانس کو دیکھ کر ڈر گیا تھا۔۔اسے کیا پتا تھا یہ آغاز تھا اسکی اذیتوں کا۔۔
۔
۔
“کوئی شیشہ اگر ٹوٹے،،،بڑی آوا زہوتی ہے۔۔۔
مگر دل ٹوٹ جانے کی صدا کوئی،،،،نہیں سنتا۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“وہ آج یہاں آئی تھی اسے یاد تھا وہ دن جو اس نے کچھ سال پہلے سوچا تھا بلاج حمدانی کو سرپرائز دینے گا۔۔
پر جب اس نے لائٹ آن کی اس کی آنکھوں کے سامنے وہ سجا سنورا چھوٹا سا گھر نہیں تھا۔۔
ہر طرف ہر ایک چیز بکھری ہوئی تھی وہ دروازے کے ساتھ لگ گئی تھی۔۔
زاروقطار آنسو بہنا شروع ہوئے تھے اس نصیباں ماری بیوی کے۔۔ان بکھرے چیزوں کو پاؤں تلے رؤندے بغیر وہ بلکل سینٹر میں کھڑی ہوگئی تھی۔۔وہاں ایک ٹیبل تھا جسے اس نے ایک خوبصورت کارڈ سے سجایا تھا خود ڈیزائن کرکے۔۔
اس ٹیبل کے ڈراؤر کھولنے کے بعد اس نے اندر سے وہ چیزیں نکالی تھیں جو بہت سال پہلے اس نے اس دراز میں رکھی تھیں۔۔۔ان کاغذات میں ایک کاغذ ایسا بھی تھا جو اسکی پریگننسی رپورٹ کا تھا۔۔
اس نے اپنے ہسبنڈ کو سرپرائز دینا تھا۔۔اور پھر اپنے ہسبنڈ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے بابا سائیں سے ملوانا تھا۔۔
اس نے اس ایک دن یہ سب کرنا تھا۔۔
پر اس دن اس نے کیا کیا۔۔؟ اس نے اپنے بابا سائیں کی خون سے بھری باڈی دیکھی۔۔
اپنے بھائی کو زندگی سے ہارتے ہوئے دیکھا۔۔
اس نے اس دن اپنے شوہر کا وہ رنگ دیکھا جو لوگ اسے بتاتے آئے پر وہ یقین نہیں کرتی تھی
اس نے ایک “بےوفا ” دیکھا تھا
۔
“بلاج حمدانی کیسے سمجھ نہیں پائی تمہیں۔۔؟”
گزرے یادیں جو اسکا حاصل تھی آج اسے اسکی غلطیاں بن گئیں تھیں۔۔
وہ ماضی کی ان آوازوں کے پیچھے پیچھے اس کمرے میں جا رہی تھی جہاں وہ سکون پاتی تھی ہمیشہ۔۔
۔
۔
“اوے سنو۔۔۔”
“اب کیا ہوا بریرہ۔۔”
“ہوا کچھ نہیں پر ہو ضرور جائے گا۔۔کیا خیال ہے۔۔؟؟”
بریرہ نے اپنی انگلیاں بلاج کے سنیے پر رکھ کر آنکھ ماری تھی
“ہاہاہا نہیں میری میٹنگ ہے۔۔”
“مجھ سے زیادہ ضروری ہے مسٹر حمدانی۔۔؟”
اس نے آہستہ سے بلاج کی شرٹ کے بٹم بند کرنا شروع کردئیے تھے
“تم سے زیادہ ضروری کچھ نہیں ہے بریرہ۔۔کچھ بھی نہیں۔۔”
بلاج نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا
۔
۔
“جس کے آنے سے مکمل ہوگئی تھی زندگی ،،
دستکیں خوشیوں نے دی تھی مٹ گئی تھی ہر کمی۔۔۔
کیوں بےوجہ دی یہ سزا،،
کیوں خواب دے کہ وہ لے گیا۔۔۔”
۔
۔
بریرہ نے جیسے ہی وہ روم کا دروازہ کھولا تھا اندر جو تھا وہ بریرہ شاہ کو ایک آخری تحفہ تھا بلاھ حمدانی کی بےوفائی۔۔
وہ کمرہ تو بکھرا ہوا تھا اسکی حالت کی طرح۔۔پر اس بیڈ پر بلاج کے سینے پہ سر رکھ کہ سو رہی مدیحہ نے بریرہ شاہ کی اس بکھری محبت کو ایسے ہوا میں اڑا دیا تھا جیسے پت جھڑ میں خشک پتے ہوں۔۔۔
۔
“بلاج۔۔۔”
وہ دروازہ بند کر کے باہر ہی دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی۔۔
“تو اس نے کوئی ایک موقع نہیں چھوڑا نا میری محبت کو ذلیل کرنے کا۔۔
وہ جانتا تھا اس گھر کے لیے میری محبت۔۔وہ جانتا تھا اس کمرے میں سب کچھ میرا تھا میری یادیں میری باتیں۔۔
اوووو بےوفا انسان بےوفائی تو کرلی کرتے کرتے محبت کا زرا سا مان رکھ لیتے۔۔۔”
۔
“اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو سنبھالوں کیسے۔۔
خود کو دنیا کی نگاہوں سے چھپالوں کیسے۔۔۔
اپنے ہاتھوں سے دیا دل کا بجھا لوں کیسے۔۔۔”
۔
۔
وہ کتنی ہی دیر وہاں بیٹھی رہی تھی اب اسے سمجھ آئی تھی کہ کیوں یہاں سب برباد کردیا گیا تھا۔۔
وہ آج آخری بار اپنی محبت کو یہاں رونے آئی تھی پر بلاج حمدانی نے وہ محبتیں بھی نہیں چھوڑی تھی
وہ ہمت کر کے واپس گئی تھی۔۔ اب کے بلینکٹ سرک گئی تھی مدیحہ کے وجود سے بریرہ نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔اور اس شیشے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر تک وہ وہیں موجود تھیں۔۔
اگر وہ بریرہ ہوتی۔۔۔ایک بیوی۔۔۔ تو وہ بلاج حمدانی کو گریبان سے پکڑ جگاتی اسے اٹھاتی۔روتی جی بھر کر اپنے شوہر کو اس طرح کسی اور کے ساتھ دیکھ کر۔۔۔پر اب وہ پشمینہ شیخ تھی۔۔۔
۔
اسی نام نے اسکی آنکھیں بھر دی تھیں۔۔۔
وہ واپس باہر آگئی تھی اور وہاں سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔اس سنسان سڑک پر اس نے چلنا شروع کردیا تھا۔۔
یہ دیکھے بغیر کے اسے بہرام شاہ کی گاڑی نے فالو کرنا شروع کردیا تھا جو اس وقت سے یہیں کھڑا تھا
بریرہ کے انتظار میں
۔
۔
وہ چلتے چلتے اس قبرستان کے پاس آگئی تھی دونوں بازو اس طرح سے اس نے لٹکائے ہوئے تھے جیسے وہ آج پوری طرح سے اجڑ گئی ہو۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا سائیں۔۔۔آپ کو پتا ہےجس بےوفا کے لیے میں آپ کو دھوکہ دیتی آئی۔۔اس نے مجھے دھوکہ دے دیا۔۔
جس سے سب دنیا کے سامنے میں شادی کرنا چاہتی تھی آج اس نے وہ عزت کسی اور کو دہ دی۔۔
میں تو اس سے نکاح کرکے اپنے خاندان کی بربادی لکھ چکی تھی آج اسے اتنا خوش اتنا آباد دیکھ کر میں پھر سے برباد ہوگئی ہوں بابا سائیں۔۔۔
۔
مجھے سہی سزا ملی ہے نا بابا سائیں۔۔؟؟ کہ جو بیٹیاں باپ کی پگڑی اچھال دیتی ہے انہیں کیسے عزت مل سکتی ہے کسی بھی رشتے سے۔۔؟
جو بہنیں بھائیوں کو رسوا کروا دیتی ہیں معاشرے میں انہیں کیسے کسی غیر مرد سے حفاظت مل سکتی ہے۔۔؟
دھوکہ تو دیتی تھی میں۔۔کبھی آپ کو تو کبھی بھائی کو۔۔
کبھی امی کو جھوٹ بول دیتی تھی تو کبھی ارسل بھائی سے۔۔
بہت جھوٹ بولتی تھی میں۔۔۔۔
اور میرے ساتھ بھی جھوٹ بولا جاتا رہا۔۔۔سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہی تو میں کاٹ رہی تھی جو میں نے بویا تھا۔۔
۔
جو لڑکیاں ماں باپ کو دھوکہ دے کر نامحرم رشتے پروان چڑھاتی ہیں وہ کیسے وفاؤں کی امید لگا لیتی ہیں۔۔؟؟ آج احساس ہو رہا ہے آپ لوگ کیوں واقف تھے بلاج حمدانی سے اور میں نہیں۔۔
آج پتا چلا کہ میرا زہن کتنا بچگانہ اور ڈرامائی دنیا سے بھرا پڑا تھا۔۔
میں نے سہی معنوں میں آج اس بےوفا کو جانا ہے۔۔۔
۔
اس قاتل کو۔۔اس ظالم کو۔۔۔اس بےوفا کو۔۔۔
۔
آج دل میں بوجھ تھا کاشان بھیا۔۔آپ دونوں کو غصہ آرہا ہوگا۔۔پر آج میں اس عورت کا دکھ بتانا چاہتی تھی جو ایک بیوی تھی اس بےوفا کی۔۔
ا س نے وہاں چوٹ دی ہے جہاں درد ہوا ہے مجھے۔۔۔بہت درد ہوا ہے۔۔۔”
۔
وہ بولتے بولتے چپ ہوگئی تھی اور اس درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر اس نے آنکھیں بند کرلی تھی جیسے صدیوں سے جاگی ہوئی تھی آنکھیں بند کرتے ہی وہ نیند کی دنیا میں کھو گئی تھی۔۔۔
۔
۔
“بریرہ شاہ۔۔۔اتنا درد لئیے بیٹھی ہو دل میں اتنا درد۔۔۔”
بہرام نے جھک کر بریرہ کو بہت آرام سے اٹھا لیا تھا اور غاڑی تک لے گیا تھا۔۔۔
۔
۔
“محبت کے ہاتھوں میں کھنجر تو دیکھو۔۔۔کھنجر تو دیکھو۔۔۔
بےوفائی کا یہ بھی منظر تو دیکھو،،،منظر تو دیکھو۔۔۔
پیار کی یہ دعا۔۔۔بن گئی بد دعا۔۔۔۔
میں جیتے جیتے مرگیا۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سورج کی کرنیں جیسے جیسے کمرے میں آنا شروع ہوئیں تھیں بریرہ کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھل رہی تھیں
جب اس نے اپنی آنکھوں میں ہاتھ رکھا اس وقت اس وقت روم کا دروازہ کھلا تھا
“میڈم اٹھ جائیں۔۔اور ناشتہ کر لیجئے مجھے اور بہت کام ہیں۔۔”
سونم ناشتہ کی ٹرے رکھ کر واپس روم سے باہر چلی گئی تھی
“میں یہاں کیسے آئی۔۔؟ میں تو رات کو قبرستان۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکی تھی
“بہرام شاہ۔۔۔۔سیریسلی۔۔۔؟؟؟”
اس نے پھر سے کمبل میں منہ چھپا لیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“گڈ مارننگ ہنی۔۔۔”
بلاج کے بالوں پہ انگلیاں پھیرتے ہوۓ مدیحہ نےکہا تھا بلاج ایک جھٹکے سے اٹھ گیا تھا
“وٹ دا ہیل مدیحہ کیسے آئی تم یہاں۔۔؟ کہیں تو سکون کا سانس لینے دو مجھے۔۔۔”
بلاج کہہ کر اٹھ گیا تھا۔۔
“بلاج ہماری شادی کی رات کیسے دور رہ سکتی تھی تم سے۔۔؟ شادی کے بعد میں تمہیں خود سے دور نہیں کرسکتی۔۔”
بلاج کے کندھے پر جیسے ہی اس نے اپنے ہونٹ رکھے بلاج نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
“مدیحہ میں بہت سخت مزاج ہوں اپنی پرائیوسی کو لیکر مجھے پرسنل سپیس چاہیے۔۔۔پلیز جاؤ یہاں سے۔۔۔”
وہ جیسے ہی اٹھا تھا اسکی نظریں سامنے لگے شیشے پر پڑی تھی
جس پر سرخ لپسٹک سے ایک لفظ بہت بڑے لفظوں میں لکھا ہوا تھا
۔
“بےوفا”
۔
بلاج نے پریشان ہوکر پیچھے دیکھا تھا مدیحہ کی طرف اور پھر اس کمرے کی طرف جیسے وہ ڈر گیا تھا۔۔۔
اسکے ماتھے سے پسینے چھوٹ گئے تھے وہ اس قدر گھبرا گیا تھا۔۔۔
“اس نے مجھے اس حالت میں دیکھ لیا مدیحہ کے ساتھ۔۔۔۔۔”
جلدی سے اپنی شرٹ پہن کر وہ روم سے باہر گیا تھا اور ہر کمرے میں ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی پر اس اپارٹمنٹ میں کوئی نہیں تھا۔۔۔
۔
پر اسکی نظریں اس ٹیبل رکھے ان کاغذات پر پڑی تھیں۔۔
جن میں خوبصورت ایک تصویر پئینٹ کی گئی تھی جس میں لکھا گئے تھے تین لفظ
۔
ماں
ارشمان
بابا
اور ساتھ تھی پریگننسی رپورٹ۔۔
“بلاج تم کیوں آگئے ہو اتنی جلدی میں ایم سوری۔۔پر ناراض تو نا ہو۔۔”
مدیحہ نے پیچھے سے جیسے ہی اسکے گلے لگی تھی بلاج نے وہ تمام کاغذ جلدی سے اپنی کوٹ پاکٹ میں رکھ لئیے تھے۔۔۔
۔
“مدیحہ پلیز۔۔میری ضروری میٹنگ ہے۔۔ڈرائیور آرہا ہے تمہیں گھر چھوڑ دے گا۔۔”
۔
۔
وہ جلدی سے چلا گیا تھا وہاں سے۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ۔۔۔وہ رپورٹر کی دیتھ ہوگئی ہے۔۔؟”
ڈینیل بھاگتے ہوئے کچن کی جانب آیا تھا
بریرہ کے ہاتھ رک گئے تھے اس نے وہ چاۓ کا کپ وہیں کاؤنٹر پر رکھا تھا
“اور بلاج حمدانی نے رشئین مافیا کے ساتھ ڈیل سائن کرنے کے لیے ایک میٹنگ بلائی ہے۔۔۔وہ لوگ آج اس میٹنگ میں وجیح شاہ کے گھر کو توڑ کر وہاں ایک اور کلب اوپن کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
اور بلاج حمدانی اس ڈیل پر سائن کرکے۔۔”
“اننف۔۔۔ڈینیل اتنا بولو جتنا برداشت کرنے کی ہمت رکھتی ہوں میں۔۔
بلاج حمدانی نے بہت بڑی غلطی کردی ہے بہت بڑی ۔۔کیونکہ میں کمزور پڑ گئی تھی۔۔
تم مجھ پر غصہ تھی ناراض تھی سونم۔۔۔
“میرے دل سے بلاج کے لیے محبت تب تک زندہ رہے گی جب تک اس بےوفا کی سانسیں چلتی رہیں گی۔۔۔
میری محبت مر گئی تو بدلہ لینے میں کیسا مزہ آئے گا۔۔؟ اب اسی محبت سے شکار کروں گی اس بےوفا کا۔۔
اسے میری محبت راس نہیں آئی۔۔۔میں اسے اس کی بےوفائی راس آنے نہیں دوں گی۔۔۔”
۔
۔
وہ یہ کہہ کر اوپر کمرے میں چلی گئی تھی۔۔اور جب وہ کپڑے چینج کرکے نیچے آئی تھی تب وہ ایک سادہ سی بریرہ شاہ نہیں۔۔۔
پشمینہ شیخ تھی۔۔اس نے ایک پسٹل اپنے پرس میں رکھ لیا تھا اور بہت جلدی وہاں سے چلی گئی تھی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ڈینیل تمہیں ہر جگہ مجھے کمپنی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”
“کیسے نہیں ہے۔؟ اگر میں وقت پی نا پہنچتا تو تمہیں اندر آنے کیسے دیتے بنا پاس کے۔۔؟”
وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئے تھے۔۔ہر طرف شور تھا ڈانس تھا
سموک اور شراب کی سمیل بریرہ کو اور غصہ دلا رہی تھی
“یہ تماشا وہ لگانا چاہتا ہے وجیح شاہ کی زمین پر۔۔؟ کبھی نہیں ڈینیل۔۔”
“شکار وہ رہا۔۔۔شٹ وہ سائن کر چکے ہیں۔۔”
بریرہ کی نظریں جیسے ہی ‘وی آئی پی’ سیکشن پر پڑی تھی بلاج کسی سے ہاتھ ملا رہا تھا۔۔
دونوں میں کچھ گفتگو ہوئی تھی
“وہ کہاں جا رہا ہے ۔۔؟؟”
بریرہ نے اس رشئین مین کو کسی روم میں داخل ہوتے دیکھ کر ڈینیل سے پوچھا تھا جو خاموش ہوگیا تھا
“ان مافیا ورلڈ۔۔یہاں ڈیل سائن ہونے کے بعد ان لوگوں کو انٹرٹئینمنٹ کے لیے “
۔
“میں سمجھ گئی ہوں اسکو آج میں انٹرٹئنمنٹ کرواتی ہوں۔۔۔”
“بریرہ وہاں خطرہ ہے۔۔”
“میں خطرناک ہوں ۔۔۔آج میں اسے چوٹ پہنچائے بغیر نہیں جاؤں گی ڈینیل۔۔۔”
۔
وہ اس رش میں سے ہوتی ہوئی اس کمرے تک پہنچی تھی جہاں ایک گارڈ پہرہ دے رہا تھا۔۔
۔
“ہیے یو کانٹ۔۔۔”
اس نے اس گورے کی کمر پر اپنی گن رکھ دی تھی جو اپنی گن نکالنے میں دیر کرچکا تھا۔۔۔
“ٹرائی اگین۔۔”
وہ گن اس نے جیسے ہی اسکے سر پر ماری تھی وہ وہاں بےہوش ہوگیا تھا۔۔۔
“ہیلپ مئی۔۔پلیز۔۔۔”
۔
بریرہ کے ہاتھ رک گئے تھے جب کمرے کے اندر سے آوازیں آنا شروع ہوئی تھیں اسے۔۔
اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا تھا اندر جس طرح وہ آدمی دو کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔انکے کپڑے جو کندھے سے پھٹ چکے تھے
“ہو دا ہیل یو۔۔۔”
اس آدمی نے جلدی سے اٹھ کر پیچھے دیکھا تھا جہاں وہ دونوں لڑکیاں بھاگی تھی۔۔جو بریرہ کے پیچھے چھپ گئیں تھی
“یو بچ۔۔۔پٹ دا گن ڈاؤن۔۔”
وہ اپنی گن اٹھانے لگا تھا بریرہ نے ایک فائر کی تھی جو اسکے ہاتھ کو زخمی کرگئی تھی
“یو۔۔”
پر بریرہ نے اسے کچھ بولنے کا موقع نہیں دیا تھا جب اس نے اپنی گن کا رخ اسکے سر سے اسکی ٹانگوں کی طرف کیا تھا۔۔۔
“آج کے بعد یہ دوبارہ کسی لڑکی کی عزت چاہ کر بھی خراب نہیں کر پائے گا۔۔”
۔
ان گرلز نے جیسے ہی انگلش میں بریرہ کو شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔بریرہ نے انہیں جواب میں ایک بات بہت اونچی آواز میں کہی تھی۔۔
“تھینکس ٹو بلاج حمدانی آئی ورک فور ہم۔۔۔”
۔
وہ زخمی گرا ہوا آدمی ابھی ہوش میں تھا۔۔بریرہ کی بات سن کر اس نے ایک میسج ٹائپ کردیا تھا اپنے مافیا باس کو۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج حمدانی ابھی شروعات ہے ہر شروعات کی۔۔۔بےوفا ہونا کسے کہتے ہیں یہ اب بریرہ شاہ بتائے گی تمہیں۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔