Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034

Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034 Last updated: 4 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

  1. Be Wafa by Sidra Sheikh

"وہ رکھیل تو بن سکتی تھی پر میری بیوی نہیں داد جی۔۔اس لیے دشمن کی بیٹی وہی بنی جس قابل وہ تھی۔۔۔میری "رکھیل"
داد جی نے اپنے پوتے کے ان الفاظ پر اپنے بیٹوں کی طرف دیکھا تھا
اس کمرے میں ایک بیٹھک لگی ہوئی تھی میر سکندر حمدانی کے نا صرف بیٹے موجود تھے بلکہ بیٹوں کے بیٹے بھی موجود تھےاور تشویش میں پڑ گئے تھے اس خاندان کی نئی نسل کی سوچ اور لفظوں کی اکاسی دیکھ کر حمدانی صاحب۔۔۔
"ہم آخری بار پوچھ رہے ہیں بلاج بریرہ شاہ تمہارے نکاح میں تھی یا نہیں۔۔؟
ہم نے اسکے آخری لفظ سن لئیے تھے۔۔۔اگر وہ نکاح میں تھی تو اس ہسپتال سے یہاں اس حویلی میں بہو کے روپ میں آئے گی۔۔۔"
"ہاہاہا داد جی۔۔۔نکاح۔۔؟ بہو۔۔؟؟ آپ کو کب سے دشمنوں کی عزت ع نفس کا احساس ہونے لگا۔۔؟ بلاج بھائی نہیں ٹھیک کہا۔۔
اور ویسے بھی اسکے باپ نے اسے جس جگہ مارا تھا نا وہاں سے وہ زندہ بچ کر نہیں آسکتی۔۔۔"
ایک اور رعب دار آواز اس کمرے میں گونج اٹھی تھی
"اسکے اس ناجائز بچے کی طرح۔۔۔ہاہا۔۔۔بلاج بھائی آگے سے دھیان رکھنا باہر کے
عورتوں کے ساتھ تعلقات میں احتیاط برتنی چاہیے۔۔۔"
ان لوگوں نے ہنسی میں بات اڑا دی تھی بڑوں کی۔۔۔
اور ان باتوں سے بلاج اس کرسی سے اٹھ گیا تھا جو داد جی کے تخت نما صوفہ کے سامنے پڑی تھی
"میں چلتا ہوں داد جی۔۔۔"
بلاج صرف دو قدم کے فاصلے پر تھا جب پیچھے سے ایک اور کزن کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی۔۔
جو اس خاندان کا سب سے زیادہ عیاش اور بدتمیز مرد تھا۔۔۔
"بلاج بھائی وہ ویڈیو ہی شئیر کردیں۔۔ہم بھی تو دیکھیں وہ پردے میں
نظرآنے والی دشمن کی بیٹی بستر کی سلوٹوں بھری شیٹ میں کیسے لگتی ہوگی ہم بھی تو نظارے کریں اسکے "
بلاج کی بند مٹھی جس طرح سے ضرب دے گئی تھی اپنے اس کزن
کو وہ داد جی کے قدموں میں جا گرا تھا اور ساتھ اسکے منہ سے اسکے ٹوٹے ہوئے تین دانت۔۔۔۔
بلاج نے انگلی کا اشارہ کیا تھا اس کمرے میں موجود ہر اس کزن
کی طرف اور جس طرح وہ اشارہ جس کی طرف جا رہا تھا ایک وارننگ
کی صورت وہ اسی طرح قدم پیچھے کر گیا تھا اور جب نیچے اس کزن
کی طرف نظڑ پڑی جسی کی کھانسی پر بھی منہ خون نکل رہا تھا
وہ ڈر کے مارے اٹھ کر داد کی ٹانگ پکڑ کر بیٹھ گیا تھا
"ڈونٹ یو۔۔۔۔۔"
۔
بلاج وہاں سے کمرے کا دروازہ زور سے بند کر کے چلا گیا تھا
"اور یہ بکتا ہے کہ اس کا نکاح نہیں ہوا اس لڑکی سے۔۔۔ بلاج کسی غیر عورت کے لیے تو سب سن سکتا ہے پر گھر کی عورت اور عزت پر نہیں۔۔۔"
۔
داد جی کی بات پر اب سب اور فکر مند ہوگئے تھے وہ دشمن کی بیٹی تھی جس سے کوئی ہمدردی نہیں تھی کسی کو۔۔۔
س خاندان کی ہر لڑائی باتوں سے شروع ہوکر خون خرابے پر ختم ہوئی تھی ہمیشہ سے۔۔۔اور اب بھی فرق کچھ زیادہ نہیں تھا۔۔