57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

“بریرہ تم سچ میں آج انکل کو سب بتا دوں گی۔۔؟؟ کاشان بھائی ارسل بھائی مار دیں گے تمہیں”
“ارسل بھائی سے ڈر لگ رہا پر بابا سائی اور کاشان بھیا نووو وے۔۔۔ بہت خوش ہوں گے جب بتاؤں گی کہ وہ نانا بننے والے ہیں۔۔۔”
بریرہ نے آئس کریم جلدی جلدی ختم کر لی تھی
“بریرہ رک جاؤ پلیز۔۔۔اوکے۔۔ایسا کرتے ہیں ہم پہلے بلاج حمدانی سے بات کرتے ہیں ہم۔۔؟ فون کر کے بلا لو انہیں یہاں۔۔۔”
اس کیفے کے شور شرابے میں بھی بریرہ کو صاف سنائی دے رہی تھیں عینی کی باتیں پر وہ اگنور کر کے اٹھ گئی تھی کرسی سے
“بلاج یہاں نہیں ہے آؤٹ آف کنٹری گئے ہوئے ہیں یار سمجھا کرو میں بلاج کو سرپرائزڈ کرنا چاہتی ہوں۔۔کتنا مزہ آئے گا یہ آنےوالی زندگی دو خاندانوں کی سالوں پرانی دشمنی ختم کر دے گی عینی۔۔۔۔”
اسکے لفظوں میں جو خوشی محسوس ہورہی تھی عینی کو ڈر تھا اس خوشی کے چھن جانے سے
“تم اپنی کوشش کر لو بریرہ کوشش کر لو اور پھر اس کوشش کے ناکام ہونے پر پچھتانا نہیں
کیونکہ کوشش کرتے وقت خود کو اتنا مظبوط کر لینا چاہیے کہ اس کی ناکامی پر دل نا ٹوٹے بھرم نا ٹوٹے۔۔۔تم نا بکھرو اور تمہارے خواب نا چکنا چور ہوں۔۔۔
تم کوشش کرو اور میں دعا کروں گی تمہاری کامیابی کی۔۔پر جو تم کرنے جا رہی ہو وہ ہے
وہ دعوت ہے۔۔۔ایک ایسی دعوت جو جگا دے گی تمہارے خاندان کے تمام مردوں کی غیرت
اور راکھ ہوجاؤ گی تم اور تمہاری خوشیاں۔۔۔”
بریرہ کے چہرے سے رنگ اڑ سے گئے تھے اپنی دوست کی باتوں میں اتنی وحشت محسوس کر کے
“عینی ڈرا رہی ہو یا بھگا رہی ہو۔۔؟؟ ہاہاہا نائس جوک۔۔۔میری فیملی کی جان ہوں میں خاص کر بابا سائیں کی۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اور آپ نے کمشنر کی بات برداشت کر لی۔۔؟؟ وجیح شاہ کی جرات کیسے ہوئی داد جی۔۔۔
آج اس خاندان کا نام و نشان مٹا دوں گا میں میڈیا سے۔۔۔آپ کی بدنامی کی ان لوگوں نے۔۔۔”
وہ دندناتے ہوئے اس بڑے سے پیلیس سے کچھ خاغذات کے ساتھ چلا گیا تھا
“زمرد۔۔۔زمرد۔۔۔شہاب۔۔۔زاہد۔۔۔”
داد جی نے اپنے تمام بیٹوں کے نام اونچی آواز میں پُکارے تھے اور سب اپنے اپنے کام کاج چھوڑ چھاڑ کر ایسے بھاگتے ہوئے نیچے آئے تھے
“بابا کیا ہوا۔۔؟؟”
“پیچھا کرو بلاج وجیح کے گھر گیا ہر۔۔۔جلدی۔۔۔ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے جلدی۔۔۔”
۔
اور ایک لمبی لائن سیکیوڑتی کی گاڑیوں کی آگے پیچھے تھی انکے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہاہاہاہاہا تمہاری اتنی اوقات ہے بچے۔۔؟؟ کمشنر نے جو کہا بہت کم تھا اگلے الیکشن میں دیکھنا تم اور تمہارے خاندان منہ چھپاتے پھیرو گے۔۔۔”
بلاج نے ایک گارڈ کے منہ پر ایک زوردار مکا مار کر اسے نیچے گرا دیا تھا اور وجیح حمدانی کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا
وہ جو لڑائی یہاں ڈرا دھمکا کر ختم کرنے آیا تھا اب وہ ہاتھا پائی تک جا پہنچی تھی اسکی طرف سے۔۔
“اس کرسی پر اس پراپرٹی پر میرے داد جی کا حق ہے اگر انکے سامنے گھٹنے نا ٹیکے تو آپ کی لاڈلی بیٹی کی ویڈیو ساری دنیا دیکھے گی وجیح شاہ۔۔۔”
اس محل نما گھر میں اس بدتمیز غرور سے بھرے شخص کی آواز گونج اٹھی تھی
“کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔؟ بلاج حمدانی گردن سے پکڑ کر ماروں گا تجھے اگر تو نے میری بیٹی کا نام بھی لیا اپنی گندی زبان سے۔۔۔”
“کیوں یقین نہیں آرہا۔۔؟ دیکھاؤں وہ ثبوت ہمارے پئیشنیٹ لمحات۔۔۔میں اور تمہاری اکلوتی بیٹی کے۔۔؟؟”
“بلاج۔۔۔۔”
ایک آواز نے سرگوشی کی تھی دور دروازے پر کھڑے ہوکر۔۔۔
بلاج حمدانی کچھ پل کو تھم گیا تھا جیسے اسکا غصہ پر بریرہ کی آواز میں اتنا غصہ دیکھ کر وہ پھر سے واپس اسی رؤب میں لوٹ گیا تھا
“بلاج یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔؟ بابا سائیں سے پیچھے ہٹو۔۔۔”
“بریرہ۔۔؟؟ کیا کہا رہا ہے یہ گستاخ۔۔؟ تم تو اس سے نفرت کرتی آئی ہو بیٹا پھر کس ویڈیو کی بات کر رہا ہے۔۔۔”
بریرہ کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا تھا والد کے سوال پر بےساختہ اسکی نظریں بلاج پر گئیں تھیں۔۔۔
“بلاج۔۔۔کونسی ویڈیو۔۔؟؟”
اسکی آواز اب کانپ ری تھی جو کبھی کسی کے سامنے نہیں کانپی تھی۔۔۔
“بابا سائیں یہ بکتا ہے ہماری بریرہ ایسا نہیں کرسکتی مجھے میری بہن پر پورا یقین ہے۔۔”
“ہاہاہاہا جانتا تھا۔۔۔ بریرہ۔۔۔انہیں بتاؤ نا کس طرح سے تم چھپ چھپ کر ملتی رہی ہو ہم سے۔۔۔ وہ راتیں جو میری بانہوں میں گزاری تم نے۔۔۔”
“۔۔۔ یو۔۔ف٭٭ یو۔۔ بلاج یو باسٹرڈ۔۔۔۔”
بریرہ آگے گئی تھی غصے سے اسکا ہاتھ اٹھ گیا تھا بلاج پر جو بلاج نے پکڑ لیا تھا
“یو آلریڈی ڈڈ۔۔۔ڈدنوٹ یو بےبی۔۔۔؟؟؟”
“بلاج نے وہ ہاتھ اپنے ہونٹوں کے ساتھ لگایا تھا تو وجیح صاحب نے اسے گریبان سے پکڑ کر پیچھے کردیا تھا۔۔۔
بلاج کے ساتھ آئے سارے گن مین کی گنز وجیح صاحب پر تھیں اور انکے گارڈز کی بلاج پر
“اس ویڈیو میں میرا چہرہ تو چھپا ہوا ہے۔۔۔پر آپ کی بیٹی۔۔۔دیکھنا چاہیں گے وہ ویڈیو۔۔؟”
بلاج نے موبائل فون نکالا تھا اور وجیح صاحب کی سامنے کرنے کی کوشش کی تھی جو انہوں نے چھین کر توڑ دیا تھا
“بریرہ۔۔۔کیا بک رہا ہے یہ بے غیرت۔۔؟”
بریرہ نیچے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
“بریرہ کیا پوچھ رہے ہیں بابا جواب دو۔۔۔”
بریرہ کی امی جو باقی گھر کی خواتین کے ساتھ پردے میں تھیں انہوں نے للکار کر بیٹی کو سچ بولنے کا حکم دیا تھا۔۔۔
“بریرہ بیٹا بس ایک بار کہہ دو یہ جھوٹا ہے میں اسے زندہ گاڑ دوں گا یہاں۔۔۔”
وجیح صاحب نے التجا کی تھی اپنی اکلوتی لاڈلی بیٹی کو۔۔”
“بریرہ بےبی سچ کیا ہے بتاؤ نا۔۔۔؟؟”
بلاج نے ایک بار پھر بریرہ کے گال پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تھی
بلاج کی آنکھوں میں اسے آج وہ بلاج نظر نہیں آرہا تھ جو کچھ دن پہلے دیکھا تھا اس نے
“آئی ہیٹ یو بلاج۔۔۔”
اس نے غصے سے کہہ کر اپنے بابا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔اسے پتا تھا آج سچ بولنے کے بعد واپسی نہیں ہوگی۔۔۔
وہ قصوروار تھی۔۔۔اس نے یقین کیا تھا یہ جانتے ہوئے کہ دونوں خاندانوں میں نسلوں سے دشمنیاں چلتی آرہی تھی۔۔۔پھر اس نے کیسے اتنے بڑے فریبی پر یقین کرلیا۔۔؟
وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں روئی تھی آج اسکی آنکھ بھیگ گئی تھی
“بریرہ۔۔۔”
“بابا سائیں۔۔یہ سچ ہے۔۔پر۔۔۔آئی ایم ہز لیگلی ویڈڈ وائف۔۔۔”
انہوں نے بریرہ کی پوری بات بھی نہیں سنی تھی اور چلا دئیے تھے
“بدزات لڑکی۔۔۔رکھیل بن گئی دشمن کی۔۔۔؟؟ اتنا گندا خون نکلا میرا۔۔۔؟؟”
“بس ایک اور لفظ نہیں وجیح۔۔۔”
بلاج کے داد جی اسکے والد کے ساتھ آگئے تھے۔۔۔ انکی ڈانٹ سے سب لوگ کانپ اٹھے تھے۔۔
“داد جی۔۔۔ آج یہ وجیح شاہ سب کے سامنے آپ سے معافی مانگے گا۔۔۔اور الیکشن میں بھی آپ ہی جیتے گئے۔۔۔آج انکی ہار کے ساتھ یہ دشمنی بھی ختم ہوجائے گی۔۔۔”
بلاج کی بات پر داد جی نے اسے ایک آنکھ گھورا تھا اور وجیح کی جانب بڑھے تھے
“وجیح۔۔۔”
“خبر دار۔۔۔۔اتنا گندا کھیل کھیلا۔۔۔؟ میری اپنی بیٹی کے ساتھ اتنا گندا کھیل کھیلا۔۔؟؟
وہ تو خود کو خاندانی ثابت نا کرپائی آپ تو بڑے تھے نا۔۔۔؟؟”
وجیح شاہ کی آواز میں بے یقینی تھی ایک گلہ تھا داد جی کے لیے۔۔انکی آواز جس طرح ہلکی ہوئی تھی پر وہ لمحے بھی کچھ پل کے تھے جب انہوں نے بلاج کی ویسٹ سے اسکی گن نکال کر بریرہ پر تان دی تھی۔۔۔
“بریرہ بہت غلط کیا تم نے۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔ “
انکی آنکھوں میں ایک دم سے ایک محبت ابھری تھی پر پھر نفرت بھر آئی تھی۔۔۔
“وجیح۔۔۔”
داد جی نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔
“سیاست میں شکست ہو تو شان جاتی ہے۔۔۔
جنگ میں شکست ہو تو جان جاتی ہے۔۔۔”
انہوں نے گن بریرہ کی جانب کردی تھی
“بابا۔۔۔ڈونٹ۔۔۔آئی ایم پریگننٹ۔۔۔”
بریرہ نے آنکھیں نیچی کرلی تھی
“ناجائز بچہ ۔۔؟؟ کبھی نہیں۔۔۔”
انکی گولی چلنے سے پہلے بریرہ کا بھائی اسکی ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“کاشان بھیا۔۔۔”
بریرہ کو نیچے جھکنے کا موقع نہیں ملا تھا جب اسکے والد نے ایک بار پھر سے فائر کی تھی۔۔۔
اور بریرہ بھی اپنے بھائی کے ساتھ نیچے گر گئی تھی۔۔۔
سب ساکن ہوگیا تھا۔۔۔
چیخ و پکار اس وقت شروع ہوئی تھی جب وجیح صاحب بھی نیچے گر گئے تھے گن پکڑے۔۔۔
افراتفری کا سماء تھا۔۔۔ وجیح صاحب کی فیملی اور گارڈز انہیں اور کاشان کو تو اٹھا کر لے گئے تھے
پر بریرہ وہیں پڑی تھی اسکی فیملی گھر کے لوگوں سے اسکی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔۔
“دونوں کی سانسیں چل رہیں ہیں۔۔۔ وقت پر ہسپتال لے جانے سے بچ جائیں گے ماں جی فکر نا کریں۔۔”
اس کا دل اب سکون میں تھا۔۔ اس نے اپنی اس چلتی بجھتی سانوں میں بھی اپنے رب سے دعا مانگی تھی۔۔
وہ رب جسے وہ بھول بیٹھی تھی۔۔۔
اسکی نظریں جب اس ظالم پر پڑی تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے پاس بلایا تھا
جو اپنی جگہ سے ہلا نہیں تھا۔۔۔
“محبت میں شکست ہو تو جان جاتی ہے۔۔۔۔
اس نے بہت آہستہ سے کہا تھا۔۔۔اسکی انگلیوں پر لگا خوں بلاج کے رخصار پر لگ گیا تھا
“بلاج اسے جلدی ہسپتال۔۔۔”
عمر ردسید بزرگ بلاج جے دادا جی نے جیسے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے کسی دوسری دنیا سے باہر نکالا تھا۔۔۔
بلاج کی نظریں کبھی اس لڑکی پر تھی جس کی معصومیت کا فائدہ اٹھایا اس نے اور کبھی اس کے پیٹ پر جہاں۔۔۔
“بلاج اٹھاؤ اسے۔۔۔”
“ڈونٹ ٹچ مئ۔۔۔”
پر بریرہ نے جھٹک دیا تھا داد جی کا ہاتھ۔۔اور اپنے خون سے لت پت ہاتھوں سے بلاج کا کالر پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
“بلاج حمدانی۔۔۔میں واپس ضرور آؤں گی۔۔۔سود سمیت حساب لوں گی۔۔۔
بریر،،،” اسکا سانس اٹک گیا تھا پر اسکی آنکھوں میں موت نہیں ایک نئی زندگی تھی
“بریرہ شاہ کا وعدہ ہے یہ بلاج حمدانی اس بار یہ دشمنی تمہاری سانسوں پر ختم ہوگی۔۔۔”
اور اسکی آنکھیں بند ہوگئیں تھیں۔۔۔۔۔
۔
“بلاج اٹھاؤ اسے۔۔۔”
بلاج حمدانی آگے جھکا تھا۔۔۔اور اسے نئی نویلی دلہن کی طرح اپنی گود میں اٹھا لیا تھا
خون سے بلاج کی اپنی شرٹ بھی بھر گئی تھی۔۔۔ایمبولنس سائرن پولیس کی وین کا سائرن
اسکے سوچنے سمجھنے کی طاقت کو اور معاؤف کرچکا تھا
جب وہ سر بلاج کے کندھے پر گرا تو اسکی آنکھیں بند ہوئی تھی اور قدم تیز ہوئے تھے گاڑی تک پہنچنے کے لیے۔۔۔
۔
“بلاج جس دن تمہیں کچھ ہوا اس سے اگلا سانس بریرہ شاہ نہیں لے گی۔۔۔۔”
“بریرہ بلاج حمدانی ابھی زندہ ہے بلاج حمدانی تمہیں بھی زندہ رہنا ہے۔۔۔”
اس نے ایک سرگوشی کی تھی اور گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹا دیا تھا بریرہ کو۔۔۔
“بلاج جلدی چلو بیٹا۔۔۔”
زمرد حمدانی نے ڈرائیور کو گاڑی سٹارٹ کرنے کا کہہ دیا تھا۔۔
“میرا کام یہیں تک تھا آپ اسے لے جائے۔۔۔ہسپتال۔۔۔مر جائے تو نیوز میں دے دیجئیے گا وجیح شاہ کا اب کوئی وارث زندہ نہیں رہا۔۔۔
اور اگر بچ جائے تو کسی یتیم خانے میں بھرتی کروا دینا کیونکہ یہ پراپرٹی اب اس خاندان کی نہیں ہے۔۔
میرے داد جی کی پراپرٹی ہتھیائی تھی اسی طرح واپس بھی آگئی۔۔۔”
اس نے گاڑی سے پیچھے منہ موڑ لیا تھا
“بلاج میں تمہیں آکر دیکھ لوں گا اس بار ساری حدیں توڑ دیں تم نے۔۔۔”
وہ بہت طیش میں کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گئے تھے۔۔۔
۔
“بلاج حمدانی جا تسی رہے ہو تے جان ساڈی نکل رہی اے۔۔۔”
“ہاہاہا پنجابی کہاں سے سیکھی۔۔۔؟؟”
بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی برف کھینچا تھا
“پاکستان میں ہمارا گاؤں ہے گرمیوں کی چھٹیوں میں میں وہاں رہتی تھی بہت مزہ آتا تھا۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔اچھا اب جلدی سے ناشتہ دے دو آفس جانا ہے میڈم۔۔۔”
“وہ۔۔۔جل گیا۔۔۔”
بریرہ نے نہ نیچے کرلیا تھا شرمندگی سے۔۔۔
“آج پھر سے۔۔۔؟؟؟ یا اللہ پھر سے سارا سٹوک لانا پڑے گا۔۔۔ میری بیوی کو کھانا بنانا کب آئے گا۔۔۔”
اور کچھ ہی سیکنڈ میں بریرہ نے رونا شروع کردیا تھا جس سے بلاج بہت شوکڈ ہوگیا تھا
“اوے۔۔۔مذاق کر رہا تھا میری روندلو کڈ۔۔۔”
“بلاج۔۔۔”
اس نے بلاج کے کندھے پر مکا مارنے کی کوشش کی تھی جب نہیں لگا تو بلاج کے پیٹ پر مارنے کی کوشش کی تھی جس پر وہ قہقے لگا کر ہنسنا شروع ہوگیا تھا
“ہاہاہا لگا کوئی نہیں بس ہنسی آئی ہے میڈم۔۔۔چلو آج ساتھ ناشتہ بناتے ہیں۔۔۔”
“پر بلاج۔۔۔”
بلاج نہیں بنا وارننگ دئیے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا تھا ور کچن کا رُخ کرلیا تھا
“باتیں ہی بچوں والی ہیں وزن دیکھا ہے۔۔؟؟”
وہ جاتے جاتے اسے اور چھیڑ رہا تھا
“بلاج۔۔۔ابھی بتاتی ہوں۔۔”
بریرہ نے پھر سے مکا مارنے کی کوشش کی تھی
“ہاہاہاہاہا۔۔۔کڈو۔۔۔۔”
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں مصروف ہوگئے تھے ناشتہ بنانے میں
“مسٹر ہوٹی۔۔۔ناک پر یہ جو لگا ہوا ہے اسے ہٹا لیں پلیز۔۔۔”
“کہاں۔۔۔؟؟”
بلاج نے باؤل میں تھوڑا اور پانی ڈال کر بریرہ کی طرف دیکھا تھا جو بڑے مزے سے کاؤنٹر پر بیٹھ کر بلاج کا کام کرتے دیکھ رہی تھی اور بار بار تنگ کر رہی تھی۔۔۔
۔
“یہاں۔۔۔یہاں آؤ گے تو بتاؤ گی نا۔۔۔”
کب اس نے زرا سا فلور لیکر بلاج کے گال پر گال صاف کرتے ہوئے لگا دیا اسے پتا نہیں چلا تھا
“جی اب صاف ہوگیا۔۔۔”
اور اس نے اپنا موبائل پکڑ کر چھپکے سے بلاج کی کچھ فوٹوز لے لی تھی اور جب اسے سے اپنی ہنسی نہیں کنٹرول نہیں ہوپائی تو وہ جلدی سے منہ پر ہاتھ رکھ کے کچن سے باہر جانے لگی تھی اسی وقت بلاج نے اسکا ہاتھ پیچھے سے پکڑ لیا تھا اور اسی کاؤنٹر کے ساتھ اسے پن کردیا تھا
“میری منہ کی ڈیزائینگ کرکے اچھی خاصی فوٹوز لیکر میڈم اب کہاں منہ چھپا کر جا رہی۔۔؟؟”
بلاج دونوں سائیڈ پر کاؤنٹر پر ہاتھ رکھ کر اسکے اور قریب ہوا تھا
“وہ۔۔۔ہاہاہاہا بہت فنی لگ رہے۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”
اسکی ہنسی تب رکی تھی جب بلاج نے اپنی گال اسکی گال کے ساتھ لگا کر بریرہ کی گال بھی اپنے جیسی کردی تھی۔۔۔
“اب سہی ہے۔۔۔بریرہ جی۔۔۔آپ کی ہنسی کیوں بند ہوگئی۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے وہ اور قریب ہوا تھا اسکے۔۔۔جس پر اسکی سانسیں بند ہوئی تھیں
“بلاج۔۔۔”
“بریرہ۔۔۔۔”
اسکی تھوڑی پر اپنی انگلیاں رکھ کر بریرہ کا چہرہ اپنی طرف کیاتھا اس نے۔۔۔
“یہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب ٹیں ٹیں کرنے والی بیوی چپ ہوجاتی ہے۔۔۔”
بلاج پیچھے ہوگیا تھا ہنستے ہوئے۔۔۔
“بلاج حمدانی۔۔۔۔”
بریرہ نے بلاج کی ٹائی سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا اور اب وہ کاؤنٹر کے ساتھ پن تھا۔۔۔
“بلاج حمدانی۔۔۔اور یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب اکڑو اور بیزی شوہر بیویوں کے انڈر کنٹرول ہوتے ہیں۔۔۔”
اس نے آنکھ مار کے بلاج کی ٹائی چھوڑ دی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔میں تو ہر وقت انڈر کنٹرول رہنے کو تیار ہوں تم کرنے والی بنو مجھے کنٹرول۔۔۔”
“ہاہاہاہا یہ میرا کنٹرول ہی تو ہے جو ایسے کاؤنٹر کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ابھی بھی میرا کنٹرول نہیں بلاج حمدانی۔۔۔؟؟”
اس نے بلاج کے ہونٹوں کے پاس بوسہ دیا تھا
“سچ آ ٹیز۔۔۔”
پر وہ وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج حمدانی جا تسی رہے ہو تے جان ساڈی نکل رہی اے۔۔۔کسی دن جا میں رہی ہوں گی اور جان تمہاری نکل رہی ہوگی ۔۔۔”
اس نے واپس مڑ کر ان گاڑیوں کو دیکھا تھ۔۔۔
اس تیز بارش میں اس سڑک پر وہ خون بہہ گیا تھا اسکے کپڑے صاف ہوگئے تھے
“تمہیں میرے لیے اس خون جیسی تھی جسے بہنا تھا بریرہ شاہ۔۔۔
جو بہہ گیا۔۔۔”
۔
وہ وہاں سے چلا گیا تھا بلاج حمدانی بن کر۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔
۔
۔
“وہ رکھیل تو بن سکتی تھی پر میری بیوی نہیں داد جی۔۔اس لیے دشمن کی بیٹی وہی بنی جس قابل وہ تھی۔۔۔میری “رکھیل”
داد جی نے اپنے پوتے کے ان الفاظ پر اپنے بیٹوں کی طرف دیکھا تھا
اس کمرے میں ایک بیٹھک لگی ہوئی تھی میر سکندر حمدانی کے نا صرف بیٹے موجود تھے بلکہ بیٹوں کے بیٹے بھی موجود تھےاور تشویش میں پڑ گئے تھے اس خاندان کی نئی نسل کی سوچ اور لفظوں کی اکاسی دیکھ کر حمدانی صاحب۔۔۔
“ہم آخری بار پوچھ رہے ہیں بلاج بریرہ شاہ تمہارے نکاح میں تھی یا نہیں۔۔؟
ہم نے اسکے آخری لفظ سن لئیے تھے۔۔۔اگر وہ نکاح میں تھی تو اس ہسپتال سے یہاں اس حویلی میں بہو کے روپ میں آئے گی۔۔۔”
“ہاہاہا داد جی۔۔۔نکاح۔۔؟ بہو۔۔؟؟ آپ کو کب سے دشمنوں کی عزت ع نفس کا احساس ہونے لگا۔۔؟ بلاج بھائی نہیں ٹھیک کہا۔۔
اور ویسے بھی اسکے باپ نے اسے جس جگہ مارا تھا نا وہاں سے وہ زندہ بچ کر نہیں آسکتی۔۔۔”
ایک اور رعب دار آواز اس کمرے میں گونج اٹھی تھی
جو بلاج کے چچا کے بیٹے کی تھی
“اسکے اس ناجائز بچے کی طرح۔۔۔ہاہا۔۔۔بلاج بھائی آگے سے دھیان رکھنا باہر کے عورتوں کے ساتھ تعلقات میں احتیاط برتنی چاہیے۔۔۔”
ان لوگوں نے ہنسی میں بات اڑا دی تھی بڑوں کی۔۔۔اور ان باتوں سے بلاج اس کرسی سے اٹھ گیا تھا جو داد جی کے تخت نما صوفہ کے سامنے پڑی تھی
“میں چلتا ہوں داد جی۔۔۔”
بلاج صرف دو قدم کے فاصلے پر تھا جب پیچھے سے ایک اور کزن کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی۔۔
جو اس خاندان کا سب سے زیادہ عیاش اور بدتمیز مرد تھا۔۔۔
“بلاج بھائی وہ ویڈیو ہی شئیر کردیں۔۔ہم بھی تو دیکھیں وہ پردے میں نظرآنے والی دشمن کی بیٹی بستر کی سلوٹوں بھری شیٹ میں کیسے لگتی ہوگی ہم بھی تو نظارے کریں اسکے “
بلاج کی بند مٹھی جس طرح سے ضرب دے گئی تھی اپنے اس کزن کو وہ داد جی کے قدموں میں جا گرا تھا اور ساتھ اسکے منہ سے اسکے ٹوٹے ہوئے تین دانت۔۔۔۔
بلاج نے انگلی کا اشارہ کیا تھا اس کمرے میں موجود ہر اس کزن کی طرف اور جس طرح وہ اشارہ جس کی طرف جا رہا تھا ایک وارننگ کی صورت وہ اسی طرح قدم پیچھے کر گیا تھا اور جب نیچے اس کزن کی طرف نظڑ پڑی جسی کی کھانسی پر بھی منہ خون نکل رہا تھا وہ ڈر کے مارے اٹھ کر داد کی ٹانگ پکڑ کر بیٹھ گیا تھا
“ڈونٹ یو۔۔۔۔۔”
۔
بلاج وہاں سے کمرے کا دروازہ زور سے بند کر کے چلا گیا تھا
“اور یہ بکتا ہے کہ اس کا نکاح نہیں ہوا اس لڑکی سے۔۔۔ بلاج کسی غیر عورت کے لیے تو سب سن سکتا ہے پر گھر کی عورت اور عزت پر نہیں۔۔۔”
۔
داد جی کی بات پر اب سب اور فکر مند ہوگئے تھے وہ دشمن کی بیٹی تھی جس سے کوئی ہمدردی نہیں تھی کسی کو۔۔۔
اس خاندان کی ہر لڑائی باتوں سے شروع ہوکر خون خرابے پر ختم ہوئی تھی ہمیشہ سے۔۔۔اور اب بھی فرق کچھ زیادہ نہیں تھا۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
یہ نیو ہارک ہسپتال کا ایک پرائیویٹ وارڈ کا پرائیویٹ روم تھا جہاں کچھ دن میں سیکیورٹی بہت کم سے کم ہوگئی تھی باوجود بلاج حمدانی کے سخت حکم کے یہاں کے گارڈز نے یہاں آنا چھوڑ دیا تھا اندر جو بستر مرگ پر تھی وہ دشمن کی بیٹی تھی بریرہ شاہ۔۔۔
۔
مانیٹر سکرین جیسے جیسے بیپ دینا شروع ہوگئی تھی ہرٹ بیٹ کی پاس سوئی ہوئی نرس بھی اٹھ گئی تھی
۔
“بہت جلدی میری جان۔۔ایک سرپرائز دوں گا۔۔۔بہت سرپرائیزڈ ہوجاؤ گی اور پھر نوبت بھی نہیں آئے گی کسی کو بتانے کی۔۔۔”
۔
“بلاج۔۔۔کونسی ویڈیو۔۔؟؟”
۔
“اس ویڈیو میں میرا چہرہ تو چھپا ہوا ہے۔۔۔پر آپ کی بیٹی۔۔۔دیکھنا چاہیں گے وہ ویڈیو۔۔؟”
“آئی ہیٹ یو بلاج۔۔۔”
اور وہ سکرین اور تیز ہوگئی تھی جب اسکے باپ کی باڈی کو اس نے خون میں لت پت زمین پر گرتے دیکھا تھا
۔
۔
“میم آپ نہیں جا سکتی۔۔۔گارڈ۔۔۔۔”
نرس سے جیسے ہی اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو باہر سے بلاج حمدانی کا گارڈ گن تانے اندر آگیا تھا۔۔
“مجھے جانا ہے یہاں سے پلیز۔۔۔”
“گارڈ تم اسکا ہاتھ پکڑو میں اسے انجیکشن لگاتی ہوں۔۔۔”
اسے بے دردی کے ساتھ پکڑا گیا تھا اور وہ بار بار ریکویسٹ کر رہی تھی
“ایک بار بلاج صاحب اجازت دے دیں اسے بھی یہیں مار دوں اور اسی جگہ دفنا دوں جہاں اسکا باپ اور بھائی دفن ہیں۔۔”
اس ایک بات نے اس کے اندر سے جان نکالنے کے بجائے اسکے جسم میں جان ڈال دی تھی۔
اس نے جس طاقت سے اس نرس کو پیچھے دھکا دیا تھا اس جس سپیڈ سے گن چھینی تھی اس گارڈ سے۔۔۔
“یو بچ۔۔۔”
اس گارڈ کے پاؤں پر ایک فائر سے وہ نیچے گرگیا تھا
“تو مجھے مار دیتا تو شاید تو اپنے بے غیرت باس کو بچانے میں کامیاب ہوجاتا “
وہ گارڈ درد سے کراہ رہا تھا کہ نرس کو باہر بھاگنے سے روک دیا تھا تھا اور اسی ایک کپڑۓے سے ہاتھ باندھ دئیے تھے۔۔۔
“اپنے اس باس سے کہنا میں واپس آؤں گی۔۔۔”
۔
جب اسکی چھاتی پر اسے کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا تو اسے پتا چل گیا تھا اسکے ٹانکے کھل گئے ہیں نرس کا دوپٹہ اوڑھے اور روئی اپنے سینے پر دبائے کچھ دیر کو خون روکنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور اس ہسپتال سے کچھ دور جا کر کسی راہگیر سے موبائل فون لیکر اس نے ایک کال کی تھی
“ڈینیل۔۔۔نیویارک سٹی ہوسپٹل کی سٹاپ سے ریسیو کر لو مجھے۔۔۔”
“بریرہ۔۔از ڈیٹ یو۔۔؟؟ اوو مائی گاڈ۔۔۔ایم کمنگ۔۔ایم کمنگ۔۔۔”
ایک دیوار کے ساتھ سر لگا کر بیٹھ گئی تھی جس کا موبائل تھا اسے واپس دیکر۔۔۔
رات کی تاریکی اور سر پر جلتی ایک پیلی بتی اسے اسکی آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔اسے اتنا یاد تھا مشکل وقت میں جس دوست کو بلایا تھا وہ تو وقت سے پہلے اسکے سامنے تھا۔۔۔اسکی حالت دیکھ کر ہزار طرح کے سوال پوچھ رہا تھا پر اسے ہوش نہیں تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ تم نے یہاں آنے کی ضد کیوں کی گھر چلو۔۔۔”
“یہ کیسا فنکشن چل رہا ہے۔۔۔؟؟”
سڑک کے اس پار گاڑی کا سہارا لئیے وہ کھڑی دیکھ رہی تھی اس عالی شان جگمگاتے محل کو اور دوسری طرف ویران کھنڈڑ بنے اپنے گھر کو جو کبھی آباد تھا
“بلاج حمدانی کی منگنی ہے آج۔۔۔”
“کس سے۔۔۔”
اسکی آواز میں کچھ پل کو اداسی چھائی ضرور تھی
“اسکی چائلڈ ہوڈ محبت مدیحہ شہروز احمد مشہور انڈسٹریل کی بیٹی”
“شکار میں اب اور مزہ آئے گا کہ چوٹ وہاں پہنچاؤں گی جہاں لگے گی بھی اور دُکھے گی بھی”
“مطلب۔۔۔؟؟”
“مطلب یہ اس حویلی اور بلاج حمدانی کی زندگی کی آخری خوشی ہوگی۔۔۔”
۔
“چلو گھر چلیں بریرہ تمہارا بہت خون بہہ چکا ہے۔۔۔”
۔
پر اسے گھر نہیں جانا تھا اسے یہاں رہنا تھا۔۔۔دیکھنا تھا ان لوگوں کی خوشیوں کو تاکہ اسکا خون خولے اور ابالے اٹھیں بدلہ لینے کے وہ ایک دلدل بنانا چاہتی تھی جس میں اس نے ڈبونا تھا بلاج حمدانی کے خاندان اور انکی خوشیوں کو
۔
کچھ دیر وہاں کھڑی رہنے کے بعد وہ زمین پر تھک کر بیٹھ گئی تھی خون بہنے سے ام کی انرجی جسم سے ختم ہونا شروع ہوگئی تھی
وہ اسی سڑک پر بیٹھ گئی تھی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر۔۔۔
ڈینیل جیسے ہی وہاں بیٹھا تھا بریرہ نے اسکے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔
۔
“دھوکہ دینے والا دھوکہ کھاجانے والے کو بیوقوف سمجھتا ہے کہ اور خود کو ہوشیار و چلاک
پر اسے نہیں پتا بڑا بیوقوف تو وہ خود بنا بیٹھا ہے۔۔۔
جیسے بلاج حمدانی۔۔۔ اس محل میں ہورہے اس جشن سے پتا چل رہا ہے کتنا خوش ہیں یہ لوگ دشمن کی بیٹی کو بیوقوف بنا کر فریب دی کر حاصل کی گئی جیت پر ایسے خوش ہورہے ہیں
پر انہیں نہیں پتا یہ انکی آخری خوشیاں ہے بس۔۔۔۔
پھر صف ماتم بچھے گی اس محل میں۔۔۔سوگ واروں میں بلاج حمدانی صف اول ہوگا
بریرہ شاہ کا وعدہ ہے یہ۔۔۔”
“ہینڈ اپ۔۔۔۔”
کچھ گن مین نے جلدی سے بریرہ اور ڈینیل پر گن رکھ دی تھی
“جس کی شروعات آج سے ہوگی۔۔۔”
اس نے ایک گن چھین کر گارڈ سے ڈینیل کی طرف پھینکی تھی اور ایک فائر اس گارڈ کی ٹانگ پر کی تھی
یہ دوسری بار بریرہ شاہ نے کسی کو اپنے ہاتھوں نقصان پہنچایا تھا جو کھانا بناتے وقت ہاتھ جلا لیتی تھی
اب وہ دنیا کے ظالم لوگوں کو جلانے کے لیے نکل چکی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم سمجھ نہیں آرہی۔۔؟ ہم پاکستان واپس جا رہے ہیں بریرہ سب ختم ہوگیا ہے یہاں
کوئی سلطنت نہیں رہی اب وجیح شاہ کی تمہاری فیملی کا نام و نشان مٹادیا گیا ہے۔۔”
۔
بریرہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے خاموشی کے ساتھ سن رہی تھی ڈینیل کی وائف کی باتیں جو اسکی بھی بہت اچھی دوست تھی۔۔۔
“کچھ ختم نہیں ہوا۔۔۔میں ختم کروں گی نام و نشان کیسے مٹائے جاتے ہیں میں بتاؤں گی ان لوگوں کو۔۔۔”
“خدا کا نام لو بریرہ۔۔تمہارا یہ دل۔۔۔اس دل سے ایک انچ کے فاصلے پر گولی لگی تھی تمہارا دل محفوظ رہا۔۔۔ ابھی بھی اس جسم پر ٹانکے ہیں زخم ہیں تمہارے دل کو اس جسم کو سکون چاہیے۔۔۔”
بریرہ نے اپنے سینے سے اپنے دل کی جگہ سے کپڑے کا وہ اتنا حصہ پھاڑ دیا تھا۔۔۔
اور زور سے ہاتھ لگایا تھا اس جگہ۔۔۔
“یہ دل اس وقت دھڑکنا بند کرے گا جب بلاج کی سانسیں بند ہوگی۔۔۔میرے جسم میں جب تک خون کا ایک قطرہ بھی ہے میں اپنی جنگ لڑوں گی۔۔۔۔”
بریرہ کی آنکھوں میں درد کی ایک جھلک نہیں تھی اسکے ٹانکوں سے خون نکل رہا تھا پر آنکھوں سے پانی نہیں اسی وقت سونم آگے بڑھی تھی اور بریرہ کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیا تھا
“بریرہ۔۔تھوڑا سا۔۔۔تھوڑا سا رو لو۔۔۔اپنے بچے کے مر جانے پر۔۔۔
اپنے باپ کے مر جانے پر۔۔۔جوان بھائی کے مرجانے پر رو لو بریرہ۔۔۔رو لو تھوڑا سا۔۔
انکی قبروں پر جاؤ۔۔۔وہاں جا کر ایک بار انکے سامنے رو لو تمہیں سکون مل جائے گا۔۔۔”
۔
بریرہ کی آنکھیں پر نم ہوگئیں تھیں اور اگلے ہی لمحے وہ پیچھ ہوگئی تھی سونم سے۔۔۔
“نہیں جاؤں گی کسی کی بھی قبر پر۔۔۔جب تک اس قبرستان میں ان قبروں کے ساتھ انکے دشمن زمین بوس نہیں ہوجاتے کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔
کسی کی قبر پر نہیں جاؤں گی۔۔۔”
اس کمرے کی ہر چیز توڑ دی تھی ہر ایک بات کرتے ہوئے۔۔۔
وہ کمری اسی طرح لگ رہا تھا جیسے وہ تھی بریرہ شاہ ٹوٹی ہوئی بکھری ہوئی۔۔۔
“سکون ہی تو نہیں چاہتی۔۔۔سکون مل گیا تو بدلے کی آگ ٹھنڈی ہوجائے گی۔۔اور میں جو اسے اپنے خون سے بھڑکا رہی ہوں اپنے سکون سے کیسے سہلا دوں۔۔
بلاج حمدانی اور اسکا خاندان۔۔۔ظلم کیا ہوتا ہے اور کسے ظالم کہتے ہیں یہ میں انہیں بتاؤں گی۔۔۔
بریرہ شاہ بتائے گی۔۔۔میرے آنسو تب تک نہیں انکی قبروں پر گریں گے جب تک دشمن نہیں گر جاتے ۔۔۔
پھر جی بھر کے رو لوں گی باپ کو بھی بھائی کو بھی۔۔۔
ابھی خود کو رونا ہے سونم۔۔۔
ایک بیٹی ایک غلطی کردے تو سات نسلیں خراب ہوجاتی ہیں جو کہ میں نے اپنی ایک غلطی سے کردی ہیں۔۔۔اس لیے ابھی خود کو رونا ہے پھر گھر والوں کو۔۔۔۔”
۔
“محبت اب انتقام لے گی۔۔۔۔بلاج حمدانی”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔