Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034 Episode 07
Rate this Novel
Episode 07
“بریرہ کی حالت ابھی سٹیبل ہے ڈینیل پر ہمیں اسے ہسپتال لیکر جانا ہوگا اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے ڈینیل۔۔”
وہ دونوں اس کمرے کے سامنے ہی بیٹھے تھے پوری رات گزر گئی تھی بریرہ کو کبھی ہوش آرہا تھا کبھی نہیں
اتنے میں اسکے ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور بہرام شاہ تھری پیس سوٹ پہنے باہر نکلا تھا
وہ اور ڈینیل دونوں کے منہ کھلے رہ گئے تھے
“مجھے اگر پتا ہوتا بریرہ کا کزن اتنا ڈیشنگ اتنا خوبصورت ہے تو میں نے پانچ سال پہلے ہی پاکستان بھاگ جانا تھا اس سے شادی کرنے کے لیے۔۔”
سونم بات تو خود سے کر رہی تھی پر سنائی سب کو دے گیا تھا۔۔بہرام کے چہرے پر مسکان آتے آتے رہ گئی تھی جب اسکی نظر بریرہ کے کمرے پر پڑی تھی
“بریرہ کا خیال رکھئیے گا میں بس آتا ہوں کچھ دیر تک۔”
کان پر بلوتوتھ ڈیوائس لگا کر بہرام انکے پاس سے گزر گیا تھا
“پر کہاں جا رہے ہیں آپ۔۔؟؟”
سونم نے سوال پوچھا تھا
“بلاج حمدانی سے ایک ملاقات کرنے جا رہا ہوں اسے جو آج ایک تحفہ بھیجا ہے اسکے بعد وہ مجھ سے ملنا ضرور چاہے گا۔۔”
“وٹ۔۔کیا۔۔؟ تم سارا پلان خراب کردو گے مسٹر بہرام تم نے کس سے پوچھ کر بریرہ کے معاملات میں دخل اندازی کی ہے۔۔؟؟”
“ڈینیل۔۔”
پر ڈینیل نے سونم کا ہاتھ جھٹک دیا تھا
“بریرہ کا کوئی بھی کام اب خراب نہیں ہوگا۔ پر بلاج حمدانی کو یہ بتانا بہت ضروری ہوگیا ہے کہ بریرہ اکیلی نہیں ہے۔۔میں ہوں اسکے ساتھ۔۔آخری دم تک۔۔”
۔
اسکی آنکھوں میں ایک الگ ہی آگ تھی جب وہ بلاج کا نام لے رہا تھا وہ تیز قدموں سے وہاں سے چلا گیا تھا
“اسکی آنکھیں دیکھی تم نے۔؟”
سونم کی نظریں ابھی بھی دروازے پر تھیں
“سونم اننف فلرٹ کرنا بند کرو ڈیم اِٹ میری بیوی ہو تم”
“شٹ اپ ڈینیل۔۔اسکی آنکھیں دیکھی مطلب بلاج کا نام لیتے ہوئے کیسا غصہ آتا ہے ان میں۔؟
ٹھیک ایسا ہی غصہ بریرہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا میں نے۔۔”
“مجھے نہیں سمجھ آرہی کچھ بھی۔۔یہ کوئی نا کوئی کام خراب کرے گا میں کسی کو پیچھے بھیجتا ہوں جو اس پر نظر رکھ سکے۔۔”
۔
“افف اللہ بس کرجاؤ۔۔وہ مجھے کوئی بیوقوف نہیں لگ رہا۔۔ایسا لگا جیسے وہ بلاج حمدانی کی ٹکڑ کا ہے۔۔چارپ مائنڈڈ گڈ لوکنگ لائک مافیا مین۔۔”
سونم نے جیسے ہی ڈینیل کے چہرے پر غصہ دیکھا تھا وہ ہنس دی تھی۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا سائیں اچانک سے آپ مجھے بلا رہے کل تک تو آپ نے منع کردیا تھا۔۔”
“کیونکہ کل تک مجھے پتا نہیں تھا یہ لوگ تمہاری شادی کا سوچ رہے”
“وٹ میری شادی۔؟ کس سے۔۔؟”
بریرہ نے وجیح شاہ کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تھا
“تمہارے چچا کے بیٹےبہرام سے۔۔۔تم اپنا سامان پیک کرلو ہم شام کی فلائٹ سے جا رہے ہیں”
“بہرام بھائی۔؟ کبھی نہیں اتنی عمر کے ہیں وہ۔۔اس لیے سب مجھے آپ کے پاس جانے سے روک رہے تھے۔۔؟؟”
بریرہ نے بہت اونچی آواز میں کہا تھا۔۔وجیح شاہ کا غصہ بھی کم ہوا تھا کچھ بیٹی کی مرضی سن کر۔
“اب تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں بیٹا تم اب پاکستان واپس نہیں آؤ گی۔۔میں کبھی اس خاندان میں تمہاری شادی نہیں ہونے دوں گا۔۔ان کا سٹیٹس نہیں ہے ہمارے قابل۔۔”
۔
“پر بابا سائیں یہ سب آپ کے اپنے ہیں۔۔”
“ہاہاہا ہاں اپنے وہ اپنے جنہوں نے چھوڑ دیا تھا مجھے میرے بُرے وقت میں۔۔میں تمہیں کبھی واپس نہیں آنے دوں گا بریرہ۔۔میرے دوست کے بیٹے کے ساتھ شادی ہوگی تمہاری”
۔
۔
“بریرہ۔۔۔بریرہ۔۔۔”
اس پر جیسے ہی پانی کا جگ پھینکا تھا اسکی آنکھ کھل گئی تھی
“بلاج۔۔۔کیا ہے سونے بھی نہیں دیتے۔۔”
وہ منہ بنا کر اٹھ گئی تھی
“ہاہاہاہا رات سے سو ہی رہی ہو میڈم۔۔”
“جھوٹے کب سونے دیا پوری رات۔؟ اب بھی اٹھا دیا “
اسکی معصومیت پر بلاج پھر سے ہنس دیا تھا
“ضروری تھا کیونکہ تمہارا موبائل پچھلے پندرا منٹ سے بج رہا تھا تمہارے بابا سائیں کا فون آرہا تھا”
اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ وہ بیڈ سے اٹھ گئی تھی اور کپبرڈ کی طرف بھاگی تھی
“بریرہ بلاج حمدانی ڈونٹ ٹیمپٹ مئ۔۔کہیں ایسا نا ہو میں اپنا ارادہ بدل لوں اور۔۔”
بلاج اسکے پاس آکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔
“وٹ اب میں نے کیا کیا بلاج۔۔؟ پیچھے ہٹ جاؤ لیٹ ہورہی۔۔”
پر بلاج نے اسے اسی کپبرڈ کے ساتھ پن کر دیا تھا
“میری شرٹ میں اس طرح میرے بیڈروم میں گھوم رہی ہو اب اتنی معصومیت سے پوچھ رہی میں نے کیا کیا۔۔؟ کیا نہیں کیا بریرہ تم نے میرے ساتھ۔؟”
اس نے جیسے ہی بریرہ کے کان میں سرگوشی کی تھی بریرہ کا سر شرم سے جھک گیا تھا
“اب بولو گی نہیں۔۔؟ کل تو بہت بول رہی تھی ہمارے نکاح والے دن۔۔؟؟”
اور بریرہ نے نظریں اٹھا کر بلاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“کل اس لیے بول رہی تھی کہ خود کو یقین ہوجائے کہ کل کا دن کوئی خواب نہیں اک حقیقت ہے بلاج۔۔کیونکہ تم سے نکاح کا میں خواب ہی دیکھتی آئی ہوں۔۔؟
اسکا لہجہ بھاری ہوگیا تھا جب اسے نے بلاج کے سینے پر اپنا سر رکھا تھا
“بریرہ۔۔”
“شش بلاج۔۔میں نے بابا سائیں کے فیصلوں کو رد کیا فیملی سے جھوٹ بولا تمہاری محبت میں
اب تم میری محبت میں مجھ سے کوئی ایسا جھوٹ نا بولنا کہ دنیا مجھے یہ کہہ دے کہ جیسا میں نے کیا وہسا ہی میرے ساتھ ہوا۔۔
کیونکہ یہ لفظ کہنے میں جتنے چھوٹے ہیں انکے بوجھ پہاڑ جتنے بڑے ہوتے ہیں”
بلاج کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر اس نے بلاج کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ بات کی تھی جن آنکھوں میں نرمی چھا گئی تھی
“کبھی نہیں کروں گا تمہیں رسوا کبھی نہیں کروں گا بریرہ۔۔”
۔
اور فون پھر سے بج گیا تھا
۔
۔
“بریرہ کو ہوش آرہا ہے۔۔ڈینیل ڈاکٹرز کو بلاؤ جلدی۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج یہ سب کیا بکواس ہے تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہو۔۔؟”
بلاج کے آفس کا کیبن ڈور مدیحہ نے اتنی زور سے کھولا تھا کہ وہ کھل کر دیوار کے ساتھ جا لگا تھا
“وٹ دا ہیل بھائی۔؟ یہ طریقہ ہے آفس آنے کا اور بات کرنے کا۔؟”
شہیر اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا جو بلاج کے چھوٹے چچا کا بیٹا تھا
وہ سب کزنز ایک ضروری میٹنگ کے بعد یہاں اکٹھے ہوئے تھے کچھ ضروری بات چیت کے لیے۔۔
“ہاہاہا شہیر چپ ہوجاؤ بیٹا۔۔بلاج بھائی کو عادت ہوگئی ہے عورتوں سے بےعزتی کروانے کی۔
قسم سے اگر میری منگیتر ایسی حرکت کرتی نا تو دو لگاتا اسے۔۔”
“بس ربیل دفعہ ہوجاؤ۔۔”
بلاج نے غصے سے کہا تھا اور سب دروازہ بند کر کے چلے گئے تھے بلاج اسی غصے سے مدیحہ کو دیکھ رہا تھا
“مدیحہ آئی سوئیر اگر تمہاری بات بنا مقصد ہوئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا تم پریگننٹ ہو اس لیے لحاظ کر رہا ہوں۔۔”
“اچھا لحاظ نا کرو مار دو مجھے بھی بریرہ کی طرح اور مار دو اس بچے کو بھی جیسے بریرہ کے بچے کو مارا۔۔”
بلاج نے اسکی بات پر دو قدموں کا فاصلہ طہ کیا تھا اور اسکے کندھوں کو مظبوطی سے پکڑ لیا تھا
“ایک اور لفظ نہیں مدیحہ۔۔کس لیے آئی ہو یہاں۔۔۔”
“یہ پراپرٹی تم نے مجھے گفٹ کی تھی جس پر میرا بوتیک بننا تھا آج اس پر کوئی اور قبضہ کرکے بیٹھ گیا ہے۔۔میرے بوتیک کی کنسٹرکشن روک دی اور توڑ دیا ہے سب کچھ۔
اگر تم میں اوقات نہیں تھی اسے خریدنے کی تو بتا دیتے مجھے میں اپنے ڈیڈ سے کہہ دیتی۔۔
ڈسگسٹنگ بلاج۔۔”
وہ جانے لگی تھی کہ بلاج نے اسکا ہاتھ بہت زور سے پکڑا تھا جس پر اسے بہت تکلیف ہونا شروع ہوگئی تھی
“کس نے قبضہ کیا۔؟ کب ہوا یہ سب۔۔؟؟”
بلاج کی طیش سے بھری آواز سے وہ ڈر کر پیچھے ہوئی تھی اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کچھ پیپرز بلاج کے ہاتھ میں تھما دئیے تھے
“بہرام شاہ۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سو۔۔۔سونم۔۔۔”
بریرہ نے ہلکی آواز میں کہنے کی کوشش کی تھی
“بریرہ پلیز چپ رہو۔۔ایمبولینس آتی ہی ہوگی ڈاکٹر نے ہسپتال لےجانے کا کہا ہے تمہیں”
پر بریرہ نے ناں میں سر ہلا دیا تھا وہ بےچین ہوگئی تھی۔۔
“ہم کہیں نہیں۔۔۔جا رہے۔۔بلاج۔۔۔حمدانی کو نہیں پتا چلنا چاہیے کچھ بھی”
“یہ ایسے نہیں مانے گی دعا آپ اسے بےہوشی کا انجیکشن لگا دیں”
بریرہ نے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی پر دوسری طرف سے ڈاکٹر دعا نے اسے انجیکٹ کردیا تھا
“ایمبولینس آگئی ہے جلدی کریں سب۔۔۔”
ڈاکٹر دعا نے کچھ نرسز کو روم میں آنے کو کہا تھا اور سٹریچر پر جیسے ہی بےہوش بریرہ کو لٹایا گیا تھا اسکے منہ سے ایک ہی نام نکل رہا تھا
“بلاج۔۔”
جب وہ لوگ ایمبولینس میں بریرہ کو ڈال رہے تھے سونم کی نظریں صرف خون پر تھیں جو وہیں گر رہا تھا۔۔
“بریرہ اس بدلے کا انجام بہت بھیانک ہے بہت زیادہ۔۔۔اس تکلیف میں بھی تم اس تکلیف دینے والے کو نہیں بھولی۔۔کیوں لگ رہا ہے اس بدلے میں جانے والی جان صرف بلاج کی ہی نہیں ہوگی۔۔”
اسکی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔وہ باہر بھاگی تھی ایمبولینس میں ساتھ جانے کے لیے۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
بہرام شاہ۔۔یار میں تو تمہیں یہاں دیکھ کر ہی شاکڈ تھا تم نے ایک اور دھماکہ دہ دیا اس جگہ پر لاکر۔۔بلاج حمدانی سے دشمنی لے رہے ہو تم جانتے ہو۔۔؟”
بہرام اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر اس کھنڈر بنی جگہ کو دیکھ رہا تھا جو کچھ گھٹنے پہلے اتنی سجی سنوری تھی
“یہ جگہ کونسا اسکے باپ کی تھی یہ جگہ وجیح تایا کی تھی جو انہوں نے بریرہ کے نام کردی تھی۔”
ورکرز اب اس کھنڈر سے ملبہ اٹھا کر گاڑیوں میں بھر رہے تھے بہرام ایک بھی نشانی یہاں نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس نے سختی سے آرڈر دہ دیا تھا سب کو اور اپنے اس قریبی دوست کو فون بھی کر کے بلا لیا تھا تاکہ شک نا ہو کسی کو بھی
“پر یہ پراپرٹی بریرہ نے مرنے سے پہلے بلاج کے نام کردی تھی یہ کاغذات نہیں دیکھے سائن ہیں۔۔میں نے سنا ہے بریرہ نے اور بہت کچھ نچھاور کردیا تھا اس۔۔۔۔”
بہرام نے اسکے گریبان سے اسے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“جیمی ایک اور لفظ نہیں۔۔میں۔۔۔”
ابھی وہ بات کر رہا تھا کہ تیز سپیڈ کی تین گاڑیوں نے بریک لگا دی تھی انکے سامنے اور گارڈز نے گاڑیوں سے نکل کر اپنی اپنی گنز نکال لی تھی درمیان والی گاڑی سے بلاج حمدانی باہر نکلا تھا۔۔جس نے اس پراپرٹی کو اس حالت میں دیکھ کر اپنی گلاسز اتار دی تھی اور ایک گارڈ کے اشارہ کرنے پر وہ بہرام کی طرف بڑھا تھا
۔
“بلاج حمدانی کی پراپرٹی پر اس طرح سے کلیم کرنے پر نتائج کا اندازہ نہیں تھا شاید تم دونوں کو۔۔؟؟”
بہرام کے ہاتھ جیمی کے کالر سے کب کے ہٹ چلے تھے وہ اپنے کوٹ کی سلوٹیں ٹھیک کرکے بلاج کی جانب بڑھا تھا اور بلکل سامنے کھڑا ہوگیا تھا اسکے
“اگر پراپرٹی آپ کی ہوتی تو کوئی کیسے کلیم کر سکتا ہے مسٹر بلاج۔۔؟
کلیم ان چیزوں کا ہوتا ہے جن کے اصل مالک کا پتا نہیں ہو۔۔۔
اور یہ پراپرٹی۔۔۔”
بلاج نے ہاتھ کے اشارے سے بہرام کو روک دیا تھا اور اپنے گارڈ کو جیسے ہی دیکھا تھا وہ ایک فائل لیکر آگیا تھا
“یہ پراپرٹی میری منگیتر کے نام ہے مدیحہ ۔۔”
اس بار بہرام نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا تھا اور اپنی گاڑی پر پڑی فائل اٹھا کر بلاج کے سامنے کی تھی
“بریرہ شاہ کی پراپرٹی ہے یہ۔۔؟ اگر اس نے خیرات میں کچھ دہ ہی دیا تھا تو سنبھال لیتے۔۔آگے دینے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟؟”
بہرام جو اس طرح بات نہیں کرنا چاہتا تھا اس نے کردی تھی۔۔
بلاج کے منہ سے منگیتر لفظ سن کر وہ غمزدہ ضرور ہوا تھا وہ سمجھ رہا تھا بریرہ جس ٹروما سے گزر رہی تھی
“ہاؤ دیڑھ یو۔۔۔۔”
بلاج نے بہرام کا کالر پکڑا تھا
“یہ بریرہ شاہ کا ڈریم تھا اس جگہ گھر بنانا۔۔۔اور۔۔۔بریرہ کے ساتھ شادی کے بعد یہ گھر مجھے ہی ملنا تھا کیونکہ وہ میری منگیتر تھی بلاج حمدانی۔۔۔اب وہ نہیں رہی تو یہ پراپرٹی میری ہوئی۔۔۔”
بلاج کے ہاتھ جھٹک دئیے تھے بہرام نے۔۔
“بریرہ شاہ کی یہ پراپرٹی وجیح شاہ کی پراپرٹی کے ساتھ لنک نہیں رکھتی تو آپ کے داد جی کو اور خیرات نہیں مل سکتی خاص کر بریرہ کا یہ گھر۔۔۔”
اس نے وہ کاغذ تھما دئیے تھے بلاج کے ہاتھ میں جو بہرام کی سب باتوں سے انتہائی شاکڈ تھا۔۔۔
“وٹ۔۔۔بریرہ منگنی۔۔؟ تمہارے ساتھ۔۔؟ وٹ دا ہیل۔۔۔”
“آپ شاکڈ کیوں ہو رہے ہیں سر میں نے سچ کہا آپ کو۔۔۔ وجیح شاہ کے وراثتی چاہیں مر گئے ہوں پر بریرہ کے زندہ ہیں۔۔
ابھی آپ کی منگیتر کا ڈریم پراجیکٹ کھنڈر بنا دیا میں نے جیسے آپ نے میری منگیتر کے ڈریم ہاؤس کے ساتھ کیا۔۔۔
نوو ہارڈ فیلگز پلیز۔۔۔میں یہاں بزنس کے سلسلے میں آیا ہوں امید ہے ملاقات ہوتی رہے گی۔۔۔”
وہ بلاج کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلا گیا تھا جیمی کو ساتھ لیکر۔۔جو بلاج کے غصے سے گھبرایا ہوا تھا۔۔۔
۔
“بریرہ۔۔۔۔”
بلاج حمدانی کو پہلی بار ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اسے چیٹ کیا گیا ہو۔۔اس نے وہ فائل دیکھی اور آج اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اسکا بریرہ کے ساتھ رشتہ کاغذوں میں تو تھا ہی نہیں۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اس جگہ کو دیکھا اور پھر بہرام کی جاتی ہوئی گاڑی کو۔۔۔
“اس گاڑی کا پیچھا کرو پتا کرو کون ہے وہ اسکا بیک گراؤنڈ اب کہاں جا رہا وہ سب کچھ۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ربیل میں بس اتنا کہہ رہی ہوں میری کزن کی شادی ہے بس کچھ دن کی بات۔۔”
“بس میں نے کہہ دیا نہیں جارہی تم کہیں کونسی بیوی ہے جو اپنے ہسبنڈ کو چھوڑ کر مائکے رہنے جاتی ہے وہ بھی مہینے بھر کو۔۔”
“پر ربیل میں۔۔”
اور ایک تھپڑ سے عبیرہ کی آواز بند ہوگئی تھی
“ربیل۔۔”
“اب تائی جان آپ لیکچر دینا شروع ہوجائیں گی۔۔”
ربیل ایک نظر اپنی بیوی کو غصے سے دیکھ کر اپنے کمرے سے باہر چلا گیا تھا
“تائی جان مجھے ایک بات پاکستان جانے دیں میں وہاں سے کبھی واپس نہیں آؤں گی اس جہنم میں پلیز میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔”
وہ رونے لگی تھیں گڑگڑانے لگی تھی
“بس چپ کر جاؤ عبیرہ کسی مرد نے تمہیں روتے دیکھ لیا تو اور سر پر اٹھا لیں گے۔۔”
انہوں نے اس سہمی ہوئی بچی کو اپنے گلے سے لگانے کی کوشش کی تھی کہ انہیں بھی باہر سے آواز آگئی تھی
“رابیعہ رابیعہ کہاں ہے میری بلیک فائل۔۔؟ کتنی بار کہا ہے میری چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نا کیا کرو۔۔۔ بےوقوف عورت۔۔۔”
زمرد صاحب نے بہت اونچی آواز میں کہا تھا جس سے ملازمین کام کرتے کرتے رک گئے تھے گھر کے
۔
“جائیں آپ کو بلا رہے ہیں۔۔میں بھی کتنی پاگل ہوں آنٹی۔۔ اس گھر میں آپ کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے میری طرح۔۔ہم عورتوں کو یہاں وہ عزت کبھی مل بھی پاۓ گی۔۔۔؟”
عبیرہ اپنا چہرہ صاف کرکے اٹھ گئی تھی وہاں سے۔۔۔
“اب یہی زندگی ہے عبیرہ بیٹا۔۔اس گھر کے مرد کبھی سدھر نہیں سکتے یہ مافیا کے لوگ ہیں انکے خون میں شامل ہے پاور پیسے کا نشہ جو انکو ظالم و جابر بنا چکا ہے۔۔ اب یہاں اسی جہنم جیسی زندگی میں جینا ہے ہمیں۔۔۔”
عبیرہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ وہاں سے جانے لگی تھی اسی وقت عبیرہ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“آنٹی مجھ سے ربیل کی اور مار پیٹ برداشت نہیں ہوتی۔۔ اگر وہ باہر کی عورتوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں تو مجھے اس قید سے رہا کردیں خدا کے لیے مجھے بچا لیجیئے میرا دم گھٹنے لگا ہے۔۔۔”
وہ روتے ہوۓ رابیعہ بیگم کے قدموں میں گر گئی تھی۔۔
“تم نماز پڑھا کرو دعا کیا کرو اللہ ان سب کو نیکی کی ہدایت دے بیٹا۔۔ میں بات کرتی ہوں داد جی سے وہ کچھ کرسکیں گے تم فکر نا کرو ربیل اب سے ہاتھ نہیں اٹھاۓ گا۔۔۔”
۔
وہ وہاں سے وعدہ دے کر تو آگئی تھیں پر وہ بھی جانتی تھی انکی بات کو ان سنا کردیا جاے گا ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔”
۔
“آپ یہیں روکیں میں دوائیاں لے آتا ہوں۔۔”
بہرام وہاں سے چلا گیا تھا
اور سونم واپس بیٹھنے لگی تھی جب اس نے بہت سے گارڈز کو وہاں آتے دیکھا تھا
“بلاج حمدانی۔۔؟ میں نے تو مہتاب کو فون کیا تھا۔۔اسے پشمینہ کے ایکسیڈنٹ کا بتانے کے لیے۔۔”
اس نے اپنی گھبراہٹ چھپا لی تھی اس نے تو کسی کو فون کیا ہی نہیں تھا پر وہ یہ بات کسی پر ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ جان گئی تھی بلاج حمدانی نے اپنی پاور کے زور پر انہیں ڈھونڈا ہے
۔
“مہتاب سے پہلے میں تو کنفرم کرلوں۔۔یہ پشمینہ شیخ ہیں بھی یا کوئی فراڈ۔۔۔”
بلاج کے گارڈز نے سونم کا راستہ روک لیا تھا اور بلاج اندر آئی سی یو میں داخل ہوا تھا۔۔
اسکی سب سے پہلے نظر اس چہرے پر پڑی تھی اور پھر ٹیبل پر پڑی رپورٹس پر
“ان رپورٹس میں تو سچ ہی لکھا ہوگا تمہاری یہ حالت گولیوں سے ہوئی ایکسیڈنٹ سے نہیں داد جی جو مہتاب کے لیے تمہارا ہاتھ مانگنے والے ہیں انکو بھی سچ پتا چلے۔۔۔”
اس نے خود سے بات کرکے وہ فائل کھولی تھی تو اسکی حیرانگی کی انتہا نہیں تھی جب اس نے سب انفارمیشن پڑھی
اور سب ایکسیڈنٹ کی تفصیل پڑھ کر وہ فائل وہیں پٹک کر رکھ چکا تھا۔۔ اور جب بریرہ کے چہرے پر اسے حرکت ہوتی نظر آئی اس نے چہرہ پاس کرلیا تھا بہت۔۔۔
۔
“تم بریرہ شاہ اگر واپس آ ہی گئی ہو تو یاد رکھنا میں تمہیں ماروں گا نہیں تمہاری زندگی کو کبھی نا ختم ہونے والے سزا کی آگ میں جھونک دوں گا”
بلاج نے ایک ہاتھ میں اسکا آکسیجن ماسک پکڑا ہوا تھا تو دوسرا ہاتھ میں اس نے بریرہ کا چہرہ مظبوط گرفت میں پکڑ لیا تھا وہ خاموش تھی اسکی ہرٹ بیٹ جو وہ مانیٹر مشین سنائے جا رہی تھی اس کمرے میں اب قدرے کمی آگئی تھی بلاج نے اپنا چہرہ بہت قریب کرلیا تھا۔۔۔
وہ ہسپتال کے بیڈ پر پڑی ہوش میں آنے کے بعد بلاج حمدانی کو دیکھنے کی امید میں نہیں تھی۔۔ آج وہ اپنی اصل حالت میں تھی آج اس نے کنٹینٹ لینز بھی نہیں لگاۓ تھے آج ممکن تھا کہ بلاج حمدانی اس سے سچ منوا لے وہ جس طرح اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جیسے وہ ان کے رستے اسکی روح تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں ہو۔۔۔۔
۔
“یہ آنکھیں جتنی ٹھنڈک جتنا سکون مجھے ان میں نظر آتا تھا میرے بدلے کی آگ اور زیادہ سلگ جاتی تھی بریرہ شاہ۔۔
یہ آنکھیں جن سے تم مجھے ایسے دیکھ رہی ہو جیسے مجھے زندہ زیر زمین دفن کردو گی ان آنکھوں سے۔۔
ان آنکھوں سے تم میرے چھوٹے بھائی کو تو دیوانہ بنا سکتی ہو پر مجھے بلاج حمدانی کو پاگل نہیں بنا سکتی ان آنکھوں کے فریب میں نہیں آنے والا میں۔۔۔۔”
بات کرتے کرتے اسکی ہاتھ کی گرفت اور مظبوط ہوئی تھی بریرہ کے کندھے سے لیکر پورے جسم کے آخری حصے تک درد تھا جو اسے پچھلے کچھ دن سے ہسپتال میں رکھا جا رہا تھا۔۔۔
پر آج اپنے سامنے اپنے اور اپنی محبت کے دشمن کو کھڑا دیکھ اسکا درد کہاں کونے میں چھپ گیا تھا شاید۔۔۔۔
جب اس نے بند آنکھوں کو پھر سے کھول کر بلاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“تم پھر سہی گمراہی میں پڑ چکے ہو بلاج حمدانی۔۔۔دیکھو میری آنکھوں میں اور بتاؤ تمہیں ان میں کوئی ٹھنڈک نظر آرہی ہے۔۔؟
میری آنکھوں میں دیکھو اور غور سے دیکھو آگ سے ذیادہ تپتی ہوئی راکھ کی گرمائش ہے ان میں جو جلا کر راکھ بنا دیں گی ان کو جو انکی خوشیاں چھیننے کا سبب بنیں گے۔
یہ میری آنکھیں ہیں پشمینہ شیخ کی جو جلانے پر آئی تو جلا ڈالیں گی اور دفن کرنے کے لیے راکھ بھی نہیں چھوڑیں گی بلاج حمدانی
میں مہتاب کو تو دیوانگی کی آخری حدوں تک لے جاؤں گی جہاں مجھے پانے کے لیے اسکے پاس صرف بغاوت ہوگی۔۔
وہ میرا ہوچکا تھا جب اس نے میرے ہاتھ میں انگوٹھی پہنائی تھی
ان آنکھوں کے نشے نے ڈبو دیا ہے تمہارے چھوٹے بھائی کو میری محبت میں مسٹر بلاج۔۔۔اب پاگل بن کر ہماری شادی کروا دو یا اسکی بغاوت کے لیے تیاری پکڑ لو۔۔۔”
بڑی آکسیجن ماسک کے بغیر اتنا بولنے سے تھک گئی تھی پر جو سکون اسے بلاج کے چہرے پر غصہ دیکھ کر مل رہا تھا اسکی کوئی حد نہیں تھی
“میں تمہیں کسی کا نہیں ہونے دوں گا بریرہ شاہ میں تمہیں کسی کا بننے نہیں دوں گا۔۔۔یہ پشمینہ شیخ کا ماسک تمہارا اتروا کر رکھ دوں گا جیسے تمہاری فیملی کو ایکسپوز کیا تھا۔۔۔”
وہ اپنی باتوں سے اسے ری ایکٹ کرنے پر مجبور کررہا تھا اور وہ کامیاب بھی ہورہا تھا۔۔وہ بس اسکے منہ سے سننا چاہتا تھا اسکا نام۔۔۔وہ اندھیرے میں تیر تو چلا چکا تھا
۔
“بریرہ شاہ چاہے تمہاری رکھیل رہ چکی ہو پر میں پشمینہ شیخ ہوں بلاج حمدانی تم جیسے لوگ مجھے پانے کا خواب دیکھ سکتے ہیں حاصل کرنے کی اوقات نہیں رکھ سکتے۔۔۔”
بلاج کو حیران کردیا تھا آج اسکے جواب نے وہ پھر اسی کشمکش میں تھا
“تم میری تھی بریرہ شاہ۔۔میری ہو اور رہو۔۔۔”
۔
“ایک سیکنڈ کے لیے یہ ہاتھ اگر پشمینہ کے چہرہ سے پیچھے نا ہوا تو پھر کبھی یہ تمہاری کندھے کے ساتھ بھی نہیں جڑے گا۔۔۔۔”
ایک انجانی آواز جیسے ہی بلاج کے کان میں پڑی تھی بلاج کو آگے دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی جب بہرام بلاج کی طرح بریرہ کی جانب جھک گیا تھا اور اپنا ہاتھ اس نے بلاج کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا جو بریرہ کے منہ پر تھا۔۔۔
بہرام نے بلاج کا ہاتھ جس طاقت سے اٹھانے کی کوشش کی تھی اب وہ دونوں مرد آمنے سامنے تھے۔۔۔
بہرام نے اپنی انگلی اسکی طرف کی تھی اسے وارننگ دی تھی اس نے۔۔
جب مانیٹر کی آواز اسکے کانوں تک گئی اور اس نے جھٹک دیا تھا بلاج کے ہاتھ کو اور جلدی سے وہ آکسیجن ماسک بریرہ کے منہ پر لگا دیا تھا
“شش میں آگیا ہوں یہاں تمہیں ہائیپر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”
بہرام بریرہ کو سمجھا کر لٹانے کی کوشش کر رہا تھا اور جب مانیٹر پر اسکی ہرٹ بیٹ تیز ہونا شروع ہوئی تو تو بلاج نے دو قدم دروازے کی طرف بڑھائے تھے۔۔پر اسکی نظریں جیسے ہی پیچھے مڑی تھی جو وہ دیکھ رہا تھا اسکی اپنی سانسیں اسکا سانس گھوٹنا شروع ہوگئیں تھیں
جب اس نے بریرہ کی آنکھیں بہرام کے چہرے پر جمی دیکھی تھی اور اس نے جیسے ہی آنکھیں بند کر کے بہرام کے کندھے پر سر رکھا تھا۔۔
بلاج حمدانی اس ہسپتال کے روم میں دیوار کے ساتھ لگ گیا تھا ایک جھٹکے سے جو جو اب محسوس ہورہا تھا وہ یہ تھا
چاہے یہ لڑکی بریرہ ہو یا پشمینہ وہ اس لڑکی کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر ایک لمحہ بھی برداشت نہیں پائے گا۔۔۔
“بریرہ شاہ یا پشمینہ شیخ میری وارننگ یاد رکھنا میرے بھائی سے دور رہو۔۔۔”
بریرہ کی آنکھیں کھل گئی تھی کبھی وہ اپنی زخمی حالت کو دیکھ رہی تھی کبھی اس ظالم کو جو اسکی حالت کی بھی پروا نہیں کر رہا تھا جو کبھی اسکی چھوٹی سی چوٹ آنے پر وہ پورا اپارٹمنٹ سر پر اٹھا لیتا تھا
۔
“تیرے عشق میں سُدھ بُدھ کھو بیٹھی،،،
میں پاگل پاگل ہو بیٹھی۔۔۔۔۔”
۔
“میں ہوں یہاں۔۔۔”
بہرام نے ہلکی سی آواز میں سرگوشی کی تھی اور بریرہ نے پہلو میں کھڑے اس اجنبی شخص کو دیکھا تھا جسے وہ پچھلے دنوں سے ہی وہاں موجود دیکھ رہی تھی
اور جب بریرہ نے بہرام کی نظروں میں دیکھا جو اسے واپس بیڈ پر لٹا چکا تھا اور ماسک اسکے چہرے پر ٹھیک کرکے لگا دیا تھا۔۔
اسی وقت ایک زور دار آواز سنائی دی تھی۔۔۔بلاج حمدانی نے اس شیشے کے دروازے کو مکا مار کر توڑ دیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ڈاکٹرز اور نرسز آگئیں تھیں وہاں۔۔۔
“تم صرف میری ہو بریرہ شاہ۔۔۔۔بلاج حمدانی کی۔۔۔”
۔
وہ للکار کر اونچی آواز میں یہ کہہ کر چلا گیا تھا وہاں سے۔۔
۔
۔
“تم آرام کرو میں یہیں ہوں۔۔۔”
بہرام اسے لٹا کر سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔بریرہ کی نظریں ابھی بھی دروازے پر تھیں بلاج حمدانی کا غصہ اسے آج سمجھ سے بالاتر لگ رہا تھا
لیکن اسکے ارادے جھکنے والے نہیں تھے اب۔۔۔اب وہ آگے بڑھے گی
اب اس نے وہ سب کام سرانجام دینے ہیں جو اس نے دشمن کی گولی کھانے سے پہلے سوچے تھے
۔
۔
“سر آپ ٹھیک ہیں۔۔؟”
بلاج ہسپتال سے سیدھا پارکنگ میں آیا تھا اپنی گاڑی پر اس نے جیسے ہی سر رکھ کر اپنی آنکھیں بند کی تھیں اسے وہ تصویر بار بار نظر آرہی تھی جو اس نے اندر دیکھی تھی بریرہ شاہ کو کسی اور کے اتنا قریب دیکھ کر۔۔۔
“سر آپ۔۔”
اس گارڈ نے جیسے ہی ہاتھ بلاج کے کندھے پر رکھا تھا بلاج نے طیش میں آکر اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا
“بلڈڈی باسٹرڈ اوقات میں رہو دوبارہ ایسی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو ہاتھ اتار کر رکھ دوں گا۔۔۔”
۔
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا اور اپنے سارے گارڈز کو منع کردیا تھا اسے فالو کرنے سے۔۔۔۔
۔
۔
“بہرام شاہ۔۔۔”
چوبیس گھنٹے میں تیسری بار یہ نام اس نے لیا تھا اب وہ جانتا تھا اسکا اگلا ٹارگٹ کون ہوگا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔”
۔
“سسٹر یہاں اس روم میں بر۔۔پشمینہ شیخ ایڈمٹ تھیں۔۔ اب کہاں ہیں وہ۔۔؟؟”
“وہ آج صبح ہی ڈسچارج ہو کر چلی گئی ہیں۔۔”
نرس یہ کہہ کر جاچکی تھی وہاں سے۔۔۔۔
“چلی گئی کہاں چلی گئی۔۔؟ میں ابھی فون کرتا ہوں۔۔۔”
جب جیب سے موبائل نکالا تب بہرام ہو ہوش آیا کہ اسکے پاس تو کسی کا نمبر نہیں ہے۔۔
“میری غلطی ہے نا نمبر لیا نا کچھ آتا پتا۔۔ارسل بھائی کو ڈھونڈنے میں اتنا مگن ہوگیا تھا میں۔۔اب تو وہ بریرہ کا جو گارڈ ہے ڈینیل مجھے بریرہ تک پہنچنے ہی نہیں دے گا۔۔”
بہرام وہیں سامنے بینچ پر بیٹھ کر سوچ میں گم تھا اسکی نگاہیں سامنے کمرے میں جارہی تھی جو اب خالی تھا
“بریرہ شاہ۔۔۔”
جانے کتنی بار بہرام شاہ نے یہ نام دہرایا تھا اسکا مقصد صرف بریرہ کی حفاظت ہی نہیں تھا۔۔۔
اسکے مقاصد بہت سے تھے جو وہ ابھی کسی کو بھی بتانا نہیں چاہتا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
حمدانی مینشن۔۔”
۔
۔
بلاج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے اسی ہفتے تمہارا اور مدیحہ بیٹی کا نکاح ہوگا۔۔اور اسی ہفتے ہم پشمینہ کو اپنی ہونے والی بہو کے روپ میں سب سے ملوائیں گے”
بلاج نے اپنی فائل چھوڑ دی تھی اور سامنے کھڑے گھر کے تین مردوں کو دیکھا تھا
“پر داد جی۔۔”
“بلاج میرے اس فیصلہ سے انکار ہے تمہیں۔؟؟”
بلاج بے ساختہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
“نہیں داد جی چاہے آپ آج نکاح کروا دیں مدیحہ سے میرا مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”
۔
“بےوفا۔۔۔۔۔”
اسے پھر سے یہی آواز سنائی دی تھی
بلاج واپس اپنی جگہ پر بیٹھا تھا پر وہ لوگ ابھی بھی وہیں کھڑے تھے۔
“کیا ہوا آپ لوگ جا نہیں رہے۔۔؟ تیاری نہیں کرنی میری شادی کی۔۔؟ تیاری ایسی ہونی چاہیے کہ سب لوگ یاد رکھیں۔۔”
بلاج نے ہلکی سی مسکراہٹ سے کہا تھا اسکے بعد اسکا چہرہ پھر ویسے ہی سخت ہوگیا تھا
“تمہیں داد جی کے فیصلے سے سچ میں کوئی اعتراض نہیں بیٹا۔؟”
زمرد صاحب جو ابھی تک خاموش تھے انہوں نے بلاج کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ سوال پوچھا تھا ان کو اب بھی یقین نہیں آرہا بلاج کی ہاں پر
“اس میں اتنی حیرانگی کی کیا بات ہے بابا۔۔؟ مدیحہ میری محبت ہے پرفیکٹ ہے میرے لیے داد جی کی پسند اور فیصلے سے میں متفق ہوں”
بلاج نے نیچے فائل کی طرف نگاہیں جما لی تھیں
“دیکھا زمرد میں نے کہا تھا نا وہ دشمن کی بیٹی ایک کلوز چیپٹر ہے
ہمارا بلاج اسے دھوکہ دے رہا تھا محبت نہیں۔۔”
چھوٹے چچا کی بات پر اس کی آنکھوں بند ہوئی تھیں۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ تم میری بات سنو گی۔۔؟؟ رکھ دو اسے یہاں”
سونم نے اس کے ہاتھ سے برش لیکر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا تھا
“آج میرے ہونے والے جیٹھ کی شادی ہے اور میں اپنے ہونے والے سسرال والوں کی فرمائش کیسے رد کردوں۔۔۔۔؟”
بریرہ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا تھا
“ابھی تم ٹھیک نہیں ہوئی ہو لڑکی۔۔ اپنے شوہر کا نکاح کسی اور کے ساتھ ہوتے دیکھ کر تم اور برباد ہوجاؤ گی بریرہ رک جاؤ مت جاؤ وہاں۔۔”
“یہی تو میں چاہتی ہوں۔۔” بریرہ نے سونم کے کان کے پاس اپنا منہ کیا تھا
“یہی تو میں چاہتی ہوں برباد ہونا پوری طرح سے۔۔۔وہ وار پر وار کرے گا اور بریرہ شاہ برداشت کرے گی۔۔۔اور پھر میرا ایک وار اسے برباد نہیں تباہ کرے گا۔۔۔”
بریرہ نے ڈینیل کو دیکھ کر اسکی طرف اشارہ کیا تھا اندر آنے کا
“ڈینیل کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔؟ ہوٹ یا سیکسی۔۔؟”
اس نے آنکھ ماری تھی
“بریرہ میں چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔یہ پہن لو۔۔۔”
بریرہ کی سلیولیس بازو دیکھ کر ڈینیل نے اپنا کوٹ اتار کر دیا
“سیریسلی ڈینی۔۔۔؟ میں مہتاب کے ساتھ جا رہی ہوں۔۔۔ٹیک کئیر”
وہ اس کوٹ کو بیڈ پر پھینک گئی تھی باہر
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج بیٹا تمہارے داد جی نے یہ شیروانی بھیجی تھی۔۔۔”
بلاج کی والدہ ڈرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔۔انکے اندر آنے کے بعد باقی خواتین اور کزنز بھی اندر آئیں تھیں
“بلاج بھیا آپ پھر سے اپنے آفس سوٹ میں۔۔؟؟”
سب ہی الگ الگ شکایت کر رہی تھیں اسی وقت بلاج نے بیڈ سے ٹائی اٹھا کر اپنی والدہ کو پکڑا دی تھی
“یہ ٹائی پہنا دیں گی مجھے آپ۔۔؟؟”
اسکا اتنا کہنا تھا کہ وہ بلاج کی جانب بڑھی تھیں وہ شیروانی بیڈ پر پھینک کر
۔
“بلاج میرے سرخ لہنگے کے ساتھ میچ ہونی چاہیے تمہاری شیروانی۔۔”
“تو بریرہ میڈم سب ڈیسائیڈ بھی کرلیا ہے آپ نے۔۔؟؟”
“جی مسٹر بلاج حمدانی شادی تو آپ سے ہی ہوگی وہ بھی بہت دھوم دھام سے۔۔”
۔
“ہوگیا بیٹا۔۔۔”
بلاج جلدی سے خود کو پیچھے کرلیا تھا اور کمرے سے باہر آگیا تھا
“بلاج بھائی سب مہمان آگئے ہیں۔۔۔سپیشل گیسٹ بھی آئی ہیں پشمینہ شیخ جلدی آجائیں داد نے کہا ہے مولوی صاحب کو زیادہ انتظار کروانا اچھی بات نہیں۔۔۔”
وہ کزن جلدی سے بول کر چلا گیا تھا۔۔بلاج کے پیچھے پیچھے اسکی والدہ اور سب کزنز آرہی تھیں اور وہ سیڑھیوں کی رئیلنگ پر ہاتھ رکھے نیچے اتر رہا تھا
۔
۔
“پشمینہ کہاں کھو گئی۔۔؟ گھر کی سجاوٹ اتنی اچھی لگی ہے۔۔؟ سب بلاج بھائی نے کروائی ہے سجاوٹ وہ چاہتے تھے گھر دلہن کی طرح سجایا جاۓ۔۔”
پھولوں اور جلتی بتیوں کے درمیان سے گاڑی گزارتے ہوئے مہتاب نے کہا تھا۔۔۔
بریرہ نے گاڑی سے اتر کر جب نگاہیں دہرائی یہاں وہاں اسے وہ ایک ہی لفظ ان شہنائیوں میں سنائی دیا تھا
“بے وفا۔۔۔”
۔
“بریرہ شاہ۔۔۔ تمہیں بلاج حمدانی کی محبت پر یقین نہیں ہے۔۔؟
بس کچھ انتظار کرلو اور ہم لوگ دنیا کے سامنے ایک ہوں گے۔۔۔
دلہن کے سرخ جوڑے میں جب تم حمدانی مینشن میں میرا ہاتھ پکڑے داخل ہوگی۔۔۔”
۔
بریرہ پرانی یادوں کے سمندر سے اس وقت باہر آئی تھی جب مہتاب نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔بریرہ نے وہ ضبط کا گھونٹ پی لیا تھا اور اپنا ہاتھ مہتاب کے ہاتھوں پر رکھ دیا تھا آہستہ سے۔۔۔
اور دونوں اندر کی جانب بڑھیں تھے۔۔۔۔۔
۔
“تمہارا ہاتھ پکڑ کر ساری دنیا کے سامنے تم سے شادی کرے گا تمہارا بلاج سارے وعدے وفا کروں گا۔۔۔نا تمہیں خود سے اب جدا کروں گا
اس گھر کی بڑی بہو بن کر تمہیں سب عزتیں ملیں گی بریرہ۔۔۔”
۔
“تم دلہن کے روپ میں میرے ساتھ کھڑی ہوگی اور سب میڈیا والے تصاویر لے رہے ہوں گے
داد جی اس طرح سے تمہیں پیار دیں گے۔۔۔میں بہت فخر سے تمہارا ہاتھ تھاموں گا بریرہ شاہ کیونکہ بلاج حمدانی صرف تمہارا ہے اور کسی کا نہیں۔۔۔”
۔
“مہتاب بھائی آپ آگئے۔۔وقت پر پہنچ گئے بس نکاح کی رسم ہونے کو ہے۔۔۔”
اور بریرہ اور مہتاب کچھ قدم اور آگے بڑھے تھے اس سٹیج پر جہاں مولوی صاحب نے مدیحہ سے پوچھا تھا۔۔۔۔جس کا جواب ہاں میں تھا۔۔۔
بلاج حمدانی کی نظروں نے اس ہال میں موجود ہزار لوگوں میں بھی ان نظروں کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جہاں وہ کھڑی تھی جس نے بلاج حمدانی کو بےچین کردیا تھا۔۔۔
وہ جو آج اسکے چھوٹے بھائی کی منگیتر بھی تھی۔۔۔
۔
“قبول ہے۔۔۔”
۔
بلاج نے جیسے ہی دور کھڑی لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے یہ لفظ بولے تھے بریرہ کا ہاتھ چھوٹ گیا تھا مہتاب کے ہاتھ سے۔۔۔
“تمہاری مجھے دی گئی آخری تکلیف بلاج۔۔۔۔”
وہ لفظ دہرائے وہاں سے چلی گئی تھی باہر
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
۔
