Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034 Episode 15
Rate this Novel
Episode 15
“تمہیں آج سے بےوفائی کے وہ روپ دیکھاؤں گی بلاج کہ تم برداشت نہیں کرپاؤ گے۔۔۔”
بلاج کے پلٹ جانے پر بریرہ نے وہ دروازہ پھر سے کھولا تھا۔۔۔
اسے پتا تھا بلاج آج وہ والا بلاج تھا۔۔۔چشمش کا بلاج۔۔۔وہ جانتی تھی آج وہ کامیاب ہوئی تھی اس بےوفا کی آنکھوں میں آنسو لانے میں۔۔۔
پر اسکی آنکھیں کیوں بھیگ گئیں تھیں۔۔؟؟
۔
دروازہ جیسے ہی بریرہ نے بند کیا تھا بلاج نے مُڑ کر پھر سے دیکھا تھا
موبائل بار بار جیب میں بج رہا تھا پر وہ وہیں پتھر جیسے کھڑا رہ گیا تھا۔۔
بریرہ کی گود میں وہ بچی اور بہرام کے ہاتھ بریرہ کے کندھے پر وہ منظر بار بار اسکی آنکھوں سے گزر رہے تھے۔۔۔
۔
جب دوبارہ بجا تو اس نے غصے سے اٹھایا تھا۔۔
“میں نے کہا تھا میرے پرسنل نمبر پر مجھے کوئی کال نا۔۔”
“وجیح شاہ کو کسی نے کڈنیپ کرلیا ہے۔۔۔”
۔
اور پھر فون بند ہوگیا تھا۔۔۔
“محبت ہو یا نفرت پوری ہو تو ہی اچھی لگتی ہے۔۔
نفرت ہو تو پوری طرح سے ہو
محبت ہو تو پوری طرح سے ہو یہ دو لفظ ایک وقت میں ایک انسان سے نہیں ہو سکتے ایک ساتھ”
۔
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا
“تمہاری منزل وہ نہیں میں ہوں بریرہ بلاج حمدانی۔۔۔”
وہ اسی سپیڈ سے گاڑی لے گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
“پری آپ کیوں رو رہی تھیں میں نے صبح آ ہی جانا تھا بچے۔۔”
بریرہ گود میں اٹھائے پری کو جیسے ہی اندر لائی تھی
کنزہ بیگم اپنی بہو کے ساتھ ایک کونے میں چھپ گئی تھیں۔۔
“اس وقت گاڑی رکنے کی آواز۔۔”
“شش اسفند چپ کیجئیے بریرہ آئی ہے۔۔”
رشنا کی آنکھیں بھر گئیں تھی کنزہ بیگم کی طرح جب بریرہ اندر داخل ہوئی تھی۔۔
“یہ تو سچ میں بدل گئی ہے رشنا۔۔اور ۔۔”
آنسوؤں کی ایک اور لہر نکلی تھی آنکھوں سے
“اور چشمہ بھی نہیں لگایا نا۔۔؟؟”
اسفند نے بہت آہستہ سے کہا تھا۔۔۔
“آپ کی یاد آرہی تھی۔۔آپ میرے پاس رہیں۔۔”
بریرہ جیسے ہی پری کو لیکر صوفے پر بیٹھی تھی پری نے بریرہ کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی تھیں
۔
“کچھ کھایا ہے پری نے۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔وہ امی نے۔۔”
“اففو اسفند کتنا ہلتے ہیں۔۔”
ایک آواز آئی تھی اندھیرے سے بہرام بات کرتے کرتے رک گیا تھا
“اچھا تو میرے پاؤں پر ہیل رکھنا ضروری تھا۔۔اب درد ہورہا ہلوں بھی نا۔۔؟”
اسفند چھیپی ہوئی جگی سے باہر آگیا تھا۔۔۔
“اب چچی آپ اور رشنا بھابھی بھی سامنے آجائیں چھپنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔”
بریرہ نے بہت آہستہ آواز سے کہا تھا۔۔ چچی منہ صاف کرکے سامنے آگئی تھی اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترنا شروع ہوئی تھیں۔۔
“مجھے پتا ہوتا بہرام سے تمہیں اتنی نفرت ہے بریرہ میں کبھی بہرام اور تمہارے رشتے کی بات نا کرتی۔۔نا تم ناراض ہوکر واپس یہاں آتی نا یہ سب ہوتا۔۔۔”
بہرام اٹھ گیا تھا۔۔پر وہ نفرت لفظ بریرہ کو بہت اذیت دے چکا تھا جب بہرام کے چہرے پر ایک درد بھری مسکان آئی تھی
“امی اگر آج کے حالات مجھے پتا ہوتے تو میں کبھی بریرہ سے شادی کی خواہش ظاہر نہیں کرتا
آج کہیں نا کہیں میں بھی زمہدار ہوں۔۔”
بہرام سوئی ہوئی پری کو اٹھا کر اسکے روم میں لے گیا تھا۔۔
“تم بہت بُری ہو بریرہ اتنے سال ساتھ گزارے اور تم ایسے آگئی۔۔۔”
رشنا بھابھی نے روتے ہوئے بریرہ کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا
“آپ کی بریرہ مر چکی ہے بھابھی۔۔اب میں وہ نہیں رہی نا میرے جذبات۔۔”
۔
اس نے تو بھابھی کو گلے بھی نہیں لگایا تھا اور چچی کی طرف تو دیکھنے کی ہمت بھی نہیں تھی اس میں۔۔
۔
“بریرہ۔۔۔”
“پشمینہ چچی مجھے اب بریرہ مت کہیں۔۔میں اب وہ نہیں رہی۔۔”
“ہاں وہ تو دیکھ رہی چشمہ کہاں گیا۔۔؟ بال بھی ڈائی کروائے ہوئے۔۔ بہت چینج ہوگئی ہو بیٹا۔۔
اب تو تیل لگا کر مساج بھی کرسکوں گی تمہارے سر کی۔۔”
بریرہ کے بال انہوں نے جیسے ہی اپنی انگلیوں میں لیتے ہوئے کہا تھا بریرہ کی آنکھ بھر گئی تھی۔۔اور وہ اٹھ گئی تھی۔۔
“میں چلتی ہوں پری سے کہیے گا میں صبح آؤں گی۔۔”
“بریرہ۔۔اس بچی نے اتنی سی عمر میں ماں کی جدائی برداشت کی ہے اس اپنی عادت ڈال کر اسے دور مت کردینا جیسے تم نے ہم سب کو خود سے دور کرلیا۔۔
وجیح تایا جان کا خون بھی تو ایسا ہے نا۔۔؟؟ بےوفا۔۔۔مطلب پرست۔۔خود غرض۔۔؟؟”
اسفند بھائی نے جیسے ہی یہ باتیں کی تھیں بہرام اوپر سے بھاگتے ہوئے آیا تھا
“آپ لوگوں کو کام بگاڑنے کے لیے نہیں روکا میں نے۔۔۔امی سمجھائیں انہیں۔۔”
بہرام چلایا تھا اور بریرہ کے پیچھے بھاگا تھا۔۔
“بریرہ۔۔۔بریرہ۔۔۔”
وہ گاڑی کا دروازہ جیسے ہی کھول چکی تھی بہرام نے بند کردیا تھا بریرہ دروازے کے ساتھ جیسے ہی لگی تھی بہرام نے دونوں کے درمیاں تھوڑا سا فاصلہ بڑھا دیا تھا۔۔
“بریرہ۔۔۔چاہے کچھ دن ہوئے ہوں بہت لمبا سفر تہہ کیا ہے۔۔ایک دم سے اسفند بھائی کی باتوں کو آنا کا مسئلہ بنا کر مجھے میلوں دور نا کردینا خود سے پلیز۔۔۔”
اس نے ایک سانس میں بات کی تھی وہ جیسے ہی چپ ہوا تھا بریرہ نے آنکھیں اٹھا کر بہرام کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“میں نے کبھی بھی آپ سے نفرت نہیں کی تھی بہرام۔۔”
“مطلب نفرت کے قابل بھی نہیں تھا بہرام شاہ۔۔۔؟؟”
وہ مسکرا اٹھا تھا یہ وہی جانتا تھا کس دل سے مسکان لایا تھا دلا کا درد چھپا کر۔۔
“میں نے کبھی نفرت نہیں کی تھی آپ سے بہرام۔۔ میں نہیں جانتی کس طرح میں نے اس طرح کی زندگی اپنا لی وہ جنت جیسے زندگی ٹھکرا کر۔۔
شاید یہی لکھا تھا بہرام میں نے ٹھوکر ماری تو مجھے ٹھوکریں بھی کھانی پڑی۔۔
شاید اس مچھلی نے پتھر چاٹ کر واپس آنا تھا۔۔میرے غرور میں میں نے آپ کو ٹھکرایا اور میرا غرور ہی چکنا چور ہوکر رہ گیا۔۔
پر میں نے آپ سے کبھی نفرت نہیں کی تھی۔۔۔”
ہلکی آواز میں کہہ کر اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔۔پر بہرام نے پھر سے ہاتھ پکڑ لیا تھا اس کا۔۔
“میں اور میرا دل یہی سمجھتے آئے کہ تم نفرت کرتی آئی ہو۔۔آج تم نے بہت بڑا بوجھ اتار دیا بریرہ۔۔۔
میں تمہیں ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔انکار مت کرنا۔۔”
بہرام بنا کچھ کہے اندر چلا گیا تھا اور اپنی گاڑی کی چابی لے آیا تھا
“آپ پھر سے واپس آئے گے رہنے دیں میں چلی جاؤں گی۔۔”
“وقت دیکھ رہی ہو تم۔۔؟؟ کیا ہوگیا ہے میں کبھی ایسے نہیں جانے دوں گا۔۔گاڑی سٹارٹ کرو۔۔۔”
بہرام اپنی گاڑی سٹارٹ کرچکا تھا۔۔بریرہ کچھ لمحوں کو وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔ایک گہری سوچ میں تھی۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“صفدر تم تو دشمن کی بیٹی کو لینے گئے تھے تاکہ اپنے اگلے پچھلے بدلے لے سکو۔۔
دیکھو کیا حال بنا دیا تمہارا بلاج نے۔۔۔”
وہ اپنا سگار ایک ہاتھ میں لئیے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تھا
“تمہیں لگتا ہے میں تمہاری بکواس سننے آیا ہوں۔؟”
صفدر صاحب پر بہت سی گن تان دی گئیں تھیں۔۔
“ارے لڑکوں نیچے کرو۔۔ صفدر صاحب میرے ہی پارٹنر ہیں۔۔
پر صفدر ہم ایگلز یہ بدتمیزی دوبارہ برداشت نہیں کریں گے۔۔
ایک اور آواز سنائی دی تھی اور اس آواز سے صفدر صاحب ڈر گئے تھے
“میں یہاں مدد لینے آیا ہوں۔۔میں جانتا ہوں میرا بیٹا آپ لوگ مجھے دے سکتے ہو”
“بدلے میں ہمیں کیا ملے گا۔۔؟”
“آپ کا پرانا دشمن وجیح شاہ میرے قبضے میں ہے سلمان بھائی۔۔۔”
اور جو شخص اندھیرے میں کھڑا تھا وہ سامنے آگیا تھا اسکے ہاتھ نے مظبوطی سے صفدر کا گلہ پکڑ لیا تھا
“وہ مر چکا ہے۔۔میرا دشمن۔۔ وجیح شاہ صفدر جھوٹ بول کر تو اپنی موت۔۔”
“وہ۔۔زندہ۔۔۔ہے میرے پاس۔۔۔”
صفدر نے جیسے ہی فون دیکھایا تھا اسکا کا گلہ چھوڑ دیا تھا اور موبائل پر وجیح شاہ کو بستر پر بندھے زخمی حالت میں دیکھ سلمان صاحب کے چہرے پر ایک ہنسی آئی تھی
“ہاہاہاہاہا تیرا بیٹا تجھے مل جائے گا وجیح کو ہمارے پاس لے کر آ۔۔۔”
۔
“میں فون کرتا ہوں میرے لوگ اسے صبح تک یہاں لے آئیں گے۔۔پر تمہیں زبان دینی ہوگی”
“میں وجیح شاہ کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں صفدر تجھے تیرا بیٹا بھی مل جائے گا اور دشمن سے بدلہ لینے میں میں تیری مدد بھی کروں گا یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
تیز رفتا میں گاڑی کا شیشہ کھول دیا تھا اسکی لہراتی زلفیں بہرام شاہ کا دھیان اس روڈ سے بار بار ہٹا رہیں تھیں۔۔
اور بریرہ وہ اپنی دنیا میں گم تھی اسے پتا تھا بلاج حمدانی کے دل و دماغ میں اس نے ایک طوفان برپا کردیا تھا۔۔۔
“ہم نے آج رات ہی گھر جانا ہے ناں۔۔؟؟”
بہرام کی گاڑی بلکل ساتھ ساتھ تھی اسکی آواز سے وہ باہر آئی تھی۔۔پر بہرام کے مذاق پر بھی بریرہ کے چہرے پر کوئی ہنسی نہیں آئی تھی اس نے سپیڈ تیز کردی تھی اور جب دونوں گاڑیاں حمدانی مینشن کے سامنے رکی تھی بہرام بھی اپنی گاڑی سے باہر آگیا تھا۔۔
۔
“باسٹرڈ۔۔۔” بلاج جو اس وقت سے اسی کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا بریرہ کے کمرے میں موجود تھا۔۔بہرام کو بریرہ کی جانب قدم بڑھاتے دیکھ اس نے غصے سے کہا تھا۔۔
“ہمم تھینک یو۔۔۔”
بریرہ جیسے ہی کچھ قدم بہرام کی طرف بڑھی تھی بلاج نے غصے سے پردہ آگے کردیا تھا اور واپس بیڈ پر لیٹ گیا تھا
“وہ اس کھڑکی سے پیچھے جا چکا ہے بریرہ۔۔اب تمہیں ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں۔”
بہرام کی بات پر وہ شرمندہ سی ہوئی تھی
“اب سمجھ آیا تم نے کیوں اس وقت کہا تھا کہ میں تمہارے کندھے پر ہاتھ رکھوں۔۔
اٹس اوکے۔۔۔ٹیک کئیر۔۔”
“بہرام۔۔۔”
“اٹس اوکے۔۔۔”
۔
بہرام وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
وہ اسی طرح دبے پاؤں اپنے کمرے میں داخل ہوگئی تھی۔۔۔کپڑے چینج کرکے وہ جیسے ہی بیڈ پر لیٹی تھی بلاج نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں جو بند کئیے ہوئے لیٹا تھا وہ۔۔
۔
“تمہارے چہرے پر اتنا سکون کیسے ہوسکتا ہے بریرہ بےوفائی کے بعد۔۔؟”
اس نے سرگوشی کی تھی پر بریرہ کی بند آنکھوں سے اسے پتا تھا وہ سو چکی ہے۔۔
“تم صرف میری ہو۔۔بس میری۔۔جو ہمارے درمیان آئے گا میں اسے چھوڑوں گا نہیں”
۔
وہ کروٹ لے چکا تھا ایک غصہ تھا۔۔وہ اپنے تمام سوالوں کے جوابات لینا چاہتا تھا پر ہمت نہیں تھی اس میں کچھ بھی پوچھنے کی۔۔۔
۔
“بلاج تمہاری بےسکونی ہی تو میرے چہرے کا سکون بنی ہے۔۔اب دیکھنا میری بےوفائی تمہارا سکون کیسے برباد کرے گی۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہمیں اسکو ایک ایسے نہیں لے جانا چاہیے اسے ایک انجیکشن نشے کا لگا دیتے ہیں۔”
“ہاہاہا بس کر یار زندہ لاش ہے اتنے دن سے اتنی مظبوط رسیوں میں جکڑا ہوا تھا اسکے تو ہاتھ پاؤں نے چلے گے۔۔”
۔
وجیح شاہ کی تمام رسیاں کھول کر وہ اٹھ گیا تھا۔۔
“پر دیکھ رسک نہیں لینا چاہیے یہ مافیا کا ڈون رہ چکا ہے۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ چھوڑ بے میں دو اور لوگوں کو بلاتا ہوں اسے لے کر چلتے ہیں ۔۔”
وہ دروازے تک بڑھا ہی تھا کے پیچھے سے ایک گولی کی آوزا آئی تھی اور چیختے ہوئے اسکا ساتھی اپنی ٹانگ پکڑے نیچے گر گیا تھا اور ایک گن اسکے ماتھے پر تھی۔۔
“وجیح شاہ جب تک بےہوش تھا زندہ لاش تھا۔۔۔اب ہوش میں ہوں تو مافیا کا ڈون ہوں۔۔۔”
اس گن کے بعد اور بہت سی گولیاں چلیں تھیں وہاں
“اب تو مجھے بتائے گا کس کا کتا ہے تو۔۔؟؟”
وہ جو اپنے گھٹنوں کے بل وجیح شاہ کے سامنے زمین پر بیٹھے ہوئے کانپ رہا تھا پر اپنے باس کا نام بتانے کی ہمت نہیں تھی۔۔
“صفدر۔۔”
“ہاہاہا اس میں اتنی ہمت آگئی۔۔؟ چل لیکر مجھے۔۔۔”
“وہ۔۔ایگل آئی کے ساتھ ہاتھ ملا چکا ہے ۔۔ باس کا بیٹا حمدانی کے قبضے میں ہے۔۔”
وجیح صاحب کی آنکھوں میں اس دن کا وہ منظر گھوم اٹھا تھا
“بابا سائیں ایم ہز لیگلی ویڈڈ وائف۔۔۔”
“مجھے لیکر چل سلمان سائمن کے پاس۔۔۔”
“پر وہاں موت آپ۔۔”
“جتنا کہا اتنا کر۔۔اور تم لوگ۔۔ایک غلطی ہونے پر موت سے بدتر موت دوں گا۔۔”
ان سب زخمی گنڈوں نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔
۔
۔
“داد جی اب وقت آگیا ہے میں اپنے باپ کی قسم کو توڑ کر آپ کے خاندان کے خون سے اپنے حساب چکتا کروں۔۔”
۔
۔
۔
۔
سورج کی کرنیں کھڑکی سے جیسے ہی اندر داخل ہوکر بلاج کے چہرے پر پڑ رہیں تھی وہ کروٹ بدلنا شروع ہوا تھا۔۔پر جب پانی کے ہلکے ہلکے قطرے اسکے منہ پر پڑے تو اس نے غصے سے آنکھیں کھولیں تھی۔۔
سامنے ٹاؤل میں ملبوس اسکی بیوی نے اسکی آنکھیوں تو اور کھول دی تھی اور اسکی بولتی بھی بند کر دی تھی
“صبح صبح میرا قتل کرنے کا ارادہ ہے بریرہ ۔۔۔؟؟”
“پشمینہ شیخ۔۔۔”
اپنے بالوں کو ڈرائی کرتے ہوئے اس نے بےرخی سے جواب دیا تھا۔۔
“ہمم۔۔کل رات کہیں گئی تھی کیا تم۔۔؟؟”
“نہیں تو۔۔یہیں تھی۔۔۔”
نظریں چراتے ہوئے وہ بالوں کو پھر سے ڈرائی کرنا شروع ہوئی تھی پر جب بلاج کی طرف سے کوئی جواب نے نہیں آیا تو اس شیشے پر اس نے بلاج کے چہرے کو گہری سوچ میں پڑے دیکھا تھا
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔؟؟”
بریرہ نے سرگوشی کی تھی
“ایسے کیسے۔۔؟؟”
“ایسے جیسے میں کوئی بےوفائی کردی ہو۔۔”
اور اسکی اس بات پر بلاج اٹھ کر اسکی طرف بڑھا تھا
“کیا نہیں کی بےوفائی۔۔؟؟”
بریرہ کی تھوڑی پر انگلی رکھ اپنی طرف کیا تھا اسکا چہرہ
“بےوفائی تو وہ کرتے ہیں نا بلاج کہ جنہوں نے کبھی وفا کی ہو۔؟؟
مجھ سے میری زات سے تمہیں وفائیں نہیں صرف جفائیں ملیں گی اور کچھ نہیں۔۔۔”
وہ بیڈ سے کپڑے اٹھا کر واپس باتھروم میں چلی گئی تھی
۔
۔
“مہتاب کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔۔۔”
داد جی نے ناشتے کی میز پر بیٹھے سب فیملی ممبرز کو مخاطب کیا تھا۔۔
بلاج کی نظر بےساختہ بریرہ پر گئیں تھیں جس کے ہاتھ وہیں ساکن ہوگئے تھے
“آپ نے کہیں پتا نہیں کروایا۔۔؟؟ ویسے مافیا بنے پھرتے ہیں گھر کے بیٹے کی فکر نہیں آپ لوگوں کو۔۔؟؟ میں پتا کرلیتی ہوں۔۔۔”
وہ میز سے اٹھ کر چلی گئی تھی اس طرح سے ظاہر کروا کر کے بس اسے ہی مہتاب کی پرواہ ہے۔۔
۔
“بلاج بھائی جب آپ کی بیوی کی محبت ابھی بھی مہتاب ہے تو جانے دیجئیے نا مہتاب کے پاس۔۔؟؟
مہتاب کو کس بات کی سزا ہے۔۔؟ آپ کی فیملی تو مکمل ہے مدیحہ اور آنے والے بچے کے ساتھ۔۔”
وہاج نے آہستہ سے کہا تھا۔۔۔
“بس وہاج وہ بلاج کا زاتی مسئلہ ہے۔۔”
“ایکسکئیوزمئ۔۔”
بلاج داد جی کی بات سن کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“وجیح شاہ۔۔۔ہاہاہا اتنی بری حالت کردی میرے یار کی۔۔۔؟؟”
سلمان صاحب ہی ہنسنا شروع ہوئے تھے انہوں نے وجیح شاہ کی ٹانگ پر ایک کک ماری تھی جس سے وجیح شاہ نیچے گر گئے تھے اور وہاں قہقے بلند ہوئے تھے
“اب میرا وعدہ پورا کرو۔۔تم چاہے وجیح کو مار دو۔۔پر۔۔”
اتنی جرات ہے وجیح شاہ کو مارنے کی کسی نا مرد میں۔۔”
ایک آواز گونجی تھی اور وجیح شاہ نے اپنی دونوں گنز نکالی تھی۔۔
اس زخمی شیر کو پانچ منٹ لگے تھے ان لوگوں کو زخمی کرنے میں۔۔
“سلمان میں تجھے نہیں ماروں گا۔۔مجھے بھی تیری طرح بدلہ چاہیے،،”
“مجھے بخش دو۔۔بس میرے بیٹے رمیز کو۔۔۔”
“کیا کیا تھا تیرے بیٹے نے صفدر،،،؟؟ تو تو بہت قریبی تھا ان لوگوں کے۔۔۔”
سلمان صاحب کی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر وجیح شاہ جیسے ہی بیٹھا تھا ان تمام لوگوں میں ایک لہر ڈور اٹھی تھی ڈر کی۔۔۔
“رمیز نے۔۔۔ زمرد کی بیٹی ردا کے ساتھ۔۔”
اور وجیح شاہ کی گن سے ایک فائر نکلی تھی۔۔۔
“
وجیح ردا کی شادی ارسل سے کرواں گا میں تو۔۔۔”
“دیکھ لے زمرد میں بہت سخت سسر بنوں گا۔۔سارے بدلے تجھ سے لوں گا۔۔”
“ہاہاہاہا تو ردا کو مجھ سے زیادہ لاڈ کرتا ہے جا تجھے اجازت ہے جتنے بدلے لینے ہوئے لے لینا۔۔”
۔
“وجیح۔۔۔”
“ایک لفظ نہیں سلمان۔۔۔یہ بے غیرت لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عزتیں سانجھی ہوتی ہیں سب کی۔۔؟ تیرا بیٹا میرے سامنے ہوتا صفدر تو تو دیکھتا میرا قہر۔۔۔اپنی شکل گم کرلے یہاں سے۔۔”
۔
۔
ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی وہاں۔۔
“سلمان مجھے بس میرا بدلہ چاہیے ان لوگوں سے۔۔۔تجھے ختم کرنا میرے لیے مشکل نہیں۔۔
پر میں تجھے موقع دے رہا ہوں میرے ساتھ وفا نبھا اور تجھے میں زمرد حمدانی کی سیٹ دوں گا یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔”
۔
۔
اور وجیح شاہ وہاں سے چلے گئے تھے
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔
۔
“ایم سوری پری بیٹا میں ابھی بیزی ہوں۔۔”
“آپ نے کل بھی یہ کہا تھا اور اس سے پہلے بھی۔۔”
پری شکایت کرنا جیسے ہی شروع ہوئی تھی بریرہ کی نظر ہوٹل کی اینٹرنس پر پڑی تھی جہاں سے مہتاب اندر داخل ہوا تھا اور اوپر اپنے روم کی جان بڑھنے والا تھا
“پری میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔”
مہتاب۔۔۔۔۔۔”
بریرہ کی آواز سے اسکے قد رک گئے تھے
“مہتاب۔۔۔۔”
“بر۔۔۔پشمینہ تم یہاں۔۔؟ تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔”
پیچھے سے جیسے ہی گانے اور شور شرابے کی آوازیں آنا شروع ہوئی تھیں مہتاب نے فکرمندی سے کہا تھا
“اس طرح کتنے کلب میں ہم جا چکے ہیں مہتاب۔۔۔”
“تب بات اور تھی بریرہ۔۔۔”
۔
مہتاب بیٹھو یہاں پر۔۔۔”
بار سٹول پر مہتاب کا ہاتھ پکڑ کر اس نے بیٹھنے کا کہا تھا جو چپ چاپ بیٹھ گیا تھا۔۔
۔
۔
“اب یہ دوئی نشے کی اس جوس میں ڈال کر ان دونوں کو دو۔۔ میں نے آگے سارا کام تمہارا ہے ربیل۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔بلاج بھائی تو ایک ہفتے سے یہاں نہیں ہیں۔۔انہیں کیسے پتا چلے گا۔۔۔”
“وہ یہاں خود آئے گا صبح ہوتے ہی کمرہ نمبر 102 وہ خود کھولے گا۔۔”
اور وہ ایک پرچی دے کر وہاں سے ڈانس فلور کی طرف چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اس گلاس میں کیا تھا میرا سر گھوم رہا ہے۔۔۔”
بریرہ نے اپنا سر بار کاؤنٹر پر رکھ دیا تھا
“ہاہاہا میرا بھی۔۔۔پر اچھا لگ رہا ہے پشمینہ۔۔۔”
“میں پشمینہ نہیں ہوں مہتاب۔۔۔”
بریرہ نے سر اٹھا کر مہتاب کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“میں بریرہ ہوں۔۔میں جانتی ہوں سب بدلہ لینے آئی ہوں تمہارے بلاج بھائی سے۔۔
تم سے محبت۔۔”
“مجھ سے محبت بھی اس بدلے میں شامل تھی۔۔۔ جانتا ہوں بریرہ۔۔سب جان گیا ہوں میں”
۔
مہتاب کی آنکھیں بھر آئیں تھی۔۔۔
“مہتاب میں۔۔” مہتاب کی آنکھیں جیسے ہی بریرہ نے اپنے ہاتھوں سے صاف کرنا شروع کی تھی مہتاب نے اسکا چہرہ اپنےہاتھوں میں لیا تھا۔۔
“سٹے آوے مہتاب۔۔۔”
پیچھے سے ایک مکا پڑا تھااسکے منہ پر جو وہیں گر گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مسز بلاج بہت جلدی ہے میری بانہوں کے حصار سے چھوٹ کر جانے کی۔۔؟؟”
اسکا جسم ساکن ہوگیا تھا بلاج کی آواز سے اس انجان کمرے میں اس حالت میں اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا سوائے اس ایک جوس کے گلاس کے جو اس نے اس پارٹی میں پیا تھا
“یہ سب کیا ہوگیا مجھ سے۔۔۔؟؟”بریرہ کی آنکھیں بھر آئیں تھیں
“بہت جلدی ہے بھاگنے کی ۔۔۔؟؟”
بلاج کی سب باتوں کو اگنور کرکے وہ باتھروم کی طرف تیز قدموں سے چلی گئی تھی۔۔
۔
“راستہ چھوڑو میرا بلاج جانا ہے مجھے۔۔”
غصے سے بھری آنکھیں اس نے نیچی کرلی تھی آج اسے خود پر غصہ تھا۔۔
“رات کو تو یہ نہیں کہہ رہی تھی مسز بلاج حمدانی۔۔۔
میری بانہوں میں بکھری ہوئی بریرہ کہاں گئی وائفی۔۔؟؟
کل رات تو کچھ اور ہی تھی تم۔۔
اس کمرے کی ہر چیز ہماری محبت بھری رات کا ثبوت ہے۔۔۔”
“مر گئی رات کے اندھیرے میں
کل میں سچ میں نشے میں ہوں گی بلاج۔۔۔ورنہ اتنی بڑی غلطی میں اپنے ہوش و ہواس میں کبھی نہیں کرتی۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔”
اس نے بلاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا تھا۔۔اسکی بات بلاج حمدانی کو اندر تک زخمی کر گزری تھیں۔۔۔
بلاج نے اسے غصے سے دروازے کے ساتھ پن کردیا تھا
“غلطی۔۔؟ کل رات کو تم ایک غلطی کا نام دی رہی ہو۔۔؟؟
کل تو ٹوٹ کر محبت کر رہی تھی تم۔۔۔”
بلاج کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا اس نے۔۔
“کہا نا نشے میں تھے ہم ہوگئی غلطی۔۔۔”
“ہم نشے میں نہیں تھے۔۔۔تم نشے میں تھی۔۔۔میں اپنے ہوش میں تھا بریرہ۔۔۔
میاں بیوی کی محبت کوئی غلطی۔۔”
بلاج کے منہ پر ایک اور تھپڑ مارا تھا اس نے۔۔۔
جس کی آنکھیں بھیگ چکی تھی
“میں کل ہوش میں نہیں تھی تم نے ۔۔۔تم نے فائدہ اٹھایا بلاج۔۔
کیا سے کیا بن گئے ہو تم۔۔۔یو ڈسگسٹ مئ بلاج حمدانی۔۔۔
کل رات میرے لیے ایک غلطی ہے۔۔۔اور غلطی ہی رہے گی یاد رکھنا۔۔
میں بریرہ جتنی کمزور نہیں ہوں۔۔۔ڈونٹ انڈرایسٹیمیٹ مئ۔۔۔”
اپنا چہرہ طیش سے صاف کر کے وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“غلطی۔۔۔۔مائی فٹ ۔۔تم میری تھی اور رہوں گی۔۔۔”
بلاج نے غصے سے دیوار پر مکا مارا تھا۔۔
۔
۔
“اب تو ہاتھوں کی لکیریں بھی مِٹی جاتی ہیں۔۔۔
اُس کو کھو کر تو میرے پاس رہا کچھ بھی نہیں۔۔۔”
۔
۔
“میں نے وہ ڈرنک بر۔۔میرا مطلب پشمینہ کو ہی دیا تھا۔۔۔ مدیحہ۔۔۔”
“یو فول۔۔۔مہتاب اگر یہاں ہے تو اوپر روم میں کون ہے بریرہ کے ساتھ۔۔۔؟؟
سب پلان خراب کردیا ۔۔۔اب بلاج کو کیا ثبوت دیکھاؤں گی اسکی بیوی کے بےوفائی کا۔۔۔”
۔
وہ غصے سے اس کمرے کی طرف بڑھی تھی جو بلکل خالی تھا۔۔۔
“یہاں کوئی بھی نہیں آیا ۔۔کہاں ہے بریرہ۔۔؟ کہاں مہتاب۔۔”
“بلاج بھائی کیا کر رہے یہاں،،؟؟”
بلاج ایک روم سے اپنا کوٹ پہنتے ہوئے غصے سے باہر آیا تھا اور اس ہوٹل سے چلا گیا تھا بریرہ کے پیچھے پیچھے
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا سائیں اسی گھر میں ہیں۔۔۔بابا سائیں۔۔”
ارسل کی آواز پر بہرام اپنی امی کو حٰرانگی سے دیکھ رہا تھا۔۔جن کی نظروں میں آنسو تھے گھر میں لگی تصاویر کو دیکھ کر۔۔۔
“بابا سائیں۔۔”
ارسل۔۔۔۔
۔
۔
وجیح شاہ اپنے کمرے سے باہر آئے تھے جسم پر ابھی بھی زخموں کے بےتحاشہ نشان تھے۔۔
ارسل نے بھاگتے ہوئے اپنے باپ کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا
“بابا سائیں مجھے کیسے پتا نہیں چلا میں تو یہیں رہتا تھا۔۔۔”
“میں کل واپس آیا ہوں۔۔۔”
وجیح شاہ کی نظر پہلے بہرام اور اور کنزہ بھابھی پر پڑی تھیں۔۔
“کبیر نے بھیجا ہوگا میری بربادی دیکھنے کے لیے آپ کو۔۔۔”
وجیح شاہ طیش میں بولے تھے،،
“بابا سائیں ۔۔۔بریرہ۔۔۔زندہ ہے۔۔”
وجیح شاہ کی آنکھوں میں ایک خوشی سی آئی تھی پر کچھ سیکنڈ میں انکی آنکھیں لال ہوگئیں تھیں
“وہ زندہ ہے۔؟ ارسل اسے مارا کیوں نہیں تم نے۔۔؟ مار دیتے کہاں ہے وہ میں اسے مار۔۔۔”
بہرام سامنے کھڑا تھا ان کے۔۔۔
“آگے کم لوٹا ہے آپ نے آپ کے دشمنوں نے اسے۔۔؟ ایک انگلی لگا کر دیکھائیں آپ اسے تایا جان۔۔”
“بہرام شاہ دفعہ ہوجاؤ میرے گھر سے۔۔۔اسے تو میں میں مار کر رہوں گا۔۔”
بہران کا گریبان پکڑ لیا تھا انہوں نے
“آپ اسے نہیں مار سکتے بابا سائیں۔۔۔وہ مر چکی ہے۔۔شاید اسی رات مر گئ تھی۔۔۔جب آپ نے پہلی بار اس پر گولی ماری تھی۔۔
یا اس رات مر گئی تھی جب اس بےوفا نے اسے رکھیل کہا تھا۔۔۔
یا اس دن مر گئی تھی جب اسے برباد کرنے والے نےکسی اور سے شادی کر لی تھی۔۔
یا پھر اس وقت جب میں نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔
وہ تو مر چکی ہے بابا سائیں بریرہ شاہ مرچکی ہے۔۔۔”
۔
ارسل شاہ کا چہرہ بھر گیا تھا اور اسکی باتوں سے وجیح شاہ کی آنکھوں میں بدلے کی آگ اور بھڑک اٹھی تھی
“وہ اسی قابل تھی۔۔ایسی لڑکیاں جو ماں باپ کی عزت کو رؤند جائیں جو محبوب کے ہاتھوں بہک جاتی ہیں انکا انجام ایسا ہی ہوتا ہے وہ اسی قابل تھی۔۔۔”
۔
“تایا جان آپ اور کتنی زیادتی کریں گے۔۔؟؟ وہ معصوم تھی کس کی دشمنی کی بھینٹ چڑھی وہ۔۔؟
آپ کی دشمنیاں تھی۔۔۔بلاج حمدانی نا سہی کوئی اور سہی۔۔کبھی سوچا کون ہے گناہ گار،،؟”
اسفند بھائی کو پیچھے جھٹک کر وہ پھر سے وجیح شاہ کے سامنے بنا ڈرے کھڑا ہوا تھا
“آپ نے نہیں دیکھا۔۔۔یا اللہ آپ بریرہ کو دیکھتے تو مر جاتے جب اسکی ٹانگ میں گولی لگی تھی۔۔
اور وہ اس سڑک پر گری تھی۔۔۔وہ بدلے کے لیے گئی تھی وہاں۔۔۔
اب تو کتنے نشان ہوں گے۔۔۔
سب بھر جائیں گے پر وہ نہیں بھرے گے جو آپ دونوں نے دئیے اسے۔۔
ایک وہ جو باپ بن کر آپ نے دیا اور ایک وہ جو شوہر بن کر بلاج نے دیا۔۔
وہ پاگل ہوگئی ہے اسے بدلہ چاہیےوہ آپ کا کاشان بھائی کا بدلہ لینے نکلی ہے
وہ بیچاری۔۔۔وہ معصوم بڑا سا چشمہ لگا کر کتابیں پڑھنے والی لڑکی۔۔
وہ خود بھی جانتی ہے اس نے نے ماں باپ کو دھوکہ دیا اسے خود بھی دھوکا ملا
تایا جان وہ روتی رہی آپ کی قبر پر جا جا کر
وہ تو اب کچھ بھی نہیں رہی نا بہن نا بیٹی نا بیوی۔۔۔وہ پشمینہ شیخ بن چکی ہے۔۔۔۔”
وجیح شاہ کی گن انکے ہاتھ سے گر گئی تھی جب وہ اس صوفے پر بیٹھے تھے۔۔
۔
“وہ میری لاڈلی تھی۔۔۔میرے وجود کو کاٹ دیا تھا اسکے دھوکے نے۔۔”
انکی آواز بھاری ہوگئی تھی۔۔۔
۔
۔
“بریرہ۔۔۔”
اس میں اور ہمت نہیں تھی اپنے زندہ باپ کی روتی ہوئی آواز سننے کی
“سونم مجھے ابھی جانا ہے۔۔۔”
وہ وہاں سے بھاگ گئی تھی روتے ہوئے۔۔۔یہاں وہ دونوں ڈینیل کی فون کال پر آئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔۔”
۔
۔
“پشمینہ دروازہ کھولو۔۔۔”
بلاج رات کے دو بجے اسکے روم کا دروازہ بجا رہا تھا۔۔۔یہ اب روز کا معمول تھا نا وہ اس سے بات کرتی تھی نا ہی وہ رات کو دروازہ کھولتی تھی۔۔۔
۔
“بریرہ۔۔۔میں اس دروازے کو توڑ دوں گا۔۔”
پر اندر سے کوئی آواز نہیں آئی تھی۔۔
۔
“بلاج۔۔۔”پیچھے سے داد جی کی آواز سے بلاج کے ہاتھ مٹھی میں تبدیل ہوگئے تھے۔۔
۔
“بلاج بیٹا۔۔”
“داد جی مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔”
“دیکھو بلاج بیٹا ابھی ربیل کو اس کرسی پر بیٹھنے دو۔۔”
“ہاں اس کرسی کو اس کمپنی کو میں نے یہاں تک پہنچایا تھا۔۔۔اگر کچھ ڈیلز چلی گئی ہاتھ سے تو بلاج حمدانی لوزر ثابت ہوگیا۔۔؟؟”
“بلاج۔۔۔”
“بس جائیں داد جی یہاں سے۔۔۔بورڈ آف ڈائیرکٹرز کی میٹنگ میں نے بلا لینی ہے اسی ہفتے۔۔”
“تو تم ہینڈ آوور نہیں کرو گے سب کے سامنے تماشہ بناؤ گے۔۔؟”
“آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھیں۔۔۔”
اور بلاج نے غصے سے دروازہ توڑنے کے ارادے سے اپنا کندھا مارنے کی کوشش کی تھی پر بریرہ دروازہ پہلے ہی کھول چکی تھی۔۔۔اور بلاج بریرہ کے ساتھ بیڈ پر جا گرا تھا۔۔۔
۔
“وٹ دا۔۔۔سیریسلی۔۔؟ گھر چھوڑ جاؤں۔۔؟؟ اپنے کمرے میں سکون نہیں ہے مجھے۔۔۔”
اس نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
“تمہیں شرم نہیں آتی بریرہ دروازہ کا لاک کرکے سونے کو کس نے کہا تھا شوہر کو کمرے سے باہر نکال کر۔۔۔”
اور بریرہ نے اسے خود سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔۔
“پہلی بار میں ہماری فیملی میں کپل فائٹ دیکھ رہی ہوں۔۔۔”
ردا کی آواز جیسے ہی آئی تھی بلاج سیدھا کھڑا ہوگیا تھا۔۔
“سیریسلی۔۔؟/ یہ یہاں سو سکتی ہے اور مجھے اجازت نہیں ہے۔۔؟؟
تمہیں تو میں دیکھ لوں گا بریرہ۔۔۔دو میرا تکیہ۔۔۔”
وہ واپس کمرے سے باہر آیا تھا اندر ردا کے قہقے کی آواز گونج رہی تھی تو باہر داد جی کے
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔بلاج حمدانی۔۔۔”
“داد جی۔۔۔”
“ہاہاہاہا میرے کمرے میں کسی بھی وقت آجانا اگر دوسری بیوی بھی کمرے سے نکال دے تو بیٹا۔۔”
وہ ہنستے ہوئے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
“اگر اب دروازہ بجایا نا بلاج تو تمہیں اس گھر سے ہی باہر بھیج دوں گی میں۔۔۔”
وہ شدید غصے میں بلاج کے منہ پر دروازہ بند کرچکی تھی۔۔
“بریرہ بھابھی۔۔۔ہاہاہاہا کیا پاور فل پرفورمنس تھی۔۔۔”
۔
۔
“مجھے تمہارے بھائی کی شکل دیکھ کر غصہ آتا ہے ردا۔۔۔وہ انسان پوری طرح سے گر چکا ہے اس رات کے بعد۔۔۔”
اب ردا نے بریرہ کا چہرہ ٹھیک سے دیکھا تھا جہاں سنجیدگی کے سوا کچھ نہیں تھا۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سونم مجھے سمجھ نہیں آرہی تم مجھےیہاں کیوں لائی ہو ہم کچھ دن پہلے ہی یہاں سے گئے ہیں۔۔”
“اس دن ٹیسٹ کروانا تھا۔۔۔اور آج رپورٹ لینی ہیں۔۔”
سونم اسکے ساتھ ڈاکٹر کے کیبن میں داخل ہوئی تھی
“پر تم نے کہا تھا وہ ٹیسٹ نارمل ہیں۔۔اور۔۔۔”
“وہ پریگننسی ٹیسٹ تھے بریرہ۔۔۔”
بریرہ کی سانسیں رک گئیں تھیں۔۔
“پلیز بریرہ بریتھ ان بریتھ آؤٹ کرو،،،پانی پئیو۔۔گہرا سانس لو۔۔۔”
سونم ہائیپر ہوگئی تھی۔۔۔جیسے ہی پانی کا گھونٹ حلق سے نیچے گیا بریرہ نے گہرا سانس لیا تھا
“یہ سب بکواس ہے۔۔۔سونم۔۔ایسا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔”
“مجھے شک تھا۔۔تم نے اس رات کے بارے میں بتایا۔۔۔بریرہ۔۔ڈاکٹر کی کنفرمیشن ضروری ہے۔۔”
“ایم سو سوری آپ کو انتظار کرنا پڑا۔۔اینڈ مسز بلاج حمدانی بہت بہت مبارک ہو آپ پریگننٹ ہیں۔۔۔”
۔
۔
اور اسکی آنکھوں میں آج اپنے ہی خون کے لیے نفرت بھر آئی تھی جسے دیکھ سونم نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔
۔
“مجھے نہیں چاہیے ڈاکٹر۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
۔
