57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“آپ لوگ بیٹھے میں پشمینہ کو بُلاکر لاتی ہوں۔۔دراصل جو بھی ہوا مہتاب کا اس سے بات نا کرنا وہ پریشانی پشمینہ کو بہت پریشان کر رہی ہے۔۔اس لیے کل بھی وہ لیٹ نائٹ تک کلب میں رہی اور اب دو بج رہے اور جاگی نہیں نیند سے۔۔”
سونم کی بات پر گھر کی خواتین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا اور پھر بلاج کی طرف جس کے چہرے پر بھی غصہ عیاں تھا مہتاب اور کلب کا نام سُن کر
۔
“داد جی آپ ہمیں لے تو آئے ہیں یہاں پر بڑی بہو اور یہ ماڈرن قسم کی ماڈل۔۔؟”
ربیل نے مذاق اُڑاتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
“ربیل۔۔”
“افف داد جی مذاق کر رہا ہوں۔۔۔”
۔
۔
“بریرہ۔۔۔تمہیں نہیں لگتا کہ کچھ زیادہ ہی انتظار کروا رہی ہو۔۔؟”
بریرہ نے گلاسیز اتار کر وہ فائل پیچھے کی تھی چہرے سے۔۔
“اتنا انتظار نہیں کروا رہی جتنا پچھلے کچھ دنوں سے میں کر رہی ہوں۔۔آج یہ فائل ہاتھ آئی اور بلاج حمدانی گھٹنوں کے بل آگیا ہاتھ پھیلائے میرے لیے۔۔؟”
اس نے جوس کا گلاس اٹھا کر پینا شروع کیا تھا
“بریرہ حیرانگی مجھے بھی بہت ہوتی ہے۔۔ایک وقت تھا جب ان لوگوں نے دشمنی کے لیے تمہاری فیملی کو برباد کردیا تھا تب وجیح شاہ کی بیٹی دشمن کی بیٹی تھی اور اب۔۔؟
ان کا پورا خاندان ہیپی فیملی کی طرح نیچے بیٹھا ہوا ہے۔”
سونم کی آواز میں بھی غصہ تھا تلخی تھی۔۔
“سونم اسے کہتے ہیں بدلہ۔۔۔اسے کہتے ہیں کرما۔۔۔تم چلو میں آتی ہوں۔۔۔”
۔
اور ٹھیک پانچ منٹ میں وہ اپنے نائٹ ڈریس میں ہی نیچے چلی گئی تھی۔۔۔
“شئ از سووو ہوٹ بلاج بھائی۔۔”
ربیل نے سیڑھیوں سے اترتی ہوئی بریرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
“افف بریرہ۔۔۔”
سونم نے ایک سکارف جلدی سے بریرہ کے گلے میں ڈال دیا تھا اور سر پر بھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔”
بریرہ ہنستے ہوئے داد جی کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔۔
“ربیل حمدانی اگر تمہاری نظریں زرا سی اور نیچے گئیں تو تمہارے جسم میں تمہاری آنکھیں نہیں رہیں گی یاد رکھنا۔۔۔”
اور ربیل جو ڈرنک پیتے ہوئے بےشرمی سے بریرہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھ رہا تھا۔۔۔اسے کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی بریرہ کی اوپنلی دھمکی پر۔۔
“ایکسکئیوزمئ میں ابھی آیا ضروری کال۔۔۔”
“تمہیں واپس آنے کی ضرورت نہیں ہے ربیل آفس کے کام دیکھو جاکر۔۔”
بلاج نے نفرت بھرے لہجے میں اسے ڈس مس کردیا تھا۔۔
۔
“مہتاب نہیں آیا۔۔؟ مجھے لگا تھا آپ کو میرا جواب ڈینیل نے دیا نہیں۔۔میں مہتاب سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔”
“تم یہ فیصلہ کرنے والی کون ہوتی ہو۔۔؟”
بلاج جیسے اٹھا تھا شیشے کا گلاس نیچے گرگیا تھا
“میری زندگی کے فیصلے میں ہی کروں گی مسٹر۔۔۔جیٹھ جی۔۔۔”
“اننف بریرہ۔۔۔سب سچ سامنے ہے۔۔بیوی ہو تم میری۔۔۔”
“کونسا سچ۔۔؟ یہی راگ ڈینیل آلاپ رہا ہے اور سونم بھی تم کون ہو۔۔؟ ہسبنڈ۔۔؟
جسکی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے۔۔چلو میں تو کومہ میں تھی یاداشت نہیں تھی۔۔
تم نے کیا بھنگ پی ہوئی تھے سب وقتوں میں جو چپ تھے۔؟ عین میرے اور مہتاب والے دن بلاج حمدانی کی غیرت جاگ گئی۔۔۔
غیرت زندہ ہے بلاج۔۔؟؟”
بریرہ کی بات پر سب اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوگئے تھے۔۔بلاج نے ان دو قدموں کا فاصلہ تہہ کیا تھا اور بریرہ کے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“میری غیرت کا تمہیں ابھی اندازہ نہیں ہے بریرہ شاہ۔۔۔ہم لوگ عزت دے رہے ہیں۔۔”
“نہیں چاہیے۔۔۔”
“تم۔۔۔”
بلاج بیٹا۔۔۔”
بلاج کی والدہ جیسے ہی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنے لگی تھی بلاج نے پیچھے جھٹک دیا تھا
“آپ کو کس نے کہا درمیان میں بولنے کو۔۔؟ بات کررہا ہوں میں”
“تمہاری بات کی کیا ویلیو ہے میری نظروں میں۔۔؟ آنٹی آپ کیا کہنا چاہتی ہیں۔۔”
بلاج کی والدہ کا ہاتھ پکڑ کر بریرہ نے اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا لیا تھا۔۔۔
“بری۔۔۔”
“بس بلاج۔۔۔تم نے بہت کام خراب کردیا۔۔اگر آج یہ لڑکی جانے سے انکار کرے گی تو سوچ لینا میڈیا اور دنیا میں کتنی جگ ہنسائی ہوگی فیملی کی۔۔۔”
داد جی کی بات پر بلاج ایک دم سے ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔۔۔سونم کی نظریں حیرانگی سے بھری ہوئی تھی۔۔وہ اپنی دوست کو دیکھ رہی تھی جس نے ایسی کی تیسی کر کے رکھ دی تھی مافیا لیڈر کی۔۔۔
۔
“بریرہ۔۔۔میرا مطلب ہے پشمینہ بیٹا۔۔۔تمہیں کچھ یاد نہیں ہے۔۔یہ تمہاری رپورٹس ہیں۔ اور یہ شادی کا سرٹیفیکیٹ۔۔تمہاری بلاج کے ساتھ شادی ہوچکی ہے۔۔اور نکاح پر نکاح نہیں ہوتا تم جانتی تو ہوگی نا۔۔؟
میری بچی۔۔اگر تم مہتاب سے پیار کرتی ہو تو وہ بھی تم سے بہت محبت کرتا ہے۔۔پر اس پارٹی کے بعد بات میڈیا تک جا چکی ہے۔۔
تمہاری ہماری سب کی عزت برباد ہوجائے گی۔۔”
۔
“میں آپکے جذبات کی قدر کرتی ہوں پر اس شخص سے شادی۔۔؟ ایسا فیصلہ میں نے ماضی میں کیسے کیا ہوگا۔۔؟ یہ تو میری زندگی کی سب سے بڑا غلطی ثابت ہوئی ہوگی نا بلاج۔۔؟؟”
وہ پشمینہ کا لہجہ استعمال کر رہی تھی۔۔پر اسکی زبان سے نکلی اس بات نے بلاج حمدانی کی آنکھوں میں ایک تکلیف چھوڑ دی تھی۔۔
یہ بات کہہ کر بریرہ خود بھی چپ ہوگئی تھی۔۔
“غلطی۔۔؟؟ تم نے یہ غلطی اپنی مرضی سے اپنی خوشی سے کی تھی۔۔۔بریرہ شاہ۔۔
مجھے یاد ہیں ہماری شادی کی وہ راتیں اسی غلطی کو دہراتی تھی تم جب ہمارے اپارٹمنٹ میں چھپ چھپا کر آتی تھی اپنی فیملی سے۔۔۔اور میری بانہوں میں ۔۔۔”
“بسس بلاج۔۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔”
بلاج غصے سے اٹھ گیا تھا وہاں سے۔۔
“بلاج حمدانی غلطیاں کرکے پردہ ڈالنا بریرہ کی عادت ہوگی۔۔۔پر میں پشمینہ شیخ ہوں۔۔
تم دیکھو تو سہی تمہاری جیسی غلطی کو کیسے ٹھیک کرتی ہوں میں۔۔۔تمہارے جیسی غلطیاں صرف کاغذوں تک رہنی چاہیے۔۔۔بریرہ نے نکاح کرکے کی یہ غلطی۔۔۔
میں ڈائیورس پر سائن کرکے سدھاروں گی۔۔۔”
۔
وہ یہ کہہ کر واپس اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔بلاج کے دونوں ہاتھ بند ہوگئے تھے۔۔۔
اسکی آنکھوں میں غصہ۔۔۔اور دل میں ایک درد اٹھنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔بھری محفل میں اس پیار کو وہ غلطی کہہ گئی تھی جو اسے کبھی بہت پیار کرتی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔
۔
“YOU ARE THE Best Thing That Ever Happened To Me Pashmena”
۔
یہ کہتے ہی مہتاب نے منہ موڑ لیا تھا۔۔۔
۔
“مہتاب پلیز میری طرف دیکھو پلیز۔۔میں صرف تم سے محبت کرتی ہوں میں تمہارے بھائی کو جانتی بھی نہیں۔۔میں کسی بریرہ کو نہیں جانتی میں پشمینہ ہوں صرف تمہاری پشمینہ مہتاب مجھ سے نظریں نا چُراو میں مرجاؤں گی مہتاب۔۔”
ان دو سالوں میں پہلی بار مہتاب نے پشمینہ کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت اور اسکی آنکھوں میں آنسو نظر آئے تھے
“پشمینہ میں ہمیشہ سے حیران ہوتا تھا ان سیکیور رہتا تھا تمہیں لیکر ،،کیونکہ کہیں نا کہیں جانتا تھا میرے نصیب کہاں اتنے اچھے کہ تم جیسی لڑکی میری بیوی کے روپ میں آئے گی میری زندگی میں،،،دیکھو نا میرے خطرات سچ ثابت ہوگئے۔۔۔ہوا کا ایک جھونکا آیا اور تمہیں لے گیا”
“وٹ ربیش۔۔میں نہیں مانتی میں پشمینہ شیخ ہوں۔۔میں وقت اور حالات کے آگے جھکنے والی نہیں ہوں آئی لوو یو مہتاب۔۔۔میں صرف تمہاری ہوں۔۔تم کیسے مجھے کسی اور کا ہوتے دیکھ سکتے ہو۔۔؟ میرے لیے لڑو مہتاب ہمارے رشتے کے لیے لڑو۔۔”
۔
“نیچے سب انتظار کر رہے ہیں جلدی کیجئیے۔۔”
مہتاب نے بریرہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“ایم سوری۔۔۔”
مہتاب کا چہرہ بھر آیا تھا جب اس نے نظریں چرا کر اپنے داد جی اور اپنے بڑے بھائی بلاج حمدانی کی طرف نفرت کی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔
“نیچے تک تو چھوڑ سکتا ہوں نا داد جی۔۔؟”
اس نے سر جھکا لیا تھا
“مہتاب۔۔۔”
بلاج آگے بڑھنا چاہتا تھا پر داد جی نے اسے روک دیا تھا اور مہتاب جانے کی اجازت دے دی تھی جو بریرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے نیچے مین ہال میں لے گیا تھا آہستہ سے
“وہ صرف میری ہے داد جی۔۔”
بلاج کے ہاتھ میں پکڑا وہ شیشے کا گلاس ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ بریرہ کی مہتاب کے لیے محبت دیکھ کر۔۔۔
۔
۔
“مہتاب ایک بار پھر سوچ لو۔۔”
“تمہیں ایک آخری بار کچھ ڈیڈیکیٹ کرنا چاہتا ہوں بری۔۔۔پشمینہ۔۔۔”
۔
مہمانوں سے بھرے اس ہال میں اسے سٹیج پر چھوڑ کر مہتاب اپنا گیٹار لینے چلا گیا تھا۔۔
۔
“تم نے کیا کہا تھا مجھے مہتاب تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا مس پشمینہ۔۔وہ میرا بھائی ہے دیکھو میرے لیے تمہاری محبت کو ٹھوکر مار دی اس نے،،،”
بلاج اسکے اتنا قریب تھا وہ سمجھ رہا تھا بریرہ کو اس نے شکست دے دی۔۔پر وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا بریرہ شاہ کی اس چال کو۔۔
وہ تو خوش ہو رہا تھا جب مہتاب کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی
“وہ مہتاب ہے میری محبت۔۔۔اگر اس نے ٹھوکر مار دی ہوتی تو آج اسکی آنکھوں میں خون نا اترا ہوتا نا اسکی آواز میں اتنا درد۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر تھوڑا دور ہوئی تھی۔۔
۔
“اب نہ دل کو کسی کی عادت ہو،،،
اب نہ پھر سے کبھی محبت ہو،،،”
بلاج کی مسکراہٹ تو چلی گئی تھی۔۔پر بریرہ شاہ کے چہرے پر بھی وہ جیت نہیں رہی تھی مہتاب کی آواز سن کر
“اتنی بھی خواہش نہ رہی کسی سے چاہت ہو،،،
تیری مجھ کو نہ اب ضرورت ہو۔۔۔
اب نہ پھر سے کبھی محبت ہو۔۔۔”
۔
“واااووووووو مہتاب جیووو شہزادے۔۔۔”
۔
ہال میں ایک کزن نے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔پر ان تین لوگو کی نظریں ایک دوسرے پر تھی۔۔
مہتاب کے جھکے سر نے حمدانی خاندان کو مجبور کردیا تھا اسکا درد سمجھنے میں۔۔۔
۔
“دردوں کے سائے میں ملتی اب راحت ہے۔۔۔تیری تمنا نہیں
تجھ سے جدا ہوکے سیکھا اب جینا ہے۔۔۔اک تو ضروری نہیں”
۔
“اتنی بھی خواہش نہ رہی کسی کی حسرت ہو،،،
دل پہ تیری نا حکومت ہو،،،،
اب نہ پھر سے کبھی محبت ہو۔۔۔”
۔
“تم مجھے کبھی اس سے جدا نہیں کر سکو گے بلاج۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر واپس کمرے میں جانے کے لیے مڑی تھی پر بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“تھینکس ٹو ایوری ون۔۔۔اینجوائے کیجئیے بلاج حمدانی کو انکی کھوئی ہوئی بیوی فائننلی مل گئیں ہیں۔۔”
مہتاب وہا ں سے چلا گیا تھا
“کیا میں مہتاب کے ساتھ وہ سب کرنے میں کامیاب ہوگئی ہوں جو بلاج نے میرے ساتھ کیا تھا۔۔؟ کیا میں نے مہتاب کے ساتھ بھی وہی بےوفائی نہیں کر دی جس کا شکار میں ہوئی تھی۔۔۔”
وہ اپنی سوچ میں گم ہوگئی تھی جب بلاج نے اسے پکارا تھا۔۔اور اس نے غصے سے بلاج کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
۔
“بریرہ۔۔۔”
بریرہ نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی
“پشمینہ۔۔۔شیخ۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔بریرہ ہو تم سنا تم نے۔۔۔”
“ہاتھ چھوڑیں میرا مسٹر حمدانی۔۔۔”
“تماشہ نا لگاؤ بریرہ سب ہماری طرف دیکھ رہے تھ۔۔۔”
بریرہ نے اپنا ہاتھ چھڑا کر ایک زور درا تھپڑ مارا تھا بلاج حمدانی کو۔۔
“جب میں نے کہا ہاتھ چھوڑو تو ہاتھ پکڑنے کی جرات مت کیجئیے مسٹر بلاج حمدانی۔۔۔
نہیں ہوں میں بریرہ۔۔۔پشمینہ شیخ ہوں۔۔۔”
۔
۔
وہ پورے ہال کو شاکڈ چھوڑ گئی تھی پہلی بار خاندان میں بزنس میں کسی نے بلاج حمدانی کو اس طرح سے انسلٹ ہوتے دیکھا تھا۔۔۔
۔
۔
“بلاج۔۔۔”
۔
داد جی کی آواز کو ان سنا کر کے وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ ہے بلاج بھیا کا بیڈروم۔۔۔اور آپ۔۔۔”
“یہ میرے بیڈروم میں نہیں رہے گی۔۔مدیحہ میری بیوی اسکی جگہ ہے میرے دل میں میرے بیڈروم میں۔۔۔اینڈ یو مس پشمینہ شیخ آج جو تھپڑ تم نے مجھے مارا ہے وہ میں بھولنے والا نہیں ہوں تمہیں تمہاری اوقات میں دیکھاؤں گا۔۔۔”
بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑ کے گیسٹ روم کے باہرایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیل دیا تھا۔۔۔
گھر والے اسکے غصے پر شاکڈ تھے پر پشمینہ کی خاموشی پر بھی حیران تھے
“ہممم اچھی بات ہے۔۔میں تمہارے ساتھ ویسے بھی کوئی کمرہ شئیر نہیں کرنے والی تھی مسٹر بلاج۔۔”
بلاج کے منہ پر دروازہ بند کر گئی تھی۔۔۔پر وہ وہی جانتی تھی کہ اسکے دل میں کس قدر تکلیف ہوئی تھی۔۔جس طرح بلاج نے مدیحہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیدروم کی طرف لے جانے کا کہا تھا۔۔
“بلاج کچھ اور وقت بس۔۔۔وقت اوقات بتا دے گا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج۔۔۔کہاں جا رہے سو جاؤ نا۔۔”
“میں بس ابھی آیا۔۔۔”
مدیحہ نے دوسری طرف کروٹ بدل کے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
وہ سویا کب تھا۔۔؟ مدیحہ کو منا کر اپنی محبت کا یقین دلا کر اسکے ساتھ چند پیار بھرے لمحوں کے بعد بھی اسے نیند نہیں آئی تھی۔۔
اسے وہ عینک پہنی معصوم لڑکی کی آنکھیں نہیں بھول رہی تھیں۔۔وہ جو اسے بار بار یاد دلاتی تھی بلاج بےوفائی مت کر۔۔۔مجھے چھوڑ دینا پر مجھے توڑنا نہیں۔۔۔”
۔
بلاج اپنے کپڑے پہن کے کھڑکی کی طرف چلا گیا تھا
۔
“کی ملیا میں رواں کے۔۔۔کی ملیا مینوں گنوا کے۔۔۔
پچھتاؤنی اے تینوں چاہ کے،،،تیرے نال محبتاں پا کے،،،”
۔
“بلاج جُدائی برداشت ہوجاتی ہے پر بےوفائی نہیں۔۔۔”
بلاج نے پیچھے مڑ کر اپنے بیڈروم کی حالت دیکھی تھی اور پھر مدیحہ کی طرف دیکھا تھا جو اسکی محبت تھی۔۔۔تو پھر بریرہ کیا تھی۔۔؟ اسے خود سمجھ نہیں ابھی تک۔۔۔
۔
“تو مینوں ورت کے سٹیا ،،،او دل بیکار کتھے آ۔۔۔؟؟
جتھے جا کے تو ویکیا،،،اور بازار کتھے آ،،،،
میرے جذباتاں دا ہویا دس وے۔۔۔بیپار کتھے آ۔۔۔”
۔
“بریرہ۔۔۔”
اسکی آنکھیں جھکی تھی تو چھلکی تھیں چند قطرے جو نیچے گرے تھے اسکے ہاتھ پر
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“دنیا دیکھے دیکھے روپ میرا،،،،
کوئی نا جانے بیچاری میں۔۔۔
ہائے ٹوٹی ،،،ساری کی ساری میں۔۔۔”
اس نے سر اٹھا کر جب چاند کی طرف دیکھا تھا اسکی بھری آنکھیں چھلک گئیں تھی۔۔
وہ ابھی اس گیسٹ روم سے جیسے ہی نکلی تھی اسکی نظریں اس بئوفا کے بیڈروم کی طرف گئی تھی جو شاید اس نے جان کر دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ اور گہرے زخم دے سکے اسے۔۔۔
۔
“میں بریرہ شاہ۔۔سوچتی تھی تم ایک نعمت جیسے ہو بلاج جو مجھے ملی۔۔۔سوچتی تھی گھر والوں سے بغاوت کرکے مجھے خوشیاں ملیں گی تمہارے روپ میں۔۔پر کیا ملا۔۔؟ تمہاری بےوفائی۔۔۔”
اسکے رخصار پر جیسے ہی اسے محسوس ہوا کسی کی انگلیاں اسکے آنسو صاف کررہی تھیں بریرہ نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا مہتاب کی آنکھوں میں بھی وہی درد تھا۔۔۔
“مہتاب۔۔۔”
“شش۔۔۔کچھ مت کہنا آج خاموشی کو حاوی ہونے دو پشمینہ۔۔
الفاظ نکلیں گے تو ہم دونوں کو توڑ دیں گے۔۔۔”
مہتاب کی باتوں نے اسے اور رنج میں مبتلا کردیا تھا۔۔
“تمہیں نہیں پتا مہتاب یہ آنسو تمہارے لیے نہیں ہیں۔۔”
وہ خود سے کہہ رہی تھی جب مہتاب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کرسی پر بٹھا دیا تھا
“ہم دونوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا مہتاب۔۔؟؟ مجھے آزاد کروا لو تمہارا بھائی خود تو اپنی محبت اپنی بیوی کے ساتھ اپنے بیڈروم میں ہے اور میں۔۔؟”
اس نے مہتاب کی آنکھوں میں ایک دم سے غصہ دیکھا تھا۔۔۔بس اور کچھ وقت لگنا تھا۔۔۔اسکی ساری چال کامیاب ہوجانے والی تھی۔۔۔
اسکا مقصد یہی تھا اس گھر میں آنے کا۔۔۔
“پشمینہ سب کچھ داؤ پر لگ گیا ہے۔۔۔بلاج بھائی کی عزت تمہاری عزت اس فیملی کی عزت۔۔
سب کچھ۔۔۔”
“اور تم مہتاب۔۔؟ بہت آسان ہے مجھے چھوڑنا تمہارے لیے۔۔”
مہتاب نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا بریرہ کا ہاتھ جیسے ہی اس نے اپنی قریب کیا تھا اسکے آنسوؤں نے بریرہ کے ہاتھ بھگو دئیے تھے
“تمہیں لیکر کچھ بھی آسان نہیں رہا میرے لیے۔۔پہلے تمہیں ڈیٹ پر لےجانا۔۔
پھر تمہارے دل میں اپنے لیے جگہ بنانا۔۔۔پھر تمہیں منگنی کے لیے راضی کرنا
اور پھر شادی۔۔۔پشمینہ تمہیں لیکر کچھ آسان نہیں تھا”
سر جھکا لیا تھا۔۔۔اسکے کندھے جس طرح سے کانپ رہے تھے بریرہ کو پتا چل گیا تھا۔۔
وہ آج کامیاب ہوگئی دشمن کے بیٹے کو توڑنے میں
“مہتاب۔۔۔”
“تم یہیں رہنا میں کچھ لاتا ہوں۔۔مجھے پتا ہے جب تم پریشان ہوتی ہو تمہارا دل وہی کھانے کا کرتا ہے۔۔میں بس آیا۔۔۔”
وہ اپنے آنسو صاف کرکے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“مہتاب۔۔۔”
اور اس بار اسکی آنکھوں میں آنسو مہتاب کی حالت کو دیکھ کر آئے تھے
۔
کب تک وہ چاند کی طرف دیکھتی رہی اور اسکی آنکھیں بند ہوگئیں تھیں وہ گہری نیند میں چلی گئی تھی۔۔
اس وقت وہاں ہلکے قدموں سے بلاج آیا تھا۔۔۔
“اچھا ہوا تمہیں کچھ یاد نہیں بریرہ۔۔ورنہ میری چشمش تم تو میری بےوفائی دیکھ کر مر ہی جاتی۔۔۔”
پر بریرہ کو اس حالت میں کھلے آسمان کے نیچے اس طرح دیکھ کر اسکے دل میں بھی ایک ٹھیس اٹھی تھی۔۔
وہ جانتا تھا اس نے غلط کیا آج۔۔پر وہ غلط کیوں سمجھ رہا تھا وہ خود نہیں جانتا تھا۔۔
اس تھپڑ نے ایک نفرت پیدا کردی تھی ایک ایسی آگ جس میں وہ جلانا چاہتا تھا پشمینہ شیخ کو۔۔۔
۔
بریرہ کو آہستہ سے اٹھا کر وہ وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔اور جب اس گیسٹ روم میں وہ داخل ہوا تو وہ گیسٹ روم کسی سٹور روم سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
بلاج نے بیڈ پر جیسے ہی اسے لٹایا تھا بریرہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔بلاج حمدانی کی دھڑکنے تیز ہوگئیں تھیں ایک دم سے۔۔۔
۔
“مت جاؤ پلیز۔۔۔مہتاب۔۔۔”
وہ جو نرمی بلاج کی نظروں میں تھی مہتاب کے نام سے چلی گئی تھیں۔۔۔وہ اپنا ہاتھ طیش میں چھڑا کر وہاں سے باہر آگیا تھا اور مہتاب کے ساتھ ٹکڑ ہوئی تھی اسکی۔۔
۔
“اووو۔۔۔بھیا۔۔۔”
“تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟؟ اور یہ ۔۔؟”
بلاج گیسٹ روم کے آگے کھڑا ہوا تھا
“وہ۔۔۔یہ۔۔۔پشمینہ کے لیے۔۔اوپر ٹیریس میں ہی تھی ابھی اب نہیں ہے۔۔”
“وہ تمہارے ساتھ تھی۔۔؟؟”
اس نے سختی سے پوچھا تھا۔۔۔
“جی بھیا وہ۔۔۔”
“اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔”
“پر۔۔۔”
“مہتاب جاؤ کمرے میں۔۔۔”
“اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔میں پشمینہ کو یہ دہ دوں۔۔جب وہ اپسیٹ ہو تو وہ آئس کریم کی ڈیمانڈ ضرور کرتی ہے۔۔”
وہ کہہ کر اندر جانے لگا تھا کہ بلاج نے مہتاب کو کندھے سے پکڑ کر واپس کھینچ لیا تھا۔۔۔
“وہ میری بیوی ہے۔۔۔”
“ہممم۔۔۔اسی لیے آپ نے اسے اس روم میں دھکیلا تھا۔۔؟ بلاج بھائی مدیحہ بھابھی جتنی عزت پشمینہ کو بھی اس رشتے میں دیجئیے۔۔۔اگر آپ کی طرف سے ایک غلطی ہوئی پشمینہ کو کوئی تکلیف ملی تو میری طرف سے۔۔۔ خاندان جائے بھاڑ میں۔۔۔میں پشمینہ کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤں گا یہاں سے۔۔۔”
۔
مہتاب نے پہلی بار بلاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
بریرہ کی بند آنکھیں ایک مسکراہٹ کے ساتھ کھل گئی تھی۔۔۔
۔
بلاج حمدانی بس کچھ اور وقت۔۔۔تمہیں سمجھ آجائے گی فیملی ٹوٹنا درد سہنا کیسا ہوتا ہے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ بیٹا۔۔۔”
داد جی کی آواز پر وہ رک گئی تھی جو ٹریک سوٹ پر باہر جا رہی تھی
“داد جی پلیز پشمینہ کہیں مجھے۔۔۔”
“ہمم پشمینہ بیٹا آؤ ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کریں تم گھر کی بڑی بہو۔۔۔”
“وہ تو یہ بیٹھی ہوئی ہے نا گھر کے بڑے بیٹے کے ساتھ مدیحہ بلاج حمدانی۔۔۔ پرفیکٹ فیملی نہیں بلاج۔۔۔۔۔”
اس نے بلاج کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا
۔
“تمہارا مسئلہ کیا ہے لڑکی۔۔۔؟؟ تمہیں تو شکر کرنا چاہیے جو عزت تمہیں بریرہ کے نام سے نہیں ملی وہ اب مل رہی۔۔۔تب تم رک۔۔۔”
“ایک لفظ نہیں ورنہ رکھیل لفظ تم استعمال کر رہی ہو۔۔؟ جو بنا شادی کے پریگننٹ ہوئی۔۔؟
تم سے اچھی تو بریرہ تھی شادی کے بعد اس شخص کے ساتھ تعلقات قائم کئیے اس نے۔۔۔”
بلاج نے کچھ نہیں کہا تھا وہ خاموش تھا بریرہ کی باتوں نے ایک تمانچہ مار دیا تھا ان کے چہروں پر۔۔۔
۔
بنا کچھ کہے وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“داد جی کسی عزت دار لڑکی کو گھر لے آئیں ہیں تو گھر کے افراد کو تمیز اور تہذیب بھی سیکھا دیں۔۔
مدیحہ بھابھی۔۔رکھیل لفظ استعمال کرنے سے پہلے وہ نکاح کی تاریخ بھی پڑھ لیں جس میں بلاج بھائی نے شادی کی تھی بریرہ شاہ سے۔۔
اپنی بیوی کو نکاح کے بعد سب کے سامنے رکھیل کہنا بلاج بھائی دشمنی تھی انکا بدلہ تھا جو انہوں نے پورا کردیا چاہے اس سب میں انکا بچہ مرگیا۔۔چاہے دو لوگ مرگئے۔۔۔
آپ اسے رکھیل کہنے کے بجائے اپنے شوہر سے پوچھیں انکی بےوفائی کی وجوہات۔۔۔”
“اننف۔۔۔”
بلاج نے ٹیبل پر ہاتھ مار کر مہتاب کو چپ کروانے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“تم مہتاب حمدانی دور رہو میری زاتی زندگی سے۔۔۔”
وہ اپنے چھوٹے بھائی کو انگلی دکھا کر وارننگ دے رہا تھا۔۔۔
جو آج تک کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔
مہتاب تو بلاج کی جان رہا تھا ہمیشہ سے۔۔۔داد جی نے اپنے بیٹے زمرد کودیکھا تھا جن کی نظر انکی بیوی پر تھیں۔۔۔
۔
۔
“بی کئیر فل بریرہ رمشا بھابھی کے ساتھ انکا تین سال کا بیٹا بھی ہے جسے ان لوگوں نے کڈنیپ کیا ہے۔۔”
“تم نے بہت دیر سے بتایا مجھے ڈینیل،، وہ صرف رپورٹر نہیں تھا ایک فیملی تھا ہماری اسکی اچانک موت نے ہمیں سنبھلنے کا موقع نہ نہیں دیا تھا اور اب اسکی فیملی کو کڈنیپ کرلیا گیا۔۔”
۔
“بریرہ ایک کنفرم کال آنے دو مجھے لگ رہا ہے اس میں بلاج شامل نہیں ہے۔۔اگر ایسا ہوا تو وہ جگہ کسی خطرے سے کم نہیں باقی گارڈز کو آنے دو۔۔”
بریرہ نے ڈینیل کے ہاتھ کو جھٹک دیا تھا اور اپنا ہیلمٹ پہن کر کک ماری تھی اپنی ہیوی بائیک کو
“تم کرو انتظار ڈینیل۔۔۔وہ جگہ مجھ سے زیادہ خطرناک نہیں ہوسکتی۔۔اب مجھے بریرہ سمجھ کر کمزور جاننا چھوڑ دو میں اب پشمینہ ہوں۔۔۔”
۔
اور اس نے فُل سپیڈمیں بائیک چلا دی تھی۔۔ بلیک ہیلمٹ میں لیدر کی بلیک جیکٹ اور بلیک جینز کے نیچے بلیک لونگ بوٹ۔۔۔جس غصے میں وہ وہاں سے گئی تھی ڈینیل سمجھ گیا تھا آج ان لوگوں کی خیر نہیں ہے۔۔
۔
“جب تک مجھ میں آگ ہے باقی۔۔سورج تو بجھنا نہ جلتے رہنا۔۔
جب تک مجھ میں جان ہے باقی۔۔ دھڑکن تو رُکنا نہ،،،چلتی رہنا۔۔”
۔
“بلاج حمدانی اگر ان سب میں تم بھی شامل ہوئے تو وقت سے پہلے تمہیں سزا دے کر اختتام کردوں گی اس بےوفائی اور میرے بدلے کا۔۔۔۔”
۔
کچھ دیر میں وہ اس ایڈریس پر پہنچ گئی تھی۔۔ تین گاڑیاں وہاں پارک تھی اور کچھ گارڈ وہاں پہرا دے رہے تھے۔۔
وہ اپنی گن نکال کر نشانہ لگانے کے لیے ایک جگہ پر چھپنے کے لیے مڑی تھی پر اندر کھنڈر نما گھر سے اسے ایک عورت کی چیخنے کی آواز آئی تھی اور پھر رونے کی۔۔
۔
بریرہ نے اپنی دونوں گنز نکال لی تھی اور اسی طرف بڑھی تھی۔۔جو اسکے راستے میں آرہا تھا اسے وہ زخمی کرتی جارہی تھی
۔
“گارڈ ہیں یا کتوں کی ٹیم بنائی ہوئی ہے باسٹرڈ نے۔۔”
۔
بریرہ جلدی سے اندر گئی تھی جب چیخوں کی آواز تھمنے لگی تھی۔۔
۔
“رمشا۔۔۔؟؟اووو شٹ۔۔۔”
اس کمرے میں بندھی رمشا اور نیچے بےہوش اسکے بیٹے کو دیکھ کر بریرہ جلدی سے بیٹھ گئی تھی
وہ ابھی اس بچے کو ہوش میں لا رہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے بریرہ کے سر پر گن رکھ دی تھی۔۔۔
“ہینڈزاپ بچ۔۔۔”
بریرہ نے آنکھیں بند کر کے پیچھے دیکھا تھا۔۔
“ماسک اتارو۔۔۔رمیز سر کو بُلاؤ۔۔۔”
وہ گارڈ چلایا تھا۔۔
“باس اوپر اینجوائے کر رہے کیوں نا ہم یہاں کچھ۔۔۔”
دو اور گارڈز آگئے تھے
“ویل اسکے لیے تمہیں زندہ رہنا ضروری ہوگا نہ۔۔؟”
اس گارڈ نے دوسرے کو حیرانگی سے دیکھا اور پھر ہنسنا شروع کردیا تھا۔۔
اتنے میں دونوں ک ہنسی بند ہوگئی تھی جب اپنی بیک سے ایک چھپی گن نکالی تھی بریرہ نے۔۔
“باسٹرڈ۔۔۔”بریرہ نے انہیں زخمی چھوڑ دیا تھا وہاں اور رمشا کی پٹی کھولی تھی اسکے منہ سے جیسے ہی پٹی نکالی تھی رمشا نے کھانسی کرتے ہوئے گہرے سانس بھرے تھے۔۔
“پلیز۔۔۔اسے بچا لو۔۔۔پلیز وہ شیطان اسے برباد کردے گا۔۔وہ اوپر ہے پلیز۔۔۔”
“ریلیکس تم دونوں کو باہر۔۔”
“نہیں۔۔۔اسے بچا لو پلیز۔۔۔ہمیں بچاتے ہوئے وہ مشکل میں پھنس گئی ۔۔”
اور بریرہ اپنی گن اٹھائے اوپر بھاگی تھی۔۔
۔
“تمہارے بھائی کو فون کرنا پسند کرو گی مس ردا۔۔؟؟ تمہارا وہ حال کروں گا کہ تمہارا بھائی یاد رکھے گا۔۔”
۔
اور پچھے سے دروازہ جھٹ سے کھلا تھا۔۔۔
اندر کمرے کی حالت اور وہ ڈری سہمی لڑکی کو اس شیطان نما آدمی کی گرفت میں دیکھ کر بریرہ نے اسکے بازو پر شوٹ کیا تھا۔۔۔”
“وٹ۔۔۔”
۔
بریرہ نے اسے بالوں سے پکڑا تھا اور گن کی بیک پھر سے اسکے سر پر ماری تھی۔۔۔ اور اسے اور مارنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
جب بریرہ نے اسکے سر پر گن رکھی تھی اسے پیچھے سے کسی نے فائر کردیا تھا۔۔۔
۔
“یہاں سے نکلیں۔۔وہ لوگو یہیں آرہے ہیں۔۔۔”
رمشا نے سٹک اس گارڈ کے سر پر دے ماری تھی جس نے بریرہ پر ابھی فائر کیا تھا۔۔۔
“ردا۔۔۔ردا۔۔۔”
بریرہ نے اپنا زخمی بازو دیکھا تو خون نکلنا شروع ہوگیا تھا بنا اپنے زخم کی پروا کئیے اس نے اپنی جیکٹ اس لڑکی پر ڈال دی تھی جو رمشا کے گلے لگ کر رو رہی تھی
“یہاں سے چلنا ہوگا رمشا۔۔۔”
“ردا۔۔۔”
“مجھے مار دو۔۔۔مجھے واپس اس جہنم میں نہیں جانا رمشا۔۔وہ لوگوں نے اس جانور کو میری زندگی پر مسلط کیا۔۔شوٹ مئ۔۔۔”
“ردا۔۔۔پلیز۔۔۔یہاں سے چلو۔۔۔”
“نو۔۔۔مجھے مار دو۔۔نہیں زندہ رہنا مجھے۔۔”
ردا کہتے کہتے بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔
۔
بریرہ نے رمشا کی مدد سے ردا کو باہر تک لے گئی تھی اور ان تین گاڑیوں میں سے ایک گاڑی میں ڈال دیا تھا ردا کو اور بیک سیٹ پر رمشا اور اسکا بیٹا بھی بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“ڈینیل۔۔۔اگر تمہارے گارڈز پہنچ گئے ہیں لوکیشن پر تو پہلے میری بائیک کور کریں۔۔اور پھر رمیز کو۔۔وہ آدمی زندہ چاہیے اسے آسان موت نہیں ملنے چاہیے۔۔”
بریرہ نے ردا کی حالت دیکھ کر کہا تھا اور گاڑی گہما دی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“داد جی وہ ابھی بچی ہے آپ کو کسی انجان پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔۔۔”
“بابا سائیں آپ کب سے داد جی کے فیصلوں کی مخالفت کرنے لگے۔۔؟”
بلاج نے داد جی کے سامنے کرسی میں بیٹھ کر زمرد صاحب سے کہا تھا۔۔
“بلاج نے ٹھیک کہا زمرد ویسے بھی یہی عمر ہوتی ہے شادی کی وہ ہمارے دوست ہیں ساتھی ہیں
رمیز ایک اچھا لڑکا ہے۔۔بلاج کا اچھا دوست ہے۔۔کیوں بلاج تم اپنی چھوٹی بہن کو لیکر رمیز پر یقین کر ہی سکتے ہو نا۔۔؟؟”
“ہاں داد جی وہ اچھا لڑکا ہے۔۔ہماری فیملی بزنس کو فرانس میں وہی سنبھال رہا پوری ایمانداری کے ساتھ اور بابا سائیں آپ کے بھی تو دوست رہ چکےہیں نا صفدر صاحب رمیز کے والد۔۔۔”
“اسی لیے مجھے یقین نہیں۔۔۔میں نے اپنی بیٹی کو سب کے سامنے چاہے اتنا پیار نہیں دیا جتنا میرے دونوں بیٹو ں کو۔۔پر اس کا یہ مطلب نہیں میں اسکی فکر نہیں کرتا بابا سائیں۔۔اجازت چاہتا ہوں۔۔”
زمرد صاحب آفس سے چلے گئے تھے۔۔۔
“بابا سائیں آپ زمرد کی فکر نا کریں وہ لوگ اچھے ہیں دونوں بچے ساتھ پڑھے ہیں ایک کالج میں آپ بات چلائیں رشتے کی۔۔”
حمدانی صاحب کے دوسرے بیٹے نے آگے بڑھ کر اپنی رضا مندی ظاہر کی تھی
“ہمم اسی ہفتے بلاتا ہوں۔۔”
“چھوٹی کو ہوسٹل سے اب گھر بلالینا چاہیے۔۔بہت پڑھائی کرلی اس نے۔۔۔”
بلاج یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا پر جانے سے پہلے داد جی کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر اپنے ماتھے سے لگا کر اٹھا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
“بلاج میں مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے میری چھوی ہے بلاج حمدانی۔۔۔”
داد جی نے جس غرور اور فخر سے بلاج کی تعریف کی تھی باقی کزنز نے نفرت سے داد جی کی طرف دیکھا تھا پر کسی میں کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اب وہ کیسی ہے۔۔؟ تمہاری دوست کیا نام تھا اسکا ۔۔ردا۔۔؟؟”
بریرہ نے ماسک اتار دیا تھا جب وہ ہسپتال کے ویٹنگ روم میں داخل ہوئی تھی
“وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔ڈاکٹرز نے کہا تھا پولیس رپورٹ کا۔۔اسے دو بار ہوش آیا اس نے دونوں بار خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے”
رمشا روتے ہوئے نیچے بیٹھ گئی تھی اور بریرہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے۔۔اسکی آنکھیں بھی نم تھی پر وہ اپنی کمزوری نہیں دیکھانا چاہتی تھی کسی کو بھی۔۔
اندر بستر پر لیٹی ہوئی لڑکی نے بریرہ شاہ کو بہت کمزور بنا دیا تھا کچھ گھنٹوں میں۔۔
“اس جانور کو زندہ مت چھوڑئیے گا بریرہ باجی۔۔”
“وہ۔۔۔ہم۔۔وہ بھاگ گیا۔۔اسکے لوگ اسے وہاں سے لے گئے ہیں۔۔”
بریرہ کا سر جھک گیا تھا شرم سے،،،
“ردا کو کیا انصاف نہیں ملے گا۔۔؟”
“تمہاری دوست کو انصاف ضرور ملے گا تم تھوڑا وقت دو مجھے۔۔۔رمشا میں رات میں پھر چکر لگاؤں گی۔۔۔”
۔
بریرہ کا موبائل جیسے ہی بجنا شروع ہوا تھا وہ آخری بار اس بےہوش لڑکی کو دیکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
اس ہسپتال سے گھر تک اسکا دھیان صرف اس لڑکی پر تھا۔۔۔ایک ہفتہ ہوگیا تھا وہ ایسے ہی روز اس لڑکی کو دیکھنے آتی تھی۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔”
۔
“میں بہت خوش ہوں صفدر۔۔ زمرد کو بھی اس رشتے سے کوئی انکار نہیں۔۔۔”
داد جی نے ہنستے ہوئے کہا تھا سب لوگ موجود تھے۔۔۔
“رمیز بیٹا تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”
“نہیں داد جی وہ میری پسند ہے۔۔میں اس سے شادی کا خواہشمند کب سے تھا۔۔
ڈیڈ نے بات کی آپ سے۔۔۔مجھ میں تو ہمت نہیں تھی کہ کہیں بلاج اور میری دوستی میں کوئی خلش نا آجائے۔۔۔”
“نونسس۔۔۔ویلکم ٹو مائی فیملی رمیز۔۔۔”
بلاج نے اٹھ کر رمیز کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔
“بیگم جائیں لیکر آئیں ۔۔۔بھابھی آپ چائے پانی لیکر آئیں میٹھا لیکر آئیں۔۔۔”
سب ہی بہت خوش تھے۔۔۔بلاج کی نظریں بار بار دروازے پر جا رہیں تھی وہ بریرہ کا انتظار کررہا تھا جو صبح سے سونم سے ملنے گئی ہوئی تھی۔۔۔
“بلاج تمہاری دوسری بیوی نظر نہیں آرہی۔۔؟ کیا نام تھا اسکا ہاں بریرہ شاہ۔۔”
رمیز نے طنزیہ بات کی تھی۔۔۔
“وہ دراصل اپنی فیملی سے ملنے گئی ہے۔۔۔”
“پر وجیح شاہ کی فیملی تو ختم کر دی تھی بلاج نے۔۔۔؟؟”
صفدر صاحب نے جس طرح کہا تھا بلاج کی نظریں اٹھی تھی۔۔وہ آج حیران ہوا تھا۔۔
اس نے یہ جملہ بہت بار سنا تھا جو اسے ہر دفعہ سکون دیتا تھا پر آج نہیں۔۔۔
۔
“ردا آگئی ہے۔۔۔”
بلاج کی چچی اور والدہ اسکی چھوٹی بہن کو لا رہیں تھیں۔۔۔آج وہ کتنے پورے دو سال بعد اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا۔۔
پر وہ حیران تھا اپنی بہن کے کانپتے ہوئے وجود کو دیکھ کر۔۔۔
۔
“ردا بیٹا تمہاری بات ہم نے رمیز کے ساتھ پکی کردی ہے تمہیں منظور ہے نا۔۔؟”
“نہ۔۔۔نہیں داد جی ایم سوری۔۔۔”
رمیز کے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے وہ اپنی آنکھوں سے وارننگ دے رہا تھا اور وہ اور کانپ رہی تھی۔۔۔وہ جیسے ہی اٹھی تھی ملازمہ کے ساتھ ٹکڑ سے وہ گرم چائے اس کے ہاتھ اور پاؤں میں گر گئی تھی پر اسے فکر نہیں تھی وہ باہر کی طرف بھاگی تھی
“ردا۔۔؟؟”
سب اسکی اس حرکت پر حیران تھی۔۔
“ردا۔۔۔”
رمیز نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
“واوو۔۔۔لڑکی آرام سے۔۔۔”
بریرہ کا موبائل نیچے گر گیا تھا ردا کے ٹکرا جانے سے۔۔۔
“آپ آگئی۔۔۔”
ردا بریرہ کے گلے سے لگ گئی تھی۔۔۔بریرہ نے جیسے ہی اسکے چہرے کو دیکھا اسے اب سمجھ آئی تھی اور جب اسکی نظر اس شیطان پر پڑی تھی۔۔۔
بریرہ نے ردا کو اپنے پیچھے کردیا تھا۔۔۔اور رمیز کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
“تم زندہ کیسے بچ گئے باسٹرڈ ۔۔۔”
وہ چلائی تھی اور اس نے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔
“بریرہ۔۔۔”
پر اس نے بلاج کا ہاتھ جھٹک دیا تھا اور اور پھر سے رمیز کو مارنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“اننف بریرہ۔۔۔میرا ہاتھ اٹھ جائے گا چھوڑو اسے۔۔۔پاگل ہوگئی ہو۔۔؟؟”
“ہاں ہوگئی ہوں پاگل۔۔۔”
پھر سے بلاج کا بازوو جھٹک کر اس نے رمیز کو تھپڑ مارا تھا جو گھبرا گیا تھا پوری طرح سے وہ چاہ کر بھی اپنا دفاع نہیں کر پا رہا تھا
“بلاج کیا ہوگیا ہے تمہاری بیوی کو میری غلطی۔۔۔”
“تجھے شرم نہیں آئی گھٹیا انسان اس گھر میں قدم رکھنے کی ہمت۔۔۔”
بریرہ کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب بلاج نے اس پر ہاتھ اٹھا دیا تھا۔۔۔
“گھر کی عورت ہو تم۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی بریرہ اس طرح سے ذلیل کرنے کی رمیز کو۔۔ہونے والا داماد ہے۔۔۔”
وہ تو غصے میں چلا اٹھا تھا۔۔۔اسکی آواز سے ہر ایک فرد کانپ گیا تھا۔۔۔آج بلاج حمدانی کا غصہ آسمان چھو رہا تھا۔۔۔
جب بریرہ نے اپنی گال پر ہاتھ رکھ کر سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو اسکا دماغ گھوم گیا تھا اس زور دار تھپڑ سے ۔۔۔ہر چیز نظروں کے سامنے گھوم رہی تھی۔۔۔
۔
یہ دوسرا تھپڑ تھا۔۔۔اس شخص سے جسے اس نے ٹوٹ کرپیار کیا تھا۔۔۔
ہونٹ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔بال پیچھے کرنے کی طاقت نہیں تھے اسکی جسم میں جب اسے یہ سمجھ آئی تھی اس پر ہاتھ کس نے اٹھایا تھا۔۔۔
وہ شیرنی کی طرح بلاج کی طرف لپکی تھی اور بلاج کا گریبان پکڑ لیا تھا اس نے۔۔۔
“بریرہ۔۔۔ایم سو۔۔۔”
“یہ آخری بار تھا جب نے نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا بلاج حمدانی۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں آگ تھی۔۔۔پر اس آگ کے پیچھے بلاج کو وہ چشمش نظر آرہی تھی۔۔
جس کی حفاظت کی کبھی اس نے قسمیں کھائیں تھی۔۔۔اسکی آنکھوں میں درد اتر آیا تھا
بریرہ کے ہونٹوں سے خون نکلتا دیکھ کر
آج بلاج حمدانی ایک لمحے میں وہ بلاج بن گیا تھا۔۔۔جو وہ کبھی بریرہ شاہ کے ساتھ تھا۔۔۔
“بریرہ۔۔۔”
“شوٹ مئ شوٹ مئ رائٹ ناؤ۔۔۔پر میں اس شیطان کے ساتھ نہیں جاؤں گی جس نے میری عزت کی دھجیاں اڑا دی۔۔۔آپ ڈیزرو نہیں کرتے نا مجھے نا ہی انہیں۔۔۔”
ردا نے روتے ہوئے بریرہ کو بلاج کی گرفت سے چھڑا لیا تھا۔۔۔اور وہ روتے ہوئے اسکے گلے لگ گئی تھی۔۔
“مجھے اس شیطان کی ساتھ نہیں جانا۔۔۔”
“تم نہیں جاؤ گی۔۔۔”
بریرہ نے اپنی بیک سے گن نکالی تھی۔۔۔
“داد جی میرا بیٹا۔۔۔”
داد جی کا ہاتھ اٹھ گیا تھا رمیز کے والد پر۔۔۔
اس سب شور شرابے میں بریرہ کی گن سے ایک گولی چلی تھی۔۔۔
“میں اسے ماروں گی نہیں اسے زندہ رکھوں گی پر اسکے اونر کے بغیر۔۔۔”
۔
اس نے ایک اور گولی چلائی تھی۔۔۔
۔
۔
وہاں بےہوشی کی حالت میں جیسے ہی ردا نیچے گری تھی۔۔۔
اسی طرح بلاج حمدانی۔۔۔اور زمرد حمدانی ایک زندہ لاش کی طرح کھڑے رہ گئے تھے وہاں۔۔۔
۔
رمیز کے ساتھ آئے ہوئے گارڈز بھی وہیں گرے پڑے تھے۔۔۔
۔
ردا کو اٹھا کر وہ لوگ اندر لے گئے تھے۔۔۔
اور اسی وقت مہتاب آنسوؤں سے بھرے چہرے کے ساتھ بلاج کے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا
“بلاج بھائی آج آپ نے بریرہ پر ہاتھ اٹھا کر اپنی مردانگی ظاہر کردی ہے۔۔۔اور موقع دہ دیا ہے مجھے کہ اب میں بھی مرد بنوں بس اب اور رسوا نہیں ہونے دوں گا میں اس یہاں۔۔۔
بھائی کے رشتے میں تو آپ پہلے ہی ناکام ہوگئے تھے۔۔۔
آپ لوگوں کے گناہوں نے ردا کو بےردا کردیا۔۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔