57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“آپ لوگوں کے گناہوں نے ردا کو بےردا کردیا۔۔”
۔
“زمرد بھائی۔۔”
“ایک لفظ نہیں ایک لفظ نہیں۔۔۔”
زمرد صاحب اپنے چھوٹے بھائی کو پیچھے دھکا دے کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔
نا بلاج اپنی جگہ سے ہلا تھا نا داد جی
۔
“میں نے کہا نا مجھے مار دو نہیں رہنا زندہ مجھے۔۔سمجھ نہیں آتی۔۔۔”
اوپر کمرے سے ردا کی چیخ و پکار کی آوازیں پورے مینشن میں گونجنا شروع ہوگئیں تھیں۔
“بلاج۔۔۔”
پر بلاج کی نظریں رمیز کی زخمی حالت پر تھیں۔۔۔
وہ گریبان سے گھسیٹے ہوئے رمیز کو وہاں سے لے گیا تھا اور اپنی گاڑی کی ڈکی میں ڈال کر اس نے فل سپیڈ میں گاڑی چلا دی تھی
“داد جی۔۔۔”داد جی اپنے سینے پر ہاتھ رکھے وہیں گر گئے تھے
ربیل نے جلدی سے انہیں اٹھایا تھا انکے دونوں بیٹےانکو کمرے میں اٹھا کر لے گئے تھے
“یہ سب کیا ہوگیا ہے صفدر کے پورے خاندان کو تباہ کر دوں گا میں۔۔۔”
ربیل اپنے والد کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔وہ خود ہمیشہ سے مظبوط رہا تھا آج اپنی کزن کی اپنے گھر کی حالت نے اسکی آنکھوں میں پانی لادیا تھا۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم مر جاؤ گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔؟ردا “
“آپ نہیں سمجھ رہیں میری حالت کو۔۔کوئی نہیں سمجھ سکتا۔۔ مجھے اپنا وجود غلیظ لگ رہا ہے گندا لگ رہا ہے۔۔مجھے نہیں جینا اب۔۔”
روتے ہوئے گھٹنوں میں سر چھپا لیا تھا اس نے وہاں گھر کی عورتوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کوئی ردا کے پاس جائے وہ کسی کو اپنے پاس آنے نہیں دے رہی تھی
“آپ سب لوگ جائیں میں ردا کو سنبھال لوں گی۔۔۔”
“پر۔۔۔”
پلیز چچی۔۔جائیں رابیعہ آنٹی آپ بھی پلیز۔۔۔”
بریرہ نے سختی سے کہا تھا وہ جاتے ہوئے دروازہ بند کرگئیں تھیں۔۔۔
“آپ بھی جائیں یہاں سے پلیز۔۔۔”
“تاکہ تم خودکشی کرلو۔۔؟ گناہ گار ہوجاؤ۔۔”
بریرہ نے زبردستی اسکے ہاتھ اسکے منہ اٹھا لئیے تھے۔۔۔
چہرے اسکے آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا آنکھوں میں درد تھا جو اب کبھی ختم ہونے والا نہیں تھا
۔
“تیرے سوا،،،جانے کوئی دل کی حالت ربا
سامنے تیری گزری مجھ پر کیسی قیامت ربا۔۔۔”
۔
“تم کمزور نہیں ہو ردا۔۔۔تم مظبوط ہو۔۔۔تم نے ابھی اس ظالم کا انجام دیکھنا ہے۔۔
اسے سزا ملتے دیکھنی ہے۔۔تم نے خود کو ختم نہیں کرنا ان ہاتھوں سے اسے سزا دینی ہے۔۔”
اسکے سر پر بریرہ نے اپنا سر رکھ دیا تھا اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر
“پشمینہ بھابھی۔۔۔”
“بریرہ۔۔۔بریرہ شاہ۔۔۔”
ردا حیران ہوئی تھی
“آپ کو یاد ہے۔۔۔؟؟”
“ہممم ردا اس معاملے میں ہم دونوں ایک ہی مقام پر ہیں۔۔کچھ لٹیرے عزتیں لوٹ کر خود کو مرد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ لٹیرے جذبات لوٹ کر۔۔محبتیں لوٹ کر۔۔
پر ان میں سے مرد کوئی نہیں ہوتا۔۔ہم عورتوں کو مظبوط ہونے کی ضرورت ہے
جو ٹوٹ جائے بکھر جائے وہ کیسی عورت ہے جو ہار جائے۔۔؟”
۔
کب ان دونوں کو وہاں ایسے ہی بیٹھے رات ہوگئی تھی انہیں نہیں پتا چلا تھا۔۔روم کا دروازہ جیسے ہی کھلا تھا بلاج اندر داخل ہوا تھا۔۔پر اس نے جتنا آہستہ دروازہ بند کیا تھا ردا ڈر گئی تھی اور بریرہ کے پیچھے چھپ گئی تھی
“ردا۔۔۔”
“وہیں رک جائیں۔۔آپ چاہتے تھے میں اس سے ملنے جاؤں داد جی چاہتے تھے۔۔۔”
اس نے طیش سے کہا تھا
“گڑیا۔۔۔تمہارے مجرم کو سزا دے کر آیا ہوں۔۔اب وہ اپنے گندے ہاتھوں سے کسی لڑکی ہاتھ لگانے کے قابل نہیں رہا”
بلاج نے اپنے ہاتھوں پر لگا وہ سرخ رنگ دیکھایا تھا اسے۔۔۔
“میں اسے موت نہیں دوں گا۔۔میں اسے موت سے زیادہ بری سزا دوں گا۔۔”
وہ جیسے جیسے چل کر اسکے پاس آرہا تھا ردا اٹھ گئی تھی
“آپ لوگوں نے مجھے اس شیطان کے پاس بھیجا تھا۔۔ کیوں عزت نہیں ہے عورت کی اسکی مرضی کی ہمارے گھر میں بھیا۔۔”
وہ بلاج کے گلے سے لگی تھی روتے ہوئے۔۔بلاج حمدانی نے سر جھکا لیا تھا اسکا جسم بھی کانپ رہا تھا اسکی روح کی طرح وہ بھی رو رہا تھا۔۔
“وہ میرا دوست تھا۔۔۔مجھے نہیں پتا تھا اسکا خون اتنا گندا نکلے گا ردا۔۔ورنہ کونسا بھائی اپنی عزت کو کسی کے پاس بھیجے گا۔۔”
اتنا رونے کے بعد وہ پھر سے بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔
“بابا۔۔۔بریرہ ڈاکٹر۔۔۔”
بلاج کے کندھے پر بریرہ نے ہاتھ رکھ کر اسے اونچی بولنے سے روکا تھا
“اسے یہیں لٹا دو وہ ہوش میں آجائے گی۔۔ہمم کچھ وقت تک ایسے رہےگا بلاج۔۔ابھی شوک میں ہے وہ بھی اور اسکا جسم بھی۔۔۔ایک ٹراما میں ہے وہ۔۔”
بریرہ ردا پر کمفرٹ ڈال کر اٹھ گئی تھی۔۔۔
“پلیز سٹے۔۔۔۔”
بلاج کی ٹوٹی ہوئی آواز میں ایک التجا تھی جسے بریرہ چاہ کر بھی اگنور نہیں کر پائی تھی اور بیڈ کی دوسری سائیڈ پر وہ بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“سب ٹھیک کردوں گا میں ردا۔۔۔سب کچھ۔۔۔بلاج حم۔۔۔”
“بس کرو بلاج۔۔اب تو بس کرو۔۔۔تم ٹھیک کردو گے تو غلط ہونے ہی کیوں دیا تھا۔؟
کیا کرو گے۔۔؟ نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ گے۔؟ کیا کرو گے۔۔۔؟ کچھ نہیں کر سکتے تم تمہارا خاندان۔۔۔بڑی بڑی باتوں کے علاوہ۔۔۔ردا کو بڑے بڑے دعووں کی نہیں محبت کی ضرورت ہے اعتماد کی ضرورت ہے۔۔جو اس خاندان کے پاس سے بھی نہیں گزرا۔۔۔”
“بریرہ۔۔۔”
حیرانگی میں بس ایک ہی لفظ نکلا تھا۔۔
“پشمینہ شیخ۔۔۔میں یہاں ردا کی وجہ سے رکی ہوں اس لیے پلیز اب ڈسٹرب مت کرنا مجھے صبح سے جاگ رہی ہوں۔۔۔”
وہ کڑوٹ لیکر دوسری طرف منہ کرچکی تھی۔۔۔
۔
“کم سے کم اس موقع پر اپنی آنا کو سائیڈ پر رکھ دو پشمینہ۔۔میں اور میری فیملی ابھی ان حالات میں نہیں کہ تمہاری کڑوی باتیں برداشت کرسکیں۔۔۔”
بلاج نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔ردا کا سر جیسے ہی اسکے کندھے پر گرا تھا وہ چپ ہوگیا تھا۔۔بہن کا ہاتھ پکڑے وہ اس رات وہیں اسکے سرہانے بیٹھا رہا تھا جیسے اسکی حفاظت کر رہا ہو۔۔
پر اس نے واقع بہت دیر کردی تھی۔۔۔
۔
۔
“خود پر آئی ہے تو تم تڑپ اٹھے ہو بلاج۔۔کاش میرا خاندان برباد کرتے ہوئے تم نے بھی سوچا ہوتا۔۔۔”
۔
آنسو اسکی آنکھوں میں بھی تھے
وہ دشمن کی بیٹی بریرہ شاہ آج اپنے دشمن کی بہن کا دُکھ دیکھ کر ویسے ہی روئی تھی جیسے اپنی حالت پر۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پاپا کی پری باقی کہانی کل میں دودھ کا گلاس لیکر آیا۔۔۔”
بہرام پری کو بیڈ پر لٹا کر روم سے باہر آگیا تھا۔۔
وہ جیسے ہی کچن میں آیا اسکی بھابھی اور امی پہلے سے وہاں موجود تھیں
“آپ کو اس طرح سے نہیں آنا چاہیے تھا امی۔۔پری کو بھی ساتھ لے آئیں ہیں آپ لوگ۔۔”
اپنی ناراضگی کا اظہار اس نے بہت آہستہ لہجے میں کیا تھا سر جھکائے وہ اپمے ماں باپ اپنی فیملی کے سامنے ایسا ہی تھا نرم مزاج۔۔۔
“پری ہر وقت روتی رہتی تھی بہرام اسفند بھی آنا تھا میٹنگ کے لیے۔۔تو تمہارے ابو نے کہا کہ ہمیں بھی آنا چاہیے۔۔تمہارا کوئی بھی نمبر نہیں مل رہا تھا”
ممتا کی شفقت سے بھرا ہاتھ جب انہوں نے بہرام کے چہرے پر رکھا تھا بہرام سمجھ گیا تھا کوئی بڑی وجہ ہے ان لوگوں کے آنے کے پیچھے
“امی سب خیریت ہے۔۔؟؟”
“بیٹا میں کچھ بتانا چاہتی ہوں تمہیں۔۔”
وہ دودھ کا گلاس اس نے کاؤنٹر پر رکھ کر اپنی امی کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“امی میں بھی ایک ضروری بات بتانا چاہتا ہوں آپ بہت خوش ہوں گی۔۔”
“اور جو میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں تم بہت خوش ہوگے۔۔۔”
پیچھے کھڑی بھابھی ہنس رہیں تھیں۔۔۔
“میں پری کو دودھ دے آؤں۔۔”
بھابھی گلاس پکڑ کر کچن کے دروازے تک ہی گئیں تھیں کہ پیچھے سے بہرام کی بات سن کر وہ شیشے کا گلاس انکے ہاتھ سے نیچے گر گیا تھا۔۔۔
۔
“امی بریرہ زندہ ہے۔۔۔”
“بیٹا وجیح بھائی صاحب زندہ ہیں۔۔۔”
۔
ان دونوں نے ایک ساتھ اپنی اپنی بات کہہ دی تھی۔۔پر بہرام کے چہرے پر خوشی نہیں تھی جبکہ بہرام کی امی نے آگے بڑھ کر خوشی سے بہرام کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا
“بہرام سچ میں۔۔؟؟ پر آج صبح اسفند انکی قبر پر گیا تھا۔۔”
“یہی بات میں وجیح تایا جان کے لیے بھی تو کہہ سکتا ہوں نا امی۔؟ انکی بھی قبر وہیں ہے۔۔۔”
وہ دونوں خاموش ہوگئے تھے۔۔
“آپ چلیں میرے ساتھ۔۔۔”
انکا ہاتھ پکڑ کر بہرام انہیں باہر لیونگ روم میں لے گیا تھا۔۔۔ یہ چھوٹا سا اپارٹمنٹ اس نے دو ہفتے پہلے رینٹ پر لیا تھا۔۔اور وہ یہیں سے بہت سے معاملات سنبھال رہا تھا۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پورے دن کا سب سے خوبصورت لمحہ یہ ہے بلاج جب تمہاری بانہوں میں میری آنکھیں کھلتی ہیں۔۔”
بلاج کی آنکھوں پر بوسہ دیتے ہوئے بریرہ نے نے سرگوشی کی تھی
“اور میرے لیے تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے چشمش۔۔۔کیونکہ تم نے اٹھ کر چلے جانا ہوتا ہے
دنیا کی بھیڑ میں کھو جانا ہوتا ہے۔۔”
“دنیا کی بھیڑ چاہے جتنا بھی دور رکھے مجھے۔۔۔تم مجھے ڈھوند نکالتے ہو تمہاری آنکھیں مجھے کھوج نکالتی ہیں بلاج۔۔۔”
بلاج کی لفٹ آئی پر پھر سے اس نے بوسہ دیا تھا۔۔
۔
۔
اور اسکی آنکھیں کھل گئی تھی جب اپنی گال پر اسکے کسی کا ہاتھ محسوس ہوا تھا۔۔
بریرہ نے جیسے ہی آنکھیں کھولی تھی بلاج نے اپنا ہاتھ جلدی سے پیچھے ہٹا لیا تھا۔۔
“وہ۔۔میں۔۔تم یہاں کیسے آئے۔۔؟؟”
وہ غصے سے چلائی تھی۔۔۔
“شش۔۔ردا نماز پڑھ رہی ہے۔۔”
“صبح ہوگئی۔۔۔اینڈ یو گیٹ لوسٹ۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے اتنا قریب آنے کی۔۔؟”
“سیریسلی۔۔؟؟ یہ میری سائیڈ ہے میڈم۔۔۔یو گیٹ لوسسٹ۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
وہ جیسے ہی جانے کے لیے بیڈ سے اٹھی تھی بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔۔۔
بلاج پر گرنے سے خود کو بچانے کے لیے اپنے ہاتھ بلاج کے سینے پر رکھنے کی کوشش کی تھی پر ناکام رہی تھی جب بلاج نے اسکی ویسٹ پر اپنا بازو رکھا تھا۔۔۔
“وٹ دا۔۔۔”
“ششش۔۔۔۔میں بس تمہیں تھینکس کہنا چاہتا ہوں۔۔جو بھی تم نے میری بہن کے لیے کیا۔۔”
بریرہ کچھ پل کو ساکن ہوگئی تھی۔۔۔
“اور سوری بھی کہنا چاہتا ہوں۔۔۔”
بلاج کی سوفٹ سائیڈ دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی
“سوری۔۔؟؟”
“وہ جو میں اب کرنے جا رہا ہوں۔۔۔”
یہ کہتے ہی اس نے بریرہ کےہونٹوں کے قریب اپنا چہرہ کیا تھا۔۔۔
اسے جیسے ہی اپنے ہونٹوں پر وہ بوسہ محسوس ہوا بریرہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
“شرم نہیں آتی بہن کے سامنے۔۔۔”
“ہاہاہا اچھا اکیلے میں کرسکتا ہوں۔۔؟؟”
گو ٹو ہیل۔۔۔”
۔
وہ پاؤں پٹک کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
بلاج کی نظریں جیسے ہی سجدے میں پڑی روتی ہوئی ردا کے وجود پر پڑی تھی ایک ہلکی سی مسکان بھی اسکے چہرے سے جا چکی تھی اور وہ بھی غصے سے کمرے میں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ارسل بھائی۔۔۔”
وہ اپنے اس ویران اجڑۓ ے ہوئے گھر میں داخل ہوئی تھی جہاں اسے پتا تھا ارسل ملے گا۔۔
“تم آگئی ہو۔۔؟ دشمن کے گھر میں عاشی کرتے کرتے تھکی تو نہیں ہوہوگی نا “
ارسل اپنا لیپ ٹاپ پیچھے کردیا تھا
“آپ یہاں کیوں ہیں۔؟ یا تو پاکستان واپس جائیں یا اس ملک سے۔۔۔”
“اور وہاں جا کر چوڑیاں خرید کر پہنوں کے وہ بھی پہنا کر بھیجو گی بڑے بھائی کو۔۔؟”
وہ غصے سے غرائے تھے
“آپ سمجھ کیوں نہیں فار گوڈ سیک ایک بار میری سن لیجئیے۔۔یہ لڑائی میری ہے بھائی۔۔ آپ پاکستان جائیں آپ کا انتظار کر رہی ہوں گی آپ کی ماں۔۔”
“میری ماں۔۔؟؟ سہی کہا باپ کو تو تم نے مار دیا۔۔اپنے جذبات پر قابو رکھ لیتی اپنی محبتوں کو پیدا ہوتے ہی مار دیتی تو آج ہم لوگ کتنا خوش ہوتے پر نہیں تمہیں دشمن کے بیٹے کے ساتھ عشق پروان چڑھانا تھا۔۔”
زہر اگلتی زبان سے نفرت بھری باتوں نے بریرہ کے دل کو اور پتھر کردیا تھا
“آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھیں۔یہ جنگ میری ہے اور اسے میں ہی لڑوں گی۔۔”
“ہاں کیسے لڑو گی۔۔؟ تمہیں دیکھاتا ہوں جنگ کیسے لڑتے ہیں بدلہ کیسے لیتے ہیں۔۔
اسکی بہن کا تماشہ جب پورے میڈیا میں لگے گا پھر ان کو پتا چلے گا کسی کی بہن کو رکھیل کہنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔ابھی یہ سب میڈیا کو سینڈ کرنے ہی والا تھا۔۔۔”
بریرہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی ارسل کی بات سن کر ارسل نے جیسے ہی اینٹر کے بٹن پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی بریرہ نے وہ لیپ ٹاپ اٹھا کر زمین پر دے مارا تھا اور اتنی بُری طرح سے کے اسکے ٹکڑے ہر کونے میں جاکر پھیلے تھے۔۔۔
“بریرہ۔۔۔” ارسل نے جیسے ہی غصے سے ہاتھ اٹھایا اس پر اسکا ہاتھ کسی نے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“میں نے بریرہ کو اس لیے یہاں نہیں بھیجا تھا کہ تم اس پر ہاتھ اٹھاؤ اسکی تذلیل کرو۔۔۔
میری نظر میں ارسل بھائی اب آپ بھائی نہیں رہے ہو۔۔چلو بریرہ۔۔۔”
ڈینیل نے طیش سے کہا تھا۔۔۔
“ارسل بھائی بیٹیاں سانجھی ہوتی ہے۔۔۔وہ لوگ خاندانی نہیں تھے۔۔میں اس محبت میں معصوم تھی۔۔۔میں نے اسے پاکیزہ عشق کیا تھا نکاح کیا تھا۔۔اس نے تماشا بنا دیا سب کی باتیں تیروں کی طرح میرا کلیجہ چھننی کرتی ہیں۔۔
میں اس محبت میں معصوم تھی اس بدلے میں نہیں۔۔۔
میں کبھی انکی طرح نیچے نہیں گروں گی۔۔اس گھر کے مرد ہی کافی ہے میری سزا کے لیے۔۔۔”
۔
وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“بریرہ۔۔۔۔بابا سائیں۔۔۔”
ارسل اپنے گھٹنوں پر گر گیا تھا وہاں اسکی سسکیاں اسے ہی سنائی دے رہیں تھیں
“بریرہ بدلہ تو میں لیکر چھوڑوں گا۔۔۔مرد ہی سہی بریرہ بدلہ تو پورا ہوگا ہمارا۔۔۔
کاشان کا۔۔بابا سائیں کا ،، تمہارا۔۔۔بدلہ ضرور پورا ہوگا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔”
۔
“صبح صبح کہاں جا رہی ہو۔۔؟”
بلاج ایک ہاتھ میں تکیہ پکڑے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔
“فرصت مل گئی آپ کو بہن کے کمرے سے آنے کی۔۔؟”
مدیحہ نے لپسٹک لگا کر بلاج کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ جو مدیحہ کو اس طرح سجے سنورے دیکھ کر حیران تھا۔۔گھر میں سوگ کا سما تھا اور اسکی بیوی اس طرح کمرے سے باہر جانا چاہتی تھی۔۔
“میں نے کچھ پوچھا ہے مدیحہ۔۔؟ کہاں جا رہی ہو۔۔؟ میں نے تمہیں ایک بار بھی ردا کے کمرے میں نہیں دیکھ تم اسکی طبیعت کا ایک بار بھی پوچھنے گئی ہو کیا۔۔؟”
تکیہ بیڈ پر پھینک کر وہ اسکی طرف بڑھا تھا
“وہ۔۔اہم۔۔۔بلاج دراصل میں ۔۔۔ردا ۔۔میری خود کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔”
“اچھا اب تو سہی لگ رہی چلو اب چلیں ردا کے پاس بیٹھو اسکی طبیعت کا پوچھو اسے اچھا لگے گا۔۔”
وہ مدیحہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے دروازے تک لے گیا تھا۔۔
“اننف بلاج۔۔۔نہیں جانا مجھے اسکے پاس۔۔نہیں دل کرتا میرا۔۔”
“کیوں۔۔”
اسکی آواز میں ایک درد ابھر آیا تھا اپنی بیوی اپنی محبت کے لیجے میں اپنی بہن اور اسکی حالت کے لیے اتنی حقارت دیکھ کر
“کیوں۔۔؟ تمہیں نہیں پتا۔؟ کیا ہوا اسکے ساتھ۔۔وہ یہاں کیوں ہے۔۔۔ اسے کسی پاگل خانے بھجوا دو۔۔جہاں ایسے وکٹم رہتے ہیں۔۔”
“مدیحہ۔۔۔” بلاج نے ہاتھ اٹھا دیا تھا۔۔۔پر اسے مارا نہیں تھا اسکا ہاتھ رک گیا تھا یہ وہی ہاتھ تھا جو کچھ دن پہلے بریرہ پر بےساختہ اٹھا تھا بنا کسی لحاظ کے۔۔۔
“میں بریرہ یا پشمینہ نہیں ہوں بلاج مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی بھی نا کرنا۔۔۔”
وہ بلاج کے ساتھ ٹکراتے ہوئے باہر چلی گئی تھی
“مدیحہ۔۔۔۔”
بلاج بیڈروم کے دروازے تک گیا تھا جن سیڑھیوں سے مدیحہ نیچے جا رہی تھی انہیں سیڑھیوں سے ناشتے کی پلیٹ پکڑے بریرہ اوپر آرہی تھی۔۔۔مدیحہ نے اسکا راستہ روک لیا تھ۔۔
“اب نمبر بنانا چاہتی ہو بلاج کے لیے ناشتہ بنا کر لے جارہی۔۔۔”
“کیوں تمہارے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں جو تمہارے شوہر کے لیے میں ناشتہ بناؤں گی۔۔۔؟؟
ردا کے لیے لے جا رہی ہوں۔۔۔راستہ چھوڑو ورنہ گرم چائے تمہارے مینیکئیور ہاتھوں میں ڈال دوں گی مدیحہ بلاج حمدانی۔۔۔”
وہ جنگلی بلی کی طرح جھپکی تھی مدیحہ کی طرف اسے پتا تھا گھر والے متوجہ ہوگئے ہیں اور وہ ڈر کر پیچھے ہونے والی نہیں تھی۔۔۔
مدیحہ جیسے ہی پیچھے ہوئی تھی بریرہ اوپر چلی گئی تھی۔۔
“اپنی پالتو بلی کو کہنا آیندہ میرا راستہ کاٹنے کی کوشش کی تو میں اسے الٹا کاٹ لوں گی۔۔۔”
وہ کہہ کر ردا کے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔۔۔اور بلاج نے اسے ردا کے کمرے تک فالو کیا تھا۔۔۔
جو ناشتے کی ٹرے بیڈ پر رکھ کر ردا کو ٹیڑھی میڑھی شکلیں بنا کر مدیحہ کی باتیں بتا رہی تھی۔۔
اور ردا ہنس رہی تھی۔۔۔
بریرہ نے جیسے ہیں ردا کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانا شروع کیا بلاج حمدانی پیچھے مڑ گیا تھا۔۔۔
اس میں ہمت نہیں تھی اور برداشت کی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہمم میں ابھی حمدانی مینشن میں نہیں ہوں سونم۔۔”
بریرہ چلتے چلتے پارک کے سامنے رُکی تھی جہاں وہ اکثر بلاج کے ساتھ آتی تھی یونیورسٹی سے واپسی پر۔۔
ایک ہاتھ میں لیپ ٹاپ اور دوسرے میں موبائل لئیے وہ پارک کے اندر داخل ہوئی تھی جہاں بچوں ہر طرف کھیل کود رہے تھے۔۔ایک پل کو وہ اپنا اردہ بدل دینا چاہتی تھی اور کسی کیفے میں بیٹھ کر اپنا باقی کا ورک کرنا چاہتی تھی
پر اسکے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔۔
جو ڈیٹا اسکے ہاتھ لگا تھا وہ ایک پل کی بھی تاخیر نہیں کرنا چاہتی تھی
بچوں کو انکے پیرنٹس کے ساتھ ہنستے کھیلتے ہوئے دیکھ کر اس ایک درد محسوس ہوا تھا۔۔
جو وہ محسوس نہیں کرنا چاہتی تھی کبھی نہیں۔۔
“بریرہ۔۔۔بریرہ۔۔”
فون سے آتی سونم کی آواز نے اسے متوجہ کیا تھا
“تمہیں وہاں ہونا چاہیے بریرہ۔۔جو بھی ہوا وہ “
“اک منٹ۔۔؟ ڈونٹ ٹل مئ تمہیں ہمدردی ہو رہی دشمن کی بیٹی سے۔۔”
اس نے ہنسنے کی کوشش کی تھی جو ہنسی اسکے ہونٹوں پر آئی ہی نہیں تھی
“کیا تمہیں نہیں ہو رہی ہمدردی۔۔؟ وہ دشمن کی بیٹی سے پہلے ایک لڑکی ہے بریرہ۔۔
میں تمہیں جانتی ہوں۔تم بلاج جتنی نیچے نہیں گر سکتی۔۔
میں بس اتنا کہنا چاہتی تھی تمہیں کچھ دنوں کے لیے سب روک دیتے ہیں چندا۔۔”
سونم کی ہلکی آواز میں کہی گئی بات نے کسی چیخ کا کام کیا تھا بریرہ کے لیے جو ایک دم سے غصے سے لال ہوگئی تھی۔۔
سامنے خالی بینچ پر اس نے اپنا لیپ ٹاپ رکھا تھا غصے سے
“یہی تو دن ہیں۔۔کمزوری میں ایک اور وار کرنے والی ہوں میں سونم۔۔
بلاج کی کمر ٹوٹ جائے گی اسکی غیرت کے ساتھ جب بیوی کی بےوفائی سامنے آئے گی۔۔
“بریرہ۔۔نہیں کرو۔۔۔اسے اب اس طرح سے تکلیف مت دینا۔۔۔”
“ہاہاہا ٹرائی مئ چندا۔۔۔”
سونم کو بہت میٹھی آواز میں طنز کیا تھا بریرہ نے اور فون بند کردیا تھا۔۔
“بلاج حمدانی مدیحہ وہ لڑکی تھی جو تمہاری محبت تھی۔۔جیسے تم میری محبت تھے۔۔
تم نے مجھے دھوکہ دیا اور اس نے تمہیں۔۔
بےوفا کے ساتھ بےوفائی ہوگئی محبتیں دونوں طرف سے نیلام ہوگئیں
زخم نا یہاں بھرے،،،نا وہاں بھرے گے۔۔
سکون نا ملا تھا نا وہاں ملے گا۔۔
بےوفائی کی سزا اِسے بھی ملے گی اور اسے بھی۔۔۔”
۔
“سنوووی۔۔۔سنوووی۔۔۔۔”
ایک وائٹ ریبیٹ بھاگتے ہوئے اسی طرف آیا تھا اور بریرہ کے بینچ کے نیچے کہیں چھپ گیا تھا اور اسکے پیچھے دو چھوٹے چھوٹۓ قدم بھاگتے ہوئے آئے تھے۔۔
“سنووی باہر آؤ نا۔۔۔بابا سے ملواؤں تمہیں۔۔”
“بریرہ نے لیپ ٹاپ بند کیا تھا جب اسکے گھٹنے پر اسے چھوٹا سا ہاتھ رکھا محسوس ہوا تھا۔۔
وہ چھوٹی سی بچی پوری طرح سے بینچ کے نیچے سر کرکے اس خرگوش کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی
“وہ ایسے نہیں آئے گا باہر۔۔”
“تو کیسے باہر آئے گا۔۔؟؟”
اس بچی نے دونوں بازو بریرہ کے گھٹنوں پر رکھ کر بہت معصومیت سے پوچھا تھا اور بریرہ کے چہرے پر مسکان آگئی تھی اس بچی کی معصوم شکل دیکھ کر
“پری۔۔۔پری بیٹا وہ ڈر گیا ہے میری جان وہ ایسے باہر نہیں۔۔”
ایک جان پہچانی آواز کہتے کہتے رکی تھی۔۔۔
“بہرام۔۔۔”
اور پھر بریرہ کی نظریں اس بچی پر گئی تھیں جو ابھی اپنی جگہ سے اٹھ کر بہرام کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
“شئ۔۔از۔۔؟؟ یور ۔۔؟؟”
“یس۔۔میری بیٹی پری۔۔۔پری سئے ہیلو۔۔۔”
“اسلام علیکم۔۔۔۔”
بہرام کی بات کاٹ کر پری نے سلام کیا تھا بریہ کو جو اور شاکڈ ہوئی تھی۔۔۔
“و۔۔وعلیکم سلام۔۔شئ از بیوٹیفل۔۔۔”
بریرہ کا لہجہ بہت نرم ہوگیا تھا۔۔
“وہ بھی بہت بیوٹیفل ہے۔۔پلیز ہیلپ مئ۔۔سنووی کو پکڑنے میں۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔اوکے۔۔۔”
وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔۔اپنے ساتھ ساتھ بہرام شاہ کو بھی حیران کردیا تھا
اسکی پری کے ساتھ اٹریکشن نے
“پر وہ باہر نہیں آرہا نا۔۔”
“ابھی دیکھتے ہیں۔۔۔”
وہ بھی پری کی طرح گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔۔۔
“آپ اب ایسے منہ دیکھیں گے یا ہمار مدد کریں گے مسٹر بہرام۔۔۔”
اور بہرام نے اپنا کھلا ہوا منہ بند کرلیا تھا۔۔۔
“یس بابا آپ دوسری طرف سے پکڑیں اسے۔۔۔”
اور وہ تینوں گھٹنوں کے بل بیٹھے توجہ کا مرکز بن گئے تھے باقی سب کی۔۔۔
جب اور کچھ منٹوں کی تاخیرکے بعد وہ لوگ اس خرگوش کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے تھے
بہرام نے اسے پکڑ کر بریرہ کے ہاتھوں میں پکڑایا تھا۔۔۔اسکی نظریں بہرام پر تھیں۔۔۔
اس نے وہ ریبٹ جھک کر پری کو پکڑایا تھا جو ڈر رہا تھا پر پری اسے بہٹ پیار سے سنبھال رہی تھی۔۔
“بیوٹیفل فیملی۔۔۔لیو لونگ۔۔۔”
“نائس کپل۔۔۔”
ان سب کمنٹس سے بریرہ کے چہرے کی مسکان چلی گئی تھی۔۔
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔”
وہ لیپ ٹاپ پکڑے وہاں سے جانے لگی تھی جب پری نے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔
“ہمارے ساتھ بریک فاسٹ کرکے چلی جائیے گا پلیز۔۔۔بابا نے پرومس کیا ہے سب میری پسند کا ہوگا۔۔۔”
اور بریرہ رک گئی تھی اسکی نظریں پہلے پری پر پڑی تھی اور جب اس نے بہرام کے چہرے کی طرف نظریں ڈالی تو اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔
“اوکے۔۔۔پر اسکے بعد مجھے جلدی جانا ہے۔۔”
“یےے۔۔۔چلیں بابا۔۔۔چلو سنووی۔۔۔۔”
وہ اس ریبٹ کو لئیے آگے چلنا شروع ہوئی تھی۔۔۔
“شئ از کریزی۔۔۔ہاہاہاہا سنووی نام بھی رکھ لیا۔۔۔”
بہرام اور بریرہ ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوئے تو بہرام نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“ہاہاہاہا آپ پر گئی ہے مسٹر جب میں نے کہا تھا یہاں سے چلے جائیں تو آپ کے بھی ایسے ہی کرتب دیکھے تھے
“ہاہاہاہا۔۔۔”
بہرام اور کھل کر ہنسا تھا ۔۔۔
نا وہ سخت مزاج بہرام شاہ لگ رہا تھا۔۔نا وہ بریرہ شاہ آنکھوں میں بدلے کی آگ لئیے نکلی ہوئی زخمی شیرنی لگ رہی تھی
“سنووی۔۔۔۔جاؤ تم اپنی ماما کے پاس۔۔۔”
یہ کہتے ہی پری نے اس ریبٹ کو وہیں چھوڑ دیا تھا
“وٹ دا۔۔۔پری۔۔اتنی مشکل سے پکڑا تھا بیٹا۔۔۔”
بہرام ایک دم سے اس چھوٹے ریبٹ کے پیچھے بھاگا تھا جو دور چلا گیا تھا
“بابا اسکی ماما وہاں بیٹھ کر اسے دیکھ رہی اگر یہ اپنی ماما سے دور ہوگیا تو میری طرح رویا کر ے گا۔۔۔”
اسکی باتیں بہرام کے لیے نئی نہیں تھی پر اسکا اس طرح سے سوچنا اور ری ایکٹ کرنا بریرہ کو اندر تک جھنجھوڑ گیا تھا۔۔۔وہ پری کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔۔
بریرہ کی یہ نرم سائیڈ بہرام پہلی بار دیکھ رہا تھا
“پری۔۔۔بی۔۔۔بیٹاآپ اداس کیوں ہوگئیں ہیں آپ نے تو بہت اچھا کام کیا ہے ابھی۔۔اس خر۔۔میرا مطلب سنووی کو اسکی ماما کے پاس چھوڑ دیا۔۔میں آپ کو ایسا ہی ایک سنووی لیکر دوں گی آئی پرومس۔۔۔”
“تو اسکا مطلب ہم دوبارہ ملیں گے۔۔؟؟”
پری نے اپنے آنسو صاف کرنے کی کوشش کی تھی،،پر بریرہ نے اسکا ہاتھ پیچھے کرکے خود اسکی آنکھیں صاف کی تھیں۔۔۔
“اگر آپ اب نہیں روئیں گی تو پھر ضرور۔۔۔اب چلیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔”
وہ دونوں جیسے ہی اٹھے تھے بریرہ نے لیپ ٹاپ بہرام کےہاتھ میں پکڑا دیا تھا۔۔
اور پری کا ہاتھ پکڑ کر پارک سے باہر جانے کے لیے قدم بڑھائے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آفیسر مجھے بہت افسوس ہوا ہے محبت کو بچانے نکلے تھے عزت داؤ پر۔۔”
“ایک اور لفظ نہیں زبان وہیں تک نکالنا جہاں تک جا کر واپس آجائے حد سے باہر جاؤ گی تو کاٹ دی جائے گی۔۔۔”
“آفیسرز۔۔۔”
وہ دونوں سٹریٹ کھڑے ہوئے تھے
“تم جاؤ رئیس۔۔اور آفیسر بی-اے-ایچ ” نے جو وارننگ دی ہے اسے بھولنا مت “
“سر۔۔۔”آفیسر رئیس جیسے ہی وہاں سے گیا تھا سینئر آفسر نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے قابل ترین آفسر کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا،،
“یہ بات صرف رمیز تک نہیں جاتی اس سے آگے بھی اسکا تعلق ہے۔۔مجھے گہرا افسوس ہے اس خوفناک سانحہ پر۔۔۔اس لیے تمہیں میں آج اجازت دیتا ہوں جو ہوسکتا ہے کرو۔۔ان مافیا میں ایسے شیطانوں کو سبق سیکھا دو۔۔۔َ”
“تھینک یو سوو مچھ سر۔۔۔مجھے امید تھی آپ میرے لیے اس آرڈر کو پاس کردیں گے۔۔۔”
“گو آ ہیڈ۔۔۔تمہیں میری سپورٹ ہے ہر طرف سے۔۔۔”
ابھی وہ دونوں بات ہی کررہے ہوتے ہیں کہ فون بجنا شروع ہوگیا تھا
“ایک منٹ سر۔۔۔مجھے ارجنٹ جانا ہوگا۔۔۔”
“اپنا خیال رکھنا یہ مشن بہت مشکل ہے۔۔”
“جی شکریہ۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“”آپ نے بلایا بابا سائیں۔۔؟؟”
وہ سب داد جی کے کیبن میں اکٹھے ہوئے تھے داد جی کے سب بیٹے اور بیٹوں کے بیٹے موجود تھے وہاں۔۔
“بلاج نہیں آیا ابھی۔۔اسے فون کیا کسی نے۔۔؟؟”
۔
“داد جی۔۔۔”
بلاج بھی کیبن میں داخل ہوا تھا۔۔۔
“میں نے تم سب کو اس لیے بلایا ہے یہاں۔۔کہ صفدر نے اپنے بیٹے رمیز کی واپسی کے لیے ہمارے دشمنوں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔۔
مجھے کسی چیز کا ڈر نہیں ہے میرے بچوں۔۔۔
پر میرے گھر کی عورتیں اور انکی عزتیں میری کمزوری بن گئیں ہیں۔۔
میں چاہتا ہوں گھر کے فرد انڈر گراؤنڈ ہوجائیں کچھ عرصے کے لیے۔۔۔”
“کبھی نہیں۔۔۔”
بلاج نے اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر مارے تھے اور وہ کھڑا ہوگیا تھا
“کبھی نہیں داد جی۔۔۔اچھا ہے وہ لوگ اور لوگوں کو لائیں گے اچھا ہے یرے اندر کی تڑپ انکے خون پر ختم ہوگئی میری بہن کے ساتھ جو ہوا میں کسی اور کی بہن کے ساتھ نہیں ہونے دوں گا۔۔
گھر کی عورتوں کی عزت اور انکی حفاظت کے لیے گھر کے مرد زندہ ہیںَ۔۔”
۔
“بلاج بھائی نے ٹھیک کہا ہے داد جی۔۔خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔۔”
ربیل بھی کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“میں بھی بلاج بھیا کی بات سے متفق ہوں میں حفاظت کروں گا۔۔”
باقی سب کزنز بلاج کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔۔
“زمرد ۔۔۔؟؟؟”
حمدانی مردوں کا قہر دیکھیں گے یہ لوگ اب بابا سائیں۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پری کھڑے ہوکر نہیں بیٹھ کر کھائیں نا۔۔”
بہرام نے کرسی پیچھے کرکے پری کو بیٹھانا چاہا تھا پر وہ بریرہ کی گود میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔
“میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں نا۔۔؟”
پری نے بریرہ کے کھلے منہ کو دیکھ کر پوچھا تھا
“آپ تو بیٹھ چکی ہیں۔۔”
“اچھا میں پوچھ کر بیٹھتی ہوں ون منٹ۔۔”
وہ انیچے اترنے لگی تھی بریرہ کی گود سے پر بریرہ کی گرفت مظبوط ہوگئی تھی اس نے پری کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا
“بس بچہ تھک جاؤ گی۔۔۔”
“اوکے تھینک یو۔۔۔بابا اب کھانا کھلائیں۔۔۔”
بہرام ابھی بھی ان دونوں کی بونڈنگ دیکھ کر شوکڈ تھا۔۔۔
۔
“میں نے آپ کو جانے کا کہا تھا آپ نے اس چھوٹی بچی کو بھی بلالیا۔۔۔”
بریرہ نے خود پری کو کھلانا شروع کیا تھا بریک فاسٹ جو انہوں نے ابھی آرڈر کیا تھا
“یہ لوگ بن بتائے آئیں ہیں۔۔۔”
“یہ لوگ۔۔؟؟ اور کون کون آیا ہے۔۔؟؟”
“وہ۔۔۔امی رشنا بھابھی اسفند بھائی۔۔۔”
“اور میں۔۔۔”
پری نے بتاتے ہوئے بریرہ کے گال پر بوسہ دیا تھا
“بیوٹیفل تو آپ مجھ سے زیادہ ہیں۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔اگر پری کی باتیں نا ہوتی تو آپ کی اچھی خاصی کلاس ہونی تھی مسٹر بہرام۔۔”
اس نے آخری بات آہستہ آواز میں کہی تھی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بھابھی میں اب ٹھیک ہوں۔۔”
ردا نے جائے نماز بچھا لیا تھا۔۔
“پر ردا۔۔۔”
بھابھی آپ بھی اپنے کمرے میں جاکر آرام کیجئیے۔۔۔”
“نہیں میں یہیں رہتی ہوں۔۔چندا۔۔”
“جب آپ چندا کہتی ہیں ممتا جھلکتی ہے۔۔۔آپ کیسے دشمن کی بہن کے ساتھ محبت کرسکتی ہیں بےلوث۔۔؟؟”
“ردا دشمن کے ساتھ بھی میری محبت بےلوث تھی۔۔”
بریرہ بیڈ پر اس جگہ پر بیٹھ گئی تھی سامنے ردا کھڑی تھی
“پھر تو یہی کہوں گی دشمن قسمت اور نصیب کے معاملے میں بہت بدنصیب ثابت ہوا نہیں۔۔؟”
“ہممم ۔۔۔پر بدنصیب میں زیادہ ٹھہری ہوں ردا۔۔۔جو مجھے اس شخص سے محبت ہوئی کہ پچھتاوے کے لیے یہ زندگی بھی کم ہے۔۔۔
تم نماز ادا کرو میں آتی ہوں۔۔”
آنکھوں کو جلدی سے صاف کرکے وہ اٹھی تھی۔۔۔
“آپ کب ادا کریں گی۔۔؟؟”
ردا نے بریرہ کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
“کیا ادا کرنا ہے میں نے۔۔۔؟؟”
“آپ کب نماز ادا کریں گی۔۔؟ کب سجدہ ادا کریں گی۔۔؟
آپ کب قضا ادا کریں گی بریرہ بھابھی۔۔؟؟
سجدے میں سر جھکائیں گی تو سکون ملے گا روح کو۔۔بےچین دل کو۔۔۔”
۔
بریرہ آہستہ سے ہاتھ چھڑا کر وہاں سے چلی گئی تھی بنا کسی بات کے جواب دئیے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“آج پھر تکیہ اٹھائے جا رہے ہو۔۔پھر بہن۔۔”
“آج بہن نہیں آج میں اپنی بیوی کے کمرے میں جا رہا ہوں تمہیں اعتراض ہے۔۔۔”
بلاج کی شرٹ پیچھے سے جس بدتمیزی کے انداز میں مدیحہ نے پکڑی تھی دو بٹن ٹوٹ گئے تھے۔۔
“وٹ تم اس رکھیل۔۔”
“اننف۔۔۔آج ہاتھ اٹھایا تو میں رکوں گا نہیں۔۔۔بیوی ہے رکھیل نہیں زبان کو لگام دو اور راستہ چھوڑو۔۔۔”
“تم اگر اس کمرے سے باہر گئے تو میں گھر چھوڑ جاؤں گی بلاج۔۔۔”
“جاؤ شوق سے۔۔۔پر میں لینے نہیں آؤں گا۔۔۔”
۔
بلاج کمرے کا دروازہ زور سے بند کرکے چلا گیا تھا۔۔۔اسی روم میں جو کچھ دن پہلے سٹور رروم تھا۔۔پر اس نے ملازموں سے کہہ کر اس کمرے کو اس مینشن کا سب سے خوبصورت کمرا بنوا دیا تھا۔۔۔
۔
۔
وہ بہت آہستہ سے دروازہ بند کر کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔کمرے میں روشنی صرف کھڑکی سے آرہی تھی۔۔اس روشنی میں وہ معصوم چمکتا ہوا چہرہ بلاج کی سانسیں بہت آہستہ کرچکا تھا۔۔
۔
“چشمش۔۔۔”
بلاج بیڈ پر بہت آہستہ سے لیٹا تھا۔۔۔چہرے پر بکھری زلفوں کو پیچھے کرنے میں کتنا وقت لگا تھا اسے خبر نہیں تھی۔۔۔
جب آنکھیں تھک بند ہونا شروع ہوگئی تھی اسی وقت بریرہ کا موبائل بجنے پر بلاج نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی۔۔
“بلاج حمدانی تمہاری بیوی تمہیں کیا کمرے سے نکال دیتی ہے کبھی ردا کے کمرے تو کبھی میرے۔۔۔”
۔
بریرہ نے بلاج کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے بہت آہستی سے چھڑا کر بیڈ پر رکھا تھا۔۔
اسکی بات سے بلاج کی ہنسی چھوٹ گئی تھی اندھیرا ہونے کی وجہ سے بریرہ کو محسوس نہیں ہوا تھا۔۔
بلاج نے چہرہ پھر سے سخت کرلیا تھا سونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے۔۔فون دوبارہ بجا تھا اسکا۔۔
“بریرہ۔۔پری کو بہت تیز بخار ہورہا اور بار بار تمہیں بلا رہی رو رہی ہے۔۔۔کیا تم۔۔؟؟ کیا میں لینے آؤں۔۔؟؟”
۔
بہرام کی آواز آواز میں بہت ہچکچاہٹ تھی۔۔۔
“میں آتی ہوں آدھے گھنٹے میں۔۔۔”
۔
بریرہ کی بات پر بلاج کی ہنسی تو غائب ہوئی تھی پر ایک ڈر سا بیٹھ گیا تھا بریرہ جس طرح گھبرا گئی تھی اور اپنے کپڑے لیکر باتھروم میں چلی گئی تھی۔۔۔
۔
بلاج کی نظریں بار بار بریرہ کے موبائل پر جارہی تھی۔۔۔پر اسکے ہاتھوں میں ہمت نہیں تھی بریرہ کا موبائل چیک کرنے کی۔۔۔
بریرہ جیسے ہی کپڑے چینج کرکے باہر آئی تھی۔۔۔بلاج نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
بریرہ گاڑی کی چابی اور موبائل پکڑ کر روم سے چلی گئی تھی۔۔۔
جب مین گیٹ بند ہوا تھا۔۔۔
بلاج بھی اس کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔
اسکے قدم بھی بریرہ کو فالو کررہے تھے۔۔
جب بریرہ کی گاڑی نظروں سے اوجھل ہوئی تب بلاج نے اپنی گاڑی سٹارٹ کی۔۔
بریرہ کی گاڑی کی سپیڈ دیکھ کر اسے اندازہ ہورہا تھا۔۔۔
۔
۔
“آپ آگئی۔۔۔۔”
بریرہ جیسے ہی گاڑی سے اتری تھی پری بھاگتے ہوئے آئی تھی اور پیچھے بہرام۔۔۔
۔
بریرہ نے اس روتی ہوئی بچی کو اپنی گود میں اٹھا لیا تھا اور اپنے سینے سے لگایا تھا
“شش میری فائٹر روتے نہیں”
“اندر چلتے ہیں۔۔”
بریرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ لوگ جیسے ہی اندر کی طرف بڑھے تھے بلاج اپنی گاڑی سے اترا تھا۔۔۔
“بریرہ۔۔۔”
۔
“جئے لوڑ نہیں ہن میری منہ تے میرے بول وے۔۔۔
منگ نا سلاہواں جا کے ،،، پر لوکاں کول وے۔۔۔۔
جئے دینا اے تے دل نال ساتھ دیویں میرا توں۔۔۔
جئے رولناں وی اے تے چنگی طراں رول وے۔۔۔”
۔
۔
“بےوفا۔۔۔”
۔
گھر کا دروازہ جیسے ہی بند ہوا تھا بلاج پلٹ گیا تھا۔۔
گاڑی پر سر رکھ کر آنکھ سے آنسو نکلا تھا سکی اور لبوں سے ایک لفظ بھی۔۔۔
۔
“تمہیں آج سے بےوفائی کے وہ روپ دیکھاؤں گی بلاج کہ تم برداشت نہیں کرپاؤ گے۔۔۔”
بلاج کے پلٹ جانے پر بریرہ نے وہ دروازہ پھر سے کھولا تھا۔۔۔
اسے پتا تھا بلاج آج وہ والا بلاج تھا۔۔۔چشمش کا بلاج۔۔۔وہ جانتی تھی آج وہ کامیاب ہوئی تھی اس بےوفا کی آنکھوں میں آنسو لانے میں۔۔۔
پر اسکی آنکھیں کیوں بھیگ گئیں تھیں۔۔؟؟
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔