57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

“بلاج بھائی۔۔۔پشمینہ شیخ میری منگیتر۔۔۔۔پشمینہ میرے بڑے بھائی بلاج حمدانی۔۔۔”
مہتاب نے بلاج کو بریرہ کے سامنے لاکر کھڑا کردیا تھا جس نے اپنے ہاتھ میں مہتاب کی پہنی ہوئی انگوٹھی کو آگے کیا تھا پورا ہال مبارکباد اور تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔
پشمینہ شیخ نام سے حمدانی خاندان کی مسکراہٹ تھم گئی تھی پر مہتاب کی خاطر سب نے آگے بڑھ کر پشمینہ کو پیار دیا تھا
“جیٹھ جی۔۔۔آپ مبارکباد نہیں دیں گے ہمیں۔۔۔؟؟”
“وٹ دا ہیل بر”
“بلاج یہاں آؤ بیٹا تمہیں کسی سے ملوانا ہے۔۔”
داد جی بلاج کو وہاں سے لے گئے تھے بریرہ کی نظریں بلاج کے زخمی ہاتھ پر تھیں اور ایک سکون اتر آیا تھا اسکی آنکھوں میں
“بلاج حمدانی یہ شروعات ہے تمہاری ہر تکلیف کی تمہارے ہر دکھ کی
یہ جسم سے نکلنے والا خون مجھے سکون ضرور دے رہا پر میری روح کو اس دن سکون ملے گا جب تمہاری آنکھیں خون روئیں گی۔۔۔۔”
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پشمینہ شیخ وٹ آ بیوٹی فل نیم ہونے والی بھابھی جی۔۔۔”
وہاج نے بہت عزت سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا
“تھینک یو ہونے والے دیور جی۔۔۔”
وہ جیسے ہی ہاتھ ملانے لگی تھی مہتاب نے اپنا ہاتھ آگے کرلیا تھا
“نوو فلرٹنگ چھوٹے بھائی۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔پر میں تو کروں گا۔۔اتنی سیکسی منگیتر۔۔پر نام سنا ہوا ہے میں نے”
ربیل نے ویٹر سے ڈرنک کا گلاس پکڑ کر سب کی توجہ اپنے اوپر کردی تھی۔۔
“ربیل۔۔۔”
“داد جی یہ تو وکی کی گرلفرینڈ نہیں تھی۔۔؟؟”
ربیل نے جیسے ہی یہ جملے بولے تھے بریرہ نے مہتاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ پر محسوس کیا تھا
“وکی دور کا رشتے دار ہے پشینہ کا ربیل بھائی۔۔۔یہ میری منگیتر ہے الفاظ سوچ کر بولیں آپ۔۔”
۔
مہتاب کو غصے میں دکھ کر داد جی نےاپنے چھوٹے بیٹے کو اشارہ کر چکے تھے جنہوں نے ایک نظر ڈالی تھی اور وہ چپ ہوگیا تھا۔۔۔
۔
“داد جی کیسی لگی میری پسند آپ کو۔۔؟؟”
مہتاب جو بہت شرمندہ ہو رہا تھا سب کے ری ایکشن کو لیکر وہ کسی طرح سے پشمینہ کی ملاقات اپنی فیملی کے ساتھ کامیاب بنانا چاہتا تھا
“میں ابھی آیا۔۔”
وہاج نے داد جی کے کان میں جیسے ہی کوئی بات کی داد جی اپنی چھڑی پکڑے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔
پر جس سمت وہ گئے تھے اس جانب بریرہ کی نظریں ان سے پہلے پہنچی تھیں جہاں بلاج نے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ سجائے مدیحہ کو اپنے اور قریب کھینچا تھا۔۔
بلاج کی آنکھیں جیسے ہی بریرہ پر پڑی تھی اس نے بریرہ کو آنکھ مار کر مدیحہ کے چہرے کے پاس اپنے ہونٹ کئیے تھے۔۔۔ انکے چہروں کے درمیان فاصلہ کم ہونے پر بریرہ نے اپنی نظریں نیچی کر لی تھیں۔۔
“جان کو میری چھین لیا ہے
درد یہ کیسا دل کو دیا ہے۔۔۔”
۔
اسکی آنکھیں دھوکہ دے گئیں تھیں اسکے دل کی طرح اسے
وہ آنسو کا ایک قطرہ آنکھوں کی قید سے نکل کر اسکے رخصار سے ہوتے ہوئے اسکی انگلی پر جا گرا تھا اسکی رنگ کے نیچے ہوئے زخم پر جب وہ آنسو گرا تھاتو اسکے زخم پر نمک کا کام کرگیا تھا
۔
“جگ جگ پہ، راتوں میں ،،میری طرح آنکھوں میں
ماہی آنسوؤں کے دھاگے تو پیرؤئے گا۔۔۔”
۔
“آئی تھنک اتنی تذلیل کافی ہے میری مہتاب۔۔تمہاری فیملی نے ظاہر کروا دی ہے اپنی ناپسندیدگی۔۔”
بریرہ یہ کہہ کر جیسے ہی اٹھی تھی داد جی بلاج کا ہاتھ پکڑ اسی طرف لا رہے تھے اسے
“پشمینہ پلیز۔۔۔”
“بائے۔۔۔”
“پر بیٹا۔۔۔”
“ایکسکئیوزمئی۔۔۔”
داد جی کی بات کو وہ اگنور کر گئی تھی اور بلاج حمدانی کے چہرے پر جیت کی خوشی کو بھی
“تو بھی روئے گا ماہی۔۔۔
میری طرح تو بھی اک دن کسی کو کھوئے گا”
وہ وہاں سے سر اٹھا کر چلی گئی تھی جیسے آئی تھی جتنی نظریں اس پر تھیں ابھی بھی ساری پارٹی کی لائم لائٹ اسی پر تھی۔۔
۔
“یہ پسند ہے آپ کی مہتاب جی۔۔؟ داد کی بےعزتی کرگئی وہ۔۔۔”
ربیل جو کب سے یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا اب وہ داد جی کے سامنے مہتاب اور پشمینہ کو نیچے دیکھانے کی کوشش میں تھا
“داد جی آپ کو اس طرح سے نہیں جانا چاہیے تھا پشمینہ کو اور مجھے پیار دے جاتے”
“پر بیٹا۔۔۔”
“بس داد جی ۔۔اور مہتاب چلی گئی ہے تو جانے دو خود ہی واپس بھی آجائے گی۔۔۔”
بلاج یہ کہہ کر وہاں سے باہر کی طرف گیا تھا پر باہر کوئی نہیں تھا
“یہ بریرہ ہی ہے۔۔تم سب کو دھوکہ دے سکتی پر مجھے نہیں بریرہ شاہ۔۔۔”
۔
“بلاج اب تو ہم شادی کرچکے ہیں اب تو بریرہ بلاج حمدانی کہا کرو ۔۔۔”
۔
بلاج کو ماضی کی ایک سرگوشی سنائی دی تھی
۔
“آئی ہیٹ یو بریرہ شاہ۔۔کوئی حق نہیں تمہارا میرے نام پر۔۔۔۔”
اس نے اپنی ہی گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مار کر اپنا غصہ نکالا تھا
غصہ کس بات کا تھا اسے۔۔؟
اس کے ہونے کا۔۔؟؟
یا اسکا کسی اور کے ساتھ ہونے کا۔۔۔؟؟
۔
۔
“اچھا میں گاڑی کا روف ٹاپ کھول سکتی ہوں۔۔ سچ میں۔۔؟؟”
“ہاں میری جان۔۔۔”
اور بلاج نے جیسے ہی اوپن کیاتھا گاڑی کے روف میرر کو بریرہ کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
“وااااوووووو۔۔۔۔”
بلاج نے گاڑی کی سپیڈ آہستہ کردی تھی۔۔۔بریرہ بچو ں کی طرح بارش کے قطریں ہاتھوں میں سمیٹیں بلاج پر ڈال رہی تھی جو اور زیادہ ہنس رہا تھا۔۔۔
۔
“بابا سائیں نے اتنا زیادہ ڈانٹا تھا جب ارسل بھائی کی گاڑی میں ایسے منہ باہر نکالا تھا بلکل ایسے۔۔۔”
جو جس طرح بتا رہی تھی وہ اور اینجوائے کررہا تھا
“ہمیشہ کہتے ہیں یہ خطرناک ہے۔۔کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔وہ میری فکر کرتے ہیں شاید پر تم نے مجھے نہیں روکا بلاج تمہیں میریر فکر نہیں۔۔؟؟”
بریرہ نے جیسے ہی پوچھا تھا بلاج نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا اور گاڑی روک دی تھی۔۔۔
“میں بلاج حمدانی ہوں بریرہ شاہ۔۔۔میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔۔
نقصان پہنچانا تو دور کی بات ہے بریرہ وہ تمہیں نقصان پہنچانے کا سوچ بھی جائے تو اسکا سامنا بلاج حمدانی سے ہوگا۔۔۔”
بلاج کی آنکھوں میں اترتے غصے اور باتوں میں جنون نے بریرہ کو ڈرا دیا تھا
“ہمم اوکے۔۔۔”
وہ اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی پر بلاج نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ لیا تھا
“ایم نوٹ کمفرٹیبل بلاج۔۔۔”
اس نے شرما کے سر نیچے کرلیا تھا
“اچھا بیوی اب شرما رہی ہے۔۔؟؟ ہاہاہا۔۔۔”
“بلاج۔۔۔”
۔
پر بلاج نے اسے موقع نہیں دیا تھا پھر کچھ بولنے کا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا سائیں۔۔۔بریرہ آئی ہے آپ سے ملنے۔۔۔”
۔
وہ ایک ہاتھ میں ڈرنک کی بوتل پکڑے لڑکھڑاتی ہوئی ان پیلی پٹیوں کو توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئی تھی جن پر کرائم سین لکھا ہوا تھا
۔
پورا گھر خالی تھی پر اس ہر جگہ روشنی نظر آرہی تھی وہ اتنی نشے میں تھی
۔
“ماں۔۔۔میں آئی ہوں آپ کی بیٹی۔۔۔مجھے ویلکم نہیں کریں گی اپنی ممتا کی آغوش میں نہیں لیں گی ماں مجھے۔۔۔؟؟”
دروازہ بند کر کے وہ اسی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔۔آنکھیں بند کرلی تھی اس نے
“بریرہ کتنی بھیگ گئی ہو بیٹا۔۔جلدی اٹھو اور کپڑے چینج کرو بچے۔۔۔”
اسکی بھاری آنکھیں کھل گئی تھی
“ماں۔۔؟؟”
جب دیکھا تو کوئی نہیں تھا
“ماں کہاں ہیں آپ۔۔؟ بہت یاد آرہی ہے آپ کی۔۔۔مجھے سینے سے لگا لیں میرے سینے میں جلتی آگ کے دھویں نے مجھے راکھ بنا دینا ہے ماں۔۔۔”
اپنے دونوں گھٹنوں پر سر رکھ کر وہ رونا شروع ہوگئی تھی
“بابا سائیں مجھے بھی آپ کے پاس آنا ہے بابا آپ جانتے ہیں نا سب کچھ غلطی میں ہوا بابا سائیں

وہ اٹھ گئی تھی اس فرش پر وہ نشان اسے صاف دیکھائی دے رہے تھے جو پولیس نے ان باڈیز کی جگہ لگائے تھے۔۔۔ وہ اس جگہ اس سرکل میں کھڑی ہوگئی تھی جہاں اس سے پہلے اسکے کاشان بھائی کی باڈی گری تھی۔۔۔
ایک جیتا جاگتا انسانوں سے رشتوں سے بھرپور گھر اب ایک کرائم سین کا منظر پیش کررہا تھا
۔
“بہت بُری بہن ثابت ہوئی ہوں نا میں کاشان بھیا۔؟؟ آپ کے بچے جب بڑے ہوں گے تو بہت بد دعائیں دیں گے مجھے رامین بھابھی کی طرح۔۔۔میں کیا سے کیا بن گئی میں کس سے گلہ کروں میں نے تو اپنے رب کی عبادت نہیں کی میں تو بھاگتی رہی اس سے۔۔
اب خود سے بھاگ رہی ہوں۔۔کہاں جاؤں۔۔آج اس بےوفا کا چہرہ دیکھا تو پتا چلا وہ کتنا بھیانک چہرہ تھا جو محبت کا لبادہ اوڑھ کر مجھے برباد کرگیا۔۔۔
اور میں معصومیت میں اپنے خاندان کو برباد کرگئی۔۔”
اس فرش پر لیٹ گئی تھی۔۔۔
آنکھیں بند ہورہی تھیں کھل رہیں تھی جب اس نے وہ بوتل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کی تو باہر سے ایک ہلکی ہلکی آذان کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی
“یا اللہ ۔۔۔”
اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا اور آنکھیں بھر آئیں تھیں اسکی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ۔۔۔۔”
عروج بیگم ایک چیخ سے اٹھی تھیں اور کچھ دیر بعد کمرے کی لائٹس آن ہوئی تھی باہر سے کچھ لوگ اندر داخل ہوئے تھے انکی چیخ کی آواز سن کر۔۔۔
“بھابھی کیا ہوا ہے ۔۔۔؟؟آپ ٹھیک تو ہیں۔۔؟؟”
“بھابھی آپ ٹھیک ہیں۔۔۔”
کبیر صاحب باہر کھڑے تھے جبکہ انکی بیوی اور عروج بیگم کی بہو رامین اندر آگئیں تھیں بھاگتے ہوئے
“امی آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
عروج بیگم نے بنا کچھ کہے رونا شروع کردیا تھا
“بریرہ کی یادیں میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ایسا لگتا ہے جیسے وہ زندہ ہے۔۔جیسے وہ مجھے بلا رہی ہے۔۔
جس نے تمہیں بیوہ بنا دیا جس نے میرا سہاگ چھین لیا مجھے اسکی فکر کھائے جا رہی ہے رامین۔۔۔”
رامین آگے بڑھ کر انکے گلے لگ گئی تھی اور وہ بھی رونا شروع ہوگئی تھی
“امی بریرہ معصوم تھی۔۔اسکے ساتھ جو ہوا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کس اذیت سے گزری ہوگی وہ۔۔۔”
انکے ساتھ سب کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔
“بابا حوصلہ کیجئیے۔۔”
پیچھے سے جیسے ہی کسی نے کبیر صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا کبیر صاحب مڑ کر اسکے گلے سے لگ گئے تھے
اس عمر میں انہیں جو غم مل چکے تھے انکو اور بوڑھا بنا دیا تھا انہوں نے
“بہرام نہیں دیکھا جاتا اب مجھ سے۔۔۔وہاں ان لوگوں کو مار دیا گیا یہاں جو بچے ہوئے ہیں وہ بھی مر رہے ہیں میری آنکھوں کے سامنے۔۔
ارسل بھی چا گیا کوئی خبر نہیں اسکی میں کیا کروں۔۔۔”
انکے لہجے سے انکے بڑے بیٹے کو پتا چل رہا تھا اسکے والد کا رونا
“ابو آپ فکر نا کریں سوچتا ہوں کچھ۔۔۔”
” کیا سچ میں بیٹا۔۔؟؟”
کبیر صاحب کی آنکھوں میں جیسے امید کی نئی کرن روشن ہوئی تھی
“جی ابو آپ جائیں۔۔ اندر تائی جان کو ہمت دیجئیے انکی طبیعت آگے ہی ٹھیک نہیں۔۔۔”
بہرام نے انکے پیچھے دروازہ بند کردیا تھا اور اپنا والٹ نکالا تھا اپنی پینٹ کی جیب سے۔۔۔
اس پرس کو کھولنے پر اسے ایک ہی تصویر نظر آئی تھی اسکی بیوی کی۔۔۔اوراس نے اس تصویر کے پیچھے سے ایک اور تصویر نکالی تھی
اور اس تصویر میں ہنستی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں بھی ایک درد اتر آیا تھا
“بریرہ شاہ۔۔۔مجھ سے شادی نہیں کرنی تھی تو نا کرتی پر اس طرح جان چھڑا کر تمہیں باہر واپس نہیں جانا چاہیے تھا۔۔۔”
“بابا۔۔۔بابا اندر سب رو رہے ہیں کیوں۔۔؟؟”
ایک چھوٹی سی بچی نے بہرام کی ٹانگوں پر اپنے چھوٹے سے ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا
“ارے میری پری کیوں رو رہے ہیں سب۔۔اندر چل کر پوچھیں۔۔؟؟”
بہرام اسے بہت پیار سے اپنی گود میں اٹھا کر اندر لے گیا تھا
“آپ سب کیوں رو رہے ہیں۔۔؟ مجھے بھی رونے کا دل کر رہا۔۔”
۔
پری کی باتیں سب کو ہنسنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔بہرام اسے وہاں چھوڑ کر باہر آگیا تھا اور اس نے اپنا موبائل نکال کر ایک ہی کال ملائی تھی
۔
“بہرام شاہ بات کررہا ہوں۔۔۔مجھے بلاج حمدانی اور اسکے خاندان کی ساری انفارمیشن چوبیس گھنٹوں میں چاہیے۔۔۔اگلی فلائٹ سے میں نیویارک آرہا ہوں۔۔۔”
یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔”
۔
۔
” تم اس طرح سے اتنی جلدی آگئی داد جی کو اچھا نہیں لگا،، نا تم مجھ سے ملتا چاہتی تھی
سب کو ہی گھر میں بُرا لگا”
“تو۔۔؟؟”
بریرہ نے ایک اور گھونٹ بھرا تھا اپنے جوس کے گلاس سے اسکی نظریں مہتاب پر جمی ہوئی تھیں جو ڈائیننگ ٹیبل پر بلکل سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا
“پشمینہ وہ داد جی ہیں میرے میں نے بتایا تھا نا تمہیں کہ ہماری فیملی بہت کنزرویٹو ہے۔۔”
مہتاب اپنی جگہ سے اٹھ کر بریرہ کے پاس والی کرسی پر بیٹھا تھا
“میں چائے لیکر آتی ہوں۔۔”
سونم ایکسکئیوز کرکے کچن میں چلی گئی تو مہتاب نے ہمت کر کے بریرہ کا ہاتھ پکڑا تھا
“کنزرویٹو مجھے تمہاری فیملی نہیں فیملی کے مرد لگے مہتاب۔۔ جن کی نظریں مجھ سے زیادہ میرے کپڑوں پر تھیں۔۔اور وہ تمہارے بڑے بھیا کیا نام تھا ان کا۔۔؟”
بریرہ نے یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اکٹنگ کی تھی
“بلاج بھیا ۔۔۔”
“ہاں ہاں بلاج حمدانی۔۔۔ کیسے دیکھ رہے تھے مجھے جیسے ابھی کھا جائیں گے۔۔
اور جب تم نے ہمیں انٹروڈیوس کروانا چاہا تو کیسے اپنی منگیتر کو وہاں سے لے گئے تھے”
“پشمینہ پلیز ایسی بات نہیں تھی تم۔۔۔”
“تم مجھے ایسے ڈیگریڈ نہیں کرسکتے مہتاب خاص کر اپنی فیملی کے سامنے۔۔اگر ان کو تمہاری پسند نہیں پسند تو یہ ان کا مسئلہ تھا۔۔پر ایسے شو کروا کر مجھے انسلٹ کیا گیا ہے۔۔
تمہیں پتا ہے میں یہ سب برداشت کرنے کی عادی نہیں ہوں۔۔”
اپنا ہاتھ زبردستی چھڑا کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی
مہتاب کو سمجھ نہیں آرہی تھی اب وہ کیا کرے۔۔وہ خود بھی حیران تھا اپنے بلاج بھیا کے اس رویے سے
پر بریرہ کے پارٹی چھوڑ جانے سے وہ اور زیادہ بریشان ہوا تھا
“پشمینہ سب کچھ نیا ہے ان کے لیے۔۔ خاندان میں اب تک بڑوں کی مرضی سے شادی ہوئی سب کی داد جی کی مرضی ہوتی ہے تب خاندان کے مرد شادی کرتے ہیں اور دادی جان کی مرضی سے خاندان کی بچیوں کی بات پکی کی جاتی ہے۔۔
میں اپنے خاندان کا پہلا مرد ہوں۔۔۔سب کو ایک شوک لگا ہے۔۔پر جس طرح تم وہاں سے چلی گئی انکو لگ رہا ہے تم نے بہت بدتمیزی کردی “
“تو۔۔؟؟ لگتا رہے اور میں اس جگہ کیسے کھڑی ہو سکتی جہاں مجھے حقارت کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہو۔۔؟”
“پر پشمینہ۔۔۔”
“پر کیا مہتاب۔۔؟ مجھے چھوڑ کر جانا چاہتے ہو تو جاؤ۔۔اور کرو اپنے داد جی کی مرضی سے شادی۔۔۔
یہ رہی انگوٹھی تمہاری۔۔”
۔
بریرہ نے وہ انگوٹھی اتار کر ایسی رکھ دی تھی جیسے وہ کوئی معنی نا رکھتی ہو
“تمہارے لیے اتنا آسان تھا پشمینہ۔۔؟ آئی لو یو ڈیم اِٹ بہت چاہتا ہوں تمہیں۔۔
نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر میں کسی صورت نہیں رہ سکتا۔۔۔”
مہتاب نے اسکے کندھے مظبوطی سے پکڑ لیے تھے
“ٹھیک ہے۔۔نہیں رہ سکتے تو پہلے اپنی فیملی کو یہ بات سمجھاؤ۔۔جب اپنی فیملی کو یہاں لے آؤ گے تب بات کرنا مجھ سے۔۔۔اور انہیں مجھ سے معافی مانگنی ہوگی جو انہوں نے بی ہئیویر کیا اسکی۔۔۔”
۔
“پشمینہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔؟ وہ بڑے ہیں یار۔۔۔”
“ہاں تو انہیں رائٹ ہے کسی کی عزت نفس کو ہرٹ کرنے کا۔۔؟
تم واقع وہ مہتاب ہو جو سب کے لیے لڑتا تھا۔۔؟”
بریرہ نے جیسے ہی مہتاب کے گال پر ہاتھ رکھا تھا مہتاب نے اسکی ویسٹ سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا
“میں وہی مہتاب ہوں پشمینہ۔۔۔ تمہارا مہتاب۔۔۔”
اس نے جیسے ہی اپنا چہرہ اور پاس کیا تھا تو بریرہ نے اپنا چہرہ پیچھے کرلیا تھا جس کی وجہ سے مہتاب کے ہونٹ اسکے رخصار کو چھو گئے تھے
“آہممم۔۔۔۔”
سونم کی آواز سے وہ دونوں پیچھے ہوگئے تھے بریرہ نے دس قدم کا فاصلہ بنا لیا تھا اور اوپر روم کی جانب بڑھتے بڑھتے رکی تھی
“مہتاب میں کوئی ہوکر یا بازری لڑکی نہیں اپنے خاندان کے مردوں سے کہنا کہ میں تمہاری ہونے والی بیوی ہوں اگر عزت دیں گے تو رشتہ ہوگا ورنی اپنی انگوٹھی ان کی مرضی کی لڑکی کو پہنا دو۔۔اور پھر میری زندگی میں واپس آنے کا سوچنا بھی مت۔۔۔”
وہ غصے سے کہہ کر وہاں سے چلی گئی تھی
۔
“سونم آپ ہی کچھ سمجھائیں۔۔میرے گھر والوں کو وقت لگے گا پشمینہ کو اپنانے میں۔۔”
سونم جو بریرہ کو منہ کھلے دیکھ رہی تھی مہتاب کی آواز سے اسکی نظریں سامنے کھڑے شخص پر گئیں تھیں جو ہو با ہو بلاج حمدانی کی کاپی تھا خوبصورتی میں
“دیکھیں مہتاب۔۔ب۔۔۔پشمینہ اپنی جگہ بلکل سہی ہے جہاں عزت نہیں وہاں رشتے کرنے سے صرف تکلیف ہوتی ہے
جو باتیں آپ پشمینہ کو سمجھا رہے وہ گھر جا کر اپنی فیملی سے کہیں اگر وہ لوگ آپ سے پیار کرتے ہوں گے تو سمجھ جائیں گے اور آپ کی پسند کو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔۔”
۔
یہ کہہ کر سونم برتن لےکر واپس کچن میں چلی گئی تھی۔۔۔ اسکی باتوں نے بریرہ کی باتوں کو اور تقویت دہ دی تھی۔۔اور جلتی آگ میں تیل کا کام کرگےگئیں تھیں سب باتیں۔۔
۔
“گھر والوں کو داد جی کو بلاج بھائی کو میری پسند پیری خواہش کو اپنا ہی ہوگا۔۔پشمینہ نے بلکل ٹھیک کہا کل جو بھی کیا سب نے بہٹ غلط کیا پشمینہ کے ساتھ۔۔۔”
۔
مہتاب یہ سوچ کر وہاں ست چلا گیا تھا اور اسی وقت اوپر بریرہ کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا
۔
“آج لڑائی ہوگی حمدانی فیملی میں۔۔وہ بھی ایک لڑکی کے پیچھے۔۔۔اور جھکنا ہوگا۔۔ان لوگوں کو۔۔
اب کھیل کا اور مزہ آئے گا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
حمدانی مینشن۔۔۔۔”
۔
۔
“مہتاب مجھے وہ لڑکی پسند نہیں آئی۔۔۔”
بلاج نے بریک فاسٹ شروع کیا تھا باقی سب بھی اپنی اپنی کرسی پر بیٹھ گئے تھے
“ایم سوری بھائی پر میں نے آپ کی اور پشمینہ کے رشتے کی بات نہیں کی۔۔”
مہتاب سیریس تھا بہت پر اسکی بات سے سب نے قہقہ لگایا تھا خاص کر مردوں نے بلاج کا غصے سے بھرا منہ دیکھ کر
“ہاہاہاہا بلاج بھائی۔۔۔”
“شٹ اپ ربیل۔۔۔اینڈ یو مہتاب حمدانی وہ لڑکی بہو نہیں بن سکتی۔۔۔میں نہیں خوش تمہاری پسند سے۔۔”
“ڈیٹس اِٹ بھائی۔۔پہلی بار کچھ مانگ رہا ہوں۔۔داد جی کے ہوتے ہوئے آپ فیصلہ کرنے والے کون ہیں۔۔؟؟آپ۔۔۔۔”
بلاج کے تھپڑ سے مہتاب کا منہ دوسری جانب ہوگیا تھا اور بلاج اٹھ گیا تھا غصے سے۔۔۔
۔
“بس مہتاب ایک اور لفظ نہیں بلاج کا فیصلہ ہی ہم سب کا فیصلہ ہے۔۔”
داد جی بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔گھر کی عورتوں کی طرف تو کوئی دیکھ بھی نہیں رہا تھا اور کسی میں ہمت بھی نہیں تھی کچھ بولنے کی۔۔
۔
“اور پشمینہ میرا فیصلہ میری پسند ہے۔۔۔”
۔
مہتاب کہہ کر گھر سے چلا گیا تھا۔۔
“مہتاب۔۔۔”
بلاج کے بلانے پر بھی نہیں رکا تھا وہ۔۔۔
۔
“یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے ہورہا ہے۔۔۔”
وہ بھی بڑبڑا کر باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“بلاج سر وہ رپورٹر ہم نے گیسٹ ہاؤس بھیج دیا ہے آپ سے جس نے پارٹی میں وہ سوال کئیے تھے۔۔”
گارڈ نے جاتے ہوئے بلاج کے پیچھے سے آواز دی تھی جس کے قدم اب مہتاب کے پیچھے نہیں اسکی گاڑی کی جانب تھے اور اس نے گیسٹ ہاؤس کے راستے کی جانب گاڑی کردی تھی
۔
“وہ رپورٹر جانتا ہوگا بریرہ شاہ کو۔۔۔آج یہ گیم پلان ختم ہوگا بریرہ شاہ کا۔۔۔۔”
طیش میں اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سمیر نہیں مل رہا اور تم مجھے اب بتا رہے ہو ڈینیل۔۔میں نے کہا تھا اسے روکنے کو وہ باتیں کرکے بلاج حمدانی کی ہٹ لسٹ آگیا تھا۔۔”
بریرہ ڈینیل کے کیبن میں چکر کاٹنا شروع ہوگئی تھی پریشانی میں
“مجھے ابھی اسکی بیوی نے بتایا بریرہ۔۔وہ بیچاری بہت رو رہی تھی۔۔آخری بار جب اسکی بات ہوئی تو وہ بتا رہی تھی سمیر بہت گھبرایا ہوا تھا۔۔”
۔
“بلاج کو ٹریس کرو۔۔۔ابھی۔۔کسی سے ٹریس کرواؤ۔۔۔یہ گاڑی ٹریس کرواؤ۔۔۔”
بریرہ نے ایک نمبر جلدی جلدی سے لکھ دیا تھا
“پر بریرہ تم کیسے اتنے یقین کے ساتھ کہہ سکتی وہ یہ گاڑی استعمال کر رہا ہوگا۔۔۔”
“تم باقی سوال بعد میں کرنا۔۔۔یہ نمبر ٹریس کر کے بتاؤ گاڑی کس جگہ رکے فورا بتانا۔۔۔”
بریرہ اپنی گلاسیز پہن کر وہاں سے چلی گئی تھی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم سب کے سب باسٹرڈ ہو کس نے کہا تھا اسے اس طرح مارنے کو۔۔؟؟
ہوش میں لاؤ اسے ۔۔۔۔۔”
۔
بلاج اپنے گارڈز کو کہہ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا تھا ایک کال سننے
۔
“”تم لوگ گاڑی کے پاس رہو۔۔۔ جب اشارہ کروں تب ہی اندر آنا۔۔۔”
بریرہ نے اپنا ماسک پہن لیا تھا اور بیک ڈور سے اندر چلی گئی تھی
۔
پر جب اسکی نظریں ان گورے گارڈز پر پڑی اور زمین پر پڑے بےہوش سمیر پر پڑی تو بریرہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا سمیر کی زخمی حالت پر۔۔۔
“بلاج حمدانی اس قدر ظالم انسان ہو تم اس قدر ظلم۔۔۔۔”
اور اس نے اپنی گن نکال لی تھی۔۔۔
۔
۔
“میں کہاں ہوں کہاں نہیں تمہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے مدیحہ فون بند کرو مجھے ایک امپورٹنٹ کال آرہی ہے۔۔۔”
“پر بلاج میری۔۔۔”
“باۓ میں گھر آکر کروں گا باقی باتیں۔۔۔۔”
بلاج نے اسکا فون کاٹ کر دوسری کال ریسیو کرلی تھی۔۔۔۔
اور مصروف ہوگیا تھا اسکا دھیان اس وقت ہٹا تھا اس کال سے جب اسے نیچے سے گولی چلنے کی آواز آئی تھی۔۔۔
۔
وہ جب نیچے جلدی سے گیا تو اسکے تمام گارڈز نیچے گرے پڑے تھے۔۔۔
“کس نے کیا۔۔۔؟ کہاں گیا وہ رپورٹر۔۔۔؟ باسٹرڈ۔۔۔۔”
ایک گارڈ نے باہر کی جانب اشارہ کیا تو بلاج نے اپنی گن نکال لی تھی اور باہر جاتے ہی اس نے اس گاڑی میں بیٹھنے والے آخری ماسک پہنے پرسن پر گولی چلائی تھی۔۔۔۔
۔
اسے جلدی سے ہسپتال لے کر جانا ہوگا اور تم۔۔۔۔”
پیچھے سے بریرہ کے کندھے پر لگنے والی گولی نے اسے نیچے گرا دیا تھا
“اسے لیکر جاؤ یہاں سے۔۔۔۔اسکے حکم پر وہ لوگ زخمی سمیر کو تو وہاں سے لے گئے تھے پر بریرہ کی نظریں بلاج حمدانی اور اسکے ہاتھ میں پکڑی پسٹل پر تھی۔۔۔
۔
“بلاج حمدانی کبھی تو میری سوچ سے کچھ الٹا کرتے۔۔۔۔محبت جو مار دی ہے اسے کیوں مارنے آجاتے ہو بار بار۔۔۔۔”
بریرہ کے گر جانے پر بلاج کے ہاتھ سے وہ پسٹل بھی گرگیا تھا۔۔۔
اسے پتا چل گیا تھا وہ ماسک پہنے کوئی لڑکی سڑک پر اپنے خون سے لت پت گری ہوئی تھی۔۔۔
اور وہ یہ بات سوچ کر پہلی بار ڈرا تھا کہیں یہ۔۔۔۔
“بریرہ۔۔۔۔۔”
بلاج آگے بڑھا۔۔۔اسے آگے بڑھتے دیکھ وہ پھر سے اٹھی تھی ہمت کرکے۔۔۔
“بریرہ یہ وقت ہمت ہارنے کا نہیں زخم سہلانے کا نہیں ہے۔۔بلاج حمدانی اگر مجھ تاک پہنچ گیا تو سب کچھ ختم ہوجائے گا”
۔
وہ خود سے یہ کہہ کر اپنے زخمی کندھے کو پکڑ کر کھڑی ہوئی تھی
“بریرہ۔۔میں جانتا ہوں تم ہی ہو۔۔رک جاؤ ورنہ گولی چلا دوں گا۔۔۔”
بلاج نے اپنی گری ہوئی گن نہیں اٹھائی تھی۔۔وہ وہین زمین پر پڑی تھی
پر وہ یہ کھوکھلی دھمکی دے کر اسکے قدم روکنا چاہتا تھا
“بریرہ۔۔۔”
وہ جتنا چِلا رہا تھا بریرہ کے قدم تیز ہورہے تھے
“بس بریرہ۔۔۔بس میں گولی مار دوں گا۔۔۔”
۔
اس نے اپنی پسٹل نیچے سے اٹھا لی تھی اور اسی وقت بریرہ پیچھے مڑی تھی جسکے چہرے پر ماسک تھا
بریرہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے گولی چلانے کا کہا تھا۔۔۔اور جب بلاج حمدانی میں ہمت نہیں ہوئی تو بریرہ نے لوزر کا سائن بنا کر واپس پیچھے مڑنا چاہا تھا اور ایک گولی اسکی ٹانگ کے پار ہوگئی تھی۔۔
وہ اپنے گھٹنوں کے بل گر گئی تھی۔۔
۔
“بلاج حمدانی کو شاید خود نہیں پتا تھا اس نے یہ گولی مار کر ایک بھرم بھی توڑ دیا تھا اس لڑکی کا جس نے ٹوٹ کر محبت کی تھی اس شخص سے۔۔۔”
“اب تو نفرت بھی چھوٹے لفظ ہے بلاج جو تمہارے لیے اب محسوس کر رہی ہوں میں۔۔۔”
۔
“بریرہ۔۔۔ ایم سوری۔۔۔میں گولی۔۔نہیں چلانا چاہتا تھا۔۔۔”
بلاج نے جب اسے خون میں گرا دیکھا تو وہ اسکی جانب بڑھا تھا
اسکے سامنے وہ سب منظر گھوم رہے تھے جو اس نے اس لڑکی کی حفاظت میں گزارے تھے اور آج اسے اپنے ہاتھ سے نقصان پہنچا کر وہ اپنے آپ کو مرد نہیں ایک ناکام انسان جان رہا تھا
“بریرہ۔۔۔”
وہ بنا کوئی حرکت کئیے وہاں بیٹھی تھی۔۔۔
بلاج حمدانی کے پیچھے سے ایک تیز رفتار بائیک گزری تھی اور وہ بریرہ کے پاس جاکر رکی تھی جو بائیک چلا رہا تھا اسکا حلیہ بھی بریرہ جیسا تھا پوری طرح سے کور۔۔۔
فرق اتنا تھا اس نے ماسک کی جگہ ہیلمٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔
“ہاتھ دو بریرہ۔۔۔۔”
اس نے بائیک روک کر آہستہ آواز میں جیسے ہی کہا تھا بریرہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا جہاں بلاج بھاگتے ہوئے اسکی جانب آرہا تھا۔۔۔
“بریرہ۔۔۔”
بریرہ نے اس اجنبی کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا اور اسکے سہارے وہ پیچھے بائیک پر بیٹھ گئی تھی
۔
“بریرہ۔۔۔رک جاؤ۔۔۔۔”
“چلو یہاں سے۔۔۔”
۔
اس نے ایک اپنا سر اس شخص کی بیک پر رکھ کر آنکھیں بند کر لی تھی اسکی جس قدر تکلیف ہورہی تھی اسکی ٹانگ اور کندھے پر۔۔۔
۔
پر یہ تکلیف اسکے دل میں ہورہی تکلیف سے بہت کم تھی۔۔۔
۔
“اگر لڑکیوں کو اپنی بھیانک محبت کا مستقبل نظر آجائے تو وہ کبھی کسے ظالم کی محبت کا نشانہ نا بننے دیں خود کو۔۔۔
وہ محبتیں جو خاندان کی عزتیں تو کھا جاتی ہیں اور جان نکال جاتی ہیں جسموں سے۔۔۔
وہ محبتیں جو برباد کرکے عبرت بنا دیتی ہیں معاشرے میں ہمیں۔۔۔”
۔
“آپ کون۔۔۔۔”
“بہرام۔۔۔شاہ۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔