Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034 Episode 03
Rate this Novel
Episode 03
“بھول جانے کا ہنر،،، مجھ کو سیکھاتے جاؤ
جارہے ہو تو سبھی نقش مٹاتے جاؤ”
۔
بریرہ نے ٹیبل پر پڑے میگزین کو پکڑ کر چہرہ چھپا لیا تھا اپنا اور کچھ گارڈز کے پہرے میں بلاج حمدانی اپنی منگیتر کے ساتھ اسکے ٹیبل کے پاس سے گزر گیا تھا اور سامنے والی ٹیبل پر بیٹھ گیا تھا۔۔
پر بیٹھنے سے پہلے مدیحہ کے لیے کرسی پیچھے کھینچ کر اسے بیٹھایا تھا اس نے بہت پیار سے
“بلاج حمدانی۔۔۔”
اسکے آنسو اس کے سامنے پڑی اسکی کافی کے کپ میں گر رہے تھے
۔
“چلو،،،، رسمن ہی سہی،،،مڑ کے مجھے دیکھ تو لو۔۔۔
توڑتے توڑتے تعلق کو،،،نبھاتے جاؤ۔۔۔”
۔
اس نے وہ کافی اٹھا کر پی لی تھی اور اپنی بلیک گلاسیز لگا کر اپنا چہرہ اس طرح سے جھکایا تھا کہ اسکے بالوں سے اسکا منہ کور ہوگیا تھا۔۔۔
وہ نظر رکھے ہوئے تھی اس جوڑے پر خاص کر اس شخص پر جس نے اسی کیفے میں اس سے اپنی چاہت کا اظہار کیا تھا۔۔۔
اور آج وہ اپنی پریگننٹ منگیتر کے ساتھ اپنی محبت کے گیت گنگنارہا تھا آج یہاں۔۔۔
۔
۔
“اگر جان کی امان پاؤں تو میں یہاں بیٹھنے کی گستاخی کر سکتا ہوں مس بریرہ شاہ۔۔؟؟”
۔
ایک جانی پہچانی آواز سے بریرہ کی کافی اسکے منہ سے باہر آگئی تھی جو سیدھا اس شخص کی وائٹ شرٹ پر گری تھی۔۔۔
“وٹ دا اگئین۔۔۔؟؟؟”
بلاج کے لہجے میں ایک شرارت تھی
“پتا نہیں ہے کچھ ضروری پڑھ رہی تھی اب ایک دم تھے انجان جگہ پر میرا کوئی نام ایسے لے گا تو یہی ری ایکٹ ہوگا نا۔۔۔؟؟ مسٹر۔۔۔۔”
بریرہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے اسکی شرٹ صاف کرنا شروع کر دی تھی
۔
“انجان۔۔۔؟؟ تمہارے بابا سائیں کا علاقہ ہے سب تم سے ڈرنے والے اور تم ایسے ری ایکٹ کر رہی مس بریرہ شاہ۔۔۔”
بریرہ کے ہاتھ پکڑ لئے تھے بلاج نے۔۔۔اور تب اسے احساس ہوا تھا وہ کتنا قریب تھی اس کے
“تو آپ کونسا کم ہیں۔۔؟؟ میں نے سنا ہے بہت سالوں سے ناکام کوشش کر رہے ہیں آپ میرے بابا سائیں کی جگہ لینے کی یہاں۔۔۔؟؟؟”
بریرہ کے طنز پر بلاج کی گرفت اور مظبوط ہوئی تھی اس کے ہاتھ پر۔۔۔
“تو بھیگی بلی کی زبان بھی ہے۔۔؟؟”
“ہاتھ چھوڑو پھر بتاتی ہوں اس بھیگی بلی کی جنگلی سائیڈ۔۔۔۔”
اور اس نے ہاتھ چھڑا لیا تھا بلاج حمدانی کو شوکڈ چھوڑ کر وہ واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئی تھی اور اپنی کافی پینے لگی تھی۔۔۔
“بریرہ۔۔۔”
پر بریرہ نے وہ پیپر منہ کے آگے رکھ لیا تھا
“میں یہاں لڑائی کرنے نہیں آیا تھا کڈو۔۔”
“وٹ دا۔۔۔؟؟ اگر پھر کڈو کہا آئی سویر میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔”
وہ جس طرح سے اٹھی تھی وہ کافی پورے ٹیبل پر گر گئی تھی اور بلاج غصے سے اٹھ گیا تھا
“میں یہی چاہتا ہوں بریرہ شاہ۔۔۔کہ تم مجھے مت چھوڑو۔۔۔ اس دن کے بعد سے
صرف تمہیں ہی سوچ رہا ہوں۔۔۔اور آج یہاں تمہیں اس لیے فالو کیا کہ کچھ بات کرنی تھی مجھ سے۔۔۔”
بریرہ کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر بلاج نے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
“کی۔۔۔کیا بات کرنی ہے سر۔۔۔؟؟”
“ہاہاہا جھانسی کی رانی اب آواز کو کیا ہوا۔۔۔؟؟؟”
پر بریرہ کی آنکھوں میں ایک ڈر بیٹھ گیا تھا بلاج کی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر وہ ایسی ہی تھی ڈڑی ہوئی سہمی ہوئی لڑکی
بلاج خود بھی حیران تھا
“ڈیٹ پر چلو گی۔۔۔؟؟”
بریرہ کی آنکھوں میں دیکھ کر اس نے جیسے ہی سرگوشی کی بریرہ نے آنکھیں بند کر لی تھی جیسے بلاج کا چہرہ اور پاس ہوا تھا
“سر۔۔۔آپ پوچھ رہے ہیں یا بتا رہے ہیں۔۔۔؟؟”
اس کے معصومانہ سوال پر بلاج حمدانی کھلکھلا کر ہنسا تھا اور جو کچھ ویٹر وہاں رک گئے تھے وہ بھی گارڈز کے اشارے سے واپس کچن کی طرف بھاگ گئے تھے
“پوچھ رہا تھا۔۔۔پر اب بتا رہا ہوں۔۔ٹھیک نو بجے پک کرنے آؤں گا تمہیں شاہ ہاؤس میں۔۔۔”
وہ اپنا حکم سنا کر ابھی جانے لگا تھا کہ بریرہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“شاہ ہاؤس آنے کی غلطی مت کیجئیے گا سر،،،آپ آئیں گے اپنے پیروں پر،، پر جائیں گے چار کندھوں پر۔۔۔”
اور بریرہ نے اپنا چشمہ اور اپنا موبائل اٹھا لیا تھا۔۔۔
وہ ایک قدم آگے بڑھی تھ کہ کچھ لمحوں میں بلاج حمدانی کی مظبوط گرفت میں تھی
“بلاج حمدانی کو مارنے کی ہمت نہیں کسی میں بریرہ شاہ۔۔۔ یہ تو تم پر میرا دل آگیا اس لیے تمہیں جاننا چاہتا ہوں۔۔اور خطروں سے الجھنا اور انہیں جڑ سے اکھاڑنا اچھے سے آتا ہے مجھے۔۔۔”
“اوکے۔۔۔آپ کو ڈیٹ پر لے جانا ہے۔۔میں خود آجاؤں گی۔۔پر پلیز گھر مت آئیے گا آپ۔۔۔”
وہ ڈرتے ہوئے کہہ رہی تھی بلاج نے اسکی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اسکا چہرہ اٹھایا تھا
“جھوٹ تو نہیں بول رہی۔۔۔؟؟ دھوکہ تو نہیں دے جاؤ گی۔۔؟؟”
“بریرہ شاہ اپنے الفاظ سے کبھی پیچھے ہٹی نہیں۔۔۔اور دھوکہ ہمارے خون میں شامل نہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔اوکے کڈو۔۔۔”
وہ ایک شیطانی ہنسی ہنسا تھا۔۔۔ اور اپنے گارڈز کو اشارہ کر کے وہ باہر گیٹ کی طرف بڑھا تھا
“بلاج۔۔۔۔تمہیں ہاں کہنا کہیں میری زندگی کی غلطیوں میں سے سب سے بڑی غلطی نا بن جائے۔۔؟؟ کیا تم پر یقین کیا جا سکتا ہے۔۔۔؟؟”
اسکی بات پر بلاج رکا ضرور تھا پر مڑا نہیں تھا
“اگر غلطی ہوئی تو سب سے خوبصورت غلطی ہوگی۔۔۔بلاج حمدانی کی اک نظر کو یہاں کی لڑکیاں ترستی ہیں۔۔۔”
وہ مغرور انداز میں بولا تھا
“اور تمہارے دل کو۔۔۔؟؟”
۔
۔
“میم ۔۔۔”
۔
بریرہ کی گلاسیز کی وجہ سے وہ ویٹر اسکی بھیگی آنکھیں دیکھ نہیں پایا تھا۔۔۔بریرہ نے نظر اٹھا کر سامنے ٹیبل کی طرف دیکھا تھا جہاں بلاج مدیحہ کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا رہا تھا
۔
“تیرا ہاتھ کل تک میرے ہاتھ میں تھا،،،تیرا دل دھڑکتا تھا دل میں ہمارے
یہ مخمور آنکھیں جو بدلی ہوئی ہیں،،،،کبھی ہم نے ان کے تھے صدقے اتارے”
۔
“تم میری زندگی کی غلطی بنے پر ایک بدصورت غلطی بنے بلاج۔۔۔ایک داغدار اور ایک یاد گار غلطی جسے میں نے یاد رکھنا ہے۔۔۔اور تمہاری اس خوبصورت غلطی کو بدصورت بنانا ہے۔۔۔”
وہ وہاں سے جلدی سے اٹھ گئی تھی اور باہر چلی گئی تھی جہاں سڑک کے اس پار اس نے کسی کو ہاتھ کے اشارے سے کچھ کہا تھا۔۔۔
۔
“بلاج تم واپس کب آؤ گے۔۔۔؟؟”
“ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں مجھے۔۔۔”
اس نے وہ پلیٹ سےایک بائٹ اور کھلا کر وہ پلیٹ سائیڈ پر کردی تھی۔۔۔پر اسکی نظریں اس لڑکی کے چہرے کو مسلسل دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جس کی نگاہیں اسے خود پر محسوس ہورہی تھیں وہ بلاج حمدانی تھا اسے اتنا تو پتا چل جاتا تھا کون اسے آبزرو کررہا ہوتا اور کون نہیں۔۔۔
اس لڑکی کے باہر جانے کے بعد اس نے اپنے گارڈ کو دیکھا تھا جو اس لڑکی کو کیفے کے باہر تک فالو کرنے نکلا تھا
“بلاج مت جاؤ نا مجھے پتا نہیں کیوں اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔”
“سیریسلی مدیحہ۔۔۔؟؟ مجھے یہ سب چونچلے پسند نہیں۔۔۔”
اسکو آج وہ الفاظ یاد آگئے تھے اس لڑکی کے جو ایک صبح اسی طرح سے روک رہی تھی۔۔۔
وہ جو گارڈ فالو کررہا تھا جب کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ واپس نہیں آیا تو بلاج نے ڈرائیور کے ساتھ مدیحہ کو گھر بھجوا دیا تھا اور خود اسی جگہ چلنا شروع ہوگیا تھا
۔
“پلان کامیاب ہوا بریرہ میم۔۔۔؟”
“ہمم ان لوگوں کو اپنے پیچھے ہی رکھو۔۔۔جب تک اس ڈرائیور کے ساتھ وہ لڑکی کڈنیپ نہیں ہوجاتی۔۔۔۔”
۔
اور وہ وہیں اپنی گاڑی میں بیٹھی بلاج حمدانی کو اپنے ہی لوگوں کو فالو کرتے دیکھ رہی تھی اور دوسری طرف اسکے لوگ بلاج حمدانی کے ڈرائیور کو گن پوائنٹ پر روک چکے تھے
۔
“کون ہو تم لوگ۔۔؟؟ بلاج حمدانی کو نہیں جانتے کیا۔۔۔؟؟”
مدیحہ نے ڈرتے ہوئے جب بولا تو اسے ایک تھپڑ مارا گیا تھا
“بلاج حمدانی ابھی ہمیں نہیں جانتا۔۔۔چلو گاڑی میں”
مدیحہ کو بازو سے پکڑ کر وہ لے جارہیے تھے کے اس آدمی کے سر پر پیچھے سے کسی نے پسٹل رکھ دیا تھا
“تھینک گاڈ ربیل تم آئے۔۔۔”
بلاج کے کزن کو دیکھ کر سکون کا سانس لیا تھا مدیحہ نے پر کچھ پل کو وہ خود گھبرا گئی تھی جب پیچھے سے ایک پرچھائی نما ایک لڑکی نے ربیل کے سر پر وار کیا تھا اور مدیحہ کو گارڈز نے دوسری گاڑی میں ڈال دیا تھا
“بریرہ میم اسے یہیں چھوڑ دیں۔۔؟؟”
بریرہ نے نفی میں سر ہلا دیا تھا اور ربیل کو اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا تھا
۔
۔
“وٹ دا ف٭٭۔۔۔۔میری منگیتر پچھے پانچ گھنٹے سے لاپتہ ہے اور آپ لوگ کہہ رہے ہیں صبر کرو۔۔۔”
“مدیحہ مہارے ساتھ تھی ڈیم اٹ تمہاری ڈیوٹی تھی اسے ساتھ واپس لانے کی مدیحہ کے ڈیڈ نے بلاج کا گریبان جیسے ہی پکڑا تو ڈاد سے اٹھ گئے تھے
“بلاج کو اچھی طرح پتا ہے اسکی ڈیوٹی۔۔۔میرے گھر کے ایک مرد کا گریبان پکڑ کر تم اپنی موت کو دعوت نا دو۔۔۔بلاج کو پتا ہے اس نے کیا کرنا ہے۔۔۔”
اور بلاج اپنا گریبان چھڑا کر وہاں سے بہت طیش میں چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔”
۔
۔
“تم بلاج کو نہیں جانتی وہ تمہارے ٹکڑے کردے گا اگر تم نے مجھے یا بلاج بھائی کی منگیتر کو کوئی نقصان پہنچایا تو۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔یہاں ہم اسے جان کر برباد ہوگئے اور یہ صاحب کہتے ہیں میں نہیں جانتی۔۔؟؟
ایک شیطانی قہقہ لگائے وہ اس اندھیرے سے بھرے کمرے میں داخل ہوئی تھی منہ پر بلیک ماسک لگائے بلیو جینز پر بلیک شرٹ اور لیدر کی جیکٹ اور لمبے لیدر کے بوٹ پہنے جب وہ اس کمرے میں آئی تھی اس کمرے کی سرگوشیاں بند ہوگئیں تھی اور ہوا میں خوف پھیل سا گیا تھا جب پلکیں اٹھا کر اس نے کرسی پر بندھے دو لوگوں کو دیکھا تھا
جس میں سے ایک بلاج حمدانی کی منگیتر اور دوسرا بلاج کا کزن تھا
۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔؟؟کون ہو تم”
“شی اِز ڈیم ہوٹ بھابھی۔۔اگر تم میری کڈنیپر نا ہوتی تو اپنی سب سے مہنگی گاڑی میں ڈیٹ پر لے جاتا تمہیں سیکسی۔۔”
بریرہ نے سامنے ٹیبل پر پڑے پانی کے جگ کو اس امیچئور شخص پر پھینک دیا تھا
“تم اس موت کے منہ پر ہو مرنے سے پہلے تو کچھ گناہ چھوڑ دیتے باسٹرڈ۔۔۔”
ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر وہ بیٹھ گئی تھی ان دونوں کے سامنے
“تم کون ہو۔۔؟ بلاج ہمیں بچا لے گا۔۔۔”
“اچھا لیٹس سی۔۔۔”
گن نکال کر بریرہ نے اس لڑکی کے سر پر رکھی تھی
“پلیز ڈونٹ۔۔۔۔ایم پریگننٹ۔۔۔۔”
بریرہ کے ہاتھ کچھ پل کو کانپ گئے تھے۔۔۔ماضی یاد آگیا تھا اسے
۔
“تیرے لیے میری عبادتیں وہی ہیں
تو شرم کر تیری عادتیں وہی ہیں۔۔”
۔
“وٹ۔۔؟ بلاج بھائی کی ایک اور ناجائز اولاد۔۔؟ پہلے وہ دشمن کی بیٹی۔۔؟
کنٹرول نہیں کر سکتے وہ باسٹر”
“شٹ اپ ربیل”
“یو شٹ اپ بچ۔۔۔ سارے خاندان کی عزت خاک میں ملا رہے ہیں بلاج “
“اسے کھولو۔۔۔ابھی۔۔۔”
بریرہ نے ربیل کی کرسی کو دیکھ کر حکم دیا تھا اور گارڈز اندر آگئے تھے۔۔۔
“ناجائز کون ہے میں بتاتی ہوں۔۔۔”
گارڈز نے جیسے ہی اسے پکڑا تھا بریرہ نے زور دار تھپڑ مارا تھا اور پھر ایک کے بعد ایک ضرب لگائی تھی اسکے منہ پر
یہ اسکی ٹریننگ کا نتیجہ تھا جو وہ پچھلے سال سے لے رہی تھی
“اسے چھوڑ دو وہ بچہ ہے۔۔۔”
بریرہ نے جیسے ہی گن نکالی تھی تو مدیحہ رونا شروع ہوگئی تھی
“بچہ۔۔؟؟ یہ بچہ پچھلے سال سے کتنی بچیوں کی زندگی برباد کرچکا ہے تمہیں پتا ہے۔۔؟
اس نے کتنوں کی عزتیں خراب کی یہ بچا۔۔؟ “
وہ ابھی بات کر رہی تھی کہ گولیاں چلنے کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں تھیں
“بلاج حمدانی۔۔”
گارڈ نے آہستہ آواز میں انفارم کیا تھا
“آگیا میرا بھائی اب وہ بتائے گا تجھے کہ حمدانی خاندان کے ساتھ دشمنی کرنے والے کو کیا سزا ملتی ہے۔۔۔تو”
وہ جیسے ہی اٹھا تھا یہ کہتے ہوئے بہت غرور سے بریرہ نے اسکی ٹآنگ پر شوٹ کردیا تھا
اور وہ چیختے ہوئے گر پڑا تھا۔۔۔
“کم آن بریرہ۔۔۔ابھی چلنا ہوگا لوکیشن ٹریس ہوگئی ہے۔۔”
پیچھے سے بریرہ کو کسی نے باہر کھینچ لیا تھا
“بلاج حمدانی سے کہنا اسکی ناجائز اولاد کو اس بار چھوڑ دیا ہے میں نے اسکی منگیتر اور اسکے نکمے کزن کی زندگی کے ساتھ
اور تم بچے ہو ابھی مرد بنو لڑکیوں کی طرح رو رہے ہو۔۔؟
یہ حقیقت ہے تم اور تمہارےخاندان کے سو کالڈ مرد لوگوں کی پیٹھ پیچھے وار کرنا جانتے ہو
میں سامنے سے کر رہی ہوں اور آگے بھی کروں گی وہاں جہاں اسے لگ گا بھی اور دُکھے گا بھی۔۔”
نیچے گرے ہوئے ربیل حمدانی کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا بریرہ کی آواز میں چھپی نفرت اور لفظوں میں دھمکی محسوس صاف پتا چل رہی تھی
وہ بیک ڈور سے باہر گئے تھے اور بیک ڈور پر ہی بلاج حمدانی اپنے گارڈز کے ساتھ کھڑا تھا
۔
“مدیحہ ۔۔۔ربیل۔۔ شٹ تمہیں تو گولی لگی ہے۔۔۔”
بلاج نے گارڈز کو کہا تھا جنہوں نے ربیل کو اٹھا لیا تھا
یہ وہی کزن تھا جس نے بریرہ کے لیے ویڈیو کا سب کے سانے کہا تھا اور تھوڑی دیر پہلے اپنے ہی کزن کو اتنا کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔
بریرہ ایک کونے میں ایک دیورا کے پیچھے چھپ گئی تھی جب بلاج ان لوگوں کے ساتھ باہر گاڑی تک چلا گیا تھا
“بریرہ ابھی بھی وقت ہے مار دو اسے۔۔۔”
پاس کھڑے ایک شخص نے نفرت سے کہا تھا بریرہ نے اپنی گن اپنی بیک پر لگا کر پاس کھڑے انسان سے چھین لی تھی
جب بلاج کی کمرے پر اسے ایک لال رنگ کا نقتہ سا نظر آیا تھا اسے سمجھ آگئی تھی بلاج کے دل پر ٹارگٹ کر کے کوئی گولی چلانے والا ہے۔۔
بریرہ نے اپنی گن سے بلاج کی ٹانگ پر فائر کردی تھی جس سے بنا چیخے بلاج نیچے گر گیا تھا
جیسے وہ نیچے گرا تھا اسکی گاڑی پر ایک گولی چلی تھی۔۔۔
سب لوگ نیچے بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“اپنی گن دو ابھی۔۔۔”
بریرہ نے اپنا ہاتھ باہر نکال کر اس بلڈنگ کی طرف نشانہ لگایا تھا جہاں کھڑا وہ ٹارگٹ کلر ایک اور گولی بلاج پر چلانے والا تھا۔۔۔
بریرہ کا نشانہ اسکے اسی ہاتھ پر لگا تھا جہاں اسنے گن پکڑی ہوئی تھی۔۔۔
بلاج کے گارڈز نے سب کو کور کر لیا تھا۔۔۔
اور اتنے لوگوں میں بلاج کی نظریں اس دیوار کے پیچھے ماسک پہنی لڑکی پر پڑی تھی
اسکی آنکھیں تھیں جن پر پردہ نہیں تھا بلاج حمدانی ماہر تھا آنکھیں دیکھ کر پہچاننے میں اسی لیے بریرہ نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی اور اس بلڈنگ پر کھڑے کلر پر ایک اور نشانہ لگایا تھا۔۔
ایک آخری بار اس نے بلاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں ایک آگ تھی جس میں جل کر راکھ ہونا تھا بلاج حمدانی نے۔۔۔
۔
“بریرہ وہ رشئین مافیا کے لوگ ہیں۔۔اگر مارتے ہیں تو مارنے دو اس پورے نیو یارک میں بلاج حمدانی کے ہزار دشمن ہیں فار گاڈ سیک
تم نے خود اسے مارا نہیں کسی اور کو مارنے نہیں دیا۔۔۔
کیسے پورا ہوگا بدلا۔۔؟؟”
اپنی گن واپس کھینچ کر وہ چلایا تھا بریرہ واپس اندر چلی گئی تھی خفیہ رستے سے اور گراؤنڈ فلور سے پارکنگ کی طرف
“بریرہ میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔۔”
“بریرہ شاہ اگر اسے موت کے گھاٹ اتارنا چاہتی تو پہلے ہی مار دیتی پر نہیں موت اتنی آسان سزا۔۔؟؟
اور کسی کو کیسے حق دے دوں میرے شکار کو شکار کرنے کا۔۔؟؟
وہ میرا شکار ہے
وہ میرا بےوفا ہے میری محبت کا بےوفا ہے۔۔۔
وہ بےوفا محبت کا مجرم ہے اس کی سزا اور جزا محبت تہہ کرے گی
بریرہ شاہ تہہ کرے گی اسے برباد کرنے کے بعد اسے پوری طرح توڑنے کے بعد۔۔۔
اسے ابھی وہ سب دیکھنا ہوگا جو وہ دوسروں کو دیکھاتا تھا اپنا قہر۔۔۔
اب اسے دیکھنا ہوگا بریرہ شاہ کا قہر۔۔۔
میری نفرت طوفان کی طرح تہس نہس کر دے گی اسکی محبتیں اور خوشیاں۔۔۔
پھر میرا بدلہ توڑے گا اسکے غرور اس کی اکٹر کو۔۔۔۔
وعدہ ہے بریرہ شاہ کا۔۔۔۔”
۔
بریرہ نے اپنی سامنے کھڑی ہیوی بائیک پر سے ہیلمٹ اٹھا کر پہن لیا تھا اور بائیک پر بیٹھ کر اسے سٹارٹ کردیا تھا
“بریرہ دوسرے رستے سے جاؤ بلاج اسے رستے پر سے گئے ہیں”
پر بریرہ نے سپیڈ بڑھا دی تھی
اور سپیڈ کے بعد اسے اس خالی روڈ پر وہ تین گاڑیاں جاتے ہوئے نظر آئی تھی۔۔
بریرہ نے بائیک اس طرف کردی تھی گاڑی کے جس طرف بلاج بیٹھا تھا
اور جب اسکی بائیک بلاج کے پاس سے گزری تھی اس نے اپنے ہاتھ سے لوزر کا سائن بنا کر بلاج کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
اور پھر آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تھی اسکی بائیک۔۔۔”
۔
“بریرہ شاہ۔۔۔۔”
بلاج نے ہلکی آواز میں کہا تھا۔۔۔
۔
۔
“وٹ۔۔۔؟؟ اب دن کے وقت بھی تمہیں وہ نظر آنے لگی۔۔؟؟”
مدیحہ نے نفرت سے بھرے لہجے میں کہا تھا اور دور ہوکر بیٹھ گئی تھی
“سر ہم گاڑی ہسپتال نہیں لے جاسکتے وہاں میڈیا سب کور کر لے گا داد جی نے گھر میں ڈاکٹر بلا لئیے ہیں۔۔۔”
ڈرائیور نے بات شروع کی تھی پر اسے اپنی ٹانگ پر لگی گولی سے درد محسوس نہیں ہورہا تھا۔۔
اسے بار بار وہ سین نظر آرہا تھا
“وہ کون تھی۔۔؟ مدیحہ کو آغو اس نے ہی کیا تھا اس کا مقصد کیا تھا۔۔؟؟”
وہ سوچوں میں گم تھا کہ مدیحہ نے بلاج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
“وہ جو بھی تھی بلاج۔۔۔اس نے کہا تھا وہ سود سمیت حساب لے گی تم سے۔۔”
“بلاج بھیا یہ کوئی بھی ہوسکتی ہے پر آپ کی وہ رکھیل نہیں ہوسکتی بریرہ شاہ وہ اور یہ لڑکی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔”
ربیل نے بھی وہی بات کی تھی پر بلاج مطمئن نہیں ہو پایا تھا کسی کے بھی جواب سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈیڈ۔۔۔۔”
پر مدیحہ کو اسکے والد سے ایک زور دار تھپڑ پڑا تھا جس کی وجہ سے وہ کچھ قدم پیچھے جا کر گرنے لگی تھی جب بلاج نے اسے تھاما تھا
“یہ کیا بکواس ہے انکل۔۔۔؟؟ “
“بکواس۔۔؟؟ ہم ماڈرن لوگ ضرور ہیں پر اتنے بےحیا بےغیرت نہیں۔۔۔شادی سے پہلے پریگننٹ شرم نا آئی تمہیں۔۔۔؟؟ داد جی مجھے اسی مہینے نکاح کروانا ہے ان دونوں کا۔۔۔”
اور مدیحہ کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے وہاں سے کھینچتے ہوئے لے گئے تھے۔۔۔
“بلاج۔۔۔میرے بچے۔۔۔؟؟”
بلاج کی ماں اسکی ٹانگ سے پہتے خون کو دیکھ کر اسکی طرف بڑھی تھی جن کا ہاتھ جھٹک دیا تھا اس نے۔۔
“میرے پاس اس سب ڈرامے کا وقت نہیں ہے۔۔۔”
بلاج نے اپنے روم کی جانب جانے کی کوشش کی تھی جس پر زمرد صاحب اسکے سامنے کھڑے تھے
“تمہیں کچھ احساس ہے۔۔؟؟ پہلے وہ لڑکی بریرہ اب مدیحہ بھی امید سے ہے۔۔؟؟ تمہیں لحاظ ہے یا نہیں۔۔؟؟”
“جب ایسی لڑکیاں خود کو غیر مردوں کے سامنے پیش کریں تو ہم مرد کیا کریں ڈیڈ۔۔۔؟؟”
بلاج کی بات پر اس گھر کے نئی نسل کے مرد بہت قہقے لگا کر ہنسے تھے۔۔۔
“بس بلاج اپنے کمرے میں جاؤ تمہیں گولی لگی ہے اور درد کی ایک شکن نہیں ماتھے پر تمہارے۔۔؟؟
اور ایک بات اسی مہینے تمہاری شادی ہوگی مدیحہ سے۔۔۔تم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی خاندان کا نام بدنام کرنے کی۔۔۔۔
گھر کی عورتوں جو تیاری کرنا چاہتی ہیں کرلیں فنکشن بہت دھوم دھام سے منایا جائے گا۔۔۔”
بلاج کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے تھے داد جی پیچھے ششدر چھوڑ کر سب افراد کو۔۔۔
“بلاج بھیا ایک مہینہ۔۔؟؟ اس مہینے تو بہت کام ہیں ہمیں وہ میٹنگ بھی ۔۔۔”
“مجھے یاد ہے سب آپ لوگ ربیل کو گاڑی سے نکال لائیں بے ہوش پڑا ہوا۔۔۔ایک لڑکی سے مار کھا آیا ہے۔۔۔”
وہ اور شوکڈ کرگیا تھا سب کو سب جلدی سے باہر بھاگے تھے اور بلاج کی ماں ڈاکٹر کے ساتھ اسکے کمرے کی طرف
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہم نے اٹیک اس مافیا بوس پر کرنا ہے یا اسکی ہوٹ گرل فرینڈ پر بلاج سر۔۔؟”
“اسکی گرل فرینڈ کو سیڈیوس کرکے بستر تک لے جانا ہی اس باسٹرڈ کو برباد کردے گا”
بلاج نے ماسک پہن لیا تھا جیسے ہی سب اس پارٹی بال ہال میں پہنچے تھے۔۔
“میں نے اسے پہلے نے دیکھا وکی کے ساتھ جیسے ہی وہ بچ اس پارٹی میں آئے مجھے اشارہ چاہیے۔۔۔”
بلاج نے اپنے کان پر لگی ڈیوائس میں کہا تھا اسکے گارڈ یہاں سے وہاں پھیل گئے تھے اور بلاج اپنے کزن کے ساتھ بار سٹول پر گریس فلی بیٹھ گیا تھا
“جہاں تک میں نے سنا ہے وہ جب اس پارٹی میں آئے گی تو پتا چل جائے گا۔۔
وہ اپنے مافیا بوائے فرینڈ سے زیادہ خطرناک آئٹم ہے بھائی شی از ہوٹ سیکسی اینڈ۔۔۔”
ساتھ بیٹھا کزن کہتے ہوئے رک گیا تھا
“اینڈ۔۔؟؟مجھے پہلیاں پسند نہیں ہیں شہیر۔۔۔”
“بلاج بھائی وہ سیڈیوس ہونے والی گرلز میں سے نہیں اس لیے پچھلے دو سال سے وکی کسی ایک لڑکی کے ساتھ ہے اور سیریس ہے۔۔۔جس پارٹی میں اسے کسی بزنس پارٹنر نے نشے میں صرف ڈانس کا کہا تھا۔۔۔تو۔۔۔”
“تو ۔۔؟؟”
بلاج نے ڈرنک کرتے ہوئے پوچھا تھا
“تو اس نے اس آدمی کو وہاں شوٹ کیا تھا جہاں۔۔۔”
“جہاں۔۔۔؟؟”
“سمجھ جائیں بس۔۔۔”
وہ کزن ایک دم سے خوف زدہ ہوا تھا
“وہ ابھی تک بلاج حمدانی سے نہیں ملی۔۔۔اگلی صبح وہ میرے بستر سے سیدھا بربادی اور تباہی کی طرف جائے گی۔۔۔اور تم جانتے ہو میں باتوں اور وعدوں کا پکا ہوں۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا یس۔۔۔بریرہ شاہ کے انجام پر ہم سب نے دیکھ لیا تھا۔۔۔”
اس ڈیوائس سے ایک آواز آئی تھی بلاج نے ایک گھونٹ میں پورا گلاس پی لیا تھا یہ بات سن کر اور ہال کی دوسری جانب اپنے کزن کو سخت انداز میں دیکھا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بریرہ یہ ماسک۔۔۔۔”
“پھر سے بریرہ۔۔؟؟ پشمینہ فار گاڈ سیک پشمینہ شیخ۔۔۔”
اس نے یہ کہہ کر اپنا ماسک پہن لیا تھا
“بی کئیر فل۔۔۔”
“سب ریڈی ہے۔۔؟؟ وہ کیمرے رپورٹرز۔۔؟؟ جب تک ان لوگوں کو یہاں الجھائے رکھنا ہے وکی انکے اس گڈام میں سمگلنگ کے ہتھیار چرا کر اسے جلا دے گا پلان سے ہٹ کر کچھ نہیں ہوگا۔۔”
“پر وکی کہہ رہا تھا اس جگہ کو جلانا ضروری نہیں۔۔۔”
“وکی سے کہنا اگر پلان سے زرا کچھ آگے پیچھے ہوا تو اس گڈام کی جگہ وکی کو راکھ کر دوں گی۔۔۔”
۔
اور وہ ماسک کی نوٹ باندھ کر اندر چلی گئی تھی اور پیچھے عام ڈریسز میں اسکے فی میل گارڈ بھی۔۔۔
“اس طرح کا خطرہ بریرہ شاہ ہی لے سکتی ہے۔۔۔کیوں ی بدلہ خاندانی دشمنی سے آگے کا لگ رہا ہے۔۔؟؟ یہ انتقام خاندانی ہے یا محبت میں بےوفائی کا۔۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیوں دوریاں۔۔۔ہیں درمیان۔۔۔۔
بڑھ جانے دے نزدیکیاں۔۔۔”
۔
لائٹس سب بند ہوگئیں تھی جب ایک لائٹ سٹیج پر ایک ہی فیگر پر تھی۔۔۔جس کے رقص نے سب کو ساکن کردیا تھا۔۔۔
۔
“ہر سانس میں محسوس کر
ان سانسوں کی مدہوشیاں۔۔۔”
۔
وہ ماسک پہنے لہراتی ہوئی بلاج کے پاس سے گزر گئی تھی بنا دیکھے اور بلاج کے کزن کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
۔
“میرا نشہ ایسے چڑھے۔۔۔
میرا نشہ ضد پہ اڑے۔۔
میرا نشہ ایسے نا جائے جھوم جھومتا تو جا۔۔۔”
۔
وہ اسے کھینچ کر لے گئی تھی سٹیج پر۔۔۔
“واااووووو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لکی باسٹرڈ۔۔۔۔۔”
بہت سی ہوٹنگ ہوئی تھی۔۔۔جو بلاج حمدانی کو منہ پھیرنے پر مجبور کر چکی تھی جب کسی نے ایک کمینٹ کیا تھا اس ڈیوائس پر
“بلاج بھائی اس نے تو دیکھا بھی نہیں۔۔۔ہاہاہاہا آپ نے سیڈیوس کرنا تھا۔۔؟؟”
اس نے ویٹر سے ایک اور ڈرنک کا گلاس مانگا تھا
“میں بھی تنہا ہوں تو بھی اکیلا۔۔۔
ملنے کا ہونے دے سلسلہ۔۔۔”
۔
“پشمینہ شیخ مجھ ناچیز کے ساتھ ڈانس کر رہی ۔۔۔۔۔”
شہیر نے جیسے ہی اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تھی بلاج نے اسے کندھے سے پکڑ کر پیچھے کردیا تھا۔۔۔
“نو ٹ فئیر بھائی۔۔۔۔”
“بیک ٹو ورک۔۔۔”
یہاں بلاج نے شہیر کو غصے سے دیکھا تھا دوسری طرف پشمینہ بیک سٹیج پر جانے لگی تھی کہ بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کیا تھا ان دونوں کے درمیان زرا سا بھی فاصلہ نہیں رہا تھا
“نوٹ سووو سون مس ۔۔؟؟”
وہ دونوں میوزک پر پھر سے اسی طرح ڈانس کر رہے تھے پشمینہ نے پیچھے کسی کو آنکھ کا اشارہ کیا تھا یہی چاہتی تھی وہ بلاج حمدانی کو بے چین کرنا چاہتی تھی
“وٹس مائی نیم۔۔۔؟؟؟”
اس نے کچھ دور کھڑے کچھ بزنس مینز سے پوچھا تھا میوزک میں تھوڑا چلا کر
“پشمینہ شیخ۔۔۔۔
بی مائی گرل فرینڈ۔۔۔۔”
“بی مائی ڈیٹ پشمینہ۔۔۔۔”
اور بہت سی آوازیں آئی تھی۔۔بلاج نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر ڈانس جاری کردیا تھا گریس فلی۔۔۔
“جس آگ میں یہ بدل جل رہا ہے میرا اے ہمسفر۔۔۔
تو بھی اسی میں جل جائے گا۔۔۔۔”
۔
بلاج کے ہاتھ اسکی کمر سے زرا نیچے جانے لگے تھے اسکی وقت اسکی تھائی پر گن پوائنٹ کردی تھی
“رونگ ٹیراریٹی مسٹر۔۔۔ون رونگ موو۔۔۔اور بوم۔۔۔۔۔”
وہ گن بہت آہستہ سے اوپر تک لائی تھی اور بلاج کے سینے پر رکھ دی تھی انکا ڈانس بھی نہیں رکا تھا اور بلاج کے چہرے پر ڈر بھی نہیں تھا
“ہائے۔۔۔۔قاتل حسینہ۔۔۔تم نہیں جانتی کس قدر کنٹرول کھو رہا ہے یہ بلاج حمدانی تم جیسی خوبصورت لڑکی کے ہاتھ میں گن دیکھ کر۔۔۔
ایم ٹوٹلی ٹرنڈ آن بےبی۔۔۔ڈونٹ ٹیمپٹ مئ۔۔۔۔”
بلاج نے وہ ہاتھ اسکی گردن پر رکھ کر اپنی طرف کیا تھا اسکا منہ اور سرگوشی کی تھی
“اووو سووو مسٹر کنٹرول فریک لوزنگ ہیز کنٹرول ناؤ۔۔۔؟؟ آئی لائک اِٹ۔۔۔بلاج۔۔۔”
اس نے جس طرح نام لیا تھا بلاج حمدانی کے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے یہ لہجہ اسے کہیں لے گیا تھا وہاں جہاں جانے سے وہ بھاگ رہا تھا۔۔۔
“میں نے سنا ہے جب لوگ بہک جاتے ہیں تو برباد کرجاتے ہیں خود کو مسٹر بلاج۔۔۔”
“میں برباد ہونے کو تیار ہوں اگر بدلے میں تم بھی بہک جاؤ اس رات کے نشے میں۔۔۔”
بلاج نے آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔
کب فلرٹ اور وہ پلان سیڈیوشن میں بدل گیا تھا اسے پتا ہی نہیں چلا تھا۔۔۔
“میں نے بہت پہلے بہکنا چھوڑ دیا ۔۔۔اب میں شکار کرتی ہوں۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا شکاری خود شکار ہو رہا مس۔۔۔کیا خیال ہے۔۔۔؟؟ یور پلیس اور مائن۔۔۔؟؟”
انکے ہونٹوں کے درمیان کچھ فاصلہ تھا۔۔۔
“سوری پر آج کی رات میں کسی اور کے نام کر چکی ہوں۔۔۔اور میں انگیجڈ اور یوزڈ شخص کو ڈیٹ نہیں کرتی پشمینہ شیخ کا سٹینڈرڈ بہت اونچا ہے۔۔۔۔”
وہ جیسے ہی پیچھے ہٹی تھی بہت سی تالیوں کی آواز انکے رقص پر گونج اٹھی تھی
پر بلاج نے اسکا بازو مڑور کر پھر سے کھینچا تھا
“مجھے انکار نہیں پسند۔۔۔تم۔۔۔”
وہ ہیلز کی جوتی کچھ اونچی کر کے بلاج کی طرف اٹھی تھی اسکا ماسک کھول دیا تھا اس نے آگے بڑھ کر بلاج کے گال پر اسکے لبوں سے کچھ فاصلے پر بوسہ دے کر اس نے اپنے ہونٹ بلاج کے رائٹ کان پر رکھ دئیے تھے یہ لمس بلاج کو ماضی میں لے گئے تھے
“انکار پسند نہیں تو اب دوستی کرلیں بلاج حمدانی۔۔۔میرے ہونٹ تمہاری خواہش اور فینٹسی پوری کر دیتے اگر تمہاری انگلی میں یہ رنگ نا ہوتی کسی اور کے نام کی۔۔۔۔”
اس نے جیسے ہی کسی کو آنکھ ماری تھی
انکی تصاویر اس طرح سے لی گئی تھی کہ بلاج کا پورا چہرا نظر آرہا تھا اور پشمینہ کا نہیں۔۔۔”
“یہ انگوٹھی اتر بھی سکتی ہے۔۔۔۔”
“جب اسے اتارنے کی ہمت کرلو تو جگہ اور وقت پشمنہ شیخ تمہیں بتا دے گی۔۔۔
تم خوبصورت ہو۔۔۔پر میرے معیار پر نہیں ہو۔۔۔نیکسٹ ٹائم سہی مسٹر بلاج۔۔۔۔”
۔
اور وہ جب پیچھے ہوئی تھی تو لائٹس اسی طرح بند ہوئی تھی جیسے پہلے اسکے آنے پر۔۔۔
۔
“بریرہ شاہ۔۔۔؟؟؟”
بلاج نے اس جگہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا جہاں وہ ابھی بوسہ دے کر گئی تھی
۔
۔
(ماضی۔۔۔)
۔
۔
“بریرہ۔۔۔ایک ڈآنس۔۔؟ وہ ماسک پارٹی ہے بیگم۔۔۔۔”
“کبھی نہیں مجھے بہت شرم آتی ہے بلاج۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔جس طرح کا آپ ڈریس لے کر آئیں ہیں نا اسے پہن کر تو بلکل نہیں۔۔۔”
“اس ڈریس میں کیا برائی ہے۔۔۔اور کپل ڈانس میں کیسی شرم شوہر ہوں تمہارا۔۔۔”
“تو۔۔؟؟ اتنے لوگوں میں میں اپنا وجود لہرانا نہیں چاہتی۔۔۔مجھ سے نہیں یہ چونچلے ہوتے۔۔۔”
۔
۔
“یہ بریرہ نہیں ہو سکتی۔۔۔”
اور ایک گولی کی آواز آئی تھی۔۔۔
جب بلاج نے الرٹ ہوکر اپنی بیک سے اپنی گن نکالنے کی کوشش کی تو گن نہیں تھی
ڈیم اِٹ۔۔۔۔ہیلو ۔۔۔میری گن نہیں مل رہی شہیر۔۔۔ جارج۔۔۔۔”
۔
“بلاج ڈیم یو یہاں کسی کو بھی گینگ کے لیڈر کو اٹیک کرنے کا پلان نہیں تھا”
ڈیوائس پر غصے سے کسی نے بلاج کو کہا تھا۔۔۔
“میں برداشت نہیں کروں گا تم میرے کزن ہو آواز نیچی کر کے بات کرو تم بلاج حمدانی سے بات کر رہے ہو۔۔۔”
“اوکے۔۔۔سوری۔۔۔شہیر کو شوٹ کیا گیا ہے تم نے جس گینگ لیڈر پر اٹیک کیا ان لوگوں نے دونوں گروپس میں جنگ کا علان کردیا ہے۔۔۔”
“میں نے نہیں مارا کسی کو ڈیم اِٹ میری گن مسنگ ہے۔۔۔وہ میں تو ڈانس۔۔۔۔”
اور بلاج بات کرتے کرتے چپ ہوگیا تھا۔۔۔۔
“بلاج۔۔۔ایک اور بری خبر ہے ہمارے نارتھ سائیڈ والے گڈام کو آگ لگ گئی ہے سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا ہے۔۔۔صرف کچھ منٹوں میں۔۔۔تم اپنی سیڈکشن میں اتنا بیزی تھے۔۔۔”
اس نے طنزیہ بات کر کے فون کاٹ دیا تھا۔۔۔۔
“میں نے سنا ہے جب لوگ بہک جاتے ہیں تو برباد کرجاتے ہیں خود کو مسٹر بلاج۔۔۔”
۔
ویٹر ایک چیٹ بلاج کو پکڑا گیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔”
بلاج بےساختہ ہنس دیا تھا۔۔۔اسے سمجھ آگئی تھی وہ شکار ہوگیا تھا اس حسینہ کا۔۔۔۔
۔
“بریرہ شاہ۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
بلاج کی ہنسی ایک شیطانی غصے میں بدل گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آئی لو یو ٹو پشمینہ۔۔۔”
“نیویارک واپس کب آرہے ہو ۔۔۔؟؟”
بریرہ نے لیپ ٹاپ سکرین کو دوسری طرف کیا تھا جب آپارٹمنٹ کی بیل بجی تھی
۔
“بری۔۔۔”
“ششش۔۔۔۔”
سونم کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بریرہ نے لیپ ٹاپ سکرین کی طرف اشارہ کیا تھا اور سونم بنا کچھ کہے نزدیک سے اس سکرین کو دیکھنے لگی تھی جس میں ایک خوبصورت نوجوان بہت معصومیت سے سونم کو ہاتھ ہلا کر ہیلو کر رہا تھا
“او مائی گاڈ کون ہے یہ ہینڈسم ہنک۔۔۔؟؟ واااوووو “
سونم نے جیسے ہی کہا تھا بریرہ کے چہرے پر مسکان آگئی تھی اور اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ دیا تھا اس نے جب سونم نے لیپ ٹاپ اپنی گود میں رکھ کر ہیلو کہا تھا
“ہی از ہوٹ یار۔۔۔ میری شادی نا ہوئی ہوتی تو میں نے اسے تم سے چرا لینا تھا”
جس پر وہ شخص سکرین کے اس پار کھلکھلا کر ہنسا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا شادی شدہ گرلز کے ساتھ ڈیٹ بھی کرسکتا ہوں میں بس پشمینہ اجازت دہ دے۔۔۔”
پشمینہ نام سے سونم سمجھ گئی تھی اور اس نے بریرہ نہیں کہا تھا اسے
“ویسے نام کیا ہے آپ کا۔۔۔؟؟”
سونم نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا
“مہتاب۔۔۔مہتاب حمدانی۔۔۔۔”
اور وہ ہنسی سونم کے چہرے سے اڑ گئی تھی اور اس نے بے ساختہ نظریں اٹھا کر بریرہ کی طرف دیکھا تھا جو نظریں چرا رہی تھی اس سے۔۔۔
“آپ کہیں یہاں نیو یارک کے مشہور بلاج حمدانی کے کوئی رشتے دار ہیں کیا۔۔۔؟؟”
سونم نے سانس روک کر پوچھا تھا۔۔۔
“جی۔۔۔بلاج حمدانی میرے بڑے بھائی ہیں۔۔۔زمرد حمدانی میرے ڈیڈ۔۔۔”
اور سونم نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی تھی
“ہممم بر۔۔۔پشمینہ اور آپ دوست ہیں کب سے۔۔۔؟؟”
“دوست۔۔؟؟؟ ہاہاہاہا نہیں پشمینہ اور میری منگنی ہوچکی ہے لاسٹ یئر لندن میں۔۔۔ پشمینہ تم نے بتایا نہیں یہاں اپنی فیملی کو۔۔۔؟؟؟”
مہتاب کی لہجے میں ایک اداسی چھا گئی تھی
“میں ۔۔۔سب کو سرپرائز دینا چاہتی تھی اب تم فون رکھو میں نہیں چاہتی تم میری پٹائی ہوتے دیکھو۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔اوکے لو یو بائے۔۔۔۔”
۔
وہ ہنستے ہوئے کال کاٹ گیا تھا اور بریرہ لیپ ٹاپ بند کر کے واپس روم میں رکھنے جا رہی تھی کہ سونم نے غصے سے چھین لیا تھا
“یہ سب کب ہوا۔۔۔؟؟ اس خاندان کے ایک مرد نے ایک تجربہ دیا کافی نہیں تھا۔۔۔
اس طرح اپنے باپ اور بھائی کی روح۔۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوئی تھی اور بریرہ کی پتھر بنی آنکھوں میں دیکھا تھا
“تم مہتاب کو استعمال کرو گی۔۔؟؟ تم میں اور بلاج میں کیا فرق رہ جائے گا بریرہ۔۔؟
اس نے محبت میں تمہیں استعمال کیا اب تم اسکے چھوٹے بھائی کو استعمال کرو گی۔۔؟؟”
۔
“میں نے کہا تھا وہاں چوٹ دوں گی جہاں لگے گی بھی اور دکھے گی بھی سونم۔۔۔
مہتاب اس خاندان کا بہت لاڈلا ہے خاص کر بلاج حمدانی کا۔۔۔
اب اور مزہ آئے گا۔۔۔”
اور اس نے سگار کو سلگایا تھا
“تم نے سموک شروع کردی بریرہ۔۔؟؟ میں کچھ دن پاکستان کیا گئی تم نے کیا کرلیا خود کو۔۔”
“سونم میں نے کچھ نہیں کیا خود کو۔۔۔مجھے وقت نے ایسا کردیا ہے۔۔اور میں خوش ہوں۔۔”
“خوش۔۔۔؟ مر رہی ہو تم۔۔ تم بھول کیوں نہیں جاتی اپنے بدلے کو۔۔؟؟”
“بھول گئی تو جینے کا مقصد نہیں بچے گا سونم۔۔۔مجھے اپنے بچے کے پاس جانا ہے۔۔۔ پر سب کو انجام تک پہنچا کر جاؤں گی۔۔۔”
وہ سگار پکڑے کھلے آسمان کے نیچے ٹیریس پر چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہم اس قبرستان میں کیا کر رہے ہیں داد جی۔۔۔؟؟”
بلاج نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا
“یہ نام پڑھو اس قبر پر۔۔۔۔ صاف لفظوں میں لکھا ہے بریرہ شاہ۔۔۔
اور وہ دوسری قبر وجیح شاہ۔۔۔اور پھر اسکے بھائی کی قبر۔۔۔۔”
داد جی نے بلاج کو بازو سے پکڑ کر آگے دھکیلا تھا جس کا بوٹ اٹک گیا تھا اور وہ بریرہ کی قبر کے پاس گر گیا تھا نظریں اٹھا کر جب اس نے اس نام کی طرف دیکھا تو اسے اس نام کی جگہ اس لڑکی کی شکل نظر آئی تھی جو اسکی دوست بھی تھی۔۔۔اسکی جھوٹی محبت بھی اور اسکی چھپی ہوئی بیوی بھی۔۔۔
۔
۔
“بلاج اٹھ جائیں مجھے یونیورسٹی چھوڑ دیں بابا سائیں کا فون پر فون آرہا ۔۔۔”
وہ شیشے کے سامنے شکایت کرتے ہوئے بال ڈرائیر کرنا شروع ہوگئی تھی
“کیا ہر بیوی شادی کی پہلی صبح ایسے ہی کرتی ہے۔۔؟ میں نے تو سنا تھا شادی کی پہلی صبح بیویاں اپنے شوہر کو اکیلا چھوڑتی ہی نہیں ہیں۔۔۔”
بریرہ شرما گئی تھی ایک دم سے
“اب تم شرما رہی ہو۔۔۔اوپر سے اس ٹاول میں ایسے گھوم رہی ہو تمہیں پتا نہیں میں کیسے قابو کر رہا خود پر۔۔۔”
“ہاہاہاہا بےشرم اٹھ جائیے ناشتہ بنا دیا ہے۔۔۔جلدی سے”
“کیسے اٹھ جاؤں۔۔۔میں سوچ رہا ہوں تمہیں کیسے یہاں اپنی آغوش میں بلاؤں اور تم مجھے کو اٹھا رہی۔۔۔”
بلاج نے ہاتھ آگے بڑھا یا تھا بریرہ نے بلاج کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“جب تک گھر والوں کو شادی کا نہیں پتا چل جاتا تب تک ایسے ہی رہے گا سب بلاج۔۔؟؟
ہمارے خاندان کی دشمنی ختم کیوں نہیں ہوجاتی۔۔۔؟؟”
“یہ دشمنی کسی ایک کی موت پر ختم ہوگی ایسے نہیں۔۔۔”
بلاج کی آنکھوں میں ایک نفرت ابھر آئی تھی جو اسکے سینے پر سر رکھے اسکی بیوی کو بھی محسوس نہیں ہوئی تھی
“اگر ایسا ہے تو میری موت کا نذرانہ کیسا رہے گا۔۔۔؟؟”
اس نے مذاق میں کہا تھا جس پر بلاج کے ہاتھ کی گرفت اسکے گلے پر مظبوظ ہوگئی تھی
“خبردار جو مرنے کی بات کی بریرہ بلاج حمدانی جلا کر راکھ کر دوں گا سب کچھ اگر تمہاری سانسیں بند ہوئی تو۔۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔۔”
“بلاج کبھی کبھی تم سے ڈر لگتا ہے تمہاری یہ محبت مجھے تمہارے سامنے موت کے گھاٹ نا اتار دے کہیں۔۔۔۔”
اس نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
۔
“بلاج۔۔۔۔”
بلاج کی لال ہوئی آنکھوں سے ایک آنسو اس قبر کی مٹی میں جا ملا تھا
“یہ وہ پوسٹ مارٹم رپورٹ یہ تمہاری۔۔۔بیوی کے جنازے کی تصاویر۔۔۔اور۔۔۔
اور یہ وہ رپورٹ اس بچے کے مس کیریج کی۔۔۔
یہاں لانے کا مقصد صرف اتنا تھا وہ لڑکی پشمینہ شیخ ہے بریرہ شاہ نہیں۔۔۔
تمہارے اس پارٹی میں کی ہوئی حرکت نے تمہاری امیج پوری طرح میڈیا میں خراب کردی ہے۔۔”
داد جی باقی پیپرز پھینک کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
اور وہ ان تصاویر کو دیکھنے لگا تھا۔۔۔اسے وہ نرس اور وہ سیکیورٹی گارڈ آج تک نہیں ملا تھا۔۔۔وہ جنازہ کب کس نے پڑھا کسی کو خبر نہیں تھی پر ان پیپرز نے بلاج کی زمین کھینچ لی تھی۔۔۔
۔
“میں نے یہ سب بدلہ پہلے دن سے پلان کیا تھا برریرہ شاہ۔۔۔۔
پر۔۔۔۔تمہاری موت نہیں۔۔۔۔ وجیح شاہ نے جاتے جاتے میری سوچ کو مات دہ دی تھی اپنی ہی بیٹی پر گولی چلا کر۔۔۔
تم نے تو کہا تھا تم واپس آؤ گی بدلہ لینے۔۔۔؟؟ تو کہاں گئی۔۔؟؟ مرگئی ڈر گئی بلاج حمدانی سے۔۔؟؟”
بلاج نے اس قبر کی مٹی کو پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی اور جب کچھ منٹ وہ اس مٹی میں اپنے ہاتھ اپنے کپڑے بھر بیٹھا تھا اسی وقت اسے پیچھے سے کسی نے پکڑ لیا تھا
“بس بلاج۔۔۔بس۔۔۔”
“بس۔۔۔؟؟ اسے کہو بدلہ لے مجھ سے۔۔۔ بلڈڈی بچ۔۔۔ جب یہ لوگ کچھ پورا کر نہیں سکتے تو بکواس کیوں کرتے ہیں۔۔۔
داد جی۔۔۔اس نے مجھ سے چھپایا کہ یہ ماں بننے والی تھی۔۔۔
اور وہ وجیح شاہ۔۔۔میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔
اس نے کیسے اپنئ بیٹی پر گولی چلا دی۔۔؟ ایسے ہوتے ہیں باپ۔۔؟؟”
۔
۔
وہ ایک دم سے چلاتے ہوئے بیٹھ گیا تھا اسی قبر کے پاس۔۔۔ اس اندھیرے میں اسکا بھیگا ہوا بھرا ہوا چہرہ کوئی نہیں دیکھ پایا تھا پر اسکے لہجے سے داد جی سمجھ گئے تھے کہ انکا پوتا روو رہا تھا،،،
۔
“تم بریرہ شاہ۔۔۔بلڈڈی فول۔۔۔۔مجھے محبت نہیں تھی تم سے سنا تم نے کبھی نہیں۔۔۔
اور میں گناہ گار نہیں ہوں تمہاری موت کا۔۔۔
میری محبت مدیحہ تھی اور رہے گی سنا تم نے۔۔۔؟؟ سن رہی ہو تم دشمن کی بیٹی۔۔۔”
وہ اپنے ہاتھ جھاڑ کر اپنے بازو سے اپنا چہرہ صاف کر کے واپس مڑ گیا تھا۔۔۔
۔
“نہیں تھی مجھے محبت تم سے۔۔۔۔ تم میری نظر میں بس دشمن کی بیٹی تھی اچھا ہوا وہ بچہ دنیا میں نہیں آیا بریرہ۔۔۔ اس میں تمہارے خاندان کی بھی وراثت آجانی تھی وہ خاندان جس سے نفرت کرتا آیا بلاج حمدانی۔۔۔”
وہ اور چلایا تھا اور چہرہ پھر سے بھیگا تھا اسکا۔۔۔
“بس بلاج۔۔۔گھر چلو۔۔۔”
“آپ نے سہی کہا تھا اسی مہینے ہونی چاہیے شادی میری مدیحہ سے۔۔۔
بریرہ شاہ سنا تم نے اس سے میری شادی ہورہی ہے جس سے میں نے محبت کی۔۔۔اور وہ ماں بننے والی ہے میرے بچے کی۔۔۔
جو جھوٹے وعدے تمہارے ساتھ کرتا آیا تھا اب اسکے ساتھ ہر وعدہ سچ کر کے دیکھاؤں گا۔۔۔
دم ہے تو روک کر دیکھاؤ۔۔۔”
“بلاج۔۔۔وہ مر چکی ہے۔۔۔اب وہ واپس نہیں آئے گی تمہاری آہ پکار سے۔۔۔”
“میں آہ پکار نہیں کر رہا داد جی۔۔۔میں بس اسے۔۔۔”
“اسے کیا۔۔۔؟ وہ یہ سن کر واپس آجائے گی۔۔۔؟؟ اور چلا لو پھر پر وہ واپس نہیں آنے والی۔۔۔
جانے والوں کا احترام کرو بلاج۔۔۔ ہم لوگ دشمن تھے پر تم نے جس حد تک جا کر دشمنی نبھائی ہے۔۔تم نے ہمیں شرمندہ کیا ہے ہماری نظروں میں۔۔۔اب چلو یہاں سے۔۔۔”
۔
۔
وہ بلاج کو کھینچ کر لے جارہے تھے جس کی نظر اس قبر اور اس نام پر تھی۔۔۔
“بریرہ شاہ۔۔۔”
اور آنسو باہر آنے سے پہلے بلاج نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔
۔
وہ جیسے ہی وہاں سے چلے گئے تھے وہاں موجود ایک گھنے درخت کے پیچھے سے وہ آگے بڑھی تھی اور ان تین قبروں کے پاس آکر بیٹھ گئی تھی آج بریرہ شاہ اپنے باپ اور بھائی سے ملنے آئی تھی
“آپ لوگ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے ہوں گے۔۔؟؟ پر میں بھی ایسے نہیں مناؤں گی۔۔۔بہت جلدی اپنے کام نمٹا کر آپ لوگوں کے پاس آؤں گی ۔۔۔
بابا سائیں اب سمجھ آئی کیوں آپ مجھے پاکستان سے یہاں نہیں آنے دیتے تھے
آپ کو برباد کردیا آپ کی بیٹی نے۔۔۔اور خود کو بھی۔۔۔
اور بھائی آپ۔۔۔؟؟ کیوں میرے حصے کی گولی کھائی آپ نے۔۔؟؟ مرجانے دیتے مجھ جیسے بدزات بیٹی کو۔۔۔جس نے ماں باپ کو رد کر کے محبت کو سونپ دیا سب کچھ اپنی عزت کا سودا کر بیٹھی۔۔۔
پر اب میں وہ سود سمیت واپس لوں گی۔۔۔
بلاج حمدانی تمہاری شادی کے خواب خواب ہی رہ جائیں گے۔۔۔
تم دیکھ لینا تم کیسے ٹوٹنے والے ہوں۔۔۔تمہارا خاندان ایسے برباد ہوگا کہ تم سمیٹ نہیں پاؤ گے۔۔
بہت جلدی بریرہ شاہ حمدانی مینشن میں بہو بن کر آئے گی۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
