Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
“اگر لڑکیوں کو اپنی بھیانک محبت کا مستقبل نظر آجائے تو وہ کبھی کسے ظالم کی محبت کا نشانہ نا بننے دیں خود کو۔۔۔
وہ محبتیں جو خاندان کی عزتیں تو کھا جاتی ہیں اور جان نکال جاتی ہیں جسموں سے۔۔۔
وہ محبتیں جو برباد کرکے عبرت بنا دیتی ہیں معاشرے میں ہمیں۔۔۔”
۔
“آپ کون۔۔۔۔”
“بہرام۔۔۔شاہ۔۔۔”
۔
۔
“بریرہ۔۔۔”
بہرام کی آواز پر جب کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے بریرہ کے ہاتھ کو زور سے پکڑ کر بائیک کی سپیڈ تیز کر دی تھی اسے آوازیں آرہی تھی پیچھے گاڑی کی جو انہیں فالو کر رہی تھی
بہرام نے ایک نظر پیچھے کر کے بلاج حمدانی جو دیکھا تھا اور اپنی بائیک کو نیو یارک کی انجان گلیوں میں کہیں گم کردیا تھا اس طرح کے وہاں کے ڈان بلاج حمدانی کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی
۔
“اس ایڈریس پر لے جاؤ۔۔”
“پر ہم ہسپتال آگئے ہیں بریرہ۔۔۔”
اپنے نام کو کسی انجان کے منہ سے سن کر بریرہ اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی پر ناکام ہوگئی تھی درد نے اسکی آنکھیں بھیگا دی تھیں
“ہم کسی پبلک یا پرائیویٹ ہسپتال نہیں جا رہیے آپ جو کوئی بھی ہیں مجھے اس ایڈریس پر چھوڑ دیں”
“تم نے مجھے پہچانا نہیں۔۔؟؟”
اس نے بائیک روک دی تھی اچانک سے
“نہیں۔۔کون ہیں آپ۔؟؟”
پر بہرام نے بائیک پھر سے سٹارٹ کردی تھی
۔
کچھ دیر اور بائیک چلانے کے بعد بریرہ کے بتائے ہوئے ایڈریس پر جب اس نے بائیک روکی تو وہ ایک سننان بس سٹاپ تھا جہاں بائیک رکنے کے بعد بریرہ زخمی ہاتھ اور زخمی ٹانگ سے لڑکھڑا کر اس بس سٹاپ کے پاس جا کر زمین پر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئی تھی۔۔
“آپ کا فون مل سکتا ہے۔۔؟ جو احسان آپ نے کیا ہے آپ کو سود سمیت انعام دوں گی۔۔”
اس نے لالچ دی تھی بہرام نے بنا کچھ کہے اپنا موبائل نکال کر بریرہ کو پکڑا دیا تھا
“ڈینیل۔۔۔سٹی ہسپٹل کی بیک سائیڈ سے کچھ فاصلے پر جو بس سٹاپ ہے مجھے وہاں سے آکر لے جاؤ۔۔”
بریرہ نے بات کرتے ہوئے ہنسنے کی کوشش کی تھی جب ڈینیل نے اسے وہی رات یاد دلائی تھی ٹھیک اسی طرح وہ لینے آیا تھا
“ڈینیل مجھے کچھ ہونے مت دینا اگر میں بےہوش ہوجاؤں مجھے مرنے نہیں دینا خون بہت بہہ گیا ہے۔۔پر مجھے زندہ رہنا ہے۔۔جب ڈاکٹر جواب دہ دیں تو مجھے بہت سارے الیکٹرک شاکس لگوانا بس زندہ رکھنا مجھے ابھی بدلہ لینا ہے۔۔۔”
وہ گنودگی کی حالت میں تھی۔۔۔اور بائیک پر بیٹھے بہرام شاہ نے اسکی باتیں سن کر اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا وہ شخص جو آج تک کبھی رویا نہیں تھا آج اسکی آنکھیں بھر آئیں تھی اس نے چہرے سے ہیلمٹ اتار کر منہ صاف کیا تھا اپنا۔۔۔
“جو لڑکی ماربل کے فرش پر بیٹھنا اپنی توہین سمجھتی تھی آج اس مٹی سے بھری زمین پر ایسے بیٹھی ہے۔۔
بریرہ کیا ہوگئی ہو تم کیا تھی۔۔۔”
وہ اٹھا تھا غصہ سے اور بریرہ کو اٹھا لیا تھا وہاں سے جو بےہوش تھی اس نے بریرہ کو بٹھا کر پھر بائیک چلا دی تھی اس بار اسے آگے بٹھایا تھا
اس طرح کے کوئی بھی دیکھنے والا یہ نا سمجھے کہ وہ بےہوش ہے۔۔
۔
بہرام نے بائیک چلا دی تھی۔۔اور وہاں بریرہ کو لے گیا تھا جو اپارٹمنٹ اس نے کچھ گھنٹے پہلے ہی خریدا تھا
۔
“اب نہیں ہو تم اکیلی بریرہ شاہ۔۔۔۔میں آگیا ہوں۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کرو تمہیں ابھی زندہ رہنا ہے۔۔۔تمہارا انتظار کر رہے ہیں سب پاکستان میں۔۔۔۔”
بریرہ کو اپنی جیکٹ پہنا کر بہرام اس طرح سے اپنے اپارٹمنٹ میں لیکر آیا تھا کہ کسی کو شک نہیں ہوا پر ایک بلیک سوٹ بوٹ پہنے گارڈ کو انکا پیچھا کرتے دیکھ لیا تھا اس نے۔۔۔اور وہ بریرہ کو جلدی سے اپارٹمنٹ میں چھوڑ کر بلڈنگ سے باہر آگیا تھا ڈاکٹر کو لانے کے لیے۔۔۔پر اس کی نظریں اس گارڈ پر تھیں جو ایک پلر کے پیچھے چھپ کر کال ملانا شروع ہوگیا تھا
“بلاج سر۔۔۔”
اور پیچھے سے اسکے سر پر وار کیا تھا بہرام نے
“بلاج حمدانی اتنی جلدی نہیں پہنچنے دوں گا کسی کو بھی اسکے پاس۔۔”
بہرام نے اس بے ہوش گارڈ کو گھسیٹتے ہوۓ ایک کمرے میں بند کردیا تھا وہ پھر سے باہر بھاگا تھا کہ اسکا موبائل بجنا شروع ہوگیا تھا
“پشمینہ ۔۔۔پشمینہ۔۔۔”
دوسری طرف سے آواز سن کر وہ حیران ہوا تھا
“آپ کون۔۔؟ اس نمبر پر تو بریرہ نے بات کی تھی۔۔۔”
“دوسری طرف خاموشی چھا گئی تھی بہرام کی بات سن کر”
“کہاں ہو تم لوگ۔۔؟؟ بریرہ کو ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے میرے ساتھ ڈاکٹر ہیں مجھے ابھی ایڈریس دو۔۔۔”
بہرام اب چپ ہوا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیسے یقین کرلے
“میں کیسے یقین کر لوں۔۔؟؟ بریرہ کی سیفٹی میری پہلی زمہ داری ہے۔۔”
“اسکی زندگی سے بھی زیادہ۔۔۔؟؟ مجھے ایڈریس بتا دو پلیز۔۔۔”
اور اسکی آواز میں درد محسوس کرتے ہوئے اسے ایڈریس بتا دیا تھا
“میں بس پہنچ رہا ہوں تم اسکے پاس رہو اور باہر مت نکلنا بلاج حمدانی کے لوگ پاگل کتوں کی طرح ہر جگہ کھوج رہے ہیں۔۔۔”
اس نے کہہ کر فون بند کیا تو بہرام بھی واپس اپارٹمنٹ میں چلا گیا تھا
۔
“بس بریرہ ڈاکٹر آتے ہی ہوں گے۔۔۔”
بہرام نے اسے سہی طرح سے بیڈ پر لٹا کر اسکا ماسک اور اسکی جیکٹ اتار دی تھی۔۔۔کندھے پر لگی گولی سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا اس نے اس جگہ سے شرٹ کا وہ کپڑا پھاڑ دیا تھا اور پانی والا کپڑا لیکر خون صاف کرنا شروع کیا تھا۔۔۔
وہ ٹھنڈا کپڑا جیسے اسکے زخم پر لگا تھا اسکی آہ سے بہرام کے ہاتھ رک گئے تھے۔۔۔
“ایم سوو سوری بریرہ ایم سوو سوری۔۔۔۔”
وہ بار بار یہ کہتے ہوئے زخم صاف کر رہا تھا اسکے۔۔۔حلانکہ اسکی کوئی غلطی تھی بھی نہیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یا اللہ۔۔۔۔بریرہ۔۔۔”
بہرام نے دروازہ کھول کر جیسے ہی ان لوگوں کو بیڈ روم کا راستہ دیکھایا تھا سونم روتے ہوئے بریرہ کے بیڈ پر جا گری تھی۔۔
“سونم ڈاکٹرز کو انکا کام کرنے دو رونے کا وقت نہیں ہے یہ۔۔۔”
“ڈینیل یہ ہوش میں نہیں آرہی کیا ہوگیا صبح تک بلکل ٹھیک تھا سب۔۔”
ڈینیل اسے کھینچ کر باہر لے آیا تھا اور کچھ لیڈی ڈاکٹرز اندر جا کر دروازہ بند کرچکی تھیں
“ڈینیل وہ ٹھیک تو ہوجاۓ گی نا۔۔۔۔”
“دعا کیجیئے اللہ اسے سلامت رکھے۔۔۔”
بہرام یہ کہہ کر اسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا اس کمرے کے باہر۔۔
اس کی آواز سننے کے بعد سونم اور ڈینیل کی نظریں اس پر پڑی تھیں
۔
“تم کون ہو۔۔؟ بریرہ کو کیسے جانتے ہو۔۔؟ تم یہ سب کسی کو نہیں بتاؤ گے میں منہ مانگی رقم دوں گا تمہیں۔۔”
۔
ڈینیل نے سونم کو صوفہ پر بٹھا دیا تھا اور اپنی گن نکال لی تھی اسے سامنے کھڑا شخص بہت مشکوک لگ رہا تھا
۔
“مجھ سے بریرہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے سر۔۔۔اسکی رگوں میں بھی وہی خون ہے جو مجھ میں۔۔۔کزن ہے وہ میری۔۔۔”
بہرام نے آنکھیں کھول کر جواب دیا تھا
“پر۔۔۔بریرہ کی فیملی نے۔۔انہوں نے انکار کردیا تھا کوئی بھی رشتہ رکھنے سے جب میں نے بات کی تھی پاکستان۔۔۔”
سونم کی آنکھیں اور چھلک گئیں تھیں یہ سب بتاتے ہوئے
“اس وقت سب غصے میں تھے شاید اس لیے۔۔۔”
“ہاں اب یہ ہمدردی کہاں سے جاگ گئی پھر۔۔؟ بریرہ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے ہم لوگ اسکی فیملی ہیں اب۔۔”
ڈینیل نے غصے سے کہا تو بہرام بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا
“وہ اب میری ذمہ داری ہے مسٹر تم جو کوئی بھی ہو۔۔۔وہ میرے ساتھ واپس جاۓ گی پاکستان زندہ سہی سلامت۔۔۔
لیکن اسکو ایسے نہیں جانا بدلہ لینا ہے اور میں ساتھ دوں گا اسکا۔۔۔
اور تم۔۔۔مجھے روک نہیں سکتے کوئی مجھے روک نہیں سکتا۔۔۔
بلاج حمدانی کو اسکے ہر ایک ظلم کا حساب دینا ہوگا۔۔۔”
۔
وہ ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی بات پوری کرتے ہوئے ڈینیل کے سامنے کھڑا ہوا تھا جو کچھ قدم پیچھے ہوگیا تھا بہرام کی آنکھوں میں غصے کی انتہا دیکھ کر
۔
“بریرہ آپ کو شامل نہیں ہونے دے گی وہ اپنی فیملی کے کسی فرد کو بھی اس لڑائی کا حصہ نہیں بننے دے گی۔۔”
سونم نے بہت ہلکی آواز میں کہا تھا
۔
“وہ تو تب ہوگا جب اسے پتا چلے گا۔۔۔میں ایک انجان بزنس پارٹنر کی طرح سامنے آؤں گا اسکے۔۔۔جیسے ابھی ایک انجان راہ گیر کی طرح بچایا اسے۔۔۔”
“مطلب۔۔؟ آپ نے تو کہا آپ اس کے کزن ہیں۔۔۔۔”
“ہاں کزن ہوں۔۔وہ کزن جس کا سامنا نہیں ہوا تھا کبھی بریرہ سے۔۔
وہ کزن جس سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا بریرہ نے۔۔۔۔”
سونم کا منہ تو کھل گیا تھا بہرام کی باتیں سن کر پر ڈینیل بھی شاکڈ ہوکر بیٹھ گیا تھا۔۔
“انکار کیوں کیا تھا۔۔؟ آپ تو فل پیکج ہو۔۔۔آئی مین ہینڈسم بھی ہو ٹال بھی۔۔۔”
“سونم۔۔۔”
ڈینیل نے اسے غصے سے چپ کرایا تھا۔۔۔
“پر عمر میں بڑا بھی تو ہوں۔۔۔ اور اس وقت پروفیسر بھی تھا۔۔۔تو وہ مجھے چالیس سال کا ایک عمر رسید شخص سمجھ کر ٹھکرا آئی تھی۔۔”
“کیا چالیس سال عمر ہے آپ کی۔۔۔؟؟ لگتے نہیں ہو تیس پینتیس کے لگ رہے۔۔ ڈینیل سے تو ذیادہ ینگ لگ رہے۔۔۔”
سونم بڑبڑائے جا رہی تھی اپنی آنکھیں بھی صاف کر رہی تھی بار بار۔۔۔
“ہاہاہا نہیں میں عمر میں بریرہ سے صرف آٹھ سال بڑا ہوں۔۔۔”
“وہ بھی کم نہیں ہیں مسٹر۔۔۔”
ڈینیل نے کہا تو سونم نے اسے بازو مار کر چپ کرایا تھا۔۔۔
۔
“پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے وہ آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہیں مسٹر ڈینیل”
۔
بہرام کے پاؤں رک گئے تھے اسے ایک دم سے تکلیف ہوئی تھی پر وہ پھر سے اسی جگہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ شاہ مجھے ہر حال میں چاہیے یو باسٹرڈ ایک لڑکی کو فالو نہیں کرسکے تم۔۔”
اس نے اپنے ہی گارڈ کو مارنا شروع کردیا تھا وہ پاگل ہورہا تھا
آج وہ اپنی گن کا بہت استعمال کرچکا تھا۔۔آج وہ اس ایک انسان پر گولی چلا کر جیسے تھک گیا تھا وہ اپنے اسی ہاتھ کا استعمال کررہا تھا جس سے اس نے بریرہ پر گولی چلائی تھی
“وہ بریرہ ہی ہے۔۔۔وہ زندہ ہے۔۔ ۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گیا تھا جب اس کے سب گارڈز اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے
“سر آپ کے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے۔۔؟؟”
بلاج نے اپنا ہاتھ اٹھا کر دیکھا تھا اور پھر اپنے اپارٹمنٹ کو جو اس نےپوری طرح سے برباد کردیا تھا۔۔
وہ اپارٹمنٹ جو اس نے کسی کے ساتھ مل کر سجایا تھا
۔
۔
“بریرہ سیریسلی۔۔؟ اس اپارٹمنٹ پر میں دو کڑور لگا چکا ہوں اور تمہیں ابھی بھی یہ پسند نہیں آیا۔؟”
نووووووپ۔۔۔۔۔”
بریرہ نے پھر سے وہ پینٹ برش اٹھا لیا تھا
“وٹ دا ہیل۔۔؟ پاگل لڑکی۔۔”
“اچھا آپ جو اتنے آنسٹائن بنے ہوئے ہیں ابھی بتاتی ہوں۔۔”
وہ برش اتنی جلدی بلاج کی گال کے ساتھ ٹچ کیا تھا اس نے کہ اسکے چہرے پر لال رنگ لگ گیا تھا
“بریرہ کی بچی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا ابھی تو میں خود بچی ہوں۔۔۔”
“نہیں تم ابھی بچی ہوئی ہو مجھ سے۔۔”
بلاج نے وہ پینٹ برش اٹھا بریرہ کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔بلاج۔۔۔”
بلاج نے اپنے پینٹ سے بھرے ہوئے ہاتھ بریرہ کے چہرے پر لگا دئیے تھے اور اسے ویسٹ سے پکڑ کر اٹھا لیا تھا ہنستے ہوئے
“ہاہاہاہاہا ہاں جی تو کیا کہہ رہی تھی بریرہ میڈم۔۔؟؟ میری شرٹ میں کچھ زیادہ ہی ہوٹ نہیں لگ رہی ۔۔؟؟”
اس نے آنکھ مارتے ہوئے شرٹ کے بٹن تک اپنے ہاتھ بڑھائے تھے
“نہیں ہم اب اس بیڈروم میں تب تک نہیں جائیں گے جب تک وہاں سے گرے اور بلیک کلر چینج نہیں کردیتی میں۔۔”
“ہم ابھی جا رہے ہیں ہمارے بیڈروم میں وائفی روک سکو تو روک لو۔۔”
بلاج اسے اپنی گود میں اٹھائے اوپر سیڑھیاں چڑھنا شروع ہوگیا تھا
“تمہیں میری زرا فکر نہیں ہے نا بلاج۔۔؟ میری پسند نا پسند۔۔؟ اس لیے یہ پورا اپارٹمنٹ بے جان پڑا ہوا ہے ان رنگوں سے میری تو کوئی ویلیو ہی نہیں ہے۔۔۔”
بلاج کے کالر پر اپنے ہاتھ ڈالے بریرہ نے جیسے ہی رونے والی شکل بنائی تھی بلاج کے قدم رک گئے تھے
“بریرہ شاہ تمہیں اپنی ویلیو دیکھنی ہے۔۔؟آؤ میں تمہیں دیکھاتا ہوں۔۔”
بلاج نے اسے وہیں اتار دیا تھا اور اوپر بیڈروم میں چلا گیا تھا تیز قدموں سے۔۔
“ہاہاہا بلاج حمدانی میری بات تو منوا کر رہوں گی نہیں مجھے پسند یہ روکھے سوکھے سے رنگ۔۔”
وہ اپنی جیت پر ابھی خوش ہو ہی رہی تھی کہ اسے اندر بیڈروم سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی تھی
“بلاج یہ کیا ٹوٹنے کی آواز۔۔۔”
اندر تو پورا کمرا کچرا بن گیا تھا ہر چیز توڑ دی تھی بلاج حمدانی نہیں
بلاج نے جب اس ایک شیشے کو توڑنے کی کوشش کی تو بریرہ بھاگتے ہوئے اسکے قریب گئی تھی اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا تھا
“بس بلاج پلیز۔۔۔بس کرجاؤ۔۔۔”
“بریرہ بلاج حمدانی اس اپارٹمنٹ کی ہر ایک چیز ہر ایک کنٹری سے منگوائی تھی کہ تمہیں پسند آئیں گی اور تم ویلیو کی بات کرتی ہو۔۔؟”
بلاج نے پیچھے مڑ کر بریرہ کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا
“بلاج میرا وہ مطلب نہیں تھا”
“بلاج حمدانی ایک تمہیں ہی تو اہمیت دے رہا ہے بریرہ۔۔دوبارہ ویلیو کی بات نا کرنا۔۔تمہیں جو اس اپارٹمنٹ کے ساتھ کرنا ہے تم کرسکتی ہو میری جان۔۔میری محبت ان سے کے آگے کچھ بھی نہیں”
بریرہ اسکے سینے سے لگ گئی تھی بنا کچھ کہے۔۔
“کبھی کبھی تمہاری محبت سے ڈر لگتا ہے کبھی اور کبھی تمہاری محبت سے بہت محبت ہوجاتی ہے۔۔
سمجھ نہیں آتی مجھے محبت تمہاری مجھ سے محبت سے ہے یا اس محبت میں تمہارے اس جنون سے ہے۔۔؟؟”
یہ کہتے ہوئے اسکی انگلیا ں بلاج کی شرٹ کے بٹن پر تھیں
“اب مجھے نہیں جانا بیڈ روم میں۔۔”
بلاج اسکے ہاتھوں سے کالر چھڑا کر روم سے باہر آگیا تھا۔۔
۔
“آپ جو اس طرح سے تڑپائیں گے۔۔۔
ایسے عالم میں پاگل ہوجائیں گے۔۔۔”
۔
“ابھی بھی نہیں مسٹر مافیا۔۔؟؟”
اور اس نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنا شروع کردئیے تھے بلاج حمدانی کی دھڑکنے اور تیز ہونا شروع ہوگئیں تھیں بریرہ کے اس بولڈ موو پر۔۔۔
۔
“جسم سے روح میں ہم اترنے لگے۔۔۔
اس قدر آپ سے ہم کو محبت ہوئی۔۔۔”
۔
“بریرہ۔۔۔”
“سو مائی مافیا مین آپ کے ہوش اڑ گئے ہیں اب۔۔؟ آرہے ہیں یا بیڈروم دوڑ بند کردوں۔۔؟”
اس نے آنکھ مار کر واپس دروازہ بند کرنے کی کوشش کی تھی
“تم مجھے کسی دن ضرور مار دو گی بریرہ اپنی اس ٹیزنگ سے۔۔۔”
۔
“ہم صنم حد سے آگے گزرنے لگے۔۔۔
آپ کے پیار میں ہم سنورنے لگے۔۔”
۔
۔
“بلاج۔۔۔”
“بریرہ۔۔۔”
۔
بلاج کے رخصار پر جیسے ہی اسے کسی کے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا تھا اس نے آنکھیں کھول کر ایک ہی نام لیا تھا
“بریرہ۔۔؟ سیریسلی بلاج۔۔؟؟ وہ رکھیل مر کر بھی یہیں ہے نا۔۔؟؟”
مدیحہ نے غصے سے کہا تھا
“اپنی آواز نیچی کرو مدیحہ باہر گارڈز کھڑے ہیں میرے۔۔مجھے پسند نہیں کوئی اس طرح مجھ سے بات کرے۔۔”
وہ یہ کہہ کر اٹھ گیا تھا۔۔
ماضی کی وہ یاد جو اسے بہت رومینٹک راتوں میں لے گئی تھی بلاج نے نظریں اٹھا کر اس بیڈروم کی طرف دیکھا تھا۔۔
“کیوں تم اسکے سامنے اتنے کمزور ہو بلاج۔۔؟ تمہیں اس سے محبت ہوگئی تھی نا۔؟ وہ لڑکی رکھیل سے کچھ زیادہ بن گئی تھی نا اور نوبت اسکی پریگننسی تک پہنچ گئی تھی۔۔؟”
مدیحہ نے بلاج کا ہاتھ کھینچ کر اپنی طرف متوجہ کیا تھا اسے
“مدیحہ اننف اس اننف گھر جاؤ۔۔”
“ہاں گھر جاؤ تاکہ تم اس کے بیڈروم میں اسکی یادوں کے ساتھ سو سکو۔۔؟ تم اسے ہرا کر بھی نہیں ہرا پائے بلاج حمدانی۔۔آج مجھے اور اپنے ہونے والے بچے کو اگنور کر رہے ہو اس رکھیل کے لیے اس دشمن کی بیٹی کے پیچھے۔؟”
مدیحہ اپنی آواز پر بلکل بھی قابو نہیں کر پائی تھی دوسری طرف بلاج اپنے غصے پر کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا
“تمہیں کتنی بار کہوں کہ نفرت کرتا ہوں میں بریرہ شاہ سے۔۔ہمیشہ سے نفرت کی میں نے اس سے اسکی اوقات کچھ نہیں تھی میرے سامنے۔۔۔”
بلاج نے غصے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا
“اچھا پروو اِٹ۔۔ثابت کرو اسکی کوئی اوقات نہیں۔۔”
“وٹ۔۔؟ کیسے۔۔۔؟؟”
۔
“مئیک لو ٹو مئ۔۔اسی بیڈروم میں جو تم اسکے ساتھ شئیر کرتے تھے۔۔۔اسی بیڈ پر جہاں اسکی یادیں تھی۔۔؟”
“مدیحہ۔۔۔”
بلاج نے ایک سرگوشی میں کہا تھا
“کیا ہوا بلاج وائلٹ نہیں کرنا چاہتے اسکی اپنی یادیں۔۔؟کیا تم۔۔”
“بلاج نے اسے اٹھا لیا تھا اور اسی بیڈروم کی جانب بڑھ رہا تھا
“تم آج میری بریرہ شاہ کے لیے نفرت اور تمہارے لیے محبت دیکھو گی مدیحہ۔۔۔”
اور اس نے وہی ثابت کیا تھا اس بیڈروم میں ایک اور عورت کو لے جاکر اس نے اپنی نفرت ثابت کردی تھی بریرہ شاہ کی لیے۔۔۔جو اسی شہر میں ایک اپاٹمنٹ میں درد سے تڑپ رہی تھی۔۔
اور بلاج حمدانی یہاں ایک اور عورت کو اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔۔۔
۔
“نہیں ہے مجھے اس سے محبت۔۔۔نہیں ہے محبت۔۔۔بس نفرت ہے دشمن کی بیٹی سے۔۔”
۔
وہ جتنی بار مدیحہ کے قریب جا رہا تھا اتنی بار یہی بات دہرا رہا تھا۔۔۔
۔
۔
“پر آج اس نے اس کمرے میں موجود ہر اس چیز کو رسوا ضرور کردیا تھا آج اس نے خود کو رسوا کردیا تھا اپنی دشمنی میں۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ڈینیل۔۔وکی کو فون کرو۔۔اسے کہو وہ تصاویر اپ اپنے انسٹاگرام پروفائل پر اپلوڈ کردے۔۔”
بریرہ نے اپنا آکسیجن ماسک اتار دیا تھا
“بریرہ ماسک نا اتارو پاگل لڑکی۔۔”
سونم نے پھر سے ماسک لگا دیا تھا وہ جھک گئی تھی بریرہ کے پاس اسکے کندھے پر سر رکھ کر وہ رونا شروع ہوگئی تھی
۔
“بریرہ یہ سب کیسے ہوا ہے۔۔؟ کس نے کیا نام بتاؤ۔۔”
بریرہ نے آنکھیں بند کرلی تھیں بلاج کے ہاتھ وہ وہ پسٹل اور اس گن سے چلنے والی گولی اسکی روح تک کو چھلنی کرگئی تھی۔۔بریرہ کی خاموشی پر بہرام نے اندر دیکھنے کی کوشش کی تھی اس میں ہمت نہیں تھی اسکی حالت دیکھ کر اسکے سامنے آنے کی۔۔وہ کبھی منہ چھپا رہا تھا کبھی ڈینیل کے پیچھے سے دیکھ رہا تھا کچھ قدموں کا فاصلہ طہ نہیں کرپارہا تھا وہ۔۔
۔
“ڈینیل وکی کو کال ملاؤ جو کہا ہے وہ کرو پلیز وقت بہت کم ہے۔۔”
اسکی آواز ہلکی ہونا شروع ہوگئی تھی اور مانیٹر کی ٹون تیز۔۔
“آپ سب باہر جائیں پلیز۔۔پلیز سونم سنبھالو خود کو۔۔”
لیڈی ڈاکٹر جو دوست بھی تھیں سونم کی انہوں نے سونم کو باہر جانے کا کہا تھا
“پلیز دعا اسے کچھ مت ہونے دینا پلیز۔۔”
“ڈینیل سونم کو باہر لے جاؤ۔۔”
اور وہ سب چلے گئے تھے باہر۔۔۔
“بلاج۔۔۔”
بریرہ نے ایک سرگوشی کی تھی اور اسکی آنکھیں بند ہوگئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج۔۔۔”
“بریرہ۔۔۔”
وہ اٹھ گیا تھا۔۔۔ماتھے سے پسینہ صاف کر کے اٹھنے کی کوشش کی تھی پر اٹھ نہیں پایا تھا جب چہرہ دوسری طرف کیا تو مدیحہ پر اسکی نظر پڑی اور پھر اس کمرے پر۔۔
“بےوفا۔۔۔۔”
۔
اسے یہ لفظ سنائی دینا شروع ہوگیا تھا جیسے اس کمرے کی ہر چیز اسکی بےوفائی کی گواہی دے رہی ہو۔۔
“بےوفا۔۔”
“بریرہ۔۔”
“بلاج اس کمرے کے ہر کونے میں ہماری محبت کی سرگوشیاں ہیں ہماری یادیں۔۔
جب کبھی میں بابا سائیں کے گھر رہنے جایا کروں گی تو یہ کمرہ تمہیں میری کمی محسوس نہیں ہونے دے گا۔۔
بلاج اپنے کپڑے پہن کر کھڑا ہوگیا تھا
“بلاج اتنی صبح کہاں جا رہے۔۔؟”
مدیحہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“بےوفا۔۔”
اسکے دماغ میں یہ ایک ہی لفظ سنائی دے رہا تھا اسے۔۔
“کپڑے پہنو ہم گھر جا رہے مہتاب سے کچھ ضروری بات کرنی ہے مجھے۔۔”
“پر بلاج۔۔”
“میں نے کہا کپڑے پہنو۔۔۔”
۔
اسکی آواز میں شدید غصہ تھا کہ مدیحہ جلدی سے اٹھ گئی تھی۔۔بلاج کو آج اس کمرے میں ایک پل اور رہنے سے گھٹن محسوس ہونا شروع ہوگئی تھی اور وہ وہا ں سے باہر چلا گیا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پانی۔۔۔”
بریرہ نے ماسک اتار کر اٹھنے کی کوشش کی تھی کمرے میں ایک ڈم لائٹ ہی آن تھی ہر طرف اندھیرا سا تھا۔۔
ٹیبل پر پانی کے گلاس تک ہاتھ بڑھاتے ہوئے اسکا ہاتھ پھسل گیا تھا۔۔وہ اپنے بیڈ سے نیچے گرتی اسے کسی نے پیچھے سے سہارا دیا تھا۔۔۔بریرہ کا چھپ گیا تھا اس سہارے دینے والے کے کندھے میں۔۔
“میں دیتا ہوں۔۔”
بہرام نے اسے آہستہ سے لٹا دیا تھا اور پانی کا گلاس اسکے منہ تک لے گیا تھا جس کی آنکھیں کھل رہی تھی بند ہورہی تھی
“آپ۔۔کون۔۔؟”
بلاج کے ہاتھ رک گئے تھے بریرہ نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر وہ پانی کا گلاس اپنے ہونٹوں کو لگایا تھا دو گھونٹ پینے کے بعد وہ پھر سے گر گئی تھی بیڈ پر۔۔
۔
“میں جانتی ہوں آپ کو۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔”
بہرام بھی وہیں پاس بیٹھ گیا تھا اسکی نظریں نہیں ہٹ پارہیں تھیں بریرہ کے معصوم چہرے سے
“آپ کی آواز سنی ہوئی لگ رہی۔۔”
“میں پہلی بار ملا ہوں تم سے پشمینہ۔۔تمہیں اس سڑک پر زخمی دیکھا تو اپنے ساتھ یہیں لے آیا۔۔
باہر تمہارے دوست ہیں۔۔میں چلتا ہوں۔۔”
وہ اٹھ کر جانے لگا تھا اس سے اب اور نہیں دیکھا جا رہا تھا بریرہ کو درد میں کراہتے ہوئے
“سٹے۔۔۔مجھے کچھ ہونے نہیں دینا۔۔میں نے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے پھر سے سو گئی تھی بہرام کا ہاتھ مظبوط گرفت میں پکڑے۔۔
“بریرہ۔۔۔”
اسکی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر بریرہ اور اسکے بندھے ہاتھ پر جا گرا تھا۔۔
وہ بہرام شاہ تھا۔۔وہ کمزور نہیں تھ پھر کیوں یہ لڑکی اسے کمزور کررہی تھی جو پاکستان میں سب کے سامنے اسے ٹھکرا آئی تھی۔۔کیوں اسے درد ہورہا تھا بریرہ کے درد سے۔۔۔؟؟
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“میں تمہیں کہہ رہا ہوں فون کرو پشمینہ شیخ کو اور پتا کرو کہاں ہے وہ۔۔؟”
“بلاج بھائی ہوکیا گیا ہے آپ کو۔۔؟ میں کہہ رہا ہوں وہ میرا فون نہیں اٹھائے گی۔۔”
“کیوں ڈمپ کردیا تمہیں۔۔؟ اتنی جلدی۔۔؟”
بلاج اندر ہی اندر خوش بھی ہوا تھا اور پریشانی سے پاگل بھی ہورہا تھا اسے کوئی خبر نہیں تھی چوبیس گھنٹے ہونے کو تھے
“اگر کر بھی دیا تو آپ کو کیا بلاج بھائی۔؟ خوش ہوجائیں آپ لوگ۔داد جی آپ ڈیڈ ریبل سب لوگ جشن منائیں۔۔کیونکہ پشمینہ نے میرے منہ پر مار دی ہے یہ انگوٹھی۔۔”
مہتاب جتنے غصے سے اٹھا تھا اسکی کرسی نیچے گر گئی تھی۔۔لیونگ روم کا ماحول ایک بار پھر سے خراب ہوا تھا۔۔
“مہتاب بیٹا آرام سے بات کرو۔۔”
“آپ کو کسی نے کہا ہے درمیان میں بولنے کو۔۔؟ گھر کے مرد بات کر رہے ہیں۔”
بلاج نے انتہائی بدتمیزی سے اپنی ماں کو چپ کرا دیا تھا
“اچھا اسکا ایڈریس دو مجھے۔۔میں پوچھ کر آؤں کہ یہ تماشا کیا لگا رکھا ہے۔۔فون نمبر دو۔۔”
“نہیں ہے وہ گھر میں۔۔بند ہے لاک ہے اسکا اپارٹمنٹ وہ اپنے کزن اپنی فیملی کے ساتھ پیرس چلی گئی ہے کچھ دن کے لیے۔۔۔”
اور بلاج ہنسنا شروع ہوگیا تھا۔۔
“اچھا جھوٹ بول لیتی ہے وہ۔۔اسے میں نے کل دیکھا تھا اسکے کسی یہیں نیویارک تم بکتے ہو وہ نہیں ہے یہاں۔۔”
مہتاب نے غصے سے اپنا موبائل نکالا تھا اور اسے وہ تصاویر اور ٹائم دیکھایا تھا
“وہ پشمینہ شیخ ہے بھیا وہ اپنی بے عزتی نہیں بھولے گی جب تک آپ لوگ معافی نہیں مانگے گے اور وہ واپس بھی نہیں آئے گی۔۔پر میں تو مر جاؤں گا اسکے بغیر۔۔پلیز مجھے وہ چاہیے۔۔۔پلیز بلاج بھائی ورنہ میں کچھ کرگزروں گا۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بھاگا تھا۔۔
“مہتاب۔۔۔مہتاب۔۔۔”
باقی گھر والے بھی اسکے پیچھے بھاگے تھے سوائے بلاج کے اسکے ہاتھ میں ابھی بھی وہ موبائل تھا۔۔
پشمینہ کی تصویر وہ بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
۔
۔
“بہت بڑی گیم کھیل رہی ہو تم بریرہ شاہ۔۔۔اس بار بھی شکست تمہیں ہوگی یاد رکھنا
بلاج حمدانی نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا۔۔۔”
۔
پر اسے کیا معلوم تھا اسکے ہارنے کے دن تو کب سے شروع ہوگئے تھے۔۔وہ گولی اس نے دشمن کی بیٹی پر نہیں اپنی بیوی پر چلائی تھیں۔۔۔۔
اور آنے والے وقت میں وہ خوں روئے گا اپنے ہر ظلم پر۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسے ہوش آنے والا ہے میں اب چلتا ہوں یہاں سے۔۔۔میں ایسے بریرہ کے سامنے نہیں آؤں گا۔۔ایک پلاننگ کے ساتھ سب ہوگا آپ دونوں بھی پلان کے مطابق چلئیے گا۔۔”
بہرام اٹھنے لگا تھا پر بریرہ کی گرفت اور مظبوط ہوگئی تھی۔۔سونم اور ڈینیل کی نظروں میں بہت حیرانگی تھی
“پلیز۔۔۔سٹے۔۔۔”
۔
بہرام واپس وہیں بیٹھ گیا تھا
“میں واپس آنے کے لیے جارہا ہوں بریرہ۔۔میرا وعدہ ہے۔۔”
اس نے بریرہ کے ماتھے سے اسکے بال پیچھے کئیے تھے جسے دیکھ کر سونم کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھی
۔
“تیرا بنے گا وہ ،،،جو تیرا نہیں ہے۔۔۔
اے دل بتا ،،،کیوں تجھ کو اتنا یقین ہے۔۔۔”
۔
“تب تک اپنا خیال رکھنا بریرہ شاہ۔۔تم میں شاہ فیملی کا خون ہے وہ خون جو انتقام لئیے بغیر ٹھنڈا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔اسکے بعد ہم دونوں ساتھ پاکستان واپس جائیں گے۔۔۔پری سے بھی ملوانا ہے تمہیں۔۔”
اسکی آواز اسکے جذبات نے بھاری کردی تھی۔۔۔وہ آگے بڑھ کر بریرہ کے ماتھے پر بوسہ لینا چاہتا تھا۔۔۔پر اپنی مٹھی بند کر کے وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“یا اللہ یہ سب ہوکیا رہا ہے۔۔؟ ڈینیل دیکھا تم نے۔۔؟ مہتاب اور بلاج نہیں
بلاج اور بہرام کی لڑائی ہوگی بریرہ کو لیکر دیکھ لینا۔۔۔سیریسلی۔۔۔”
سونم کا چہرہ پوری طرح سے شاکڈ تھا۔اور ڈینیل وہ تو جیسے چپ ہوگیا تھا اپنی بیوی کی بات سن کر۔۔
۔
“کچھ بھی اچھا نہیں ہونے والا سونم۔۔مجھے وہ طوفان آتا ہوا نظر آرہا ہے جو سب بہا لے جائے گا ۔۔۔سب کچھ۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
پاکستان۔۔۔
۔
“بہرام کا فون آیا تھا بھابھی۔۔ابھی تک ارسل کا کچھ پتا نہیں چلا پر جلدی ہی پتا چل جائے گا آپ فکر نہیں کریں۔۔”
۔
“دادو مجھے بھی بابا کے ساتھ جانا تھا۔۔”
پری اپنی غریا اٹھائے کبیر صاحب کی گود میں آکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“آلے میری گڑیا آپ کے بابا جلدی جلدی آجائیں گے آپ کے پاس ہم سب ہیں نا۔۔”
“کیا سچ میں بابا میرے لیے نئی ماما لیکر آئیں گے۔۔؟؟”
کبیر صاحب کے چہرے کی ہنسی تو اڑی تھی باقی سب بھی خاموش ہوگئے تھے
“آپ کو کس نے کہا بیٹا۔۔۔بابا تو ایک ضروری کام کے لیے گئے ہیں۔۔”
“پر تھوڑی دیر پہلے بابا نے فون پر کہا تھا نئی ماما ساتھ لیکر آئیں گے۔۔۔”
کبیر صاحب جو چائے کا گھونٹ لگا چکے تھے وہ انکے منہ سے باہر آگئی تھی کھانسی کرتے ہوئے۔۔
“ہاہاہاہاہا کبیر صاحب آپ اتنا کیوں شرما رہے۔۔؟ “
انکی بیگم اور عروج بیگم نے ہنسنا شروع کردیا تھا حیران سب تھے پر سب نے پری کا جوک سمجھ کر اس بات پر اتنا دھیان نہیں دیا۔۔۔
“ایک منٹ بیٹا میرا فون بج رہا۔۔”
کبیر صاحب نے اپنی گلاسیز لگا کر موبائل ٹیبل سے اٹھایا تھا
“پرائیویٹ نمبر۔۔؟؟ ہیلو۔۔۔”
۔
انہوں نے کال پک کر لی تھی۔۔
“ہیلو۔۔ہیلو۔۔۔؟”
پر دوسری طرف سے کوئی بول نہیں رہا تھا
“ہیلو۔۔۔”
۔
“کبیر۔۔۔میں وجیح۔۔۔شاہ۔۔۔”
“وجیح۔۔۔بھائی۔۔؟ ہیلو۔۔۔”
“ہیلو۔۔کبیر۔۔مجھے تمہاری مدد۔۔۔”
“ہیلو۔۔۔”
اور دوسری طرف سے لائن ڈیڈ ہوگئی تھی۔۔
کبیر صاحب اٹھ گئے تھے اور فون پر چلانا شروع ہوگئے تھے
“ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔”
“کبیر بھائی صاحب۔۔۔وجیح۔۔؟؟”
“ہاں بھابھی وجیح بھائی کی آواز تھی۔۔۔جیسے وہ کسی جلدی میں تھی۔۔مدد کا کہہ رہے تھے۔۔
یا اللہ میرا دل کہتا تھا وہ زندہ ہیں بھابھی۔۔کسی نے انکو قید کیا ہوا۔۔۔میں ابھی بہرام کو فون کرتا ہوں۔۔میں خود نیویارک جاؤں گا۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
