57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

“اب نیویلی ویڈڈ کپل کا ایک کپل ڈانس ہوجائے ایک رومینٹک نمبر پر۔۔؟؟”
بریرہ کے قدم دروازے سے باہر تھے جب مہتاب کی آواز اسکے کانوں میں پڑی ابھی وہ باہر جانے ہی لگی تھی کہ ایک ہاتھ بریرہ کے سامنے تھا
“مئے آئی۔۔؟؟”
“مجھے زرا جلدی۔۔۔”
“کم آن آپ کی جان بچانے والے کے لیے ایک ڈانس نہیں۔۔؟”
بریرہ کے قدم رک گئے تھے اور پھر اس نے بہرام کو ٹھیک سے دیکھا تھا
“آپ کون ہیں۔۔؟”
“ڈانس فلور پر چلیں پھر بتاتا ہوں۔۔ویسے بھی میرا فیورٹ سونگ ہے یہ۔۔”
بہرام نے جیسے ہی ہاتھ آگے بڑھایا تھا بریرہ کی نظریں ڈانس فلور پر تھیں جہاں بلاج بہت خوشگوار موڈ میں مدیحہ کے ساتھ ڈانس کرنا شروع ہوگیا تھا۔۔بریرہ نے ایک قدم آگے بڑھا کر بہرام کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
۔
“تم بن جاؤں کہاں،،کہ دنیا میں آکے،،،
کچھ نا پھر چاہا صنم،،،تم کو چاہ کے۔۔۔”
۔
بہرام کے ہاتھ بریرہ کی ویسٹ پر جیسے ہی لگے تھے بریرہ کی نظریں بلاج حمدانی سے ہٹ گئیں تھیں جو اب اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ ڈانس تو کررہا تھا پر اسکی نظریں بہرام کو دیکھ رہی تھیں غصے سے
۔
۔
۔
“ان آنکھوں میں بلا کی نفرت ہے تو محبت کی انتہا کیا ہوگی۔۔؟”
وہ ڈانس کرتے کرتے رک گئے تھے جب بہرام نے یہ بات کہی تھی
“میں سمجھی نہیں۔۔۔”
بریرہ کو جب خود پر بہت سی نظریں محسوس ہوئی تو اس نے خود کو بہرام سے تھوڑا دور کرنے کی کوشش کی تھی
“میں سب سمجھا دوں گا کوئی جلدی نہیں مجھے بریرہ شاہ تم”
“ایکسکئیوزمی مئ آئی۔۔۔؟”
بلاج حمدانی نے بریرہ کے سامنے اپنا ہاتھ جیسے ہی رکھا تھا وہ کبھی حیرانگی سے اسکا ہاتھ دیکھ رہی تھی تو کبھی بلاج کی بیوی کی طرف جو اب کسی اور کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی
“یا شئور مسٹر بلاج۔۔۔مس پشمینہ آئی ہوپ آپ ہمارے کل کے پروگرام کو اگنور نہیں کریں گی۔۔۔”
بہرام ایک پہیلی کہہ گیا تھا جو بریرہ کو بھی سمجھ میں نہیں آئی تھی
“ماننا پڑے گا آپ کی بہادری کو اس طرح سے اپنی پوری فیملی کے سامنے کسی اور کے ساتھ ڈانس کر رہے ہیں مسٹر بلاج۔۔۔”
بریرہ نے یہ کہتے ہی بلاج کے کندھے پر پر اسکی گردن پر اپنے دونوں ہاتھ ڈال دئیے تھے
“ماننا تو تو آپ کو بھی پڑے گا مس پشمینہ اپنے منگیتر اور چاہنے والے کے سامنے کسی اجنبی کے ساتھ اس طرح سے آپ بھی نزدیکی بڑھا رہی۔۔۔۔”
بریرہ ہنس دی تھی اور شرارتی انداز میں بلاج کو آنکھ ماری تھی
“کیا اب بھی مسٹر بلاج۔۔۔؟”
اسکی ہیلز جیسے ہی بلاج کے شوز پر آئی تھی دونوں کے درمیان فاصلہ اور کم ہوا تھا جہاں مہتاب کے چہرے کی ہنسی چلی گئی تھی۔۔۔وہیں بہرام نے اپنی نظریں موڑ لی تھی ڈانس فلور سے۔۔۔
بلاج اور بریرہ کا انٹیمیٹ ڈانس سب کی اٹریکشن حاصل کرچکا تھا پوری طرح سے
۔
“ہاہاہاہاہا سیریسلی۔۔۔؟؟؟”
بلاج بے ساختہ ہنس دیا تھا بریرہ کی ٹئیزنگ پر۔۔اب یہ سمجھ سے باہر تھا کہ کون کس کا شکار کر رہا تھا اس پل میں
“بلڈڈی ہیل۔۔دیکھ رہی ہو کس طرح سے ہنس رہا ہے کسی اور عورت کے ساتھ اپنی شادی کے دن”
مدیحہ کے والد اس چئیر سے اٹھ کر ہال سے باہر چلے گئے تھے
“رہ بھی سکو گے تم کیسے ہوکے مجھ سے جُدا،،،
پھٹ جائیں گی دیواریں سن کے میری صدا”
۔
بریرہ جو بلاج کی ہنسی میں کھو گئی تھی اسکی نظریں سونگ کے ایک شعر پر اس کمرے میں گھومی تھی اور بہرام پر پڑی تھیں جس نے اپنے ہاتھ پکڑے جوس کے گلاس کو اسکی طرف دینے کا اشارہ کیا تھا جس پر بریرہ کے چہرے پر مسکان آگئی تھی
“کون ہے وہ۔۔؟”
“کون۔۔؟”
بریرہ کی نظریں ابھی بھی بہرام پر تھیں
“وہ جسے دیکھ کر تم مسکرا رہی ہو۔۔”
اور بلاج کی گرفت مظبوط ہوگئی تھی بریرہ کی ویسٹ پر
“مسٹر بلاج کیوں اس پارٹی میں موجود لوگوں کو رؤنگ امپریشن دے رہے ہیں آپ۔۔؟”
“مجھے کوئی پرواہ نہیں۔۔مس پشمینہ۔۔میں نے جو پوچھا اس کا جواب دو۔۔کون ہے وہ۔؟”
بلاج کی آنکھوں میں ایک اتر آیا تھا کچھ سیکنڈز کے لیے۔۔
“ہے کوئی اپنا ۔۔آپ کو میری پرسنل لائف میں انٹرفئیر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں “
بریرہ کے لیجے میں ایک غصہ تھا
“کیسے نا کروں۔؟ بات میرے چھوٹے بھائی کی ہے مس پشمینہ۔۔”
“مجھے تو آپ کے لہجے سےمعاملات کچھ اور ہی لگ رہے۔۔۔کیا آپ جیلس ہو رہے ہیں۔۔؟ جس کے ساتھ آپ نے اس کلب میں نزدیکیاں بڑھانے کی کوشش کی اس نے آپ کے بھائی کو چنا۔۔؟؟”
بریرہ نے جیسے ہی بلاج کے کان میں سرگوشی کی اسکے ہونٹ بلاج حمدانی کے ہوش و ہواس اڑا لے گئے تھے
بریرہ کہہ کر واپس جانے لگی تھی بلاج نے پھر سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا
“اس سونگ پر ایک ڈانس ہوجائے۔۔؟ آج میں اپنی خوشی کے ساتھ ساتھ کسی کی محبت کو پوری طرح سے رسوا کرنا چاہتا ہوں۔۔”
اس سونگ پر بریرہ کے قدم رک گئے تھے اور بلاج حمدانی تھوڑا تھوڑا کامیاب ہوگیا تھا اپنی گیم میں
“مطلب۔۔؟؟ “
اب کے بریرہ نے بلاج کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“مطلب۔۔؟؟”
پر بلاج خاموش ہوگیا تھا اس کا دھیان تو کہیں اور چلا گیا تھا بڑا سا چشمہ لگائے اور جھلی لڑکی پر جو دشمن کی بیٹی تھی
۔
۔
“میں نہیں جا رہی۔۔اور کالگ میں کیا کر رہے ہو تم۔۔؟”
“پڑھائی کرنے تو اب آ نہیں سکتا نا میں بریرہ جی۔؟ لڑکیاں تم چھیڑنے نہیں دیتی تو ظاہر ہے ایک تم ہی رہ گئی ہو میرے لیے۔۔ ہائے بیوٹیفل۔۔۔”
بلاج نے کہتے کہتے دور کھڑی لڑکی کو اشارہ کیا تھا جس پر بریرہ نے اسکے کندھے پر تھپڑ مارا تھا
“مر جاؤ گے کسی کے ہاتھوں سے۔۔ باہر گارڈز کھڑے ہیں”
“مجھے کوئی نہیں مار سکتا بریرہ شاہ۔۔۔تمہاری آنکھیں پہلے ہی قتل کرچکی ہیں میرا۔۔”
بلاج نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا وہ سچ میں پہچانا نہیں جا رہا تھا سر پر کیپ اور نقلی مونچھیں لگائے
“پر میرا کمپٹیشن ہے بلاج اندر۔۔”
“اس لیے آیا ہوں۔۔میرے ہوتے ہوئے تم اس چشمش کے ساتھ ڈانس کرو گی۔؟ “
“وٹ دا ہیل۔۔کس نے بتایا تمہیں۔۔؟”
“تمہیں تو میں بعد میں بتاؤں گا جو مجھ سے اتنی باتیں چھپانے لگی ہو۔۔چلو اب اندر۔۔”
بلاج اسکا ہاتھ پکڑے اندر لے گیا تھا
۔
“کس کی محبت کو رسوا کرنا چاہتے ہیں آپ۔۔؟؟”
بلاج اس کھوئی ہوئی دنیا سے باہر آیا تھا
“بس تھی ایک دشمن کی بیٹی۔۔اسے لگتا تھا میں اسے یہاں سب کے سامنے اپنی فیملی کے خلاف جا کر اپنا نام دوں گا۔۔”
بلاج کا تلخ لہجہ اور سخت لفظوں نے بریرہ کی سانسیں کچھ پل کو روکیں تھیں
پر انکا وہ سلوو ڈانس نہیں روکا تھا۔۔چاہے باقی سب رک گئے تھے جن کی نظریں مسلسل ان دونوں پر تھیں
۔
“دل میں بےتابیاں،،،نیند اڑنے لگی۔۔
تیرے خیالوں سے ہی آنکھ جُڑنے لگی۔۔۔”
۔
“میں تو سمجھی تھی آپ لوگوں کے مجرم ہیں پر آپ تو محبت کے مجرم نکلے۔۔
لوگ تو بھول جاتے ہیں پر محبت محبت کے مجرم کو نہیں بھولتی آپ کسی کو رسوا کرنے میں کتنا کامیاب ہوئے یہ تو آپ جانتے ہوں گے۔
پر محبت جب رسوا کرنے پر آئے گی تو لوگ جانیں گے انجام آپ کی رسوائی کا۔۔”
بریرہ نے سرگوشی کی تھی اور ڈانس کرتے کرتے ایک لمحہ ایسا آیا تھا جب اس نے بلاج کے کندھے پر اپنا سر رکھ لیا تھا
“تم مجھے میرے شادی والے دن ہی ڈائیورس کروانا چاہتی ہو کیا۔۔؟”
اسکی آواز بھی اتنی ہی ہلکی تھی بریرہ کی باتوں نے شاید اسکے پاس کچھ چھوڑا نہیں تھا بولنے کو
“کیوں اتنا آسان ہے شادی کرکے ڈائیورس دینا خاس کر جب وہ پریگننٹ ہے۔۔؟؟
ویسے مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی۔۔”
بلاج کو ایسا محسوس ہوا تھا جیسے بریرہ نے اسکے کندھے پر بوسہ دیا ہو پر بریرہ کی بات پر وہ رک گیا تھا
“کیا سمجھ نہیں آئی۔۔؟ “
“یہی کہ ایک ناجائز بچے کو بلاج حمدانی نے اپنا لیا پر ایک جائز بچے کے مر جانے کی خبر تک میڈیا کو ہونے نہیں دی۔۔؟ سننے میں آیا کہ وہ آپ کے نکاح میں تھی کیا نام تھا اس بیوقوف کا۔۔؟
ہاں “بریرہ شاہ” مجے سوچنے پر حیرانگی ہوتی ہے مسٹر بلاج۔۔۔لوگوں کو تباہ کرنے والے کیسے آباد رہ لیتے ہیں۔۔؟”
۔
بریرہ یہ کہہ کر وہاں سے فائننلی چلی گئی تھی باہر کی طرف۔۔
“بلاج یہ کیا تھا سب۔؟ وہ تمہارے بھائی کی منگیتر ہے جسے تم سیڈیوس کرنے کی کوشش کر رہے تھے”
داد جی کی آواز پر بلاج اپنی شاکڈ سٹیٹ سے باہر آیا تھا اسکی مٹھی بند ہوگئی تھی بریرہ کی کہی ہر بات سے وہ اتنے غصے میں تھا
“بلاج میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔”
“ابھی نہیں داد جی۔۔”
وہ بھی اسی طرف غصے سے گیا تھا جہاں بریرہ گئی تھی۔۔۔
“بیک یارڈ میں وہ رک گئی تھی اسکی آنکھیں بھر آئیں تھیں اسکی خود کی باتوں سے۔۔
جیسے ہی اسکا بازو پکڑ کر کسی نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا اسکے سارے آنسو چھلک گئے تھے
“بریرہ۔۔۔”
“مسٹر بلاج۔۔”
بلاج نے اسے موقع نہیں دیا تھا جتنےی زور سے اس نے بریرہ کو اس دیوار کے ساتھ پن کیا تھا
اسکے ہونٹوں نے بریرہ کو پھر کچھ بھی بولنے کا موقع نہیں دیا تھا۔۔
بریرہ اسے پیچھے دھکا دینے کی کوشش کی تھی پر اسکے دل میں اب بھی کہیں وہ بیوی تھی جسے اتنے سالوں کے بعد بلاج کے اس لمس میں وہی محبت محسوس ہوئی تھی
وہ جو ہاتھ بلاج کو پیچھے دھکیل رہے تھے اب وہی ہاتھ بلاج کی گردن پر تھے۔۔
۔
اور اسی وقت بہرام شاہ وہاں سے چلا گیا تھا تھا جو بلاج کو مارنے کے لیے وہاں بڑھا تھا
۔
وقت وہیں تھم گیا تھا جیسے۔۔وہ اپنا غصہ بھی ظاہر کر رہا تھا اپنا جنون بھی۔۔۔
“ابھی ابھی تو ملے ہو۔۔ابھی نا چھوٹنے کی بات۔۔۔
ابھی ابھی زندگی شروع ہے،،،ابھی ابھی تھم جانے کی بات”
۔
“بریرہ۔۔۔”
بلاج جب کوئی حرکت محسوس نہیں کی تو کچھ پیچھے ہوا تھا
“بریرہ۔۔۔”
اس نے ایک زور دار تھپڑ مار دیا تھا بلاج حمدانی کو۔۔
“ہاؤ ڈئیرھ یو بلاج۔۔اتنی گھٹیا حرکت کی امید تم جیسے مافیا ڈون سے ہی کی جاسکتی ہے “
بریرہ نے جس طرح سے اپنا چہرہ صاف کیا تھا اسکی آنکھوں میں صرف حقارت تھی
بلاج نے اپنے گال پر ہاتھ رکھ دیا تھا اسے پہلی بار زندگی میں تھپڑ پڑا تھا اس نے بریرہ کا گلہ پکڑ لیا تھا غصے سے
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی بریرہ۔۔آج ایسے رہ ایکٹ کر رہی میرے چھو جانے پر مرتی تھی تم اور آج۔۔”
“اننف۔۔۔از اننف۔۔۔وہ جو تم جیسے کے چھو جانے پر مرتی تھی وہ مر چکی ہے۔۔
پشمنیہ شیخ ہوں میں۔۔تم اتنا ہی انٹیمیسی کے لیے ترسے ہوئے ہو تو اپنے کسی کلب جاؤ اپنی بیوی کے پاس جاؤ جگہ جگہ منہ ماری کرنا بند کردو۔۔
اندر تمہاری بیوی ہے اور تم یہاں۔۔شرم آرہی مجھے کہ میں نے اس خاندان میں آنا ہے شادی کے بعد۔۔ایک ہی نام بریرہ بریرہ۔۔یا تو اسے مرنے نا دیتے۔۔یا اسکے ساتھ مرجاتے اگر اتنی ہی محبتیں قابو میں نہیں تھیں تمہارے۔۔۔”
۔
بریرہ نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیل دیا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“دیکھ لیا تم نے اپنے ہسبنڈ کی کرتوتیں۔؟ اور تم یہ پریگننسی کا ڈرامہ بند کرنے کا سوچ رہی تھی مدیحہ۔۔”
“آہستہ بولو تم کوئی سن لے گا۔۔”
مدیحہ نے اپنی دوست کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
“مدیحہ بیٹا یہ سب کیا ہے۔؟”
“موم ایسا کچھ نہیں ہے جیسا لگ رہا ہے۔۔بلاج تو اس لڑکی کو جانتے بھی نہیں۔۔”
مدیحہ کی والدہ اور والد دونوں ہی شدید غصے میں تھے جتنے رشتے دار آئے تھے سب نے باتیں کرنا شروع کردی تھی بلاج کے کردار پر۔۔
“آنٹی قصور تو اس لڑکی کا ہے جو اپنے منگیتر کو چھوڑ کر کسی اور کے ہسبنڈ کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی”
“بس کریں آپ۔۔مدیحہ بھابھی بھی تو اپنے کزن کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں کیا کسی کو مسئلہ تھا۔۔؟ بلاج بھائی اور پشمینہ میں اگر انڈرسٹینڈنگ ہو رہی ہے تو میں نے ریکوسٹ کی تھی ان دونوں سے۔۔ورنہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے پر بھی رضامند نہیں تھے۔۔”
مہتاب نے ساری بات کو کور تو کرلیا تھا پر اسکے دل میں جو اتنے سوال اٹھ رہے تھے وہ اسے بار بار دروازے کی جانب دیکھنے پر مجبور کر رہے تھے
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم بریرہ ہی ہو۔۔”
“رئیلی۔۔؟؟ ثابت کرو۔۔ تمہیں ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی ۔۔؟ “
“نہیں آرہی۔۔تم کیا سمجھتی ہو مہتاب سے شادی کرکے تم مجھے ہرا دو گی۔؟ میں تمہاری شادی اس سے کبھی ہونے نہیں دوں گا تم میرے نکاح میں ہو۔۔تم صرف میری ہو۔۔”
“سیریسلی تم اب مجھے مافیا مین نہیں کوئی سائیکو لگ رہے ہو۔۔کونسا نکاح کون بریرہ۔۔؟
یو ڈسگسٹ مئ بلاج حمدانی۔۔تمہاری ہونے سے پہلے میں مرنا پسند کروں گی۔۔”
بلاج نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“تم جو بھی ہو چاہے بریرہ چاہے پشمینہ۔۔اب تم ضد ہو بلاج حمدانی کی
وہ ضد جو میرا جنون بن گئی ہے خاص کر اس کس کے بعد اب میں بھی دیکھتا ہوں کیسے کرتی ہو شادی مہتاب کے ساتھ تم۔۔اتنا جنون تو دشمن کی بیٹی کے لیے بھی نہیں تھا جتنی شدت تمہیں حاصل کرنے کی ہورہی۔۔۔”
دشمن کی بیٹی پر بریرہ کی آنکھوں میں نرمی آگئی تھی
“اچھا ہوا وہ لڑکی مر گئی اور اسکا بچہ بھی۔۔ورنہ کیسے برداشت کرتے تم جیسے شخص کو۔۔؟
وہ ٹھہری بیوقوف لڑکی تم جیسے مرد کی باتوں میں آگئی۔۔پر مجھے اتنی عقل ہے بلاج۔۔
مجھے ون نائٹ سٹینڈ نہیں چاہیے۔۔۔مجھے مہتاب حمدانی کی بن کر زندگی گزارنی ہے۔۔”
۔
بریرہ نے آخری بات اس طرح سے کی تھی جیسے اسے سچ میں عشق ہو مہتاب سے۔۔پر اسکی بات نے بلاج کو غصہ ضرور دلا دیا تھا۔۔۔
۔
“تم سمجھتی ہو۔۔۔”
“مس پشمینہ اب گھر چلیں۔؟ آپ کی دوست نے مجھ پر ذمہ داری چھوڑی ہے آپ کو واپس لے جانے کی۔۔۔۔”
پیچھے بہرام کی آواز آئی تھی جو اپنے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے کھڑا تھا۔۔بریرہ کی نظریں جھکی تھیں اور اس نے بلاج کو پیچھے کردیا تھا۔۔
۔
“بریرہ شاہ۔۔۔تم جا کر بھی نہیں جارہی یا تم کبھی گئی ہی نہیں تھی۔۔؟ یہ انجان لڑکی مجھے وہی بلاج بنا رہی ہے جو دشمن کی بیٹی نے بنا دیا تھا۔۔۔۔
“بےوفا۔۔۔تب اس سے بےوفائی کر رہا تھا اب اپنوں سے کررہا۔۔۔”
۔
۔
بلاج وہیں رہا تھا جب تک انکی گاڑی وہاں سے چلی نہیں گئی تھی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پشمینہ کہاں گئی۔۔؟”
مہتاب نے بلاج کو دیکھ کر پوچھا تھا
“مجھے کیا پتا اسے پوچھو فون کرو۔۔میرا راستہ چھوڑو۔۔۔۔”
بلاج اسی ٹیبل پر چلا گیا تھا جہاں اسکی ساری فیملی تھی
“بلاج تم کہاں تھے۔۔”
“کہاں تھے مطلب مدیحہ۔؟؟ پارٹی چل رہی اتنے ملنے والے روک رہے تھے بس ایک بزنس پارٹنر کے ساتھ کچھ ڈسکشن میں مصروف ہوگیا تھا۔۔کھانا شروع کریں آپ سب۔۔۔”
بلاج نے کھانا شروع کردیا تھا۔۔اور کسی کی ہمت نے تھی اگلا سوال پوچھنے کی
“پشمینہ تو چلی گئی ہے۔۔۔ میں نے تو ابھی اسے سب سے ملوانا تھا داد جی نے شادی کی بات کرنی تھی۔۔”
مہتاب بڑبڑاتے ہوئے بلاج کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔
“اچھا ہوا چلی گئی۔۔۔”
“کچھ کہا آپ نے بلاج بھائی۔۔؟؟”
“نہیں کہا ربیل کھانا کھاؤ ۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سمجھ نہیں آرہی کیا کروں۔۔ایسا لگ رہا ہے جیسے بریرہ زندہ ہے اور کسی کونے میں بیٹھ کر خوب روو رہی ہوگی سجل وہ ان معاملات میں بہت سینسٹو تھی۔۔آج وہ زندہ ہوتی تو کیا کرتی۔۔؟
جب اسے پتا چلتا وہ بےوفا کسی اور کو قہ مقام دے رہا ہے جو اسکا تھا۔۔۔۔۔؟؟”
اس بریج پر ایک تنہا گاڑی کھڑی تھی جس میں دو لوگ موجود تھے۔۔یہاں سے بھی حمدانی مینشن کی روشنیاں صاف نظر آرہی تھیں۔۔۔
“ارسل سنبھالو خود کو۔۔۔”
“میں بہت سختی کرتا تھا اس پر وہ جب سے پاکستان سے واپس آئی تھی۔۔وہ اتنی معصوم تھی کہ مجھے ڈر لگا رہتا تھا۔۔کاشان اور بابا سائیں نے اسے بہت کھلی چھٹی دی ہوئی تھی۔۔پر میرا آدھا دن اسکی ٹینشن لئیے گزر جاتا تھا۔۔اب حیران ہوتا ہوں کہاں کس دن میں نے اپنی بہن کو درگزر کردیا کہ دشمنوں کو موقع مل گیا ہمیں برباد کرنے کا۔۔”
ارسل شاہ کا پورا چہرہ بھیگ چکا تھا اسکے آنسوؤں سے
“ارسل یہ وقت رونے کا نہیں ہے۔۔۔”
“سہی کہا تم نے یہ رونے کا وقت نہیں ہے۔۔”
ارسل نے اپنا چہرہ صاف کرلیا تھا اور ایک نفرت بھری نظر واپس ڈالی تھی اسی مینشن میں جہاں جشن ہورہا تھا
“یہ وقت ہے دشمن کو رلانے کا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آپ نے وہاں جھوٹ کیوں بولا۔۔؟ میں نے سونم سے پوچھا اس نے تو آپ کو نہیں بھیجا۔۔”
بہرام نے گاڑی کی سپیڈ تیز کردی تھی۔۔۔اسے پتا نہیں کیوں غصہ تھا کیوں اس سے برداشت نہیں رہی تھی بریرہ کی نزدیکیاں بلاج کے ساتھ
“میں نے کچھ پوچھا ہے آپ سے۔۔۔کون ہیں آپ۔۔؟؟ میری جان بچانے کے پیچھے کیا مقصد ہے آپ کا۔۔؟؟”
اس نے ایک اور سوال پوچھا تھا
“بہرام شاہ۔۔۔”
“بہرام نے ایک دم سے بریک لگا دی تھی اور وہ بتا دیا تھا جو وہ نہیں بتانا چاہتا تھا بریرہ کو۔۔”
“وٹ۔۔۔بہرام بھا۔۔۔”
“بہرام ٹھیک ہے لڑکی خبردار جو بھائی کہا مجھے۔۔۔”
بہرام گاڑی کو ایک کونے پر لگا کر باہر نکل گیا تھا
“کون بہرام شاہ۔۔؟؟”
“پلیز بریرہ سٹاپ اِٹ۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا تھا بریرہ کو گھر چھوڑنے سے پہلے وہ بہت سے باتیں واضح کرنا چاہتا تھا اس پر
“آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔واپس چلے جائیں۔۔”
وہ یہ کہہ کر واپس گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی جب بہرام نے اسکا ہاتھ پیچھے سے پکڑا تھا
“تمہیں چھوڑ کر واپس چلا جاؤں بریرہ۔۔؟ ایم سوری تمہیں عادت ہوگی اپنو کو چھوڑ کر چلے جانے کی پر مجھے نہیں ہے۔۔تمہیں بدلہ لینا ہے لو اپنا بدلہ میں یہیں ہوں تمہارے ساتھ۔۔ جب دل بھر جائے جب سکون مل جائے تب سہی۔۔پر واپس تم میرے ساتھ پاکستان جاؤ گی۔۔”
بریرہ نے قہقہ لگایا تھا اور بہت ہنسی تھی
“واپس کہاں جاؤں۔۔؟کس کے پاس۔۔؟ میرے جیسی لڑکیاں کو کچی عمر میں خاندان کی عزتیں اور زندگیاں برباد کرچکی ہوں کیا انکے لیے بھی کوئی گھر رہ جاتا ہے واپس جانے کے لیے۔۔؟”
۔
بہرام خاموش ہوگیا تھا اسکی آواز میں درد محسوس کرکے
“بریرہ تم جانتی ہو تمہاری امی تمہاری دونوں بھابھیاں انکے بچے سب پاکستان میں ہیں۔۔
وہ راہ تک رہے ہیں تمہاری۔۔”
بہرام کا ہاتھ جیسے اسکے کندھےپر محسوس ہوا تھا اسے وہ چند قدم پیچھے مڑ گئی تھی
“وہ راہ کیوں تک رہی ہیں۔۔؟ انہیں تو مجھے کوسنا چاہیے میں نے انکے گھر اجاڑ دئیے۔۔
سب کے سہاگ کھا گئی میری بےوفا محبت۔۔وہ کیوں راہ تک رہی کیا انکو پتا ہے میں زندہ ہوں۔۔؟؟”
وہ کہتے کہتے رکی تھی
“نہیں پر میں آج بتا۔۔”
“آپ کچھ نہیں بتائیں گے۔۔آپ کو بھابھی کی قسم ہے۔۔”
“وہ نہیں رہی اس دنیا میں بریرہ۔۔۔ہاں جانے سے پہلے ایک جینے کا مقصد ضرور دے گئی تھی مجھے۔۔”
بہرام نے بریرہ کو اپنے موبائل کی سکرین دیکھائی تھی جہاں پانچ سال کی ایک معصوم سی پری کا چہرہ دیکھ کر بریرہ کی آنکھوں سے بےساختہ آنسو نکل آئے تھے۔۔۔
“شئ از سو کیوٹ۔۔کیا نام ہے۔۔؟؟”
اس نے سکرین پر اپنی انگلیا لگاتے ہوئے پوچھا تھا
“پری کہتے ہیں سب پیار سے اسے۔۔بہت شرارتی ہے۔۔امی کبھی کبھی کہتی ہیں یہ پوری بریرہ پر گئی ہے شرراتوں میں۔۔ابو کی عینک لگا کر آخبار پڑھ ابو کو سناتی بھی ہے اور انکی کاپی بھی کرتی ہے جیسے۔۔”
۔
“جیسے میں کرتی تھی چاچو کے ساتھ۔۔۔”
بریرہ بنا کچھ کہے گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“تمہیں وقت لگے گا بریرہ۔۔۔میں ساری زندگی انتظار کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج کہاں جا رہے ہو۔۔؟ آج ہماری شادی کی پہلی رات ہے۔۔”
“میرا راستہ چھوڑو مدیحہ مجھے ابھی جانا ہے۔۔۔”
“پر بلاج کہاں جا رہے ہو۔۔؟”
“میں کہاں جا رہا ہوں کہاں نہیں تمہیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اب تم میری بیوی ہو۔۔ گھر کی باقی عورتوں کے طور طریقے اپنانے ہوں گے اب تمہیں۔۔”
بلاج نے اپنے کپڑے بیڈ پر پھینک دئیے تھے اور شرٹ بٹن بند کر کے چلا گیا تھا اپنے بیڈروم سے باہر
۔
وہ اپنی گاڑی لیکر اسی جگہ گیا تھا جہاں وہ اکثر اوقات جاتا تھا کسی کی یادوں کو جلانے کسی کی محبت کو تڑپانے۔۔۔
اپنے اس اپارٹمنٹ میں
۔
“تم لوگ جا سکتے ہو اب۔۔”
“پر سر ہم۔۔”
“گیٹ آؤٹ۔۔۔”
بلاج نے زور سے دروازہ بند کیا تھا اپارٹمنٹ کیا
۔
“بریرہ دیکھو میں کیا لیکر آیا ہوں۔۔ نکاح نامہ میری اور مدیحہ کی شادی کا نکاح نامہ
اور آج مجھے لگ رہا ہے میں نے تمہیں پوری طرح سے برباد کردیا۔۔
جیسے تمہارے خاندان نے مجھے اور ہمارے پورے خاندان کو برباد کیا تھا۔۔
آج میرا بدلہ پورا ہوگیا نا بریرہ۔۔؟
میں نے کہا تھا میں وہاں وار کروں گا جہاں درد ہوگا۔۔۔
میری شادی کی گونج پاکستان تک گئی ہوگی۔۔۔ تمہارے اپنوں تک بریرہ شاہ کہتے ہوں گے وجیح شاہ شاہ کا خون کیسا نکلا۔۔۔جگ ہسائی کروادی تم نے تو بریرہ۔۔۔
لفظوں کے وار برداشت نہیں ہوتے ہاتھوں کے ہوجاتے ہیں۔۔”
۔
“بلاج۔۔۔”
بلاج نے نگاہیں گھمائی تھی جب اسے ایک جانی پہچانی آواز سنائی دی تھی
“بلاج آج بہت جلدی آگئے تمہارے داد نے آج کیسے آنے دیا۔۔؟؟ جلدی سے کچھ میں آجاؤ میں نے بریانی کی ریسیپی فائننلی سیکھ ہی لی۔۔۔”
۔
لائٹس آن کرکے وہ بہت ہلکے قدموں سے کچن کی جانب بڑھا تھا
۔
جہاں کتنے سالوں سے وہ نہیں آیا تھا۔۔سب کچھ ویسے ہی تھا جیسے اس نے چھوڑا تھا
۔
“میں چاہتی ہوں کہ جلدی سے کھانا پکانا سیکھ لوں پھر نئی نئی ڈیشز بنا بنا کرکھلایا کروں گی تمہیں۔۔
مجھے اچھا نہیں لگتا ہم باہر کا آرڈر کرتے ہیں۔۔۔”
وہ جیسے جیسے قدم بڑھا رہا تھا اسے فلیش بیک نظر آرہے تھے
۔
“اچھا ہوا وہ لڑکی مر گئی اور اسکا بچہ بھی۔۔ورنہ کیسے برداشت کرتے تم جیسے شخص کو۔۔؟”
۔
ایک اور تلخ آواز نے اسے دوسری جانب دیکھنے پر مجبور کردیا تھا جہاں کوئی نہیں تھا
۔
“بلاج جب سے تم میری زندگی میں آئے ہو۔۔یہ ایک زندگی بہت کم لگنے لگی ہے۔۔دل کرتا ہے میں ہمیشہ یونہی تمہارے سینے پر سر رکھ کر سکون کی نیند لیٹی رہوں۔۔”
۔
“بریرہ شاہ مر چکی ہے۔۔اور مر گیا اسکا بچہ بھی یہ ہیں وہ ثبوت۔۔یہ قبریں ہیں ثبوت۔۔”
۔
بلاج کچن سے باہر آگیا تھا۔۔آج اس اپارٹمنٹ میں اسکا دم گھٹنے لگا تھا جہاں اسے کبھی سکون ملتا تھا
۔
“ایک ہی نام بریرہ بریرہ۔۔یا تو اسے مرنے نا دیتے۔۔یا اسکے ساتھ مرجاتے اگر اتنی ہی محبتیں قابو میں نہیں تھیں تمہارے۔۔۔”
منہ جیسے ہی جھکایا تھا اسکی لفٹ آئی سے ایک پانی کا قطرہ اسکے ہاتھ پر جا گرا تھا۔۔۔
“میں بےوفا نہیں ہوں۔۔بےوفا وہ ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی وفائیں کی ہوں میں نے تو بس جفائیں کی تھیں بریرہ۔۔۔ میں نے کبھی محبت نہیں کی تھی تم سے کبھی نہیں۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے
۔