Be Wafa by Sidra Sheikh readelle50034 Episode 11
Rate this Novel
Episode 11
“داد جی وہ لڑکی میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔۔بریرہ شاہ مر چکی ہے میرے لیے۔۔۔”
اس نے وہ چاۓ کی رکھی ٹرے کو ٹیبل سے نیچے پھینک دیا تھا
جب سے پشمینہ ڈبر سے گئی تھی تب سے داد جی اور باقی بڑے گھر کے مردوں کے درمیان بلاج کھڑا تھا
“تم جس طرح سے نیچے بیٹھی اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے ایسا لگ تو نہیں رہا تھا”
“چاچو اب آپ بھی یہ سوچ رہے ہیں۔۔؟ وہ پشمینہ شیخ اس رات کلب میں وکی کی گرل فرینڈ بن کر آئی تھی میں اٹریکٹ ہوا تھا۔۔۔
ون نائٹ سٹینڈ سے آگے میں نے اس لڑکی کے بارے میں تب نہیں سوچا تو اب کیا سوچوں گا۔۔؟”
بلاج کی بولڈ گفتگو نے داد جی کا منہ بھی کھول دیا تھا جنہوں نے غصے سے اپنی چھڑی زمین پر دے ماری تھی
“بلاج حمدانی۔۔۔ایک اور لفظ نے اٹریکشن تھی جو بھی تھا تم مجھے اب پشمینہ اور مہتاب کے رشتے کے آس پاس بھی دیکھائی نا دو سنا تم نے۔۔۔”
بابا سائیں۔۔۔”
داد جی کے سینے میں درد ہوئی تھی بلاج پر اونچی آواز کرکے انکے بیٹوں نے انکا ہاتھ پکڑ کر انہیں واپس بٹھا دیا تھا صوفے پہ
“داد جی۔۔۔”
“بس بلاج۔۔۔تم اب شادی شدہ ہو۔۔۔باپ بننے والے ہو تم مدیحہ کے ساتھ تمہاری اٹریکشن تمہاری محبت تمہاری خوشیاں ہونی چاہیے سنا تم نے۔۔۔
اگر تم نے اپنے داد جی سے زرا سی محبت کی ہے بلاج تو تم مجھے پشمینہ کے پاس بھی دیکھائی نا دینا۔۔۔”
بلاج ساکن کھڑا رہ گیا تھا اپنی جگہ پہ
“اگر وہ بریرہ شاہ ہوئی تو داد جی۔۔۔۔؟؟؟”
اور خاموشی چھا گئی تھی بلاج کی بات پر
“اگر وہ بریرہ شاہ ہوئی تب کیا وہ مر چکی ہے قبر پر نام نہیں پڑھا تھا۔۔؟ یا تمہارا دل مان نہیں رہا بلاج۔۔؟ آج بتا ہج دو معاملہ دشمنی سے آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔؟؟؟”
داد جی نے آخری بات بہت آہستہ سے پوچھی تھی گھر کے بڑے بزرگوں کو بلاج کی خاموشی نے پریشانی میں ڈال دیا تھا
“معاملہ ہمیشہ دشمنی سے شروع ہوا اور وہیں ختم بھی ہوگیا تھا داد جی اس سے زیادہ بریرہ شاہ کچھ نہیں تھی۔۔۔”
وہ آج بھی ویسے ہی للکار کر چلا گیا تھا وہاں سے اس سٹڈی روم سے اپنے بیڈروم کی طرف۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تمہیں نہیں لگتا کہ یہ کچھ زیادہ ہو رہا ہے بریرہ۔۔۔؟؟”
بہرام نے اسکا راستہ روک لیا تھا جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہونے لگی تھی
“آپ کو میری کسی بھی میٹر میں عمل دخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے بہرام۔۔۔۔”
“ضرورت ہے بریرہ۔۔۔ضرورت ہے۔۔۔تم ان دو بھائیوں میں آکر اپنا معیار گرا رہی ہو۔۔۔۔بلاج کے پاس جا کر کونسی دشمنی نبھا لو گی تم۔۔؟؟”
بہرام نے جس طرح سے غصے کا اظہار کیا تھا بریرہ کو یقین نہیں آرہا تھا
“آپ میرا راستہ چھوڑ دیجئے۔۔جائیے یہاں سے۔۔آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ۔۔۔”
بہرام نے جیسے ہی اسکا نازو پکڑا تھا وہ چپ ہوئی تھی
“میں نے راستہ چھوڑنے یا بلاج حمدانی کا تم تک پہنچنے کے لیے یہاں تک کا سفر نہیں کیا بریرہ شاہ۔۔۔تم پر حق ہے میرا اور ایک بات یاد رکھنا تمہیں ایک بار کھو چکا ہوں میں۔۔۔اب کھونے جتنی ہمت نہیں رہی بس اب مجھے تمہیں واپس لے کر جانا ہے جہاں سے تم بھاگ کر آگئی تھی۔۔۔اس عذاب کے لیے۔۔۔۔”
بریرہ کو اتنا شاکڈ کردیا تھا بہرام کی باتوں نے جب بہرام نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیل دیا تھا اور غصے سے اپنے ہاتھ اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ڈال لیئے تھے
۔
“پچھلے تین گھنٹے سے انتظار کررہا تھا بریرہ یہاں اس لیے نہیں کہ تمہارے وجود سے اس بے وفا کی مہک محسوس کر سکو۔۔۔
میں انتظار کر رہا تھا اور کروں گا کہ کب تم ان سب سے سائیڈ پر ہوگی اور مجھے دو گی حق تمہاری جنگ لڑنے کا۔۔۔۔
میں انتظار کر رہے تھا۔۔۔۔ تمہیں سہی سلامت دیکھنے کا۔۔۔
اب میرا انتظار کتنا طویل کرتی ہو تم مجھے اسکا بھی انتظار کرنا ہوگا۔۔۔
گھر میں میرا پورا خاندان میری اور تمہاری راہ تک رہا ہے۔۔۔
میری بیٹی انتظار کر رہی ہے مجھ سے زیادہ تمہارا بریرہ۔۔۔۔
تمہاری اولاد کو میں واپس نہیں لا سکتا پر میری اولاد مجھ سے ذیادہ تمہاری ہوگی اسکا وعدہ ضرور کرتا ہوں تم سے۔۔۔مجھے اس بار موقع دینا دھوکہ نہیں بریرہ۔۔۔۔۔”
بہرام اس اپارٹمنٹ سے تیز قدموں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اسکے جانے کے بعد بریرہ کی آنکھوں سے آنسو گرنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آفیسر وی فاؤنڈ مسٹر وجیح شاہ بٹ ہی از ان کریٹیکل کنڈیشن
ویٹنگ فور یور نیکسٹ کمانڈ آفیسر ‘بیاےایچ”
۔
اس میسج نے جیسے اسے گہری نیند سے جگایا تھا وہ حیران تھا وجیح شاہ کے زندہ ہونے پہ
“تو کیا پھر بریرہ بھی زندہ ہے۔۔۔؟؟”
اس نے اپنا وہی موبائل پکڑا تھا جو اس کا سیکریٹ ڈیوٹی سیل فون تھا جو وہ سیکریٹ میشن کے لیے استعمال کرتا تھا
آج کتنے مہینوں کے بعد اسکا موبائل بجا تھا ایک نوٹیفکیشن نے اسے یقین دلا دیا تھا کہ وہ میشن میں اسکی ٹیم اسکے ساتھ کھری تھی اتنے تضادات کے بعد۔۔۔
اس نے گہرا سانس لے کر ایک کوڈ میسج ٹائپ کیا تھا
“ٹیک ہم ٹو ‘سی _بی آئی’ گیسٹ ہاؤس ٹریٹ ہم ود ریسپیکٹ اینڈ کیئر “
(B_A_H)
۔
ایک کوڈ کو آخر میں ٹائپ کرکے بھیج دیا گیا تھا
“اوکے سر۔۔۔”
کچھ ہی سیکنڈز میں جواب آگیا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مہتاب میں نے ابھی شاپنگ کا سوچا نہیں تھا تم”
“میں کچھ نہیں جانتا پشمینہ میڈم دونوں بھابھی باہر گاڑی میں انتظار کر رہی ہیں تمہارا کم آن۔۔۔”
“پر میں نے ڈینیل کے ساتھ ایک میٹنگ میں جانا تھا وکی کی فلائٹ ہے آج کی اور۔۔۔۔”
“بلا بلا بلا بلا۔۔۔۔چلیں اب۔۔۔؟؟؟”
مہتاب اسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر لے آیا تھا
“مہتاب۔۔۔۔”
بریرہ نے نے سونم کی طرف دیکھا تھا جو ہنس دی تھی بریرہ کا بچوں جیسا چہرہ بنتے دیکھ
“آپ بھی چلیں گی ساتھ ہماری شادی کی شاپنگ پر سونم جی۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا اس طرح کا منہ بناؤ گے تو سچ میں چل پڑوں گی مہتاب اور پھر تم ایک دن میں کنگال ہوجاؤ گے”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
بریرہ نے ہنستے ہوئے اپنا پرس اور سیل فون اٹھا لیا تھا۔۔۔
۔
۔
“بریرہ گاڑی کی بیک سیٹ پر مہتاب کی دونوں بھابھیوں کو دیکھ کر بہت حیران ہوئی تھی وہ دونوں اتنی سمپل اور سادہ تھیں
“اسلام علیکم پشمینہ بھابھی۔۔۔”
چھوٹی بھابھی نے بڑی عزت احترام سے سلام کیا تھا جبکہ ربیل کی بیوی نے بہت ہلکی آواز میں سلام کیا تھا
“ماشااللہ آپ ربیل کی وائف ہیں۔۔؟ اتنی خوبصورت بیوی اس پلئیر کے لیے۔۔؟؟”
پشمینہ نے مذاق کیا تھا پر مہتاب بھی چپ ہوگیا تھا اسکی نظریں پچھلی سیٹ پر گئی تھی
“رامین بھابھی اور ربیل بھائی کی لو میرج تھی”
“وٹ۔۔۔؟؟سیریسلی۔۔۔؟؟”
بریرہ نے حیرانگی سے پوچھا تھا وہ اتنا تو جان گئی تھی حمدانی خاندان میں گھر کی عورتوں کو عزت نہیں دی جاتی پر وہ حیران تھی اب دیکھ کر۔۔۔
۔
ہنستے مسکراتے شاپنگ مال تک کا وہ سفر جلدی ہی ختم ہوگیا تھا۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج پلیز نا ہم ساتھ شاپنگ کرتے ہیں میچنگ ڈریس ہوگا کتنا اچھا لگے گا نا۔۔؟”
مدیحہ نے بلاج کے آفس میں داخل ہوتے ہی کہا تھا۔۔
“مدیحہ میری میٹنگ ہے تم جاؤ نا سب کے ساتھ۔۔”
“کیسے جاؤں سب کے ساتھ مہتاب تو رامین اور روحی کو پشمینہ کے ساتھ شاپنگ پر لے گیا میں اب اکیلی کیسے جاؤں۔۔۔؟؟”
مدیحہ بلاج کے ڈیسک پر اسکے سامنے بیٹھ گئی تھی جیسے ہی بلاج کے ہاتھ لیپ ٹاپ کی کئیز پر رکے تھے
“وہ پشمینہ کو ساتھ لے گئے ہیں۔۔؟”
“ہاں۔۔۔ہم بھی چلے۔۔؟”
بلاج سوچ میں پڑ گیا تھا اس نے کتنے دن سے وہ ایک چہرہ دیکھا نہیں تھا جس چہرے نے اسے راتوں کو سونے نہیں دیا تھا۔۔
داد جی کی باتوں میں وہ اس قدر قید ہوگیا تھا اس نے عہد کرلیا تھا پر اب پشمینہ کا نام سن کر اس کے دل ودماغ میں بےچینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔۔
“روہن میرے کیبن میں آؤ۔۔”
“بلاج میں گھر جاؤں پھر۔۔؟”
بلاج نے اپنے پی اے فون کرکے کیبن میں بلایا تھا
“جی سر۔۔۔”
“روہن میری ساری میٹنگ کینسل کردو میں اپنی وائف کے ساتھ جا رہا ہوں تم ہینڈل کر لو گے۔۔؟”
“جی بلکل سر۔۔۔ہیو آ گڈ ڈے میم۔۔۔”
مدیحہ نے بلاج کے گال پر بوسہ دیا تھا روہن کے سامنے
“آئی لوو یو سوو مچھ۔۔۔۔”
بلاج اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھے اسے کیبن سے باہر لے آیا تھا دیکھنے والے اس نیولی ویڈڈ جوڑے کو ساتھ ساتھ خوش دیکھ کر خوش ہورہے تھے پر بلاج کے چہرے پر ایکسٹرا خوشی تو کسی اور سے ملنے کی ہی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آپ دونوں بھی شاپنگ کیجیے پلیز۔۔کیا یہ بھی آپ گھر کے مردوں سے اجازت لے کر کریں گی۔۔؟؟”
پشمینہ نے جیسے ہی یہ بات کہی تھی مہتاب نے اسے اشارہ کرکے چپ کروانے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“مہتاب تم بھی تو گھر کے مرد ہو تم ہی کہو کے کچھ خرید لیں داد جی سے اجازت لینی پڑے گی۔۔؟ ہاہاہاہا۔۔۔
ویسے میں شادی کے بعد ایسا کچھ نہیں کرنے والی مہتاب۔۔
داد جی کی اجازت سے۔۔۔”
اس نے کہہ کر کاؤنٹر پر اس سرخ جورے پر پھر سے نظر ڈالی تھی اسکے چہرے کی ہنسی اور زیادہ ہوگئی تھی جب اسے پیچھے سے بلاج حمدانی کی آواز سنائی دی تھی
۔
“داد جی اجازت ہر کسی کو لینی ہوگی اگر رہنا ہے حمدانی خاندان میں مس پشمینہ شیخ۔۔۔”
وہ بریرہ کے سامنے کھڑا تھا
“رئیلی۔۔؟ میں اپنی مرضی کی مالک ہوں مسٹر بلاج کیا شادی سے پہلے آپ کی بیوی کی پریگننسی بھی داد جی کی اجازت سے ہوئی تھی۔۔؟؟”
بریرہ نے جس طرح بلاج کے قریب اپنا منہ کرکے کی تھی بلاج کا چہرہ سخت ہوگیا تھا ایک دم سے
“پشمینہ۔۔۔”
“جی جیٹھ جی۔۔۔میری بات۔۔”
“ایم سوری بھائی پشمینہ تو مذاق کر رہی تھی پلیز پشمینہ۔۔۔”
مہتاب نے جیسے ہی بریرہ کا ہاتھ پکڑا تھا بلاج کے ہاتھ کی مٹھی بند ہوگئی تھی اور بریرہ نے دیکھ لیا تھا۔۔۔
“اوکے ہنی ایم کوول۔۔۔۔میں یہ ڈریس پہن کر دیکھنا چاہوں گی کیا تم ہیلپ کر دو گے۔۔۔؟؟”
مہتاب کے کان کے پاس بریرہ نے اتنی اونچی ضرور کہا تھا کہ بلاج حمدانی نے سن لیا تھا
وہ بلاج حمدانی کو جیلس کرنا چاہتی تھی اور اسکے پاس موقع بھی تھا
“وہ پشمینہ۔۔۔”
“داد جی سے فون پر اجازت لے لو جان۔۔۔”
وہ مہتاب کے گال پر اپنی انگلیاں بہت آہستہ سے لگا کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔ مہتاب بھائی منہ بند کر لیجئے۔۔۔”
مہتاب کا منہ اب بند ہوا تھا اسکا چہرہ پوری طرح لال ہوگیا تھا
“وہ مذاق کر رہی تھی آپ لوگ بیٹھے میں کچھ ڈرنکس جوس لے کر آتا ہوں۔۔۔”
مہتاب وہاں سے بھاگ گیا تھا
“میں ایک ضروری کال کر کے آیا مدیحہ تم دیکھو ڈریس”
وہ اپنی بھابھی کو ہمیشہ کی طرح اگنور کرکے اسی رخ گیا تھا جہاں پشمینہ شیخ گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پشمینہ شیخ تمہیں نہیں لگتا تم آگ کے ساتھ کھیل رہی ہو۔۔۔۔”
اسکی بیک دروازے کی طرف تھی جب بلاج ڈریسنگ روم میں داخل ہوا تھا تمام شیشوں میں وہی وہ نظر آرہا تھا بریرہ کو اپنے ساتھ
“آگ کے ساتھ کھیلنا کونسا مشکل کام ہے بلاج حمدانی مجھے شوق ہے آگ سے کھیلنے کا”
بریرہ نے ڈریس کے زیپ پر جیسے ہی انگلیاں رکھی تھی بلاج نے گہرا سانس بھرا تھا
“کبھی کبھی یہ شوق بہت مہنگے پڑ جاتے ہیں مس شیخ آگ کے ساتھ اس طرح کھیلو گی توو جل جاؤ گی۔۔۔۔”
بلاج نے سرگوشی کی تھی وہ جیسے جیسے قدم بڑھا رہا تھا بریرہ کی بیک اس بڑے سے شیشے کے ساتھ لگ گئی تھی
“میں جلنے والوں میں سے نہیں ہوں بلاج حمدانی۔۔۔۔میں جلانے والوں میں سے ہوں۔۔۔”
بلاج کی ٹائی سے کھینچ کر اس نے اسی شیشے کے ساتھ بلاج کو پن کردیا تھا جس کی آنکھوں میں کوئی غصہ نہیں ایک جنون تھا
“تم آلریڈی جلا رہی ہو تمہاری اس خوبصورتی کے نشے میں مجھے کہ میں دور جا کر بھی دور نہیں جا پارہا تم سے۔۔۔”
اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اس نے بریرہ کو جیسے ہی اپنی طرف کھینچا تھا بریرہ کے دونوں ہاتھ بلاج کے سینے پر تھے
“تمہیں دور جانے کو کس نے کہا تھا بلاج۔۔؟”
اس نے بلاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جیسے ہی یہ سوال پوچھا تھا ایک ناک ہوئی تھی
بلاج ابھی بھی گم تھا اسکی آنکھوں میں اسکے سوال نے بلاج کو کہیں کسی اور دنیا میں گم کردیا تھا۔۔۔۔
“پشمینہ اتنی دیر۔۔۔ابھی مدد کو آجاؤں اب سب کھانا کھا رہے ہیں۔۔۔”
مہتاب نے شرارتی لہجے میں پوچھا تھا
“نہیں ہنی اب ضرورت نہیں رہی اب تو یہ ڈریس ہماری شادی والے دن ہی پہنوں گی تو دیکھنا تم۔۔۔”
اس نے بلاج کو آنکھ مار کر کہا تھا جو غصے سے آگ بگولا ہوگیا تھا
“اس سب کا مقصد کیا ہے میرے اتنے قریب ہوکر میرے بھائی سے شادی۔۔تم کیا چال چل رہی ہو۔۔۔؟؟”
بلاج نے جیسے ہی اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا بریرہ کی آنکھوں میں ایک الگ جنون دیکھا تھا اس نے
“چال تو تم چل رہے ہو۔۔۔اندر تو تم آۓ ہو میرے اتنے قریب کھڑے ہو یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری شادی ہونے والی ہے۔۔۔”
اسکی آواز اتنی ہلکی تھی۔۔وہ پوری طرح سے سیڈیوس کرنا چاہتی تھی بلاج حمدانی کو جو ہو بھی رہا تھا
“مس شیخ کیا پتا شادی ہو ہی نا۔۔؟ کیا پتا میں سب کو سب کچھ پہلے ہی بتا دوں۔۔کیا پتا تمہاری سکیم سب کے سامنے لے۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے رکا تھا جب بریرہ نے پاؤں اوپر کرکے بلاج کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے تھے اسکے ہونٹوں کے بلکل پاس۔۔۔”
“بیسٹ آف لک مسٹر بلاج۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر اس کمرے سے باہر چلی گئی تھی بلاج حمدانی کو اپنے جادو میں چھوڑ کر۔۔۔
“شٹ شٹ۔۔۔ڈیم اِٹ۔۔۔۔”
اسی شیشے کو توڑ دیق تھا مکا مار کر بلاج نے جسکی کرچیاں بکھری تھی اور کچھ سٹاف ممبرز بھاگتے ہوئے اندر آۓ تھے
“وٹ دا ہیل۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔۔ٹیک اٹ۔۔۔۔”
اپنی جیب سے پیسے نکال کر اس نے ان نیچے پپھینکے تھے اور وہاں سے باہر چلا گیا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آپ شک سہی نکلا تھا میم۔۔یہ ہیں وہ ثبوت
بلاج حمدانی کی وائف نے ایک نہیں بہت جھوٹ بولے ہوئے ہیں اور بلاج حمدانی کے پرانے دشمن کے کے بیٹۓ کے ساتھ انکے تعلقات بلاج حمدانی سے پہلے کے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ۔۔”
“بس مس سمیرا آپ جا سکتی ہیں اس فائل کو یہاں چھوڑ کر”
بریرہ کے کیبن سے پی اے باہر چلی گئی تھی اس وقت بریرہ نے اس فائل کو اٹھا کر ہاتھ میں پکڑا تھا۔۔
“بےوفائی کا درد کیا ہوتا ہے بلاج تمہیں اب پتا چلے گا۔۔۔میں دیکھنا چاہوں گی جسے تم نے چاہا اس کی چاہت کون ہے۔۔”
اس نے کچھ فون کالز ملائیں تھیں اور اسے پتا چلا تھا بلاج حمدانی کی بیوی کی آج کے دن کی ملاقاتوں کا۔۔
کچھ ہی دیر میں بریرہ کی گاڑی ایک خوبصورت ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی۔۔ جس روم کے بارے میں اسے بتایا گیا تھا وہ اس روم کے باہر کھڑی تھی کچھ پیسے دے کر اسے کے گارڈز نے یہ انفارمیشن وہاں سے حاصل کی تھی
۔
۔
“وٹ۔۔۔؟ تم چاہتے ہو میں سب کے سامنے یہ بتاؤں تم پاگل ہوگئے ہو ریان وہ مجھے مار دے گا بلاج کیسے برداشت کرے گا یہ سب کچھ۔؟”
۔
“تمہاری پریگننسی کی جھوٹی خبر یا میرے ساتھ تمہاری سچی محبت بےبی۔۔۔”
مدیحہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھا لیا تھا ریان نے۔۔
“دونوں بلاج نے مجھ سے بہت محبت کی تھی ریان۔۔۔”
“اس لیے وہ اس لڑکی کے پیچھے پاگل تھا کیا نام تھا اسکا ہاں ‘بریرہ شاہ'”
اس نے قہقہ لگایا تھا۔۔
“وہ بلاج کی محبت نہیں تھی بلاج کی محبت میں تھی۔۔جسے اس نے سب کے سامنے اپنایا۔۔
اگر وہ بلاج کی محبت ہوتی تو وہ کبھی اس لڑکی کو رکھیل نا کہتا سب کے سامنے ریان۔۔
بلاج نے اعتراف کیا تھا وہ لڑکی صرف اسکی رکھیل تھی۔۔وہ بدلہ لینا چاہتا تھا جو اس نے لیا۔۔”
بریرہ نے سپورٹ لینے کے لیے دیوار کا سہارا لیا تھا۔۔۔ اس ایک لفظ نے بریرہ شاہ کو سات زمینوں کے نیچے دھکیل دیا تھا
۔
“بلاج حمدانی۔۔۔”
اسکے منہ سے ایک آہ نکلی ضرور تھی۔۔۔
۔
“تو پھر تو اور مزہ آئے گا مجھے مدیحہ بلاج حمدانی نے اسے ٹھکرایا تمہیں اپنایا اب اسے تم سے ایسی چوٹ ملے گی کہ۔۔۔”
“میں نہیں دینا چاہتی اسے کوئی چوٹ۔۔اس لیے میں یہ سب ختم کردوں گی ریان۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔سب ختم کردو گی۔۔؟ میرے ساتھ تمہارے گہرے تعلقات اتنے کمزور بھی نہیں کہ تم ختم کردو۔۔۔”
ریان غصے سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
بریرہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
“رکھیل۔۔۔”
۔
“بیٹیاں غرور ہوتی ہیں ماں باپ کا بریرہ تمہارے بابا سائیں نے تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ لاڈ پیار دیا ہے کبھی توڑنا مت۔۔۔”
۔
وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی پر اس گاڑی کو سٹارٹ کرتے وقت اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔
بریرہ شاہ ایک لمحے میں کمزور پڑ گئی تھی
“میں نے عشق کیا تجھے سوہنیا،،،تو نے دی ہے جدائی وے
میں دی ہے تجھے دنیا وے،،،تو نے دی ہے تنہائی وے،،،”
۔
“وائے بلاج۔۔۔؟؟”
اس کی اپنی آواز اس بند گاڑی میں اسے سنائی دے گئی تھی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج حمدانی آئی ہیٹ یو۔۔۔سنا تم نے نفرت ہے مجھے تم سے نفرت بھی لفظ چھوٹا ہوگیا ہے بلاج۔۔۔”
۔
وہ اس اپارٹمنٹ کے سینٹر میں بیٹھ گئی تھی آج کا دن اور یہ ڈھلتی رات نے اس بیوی کو نڈھال کردیا تھا اس ایک لفظ نے اسکا مرا ہوا دل اس کی روح کو اور چھلنی کردیا تھا۔۔۔
۔
“میں نے عشق کیا تجھے سوہنیا،،،تو نے دی ہے جُدائی وے،،
میں نے دی ہے تجھے دنیا وے،،، تو نے دی ہے تنہائی وے،،،”
۔
“بلاج وائے۔۔؟؟ کیوں کیا۔۔۔”
۔
“تو نے درد دئیے ہیں اتنے،،،امبر پہ ستارے جتنے۔۔۔
جگ جگ کے راتوں میں،،،میری طرح آنکھوں میں
ماہی،،،،آنسوؤں کے دھاگے تو پیروئے گا،،،
تو بھی روئے گا ماہی تو بھی روئے گا۔۔۔
میری طرح تو بھی اک دن کسی کو کھوئے گا۔۔۔
۔
“اس اپارٹمنٹ میں کچھ باقی نہیں رہنے دوں گی بلاج کچھ بھی نہیں۔۔”
اس نے اپنا چہرہ اتنی بےرخی سے صاف کیا تھا۔۔۔اور اس نے شروعات کچن سے کی تھی ہر چیز توڑ دی تھی نیچے زمین پر مارنا شروع کردیں تھیں ساری چیزیں سارے برتن۔۔۔
ہر کمرے کے پردے ہر وہ چیز اس نے اٹھا کر بلکل سینٹر میں لاکر پھینک دی تھی۔۔۔
اور کچھ دیر میں ہر کمرے سے وہ ان یادوں کو ان کپڑوں کو ان تصاویر کو سٹور روم سے اٹھا کر لے آئی تھی اور آگ لگا دی تھی وہ جلتی آگ دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئی تھی چار سوو
وہ وہیں کھڑی تھیاور جب وہ چاہتیں اپنی محبتیں اس نےاس آگ میں راکھ بنتے دیکھیں تو اپنا چہرہ صاف کر کے وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
پر جانے سے پہلے وہ ایک ریڈ کلر کے ڈریس نے اس کی نظروں میں ایک درد چھوڑ دیا تھا اسکی شادی کا ڈریس۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ آفس سے واپس گھر نہیں آئی آپ دونوں مجھ پہ کیوں چلا رہے ہیں فون کریں اسے۔۔”
سونم پریشان اور کر چلائی تھی وہاں کھڑے تینوں مردوں پہ جو پچھلے دو گھنٹے سے یہاں سے وہاں جگہ جگہ چکر لگا رہے تھے
” وہ مینٹلی ٹھیک نہیں ہے ارسل بھائی۔۔۔اسکی میڈیکل رپورٹ ٹھیک نہیں ہے۔۔یہ بدلے اسے نا زنداں میں چھوڑے گا نا مردوں میں۔۔پلیز اسے روک لیجئیے۔۔۔”
ارسل بھی وہیں بیٹھ گیا تھا سب میں چپ صرف بہرام تھا جو اپنا کوٹ اتار کر وہاں سے گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر چلا گیا تھا
۔
۔
“بریرہ دروازہ کھولو نا پلیز آج کا ڈنر میں بنا رہا ہو بس یہ میری معافی قبول کرلو نا میری جان۔۔”
بلاج نے پھر سے بیڈروم کا دروازہ ناک کیا تھا اور اندر کی جانب سے پھر سے ایک زور دار چیز دروازے پہ لگی تھی
“اتنابھڑکی ہوئی کیوں ہو یار سوری نا داد جی کے ساتھ میٹنگ پر جانا پڑ گیا تھا۔۔”
“تو آج داد جی کے ساتھ جا کر سو بھی جاؤ نا۔۔۔گو ٹو ہیل۔۔۔”
۔
ایک اور چیز لگنے سے بلاج پیچھے ہوگیا تھا
“اوے چشمش۔۔۔”
“بلاج حمدانی۔۔۔”
اسکی چیخ سے بلاج ہنستے ہوئے پیچھے ہوگیا تھا
“اچھا یہ سرپرائز تو دیکھ لو نا کچھ لایا ہوں تمہیں بہت پسند آئے گا۔۔میں یہاں رکھ کہ جا رہا ہوں۔۔”
بلاج نے وہ گفٹ پیک وہاں رکھ کر وہیں دوسرے کمرے میں چھپ گیا تھا۔۔ٹھیک کچھ منٹ بعد روم کا دروازہ کھلا تھا اس بریرہ نے نیچے بیٹھ کے اپنا منہ باہر نکالا اور جب باہر کوئی نہیں تھا اس نے جلدی سے گفٹ اٹھا کر دروازہ بند کر لیا تھا
“ہاہاہاہا پاگل۔۔۔۔”
بلاج واپس کچن میں چلا گیا تھا
۔
کچھ ہی دیر میں اس نے آملیٹ بنا لیا تھا کہ دھرم سے روم کا دروازہ کھولا تھا
“بلاج حمدانی ہاؤ ڈیرھ یو۔۔میری پرائیوسی میں جانے کی ہمت کیسے ہوئی۔۔۔”
وہ چیختے ہوئے آئی تھی کے بلاج کے ہاتھوں سے سپون نیچے گر گیا تھا
“وٹ دا ہیل بریرہ۔۔”
۔
“یہ کیا ہے۔۔؟؟”بریرہ نے وہ ریڈ سلک ڈریس بلاج کے سامنے کیا تھا۔۔
“ہوٹ رومینٹک ڈریس ہے وائفی۔۔۔”
“بتاتی ہوں۔۔۔”
بریرہ نے کاؤنٹر سے چمٹا اٹھا لیا تھا
“بریرہ،،،ارے بھڑک کیوں رہی ہو یار تمہیں تو خوش کرنے کے لیے لیا یہ۔۔”
وہ کہتے ہوئے ٹیبل کی دوسرے طرف بھاگ گیا تھا
“سرپرائزز۔۔؟؟ جھوٹے کہیں کے میرے لیپ ٹاپ میں گھس کر میری پرائیویٹ سرچنگ دیکھی ہے۔۔۔ یہ میرا سرپرائززز تھا ہماری ویڈنگ اینیورسری کے لیے۔۔”
بلاج کا منہ کھل گیا تھا
“اتنا بولڈ ڈریس ہماری ویڈنگ اینیورسری میں پہن کر باہر جانا تھا تمہیں بریرہ بلاج حمدانی “
اس نے غصے سے پوچھا تھا
“ہاں تو۔۔۔؟؟ پاس مت آنا اسی چمٹے سے تمہاری ناک پکڑ لوں گی۔۔۔”
“ابھی بتاتا ہوں۔۔چشمش۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔”
بریرہ بھاگ گئی تھی وہ ڈریس لیکر وہاں سے
“بریرہ تمہاری قسم میں نے خود سلیکٹ کیا تھا یہ ڈریس۔۔۔”
بریرہ رک گئی تھی حیرانگی میں یہی ڈریس اس نے بھی آن لائن آرڈر کرنے کا سوچا تھا کچھ دن پہلے۔۔
“اور یہ ڈریس ہی کیوں۔۔؟”
“کیونکہ میں چاہتا تھا آج ہماری ڈنر ڈیٹ جو ہم ہمارے ٹیرس پر سیلیبریٹ کریں گے تم یہ ڈریس پہن کر میرے سامنے آؤ۔۔”
بلاج نے اس کی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“بلاج حمدانی خیریت تو ہے۔۔؟ ڈنر ڈیٹ۔۔؟ کچن میں کھانا بنا رہے ہیں اور اب یہ ڈریس۔۔؟”
“ہاہاہاہاہا بس مس بریرہ آپ کی محبت نےمجنوں بنا دیا ہے۔۔۔”
بلاج نے سر جھکا کر مسکراتے ہوئے کہا تھا
“ویسے مسٹر بلاج۔۔منانا مجھے تھا یہ ڈریس تو آپکے ارادے کچھ اور ہی بتا رہا۔۔”
بریرہ نے بلاج کی ٹائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا جو کھل کر ہنسا تھا
“میرے ارادے ویسے ابھی تک اچھے ہی ہیں وائفی”
“اور بعد میں۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا اسکی گارنٹی نہیں دے سکتا۔۔۔”
“اچھا جاؤ نا چینج کرکے آؤ اور یہ بڑا سا چشمہ اتار کر آنا اور کوئی میک اپ نا کرناتم بناوٹ کے بغیر چاہیے مجھے بریرہ شاہ۔۔۔”
“بلاج بناوٹ کے بغیر بھی کچھ اچھا لگتا ہے بھلا۔۔؟؟”
بریرہ نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا تھا
“بناوٹ کے بغیر چھا لگتا ہے نا تم۔۔۔میں۔۔ہمارا یہ رشتہ اور ہماری جنت “
بریرہ نے اسکے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
“بلاج کبھی کبھی حیران ہوجاتی ہوں تمہاری محبت پر۔۔۔جب میرے پاس ہوتے ہو تمہارے لفظوں پر یقین رہتا ہے۔۔پر باہر کی دنیا میں گم ہونے پر لگتا ہے تم وہ نہیں ہو جو یہاں ہو میرے لیے۔۔۔”
۔
“کیونکہ میں وہ نہیں ہوں جو یہاں ہوں بریرہ۔۔۔میں تو۔۔۔”
۔
“ہیے بےبی گرل۔۔۔آر یو لوسٹ بےبی گرل۔۔؟؟”
۔
بریرہ جو اس سمندر کنارے اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی اس ٹھنڈی ریت پر دو اجنبی آواز سے اسکی آنکھیں کھلی تھی سامنے دو لوگ شراب کے نشے میں گرتے پڑتے اسکے سامنے کھڑے تھے۔۔
۔
“گو ٹو ہیل۔۔۔”
اس نے ڈرنک کی بوتل پکڑ کر اپنے کپڑے جھاڑے تھے ابھی اپنی گاڑی کا دروزہ کھولا ہی تھا کہ ایک گورے نے اسکا بازو پکڑ لیا تھا۔۔۔
“ہیے لیٹس ہیو سم فن ڈارلنگ یو۔۔”
وہ شیشے کی بوتل اس نے اس کے سر پر مار کر توڑ دی تھی
“یو بچ۔۔”
اپنے ساتھی دوست کو خون میں گرتے جیسے ہی اس نے دوسرے آدمی نے دیکھا تھا وہ غصے سے بریرہ کی طرف بڑھا تھا۔۔اور اس ٹوٹی ہوئی بوتل بریرہ نے اس کے ہاتھ پر مار دی تھی۔۔
وہ جیسے ہی نیچے گرا تھا اس نے ان دونوں کو بہت سی کک ماری تھی وہ تب تک ان دونوں کو تھپڑ مکے مار رہی تھی جب تک اسے پیچھے سے کسی نے پکڑ نہیں لیا تھا
“بس بس میری شیرنی۔۔۔اتنا زخمی تو کردیا ہے تم نے۔۔۔”
“بلاج۔۔۔۔؟؟”
بریرہ کو بلاج نظر آرہا تھا۔۔۔
“بہرام۔۔۔بہرام شاہ۔۔۔”
بہرام کا چہرہ سخت پڑ گیا تھا
“ہممم۔۔۔۔”اور وہ بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔
“تم نے کب سے ایسی ڈرنکس پینا شروع کردی بریرہ۔۔؟؟”
بہرام نے اسے اٹھا کر اپنی گاڑی میں لٹا دیا تھا۔۔۔
۔
“جب سے کسی بے وفا نے محبت کا زہر پلایا ہے تب سے۔۔۔۔”
ونڈو کی طرف سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی تھی اس نے۔۔۔۔
۔
۔
بریرہ ہم گھر آگئے۔۔۔۔
“یا اللہ بریرہ۔۔۔۔”
سونم نے اس سہارا دے کر سنبھالا تھا۔۔۔
۔
“یہ بدلہ لے گی سونم۔۔؟ یہ اپنی ناکام محبت کا سوگ تو منا لے پہلے۔۔”
ارسل نے بریرہ کی حالت دیکھ کر برہمی سے کہا تھا اسکی بات نے بریرہ کی بند آنکھیں کھول دی تھی اچانک سے
۔
“آپ کو کیا لگتا ہے ارسل بھائی۔۔؟ آپ کی دشمنی میں آپ کی چھوٹی بہن اجڑ گئی اور شرمندہ ہونے کے بجائے طنز کر رہے ہیں۔۔۔۔
میں اپنا بدلہ لوں گی سنا آپ نے اپنے آخری سانس تک لوں گی۔۔۔
ایک بیٹی کا بدلہ ایک بہن کا بدلہ لوں گی۔۔۔کاشان بھائی کی موت کا بدلہ لوں گی بابا سائیں کی موت کا بدلہ لوں گی۔۔۔۔”
وہ کہتے کہتے اپنے گھٹنوں کے بل گر گئی تھی سونم نے ارسل کو غصے سے دیکھ کر بریرہ کو پکڑنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
۔
“سونم میں سب کا بدلہ لوں گی۔۔۔پر وہ بیوی کا بدلہ کون لے گا۔۔؟
اس ماں کا بدلہ کون لے گا سونم۔۔؟ اس محبت کا بدلہ کون لے گا۔۔؟؟
تم جانتی نہیں ہو اس بے وفا کو کسی اور کے ساتھ وفائیں نبھاتے دیکھ کیا گزرتی ہے میرے اس دل پر جس نے اس بے وفا کو بے لوث محبت دی۔۔۔
تم نہیں جانتی اسکے نکاح پر اس بیوی پر کیا گزری تھی جس نے حق مہر پہ اپنے شوہر سے صرف وفا مانگی تھی۔۔۔
جس بچے کے لیے اپنی زندگی کی فکر نہیں کی سونم آج زندگی ہے پر وہ بچہ نہیں تم سوچ نہیں سکتی کیا گزر رہی ہے۔۔۔۔
دم گھٹ رہا ہے۔۔۔دل کرتا کے اس بدلے سے پہلے اسکا گریبان پکڑوں اور خوب تھپڑ ماروں اسے اور پھر پوچھوں اسکو۔۔۔
اگر اتنا سب ہونے کے بعد بھی ضبط کئیے بیٹھی ہوں نا ارسل بھائی تو سمجھ جائیے کہ بدلہ لینے جلدی آپ سے زیادہ ہے مجھے۔۔۔
میں اسے وہیں لاکھڑا کروں گی جہاں تک میں گئی تھی آنکھیں بند کرکے محبت کی راہوں میں۔۔۔۔
فرق صرف اتنا ہوگا تب بریرہ بلاج کی محبت میں لٹ گئی تھی
اب بلاج کی محبت کھا جاۓ گی پشمینہ شیخ۔۔۔
اب میں بےوفائی کی ہر حدوں کو توڑوں گی۔۔۔۔۔
اور پھر میں وہیں چلی جاؤں گی اپنے بچے کے پاس۔۔۔
سونم تم کہتی تھی اپنے بچے کے لیے رو لو دل کا بوجھ کم ہوگا۔۔۔
پر سونم میں اس بچے کے لیے روئی نہیں۔۔۔آج کے بعد میں محبت اور وفا کے لیے بھی نہیں رؤں گی۔۔۔۔”
۔
۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
