57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

“آپ لوگ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے ہوں گے۔۔؟؟ پر میں بھی ایسے نہیں مناؤں گی۔۔۔بہت جلدی اپنے کام نمٹا کر آپ لوگوں کے پاس آؤں گی ۔۔۔
بابا سائیں اب سمجھ آئی کیوں آپ مجھے پاکستان سے یہاں نہیں آنے دیتے تھے
آپ کو برباد کردیا آپ کی بیٹی نے۔۔۔اور خود کو بھی۔۔۔
اور بھائی آپ۔۔۔؟؟ کیوں میرے حصے کی گولی کھائی آپ نے۔۔؟؟ مرجانے دیتے مجھ جیسے بدزات بیٹی کو۔۔۔جس نے ماں باپ کو رد کر کے محبت کو سونپ دیا سب کچھ اپنی عزت کا سودا کر بیٹھی۔۔۔
پر اب میں وہ سود سمیت واپس لوں گی۔۔۔
بلاج حمدانی تمہاری شادی کے خواب خواب ہی رہ جائیں گے۔۔۔
تم دیکھ لینا تم کیسے ٹوٹنے والے ہوں۔۔۔تمہارا خاندان ایسے برباد ہوگا کہ تم سمیٹ نہیں پاؤ گے۔۔
بہت جلدی بریرہ شاہ حمدانی مینشن میں بہو بن کر آئے گی۔۔۔۔”
۔
“بس بریرہ چلو اب گھر۔۔۔۔اتنی تیز بارش میں تمہارا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے”
سونم اور ڈینیل پیچھے کھڑے تھے پچھلے دس منٹ سے سونم سے رہا نہیں گیا تو اس نے آگے بڑھ کر ایک چھتری بریرہ پر کردی تھی
“کونسا گھر۔۔۔؟کیسا گھر سونم۔۔؟؟ گھر تو وہ ہوتا جہاں لوگ بستے ہیں نا ۔۔؟ دیکھو یہاں بس گے گھر کے سب لوگ سونم۔۔اب گھر گھر نہیں رہا ہوگا۔۔”
تیز طوفانی بارش میں اس اپنے گھٹنوں پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی تھی
“بریرہ۔ تمہارے باقی گھر والوں کی کوئی خبر نہیں ہے کچھ پتا نہیں وہ لوگ کہاں گئے۔۔ پر۔۔”
ڈینیل کہتے کہتے چپ ہوگیا تھا
“پر کیا اب بری خبر سننے سے ڈر نہیں لگتا مجھے ڈینیل”
“ہم گھر جا کر بات کریں گے ڈینیل بریرہ کو کچھ نہیں بتانا۔۔”
پر سونم کی بات کو رد کر کے ڈینیل نے اپنی جیب سے کچھ تصاویر نکالی تھی اور اس بارش میں وہ بھی وہی اس قبر کے پاس بیٹھ گیا تھا بریرہ کے ساتھ
“ارسل شاہ کا پلین اسی دن کریش ہوا تھا جس دن یہ قیامت گری تم پر۔
اسی دن ارسل شاہ کو بھی مار دیا گیا تھا اور وہ بات دبا دی گئی بریرہ اتنے مہینوں کی تگ ودو کے بعد یہ کچھ ثبوت ملے ہیں
سب کا شک۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکا تھا
“بلاج حمدانی پر ہے سب کا شک۔۔؟ آخر کار ارسل بھیا ہی آخری کانٹا تھے نا۔۔؟؟؟”
لہجہ سرد ہوگیا تھا آنکھیں پتھرا گئیں تھیں اسکی۔۔۔
بریرہ شاہ آج یہ خبر سن کر پھر سے مری تھی اپنے بڑے بھائی کی موت کی خبر سن کر اس کی آنکھیں اس بارش کے پانی میں پوری طرح بھیگی تھیں
“ڈینیل۔۔۔ کیا خاندانی دشمنی اتنی ضروری ہوتی ہے۔۔؟ کیا بدلہ انسان کو اتنا شیطان بنا دیتا ہے۔؟ کیا ضمیر مر جاتا ہے لوگوں کا۔۔؟”
قبر کی مٹی پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیئے تھے اس نے
“میں کیا کہہ سکتا ہوں بریرہ۔؟ میرے سامنے اب بلاج حمدانی نہیں بریرہ شاہ ہے جو بدلہ لینے نکلی ہے جو کل ایک مکھی مارنے سے ڈرتی تھی آج وہ لوگوں سے بدلہ لینے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔۔۔”
“بس ڈینیل۔۔بریرہ تم گھر چلو۔۔”
سونم نے پھر سے بریرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تھی
“ہاہاہاہا۔۔ ابھی کہاں ڈینیل ابھی تو کچھ نہیں دیکھا تم نے
بدلے کی آگ نے میرے اپنوں کی موت نے مجھے وہ بنا دیا ہے جس سے میں نے نفرت کی ایک بے حس ظالم کم ظرف انسان۔۔
شاید انسان بھی نہیں۔۔
میرا قہر بجلی بن کر ٹوٹے گا ان سب پر مہتاب حمدانی کے روپ میں بس دیکھتے جاؤ۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج تم اس وقت یہاں۔۔؟ ڈیڈ ابھی بھی بہت غصہ ہیں وہ میری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتے”
“تو چھوڑ دو اس گھر کو کم ود مئ۔۔۔”
“تم نے ڈرنک کی ہوئی ہے۔۔؟ چلو میرے روم میں۔۔۔”
بلاج کو سہارا دیتے ہوئے وہ اپنے کمرے تک لے گئی تھی
“بلاج اتنے طوفان میں تم ایسے گھوم رہے ہو۔۔؟ کپڑوں پر اتنے داغ اتنی مٹی۔۔؟ کیا حالت بنا لی ہے روکو میں تمہیں تمہارا کوئی ڈریس دیتی ہوں۔۔۔”
اس نے بلاج کو وہاں بٹھا کر اپنے کپبرڈ تک جانے کی کوشش کی تھی کہ بلاج نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا
“ان ڈریس ناؤ”
“وٹ بلاج۔۔پلیز ابھی تم اپنے ہوش میں نہیں ہو۔۔۔”
“رائٹ ناؤ مدیحہ۔۔۔میں پورے ہوش حواس میں ہوں میری جان۔۔
آئی نیڈ یو ناؤ۔۔۔کم ہئیر۔۔۔”
“پر بلاج۔۔”
“ششش۔۔۔۔لِٹ مئ لوو یو ناؤ۔۔۔”
۔
۔
کڑکتی بجلی نے اس کی آنکھیں کھول دی تھیں۔۔۔ اور جب پوری طرح آنکھیں اس نے روم میں گھمائی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا
“میں یہاں کیسے آیا۔۔؟؟”
پر پاس سو رہی اسکی منگیتر نے دوسری طرف منہ کر لیا تھا اور گہری نیند میں سو گئی تھی۔۔۔
اپنے کپڑے پہنے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا پر اسکی شرٹ اسے کہیں نظر نہیں آرہی تھی سر درد میں اس نے کھڑکی کھول دی تھی اور پینٹ کی جیب سے اپنا سگار نکال لیا تھا۔۔۔
اس سگار کے دھوئیں اسے ماضی کی ان یادوں میں لے گئے تھے جن سے وہ نفرت کرتے کرتے بہت آگے نکل آیا تھا۔۔
۔
۔
(فلیش بیک۔۔۔۔۔)
۔
۔
“تمہاری ہمت ہوئی کیسے ہمارے آفس میں قدم رکھنے کی بلاج حمدانی”
وہ سب لوگ اس میٹنگ روم میں ایک اہم موضوع پر گفتگو کر رہے تھے جب بلاج نے اندر داخل ہوتے ہی ایک شخص کا گریبان پکڑ کر اسے اندر پھینکا تھا اس پر وجیح شاہ کے ہر سیکیورٹی گارڈ نے گن ساد دی تھی پر وہ نڈر کھڑا تھا ان سب میں
“جیسے تیری اور تیرے باپ کی ہمت ہوئی اس کو میری بہن کی یونیورسٹی تک بھیجنے کی”
بلاج نے زمین پر گرے اس زخمی شخص کو ایک اور ٹھڈا مارا تھا جو ارسل شاہ کے پاس جا گرا تھا
“بلاج۔۔۔”
ارسل نے اپنی گن لوڈ کردی تھی
“مار اگر تو مرد ہے تو مار مجھے۔۔۔ اب گھر کی عورتوں تک پہنچ گئے تم لوگ۔۔؟ مردانگی مجھے دکھا تو”
اس سے پہلے ارسل گن چلاتا وجیح شاہ اپنی کرسی سے اٹھ گئے تھے
“بس بلاج ہم خاموش ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہم ڈرتے ہیں۔۔
اور یہ حرکت تو تمہارے خاندان کی عادت ہے عورتیں استعمال کرنا
تاریخ پڑھو اور اپنے باپ سے پوچھنا اپنی وہ پھوپھو کی کہانیاں جس نے میرے چھوٹے بھائی کو کیسے اپنی محبت”
بس وجیح شاہ۔۔۔”
بلاج کی گن وجیح صاحب پر تھیں اور پیچھے سے جیسے ہی ایک گارڈ نے بلاج کو نشانہ بنایا چاہا بلاج نے شیشے پر دیکھ لیا تھا اسے
“جب دو لوگ بات کررہے ہوں تو ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے ٹوٹ جاتی ہے۔”
بلاج نے اسکی ٹانگ پر طیش سے شوٹ کیا تھا اور اسی وقت میٹنگ روم کا دروازہ کھل گیا تھا
“بابا سائیں وہ ہم نے آپ سے۔۔۔۔”
بریری شاہ کی بولتی بند ہوگئی تھی سب سے پہلے اسکی نظر بلاج حمدانی اور پھر اسکے ہاتھوں میں پکڑی گن پر پڑی تھی اور پھر اسکی نظر نیچے بے ہوش پڑے گارڈ پر پڑی تھیں۔۔۔اور جب اسکی نظریں بلاج کی آنکھوں میں پڑی تھیں ان میں غصہ نفرت اور جنون اس قدر تھا کہ وہ نیچے گر گئی تھی
وہ جیسے ہی نیچے گری تھی اسکی نظر کی عینک دور جا گری تھی اسکا سر جیسے ہی لکڑی کے مظبوط میز کے ساتھ ٹکرایا تھا۔۔۔۔
اسکے ماتھے سے خون کے قطرے نکلتے دیکھ وجیح شاہ اور ارسل شاہ بہت زیادہ گھبرا گئے تھے بنا کچھ کہے وہ بریرہ کو اٹھا کر باہر لے گئے تھے
“بابا سر پر چوٹ آئی ہے سیدھا ہسپتال لے چلتے ہیں۔۔”
“نہیں بیٹا سب میڈیا کو بریرہ کا پتا چل جاۓ گا گھر لے کر چلتے ہیں تم ڈاکٹر کو فون کرو جلدی۔۔۔”
وہ جلدی سے اسے میٹنگ سے باہر لے گئے تھے اور پیچھے پیچھے گارڈز بھی تھے
“بریرہ شاہ۔۔۔۔”
بلاج نے ایک سرگوشی کی تھی اور بریرہ کی ٹوٹی ہوئی گلاسیز اٹھا کر اپنے کوٹ کی جیب میں با حفاظت رکھ لی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سب ٹھیک ہے عروج بس بریرہ پھسل گئی تھی بہو پانی لے آؤ جلدی زرا۔۔”
وجیح شاہ نے اتنی بیٹی کو اسکے روم کے بیڈ پر لٹا دیا تھا اور فکر مندی اسکے ماتھے سے خون صاف کرنا شروع کردیا تھا
“اسے یہاں آنا ہی نہیں چاہئے تھا وجیح صاحب یہ ایک غلط فیصلہ تھا”
“اب تم بتاؤ گی مجھے کیا سہی ہے کیا غلط ہے عروج بیگم۔۔؟ڈاکٹر کے آنے سے پہلے کمرہ خالی کرو جاؤ یہاں سے۔۔۔”
انہوں نے اپنی بیوی کو وہاں سے بھیج دیا تھا جو بریرہ کی چوٹ پر اپنا شفقت کا ہاتھ رکھنے کو ترس رہیں تھیں
“بلاج حمدانی میں جتنا تمہاری گستاخیوں کو درگزر کررہا ہو تم اتنا ہی سر چڑھ رہے ہو میرے”
۔
کچھ دیر میں ڈاکٹر آگئے تھے۔۔۔دونوں بھائی روم کے باہر کسی زخمی شیر کی طرح چکر کاٹ رہے تھے۔۔۔
جب ڈاکٹر نے زخم سٹیچ کرکے بینڈیتھ کر دی تھی اس وقت ان تین مردوں کو سکون آیا تھا۔۔
بریرہ شاہ کو گھر کی خواتین سے زیادہ گھر کے تینوں مرد پیار کرتے تھے
وجیح شاہ
ارسل شاہ اور کاشان شاہ
وہ آنکھوں کا تارا تھی سب کی اسکی حفاظت کے لیے اسے اتنے سال تک پاکستان میں رکھا ہوا تھا وہ لوگ اپنے مافیا بزنس میں اپنی فیملی اور اپنی بیٹی کو اِن وولوو نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کمرے کی کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا سے وہ مخملی مل مل کی شیٹ جو ہلکی ہلکی سرک رہی تھی
اور ایک وجود کے کھڑکی کے اس پار سے اندر آنے پر وہ ہوا تو بند ہوگئی تھی اور بریرہ شاہ کی آنکھیں ہلکی ہلکی کھلنا شروع ہوئی تھی۔۔۔
قدموں کی آہٹ اسے گہری نیند میں بھی سنائی دے رہی تھی
اس کی آنکھیں کھلنے پر اسکا سیدھا ہاتھ بے ساختہ اسکے ماتھے کی طرف گیا تھا۔۔۔
وہ بیڈ ٹیبل کی طرف ہاتھ بڑھائے اپنی گلاسیز ڈھونڈنا شروع ہوئی تھی اسی وقت کسی نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
“تمہاری خوبصورت آنکھوں کو ان گلاسیز کی ضرورت نہیں ہے کڈو۔۔”
بریرہ کی آنکھیں کھل گئی تھی اس آواز سے جس سے وہ پچھلے ایک ہفتے سے بھاگ رہی تھی
“ب۔۔۔بلاج۔۔۔؟؟”
“تمہیں تو میرا نام یاد ہے میں تو سمجھا کہ بھول گئی ہوگی۔۔۔جیسے ہماری ڈیٹ بھولی تھی۔۔۔؟ آنے کا وعدہ کرکے آئی نہیں بریرہ شاہ۔۔۔”
وہ جیسے ہی بیڈ پر بیٹھا تھا بریرہ ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی تھی جس سے اسکا سر بیڈ پر لگا تھا اور درد پھر سے شروع ہوگیا تھا
“کچھ کھا کر دوائی کھا لو پھر ہم چلیں گے ڈیٹ پر۔۔۔”
بلاج نے فروٹ کی ٹرے آگے کی تھی
“وٹ دا ہیل۔۔؟ کیا کر رہے ہو یہاں۔۔۔؟؟ جاؤ یہاں سے وہ مار دیں گے تمہیں۔۔۔”
بیڈ سے اتر کر اس نے بلاج کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور دروازے تک لے آئی تھی جب اس کی نظر بلاج حمدانی پر پوری طرح پڑی تھی جو بنا شرٹ کے تھا
“سیریسلی۔۔۔؟ کیا طریقہ ہے اس طرح کسی کے کمرے میں بنا شرٹ پہنے آنا۔۔؟ شرم کریں اب دفعہ ہوجائیں مجھے بھی مروائیں گے۔۔۔”
وہ بلاج کو کھینچ کر کھڑکی کی طرف لے جا رہی تھی جب بلاج نے اسے کھینچ کر دروازے کے ساتھ پن کردیا تھا
“بہت بولتی ہو تم یار چپ ایک دم”
بلاج نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا جو گھبرا سی گئی تھی اتنی نزدیکی سے بلاج حمدانی کی
“اگر آپ یہاں سے نا گئے تو بولنے کے ساتھ ساتھ کاٹتی بھی ہوں میں۔۔۔”
“ہاہاہاہا کاٹ کر دیکھاؤ۔۔۔”
“اور اسکے منہ پر رکھے بلاج کے اس ہاتھ پر کاٹ لیا تھا بریرہ نے۔۔۔
بلاج حیران ہوا تھا اور قہقہہ لگا دیا تھا اس نے جب بریرہ نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔۔
“بریرہ بیٹا۔۔۔”
باہر سے بریرہ کی امی کی آواز نے اسے شوکڈ کردیا تھا
“چپ انکو جواب دو گی تو وہ اندر آجائیں گی۔۔۔اور مجھے تمہیں ایسے اس حالت میں دیکھ کر کیا سوچیں گی۔۔۔؟؟؟”
بلاج نے اسکے کانوں میں سرگوشی کی تھی
“لگتا ہے ابھی تک نیند میں ہے۔۔۔”
یہ کہہ کر بریرہ کی امی وہاں سے چلی گئیں تھیں
“آپ دفعہ ہورہے ہیں یا نہیں۔۔۔؟؟ کچھ شرم نہیں آئی شرٹ کے بغیر آنے میں۔۔۔؟؟”
اور بلاج اسے کھڑکی کے پاس لے گیا تھا
“اتنی اونچائی پر آتے آتے پھٹ گئی شرٹ میری۔۔۔مجھے کوئی شوق نہیں اپنی خوبصورتی کو نظر لگوانے کی۔۔۔”
بریرہ کا منہ کھل گیا تھا بلاج کی بات پر۔۔۔
“ہاہاہاہا خوبصورتی۔۔۔؟؟ کہہ تو ایسے رہے جیسے پہلی بار بنا شرٹ کے گھوم رہے آپ کو بنا شرٹ کے کتنے ہوٹل رومز کے قصے پڑھ چکی ہوں۔۔۔”
اوو تو مجھے پڑھتی بھی ہو مجھے۔۔۔؟؟؟”
بریرہ نے شرما کر منہ نیچے کرلیا تھا
“ونڈو کے شیشے پر لائٹ پڑنے سے پہلے بریرہ نے بلاج کو اور خود کو کھڑکی سے پیچھے کرلیا تھا اور اس بار بلاج کھڑکی کے ساتھ پن تھا
“یہ گارڈز صبح چار بجے تک ایسے ہی پٹرولنگ کرتے رہیں گے یہاں ڈو سم تھنگ۔۔۔۔”
“کوئی بات نہیں میں رک جاتا ہوں ہماری جو پینڈنگ ڈیٹ تھی وہ یہیں پوری ہوجاۓ گی۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟؟تم پاگل ہو۔۔۔؟ کہاں پھنس گئی ہوں میں۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر واپس بیڈ پر بیٹھ گئی تھی بلاج حمدانی صرف مسکرا رہا تھا اسکی بچکانا حرکات پر۔۔۔۔
“پاگل تو تم نے بنا دیا ہے بریرہ شاہ۔۔۔اب بھگتو۔۔۔۔اب یہ بتاؤ کینڈلز کہاں ہیں۔۔۔؟؟”
وہ کہتے کہتے خود ہی ڈھونڈنا شروع ہوگیا تھا اور جب کپڑوں والے کپبرڈ کی طرف اس نے ہاتھ بڑھایا تو بریرہ جلدی سے اسی طرف بھاگی تھی
“آپ کو کسی نے سمجھایا نہیں کہ کسی لڑکی کے کپڑوں کی الماری میں تانک جھانک بری بات ہے۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا مجھ سے بھی پردہ۔۔۔؟؟ دیکھنے تو دو کینڈلز۔۔۔”
“اس سائیڈ پر تھرڈ ڈراؤر میں پڑی ہے۔۔۔'”
وہ اپنی کپبرڈ سے زرا سا بھی پیچھے نہیں ہٹی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا ہٹ جاؤ پیچھے نہیں دیکھتا کچھ بھی”
بلاج نے ان کینڈلز کو اپنی پینٹ میں پڑے لائٹر سے جلا دیا تھا اور وہیں ٹیبل پر رکھ دیں تھیں جہاں وہ فروٹ کی ٹرے پڑی تھی
“آپ کو یہ سب کرکے کیا ملے گا بلاج۔۔۔؟؟”
“راحت۔۔۔سکون ملے گا جو تم نے چھینا ہوا ہے جب سے مجھے اس ریسٹورنٹ میں انتظار پر چھوڑا تم نے۔۔۔”
اس نے بریرہ کا ہاتھ پکڑ کر بستر پر بٹھا دیا تھا اور کچھ فاصلے پر خود بھی بیٹھ گیا تھا
“میں وہ ڈیٹ کا نہیں ان سب کا مقصد پوچھ رہی ہوں۔۔۔کیا ملے گا۔۔؟
آج آفس میں بھی کسی کو مارا آپ نے یہ دشمنی اور دشمن کی بیٹی میں اتنی دلچسپی سے کیا ملے گا آپ کو۔۔۔؟؟؟”
“تم ملو گی ظاہر سی بات ہے کڈو۔۔۔”
وہ ہنسی چھپائے اسے تنگ کر رہا تھا
“اگر ایک بار اور کڈ کہا تو میں خود آپ کو اٹھا کر باہر پھینک دوں گی یہاں سے”
“ہاہاہاہا اوکے ایم سوری کڈ۔۔۔۔میرا مطلب ہے بریرہ شاہ۔۔۔۔”
بریرہ کی لال ناک دیکھ کر اپنی بات بدل دی تھی
۔
اور دو گھنٹے کا وہ وقت باتوں میں کیسے گزرا ان دونوں کو ہی پتا نہیں چلا تھا
“یہاں آیا تو کسی اور مقصد کے لیے تھا پر اب اسے پورا کئیے بغیر جا بھی نہیں سکتا”
اس نے اپنی جیب سے ایک بہت سادہ سی خوبصورت انگوٹھی نکال تھی۔۔
بریرہ کو مہلت ہی نہیں دی تھی اس نے اور اسے وہ انگوٹھی پہنا دی تھی
“بریرہ شاہ میں جب تک زندہ ہوں کوشش کروں گا تمہارے ہاتھ سے یہ انگوٹھی تب نکلے جب تمہارے ان ہاتھوں میں جان باقی نا رہے”
بلاج حمدانی کے لہجے میں ایک جنون تھا ایک شدت تھی جس طرح وہ بریرہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“بلاج”
“شش جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ پھر ڈیٹ پر تمہیں تمہارا منگیتر لیکر جاۓ گا”
اسکی رنگ فنگر پر وہ بوسہ دے کر وہاں سے چلا گیا تھا
۔
۔
“بریرہ۔۔۔۔”
اس نے نام کسی اور کا لیا تھا اور اسے پیچھے سے کسی اور نے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا تھا۔۔۔
“بلاج پلیز اس محبت بھری رات کو اس رکھیل کا نام لیکر خراب نا کرو
ایک بد صورت ماضی کو بھلا دو آنے والے خوبصورت مستقبل کے لیے میری جان۔۔۔۔”
بلاج کے کندھے پر جیسے ہی اسکے ہونٹ محسوس ہوۓ تھے بلاج کو آنکھیں بند کرنے پر چہرہ کسی اور کا نظر آیا تھا۔۔۔
آنکھوں پر بڑی سی ا
گلاسیز لگائی بریرہ شاہ کا چہرہ۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم یہاں سے کہیں نہیں جارہے میں نے کہہ دیا ہے۔۔۔”
“آپ یہ کہنے والے ہوتے کون ہیں۔۔۔؟؟ ہاتھ کھولیں میرے ابھی”
“چاچا ہوں تمہارا۔۔۔تمہارے باپ کا سگا بھائی ہوں میں پورا حق ہے میرا تمہیں روکنے کا۔۔۔سنا تم نے اب تم پاکستان سے باہر کہیں نہیں جاؤ گے ارسل شاہ۔۔۔”
“آپ مجھے زبردستی روک نہیں سکتے۔۔۔میرے باپ کا قتل ہوگیا میرے بھائی کو مار دیا گیا اور میری بہن میری گڑیا میں اسکا خون معاف نہیں کروں گا بس مجھے کھولیں ڈیم اِٹ۔۔۔”
ارسل کی آواز اسکا چلانا اس وقت بند ہوا جب اسکے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا کسی نے
“امی۔۔۔؟؟ شکر ہے آپ ٹھیک ہیں۔۔پلیز چاچو سے کہیں مجھے کھول دیں مجھے ان لوگوں سے بدلہ لینے جانا ہے امی۔۔۔”
“ان لوگوں نے برباد نہیں کیا ارسل تمہاری بہن کھا گئی میرے بیٹے کو میرے سہاگ کو وہ لوگ قصور وار نہیں ہیں تمہاری اپنی بہن مجرم نکلی
کس سے بدلہ لو گے۔۔؟ وہ دو دشمن تھے ایک سانپ کی مانند پر تمہارا اپنا خون کیوں اتنا گندا نکل آیا ارسل۔۔۔؟؟ بریرہ نے سب کچھ برباد کردیا میرے بچے ہم اب بدلہ نہیں لیں گے اب کچھ باقی نہیں رہا”
انکے رونے پر ارسل شاہ کی آنکھیں بھر آئیں جو کبھی آنسو نہیں بھاتی تھیں آج وہ رو رہا تھا۔۔
“امی بریرہ مجرم نہیں تھی۔۔۔وہ معصوم تھی۔۔۔بابا سہی کہتے تھے ہم نے بریرہ کو وہاں بلا کر غلطی کی۔۔۔اسکی معصومیت کا فائدہ اٹھایا اس باسٹرڈ نے امی”
“اور وہ دودھ پیتی بچی تھی۔۔؟ جو لڑکی گھر کی دہلیز کو پار کر جائے وہ سب کچھ ہوسکتی پر معصوم نہیں ہوسکتی ارسل۔۔
اسے انجام کا کیا نہیں پتا تھا۔۔۔ ؟ اسے سب پتا تھا پھر بھی اس نے یہ سب کیا۔۔وہ میرے لیے مر چکی تھی اسکی موت کی خبر تو ایک مہینے بعد آئی تھی میں بریرہ کو پہلے ہی مار چکی تھی رو چکی تھی”
ارسل کی نگاہیں اور بھاری ہوگئی تھی اسکے آنسوؤں سے اور اسکی امی کے کہے الفاظ اسے اور اذیت پہنچا رہے تھے
“بریرہ شاہ میری کچھ نہیں لگتی اور نا ہی وہ تمہاری کچھ لگتی ہے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں سنا تم نے اب تم کہیں نہیں جاؤ گے اگر تم گئے ارسل تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔اور تم اپنی ماں کو بھی کھو دو گے یاد رکھنا۔۔۔”
انکے کمرے سے جانے کے بعد ارسل بھی کرسی کے ساتھ لگ گیا تھا
“ارسل بیٹا یہ سب تمہارے اپنے بھلے کے لیے کہہ رہے ہیں ہم اب نہیں بھگت سکتے ہم یہ لڑائی جھگڑا اور یہ خاندانی دشمنی”
ارسل نے گہرا سانس لیا تھا
“اوکے چاچا جی مجھے منظور ہے۔۔۔اب تو کھول دیجیئے امی کے پاس جانے دیجیئے۔۔”
چاچا جی نے تو یقین کر کے خوشی خوشی تمام رسیاں کھول دی تھیں۔۔اور ہاتھ کھلتے ساری ارسل نے چاچا جی کو اس کرسی پر دھکیل کر باندھنا شروع کیا تھا
“ارسل یہ کیا بکواس ہے کھولو مجھے۔۔تم یہاں سے نہیں جا سکتے باہر میرے سیکیورٹی گارڈ ڈیوٹی پر ہیں۔۔۔”
“میں دیکھ لوں گا چاچو۔۔۔”ارسل نے پوری طرح سے باندھ دیا تھا انہیں
“ارسل پلیز مت جاؤ بیٹا۔۔تم ایک آخری بچے ہو میرے بھائی کی اولاد میں سے۔۔نا جاؤ بیٹا۔۔۔”
انکے لہجے میں گزارش بھی تھی اور التجا بھی دکھ بھی تھا اور تکلیف بھی
“ہمارا ہنستا کھیلتا خاندان منوں مٹی دفنا دیا گیا اور میں نا مرد ہوں گا جو آخری سانس تک لڑوں گا نہیں۔۔۔
ایم سوری چاچو ماں کا اور میرے بچوں کا خیال رکھنا۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر کھڑکی کی طرف بھاگا تھا
“اور تمہاری بیوی کا کیا ہوگو ارسل اسکے بارے میں کچھ سوچا ہے وہ کیسے گزارا کرے گی۔۔۔؟؟؟”
“جیسے کاشان کی بیوی کر رہی تھی۔۔۔کاشان کو بھی نہیں بخشا ۔۔
سب کو کھائی گئی یہ آپ کی خاندانی دشمنی کبیر چاچو۔۔۔”
اس نے آخری بات طیش میں کہی تھی اور چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
(کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔)
۔
۔
“اندر تو چلو نا بلاج مہتاب کے لیے یہ پارٹی داد جی نے آرگنائز کی ہے کم لیٹس گو۔۔”
بلاج نے ایک نظر باہر دہرائی تھیں جہاں میڈیا کے لوگ اپنے اپنے کیمرے ریڈی کئیے گاڑی کا دروازہ کھلنے کے انتظار میں تھے۔۔۔
بلاج نے گاڑی سے باہر نکل کر اپنے کوٹ کا مڈ بٹن بند کر کے مدیحہ کی سائیڈ کا ڈور اوپن کیا تھا اور ہاتھ آگے بڑھایا تھا جسے خوشی خوشی پکڑ کر مدیحہ نے گاڑی سے باہر اپنے پاؤں نکالے تھے۔۔۔
“مسٹر بلاج۔۔۔مسٹر بلاج کیا آپ نے اب تک شادی کرنے کا فیصلہ نہیں لیا۔۔؟
مس مدیحہ کو اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔۔؟؟”
بلاج اور مدیحہ بنا ری ایکٹ کئیے جا رہے تھے اندر کی جانب گارڈز اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے تھے میڈیا کو پیچھے رکھنے کی
“مسٹر بلاج کیا مس مدیحہ بھی آپ کے پاسٹ آفئیرز میں شامل ہونے والی ہیں”
بلاج کے قدموں سے قدم ملائے وہ چل رہی تھی
“مسٹر بلاج بریرہ شاہ کے ساتھ آپ کے کیا تعلقات تھے۔۔؟؟”
ایک آواز نے بلاج کو روک دیا تھا جو میڈیا پرسن تھا پر جس طرح سے وہ بلاج حمدانی کو دیکھ رہا تھا اس سے تو کچھ اور ثابت ہورہا تھا
“نو کمینٹس۔۔۔۔”
مدیحہ نے کہہ کر بلاج کے بازو کو پکڑ لیا تھا
“سننے میں آیا ہے کہ جس خاندان کی لڑکی کا کوئی آفئیر کبھی میڈیا پر نہیں آیا تھا اسے آپ نے اپنی مسٹریس بنایا ہوا تھا۔۔؟؟
حالانکہ ایسے آفئیرز تو آپ کے تھے تو ٹائٹل بھی آپ کو ملنا چاہیے تھا نا مین وؤرھ کا۔۔۔؟؟؟؟”
بلاج نے مڑ کر اسے دیکھا تھا جب سب موجود لوگوں نے سرگوشیاں کرنا شروع کردیں تھیں
“بریرہ شاہ مر چکی ہے آئی تھنک اب اس گوسپ کو بھی دفن کردینا چاہیے”
“سیریسلی۔۔۔؟؟ بریرہ شاہ ایک الجھی ہوئی پہیلی تھی کیا پتا انکے مرنے پر سلجھ جائے یہ مسٹری۔۔۔؟؟آپ بھی تو ان کے عاشقوں کی لسٹ میں رہ چکے ہیں نا۔۔؟”
بلاج کی مٹھی جیسے ہی بند ہوئی تھی زمرد صاحب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا تھا
“ایک آخری بات بلاج حمدانی کسی مرے ہوئی کی قبر کی بے حرمتی پھر سے نا کرنا مجھے اگلی بار وہ ویڈیو شوٹ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔۔۔”
اس نے رپورٹر نے یہ بات اردو میں کہی تھی بلاج کو جو وہاں بلاج کے قریب کھڑے زمرد حمدانی اور مدیحہ سن چکے تھے
“مجھے یہ رپورٹر ہر حال میں میری آنکھوں کے سامنے چاہیے اسے میں بتاؤں گا کیا نتیجہ نکلتا ہے جب کوئی بلاج حمدانی کا راستہ کاٹنے کی کوشش کرے تو”
بلاج کے گارڈ نے ہاں میں سر ہلایا تھا اور اس رپورٹر کو فالو کرنے چل دیا تھا
“اندر چلو بیٹا۔۔۔مہتاب اندر آگیا ہے۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“واااووو کون ہے وہ ہمیں بھی بتاؤ مہتاب بھیا” وہاج نے باقی سب کی طرح مہتاب کو چھیڑتے ہوئے پوچھا تھا
“بلاج بھیا۔۔۔”
مہتاب سب کو چھوڑ کر بلاج کی طرف بھاگا تھا جس نے اپنے دونوں بازو اپنے چھوٹے بھائی خ
کے لیے پہلے ہی کھولے ہوئے تھے
“مہتاب۔۔۔۔”
بلاج نے اپنے بھائی کو گرم جوشی سے اپنے گلے لگا کر سرگوشی میں نام لیا تھا
“آپ کیسے ہیں بلاج بھیا۔۔۔؟؟ بہت مس کیا آپ کو میں نے۔۔۔”
بلاج نے مہتاب کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پھر اسے اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔
اگر اسے اپنی فیملی میں کسی سے بے لوث محبت تھی تو وہ مہتاب تھا
“بھیا بال تو نا خراب کریں وہ آتی ہی ہوگی۔۔۔”
باقی سب لوگ ہنسنے لگے تھے
“پاپا باقی سب کہاں ہے ماں چاچی۔۔؟ “
مہتاب نے نظریں دہرائی تھیں
“ان کا کیا کام ان پارٹیز میں۔۔؟ گھر کی عورتیں گھر ہستی سنبھالتے ہوئے اچھی لگتی۔۔”
بلاج یہ کہہ کر اپنے بزنس پارٹنر سے ملنے چلا گیا تھا
“مدیحہ بھابھی آپ کیسے گزارا کریں گی میرے بورنگ اکڑو بھائی کے ساتھ۔۔؟”
اسکی بات پر اور قہقہے بلند ہوۓ تھے خاص کر داد جی کے
“جیسے اب تک کر رہی ہوں دیور جی۔۔۔ داد جی کی مرضی نے پھنسا دیا اس اکڑو کے ساتھ۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
“مہتاب اب تو بتا دو بیٹا کس کا انتظار ہو رہا کیک کب کاٹنا ہے۔۔؟؟”
“داد جی بس وہ آتی ہی ہوگی۔۔۔آج آپ سب سے ملوا کر یہیں شادی کے لیے پرپوز کرنا چاہتا ہوں اسے۔۔۔”
مہتاب کی بات سن کر داد نے شوکڈ ہوکر اپنے تینوں بیٹوں کی طرف دیکھا تھا
“وٹ۔۔۔؟ شادی۔۔؟ تم جانتے ہو مہتاب داد جی کی مرضی کے بنا بلاج کی مرضی کے بنا کوئی فیصلہ”
“میں جانتا ہوں ڈیڈ۔۔پر وہ میری پسند ہے۔۔۔آپ کو بہت پسند آۓ گی”
“پر بیٹا۔۔۔بلاج۔۔۔”
“بلاج بھیا راضی ہوجائیں گے “
“سر میڈم کی گاڑی پارکنگ کی طرف آرہی۔۔۔”
“واااووو۔۔۔وہ آگئی داد جی۔۔۔۔”
اپنی کرسی سے اچھلتے ہوئے وہ داد جی کے گال پر بوسہ دے کر وہاں سے چلا گیا تھا
“بابا یہ بلاج کے غصے کو نہیں جانتا شاید۔۔۔”
زمرد صاحب نے اپنے والد کو کہا تھا
اس سے پہلے کوئی جواب ملتا دروازہ کھل گیا تھا اور ہال کی لائٹس آف ہوگئی تھی
ڈم لائٹ چلنا شروع ہوئی تھیں اور گٹار کے ساتھ مہتاب سٹیج پر کھڑا تھا منہ پر مائک اٹیچ کئیے۔۔۔
۔
“ہے دل یہ میرا مجھے ہر دم یہ پوچھتا
کیوں مجھے تجھ سے اتنی وفا۔۔۔”
۔
اس لڑکی کی ہیلز جیسے جیسے اس پولشڈ ماربل پر ٹچ ہو رہی تھیں ویسے ویسے مہتاب کے ہاتھوں میں پکڑے گٹار کی ٹونز بج رہیں تھیں
۔
“کیوں تیری حسرت ہے ہر خواہش سے بڑھ کر مجھے
کیوں نام تیرا ہی لیتی زبان”
۔
“ساتھی تیرا بن جاؤں کیوں ہے یہ جنون۔۔۔
ہر آنسو تیرا پی جاؤں۔۔اور دہ دوں سکون۔۔۔
۔
ہر دن تجھ کو چاہوں تیری راہ تکوں۔۔۔۔
اپنی بانہوں میں تجھ کو میں سلامت رکھوں”
۔
وہ سپوٹ لائٹ جب اس لڑکی پر پڑی تھی اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد دو لوگوں کی سانسیں ضرور رک گئی تھی۔۔۔
مہتاب حمدانی جو اپنے بھیجے ہوۓ اس ڈریس میں اپنی خوبصورت منگیتر کو دیکھ رہا تھا
اور بلاج حمدانی
جو اس نئی لک اور گیٹ اپ کے باوجود پہچان گیا تھا اسے
“بریرہ”
ایک آہ بھری تھی اس نے اور جب بریرہ بلکل سینٹر میں چلتے چلتے پہنچ گئی تھی مہتاب کو اسکے پاس جاتے دیکھ بلاج کی گرفت اسکے ڈرنک گلاس پر اور مظبوط ہوگئی تھی
۔
“تیرے ہی بارے میں ہے اب ہر ذکر میرا
ہوا ہے کیسا اثر یہ تیرا۔۔۔”
۔
اس نے اپنا گیٹار ایک سرونٹ کو پکڑا دیا تھا اور مائک پہ پہ گنگناتے ہوئے بریرہ کی طرف بڑھا تھا
اس آج سب ماسک کے بغیر دیکھ رہے تھے۔۔اور کوئی بھی اسے نہیں پہچان پایا تھا نا داد جی نا ہی کوئی اور۔۔۔سواۓ بلاج حمدانی کے۔۔۔
مہتاب نے بریرہ کا ہاتھ پکڑ کے اپنے اور پاس کیا تھا۔۔۔
ہال سے بہت ہوٹنگ کی آواز آئی تھی اور فیملی کے مرد بھی بہت خوش ہورہے تھے مہتاب کو اتنا خوش دیکھ کر۔۔۔۔
۔
“کوئی نصیحت۔۔۔نا چاہوں میں کوئی صلاح۔۔۔
جو روح نے میری۔۔۔تجھے چن لیا۔۔۔۔”
۔
۔
بریرہ نے جیسے ہی مسکراتے ہوئے مہتاب کے چہرے پر بہت پیار سے ہاتھ رکھا تھا بلاج حمدانی کو وہ محسوس ہوا تھا جو آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا ہو اسے۔۔۔
ایک جنون ایک جلن ایک درد۔۔۔
جنون اس لڑکی کو پھر سے واپس اپنی آغوش میں بھر لینے کا
جلن اسے کسی اور کی بانہوں میں دیکھ کر شدت اختیار کرگئی تھی
اور درد جب اسے ماضی کی کچھ یادیں یاد آگئی تھیں
۔
۔
“فلیش بیک۔۔۔۔”
۔
“ہے دل خام خواہ پریشان بڑا۔۔۔
اس کو کوئی سمجھا دے زرا۔۔۔”
بریرہ کی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا بلاج نے۔۔۔
“بہت رومینٹک ہو رہے ہیں مسٹر بلاج۔۔۔”
بلاج نے بنا کچھ کہے بریرہ کا ہاتھ پکڑ کر پھر سے اسے گھمایا تھا پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیکر اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ لیا تھا
۔
“عشق میں فنا ہوجانا ہے دستور یہی
جس میں ہو صبر کی فطرت وہ عشق ہی نہیں۔۔۔۔”
۔
“کیا پتا ہم کل کہاں ہوں۔۔بریرہ”
“بریرہ کہیں بھی ہو آنکھیں بند کر کے جب بھی کھولو گے مجھے اپنے سامنے پاؤ گے مسٹر ہبی۔۔۔۔”
بریرہ نے اسکی چہرہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں آج اسے کچھ اور جذبات بھی نظر آرہے تھے
“میں جلدی واپس آجاؤں گا۔۔۔”
“میں انتظار کروں گی بلاج۔۔۔”
“اگر نا کر پائی میرا انتظار تو۔۔؟ اگر کوئی اور لے گیا تمہیں چرا کر تو۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا آزما کر دیکھ لیں بلاج حمدانی بریرہ کی نظروں میں اور دل میں صرف تم ہی تم ہو اور رہو گے ہمیشہ۔۔۔۔”
۔
۔
“میں مہتاب حمدانی پشمینہ شیخ تم سے تمہارا ہاتھ مانگنا چاہتا ہوں ساری زندگی کے لیے ہمیشہ کے لیے۔۔۔
اپنی زندگی تمہارے نام کر کے تم سے تمہیں چرانا چاہتا ہوں کیا تمہیں میں قبول ہوں۔۔؟”
اور بلاج اپنی کھوئی ہوئی دنیا سے واپس آگیا تھا اپنے بھائی پر اور اس لڑکی پر اسکی نظریں پڑی تھیں جس نے ہاں میں سر ہلا کر مہتاب کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔
“سب جھوٹ بولا تم نے بریرہ شاہ۔۔۔”
گلاس ٹوٹ کر ہاتھ میں چبھ گیا تھا اسکے اور وہ بنا پرواہ کئیے اس سٹیج کی طرف بڑھا تھا
“بلاج بھائی۔۔۔پشمینہ شیخ میری منگیتر۔۔۔۔پشمینہ میرے بڑے بھائی بلاج حمدانی۔۔۔”
مہتاب نے بلاج کو بریرہ کے سامنے لاکر کھڑا کردیا تھا جس نے اپنے ہاتھ میں مہتاب کی پہنی ہوئی انگوٹھی کو آگے کیا تھا پورا ہال مبارکباد اور تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔
پشمینہ شیخ نام سے حمدانی خاندان کی مسکراہٹ تھم گئی تھی پر مہتاب کی خاطر سب نے آگے بڑھ کر پشمینہ کو پیار دیا تھا
“جیٹھ جی۔۔۔آپ مبارکباد نہیں دیں گے ہمیں۔۔۔؟؟”
“وٹ دا ہیل بر”
“بلاج یہاں آؤ بیٹا تمہیں کسی سے ملوانا ہے۔۔”
داد جی بلاج کو وہاں سے لے گئے تھے بریرہ کی نظریں بلاج کے زخمی ہاتھ پر تھیں اور ایک سکون اتر آیا تھا اسکی آنکھوں میں
“بلاج حمدانی یہ شروعات ہے تمہاری ہر تکلیف کی تمہارے ہر دکھ کی
یہ جسم سے نکلنے والا خون مجھے سکون ضرور دے رہا پر میری روح کو اس دن سکون ملے گا جب تمہاری آنکھیں خون روئیں گی۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔