57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

۔
“ایم سوووو سوری سر۔۔۔۔شٹ شٹ آپ کی شرٹ خراب ہوگئی “
وہ گرم کافی اسکے ہاتھ میں بھی گری تھی
“وٹ دا ہیل۔۔۔تم دیکھ کر نہیں چل سکتی۔۔۔”
“ایم سوو سوری نا پلیز چپ رہیں میں صاف کر رہی ہوں “
اس نے جلدی سے ٹیبل سے ٹشو اٹھائے تھے اور شرٹ صاف کرنا شروع کر دی تھی کب پریشانی میں شرٹ کو صاف کرتے کرتے اسکے ہاتھ بلاج حمدانی کی بلٹ کو چھو گئے اسے پتا نہیں چلا پر بلاج حمدانی کی دھڑکن رک گئی تھی اچانک سے۔۔۔
“پاگل لڑکی کھڑی ہوجاؤ کیا حرکت ہے یہ بریرہ۔۔۔؟؟ دیکھ رہے سب کیا لائیو شو دے رہی ہو بیوقوف لڑکی۔۔۔”
بریرہ کی دوست نے ایک جھٹکے سے بریرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا لیا تھا
“عینی دراصل مجھ سے کافی گر گئی انکی شرٹ پر وہ صاٖف کر رہی تھی۔۔۔”
بریرہ نے اپنی آئی گلاسیز ٹھیک کر کے لگائی تھی
“شرٹ پر گری تھی تمہارے ہاتھ کہاں تک پہنچ گئے تھے تمہیں اندازہ ہے۔۔۔؟؟؟”
اور پھر بریرہ کی نظریں شرٹ سے نیچے گئی تھیں اور پھر اسکا منہ کھل گیا تھا جب پاس ایک کراؤڈ بن گیا تھا اور ہنستے ہوئے ہوٹنگ کرتے ہوئے لوگ وہاں سے چلے گئے تھے
بریرہ نے گلاسیز اتار کر جب دیکھا تو اسکی دھڑکنے رکی تھی ہینڈسم ہنک کو اپنے سامنے دیکھ کر جسے وہ ابھی تک ٹی وی پر دیکھتی آئی تھی
“وہ۔۔۔دراصل میری گلاسیز کی وجہ سے مجھے نظر نہیں آتا۔۔ میں تو شرٹ صاف کر رہی تھی۔۔”
اس نے شرمندگی کے مارے جھوٹ بول دیا
“او مائی گوڈ۔۔ایم سوووو سوری۔۔۔۔۔۔۔۔”
بریرہ شرم کے مارے اور اونچی بولی تھی بلاج حمدانی نے اب کے اپنی بلیک گلاسیز اتار کر اس لڑکی کی آنکھوں میں دیکھا تھا جس کی ڈریسنگ لڑکیوں جیسی تھی ہی جس نے شرٹ بھی باربی کارٹون والی پہنی ہوئی تھی آنکھوں سے بڑے گلاسیز لگائے ہوئے تھے
“اِٹس اوے کڈ “
“کڈ۔۔۔؟؟ تمہیں میں کڈ لگتی ہوں مسٹر۔۔؟؟”
بریرہ پیچھے سے چلائی تھی جب بلاج نے وہاں سے آگے قدم بڑھائے تھے
“تو کیا نہیں ہو کڈ۔۔؟؟ ورنہ کون ایسے کارٹونز شرٹ اور اتنی گرمی میں ایسے کمبل جیسے کپڑے پہن کر گھومتا ہے۔۔؟؟”
بریرہ کی دوست کے قہقوں سے بریرہ کا پارا ہائی ہوگیا تھا۔۔۔
“ابھی دیکھاتی ہوں۔۔۔اس نے غصے اباقی کی کافی نیچے پھینک دی تھی اور اپنا کوٹ اتار کر پھینک دیا تھا جس کے نیچے اسکی ڈریسنگ بہت ایکسپینسو تھی جینز کے نیچے لونگ بوٹ دیکھ کر بلاج کا منہ کھلا رہ گیا تھا پر جب پیچھے سے ہوٹننگ اور سیٹی کی آواز آئی تو بریرہ نے جلدی سے کوٹ پہن لیا تھا اور بلاج کے کچھ پاس گئی تھی۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔پر مجھے یہ کڈ لفظ زہر لگتا ہے ہر کسی کو میں کڈ کیوں لگتی ہوں آج یہ ڈریسنگ کرنے کے بعد بھی۔۔۔
عینی میں کہہ رہی تھی نا بیڈ آئیڈیا ہے لک چینج کرنے سے بھی سب نے کڈ ہی کہنا تھا مجھے۔۔۔”
اس نے پہلے بلاج اور پھر اپنی دوست عینی کو بچوں کی طرح شکایت کی تھی۔۔۔
اسے نہیں پتا تھا اسکی معصومیت نے بلاج حمدانی کے کے پتھر دل کی دھڑکنے شروع کردی تھی
“کون تھی یہ بلا۔۔۔؟؟””
بلاج نے اپنے گارڈ سے پوچھا تھا بریرہ کی طرف دیکھتے ہوئے جو بلکل بچوں کی طرح پاؤں پٹک کر بیٹھ گئی تھی اپنی گاڑی میں عینی کے ساتھ
“دشمن کی بیٹی۔۔۔”
اتنی سی بات پر بلاج کے چہرے سے مسکان چلی گئی تھی اور ایک نفرت چھا گئی تھی ایک شیطانی ہنسی کے ساتھ
“اوووہ تو یہ ہے وہ لاڈلی جسے ان لوگوں نے پاکستان بھیجا ہوا تھا سب کی نظروں سے بچا کر۔۔۔
یہاں تو شکار خود شکاری کے پاس آگیا ۔۔۔۔داد جی اس بار ہمارے خاندان کے سارے حساب ایک ساتھ چکتا کروں گا شاہ خاندان کے ساتھ۔۔۔”
بلاج کی باتوں نے اسکے گارڈز کے چہروں پر بھی ایک خوشی لا دی تھی۔۔۔
یہی چیزتو کوٹ کوٹ کر بھری تھی نفرت اور بدلہ
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ دو مافیا خاندان آج ایک میز پر۔۔۔؟ ہاؤز اِٹ پوسیبل۔۔۔؟؟”
گرینڈ میٹنگ روم پوش ٹیبل ایریا اور ان کرسیوں پر صرف دو خاندان کے مرد تھے اور پیچھے ان کے گارڈز کسی ایک کی طرف سے ہلکی سی غلطی اور یہ جگہ کو میدان جنگ بننے میں ایک لمحہ نہیں لگے گا پر ٹینشن اس وقت ختم ہوئی تھی جب ان دونو ں کو یہاں دعوت دینے والا شخص خود وہاں داخل ہوا تھا
اس شہر کے ٹاپ بزنس مین ہونے کے باوجود بھی ان کے آنے پر کمرے میں بیٹھا کوئی بھی فرد انکی عزت میں اپنی جگہ سے کھڑا نہیں ہوا تھا۔۔۔الٹا انکی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بلاج حمدانی شیر کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا انہیں
“کم سے کم میری کرسی تو نا چھینو مافیا کے لوگوں۔۔۔؟؟؟”
انہیں نے پھر سے مذاق کیا تھا بلاج کے ایک اشارے پر ایک گارڈ نے کرسی آگے کی تھی
“ہم یہاں تمہارے فضول لطیفے سننے کے لیے نہیں آئے ارشد کیوں بلایا ہمیں وہ بتاؤ۔۔۔”
وجیح شاہ نے بہت آرام سے پوچھا تھا۔۔۔
“وجیح اتنے سالوں کے بعد پرانے دوست سے ایسے ملو گے۔۔۔؟؟ یار گلے نہیں ملے گا۔۔؟؟”
“ایک قدم میرے بابا سائیں کی طرف بڑھاؤ اور یہ قدم سلامت نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”
وجیح شاہ کے بڑے بیٹے نے اونچی آواز میں کہا تھا
“ہمت ہے تو ہاتھ لگا کر دکھا ارسل شاہ ہاتھ کاٹ کر رکھ دوں گا۔۔”
“تجھ میں اتنی ہمت ہے تو کاٹ میرے ہاتھ بلاج حمدانی چوڑیاں نہیں پہنی ہمارے خاندان کے مردوں نے۔۔۔”
۔
کچھ منٹ میں دونوں خاندان کے مرد اور ان کے گارڈز کے اسلحے ایک دوسرے کے سامنے تھے
“یہ کوئی حل نہیں ہے وجیح۔۔۔داد جی کیوں نہیں آئے یہاں۔۔؟ میں نے ایک ضروری مسئلے کے لیے بلایا تھا یہاں ۔۔اگر تم دونوں ایسے لڑتے مرتے رہے تو رشئین مافیا کو دیر نہیں لگے گی تم دونوں کا نام و نشان مٹانے میں۔۔۔بدتمیز لوگ۔۔۔جاہل لوگ۔۔۔”
اور وہ جو اسلحہ ایک دوسرے کے سامنے تھا وہ سب نے غصے سے ارشد چوہدری کی کن پٹی پر تان دیا تھا جن کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔۔۔
“یو نو وٹ وجیح شاہ اینڈ یو زمرد حمدانی گو ٹو ہیل۔۔۔اتنی گندی اولاد لڑو اور مرو۔۔۔
اگر میرے آفس کا فرنیچر خراب کر کے کوئی بھی بنا پیسے دئیے دفعہ ہوا تو دیکھ لوں گا ۔۔”
ارشد صاحب چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔
“ہاہاہاہاہا یہ کبھی نہیں سدھرے گا”
زمرد صاحب کی ہنسی نے وجیح شاہ کو بھی قہقہ لگانے پر مجبور کردیا تھا
“ہاہاہاہاہا ڈرفوک کیسے بھاگ گیا اب۔۔۔چوہا تھا ہمیشہ۔۔۔”
وجیح شاہ نے اور ہنستے ہوئے زمرد کو دیکھا تھا۔۔۔
انکے گارڈز اور ان کے لڑکے حیران تھے۔۔۔اور آہستہ آہستہ دونوں طرف کے نئے نئے جوان مردوں نے غصہ پاس پڑے فرنیچر پر اتارنا شروع کردیا تھا وجیح اور زمرد کے چہرے پیلے جیسے ہوگئے تھے وہی غصہ وہی نفرت اور وہی دشمنی
“جب کوئی میٹنگ ہے ہی نہیں تو کیسا میٹنگ روم۔۔۔؟؟ ٹائم ویسٹ کیا باسٹرڈ۔۔۔”
بلاج نے کرسی کو کک مار کے ونڈو کا شیشہ توڑ دیا تھا اور جاتے جاتے وجیح شاہ کے بڑے بیٹے کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
“دوبارہ آنکھ اٹھا کر مجھے دیکھا تو وہاں چوٹ دوں گا کہ تو اور تیرا خاندان یاد رکھے گا۔۔۔”
بلاج حمدانی اپنی بلیک گلاسیز لگا کر وہاں سے چلا گیا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ سال بعد۔۔۔۔”
۔
۔
“مت جاؤ بلاج پلیز۔۔۔”
“میری میٹنگ ہے بہت ضروری بریرہ میری جان جلدی آجاؤ ں گا۔۔۔”
“میرا دل گھبرا رہا ہے مت جاؤ۔۔۔”
بریرہ نے بلاج کا ہاتھ پکڑ کر پھر سے بیڈ پر کھینچ لیا تھا
“تمہیں تو بخار ہورہا ہے۔۔۔تم کیوں آپنی صحت کو لے کر اتنی لاپرواہ ہو ۔۔؟؟”
بلاج نے جیسے ہی بوسہ لینے کے لیے بریرہ کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تھے اسے اسی وقت پتا چل گیا تھا
“تو اسکا مطلب نہیں جا رہے۔۔؟؟”
نہیں جا رہا۔۔۔”
بلاج نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا اور ٹائی بھی اتار دی تھی۔۔۔
“ناؤ کم ہیئر سر دبا دوں تمہارا پھر ڈاکٹر کے چلیں گے کل چکر بھی آرہے تھے تمہیں۔۔۔”
بریرہ نے بلاج کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔
“بریرہ۔۔۔میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔”
“شش۔۔۔میں کچھ باتیں کر رہی ہوں تمہارے دل سے شکایت کر رہی ہوں تمہاری۔۔۔”
بریرہ نے بلاج کے دل پر بوسہ دے کر آنکھیں بند کر لی تھیں
“اب بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔؟ میرے زرا سا دور جانے پر رونا شروع کر دیتی ہو۔۔؟؟”
اسے جب اپنی شرٹ پر نمی محسوس ہوئی تھی اس نے بریرہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے اپنے اور پاس کر لیا تھا اور پھر بہت پیار سے پوچھا تھا
“یہ دن ہیں پیار ہیریے۔۔۔جو ساتھ ہم نے جی لیے۔۔۔۔
جانا نہیں منہ موڑ کے۔۔۔۔اکھیوں میں پانی چھوڑ کے۔۔۔”
۔
بریرہ۔۔۔”
“بلاج جس دن تمہیں کچھ ہوا اس سے اگلا سانس بریرہ شاہ نہیں لے گی۔۔۔۔”
بریرہ نے اسکی شرٹ کو بہت مظبوطی سے پکڑ کر کہا تھا
“بریرہ شاہ نہیں بریرہ بلاج حمدانی۔۔بیوی کیوں بھول جاتی ہوتم اب میری شریک حیات ہو۔۔”
بلاج نے اسکا چہرہ اپنے چہرے کے اور قریب تھا
“جی جسے آپ اپنی حیات میں شریک نہیں کر رہے۔۔۔ایک سال شادی کو ہوگیا ہے اور ہم ایسے ہی چھپ چھپ کر مل رہے ہیں بلاج حمدانی۔۔۔”
اس نے بلاج کے سینے سے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔
“بہت جلدی میری جان۔۔ایک سرپرائز دوں گا۔۔۔بہت سرپرائیزڈ ہوجاؤ گی اور پھر نوبت بھی نہیں آئے گی کسی کو بتانے کی۔۔۔”
اس نے آنکھ ماری تھی جس پر وہ پیچھے سر کر کے بہت ہنسی تھی
“کہیں سچ میں سرپرائزڈ نا کردیا کیونکہ میں بھی اس بار بہت بڑے سرپرائز کی پلاننگ کر کے بیٹھی ہوں۔۔۔”
بلاج کے ناک پر بوسہ دیتے ہوئے وہ اور ہنسی تھی
“اچھا۔۔جی ابھی نہیں بتا سکتی کیا۔۔؟؟ میں تو۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے رک گیا تھا جب بریرہ کی انگلیاں بلاج کے ہونٹوں سے ہو کر اسکی آنکھوں تک گئی تھیں۔۔۔
“آپ بولتے بولتے رک کیوں گئے بلاج حمدانی۔۔؟”
اس نے شرارت بھرے لہجے میں پوچھا تھا
“تم جس طرح سے مجھے سیڈیوس کر رہی ہو نا بریرہ بلاج حمدانی آئی ونٹ بی جینٹل۔۔۔”
“ہاہاہاہا مجھے جینٹل بلاج حمدانی پسند بھی نہیں ہے۔۔۔میرے مافیا ہنک”
بلاج نے اسکے دونوں ہاتھ بیڈ پر پن کردئیے تھے
“سوچ لو بریرہ بلاج۔۔۔”
وہ جتنا اسے ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا وہ اتنا ہی اسے ٹئیز کر رہی تھی
“اب کیسے سوچ سکتی ہوں۔۔؟؟ ایک سال پہلے بتا دینا تھا نا مافیا گینگ کے لیڈر ہو۔۔
اب تو ایک سال لیٹ ہوں سوچنے میں۔۔۔”
اس نے اپنے دونوں ہاتھ بلاج کی گرفت سے چھڑا کر بلاج کہ گردن پر رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا اسے۔۔
“کڈو۔۔۔”
“ڈونٹ۔۔ بلاج۔۔۔کڈ بہیں بولنا۔۔۔”
“ہاہاہاہا کڈ بولوں گا تم کڈ ہو میری نظر میں کڈو۔۔۔”
“اور اس بار اسکے ہاتھ پن کئیے تھے بریرہ نے بیڈ سے بلاج کی ہنسی بھی رک گئی تھی وہ اتنا شوکڈ تھا
“سووو۔۔۔ مسٹر۔۔۔مافیا۔۔۔”
اس نے چہرہ اور پاس کیا تھا بلاج کے
“تمہیں پتا ہے مجھے بلاج حمدانی تم کب زیادہ پسند آتے ہو۔۔؟؟”
بلاج کی آواز بند سی ہوگئی تھی جب بریرہ نے اس کے ہونٹوں کے بلکل پاس بوسہ دیا تھا اسے
“جب تمہاری دھڑکنے تیز ہوتی ہے اور پھر تھم جاتی ہیں اور پھر چلتی ہیں میرے چھو جانے پر۔۔”
بریرہ نے اپنے ہاتھ اسکے دل پر رکھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا اور بلاج کی دل ویسے ہیں چل رہا تھا جیسے وہ بتا رہی تھی کبھی دھڑکن تیز ہورہی تھی اور کبھی تھم رہی تھی
“تمہارے دل سے وعدہ لے رہی تھی کہ میرے لیے دھڑکے گا ایسے ہی تو میں بھی ساتھ نبھانے کا وعدہ کروں گی۔۔۔”
بریرہ کی آنکھوں میں ایک مایوسی چھا گئی تھی بات کرتے کرتے
“تو کیا کہا میرے دل نے۔۔۔؟؟”
اس نے سرگوشی کی
“تمہارا دل کچھ نہیں بولا۔۔۔بہت وفادار ہے تمہارے ساتھ۔۔۔”
“ہاہاہا اسے وقت لگے گا بریرہ جی۔۔۔”
وہ ہنس دیا تھا بہت زیادہ۔۔۔
“وقت ہی تو نہیں ہے بلاج۔۔۔”
اس نے آہستہ سے کہہ کر بلاج کے سینے پر پھر سے سر رکھ دیا تھا۔۔
کل ڈاکٹر کے ساتھ آپائنٹمنٹ سے وہ بہت ڈر گئی تھی
۔
۔
“مس بریرہ اس پریگننسی میں آپ کی جان بھی جا سکتی ہے میں آپ کو وہی آپشن دوں گی آپ ابورٹ۔۔۔”
“پلیز ڈاکٹر۔۔۔۔میں ہمارے پیار ک نشانی کو اس دنیا میں لانا چاہتی ہوں چاہے میری جان چلی جائے میرے شوہر کو میں ایک بار تو سرپرائزڈ کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
۔
۔
“بریرہ۔۔۔۔ میرے دل میں تمہاری حکومت رہے گی اب اداس نہیں ہو نا پلیز۔۔۔”
“وہ تو وقت بتائے گا بلاج حمدانی۔۔۔پر میرے دل پر آپ کا نام نقش کردیا ہے میں۔۔
اور جب تک میرے دل سے یہ نقش نہیں مٹ جاتا تب تک تمہارے دل میں بھی کسی اور کو آنے نہیں دوں گی۔۔۔”
اسکے لہجے میں ایک غصہ سا آگیا تھا
“ہاہاہاہاہا اور میری پوزیسسیو بیوی۔۔۔اگر کوئی آگئی تو۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا کسی کو لیکر تو آؤ بلاج حمدانی میری ٹکر کی تمہیں مل جائے پر میرے جیسی پیار کرنے والی ڈھونڈتے رہ جاؤ گے۔۔۔وہ تو میرا دل آگیا تم پر بلاج حمدانی۔۔۔؎
ورنہ اپنا آپ تو اپنے ہاتھ پر بھی لے کر گھومتے تب بھی گھاس نا ڈالتی تھی۔۔۔ ہمارے خاندانی دشمن۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”
بریرہ بلاج کے شوکڈ چہرے کو دیکھ کر بہت کھلکھلا کر ہنسی تھی
“ہاہاہاہا ابھی بتاتا ہوں۔۔۔”
اس نے پھر موقع نہیں دیا تھا بریرہ کو کچھ بھی بولنے کا۔۔۔”
دونوں کی محبت گونجی تھیہ اس کمرے میں انکا پیار جس کا گوہ تھا یہ انکا چھوٹا سا پارٹمنٹ اور ی بیڈروم۔۔۔
یہ انکی محبت کی آخری یاد تھ۔۔۔یہ آخری لمس تھے وہ جو محسوس کر رہے تھے۔۔۔
بریرہ شاہ۔۔۔
اسے کیا تھا تھا پھر بیووفائیوں کا راج شروع ہوجانا تھا یہاں۔۔۔
اور دنیا نے دیکھنا تھا محبت کو رنگ بدلتے اور معصومیت کو شیطانیت کی سولی چڑھتے
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔