57K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“تمہیں لگتا ہے مجھے تم سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کسی کنسیپٹ کی ضرورت ہے بلاج۔۔؟
یہ میرے الفاظ میرے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔؟ آئی لوو یو۔۔کوئی گیم نہیں ہے۔۔کوئی خاندانی بدلہ نہیں ہے مجھے تم سے محبت کرنے کے لیے زندگی کم لگنے لگی ہے اور تم نفرت کی بات کر رہے دشمنی کی بات کر رہے ہو۔۔؟”
اس نے بلاج کے سینے پر ہاتھ رکھ کہ اسے پیچھے دھکیل دیاتھا غصے سے۔۔
بارش کے گرتے پانی سے وہ دونو بھیگ چکے تھے پوری طرح پر بریرہ کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اس ٹھنڈے پانی میں۔۔
“بریرہ گھر چلو ابھی میں یہ بات نہیں کرنا چاہتا ابھی۔۔”
بلاج نے کچھ قدم آگے بڑھائے تھے
بلاج کی اس ریجیکشن پر بریرہ کی آنکھیں پھر سے بھر گئی تھی بریرہ نے منہ موڑ لیا تھا
“بریرہ۔۔۔”
“بس بلاج۔۔۔تم نے چھوڑنا ہے مجھے چھوڑ دو۔۔پر میں بابا سائیں کو ہماری شادی کا ابھی نہیں بتاؤں گی۔۔وہ نہیں اپنائیں گے اس رشتے کو۔۔
بار بار مجھے یسی راستے پر لاکر کھڑا مت کرو کہ میں اپنی فیملی کو چھوڑ نا سکوں اور تمہارے بغیر جی نا سکوں۔۔۔”
بریرہ کی سسکیاں بلاج کے کانوں تک پہنچی تو اس نے بھی منہ پھیر لیا تھا وہ بھی غصے میں تھا۔۔۔
“تم ہر بات پہ چھوڑنے کی بات کیوں کرتی ہو بریرہ۔۔؟ اتنا آسان ہے تمہارے لیے مجھے چھوڑنا”
“میرے لیے تمہیں اپنا بھی آسان نہیں تھا بلاج۔۔چھوڑنا تمہارے لیے آسان ہے
کیونکہ تم مرد ہو وہ بھی ایک مافیا لیڈر۔۔۔تم مجھے چھوڑ بھی دو گے تو زندہ رہ لو گے اور خوش بھی پر میں۔۔؟؟
میں شاید نا رہ سکوں۔۔۔”
بریرہ نے اپنی گلاسیز اتار کر اپنا چہرہ صاف کیا تھا اور اس سنسان سڑک پر چلنا شروع کردیا تھا
۔
“پہلے کبھی نہ تو نے مجھے غم دیا۔۔۔پھر مجھے کیوں تنہا کردیا،،،
گزارے تھے جو لمحے پیار کے،،،،، ہمیشہ تجھے اپنا مان کہ،،،”
۔
بلاج اور اسکی وہاں کھڑی ہوئی گاڑی سے وہ کچھ قدم دور آئی ہی تھی کہ بلاج نے اسی تیزی سے اسے واپس اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔
تیز بارش میں اسکی بیک جیسے ہی گاڑی کے ساتھ ٹکرائی تھی اسکی کمر میں درد ہوا تھا پر بلاج کو اس بات کی بھی کوئی فکر نہیں تھی اسکی آنکھوں میں اس قدر غصہ تھا
“بریرہ بلاج حمدانی تم سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔؟ تمہاری محبت محبت ہے اور میری محبت کچھ بھی نہیں۔۔؟ تمہیں کیا میں یوں بارشوں میں کھڑا ہونا والا شخص لگتا ہوں۔۔؟
تن نے مجھے کسی قابل نہیں چھوڑا اور تم یہ سمجھتی ہو میں تمہیں چھوڑ کر زندہ رہ لوں گا،،۔؟؟”
بلاج نے بریرہ کا چشمہ اتار کر نیچے پھینک دیا تھا بریرہ کے گرتے آنسو بارش کے بہتے پانی میں بھی بلاج محسوس کر رہا تھا
“آئی لو یو بریرہ۔۔۔میں بھی انسیکیور ہوجاتا ہوں پر اسکا یہ مطلب نہیں ہمارا رشتہ توڑ دوں گا میں۔۔اور کبھی تمہیں خود سے دور بھی نہیں جانے دوں گا۔۔۔
یہ دیکھو تمہارا نام میرے دل پر لکھوایا ہے میں نے۔۔۔”
بلاج نے اسکی آنکھوں میں درد دیکھ کر اپنا لہجہ نرم کرلیا تھا
بریرہ نے جیسے ہی نظریں اٹھا کر دیکھا تھا بلاج نے اپنی شرٹ کو ایک دم سے کھینچا تھا جس کے بٹن ٹوٹ کر نیچے گر گئے تھے
“بلاج یہ۔۔؟؟ تم پاگل ہوکیا۔۔۔درد ہوا ہوگا۔۔”
بریرہ نے آہستہ سے اسکے دل پر اپنی انگلیاں رکھی تھی جہاں اس نے بریرہ کا نام لکھوایا تھا ابھی بھی زخم تھا اس جگہ پہ۔۔۔
۔
“تمہاری محبت کے آگے کچھ نہیں۔۔۔۔بریرہ بلاج حمدانی۔۔۔”
۔
“یہ پل ہے اپنا تو اس پل کو جی لے،،،شعلوں کی طرح زرا جل کہ جی لے۔۔۔
پل جھپکتے کھو نا جانا،،چھو کے کرلوں یقین۔۔۔ناجانے پل یہ آئے کہاں۔۔۔”
۔
بریرہ نے بلاج کے دل پر اپنے لکھے نام پر جیسے ہی اپنے ہونٹ رکھے تھے بلاج نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی اسکے اس بولڈ موو پہ۔۔۔
“بریرہ ڈونٹ ٹیسٹ مائی پئیشنس وائفی۔۔۔”
بلاج نے اسکے بالوں سے پکڑ کر بریرہ کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا
“ہم لڑتے کیوں ہیں جب ہماری لڑائی نے ایسے ہی ختم ہونا ہوتا ہے بلاج۔۔؟”
بریرہ نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لئیے بہت پیار سے پوچھا تھا
“ہمارے پیار میں اضافہ شاید ہماری لڑائیاں ہی کرتیں ہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
وہ دونوں ہنس دئیے تھے
“مجھے ایسا لگا تمہاری آنکھوں میں آنسو آئے تھے ۔۔”
بریرہ نے سنجیدہ ہوکر پوچھا تھا۔۔۔
“میں اور روؤں گا۔۔؟؟ کبھی بھی نہیں۔۔۔”
“نہیں مجھے لگا تھا ایسا جب میں نے مجھے چھوڑنے کی بات کی بلاج۔۔ایسا لگا جیسے تمہاری آنکھوں سے ایک آنسو کا قطرہ نکلا اور اس بارش کے پانی میں مل گیا۔۔۔”
اسکی نظریں بلاج کی آنکھوں میں تھی جس نے نظریں پھیر لی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔بہت بولتی ہو تم۔۔اور پتا نہیں ایسا کیوں سوچا تم نے میں کبھی نہیں رویا بریرہ۔۔”
“پر بلاج۔۔”
۔
بلاج کے ہونٹوں نے اسے چپ کروا دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ۔۔۔۔وہ لوگ آج کے فنکشن میں ہمیں انوائیٹ کرچکے ہیں مہتاب کے داد جی چاہتے ہیں مہندی کا فنکشن انکے مینشن میں ہو۔۔۔اور۔۔۔میں انکار نہیں کر پائی۔۔۔”
۔
“ہممم۔۔۔۔۔”
بریرہ نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کر لئیے تھے اور ونڈو بند کردی تھی۔۔۔
۔
“بریرہ ایک بار پھر سوچ لو۔۔۔کچھ بتا بھی نہیں رہی ہو۔۔کیا پلاننگ ہے تمہاری۔۔؟”
سونم نے بریرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھا دیا تھا۔۔
۔
” تم جانتی ہو میں کن لوگوں میں سے ہوں۔۔؟؟”
بریرہ نے سونم کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تھا
“بریرہ”
“میں ان لوگوں میں سے ہوں جو واپسی کی تمام کشتیاں جلا چکی ہے۔۔۔
آگے جانے کے لیے پیچھے کے تمام راستے بند کردئیے تھے میں نے سونم۔۔
اس دن کا انتظار جتنا مجھے تھا اتنا تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔
ہم جائیں گے۔۔میرے ہونے والے سسرال میں۔۔۔کل نکاح والے دن جو ہوگا وہ دنیا دیکھے گی۔۔۔”
وہ اٹھ گئی تھی اسکی آنکھوں میں ایک آگ تھی جو سونم دیکھ کر ڈر گئی تھی۔۔
“اور بہرا کا کیا ہوگا ان سب میں بریرہ۔۔؟ وہ دو دن سے گھر نہیں آیا ۔۔اسکی محبت کو بھی جلا دو گی اپنے بدلے میں ایک بار پھر۔۔؟؟”
بریرہ کے چہرے کی ہنسی چلی گئی تھی سونم کی بات پر۔۔۔وہ ہی جانتی تھی وہ کتنے دن سے اگنور کر رہی تھی بہرام شاہ کو۔۔
اور آخر کار وہ چلا گیا تھا یہاں سے۔۔کہاں گیا کسی کو نہیں پتا تھا کچھ بھی۔۔۔
۔
“بہرام کے اور میرے راستے الگ ہیں سونم۔۔تمہیں کیا لگتا ہے میں اسے ڈیزرو کرتی ہوں۔۔
جتنی برباد میں ہوگئی ہوں نا میں کسی کو بھی ڈیزرو نہیں کرتی۔۔
جس دن میرا بدلہ پورا ہوجائے گا اس دن میری روح میرا جسم بھی چھوڑ دے گی۔۔”
“بریرہ۔۔۔”
سونم نے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔اور کچھ ہی لمحوں میں اس نے اپنی آغوش میں لے لیا تھا بریرہ کو۔۔۔وہ رونا شروع ہوگئی تھی پر بریرہ کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے جلدی سے کپڑے پہن لو داد جی انتظار کر رہے نیچے گیسٹ آنا شروع ہوگئے ہیں۔۔۔”
بلاج نے مدیحہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا تھا۔۔
“ڈاکٹر کے ساتھ اپاؤنٹمنٹ تھی تمہاری کیا کہا ۔۔؟؟”
“وہ۔۔ہمم۔۔سب ٹھیک ہے بلاج۔۔”
مدیحہ نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی پر بلاج نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھ
“آئی لووو یو مدیحہ۔۔۔اگر میرے کسی بھی کام سے تمہیں تکلیف ہو تو مجھے معاف کردو گی۔۔؟”
۔
“بےوفا۔۔۔۔۔”
۔
بلاج کو وہی آواز سنائی دی تھی پر اس نے اگنور کردیا تھا آج کے دن سب کچھ۔۔۔
آج وہ ایک مشن پر تھا۔۔اسے پتا تھا اسکا ایک غلط قدم سب کچھ ختم کردے گا اسکی بیوی کا اس پر یقین۔۔اسکی فیملی کا اونر سب کچھ۔۔
پر وہ بریرہ شاہ کو کسی کی ہونے نہیں دے گا یہ اس نے وعدہ کیا تھا خود سے۔۔
“ایسے کیوں کہہ رہے ہو بلاج۔۔؟؟ میں نے ہمیشہ تمہارا ساتھ دیا ہے۔۔ورنہ تمہیں اس لڑکی کو تمہاری رکھین کبھی نا بننے دیتی۔۔۔”
اس رکھیل لفظ سے اسکی گرفت مدیحہ کی ویسٹ پر مظبوط ہوئی تھی۔۔
اس نے آنکھیں بند کر لی تھی مدیحہ نے جیسے ہی اسکے سینے پر سر رکھا تھا۔۔
بلکونی پہ آتی ٹھنڈی ہوا سکون دے رہی تھی اسے پر تب تک جب تک یادوں کے جھڑونکے نے اسکے دن و دماغ پہ دستک نہیں دی تھی۔۔
۔
“تمہیں یہ ریڈ ساری پہننی ہی ہوگی میری چشمش میں بلاج حمدانی خود آج شاپنگ کرنے گیا تھا اور اب بیگم آپ کو اسکو پہن کر میری ڈیٹ بن کر میرے ساتھ ایک پارٹی پہ جانا ہی ہوگا ۔۔”
بلاج نے گفٹ پیک بریرہ کے سامنے رکھ دیا تھا جو بڑی سی گلاسیز پہن کر اپنی اسائنمنٹ مکمل کر رہی تھی۔۔
“سوچنا بھی مت۔۔۔میرے فائنلز ہیں کیسے ہسبنڈ ہیں آپ مسٹر،،میں فیل ہوگئی تو کیا منہ دیکھائیں گے۔۔؟ اور دوسری بات مجھے ساری پہننی نہیں آتی۔۔”
بریرہ نے منہ نیچے کرلیا تھا شرمندگی سے۔۔
” تو یہ بندہ ناچیز کس لیے ہے۔۔؟؟ میں سیکھاتا ہوں نا مجھے بہت تجربہ۔۔۔”
بلاج کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی بریرہ نے کشن لیکر اسے مارنا شروع کردیا تھا جو ہنستے ہوئے روم سے باہر بھاگا تھا۔۔
“تمہیں شرم نہیں آتی نا۔۔؟ بدتمیز۔۔جان لے لوں گی تمہاری۔۔”
“ہاہاہاہاہا ارے۔۔ہاہاہاہا میں تو کسی اور سینس میں کہہ رہا تھا گٹر مائینڈ وہ والے تجربے نہیں۔۔”
“بنو مت ۔۔ار کیا کسی شاپ پر کام کر کے تمہیں تجربے حاصل ہوئے ہیں۔۔؟”
اس نے پاس پڑے انٹیک پیس کو اٹھا کر بلاج کی طرف پھینکا تھا۔۔
“ہاہاہاہا نہیں لگا۔۔۔”
“یہ لگے گا۔۔۔”
اس نے ایک ایک چیز ماری تھی
“ہاہاہا بریرہ۔۔۔اچھا بابا مذاق کر رہا تھا میں تمہیں ساری میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔میری یہ خواہش صرف تمہیں دیکھنے کی ہے ساری زندگی کسی اور کی طلب نہیں رہی بلاج حمدانی کو۔۔۔”
بریرہ کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔
۔
۔
“بلاج۔۔۔کیسی لگ رہی ہوں میں اس ساری میں۔۔تم نے کوئی تعریف نہیں کی۔۔؟؟”
بلاج کی آنکھیں کھل گئی تھی۔۔
“اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ایکسکئیوزمئی۔۔۔”
بلاج اپنے کپڑے لیکر جلدی سے باتھروم میں چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“اب کیا ہوا بلاج۔۔۔کیوں مجھے ایسے اگنور کر کے ہرٹ کر رہے ہو۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بریرہ۔۔۔”
بہرام نے پیچھے سے آواز دی تھی بریرہ کے قدم رک گئے تھے۔۔اس نے گاڑی سے پہلا قدم بھی باہر نکال لیا تھا۔۔۔
بہرام کے چہرے پر وہ رونق نہیں تھی جو پہلے تھی بڑھی ہوئی داڑھی کے بالوں نے اسکے چہرے کو اور ڈیشنگ بنا دیا تھا پر آنکھوں کے نیچے ہلکوں نے بریرہ کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا تھا کہ وہ قصوروار ہے بہرام کی اس حالت کی۔۔۔
۔
“بہرام۔۔۔”
“بریرہ آج میں کہنا چاہتا ہوں۔۔کیا سنو گی آج میری۔۔؟؟”
بریرہ نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔اسکے گلے میں اسکا دوپٹہ جیسے ہی سرکا تھا بہرام نے اسکے سر پر اوڑھا دیا تھا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ تمہیں جی بھر کے دیکھنا چاہتا ہوں پر اجازت نہیں دے رہا میرا دل بریرہ۔۔۔
میں معافی مانگنا چاہتا ہوں میں نے جو اس دن کہا تم سے۔۔۔میں مطلبی نہیں بننا چاہتا بریرہ۔۔
میں تمہیں مجبور نہیں کرنا چاہتا اپنا یا اپنی بیٹی کا کہہ کر۔۔تم جو کرنا چاہتی ہو وہ تم کرو۔۔
میں نہیں روکوں گا تمہیں”
بہرام نے اپنے کوٹ سے کچھ پیپرز نکال کر بریرہ کے سامنے کئیے تھے
۔
“تیری وفا جو تھی سرہانے،،تو آرام ملا مجھے۔۔۔
تیرا دیا تو نے مانگا واپس،،، تو کیا غلط اس میں۔۔۔”
۔
“بہرام۔۔۔یہ پیپرز۔۔۔”
“بلاج نے ان کاغذات پر تم سے سائن لئیے تھے۔۔اور۔۔”
وہ چپ ہوا تھا
“آپ بتا سکتے ہیں مجھے سچ جان کر اب تکلیف نہیں ہوتی۔۔”
“ہمم۔۔۔بلاج نے یہ پراپرٹی اپنی منگیتر کو تحفے میں دے دی تھی جس پر وہ اپنا ڈریم پراجیکٹ بنانا چاہتی تھی اپنا ڈئزائننگ بوتیک ۔۔۔”
“میں سمجھ گئی ہوں آپ یہ کاغذ واپس کردیجئیے گا بلاج حمدانی کو۔۔۔یہ جنگ میری ہے جو میں نے ناسمجھی میں سونپا تھا اس بےوفا کو۔۔۔اب اپنی سمجھ سے واپس بھی لے لوں گی۔۔۔”
اسکے لہجے میں ایک غصہ تھا ایک شدت تھی نفرت
“بریرہ۔۔۔”
اس بار بہرام نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا پیچھے سے۔۔۔۔
“بریرہ شاہ۔۔۔میں یہیں ہوں۔۔رہوں گا پر سامنے نہیں آؤں گا تمہارے۔۔۔اس راستے میں تم جب ٹوٹ کر بکھر جاؤ گی تو میں سمیٹوں گا تمہیں۔۔۔پر میں خود غرض نہیں بنوں گا بریرہ۔۔
انتظار کروں گا تمہارا۔۔۔”
۔
۔
بہرام وہاں سے چلا گیا تھا پر بریرہ کی نگاہوں نے دور تک اسکا تعاقب کیا تھا۔۔۔
“بریرہ۔۔کیا کہا بہرام نے۔۔؟”
“وہ میرا انتظار کرے گا۔۔۔”
“اور تم نے۔۔؟؟”
سونم نے آہستہ سے پوچھا تھا اسے پتا تھا بریرہ نے انکار میں جواب دیا ہوگا۔۔۔
“میں کچھ نہیں کہا میری آنکھوں نے اسے جواب دے دیا تھا سونم۔۔۔”
بریرہ کا لہجہ بہت نرم ہوگیا تھا۔۔۔
“یا اللہ سچ میں بریرہ۔۔۔؟؟ فائننلی تم اپنے بدلے کے بعد آگے بڑھو گی۔۔؟؟”
“اگر زندہ رہی تو سوچوں گی۔۔۔”وہ یہ کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تو نیل سمندر ہے۔۔۔میں ریت کا ساحل ہوں۔۔
آغوش میں لے لے مجھے،، میں دیر سے پیاسی ہوں۔۔۔”
۔
رقص جیسے ہی شروع ہوا تھا ایک شور اٹھایا تھا گھر کے مردوں نے۔۔جو خود بھی ان رقص کرنے والیوں کےساتھ شروع ہوگئے تھے ڈانس کرنا۔۔۔
مہتاب کو بھی کھینچ لیا تھا سب نے سینٹر میں۔۔
“واااووووو۔۔۔۔بیوٹیفل ڈانس۔۔۔”
مدیحہ نے بلاج کے بازو میں بازور ڈالے سیڑھیاں اترنا شروع کردی تھیں۔۔
“دلہن والے آگئے ہیں داد جی۔۔”
داد جی باقی بڑوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے گھر کی بہو کو دروازے تک لینے گئے تھے۔۔
“بلاج پلیز بیہیو کرنا پشمینہ کے پاس بھی مت جانا داد جی نے منع کیا ہے۔۔”
مدیحہ نے جیسے ہی کہا تھا بلاج نے غصے سے دروازے کی طرف دیکھا تھا
بریرہ کی نظریں اس پر تھیں پر آج بریرہ کی نظروں نے اسکی آنکھوں میں دیکھنے سے انکار کردیا تھا۔۔اور مہتاب کی طرف دیکھنا شروع ہوئی تھی جو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا
“واہ وووووو مہتاب پشمینہ بھابھی تو بہت خوبصورت ہیں۔۔۔”
“اور ہوٹ بھی۔۔۔”
“ہاہاہا شٹ اپ گائیز۔۔۔بھابھی ہے تم لوگوں کی۔۔۔۔”
مہتاب نے شرماتے ہوئے پھر سے نظریں اٹھا کر بریرہ کی طرف دیکھا تھا۔۔
“کتناسوچتی تھی اس لمحے کو بلاج کے تم میرا ہاتھ پکڑ کر یہاں لاؤ گے سب کے سامنے مجھے اپناؤ گے۔۔
اپنے خاندان کے سامنے عزت دو گے ہماری شادی کو۔۔۔پر دیکھو بلاج آج سب میری چاہت کے مطابق ہے۔۔۔پر مجھے عزت دینے والے تم نہیں تمہارا بھائی ہے۔۔”
بریرہ جیسے ہی سب کے ساتھ بیٹھ گئی تھی کبھی گھر کی خواتین اسکی نظر اتار رہیں تھیں تو کبھی کوئی چاہت سے اسے گلے سے لگا رہا تھا۔۔اس نے نظر اٹھا کر بلاج کی طرف دیکھا تھا اسکی آنکھیں بھری ہوئی تھی پر اس نے اپنی آنکھوں کو چھلکنے کی اجازت نہیں دی تھی
۔
“یہی تو رازِ الفت ہے۔۔جو ہر آنسو کا رُخ موڑا۔۔۔
بہت خوش ہیں تیرے بارے میں جب سے سوچنا چھوڑا۔۔۔”
۔
۔
“موسٹ ویلکم مس پشمینہ۔۔۔”
بلاج نے ہاتھ میں ایک گلاب کا پھول پکڑا ہوا تھا جو اس نے بریرہ کے سامنے کیا تھا۔۔۔بہت سی نظریں شاکڈ ہوگئی تھیں پر ری ایکٹ کسی نے نہیں کیا تھا۔۔
“مسز مہتاب کہہ دیں بلاج بھائی۔۔۔کیوں مہتاب۔۔؟؟”
ربیل نے طنزیہ کہا تھا جس پر سب ہسن دئیے تھے سوائے بلاج کے۔۔۔
۔
۔
“وہ رپورٹس مل گئی ہیں۔۔؟ بس تم مجھے کل نکاح سے وہ سب ثبوت دے جاؤ ایک منٹ کی دیر ہوئی تو تمہاری زندگی کی گارنٹی میں نہیں دوں گا تمہیں۔۔۔”
۔
بلاج نے فون بند کردیا تھا اور سٹیج کی طرف دیکھا تھا جہاں وہ لڑکی ہنس ہنس کے اسکے رشتے داروں سے باتیں کر رہی تھی۔۔مہتاب نے جس طرح سے اسکا ہاتھ پکڑا ہوا تھا بلاج کو آج سب کچھ برا لگ رہا تھا۔۔
“بریرہ بلاج حمدانی۔۔۔صرف آج کی رات ہے تمہارے پاس۔۔۔کل تم میری ہوگی دیکھ لینا۔۔
مہتاب نفرت کرے گا تم سے۔۔کوئی شادی نہیں ہوگی۔۔۔تمہیں میں کسی کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گا،،،،تم صرف میری ہوگی۔۔۔”
۔
بلاج جیسے ہی وہاں سے گیا تھا پیچھے پلر سے کوئی چھپا ہوا شخص باہر آیا تھا۔۔۔اپنا موبائل فون کان کو لگا کر وہ بھی حمدانی مینشن سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔؟”
“ایک لفظ ادا کرو بریرہ شاہ اور پھر دیکھنا تمہاری آنکھوں کے سامنے جلا کر راکھ کردوں گا یہاں موجود ہر ایک گواہ کو۔۔۔
میرے نکاح میں ہونے کے باوجود تمہاری جرآت کیسے ہوئی یہاں میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ بیٹھنے کی۔۔۔۔؟”
ایک طیش سے بھری آواز نے سب کی نظروں کا رخ دروازے کی جانب کردیا تھا جہاں بلاج حمدانی شدید غصے میں کھڑا تھا
اس کے غصے کی انتہا اس قدر تھی کہ ہال میں موجود لوگ ڈر کے پیچھے ہوگئے تھے
“اور اس راکھ سے سلگنی والی چنگاریاں تمہیں بھی خاک بنا کر بھجیں گی بلاج حمدانی یہ پشمینہ شیخ کا وعدہ ہے۔”
وہ جو لوگ بلاج کے غصے پر خوفزدہ ہورہے تھے بریرہ کی للکار پر حیرانگی اور لطف اندوز ہوکر اسکی طرف دیکھنا شروع ہوگئے تھے۔۔
“پشمینہ شیخ۔۔؟ بریرہ شاہ اب تم اور بیوقوف نہیں بنا سکتی مجھے۔۔”
بلاج نے اس پردے کو ایک دم سے ہٹا دیا تھا جہاں خواتین موجود تھی اور بریرہ کا ہاتھ پکڑ کر سامنے لے آیا تھا
“بلاج بھیا اننف۔۔۔وہ پشمینہ ہے۔۔ہاتھ چھوڑئیے میری منگیتر کا آپ”
مہتاب نے بلاج کے ہاتھ سے بریرہ کا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو اسکی چوڑیاں ٹوٹ کر ہاتھ میں چبھ گئی تھی
“بلاج ہم نے تمہیں سمجھایا بھی تھا وہ پشمینہ ہے۔۔”
داد جی نے بھی وہی بات دہرائی تھی۔۔۔
نا چوڑیاں ٹوٹ کر لگنے میں بریرہ کے منہ سے آہ نکلی تھی
نا مہتاب کے ہاتھ چھڑانے سے بلاج کو فرق پڑ رہا تھا
“یہ میری بیوی ہے داد جی۔۔۔میرے نکاح میں ہے۔۔۔یہ بریرہ شاہ ہے
پوچھیں اس سے۔۔۔”
“پشمینہ یہ کیا کہہ رہے ہیں بھیا۔۔۔؟؟؟”
مہتاب کی آنکھوں میں بے یقینی واضح نظر آرہی تھی بریرہ کو
“تمہارے بھیا کے پاس ثبوت کیا ہے کہ وہ میرے شوہر ہیں۔۔؟؟ کیوں ایک ہی نام سے پکارا جا رہا ہے مجھے مہتاب میں نہیں جانتی۔۔
پر اس انسان کی بیوی اور وہ بھی میں۔۔؟؟ کوئی پاگل ہی ایسا فیصلہ لے سکتا بلاج حمدانی سے شادی کا۔۔۔”
“آپ نے جواب سن لیا بلاج بھائی۔۔۔؟؟”
مہتاب ایک چٹان کی طرح بریرہ کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا
“بلاج بھیا کونسی بریرہ شاہ۔۔؟ بھول گئے آپ نے اس دن کیا کہا تھا۔؟
دشمن کی بیٹی آپ کی رکھیل تو بن سکتی پر بیوی نہیں۔۔”
ربیل کی بات پر بریرہ کی وہ پتھر ہوئی آنکھیں اٹھی تھیں اور بلاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھا تھا اس نے جو نفرت سے اپنے کزن اور اپنی فیملی کو دیکھ رہا تھا
“بکواس بند کرو ربیل۔۔ایک لفظ نہیں ورنہ چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
“بس بلاج بس بہت تماشہ ہوگیا یہ تو اچھا ہوا کے میڈیا والے گھر سے باہر ہیں۔۔۔ مہتاب کی شادی سکون سے ہونے دو۔۔۔”
وہ اپنا غصہ ضبط کئیے بلاج کو بازو سے پکڑ کر اوپر سیڑھیوں تک گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے
“وٹ دا ہیل۔۔۔؟ میں کہہ رہا ہوں وہ میری بیوی ہے۔۔۔ نکاح میں ہے میرے اور آپ کہہ رہے ہیں میں اسکا نکاح پر نکاح ہونے دوں۔۔۔؟
بریرہ۔۔۔۔”
اپنے باپ کا ہاتھ جھٹک کر وہ بریرہ کےسامنے آ کھڑا ہوا تھا
“بریرہ سچ بتاؤ انہیں۔۔۔تم میرے نکاح میں ہو ڈیم اٹ شادی کی تھی ہم نے بھول گئی ہو تم۔۔۔؟ وہ جو وعدے کئیے تھے وہ جو قسمیں کھائی تھی”
“وہ جو قسمیں آپ کو دی تھیں وہ شاید بریرہ شاہ تھی۔۔۔میں نے سنا ہے وہ مر گئی اپنے بچے کے ساتھ۔۔۔؟؟”
بلاج نے اسکے کندھوں سے پکڑا تھا اسے
“بریرہ بس کر جاؤ۔۔بتاؤ سب کو ہوئی ہماری شادی کب اور کہاں ہوا تھا ہمارا نکاح”
“کونسا نکاح ہونے والے جیٹھ جی۔۔۔؟ کونسی شادی۔۔؟ آپ کی کیوں مجھ سے شادی ہو گی بھلا جب کہ میں تو ریسینٹلی نیو یارک آئی ہوں۔۔
میں کیوں آپ جیسے شخص سے شادی کروں گی جو بنا شادی کے یہاں وہاں منہ مارتا ہو۔۔؟ مجھے مہتاب جیسے لائف پارٹنر کی خواہش تھی اب آپ اس میں رکاوٹ بن رہے۔۔۔”
بریرہ نے مہتاب کا ہاتھ پکڑا تھا بلاج کے سامنے۔۔۔
اور اسکی آنکھوں میں ایک درد ابھر آیا تھا جو آج سے پہلے کبھی نہیں تھا۔۔
“بریرہ۔۔۔۔”
بلاج غرایا تھا
“پشمینہ شیخ۔۔۔بلاج حمدانی۔۔۔مہتاب میں نا کہتی تھی تمہارے بھیا کو کوئی پرابلم ہے اس رشتے سے۔۔۔مجھے نہیں پتا تھا اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے یہ اس طرح اپنے بھائی کی ہونے والی بیوی پر نظریں لگاۓ بیٹھے ہیں۔۔۔ میں ان حالات میں شادی نہیں کرسکتی خاص کر ایسے خاندان میں مہتاب۔۔۔ایم سوری پر آج کے اس تماشے نے بہت زیادہ ڈسٹرب کردیا ہے مجھے۔۔۔””
بریرہ اپنے ساتھ اپنے فیملی ممبرز بھی ساتھ لے گئی تھی۔۔۔
اور اپنی باتوں سے ایک زور دار طمانچہ مار گئی تھی ان متکبر خاندان کے مغرور مردوں کی آنا کو۔۔۔
۔
وہ جیسے ہی باہر قدم رکھنے لگی تھی ایک شور شرابہ برپا ہوگیا تھا اندر بلاج حمدانی کو ایسے گھیر لیا تھا سب لوگوں نے اس قدر اسکی بےعزتی کرنے کی کوشش کت رہے تھے سب۔۔۔
“بریرہ۔۔میرا مطلب ہے پشمینہ نکاح پر نکاح لائک سیریسلی۔۔۔؟ تم کتنا بڑا گناہ کرنے جا رہی تھی۔۔۔”
“آپ کو لگتا ہے میں نکاح پر نکاح کرلیتی۔۔۔؟ میں نے ہمیشہ نا فرمانی کی اپنے رب کی ہر وقت گناہ کئیے۔۔۔پر ایسا گناہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی میں۔۔۔”
بریرہ گاڑی کے پاس کھڑی تھی اندر سے چیخ و پکار کی آوازیں باہر تک آرہی تھیں اسے۔۔۔
“پھر جو اندر سب ہوا۔۔۔۔”
“وہ سب ایک ٹریپ تھا ایک ڈرامہ بلاج حمدانی کو اسکے بل سے باہر نکالنے کا۔۔
وہ جس نے ہمارے نکاح کے ہر ثبوت کو مٹا دیا مجھے بیوی نہیں ایک رکھیل کا ٹائٹل تھما دیا
آج وہ بلاج حمدانی ایک زخمی شیر کی طرح باہر نکلا ہے۔۔۔
آپ بدلتے وقت کو دیکھیں زرا۔۔۔کیسے آج وہ چلا رہا ہے یقین دلا رہا ہے سب کو ہمارے نکاح کا۔۔کل میں یہ یقین دلا رہی تھی سونم۔۔۔کل میں ایسے ہی چیخی تھی۔۔۔
آج وہ چیخ رہا ہے۔۔۔
ابھی وہ اور چیخے گا لوگوں کو بتاۓ گا کہ وجیح شاہ کی بیٹی اسکی رکھیل نہیں تھی۔۔۔
آج وہ مجھ سے گواہی مانگ رہا تھا جس سے میں نے گزرے ہوۓ کل میں صفائی دینے کا کہا تھا بابا سائیں کے سامنے۔۔۔”
وہ بات کر رہی تھی کہ بلاج کو اپنی طرف آتے دیکھ وہ رک گئی تھی
“تم نے جھوٹ بولا۔۔۔بیوی ہو تم میری ابھی سب کے سامنے کہو گی تم۔۔
میں کہہ رہا ہو داد جی مہتاب کو بتاؤ سچ۔۔۔”
“کیسا سچ۔۔۔؟ میں نہیں ہوں آپ کی بیوی۔۔ بلاج حمدانی۔۔۔”
“تم نے یہ سارا ڈرامہ اس لیے کیاکہ میں مان جاؤں سب کے سامنے تمہیں اپنی بیوی اب اس ڈرامے کو ختم ہوجانا چاہیے۔۔۔”
“”یہ ڈرامہ میرے خاندان کی موت سے شروع ضرور ہوا تھا ختم تم پر تمہارے خاندان پر ہوگا اور۔
اس نے غصے میں وہ کہہ دیا تھا جو اسے نہیں کہنا چاہیے تھا پر شور شرابے میں بلاج اسکی بات سن نہیں پایا تھا
ایک گولی چلنے کی آواز آئی تھی اور بلاج کی شرٹ خون سے بھر گئی تھی دیکھتے ہی دیکھتے بریرہ ساکن کھڑی تھی بلاج نیچے گرنے کے بجائے بریرہ کے کندھے پر سر رکھ چکا تھا
“تم۔۔۔تم میری بیوی ہو بریرہ۔۔۔بلاج حمدانی کی۔۔۔۔”
اور وہ پیچھے گرگیا تھا۔۔۔
“شٹ شٹ۔۔۔ہم پر اٹیک ہوا ہے مہتاب تم پشمینہ بھابھی کو لیکر جاؤ۔۔داد جی بلاج بھیا کے گولی لگی ہے۔۔۔”
یہ آوازیں اسے سنائی تو دے رہیں تھیں پر بریرہ کی نظریں نیچے گرے بلاج حمدانی پر تھیں۔۔۔۔
۔
۔
“بلاج۔۔۔۔”
بلاج نے جیسے ہی اپنا ہاتھ اٹھایا تھا اسکا ہاتھ خون سے بھرا ہوا تھابریرہ نے جیسے ہی آگے ہاتھ بڑھایا تھا بلاج کا ہاتھ نیچے گرگیا تھا۔۔
میشن کے اندر سے خواتین روتے ہوئے باہر آئی تھی
“داد جی بےہوش ہوگئے ہیں تم لوگ تماشہ کیا دیکھ رہے ہو۔۔جلدی سے بلاج کو ہسپتال لے کے چلو۔۔”
کون چلا رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
“بریرہ۔۔چلو یہاں سے۔۔”
سونم نے بریرہ کو گاڑی کی طرف لےجانے کی کوشش کی تھی
“بلاج بھیا پلیز اٹھ جائیں بھائی پلیز۔۔۔میں پشمینہ سے شادی نہیں کروں گا۔۔آپ بس اٹھ جائیں۔۔”
مہتاب نے بلاج کے گرے ہوئے وجود کو اپنے سینے سے لگالیا تھا وہ رونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“پیچھے ہٹو۔۔۔ہمت رکھو میرا بیٹا بہت بہادر ہے۔۔”
“ربیل جس نے یہ کیا ہے وہ بچنا نہیں چاہیے۔۔”
۔
وہ لوگ بلاج کو اٹھا کر لے گئے تھے پندرہ بیس گاڑیاں بلاج کی گاڑی کے پیچھے تھی۔۔۔جہاں اتنی رونق تھی اتنی شہنائی بج رہی تھی وہاں اب سوگ کا سما تھا۔۔۔جو رشتے دار رہ گئے تھے وہ بھی پیچھے جانا شروع ہوگئے تھے ہسپتال۔۔۔
۔
“بریرہ۔۔۔گھر چلو۔۔۔”
۔
۔
سونم اور ڈینیل اسکے کندھے سے پکڑ کر وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔
۔
“بریرہ۔۔۔سب کینسل ہوگیا۔۔۔سب پلاننگ سب کچھ۔۔ تمہیں ابھی انڈرگراؤنڈ ہوجانا چاہیے۔۔۔”
ڈینیل نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی پر وہ کوئی جواب نہیں دے پا رہی تھی۔۔
“سونم تم بریرہ کے پاس رہنا میں ہسپتال جاتا ہوں۔۔۔”
۔
ڈینیل گھر کے سامنے اتار کر گاڑی کو واپس موڑ چکا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے آپ دعا کیجئیے۔۔۔”
بلاج کی والدی دونوں بہو کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھی روو رہی تھی انکی آواز اتنی ہلکی تھی کہ وہ وہ اپنے بیٹے کے لیے کھل کر روو بھی نہیں سکتی تھی
۔
“زمرد۔۔۔ڈھونڈو اسے جس نے یہ کیا ہے۔۔۔بلاج کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔”
داد جی کی آواز میں اتھی بےبسی تھی۔۔۔
۔
اندر تمام شیشوں کے آگے پردے کردئیے تھے۔۔۔
ڈاکٹر جیسے ہی بلاج کو انجیکٹ کرنے لگے تھے بلاج نے ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
“اتنا ڈرامہ ڈاکٹرز۔۔؟؟ گولی کندھے کو چھو کر گزری تھی۔۔سٹئیچز کردئیے ہیں تو میری فیملی کو بلاؤ،،،ابھی میری جان سے ضروری وہ بات ہے۔۔ان لوگوں کا کیا پتا میری بےہوشی میں نکاح ہی نا کروادیں۔۔”
بلاج اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔اسے ابھی بھی تکلیف ہورہی تھی
“میرا موبائل کہاں ہے۔۔؟؟”
ڈاکٹر نے ڈرتے ہوئے اشارہ کیا تھا دوسری طرف ٹیبل کی۔۔بلاج نے فون اٹھا کر ایک نمبر ملایا تھا۔۔
“یو باسٹرڈ۔۔میں نے ہوئی فائرنگ کا کہا تھا۔۔نشانہ جتنا خراب تھا تیرا گولی میرے آر پار بھی ہوسکتی تھی۔۔”
“ہاہاہاہا تو نے کہا تھا سب کچھ اوریجنل ہونا چاہے۔۔پڑا رہا کچھ دن بستر پر۔۔۔”
دوسری طرف سے فون بند ہوا تھا اسی وقت دروازہ کھل گیا تھا۔۔
“داد جی۔۔”
“بس بلاج ابھی آرام کرو بیٹا۔۔۔”
“نہیں داد جی۔۔۔مہتاب۔۔۔بابا۔۔آپ سب کو یقین کرنا ہوگا وہ لڑکی میری بیوی ہے۔۔
بریرہ شاہ ہے وہ۔۔”
“بھیا۔۔۔”
“بلاج میرا ہاتھ اٹھ جائے گا۔۔۔”
زمرد صاحب اور مہتاب ایک ساتھ بولے تھے۔۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں وہ بدلہ لینے آئی ہے۔۔۔”
“بلاج تم کیسے پشمینہ کو ایسے الزام دے سکتے ہو۔۔؟؟”
ڈینیل جو گھبرا گیا تھا جلدی سے اس نے بول دیا تھا۔۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں وہ بدلہ لینے آئی ہے۔۔وہ پشمینہ نہیں بریرہ۔۔۔”
“بس بلاج۔۔۔بہت بکواس سن لی۔۔”
داد جی اٹھ کر کمرے سے جانے لگے تھے اسی وقت اس کمرے میں ایک شخص آیا تھا۔۔
“بلاج بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔وہ پشمینہ شیخ نہیں بریرہ شاہ ہے۔۔”
“وٹ۔۔۔”
مہتاب ایک دیوار کے ساتھ لگا تھا یہ سن کر۔۔
“وکی میں تجھے جان سے مار دوں گا کیا بکواس کر رہا ہے۔۔”
ڈینیل کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے تھے۔۔وہ شروع سے بریرہ کو کہتا آیا تھا وکی کو سچ بتانے سے روکتا آیا تھا۔۔پر آج وکی نے دھوکہ دے ہی دیا۔۔۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔وہ بریرہ شاہ ہے۔۔۔”
“دیکھا میں نا کہتا تھا داد جی۔۔اب بھی آپ دونوں کی شادی کروائیں گے۔۔؟”
بلاج جو آج یہ سچ سن کر ایک سکون میں آگیا تھا ایک دم سے۔۔
“پر۔۔۔”
وکی کی بات پوری نہیں ہوئی تھی جب ڈینیل نے اسے ایک زور دار مکا مارا تھا۔۔۔
“ڈینیل بھائی آپ بھی سچ نہیں جانت بریرہ کا۔۔۔بریرہ خود نہیں جانتی کہ وہ ہی بریرہ ہے۔۔”
وکی کی اگلی بات سے بلاج کے چہرے کی مسکان چلی گئی تھی۔۔
“کیا مطلب وہ نہیں جانتی۔۔؟”
داد جی اونچی آواز میں پوچھا تھا۔۔
“وہ جس حالت میں ہسپتال لائی گئی تھی۔۔اس پر یہاں حملہ ہوا تھا۔۔اور وہ حملہ بلاج بھائی کے گارڈز نے کیا تھا۔۔۔
کسی طرح سے وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔۔۔
پر۔۔۔”
۔
وکی کہتے کہتے رکا تھا۔۔۔
“پر کیا۔۔۔؟؟”
“میرے گارڈز۔۔؟ میں نے کسی کو بھی حملہ کرنے کا نہیں کہا تھا۔۔”
“بکواس بند کرو بلاج۔۔ایک لفظ نہیں۔۔۔”
داد جی نے طیش میں آکر بلاج کو ڈانٹا تھا۔۔۔
“پر کیا وکی۔۔؟؟”
مہتاب کی بند ہوتی دھڑکن پھر سے ویسے ہی چلنا شروع ہوئی تھی۔۔۔
۔
“ایک آخری حملہ ہوا تھا اس پر۔۔۔بھاگتے بھاگتے جب وہ اپنے گھر کی طرف جانا چاہتی تھی اسی وقت ایک تیز رفتار گاڑی سے اسکا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔۔
مجھے یاد ہے وہ رات جب وہ کسی لاوارث لاش کی طرح ایک روڈ پر پڑی ہوئی تھی۔۔
میں مافیا ورلڈ میں ہوں داد جی۔۔پر اس لڑکی کی اس حالت نے مجھ جیسے ظالم انسان کو دہلا دیا تھا۔۔
ڈاکٹر نے تو جواب دے دیا تھا۔۔۔پر کسی طرح انہوں نے ایڈمٹ کیا۔۔۔
بریرہ پوری طرح سے اپنی یاداشت کھو چکی تھی داد جی۔۔۔”
۔
بلاج کی آنکھیں ایک دم سے بند ہوئی تھی۔۔پر وہ اپنی زرا سی بھی کمزوری کسی کو بھی نہیں دیکھانا چاہتا تھا۔۔۔
مہتاب اپنا سر پکڑ کر ایک صوٖفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔جیسے باقی سب اس خبر کو سن کر حیران ہوئے تھے ویسے ہی وہ بھی ہوا تھا۔۔۔
“بلاج نے ٹھیک کہا وہ پشمینہ نہیں بلاج کی بیوی بریرہ ہے۔۔۔مجھے خوشی ہوئی ہے بلاج تم نے جسے اپنی رکھیل ثابت کیا تھا اسکی فیملی کے سامنے آج اپنی فیملی کے سامنے اسے اپنی بیوی مان لیا ہے۔۔”
وکی نے بلاج کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تھی پر بلاج نے جھٹک دیا تھا اسکا ہاتھ اسکی نظریں داد جی پر تھیں جو گہری چوش میں جا چکے تھے
“بریرہ تمہارے ساتھ کیوں تھی اب تک۔۔؟ کیوں تم نے جھوٹ بولا سب سے۔۔؟”
زمرد صاحب آگے بڑھے تھے۔۔۔
“بریرہ کو میں پہچان گیا تھا۔۔پر اسکی حالت ٹھیک نہیں تھی اور جب مجھے پتا چلا کہ سب کے لیے اس دنیا کے لیے وہ مرگئی ہے تو میں سب کو بتانا چاہتا تھا۔۔پر میں جانتا تھا بلاج جب تک بریرہ کو نہیں مار دے گا وہ چین سے نہیں بیٹھے گا۔۔۔”
“یو باسٹرڈ میں اسے کیوں ماروں گا جسے میں پیا۔۔۔”
بلاج کہتے کہتے چپ ہوگیا تھا اسکے الفاظ دم توڑ گئے تھے جب داد جی نے وکی کو باہر جانے کا کہہ دیا تھا
۔
“میں چلا جاتا ہوں داد جی۔۔۔پر بریرہ کو کچھ نہیں یاد وہ پشمینہ شیخ ہے ۔۔اسے کچھ بھی بتانے یا یاد دلانے سے منع کیا ہے ڈاکٹرز نے۔۔جو جیسے چل رہا ہے اسے چلنے دیں۔۔۔
مہتاب ایک اچھا انسان ہے۔۔آپ بلاج کے ساتھ ڈائیورس کروا کر مہتاب کی شادی بریرہ۔۔میرا مطلب پشمینہ سے کروا سکتے ہیں۔۔”
۔
وکی آنکھوں میں ترس اور ہمدردی ظاہر کروائے وہاں سے چلا گیا تھ۔۔۔
ایک قیامت گرا کر سب پر۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“وکی تو نے تو بریرہ کے یقین کی دھجیاں اڑا دی باسٹرڈ۔۔”
ڈینیل نے پارکنگ میں لے جاکر اسے ایک اور مکا مارا تھا۔۔۔
“ڈینیل میری بات۔۔”
“تونے کیوں سب بتایا اور کونسی کہان گھڑ آیا تو اندر تجھے کس نے کہا تھا۔۔۔”
“میں نے کہا تھا۔۔۔”
پیچھے سے ایک آواز آئی تھی۔۔اور جینز وائٹ شرٹ پر ایک لیتھر کی جیکٹ اور لونگ بوٹ پہنے وہ اندھیرے اسے اس روشنی میں ان دونوں کے سامنے آئی تھی
“بریرہ تم نے۔۔۔”
ڈینیل نے شاکڈ ہوکر پوچھا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا وکی شکل دیکھو زرا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا وکی اور بریرہ کی ہنسی اس بند ایریا میں گونج اٹھی تھی
“بریرہ۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔کہا تھا جب میں چال چلوں گی تو وہاں زخم دوں گی جہاں لگے گی اور درد بھی ہوگا ڈینیل۔۔۔ اب میں بریرہ شاہ کا ہی نہیں پشمینہ شیک کا ذہن لیکر بھی چلتی ہوں۔۔
اندر حمدانی خاندان پر ایک قیامت سی گری ہے۔۔۔بلاج حمدانی نے سوچا کہ وہ میرا سچ سامنے لاکر مجھے ذلیل و رسوا کروا دے گا۔۔؟
جاؤ اور اندر جاکر دیکھو ڈینیل۔۔۔میرا خود کا سچ سامنے آیا بھی تو کیسے۔۔۔
وہ جو مجھے بریرہ شاہ ثابت کرنا چاہتا تھا۔۔۔آج میں ثابت ہوبھی گئی ہوں تو کیسے۔۔؟؟
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا بریرہ ماننا پڑے گا کیا پلاننگ تھی۔۔”
وکی نے بھی قہقہ لگایا تھا۔۔۔ڈینیل کا شاکڈ منہ دیکھ کر۔۔۔
“ویسے تمہاری ایکٹنگ اچھی تھی۔۔پر کچھ زیادہ ہی اوور ایکٹنگ تھی ایڈیٹ۔۔۔”
اس نے ایک زور کا منچ مارا تھا وکی کو۔۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟”
“اب انڈرگراؤنڈ ہوجاؤ وکی۔۔بلاج حمدانی اس بستر سے اٹھ کر تمہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا۔۔جب تک میں نا کہوں واپس مت آنا۔۔۔
تمہارا انعام تمہیں تمہاری ڈیمانڈ سے زیادہ ملے گا۔۔۔”
“اوکے باس۔۔۔ٹیک کئیر۔۔۔”
وکی وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“بریرہ تم کب سے اتنی ماسٹر مائینڈ بن گئی۔۔۔ایم سرپرائزڈ۔۔۔۔”
“ابھی تمہیں اور چونکا دینے والے راز ملیں گے میری طرف سے ڈینیل۔۔۔
ابھی تو شروعات ہے۔۔۔
جس طرح سے میڈیا نے بلاج حمدانی کا کنفیشن آن ائیر کیا ہے۔۔تم دیکھنا کہ یہ لوگ کس طرح آئے گے رشتہ لیکر۔۔۔
پر اس بار مہتاب حمدانی کا نہیں
بلاج حمدانی کا۔۔۔۔ وہ خود آئے گا۔۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔