Be Khudi by Rimsha Hussain NovelR50567 Be Khudi (Last Episode)Part 2
Rate this Novel
Be Khudi (Last Episode)Part 2
Be Khudi by Rimsha Hussain
نکاح مبارک ہو مسز عالمگیر۔عالمگیر شوخ لہجے میں زرنور سے بولا جو اب ایک جگہ بیٹھ کر اکتاگئ تھی۔
کیا خاک مبارکباد میری کمر اکڑگئ ہے تھکاوٹ الگ سے ہورہی ہے۔زرنور کوفت سے بولی عالمگیر مدحم سا مسکرایا۔
مبارکباد دو پھر کھانے کا کہتا ہوں میں کسی کو۔عالمگیر کی بات پہ زرنور نے عالمگیر کو دیکھا جو اُس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔
مبارک ہو آپ کو شادی کی۔زرنور نے جان چھڑانے والے انداز میں بولی
تمہارا یہ آپ کہنا سیدھا دل پہ ٹھاہ کرکے لگا ہے مطلب اتنی عزت۔عالمگیر ڈرامائی انداز میں بولا تو زرنور نے اُس کو گھورا۔
مست نظروں سے اللہ بچائے
آہ کیا کررہی ہو۔عالمگیر جو گانا سٹارٹ کرچکا تھا زرنور نے اُس کے بازوں پہ زور سے چٹکی کاٹی تو وہ تلملا اُٹھا
مجھے یہ تمہارا بے وقت گانا گنگنانا بلکل نہیں پسند۔زرنور ناک چڑھا کر بولی۔
اپنے دولہن ہونے کا احساس کرلیتی یہ تک نہیں سوچا خوبصورت مرد کو تمہاری جھولی میں نوازا گیا ہے پر تم ناشکری۔عالمگیر منہ بنا کر بولا
اففف یہ ایک تو تم اپنے حُسن کے قصیدے ذرہ کم پڑھا کرو۔زرنور چڑ کر بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تم خوش نہیں۔سیف نے نازش کو خاموش بیٹھا دیکھا تو کہا
ایسی بات نہیں میں خوش ہوں۔نازش نے گہری سانس ہوا میں خارج کیے کہا
نازش اِس رشتے کی شروعات میں ہماری باہم رضامندی سے کروں گا جانتا ہوں مجھے قبول کرنا تمہارے لیے مشکل ہے پر میں اتنا بتادوں میں تمہیں کبھی یہ نہیں کہوں گا مجھ سے محبت کرو بس تم سے اِس بات کی توقع کروں گا کے ساری عمر میری محبت کی وفا کرنا۔سیف نے اُمید بھری نظروں سے اُس کی جانب دیکھ کر کہا
میں پوری کوشش کروں گی تمہیں میری طرف سے کوئی شکایت نہ ملے۔نازش نے اُس کو یقین دلانا چاہا۔
شکریہ۔سیف پرسکون ہوتا بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اندھے ہو کیا۔فائزہ جو اپنا لہنگا سنبھالتی اسٹیج کی طرف جارہی تھی سامنے وجود۔سے ٹکرانے کے باعث اُس کو اپنے سامنے تارے ناچتے دیکھائی دینے لگے تبھی غصے سے پھنکاری۔
میں الحمداللہ اندھا نہیں ہوں پر شاید آپ کا تعلق ان میں سے ہے تبھی مصنوعی تارے لگائے ہیں۔ شہریار اُس کی آنکھوں میں لینز دیکھتا طنزیہ بولا کیونکہ وہ اِتنا تو سمجھ چُکا تھا اصلی نہیں
یہ تارے کیا بول رہے ہو لینز کہتے ہیں اِس کو۔فائزہ ناگواری سے بولی
آنکھوں کے لینز ہو یا کھانے کی لیز مجھے بتانے کا مقصد سامنے کالی بلی بن کر راستہ روک لیا ہے میرا ہٹو۔شہریار اُس کو سائیڈ پہ جانے کا اِشارہ دیتا بولا
اوے تہمیز نہیں تم میں۔فائزہ کمر پہ ہاتھ ٹِکاتی بولی
نہیں وہ کیا ہوتی ہے۔شہریار دل جلانے والی مسکراہٹ سجاکر بولا
ہوتی تو پتا بھی ہوتا۔فائزہ مذاق اُڑانے والے لہجے میں بولی
بلکل آپ میں ہوتی تو مجھے بھی بتادیتی کے کیا ہوتی ہے پر آپ میں بھی نہیں اِس لیے جو تیرا حال ہے وہ میرا حال ہے اِس بات پہ تال سے تال مِلا۔شہریار دوبدو جواب دیتا آخر میں اُس کو تپانے کی خاطر گانا گاتا اپنی چوڑی ہتھیلی اُس کے سامنے کی فائزہ غصے سے سرخ ہوتی زوردار تھپڑ اُس کے ہاتھ پہ مارتی چلی گئ
تیکھی مرچی۔شہریار اپنے ہاتھ پہ پھونک مارتا بڑبڑایا
لگتا ہے اِن کی لوٙ اسٹوری بھی ہماری طرح کھٹی میٹھی ہوگی۔عالمگیر اپنا کندھا زرنور کے کندھے سے ٹکراتا بولا جس پہ زرنور ناچاہتے ہوئے بھی مسکرادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا اتنی غصے میں کیوں ہو۔ارسلہ نے فائزہ کا سرخ چہرہ دیکھا تو پوچھا
کجھ نہیں یار بس راستے میں جاہل مل گیا۔فائزہ بے زاری سے جواب دیا۔
ارسو۔شہریار ایک نظر فائزہ پہ ڈالتا ارسلہ سے مخاطب ہوا ہاد جو اپنے کسی دوست کے ساتھ باتوں میں مگن تھا شہریار کی جانب متوجہ ہوا اُس کو شہریار ایک آنکھ نہیں بھارہا تھا وجہ اُس کا بار بار ارسلہ سے فرینک ہونا تھا۔
تم یہاں بھی آگئے۔فائزہ نے جیسے ہی شہریار کو دیکھا تو کہا
جی مجھے لگا آپ میرا انتظار کررہی ہوگی اِس لیے بنا تاخیر کیے حاضری دینے آگیا۔شہریار نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔
یو۔
فائزہ نے کجھ کہنا چاہا پر ارسلہ بیچ میں بولی
تم لوگ کیوں بچوں کی طرح لڑ رہے ہو اور شہری یہ میری دوست ہے فائزہ تو تہمیز سے۔ارسلہ نے آخر میں اُس کو وارن کیا۔
یہ کون ہے ارسلہ میرا مطلب تمہارا کیا لگتا ہے۔ہاد کو مزید برداشت نہیں ہوا پوچھ لیا
میں شہریار ہوں آپ کی زوجہ محترمہ کو ایکلوتا بھائی۔ارسلہ کے بولنے سے پہلے شہریار نے اپنا تعارف کروایا جس پہ ہاد کی آنکھوں میں اُلجھن در آئی اور دل میں سکون۔
ہم نے ایک عورت کا دودہ پیا ہے۔ارسلہ ہاد کی آنکھوں میں اُلجھن دیکھتی بتانے لگی۔







تقریب ختم ہونے لگی تو ہر کوئی اپنے گھروں کو لوٹنے لگا رخصتی کے وقت زرنور نے بے زاری نظروں سے ارسلہ کو دیکھا جو مہتاب خان کے گلے لگی روئے جارہی تھی جب کی اُس نے بہت کوششیں کی پر آنکھ سے ایک آنسو تک نہیں نکلا تھا نازش بھی خاموش تھی بس ایک ارسلہ تھی۔
امی آپ لوگ گھر چلے جائیے گا میں اور ارسلہ بعد میں آجائے گے۔ہاد زرغونہ بیگم کو سائیڈ میں لاتا بولا
بعد میں کیوں ابھی کہاں جارہے ہو تم دونوں۔زرغونہ بیگم نے استفسار کیا
دراصل میں ارسلہ کو سرپرائز دینا چاہتا ہوں۔ہاد بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا تو وہ مسکرادی
ٹھیک ہے پر جلدی آنے کی کوشش کرنا۔زرغونہ بیگم اُس کے گال پہ ہاتھ رکھتی بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری رسموں کے بعد زرنور کو عالمگیر کے کمرے میں بیٹھایا گیا تھا جو گلاب کے پھولوں سے سجایا ہوا تھا پورے کمرے میں پھولوں کی مہک رچ بسی ہوئی تھی۔
افففف اِس جھنجھٹ سے تو پہلے خود کو آزاد کروادوں۔زرنور کمرے کا جائزہ لیتی بڑبڑائی ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی
سب سے پہلے اپنا ڈوپٹہ اُتار کر بیڈ پہ اُچھالا پھر اپنا میک اپ ریمور اُٹھا کر اپنا میک اپ صاف کرنے لگی تبھی عالمگیر کمرے داخل ہوا زرنور کو دیکھ کر اُس نے آہ بھری اُس کو زرنور سے کجھ خاص توقع نہیں تھی کے وہ روایتی بیویوں کی طرح ڈوپٹہ نکالیں اُس کا انتظار کریں گی۔
آگئے تم میری منہ دیکھائی دو۔زرنور نے عالمگیر کو دیکھا تو اپنا لہنگا دونوں ہاتھوں سے پکڑتی بولی
کونسی منہ دیکھائی کاہے کی منہ دیکھائی۔عالمگیر اُس کے چہرے پہ نظر ڈالتا بولا
کیا مطلب کونسی منہ دیکھائی وہی منہ دیکھائی جو شوہر اپنی بیوی کو دیتا ہے شادی کی رات اور یہ میرا حق ہے اِس لیے شرافت سے میری منہ دیکھائی دو۔زرنور لڑاکا انداز میں بولی
تم کونسا میرے انتظار میں بیٹھی تھی سو دفعے سے زیادہ تمہاری یہ شکل میں نے دیکھی ہوئی ہے ہاں اگر تم میرا انتظار کرتی تو میں شاید دیتا پر اب تو تم نے اپنا میک اپ تک ریموو کردیا ہے۔عالمگیر سکون سے اُس کو بے سکون کرگیا۔
تم میرے حق پہ ڈاکا نہیں ڈال سکتے۔زرنور اُس کا گریبان پکڑتی غصے سے بولی۔
اور جو تم میرے حق پہ ڈاکہ ڈال چُکی ہو اُس کا حساب کون دے گا۔عالمگیر اُس کی کمر کے گرد حصار قائم کرتا دوبدو بولا
میں تھک چُکی تھی اور میک اپ اتنا ہیوی تھا مجھے آکورڈ لگ رہا تھا تبھی میں نے کیا۔زرنور معصوم شکل بنائے بولی۔
تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں۔عالمگیر اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیتا بولا تو جوابً وہ مسکرائی
میں نے تمہارے لیے یہ لیا تھا۔عالمگیر سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ایک مخملی کیس نکال کر بولا
کیا ہے اِس میں؟زرنور متجسس ہوئی۔
کھول کر دیکھ لو۔عالمگیر نے کہا تو زرنور نے جھٹ سے اُس کو کھولا تو حیران رہ گئ کیونکہ اُس کے اندر خوبصورت گولڈن کی پازیب تھی
کیسا لگا۔عالمگیر نے بے چینی سے پوچھا
سو بیوٹیفل اِس کی کیا ضرورت تھی بہت ایکسپینسو ہوگی نہ۔زرنور پہلے خوشی سے پھر کجھ پریشان سی بولی
زیادہ نہیں بس دو لاکھ۔عالمگیر نے آرام سے کہا پر زرنور کا منہ کُھل گیا۔
منہ بند کرو ری ایکٹ ایسے کررہی ہو جیسے پہلی بار اتنی مہنگی چیز دیکھی ہو۔عالمگیر کو زرنور کا اتنا حیران ہونا پسند نہیں آیا
ہاں پر وہ میرے ڈیڈ کی کمائی ہوتی ہے نہ۔زرنور نے ہنس کر وضاحت دی۔
تو تمہیں کیا لگا تمہارا شوہر غریب ہے سستی چیز تمہیں منہ دیکھائی میں دے کر ساری عمر تم سے طعنہ سنے گا۔عالمگیر نے مصنوعی غصے سے کہا
اب میرا وہ مطلب بھی نہیں تھا ویسے تمہارا فرسٹ گفٹ پسند آیا۔زرنور صاف گوئی سے بولی جس پہ عالمگیر مسکرادیا۔
جینے لگا ہوں
پہلے سے زیادہ
پہلے سے زیادہ
تم پہ مرنے لگا ہوں






ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔ارسلہ مشکل سے اپنا شرارہ سنبھالتی ہاد کے ہمقدم ہوتی بولی ہاد اُس کو لیکر سی ویو لایا تھا جہاں رات کے وقت سمندر خوبصورت منظر پیش کررہا تھا آسمان پہ تارے چمک رہے تھے خوبصورت ماحول اور پسندیدہ ہمسفر ساتھ میں ہاد کو یاد نہیں آرہا تھا اُس کو کب اِتنا کسی کا ساتھ اچھا لگا تھا
کیونکہ یہ تاروں سے بھرا آسمان سمندر کی خوبصورت لہریں یہ سب میں آپ کے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا تبھی یہاں لیکر آیا۔ہاد نے مسکراکر بتایا۔
منظر تو واقع بہت خوبصورت ہے۔ارسلہ اُس کی بات سے اتفاق کرتی بولی تو ہاد نے نظر بھر اُس کو دیکھا
مجھے آپ اِن سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہیں۔ہاد کی بات پہ ارسلہ کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔
آپ میری طرف مت دیکھے۔ارسلہ اپنا سرجھکاتی بولی
کیوں نہ دیکھو تازہ تازہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے آپ کو دیکھنے آپ سے باتیں کرنا ہر چیز کا حق رکھتا ہوں میں آپ پہ۔ہاد فورن سے بولا
آپ نے یہ ڈریس کیوں پسند کیا کوئی سادہ سا سوٹ پسند کرتے نہ مجھ سے کیری نہیں ہورہا تھا یہ۔ارسلہ بات بدل کر بولی
سادہ تو آپ ہمیشہ رہتی ہیں میں ہمارے اِس خوبصورت موومنٹ کو مزید دلکش بنانا چاہتا تھا اور کیری کی اب فکر نہیں کریں آپ سنبھال لوں گا۔ہاد نے کہتے ہی اُس کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں قید کیا۔
آپ کا ہاتھ خوبصورت ہے۔ہاد اپنے ہاتھ میں اُس کا ہاتھ دیکھ کر بولا
کیونکہ یہ آپ کے ہاتھ میں تبھی لگ رہا۔ارسلہ کے منہ سے بے ساختہ پھسلا تو ہاد کا جاندار قہقہقہ بلند ہوا ارسلہ خجل ہوتی یہاں وہاں دیکھنے لگی۔
ویسے آپ نے کبھی سوچا نہیں ہوگا آپ اِتنی بورنگ اور آپ کا شوہر اتنا رومانٹک ہوگا۔ہاد شریر نظروں سے اُس کو دیکھتا اپنا کندھا اُس کے کندھے سے مس کرتا بولا۔
میں نے اپنے ہمسفر کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا مجھے لگتا تھا مجھ جیسی لنگڑی سے کون شادی کرے گا بی ہمیشہ کہتی تھی میری زندگی میں ایسا کوئی آئے گا جو مجھے مجھ سے زیادہ چاہے پر مجھے لگتا تھا وہ میرا دل بہلانے کی خاطر بول رہی ہے پر آپ نے جب اظہار کیا اُس وقت پہلی بار مجھے اپنا وجود چاہے جانے کے قابل لگا۔ارسلہ سنجیدگی سے بولی تو ہاد بھی سنجیدہ ہوگیا۔
آپ کو یہاں لانے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ہاد کی بات پہ ارسلہ نے چونک کر اُس کو دیکھا
کونسی وجہ۔ارسلہ متحسس ہوئی
ولیمے کی تقریب کے بعد ہم آمریکا جائے گے۔ہاد نے بتایا
گھومنے کے لیے۔ارسلہ نے اندازہ لگایا
گھومنے کے لیے تو ساری زندگی پڑی ہے پر ابھی آپ کی ٹانگ کا علاج کروانے کے لیے جائے گے جس میں تھوڑی لڑکھڑاہٹ ہے یہ سب اِس ایک فریکچر کی وجہ سے ہوگیا اگر آپ کا علاج وقت پہ ہوتا تو نہ انفکشن ہوتا اور نہ آپ کبھی احساس کمتری کا شکار ہوتی۔ہاد کی بات سنتے ہی ارسلہ کی آنکھیں نم ہوئی۔
کیا میں پھر ٹھیک ہوجاؤ گی۔ارسلہ نے ایک اُمید سے ہاد کی جانب دیکھا
بلکل یہ میں تمہارے لیے کررہا ہوں تمہیں یاد ہے جب ہم پہلی بار یہاں آئے تھے تو تم نے کہا تھا تم میرے ساتھ سہی سے چل نہیں سکتی اِس لیے میں نے سوچا تمہاری اس احساس کمتری سے جان چُھڑوانی چاہیے تاکہ تم میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر میرے ساتھ چلو تمہیں کوئی نہ ڈر ہو نہ کسی کا خوف ہو میں تمہیں بااعتماد بنانا چاہتا ہوں تمہیں ہر بار یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کے میں بس تمہارا ہوں۔ہاد اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر آہستہ آہستہ بول رہا تھا اُس کی باتوں کو سن کر ارسلہ کو اپنا اندر سکون اُترتا محسوس ہورہا تھا گال الگ سے خون چھلکانے کی حدتک لال ہوگئے تھے۔
آپ بہت اچھے ہیں۔ارسلہ بس یہی بول پائی ہاد کے لیے اتنا ہی کافی تھا
تمہیں پتا ہے میں پہلے شہریار سے جیلیس ہوا تھا۔ہاد کی بات پہ ارسلہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
مجھے نہیں تھا پتا وہ تمہارا دودھ شریک بھائی ہے تو بس میں کجھ پوزیسیو ہوگیا تمہارے لیے۔ہاد کان کی لو کُھجاتے بولا تو ارسلہ بے اختیار ہنس پڑی۔
آج آپ نے مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے میں نے سوچا تھا اب میں بس لنگڑا کر ہی چلوں گی پر آپ کی باتوں سے مجھے اُمید کی ایک کرن نظر آنے لگی۔ارسلہ اپنا سر اُس کے کندھے پہ ٹِکاتی بولی
میں اِس امید کو یقین میں بدلوں گا۔ہاد اُس کے ماتھے پہ اپنا پہلا لمس چھوڑتا پُریقین لہجے میں بولا
مجھے آپ پہ یقین ہے۔ارسلہ نے صدق دل سے کہا
چلیں۔ہاد نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا کہا
کدھر؟ارسلہ کو سمجھ نہیں آیا۔
ساحل پہ آئے ہیں تو چہل قدمی تو کرنی پڑے گی۔ہاد نے مسکراکر کہا
پر میں اِس حالت میں شرارہ پہنا ہوا ہے میں نے۔ارسلہ نے اپنی پریشانی بتائی ہاد نے غور سے ارسلہ کا جائزہ لیا جو بھاری ڈریس میں ملبوس تھکی ہوئی سی لگ رہی تھی ہاد کجھ سوچ کر مسکرادیا اور بنا ارسلہ کو سمجھنے کا موقع دیا اُس کو بانہوں میں اُٹھالیا ارسلہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ
نیچے اُتاریں یہ آپ کیا کررہے ہیں۔ارسلہ احتجاجاً بولی
یہ بھی سہی ہے ہم ایسے ہی باتیں کریں گے۔ہاد نے مزے سے کہا
نہیں پلیز میں چل لوں گی۔ارسلہ کی سرخ رنگت مزید سرخ ہوئی
نہیں میں اُٹھالوں گا ایسے ہی چلتے ہیں۔ہاد بضد ہوکر چلنے لگا جب کی ارسلہ کا احتجاج رائیگان گیا۔
ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے
تیرے بنا کیا وجود میرا
تجھ سے جُدا کبھی ہوجائے گے
تو خود سے بھی ہوجائے گے جُدا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے خودی ناول لکھنے کا میرا مقصد یہ تھا کے میں جہاں تک میرا ناول پہنچ رہا ہے انہی تک ہی ہے کے بتانا چاہتی تھی کہ کوئی بھی انسان کسی دوسرے انسان سے برتر نہیں ہوتا اُس کو برتر اُس کے اپنے اعمال بنانے ہیں میں یہ سب ٹھیک سے بیان کرپائی یا نہیں پر میں سب کرداروں کے بارے میں بتانا چاہوں گی۔
ارسلہ
جس کو اُس بات کی سزہ مل رہی تھی جس میں اُس کا سٙرے سے کوئی ہاتھ نہیں تھا پر پھر بھی وہ اپنی بہن اور باپ کی نفرت کو برداشت کرتی رہی پر اللہ جو اپنے بندے سے بہت پیار کرتا ہے اُس نے اپنی بندی کی آزمائشوں کو ختم کیا۔
طوبیٰ
جو بڑوں کی لڑائی میں پِس کے رہ گئ تھی اُس کی زندگی میں ایسا وقت آیا کے اُس سے یہ فیصلہ لیا گیا کے باپ یا شوہر میں سے وہ کسی ایک کا انتخاب کریں جو دونوں ہی اُس کے لیے مشکل تھا وہ لمحہ تھا تو اُس کی زندگی کا کٹھن پر اللہ کے فضل سے اُس نے دونوں کو پالیا
زرنور
جس کی زندگی اُس کے باپ سے شروع اور باپ پہ ختم ہوتی تھی مگر پھر اُس کی زندگی میں ایک شخص آیا جس نے اُس کی خوبصورت زندگی کو مزید خوبصورت بنادیا۔
نازش
ایک مغرور لڑکی جس کے لیے اُس کی اپنی زات کے علاوہ کوئی اور معنے نہیں رکھتا تھا پر غرور تو خدا کو پسند نہیں اِس لیے وہ پکڑ میں آگئ پر کجھ لوگ ٹھوکر کھانے کے بعد سبق حاصل کرلیتے ہیں اور کجھ نہیں پر نازش اُن میں سے تھی جو پہلی ہی ٹھوکر میں سنبھل گئ اُس کو اپنے گُناہوں اور غلطیوں کا احساس ہوگیا جس کا انعام اللہ نے اُس کو خوبصورت ہمسفر کے طور پہ دیا
