Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Episode 06)

Be Khudi by Rimsha Hussain

دوسرا دن شروع ہوا تو سب اپنی روٹین میں واپس آگئے ہاد،عالمگیر،محب،انمول اور نازش یہ سب یونی کے گراؤنڈ میں موجود تھے۔

ہاد میں نے تمہیں اسائمنٹ بنانے کا کہا تھا۔محب نے ہاد سے کہا

ہمم بنایا ہے میری بیگ میں ہے۔ہاد نے جواب دیا

ہاد آج ہم لونگ ڈرائیونگ پہ جائے گے بہت ٹائم سے نہیں گئے۔نازش نے ہاد سے کہا

سوری ڈیئر پر ہاد آج بُک ہے۔عالمگیر نے ببل چباکر مزے سے بتایا۔

کیا مطلب آج وہ بُک ہے۔نازش ماتھے پہ بل ڈال کر بولی

ہمارا یعنی میرا مُراد کا اور عالمگیر کا آوٴٹنگ کا پلان ہے۔ہاد نے بتایا۔

اچھا۔نازش نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا

ویسے تمہیں اور کوئی کام نہیں کبھی شاپنگ کبھی لانگ ڈرائیونگ کا سوچتی رہتی ہو۔عالمگیر نے ٹھوری پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا

تمہیں اُس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے اپنے کام سے کام رکھو۔نازش نے آنکھیں دیکھا کر کہا تو جواب میں عالمگیر نے تگڑی گھوری سے نوازا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج میں تمہیں لینے آئی ہوں۔زرنور ارسلہ کے کالج آتی بولی۔

کیوں کیا بات ہے؟ارسلہ نے پوچھا

آج ہم پہلے پارک جائے گے اُس کے بعد کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں۔زرنور نے بتایا

اچھا پر میری دو کلاسس باقی ہیں ابھی۔ارسلہ نے کہا

ایک دن نہیں لوگی تو کیا ہوگیا ویسے بھی تم پڑھائی میں بہت کلیور ہو مینیج کرلوں گی۔زرنور نے اُس کی بات ہوا میں اُڑائی۔

اچھا میں ڈرائیور انکل کو بتادوں پھر چلتے ہیں۔ارسلہ راضی ہوتی بولی تو زرنور نے سراثبات میں ہلایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں یہاں اکثر آتی ہوں پر سوچا آج تمہارے ساتھ آؤں۔وہ اِس وقت اب پارک میں موجود تھے جب زرنور نے ارسلہ سے کہا جس کی نظریں کِھلتے بچوں پہ تھی

ہماری دوستی بھی یہاں ہوئی تھی۔ارسلہ نے مسکراکر کہا

ہاں ایک یہ وجہ بھی ہے جس کے لیے میں یہاں آتی ہوں اور یہ پارک میرا فیورٹ ہے۔زرنور گہری مسکراہٹ سے بولی

ایک بات پوچھو؟ارسلہ نے کہا

پوچھو اجازت کیوں مانگ رہی ہو۔زرنور نے کہا

اُس دن تم جس کے ساتھ ڈانس کررہی تھی کیا تم اُس کو پہچانتی تھی مطلب تم دونوں کے ڈانس اسٹیب کافی میچ تھے اور بہت اچھے سے کررہے تھے۔ارسلہ نے کجھ جھجھک کر پوچھا

زیادہ پہچانتی تو نہیں بس ایسے ہی اتفاقی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور اُس تقریب میں جو ڈانس تھا وہ جانے کیسے میچ تھا میں نے سیکھی تھی پر عالمگیر کا پتا نہیں۔زرنور نے مسکراکر کندھے اُچکائے۔

بہت اچھے لگ رہے تھے تم دونوں ایک ساتھ۔ارسلہ نے سرسری سا کہا

ریسٹورنٹ چلتے ہیں۔زرنور نے اُس کی بات سن کر کہا

اوکے۔ارسلہ کھڑی ہوتی بولی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ عالمگیر ہے نہ۔زرنور نے کجھ دور سائیڈ پہ موجود ٹیبل کی جانب اِشارہ کرتے کہا تو ارسلہ نے گردن موڑ کر دیکھا کیونکہ جہاں زرنور اِشارہ کررہی وہاں اُس کی بیک تھی۔

ہاں ایک مراد ہے دوسرا ہاد نازش آپی کا فرینڈ ہاد تیسرا جس کے ساتھ تم نے ڈانس کیا تھا۔ارسلہ نے واپس اپنا چہرہ زرنور کی طرف کرکے بتایا۔

اُن کے پاس چلتے ہیں۔زرنور آنکھوں میں چمک لیے بولی

ہمارا وہاں کیا کام چپ چاپ یہی بیٹھی رہو۔ارسلہ کو اُس کی بات پسند نہیں آئی۔

کام کیا ایسے باتیں کرے گے میری اُن کے ساتھ جان پہچان ہے کوئی مسئلا نہیں۔زرنور نے مزے سے کہا

نہیں زر پلیز۔ارسلہ نے اُس کو روکنا چاہا

تم آؤ۔زرنور زبردستی اُس کا ہاتھ پکڑتی اُس ٹیبل کے پاس آئی جہاں وہ تینوں مسکراکر آپس میں کوئی بات کررہے تھے۔

ہائے کین وی سِٹ۔زرنور نے مسکراکر کہا وہ تینوں حیرت سے اُس کو دیکھنے لگا جب کی عالمگیر کے چہرے پہ حیرت کے بعد مسکراہٹ آئی تھی۔

شیور۔عالمگیر جھٹ سے بولا تو ہاد نے گھور کر اُس کو دیکھا مگر ہاد کو دیکھ کون رہا تھا عالمگیر کا تو سارا دھیان زرنور پہ تھا جو بلیک شرٹ اور وائٹ پینٹ پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

لٹل گرل کھڑی کیوں ہو بیٹھو۔مراد نے خوشدلی سے ارسلہ سے کہا تو وہ جھجھک کر بیٹھ گئ۔

آپ یہاں؟ہاد نے ارسلہ کو مخاطب کیا

ہم یہاں کھانا کھانے آئے تھے آپ تینوں کو دیکھا تو سوچا آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۔ہاد کو ارسلہ کے بجائے زرنور نے جواب دیا

اچھا سوچا تم نے عالمگیر نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا زرنور کا ایک پل کے لیے دل کیا کہ اُس کی بتیسی توڑ ڈالیں۔

لٹل گرل ایزی رہو اور بتاؤ یہ کیا کھاؤ گی۔مراد نے نروس ہوتی ارسلہ سے کہا

تم جانتے ہو ارسلہ کو۔ہاد نے پوچھا

ہاں بہت اچھے سے۔مراد نے مسکراکر جواب دیا۔

مینیو کارڈ۔ہاد نے کارڈ ارسلہ کی طرف بڑھاکر کہا

شکریہ۔ارسلہ نے کہا

تمہارا پیر کیسا ہے اب؟ہاد نے پوچھا

وہ تو کب کا ٹھیک ہوگیا بس تھوڑی چائے گِری تھی۔ارسلہ نے بتایا

گرم تو زیادہ تھی نہ وہ۔ہاد نے کہا

تھی پر اب پاؤں ٹھیک ہے میرا۔ارسلہ نے کہا

ہممم نائیس۔ہاد نے مسکراکر کہا

پیاری لگ رہی ہو۔سب کی توجہ ناپاکر عالمگیر زرنور کے کان کے پاس جھک کر بولا

اپنی جگہ پہ بیٹھے رہو اور میں جانتی ہوں میں خوبصورت ہوں۔زرنور نے اِتراکر کہا

نائیس اٹیٹیوڈ۔عالمگیر ایمپریس ہوا۔

فائزہ دو دن سے کالج کیوں نہیں آرہی؟ارسلہ نے مُراد سے پوچھا جو موبائل میں بزی تھا

اُس کو فیور تھا کجھ۔مراد نے بتایا

اوو میری طرف سے اُس کا حال پوچھ لیجئے گا۔ارسلہ فکرمندی سے بولی

تم خود کیوں نہیں آجاتی ملنے۔مراد نے حل بتایا ہاد سنجیدہ تاثرات سے اُن دونوں کی جانب دیکھ رہا تھا۔

میں کیسے مجھے نہیں پتا آپ کے گھر کا ایڈریس۔ارسلہ نے معصوم شکل بنائے کہا تو ہاد کے چہرہ پہ مسکراہٹ آگئ جس پہ اُس نے اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا۔

تو لٹل گرل یہ کونسا بڑا مسئلا ہے میں کالج ٹائم تمہیں پِک کروں گا پھر تم میرے ساتھ چلنا۔مراد نے کہا

میں فون پہ اُس کی خیریت معلوم کرلوں گی۔ارسلہ کو ایسے گھر جانا ٹھیک نہیں لگا تو کہا

جیسے تمہاری مرضی۔مراد نے زیادہ اصرار نہیں کیا۔

سی ویو چلے۔عالمگیر نے اچانک سے کہا

ہاں کیوں نہیں موسم بھی کافی خوشگوار ہے۔زرنور اُس کی بات پہ متفق ہوئی۔

سوری میں جوائن نہیں کرپاؤں گا ایک ضروری کام ہے مراد معذرت کرتا بولا

کوئی بات نہیں تم آرام سے اپنا کام پورا کرو جو کرنا ہے۔ہاد نے مسکراکر کہا

دیر ہوجائے گی مجھے گھر جانا ہے۔تھوڑی دیر بعد جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو ارسلہ نے وقت دیکھ کر کہا۔

میں چھوڑ آؤں گی لیکر آئی ہوں تو پریشان کیوں ہوتی ہوں۔زرنور نے نرمی سے کہا

ہاں نہیں تو میں چھوڑ آؤں گا آپ کو نو پروبلم۔ہاد نے اپنی خدمت پیش کی

بس مسئلا کی حل۔زرنور نے زور سے اپنا ہاتھ ٹیبل پہ مار کر کہا

آرام سے کوئی تقریر نہیں کروا رہا تم سے۔عالمگیر نے اُس کا ہاتھ ٹیبل سے ہٹا کر کہا تو زرنور تھوڑی خجل ہوئی۔

میں اور ارسلہ الگ گاڑی میں آئے تھے تو اُس میں ہی جائے گے۔زرنور نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا

منزل ایک ہے تو راستے جدا کیوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔عالمگیر نے شاعرانہ انداز میں زرنور کو دیکھ کر کہا

عالم۔ہاد نے تنیبہ بھری نظروں سے اُس کو گھورا

میرے کہنے کا مطلب تھا اگر ہم ایک جگہ پر جارہے ہیں تو ایک گاڑی میں جاتے ہیں الگ الگ گاڑی میں کیوں۔عالمگیر سنبھل کے بولا

تو میری گاڑی کا کیا ہوگا۔زرنور کو اپنی گاڑی کی فکر لاحق ہوئی۔

وہ آپ اپنے ڈرائیور سے کہہ دے لیں جائے گا۔ہاد نے کہا

اوکے میں اُس کو لوکیشن سمجھادیتی ہوں۔زرنور سر کو جنبش دیتی بولی۔

پھر وہ چاروں پارکنگ کی طرف آئے زرنور بیک سیٹ پہ بیٹھی ارسلہ بیٹھنے والی تھی جب عالمگیر آگے آتا بولا۔

سسٹر اِف یو ڈونٹ مائینڈ اگر آپ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ جائے تو۔

جی۔ارسلہ اتنا کہتی فرنٹ سیٹ پہ آکر ہاد کے ساتھ بیٹھنے لگی۔

کوئی سونگ سننا پسند کرو گی۔عالمگیر نے شوخ لہجے میں زرنور سے پوچھا

نہیں اور میرا موڈ خراب مت کرو۔زرنور نے ہری جھنڈی دیکھائی۔

آرام سے بات بھی کرلیا کرو کبھی۔عالمگیر نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا

تم مجھے ایک بات بتاؤ یہاں کیوں بیٹھے جب ارسلہ بیٹھ رہی تھی تو۔زرنور نے دھیمی آواز میں کہا تاکہ ہاد یا ارسلہ نہ سن پائے۔

کیونکہ مجھے لگا تمہیں میری کمپنی پسند آئے گی۔عالمگیر نے کالر جہاڑ کے کہا

ویری فنی۔زرنور نے نقل اُتار کر کہا

آپ ٹھیک ہیں۔ہاد نے ارسلہ کو بار بار ہاتھ کی انگلیوں کو مڑورتے دیکھا تو پوچھا

ٹھیک ہوں میں۔ارسلہ نے کہا

تو اپنے ہاتھوں پہ ظلم کیوں کررہی ہیں۔

ظلم؟ارسلہ کو سمجھ نہیں آیا

ہاں بار بار ہاتھوں کو مسل رہی ہیں دیکھے کتنے لال ہوگئے ہیں۔ہاد نے اشارے سے کہا تو ارسلہ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے الگ کیے۔

اصل میں، میں نے کسی کو بتایا نہیں بی کو بھی نہیں اِس لیے پریشانی ہورہی تھی۔ارسلہ نے آہستہ آواز میں کہا

تو آپ فون کرکے بتادیتی۔ہاد نے کہا

میں نے ڈرائیور انکل کو بتایا تھا انہوں نے سادیہ بی کو شاید بتادیا ہو پر ڈیڈ غصہ نہ ہو اُس کی فکر ہورہی ہے مجھے پہلے اِس طرح باہر نہیں رہی نہ میں۔ارسلہ نے جواب دیا۔

میں نازش کو کال کروں۔ہاد نے سامنے روڈ سے نظر ہٹاکر پوچھا

نہیں نہیں پلیز اُن کو مت بتائیے گا۔ارسلہ نے جھٹ سے انکار کیا

اوکے اوکے رلیکس۔ہاد نے نرمی سے کہا۔

مطلوبہ جگہ پہنچتے ہی زرنور گاڑی سے اُتر کر اپنے فون کی کیمرہ آن کرتی تصویریں بنانے لگی تو عالمگیر بھی اُس کے پیچھے چلاگیا ہاد بہت حیرت سے عالمگیر کی حرکتیں نوٹ کررہا تھا

یہ تو بزی ہیں ہم ریت پہ گھومتے ہیں۔ہاد نے ارسلہ کو دیکھ کر کہا

آپ جائے میں کہی بیٹھ جاتی ہوں۔ارسلہ نے آہستہ آواز میں کہا

میں کوئی جِن تو نہیں جو آپ اتنا کترا رہی ہیں۔ہاد نے بُرا مان کر کہا

ایسی بات نہیں یہاں بہت سارے لوگ ہیں اگر میں آپ کے ساتھ ہوگی تو آپ کا بھی مذاق بنے گا۔ارسلہ نے وضاحت دی۔

مذاق کیوں بنے گا میرا۔ہاد نے اُلجھ کر پوچھا

میں لنگڑا کر چلتی ہوں آپ کے ساتھ چلنے کے قابل نہیں۔ارسلہ نے سنجیدگی سے کہا

آپ ایسا کیوں سوچ رہی ہیں خود کو اتنا لیٹ ڈاوٴن سمجھے گی تو دوسرے بھی آپ کو ایسے سمجھے گے اگر آپ تھوڑا لنگڑا کر چلتی ہے تو اِس میں نہ آپ کا قصور ہے اور نہ کوئی اِتنی بڑی بات۔ہاد کو اُس کی بات پسند نہیں آتی اِس لیے سمجھانے کے غرض سے بولا

میں کیا کہوں ہر کوئی آپ کی طرح تو نہیں سوچتا نہ۔ ارسلہ نے تلخ ہوتے کہا

آپ آئے دیکھتا ہوں کوئی کیسے آپ کو کجھ کہتا ہے۔ ہاد نے اپنی مضبوط ہتھلی ارسلہ کے سامنے پھیلا کر کہا ارسلہ کا دل زور سے دھڑک تھا ہاد کی بات پر ایسا پہلی بار ہوا تھا جب کسی نے اُس کو اِس طرح سے مان دیا تھا۔

ہاتھ۔ ہاد نے ایک بار پھر کہا تو ارسلہ اپنی ہر اچھی بُری سوچو کو جھٹکتی اپنا ہاتھ ہاد کی چوڑی ہتھلی پہ رکھ دیا۔

آپ کی ہوبیز کیا ہیں؟ ہاد نے ایسے ہی اُس کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر سوال کیا

کوکنگ کرنا۔ ارسلہ نے بتایا

اچھا کیا کیا بنالیتی ہیں۔ ہاد نے دلچسپی سے پوچھا

بیکنگ بہت اچھی کرتی ہوں میں اور بریانی شامی کباب چکن رول پاستا چائینز۔ ۔۔۔۔آہستہ آہستہ ارسلہ سب ڈیشز کے بارے میں بتایا

واہ آپ تو کم عمر میں ہی ایکسپرٹ ہیں ورنہ آجکل لڑکیاں کچن کے نام سے بھی دور بھاگتی ہیں۔ ہاد نے ہنس کے کہا

ہوتی ہوگی پر مجھے بہت شوق ہوتا ہے فری ٹائم میں اکثر کجھ نہ کجھ بنادیتی ہوں۔ ارسلہ نے کہا

ہمم پھر مجھے بھی اپنے پکے ہوئے کھانا کا شرف کب دے رہی ہیں پہلے جب آئے تھے تب ہم نے کجھ کھایا نہیں تھا۔ ہاد نے فرمائشی انداز میں کہا

جب آپ کہے جب آپ اپنی پسند کا جو بھی کہیں گے میں بنادوں گی۔ ارسلہ نے خوشدلی سے کہا۔

سوچ لیں ایسا نہ ہو کہ پھر کہے کس سے پنگا پڑگیا۔ ہاد نے شرارت سے کہا

نہیں نہیں۔ارسلہ نے مسکراکر کہا۔

اب دور ہٹو میری ساری تصویریں خراب کرلی ہیں تم نے ایک تو اچھی بنانے دو۔زرنور نے جل کر عالمگیر سے کہا جو بار بار اُس کو تنگ کررہا تھا۔

میری وجہ سے تمہاری تصویریں اچھی آرہی ہیں اور تم نخرے کررہی ہو تم اگر خوبصورت ہو تو میں بھی شہزادہ گلفام سے کم نہیں۔عالمگیر بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا

ایک تو یہ تم اپنے حُسن کے گُن کم گایا کرو۔ زرنور بے زار سی بولی

تم کیوں جل رہی ہو جل کُکڑی۔ عالمگیر نے تنگ کرنا چاہا

جلیں میری جوتی زرنور جھلا کر بولی۔

ٹیک دا پِک

ٹیک دا پِک

عالمگیر سامنے دیکھتا جلدی سے بولا

کیا دورہ پڑگیا ہے تمہیں۔زرنور گھور کر بولی

بے وقوفوں کی ملکہ سامنے دیکھو کتنے پیارے لگ رہے ہیں دونوں اُن کی پِکس نکالوں۔ عالمگیر نے تنگ آکر اُس کا دھیان ہاد اور ارسلہ کی جانب کروایاں جو سامنے ریت پہ چلتے کوئی بات کررہے ہیں۔

واہ ابھی نکالتی ہوں۔ زرنور چہک کر بولتی ڈھیر ساری دونوں کی پُکس بنانے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

امی کیسی ہیں آپ؟ طوبیٰ نے آج نازیہ بیگم کو کال کی حال دریافت کرنے کے لیے جو اُنہوں نے بہت کالز بعد ریسیو کی تھی۔

طوبیٰ کیوں کال کی ہے؟ نازیہ بیگم نے اُس کی بات نظرانداز کرتے کہا

ایک بیٹی اپنی ماں کو کال کیوں کرتی ہے۔ طوبیٰ کو دُکھ ہوا اپنی ماں کی بات سن کر۔

اپنے سُسرال پہ دھیان دو یہاں سب ٹھیک ہے۔ نازیہ بیگم نے کہا

آپ لوگ ولیمے کی تقریب میں کیوں نہیں آئے۔ طوبیٰ نے شکوہ کیا

اپنے باپ کا تمہیں پتا ہے پھر بھی یہ سوال۔نازیہ بیگم گہری سانس لیکر بولی۔

کب سب ٹھیک ہوگا۔طوبیٰ افسردہ لہجے میں بولی ۔

پتا نہیں بس اللہ سے دعا کرو تمہارے والد کو سمجھ آجائے اور اپنا غصہ ختم کردے۔ نازیہ بیگم نے کہا

وہ تو میں کرتی ہوں پر آپ کوشش کریں اُن کو سمجھانے کی۔ طوبیٰ نے کہا

میری کوششوں میں اثر ہوتا تو آج سب ٹھیک ہوتا۔ نازیہ بیگم کی بات پہ طوبیٰ خاموش ہوگئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کجھ مدد کروں آپ کی۔ طوبیٰ نے ملازمہ کے ساتھ مل کر کھانا بناتی زرغونہ بیگم سے کہا

ارے نہیں بیٹا کام تو سارا ہوگیا ہے۔ زرغونہ بیگم مسکراکر بولی

مجھے بھی کوئی کام کرنے کا بول لیا کریں سارا دن فارغ ہوتی۔طوبیٰ نے کہا

کام تو سب ہیلپرز کرتی ہیں میں کبھی کبھار اِن کی مدد کرلیتی ہوں تم ایسا کرو اپنے لیے کوئی سوشل ایکٹویٹی تلاش کرو مصروف رہو گی ارمغان بھی شام تک آفس میں ہوتا ہے۔ زرغونہ بیگم نے مشورہ دیتے ہوئے کہا

جی دیکھتی ہوں کجھ۔ طوبیٰ نے کجھ سوچ کر کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕

ارسلہ گھر آئی تو مہتاب خان نے غصیلی نظروں سے اُس کو دیکھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ تھی اُن کے دیکھنے کے انداز سے ارسلہ کانپ کے رہ گئ تھی شام ہوگئ تھی اُس کو گھر آنے پہ۔

کہاں آوارہ گردیا کرکے آئی ہو؟ نازش نے طنزیہ پوچھا

دوست کے ساتھ تھی۔ارسلہ نے آہستہ سے بتایا

سب پتا ہے تمہارا۔نازش نے گھور کر اُس سے کہا

میں بی کے پاس جارہی ہوں۔ ارسلہ ایک افسوس بھری نظر اُس پہ ڈال کر سادیہ بی کے کمرے میں آئی جو مغرب کی نماز سے فارغ ہوئی تھی

اِتنی دیر کردی۔ سادیہ بی نے پوچھا

زر کے ساتھ تھی پھر جو پہلے آئے تھے نہ آپی کے فرینڈز وہ ریسٹورنٹ میں مل گئے پھر اُن کے ساتھ سی ویو جانے کی وجہ سے وقت کا پتا نہیں لگا۔ ارسلہ چادر اُتار کر اپنے شوز کے تسمے کھولتی تفصیلی جواب دینے لگی۔

ارے واہ پھر تو مزہ آیا ہوگا تمہیں۔سادیہ بی نے مسکراکر پوچھا

ہاں بہت زندگی میں پہلی بار۔ ارسلہ نے مسکراکر جواب دیا۔

ماشااللہ تمہارا چہرہ بھی چمک رہا ہے اب روز زرنور کے ساتھ گھومنے جایا کرو تاکہ مائینڈ بھی فریش ہو اور مسکراؤ بھی۔سادیہ بھی اُس کو خوش دیکھ کر خوش ہوتی بولی

جی پر آپ کو پتا ہے نازش آپی کے فرینڈ ہیں نہ ہاد وہ کافی اچھے ہیں مجھ سے بہت اچھے سے بات کررہے تھے اور کہا وہ جب آئے تو میں اُن کے لیے اچھا سا کھانا پکاو۔ ارسلہ نے جگمگاتے چہرے سے کہا

اچھا پر ارسلہ وہ نازش کے فرینڈز ہیں تم اُن کے ساتھ زیادہ مت رہنا نازش کو بُرا لگے گا پھر وہ تمہارے ہرٹ کریں گی اِس لیے فاصلے رکھنا۔ سادیہ نے کہا تو ارسلہ کا چمکتا چہرہ بُجھ سا گیا۔

ہاد سے بھی نہیں۔ارسلہ نے پوچھا

اُس سے تو بلکل نہیں جلد منگنی ہوگی اُن کی ہاد تو نازش کے لیے خاص ہے۔ سادیہ بی نے نرمی سے کہا تو ارسلہ خاموش رہی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ایک چیز واٹس ایپ پہ سینڈ کی ہے چیک کرو۔ عالمگیر نے ہاد سے کہا

صبح دیکھ لوں گا ابھی میں تھک گیا ہوں سونے والا ہوں۔ ہاد نے جمائی روکتے ہوئے کہا

صبح نہیں ابھی۔ عالمگیر بضد ہوا۔

اوکے۔ ہاد بُرا منہ بناکر کہتا کال کٹ گیا ہاد نے واٹس اپ آن کیا تو اُس کی اور ارسلہ کی بے خبری میں لی تصویریں تھی ہاد تصویریں دیکھتا عالمگیر کو کال کرنے لگا۔

کیا دیکھانا چاہتے ہو تم یہ تصویریں سینڈ کرتے ہوئے۔ہاد نے سنجیدگی سے کہا

دیکھانا کیا ہے میں نے ایسے ہی سینڈ کی بہت اچھی تصویریں آئی ہیں ڈیلیٹ مت کرنا گولڈن گرل سے ارسلہ کا نمبر لیا ہے اُس کو بھی سینڈ کروں گا یادگار رہے گی۔ عالمگیر نے سکون سے بتایا۔

ارسلہ کا نمبر مجھے بھی سینڈ کرو۔ ہاد عالمگیر کی ساری بات پہ بس آخری بات نوٹ کرتے کہا

کرتا ہوں۔ عالمگیر نے کہا تو ہاد نے کال کاٹ کر دوبارہ تصویریں دیکھنے لگا جو پانچ تصویریں تھی ایک میں ہاد ارسلہ سے کوئی بات کررہا تھا دوسری میں ارسلہ کے مسکرانے کی تصویر تھی تو تیسری میں ہاد کے ہاتھ میں ارسلہ کا ہاتھ تھا اُس کو زوم کرکے لیا گیا تھا ہاد کی نظر اُس تصویر پہ ٹِک گئ تھی۔

بیوٹیفل۔ بہت دیر تصویر دیکھنے کے بعد ہاد کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے۔

عالمگیر نے نمبر سینڈ کیا تو ہاد نے اپنی فون پہ محفوظ کرکے سونے کے لیے لیٹ گیا مگر بند آنکھوں کے سامنے بار بار تصویریں آکر اُس کو بے چین کرنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕

گڈ مارننگ ڈیڈ۔ زرنور لاوٴنج میں آتی احسان صاحب کے پیچھے آتے اُن کے گلے میں بازوں ڈال کر بولی۔

گُڈ مارننگ ٹو میری جان ناشتہ کیا۔ احسان صاحب نے اُس کو اپنے سامنے بیٹھا کر محبت سے پوچھا۔

ناشتہ نہیں بس فریش جوس پیوں گی۔ زرنور نے کہا

جیسے تمہارے مرضی مجھے ایک بات بتانی تھی آپ کو۔ احسان صاحب نے کہا

جی بتائے۔

منور حسن کو جانتی ہو نہ۔ احسان صاحب نے پوچھا

جی آپ کی طرح پولیس فورس میں ہیں نہ وہ اور آپ کے فرینڈ بھی ہیں۔ زرنور نے سر کو جنبش دیتے کہا

جی سہی کہا اُس کا ایک بیٹا ہے سیف ایس پی ہے ماشااللہ سے ایک کیس کی وجہ سے وہ اسلام آباد سے یہاں آرہا ہے تو میں نے اُس کو ہوٹل میں جانے کے بجائے یہاں ہمارے ساتھ رہنے کا کہا ہے تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں نہ۔ احسان صاحب نے بتاکر آخر میں پوچھا

آپ کے فرینڈ کا بیٹا ہے وہ اگر یہاں رہے گا تو مجھے کیا اعتراض ہوگا مہمان تو اللہ تعالیٰ کی طور سے رحمت ہوتے ہیں۔ زرنور نے سمجھداری سے کہا

ؑبلکل مہمان اللہ کی طرف سے بطور رحمت ہے پر میں نے سوچا ایک دفعہ تم سے پوچھ لوں۔ احسان صاحب نے مسکراکر کہا

کب آرہا ہے سیف؟ زرنور نے پوچھا

ایک ماہ تک شاید آجائے۔احسان صاحب پرسوچ انداز میں بولے

ابھی تو پھر بہت وقت ہے۔زرنور نے کہا

ہے تو پر میں نے سوچا تمہیں پہلے بتادوں۔ احسان صاحب نے جواب دیا

💕
💕
💕
💕

ارسلہ اپنے کمرے میں ناشتہ کررہی تھی جب اُس کے فون پہ کال آنے لگی اُس نے دیکھا تو کوئی ان نون نمبر تھا اِس لیے اُس نے نظرانداز کیا اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئ۔

کون ہے جو بار بار کال کررہا ہے۔ کال آنا بند نہیں ہوئی تو اُس نے تھک ہار کر اٹینڈ کرنے کا سوچا

اسلام علیکم! کون؟ ارسلہ نے سلام کے بعد پوچھا

ہاد بات کررہا ہوں۔ دوسری طرف سے آواز سن کر اُس کو انجانی سی خوشی محسوس ہوئی۔

اچھا۔ ارسلہ نے اتنا کہا

کال کیوں نہیں اُٹھا رہی تھی؟ ہاد نے پوچھا

میں اٙن نون نمبر سے کا نہیں اُٹھاتی۔ ارسلہ نے وجہ بتائی

تو اب میرا نمبر سیو کرلوں۔ ہاد نے حکیمہ انداز میں کہا

جی کرلوں گی۔ ارسلہ نے جواب دیا

کیا کررہی تھی؟ ہاد نے دوسرا سوال کیا

ناشتہ۔ یک لفظی جواب دیا

گُڈ۔ ہاد نے کہا پھر تھوڑی دیر تک خاموشی چھاگئ جس کو ارسلہ نے توڑا

آپ نے کال کیسے کی مطلب کوئی کام تھا۔

ایسے ہی کال کی کام تو کوئی نہیں تھا۔ ہاد نے کہا

مجھے لگا شاید کوئی کام ہو۔ ارسلہ نے کہا

ٹھیک ہے آئیندہ کام ہوگا تو کال کروں گا۔ ہاد نے سنجیدگی سے کہا

میرا وہ مطلب نہیں تھا آپ کو بُرا لگا تو سوری۔ ارسلہ نے گھبراکر کہا

بُرا نہیں لگا مجھے کل ساری رات نیند نہیں آئی تھی۔ ہاد اُس کی بات پہ مسکراکر کہا

کیوں؟ ارسلہ نے پوچھا

بار بار ایک انسان کی سوچ ایک عکس میری نظروں کے سامنے آرہا تھا جس وجہ سے میں سو نہ سکا۔ ہاد نے گہری سانس لیکر کہا

سائیکالوجی کے مطابق جس آخری انسان کے بارے میں آپ سوچتے ہیں یا تو وہ آپ کی خوشی کی وجہ ہوتا ہے یا دُکھ کی وجہ۔ ارسلہ نے اُس کی بات سن کر کہا

اچھا اور جب کسی کا عکس بار بار آئے جس کا نہیں آنا چاہیے اُس کے بارے میں سائیکالوجی کیا کہتی ہے۔ ہاد نے دلچسپی سے سوال کیا۔

وہ تو مجھے نہیں پتا۔ ارسلہ نے لاعلمی ظاہر کی

ٹھیک ہے میں اب کال رکھتا ہوں کل سے میرے لاسٹ سمسٹر شروع ہورہے ہیں اُس کی تیاری کرنی ہے۔ ہاد نے مسکراکر کہتے کال کٹ کردی ارسلہ کتنی دیر تک فون کو دیکھتی رہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *