Be Khudi by Rimsha Hussain NovelR50567 Be Khudi (Episode 07)
Rate this Novel
Be Khudi (Episode 07)
Be Khudi by Rimsha Hussain
عالمگیر کی ایک کزن آئی ہوئی تھی جس کی کجھ عرصے بعد شادی تھی وہ اُس کو کجھ شاپنگ کرنے کے بعد ریسٹورنٹ لایا تھا۔
تم میری شادی میں آوٴگے نہ۔ مریم نے عالمگیر سے پوچھا
ہاں ضرور۔عالمگیر خوشدلی سے بولا
تمہارا کیا پتا پڑھائی کے بہانے یہاں جو بیٹھ گئے ہو۔ مریم نے کہا تو عالمگیر ہنس پڑا
نہیں اب ایسا بھی کجھ نہیں میرا لاسٹ ایئر ہے یونی میں سمسٹر بھی شروع ہیں تو اپنے گھر تو آنا پڑے گا نہ۔ عالمگیر نے بتایا
شکر تمہیں اپنا گھر تو یاد آیا۔ مریم نے باقاعدہ ہاتھ اُپر کیے چہرے پہ پھیر کر شکر ادا کیا۔
عالم میری جان تم یہاں اور تم نے کبھی بتایا نہیں کہ تمہاری کوئی بہن بھی ہے۔ عالمگیر جو مریم کی بات پہ مسکراکر رہا تھا اچانک زرنور کو اپنے سامنے اور اپنے لیے جان لفظ سن کر غش کھانے کے در پہ تھا اُس نے عجیب نظروں سے زرنور کو دیکھا جو بڑی میٹھی میٹھی نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔
زرنور ایڈوینچر کے طور پہ یہاں جاب کرنا چاہتی تھی پر عالمگیر کو آج پھر کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھ کر اُس کو جلن ہونے لگی جس سے وہ ناچاہتے ہوئے بھی اُن دونوں کے سر پہ کھڑی ہوکر اپنا غصہ کنٹرول کیے دنیا جہاں کی محبت اپنے لہجے میں سموئے عالمگیر سے مخاطب ہوئی اُس کو اب ہنسی بھی آرہی تھی عالمگیر کا ہونک بنا چہرہ دیکھ کر۔
عالمگیر یہ لڑکی کون ہے؟ مریم نے الُجھ کر عالمگیر سے پوچھا
یہ وہ۔ عالمگیر کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے۔
عالم ڈارلنگ سے کیا پوچھتی ہو میں بتاتی ہوں۔ زرنور بے تکلف ہوکر دوسری ٹیبل سے چیئر اُٹھاکر اُن کے پاس بیٹھ کر بولی۔
میں اور عالم کالج لائیف سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ زرنور نے شرمانے کی اداکاری کرکے بتایا۔
کیااااااا۔ مریم کی چیخ نکل گئ جب کی عالمگیر بس سوچ کہ رہ گیا اُس نے تو بوئے کالج میں دو سال پڑھے تھے بھلا وہاں زرنور کا کیا کام۔ زرنور جو اُن دونوں کے بیچ میں کوئی سین ہوگا یہ سوچ کر آئی تھی مریم کا ری ایکشن دیکھ کر اُس نے خود کو داد دی۔
آپ اتنا حیران کیوں ہورہی ہیں کیا اتنے سارے سالوں میں آپ کے بھائی نے کبھی میرا ذکر نہیں کیا۔ زرنور نے معصومیت سے اُس کو دیکھ کر پوچھا جو آنکھیں پھاڑے عالمگیر کو دیکھ رہی تھی۔
گولڈن گرل یہ کیا بول رہی ہو۔ عالمگیر کا گلا خشک ہوا تھا زرنور کی گوہر افشانی پہ۔
یہ مجھے پیار سے گولڈن گرل بولتے ہیں اب تو آپ کو میری بات پہ یقین آگیا ہوگا۔ زرنور اپنا چہرہ ہاتھوں میں چُھپائے بولی۔
عالمگیر تم سے مجھے یہ اُمید تو نہ تھی وہاں چچی جان تمہاری شادی کروانے میں لگی ہوئی ہیں اور یہاں تم بنا اُن کو بتائے کسی اور کو پسند کیے ہوئے ہو۔مریم نے افسوس سے عالمگیر سے کہا جو بار بار اپنا سر نفی میں ہلا رہا تھا۔
مریم ایسا کجھ نہیں زرنور تم بتا کیوں نہیں مریم کہ کے مذاق کررہی ہو۔ عالمگیر مریم سے کہتا زرنور سے بولا جو اُس کے پہلی بات نام لینے پہ بُرا منہ بناگئ تھی۔
میں جارہی ہو یہاں سے چچی جان کے سوالوں کے جواب تیار رکھنا۔ مریم اپنا بیگ اُٹھاتی بولی
مریم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ایسا کجھ نہیں موم سے کجھ مت کہنا۔عالمگیر سٹپٹاکر بولا
کیوں نہ بتائے ساسوں ماں کو تم نے اتنے سال مجھے ہرے بھرے خواب دیکھائے اب مجھ سے انجان بن رہے ہو۔ زرنور نے معصومیت کی انتہا کردی۔
مریم لِسن
مریم۔
عالمگیر مریم کو روکنے لگا پر اُس کو بنا اپنی بات سنے جاتا دیکھا تو واپس مُڑکر زرنور کے پاس آیا جو بڑے رلیکس انداز میں بیٹھی تھی۔
یہ کیا تھا۔ عالمگیر نے بامشکل اپنے لہجے کو نارمل کیے پوچھا۔
کیا تھا۔ زرنور نے اُلٹا اُس سے سوال داغا۔
زرنور مذاق ایک حدتک کیا جاتا ہے یہ کیا تم میری کزن کے سامنے آکر بولی ہم دونوں کالج لائیف سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں جب کی میں نے بوئے کالج میں ایڈمیشن لیا تھا جو میری بے وقوف کزن کو یاد نہ تھا اور تمہاری بات سچ سمجھ بیٹھی۔ عالمگیر نے سنجیدگی سے کہا
ہربار تم مجھے پریشان کرتے ہو آج مجھے موقع ملا تو میں نے سارے حساب بے باک کیے۔ زرنور نے پرسکون انداز میں کہا
حساب دوسرے طریقے سے بے باک ہوسکتا تھا۔ عالمگیر نے دانت پیس کر کہا
مجھے تو یہی بیسٹ لگا۔ زرنور نے بال جھٹک کر ایک ادا سے کہا
اففف تمہیں میں اب کیا کہوں۔عالمگیر کا دل کیا اپنے بال نوچ لیں وہ جانتا تھا یہ بات جب اُس کی ماں کو پتا لگے گی تو عدالت کھڑی کردے گی اُس کے لیے جہاں بنا اُس کی سنے فیصلہ سنایا جائے گا۔





تمہارا کیا خیال ہے کب لیکر جائے رشتہ تمہارا نازش کے لیے۔ زرغونہ بیگم نے ہاد سے کہا جو ابھی باہر سے آیا تھا۔
موم ابھی میرے دو سمسٹر رہتے ہیں اور فلحال ایک سال تک میں شادی نہیں کرسکتا۔ ہاد نے جواب دیا
منگنی ہوجاتی تو اچھا تھا شادی بعد میں ہوجائے گی مجھے اتنی جلدی نہیں۔زرغونہ بیگم نے کہا
ابھی تو نہیں بعد میں آپ کو بتادوں گا۔ ہاد نے سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے۔ زرغونہ بیگم اُس کی بات سے متفق ہوکر بولی۔
سمسٹر ختم ہوتے ہی آفس سنبھالنا۔ امتیاز صاحب اُن کے ساتھ بیٹھ کر بولے۔
جی ڈیڈ ایک سال بعد انشااللہ۔ ہاد نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا
ہڈحرامی کی حد ہے ویسے۔ امتیاز صاحب نے تاسف سے سر دائیں بائیں ہلایا۔
کیا ڈیڈ کجھ زندگی سے بھی تو مزے لینے چاہیے نہ۔ ہاد نے بُرا مان کر کہا۔ تو امتیاز صاف اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگئے اور ہاد اپنی موبائل میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کہی باہر چلیں؟ ارمغان نے طوبیٰ سے پوچھا
ڈیڈ کے پاس لیں چلیں اُن سے بات کرنی ہے اُن کی ناراضگی ختم کرنی ہے۔ طوبیٰ نے جلدی سے کہا۔
میں باہر گھومنے کی بات کررہا تھا۔ ارمغان نے سنجیدگی سے کہا
ارمغان ایک ماہ ہونے والا ہے میں اپنے گھر نہیں گئ۔ طوبیٰ نے بے چارگی سے کہا
تمہارا اپنا گھر یہ ہے۔ ارمغان نے یاد کروانا ضروری سمجھا۔
جانتی ہوں پر وہ میرے والدین کا گھر تو ہے نہ جہاں میں نے اپنا بچپن لڑکپن گُزارا ہے۔ طوبیٰ نے کہا
چچا جان کو تمہارا وہاں جانا پسند نہیں آئے گا اِس لیے وہاں جانے کا خیال دماغ سے نکال دو۔ ارمغان نے کہا
میں بیٹی ہوں اُن کی جانتی ہوں وہ ناراض ہیں مجھ سے پر ہوں تو اُن کا خون نہ وہ کیوں مجھے گھر آنے سے روکے گے۔ طوبیٰ نے آہستگی سے کہا
طوبیٰ تم میرا موڈ خراب کرچُکی ہوں میری غلطی ہے جو میں نے تمہیں باہر چلنے کی آفر کی۔ ارمغان بے زارگی سے بولا
گھر پاس ہے میں اکیلی جاسکتی ہوں میری غلطی ہے جو میں نے آپ سے کہا لے جانے کو۔ طوبیٰ نے بھی اُس کے انداز میں کہا تو ارمغان کی پیشانی پہ سلوٹیں اُبھری۔
بہت بولنے لگی ہو تم۔ ارمغان نے اُس کے بازوں دبوچ کر کہا
آپ اِس طرح سختی سے پیش آکر مجھے میرے والدین سے دور نہیں کرسکتے۔ طوبیٰ اپنی تکلیف نظرانداز کرتی مضبوط لہجے میں بولی۔
میں ایسا بلکل نہیں چاہتا غلط بات مت کرو۔ ارمغان نے ناگواری سے کہا
آپ جو بھی چاہتے ہیں مجھے اُس سے کوئی سروکار نہیں آپ بس میرے ڈیڈ کو راضی کریں جو آپ کی وجہ سے مجھ سے بات نہیں کرتے ناراض ہوگئے ہیں۔ طوبیٰ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے
اسٹاپ کرائنگ۔ ارمغان اُس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر نرم ہوا
آپ بتائے مجھ لے جائے گے یا نہیں۔طوبیٰ نے کہا
لیں جاؤں گا فلحال تم مگرمچھ کے آنسو بہانا بند کرو۔ارمغان جان چُھڑانے والے انداز میں بولا
اچھا کب؟طوبیٰ اپنا رونا بھول کر پوچھنے لگی۔
ایک دو دن تک۔ارمغان نے کہا تو طوبیٰ نے مسکراکر سرہلایا اُس کے لیے اتنا کافی تھا کے ارمغان مان گیا ہے۔





نازش میں بزنس میٹنگ کے لیے دبئ جاؤں گا وہاں ایک دو ماہ لگے گے تمہارے سمسٹر ختم ہوگئے تو تم میرے ساتھ چلنا۔مہتاب خان نے نازش سے کہا
وائے ناٹ ڈیڈ آپ کو تو پتا ہے مجھے دبئی جانا کتنا پسند ہے۔نازش مہتاب خان کی بات پہ خوش ہوتی بولی
جانتا ہوں تبھی کہا اِس ویکنڈ پہ نکلے گے تم پیکنگ کرلینا۔مہتاب خان نے مسکراکر کہا تو نازش نے سر کو جنبش دی۔
بی سے کہو میرے لیے کباب فرائے کرے۔ارسلہ نیچے آئی تو نازش نے اُس کو دیکھ کر حکیمہ انداز میں کہا
میں کردیتی ہوں بی کے سر میں درد ہے آرام کررہی ہیں۔ارسلہ نے کہا
کوئی ضرورت نہیں کُک سے کہو وہ کردے گا۔نازش نے ناگواری سے کہا
ٹھیک ہے۔ارسلہ ایک نظر بے نیاز مہتاب خان پہ ڈال کر کیچن کی طرف جانے لگی۔





موم ایسا کجھ نہیں میں نے کوئی لڑکی پسند نہیں کی اگر کروں گا تو آپ کو بتادوں گا اب پلیز میری بات پہ یقین کرلیں مریم کی بات کو تو آپ نے پتھر پہ لکیر سمجھ لی ہے۔عالمگیر ایک ہاتھ میں اپنا سیل فون پکڑے دوسرے ہاتھ سے بالوں کو جکڑے اپنی والدہ کو یقین دلانے کی جدوجہد میں تھا۔
مریم بتارہی تھی بڑی فرینکلی بات کررہی تھی وہ لڑکی ایسے کون بنا کسی رشتے کے بات کرتا ہے تم نے اُس کے ساتھ کمنٹمنٹ کی ہوگی نہ جب میں نے پوچھا تھا تب تو نہیں بتایا۔صالحہ بیگم تیکھے چتون سے پوچھنے لگی۔
موم یار آپ کو اپنی اولاد سے زیادہ اُس مریم پہ یقین ہے جو آدھی بات سنے بنا کجھ جانے آپ کو رپورٹ دینے چلی تھی۔عالمگیر کا دل چاہ رہا تھا اپنا سر دیوار پہ دے مارے۔
تو کیا وہ تمہاری کجھ نہیں لگتی۔صالحہ بیگم نے کجھ نرمی سے پوچھا۔
ج۔۔۔۔جی۔عالمگیر زرنور کا چہرہ یاد کرتے بس اتنا بولا
چلو پھر ٹھیک ہے۔صالحہ بیگم شکر کا سانس ادا کرتی بولی
آپ کو یقین ہوگیا اب میں کال رکھتا ہوں میرے سر میں درد ہوگیا آپ کو اپنی بات کا یقین دلاتے دلاتے۔عالمگیر نے اپنی والدہ کی بات پہ بولا۔
یقین تو نہیں بس تمہاری بات مان لیتی ہوں کل کلاں کو اُس کا کوئی سین نہ ہو۔صالحہ بیگم کی سنگین دھمکی پہ عالمگیر سٹپٹاگیا تھا مگر کجھ کہنے کی جرئت نہیں کی۔






کتنے وقت کا اسٹے ہوگا وہاں تمہارا؟ہاد نے نازش سے پوچھا جو اُس کو اپنے دبئ جانے کا بتارہی تھی۔
فکر نہیں کرو میں جلدی آجاؤں گی اور پھر تم اپنی موم سے کہنا ہماری شادی کی بات کریں ڈیڈ سے۔نازش نے ہاد کا ہاتھ تھام کر کہا
ہاں تب دیکھا جائے گا مجھے اب گھر چلنا چاہیے پڑھنا بھی ہے لاسٹ ایئر ہے ہاد کھڑا ہوتا بولا
کل میں نے دبئ کے لیے فلائے کرنا تھا کتنا اچھا ہوتا اگر آج کا دن ہم ایک ساتھ گُزارتے۔نازش نے مسکراکر کہا
تم نے اچانک اپنے جانے کا بتایا ورنہ گُزرے ویکنڈ پہ ایسا ہوسکتا تھا۔ہاد نے کندھے اُچکاتے کہا
اچھا ٹھیک جاؤ تم۔نازش نے مایوسی سے کہا







جی آپ کون؟زرنور نے باہر ایک لڑکے کو دیکھا تو تعجب سے سوال کیا۔
اسلام علیکم!میں ایس پی سیف حسن ہوں اور آپ غالباً زرنور احسان غفار ہیں۔سیف نے سلام کرنے کے ساتھ اپنا تعارف بھی کروایا۔
غالباً نہیں یقیناً میں زرنور ہوں آپ پلیز تشریف رکھے۔زرنور نے اُس کو صوفے پہ بیٹھنے کا اِشارہ کیا تو وہ جوابً مسکراکر بیٹھ گیا۔
آپ کو تو ایک مہینے بعد آنا تھا نہ۔زرنور نے پوچھا
جی پر کام کی نوعیت ایسی ہوگئ کہ جلد آنا پڑگیا۔سیف نے بتایا
سہی آپ کے بارے میں ڈیڈ اکثر باتیں کرتے رہتے تھے آپ سے مل کر اچھا لگا۔زرنور نے مسکراکر کہا تبھی ڈرائیور سیف کا سامان لیکر اندر آیا
اِس کو گیسٹ روم میں رکھ آئے۔زرنور نے کہا تو وہ سرہلاتا چلاگیا
آپ کیا لیں گے سوری پہلے مجھے خیال نہیں آیا۔زرنور اپنے سر پہ ہاتھ مارتی سیف سے بولی
فلحال تو کجھ نہیں ابھی میں سونا چاہتا ہوں۔سیف نے کہا
ایز یو وِش میں آپ کو آپ کا روم دیکھاتی ہوں تب تک ڈیڈ بھی آجائیں گے۔زرنور کھڑی ہوتی بولی تو سیف بھی اُس کے ہمراہ کمرے کی طرف جانے لگا۔




نازش مہتاب خان کے ساتھ دبئی کے لیے روانہ ہوگئ تھی ہاد اور عالمگیر کے سمسٹر بھی ختم ہوگئے تھے ارسلہ جو پہلے تنہا ہوتی تھی پر اپنے والد اور بہن کا وجود گھر میں موجود پاکر کجھ مطمئن ہوتی تھی پر اُن کے جانے کے بعد وہ اُداس ہوگئ تھی وجہ دونوں میں سے کسی نے بھی اُس سے ملنا گوارہ نہیں کیا تھا ابھی بھی وہ اپنی مانو کے ساتھ لان میں تھی جب ہاد اُس کے پاس آیا مگر وہ اُس کی موجودگی محسوس نہیں کرپائی۔
کس کو اتنے غور سے یاد کیا جارہا ہے۔ہاد نے اُس کا دھیان اپنی طرح کروانا چاہا
آپ یہاں آپ کب آئے۔ارسلہ ہاد کی آواز پہ چونک کر اُس کو دیکھتی بولی
ابھی آیا ہوں آپ کی طبیعت ٹھیک ہے کس کو گہری سوچوں میں سوچا جارہا تھا؟ہاد نے مسکراکر دوبارہ سوال کیا
کسی کو بھی نہیں آپ یہاں آپی تو نہیں گھر پہ۔ارسلہ نے بتایا
جی وہ تو مجھے پتا ہے پر میں آپ سے ملنے آیا ہوں۔ہاد نے بتایا
مجھ سے؟ارسلہ کو یقین نہیں آیا
جی آپ سے آپ کو یاد نہ ہو تو بتادوں آپ نے مجھے اپنے ہاتھ سے بنے کھانے کھلانے ہیں۔ہاد کی بات پہ وہ ہنس پڑی
مجھے یاد ہے آپ چلیں اندر بی کے ساتھ باتیں کریں میں تب تک آپ کے لیے آپ کی پسند کا بنالوں گی کجھ کجھ اندازہ ہے مجھے۔ارسلہ نے خوشدلی سے کہا
میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔ہاد اُس کے ساتھ گھر کے اندر آتا بولا ارسلہ ہال کے دائیں طرف آتی کیچن کی طرف گئ تو ہاد بھی اُس کے پیچھے آیا۔
آپ بور ہوجائے گے اور یہاں گرمی بھی ہے۔ارسلہ نے فکرمندی سے کہا
اِٹس اوکے آپ اپنا کام کریں میں یہی بیٹھا ہوں۔ہاد اسٹول کھینچ کر اُس پہ بیٹھتا بولا ارسلہ نے کیچن میں موجود دو نوں ملازموں کو باہر جانا کا کہا پھر اپنے کام میں لگ گئ ہاد دلچسپی سے اُس کی کاروائی ملاحظہ فرما رہا تھا
ایک بات پوچھوں؟ہاد نے اُس کی طرف دیکھ کر کہا جو گوشت کو پانی میں بھگورہی تھی
جی پوچھے۔ارسلہ مصروف انداز میں اِجازت دیتی بولی۔
آپ کو سنگنگ آتی ہے؟ہاد نے اُس کے چہرے کے ایکسپریشن نوٹ کرتا بولا جو یکدم بدل گئے تھے۔
آتی تو نہیں پر اپنا دل بہلانے کے لیے کبھی کبھار گالیتی ہوں۔ارسلہ خود کو کمپوز کرتی بولی۔
آپ کی آواز بہت خوبصورت ہے اتفاق پہ میں نے سن لی تھی جب پہلی دفع آپ سے ملاقات ہوئی تھی تو۔ہاد نے مسکراکر سچے دل سے اُس کی آواز کی تعریف کی۔
خوشی ہوئی سن کر۔ارسلہ نے بس اتنا کہا
کبھی سننا مجھے اپنا گانا۔ہاد نے ایسی فرمائش کیوں کی یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا پر اُس کو ارسلہ سے بات کرنا اچھا لگ رہا تھا۔
سوری پر میں نے ایسے ہی گایا تھا دوبارہ نہیں گاسکتی۔ارسلہ نے ناچاہتے بھی انکار کیا وہ جانتی تھی اگر اُس نے ایسا کیا تو نازش پہلی فرصت میں اُس کا گٹار توڑ ڈالے گی۔
کبھی میرے لیے بھی گالینا مجھے انتظار رہے گا۔ہاد نے مسکراکر کہا پر ارسلہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔





زرنور آج پارک جانے کے لیے نکلی تھی جب اُس کی گاڑی کے آگے بہت گاڑیوں کی قطار رُک گئ زرنور کا دل بے اختیار دھڑکا اُس نے ونڈو سے باہر دیکھا تو کافی سنسان جگہ تھی زرنور نے بنا دیر کیے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ احسان غفار کے نمبر پہ میسج چھوڑا وہ کال کرنے والی تھی جب اُس کی گاڑی کے چاروں اطراف فائرنگ ہونے لگی زرنور کے ہاتھ سے فون چھوٹ کے نیچے گِرپڑا زرنور ڈر کے نیچے چھپ گئ پر فائرنگ مسلسل ہورہی تھی زرنور کا ڈر سے بُرا حال ہوگیا تھا پانچ منٹ کی مسلسل فائرنگ کے بعد اچانک خاموشی چھاگئ زرنور نے ڈر کے اپنا چہرہ اُپر کیے دیکھنا چاہا تو سب گاڑیاں واپس جانے لگی تھی زرنور وہی ڈر کے سکڑ سمٹ کر بیٹھ گئ اُس کا پورا وجود پسینے سے شرابور ہوگیا تھا۔
زر میری جان میرے بچے تم ٹھیک ہو۔احسان صاحب کو جیسے ہی زرنور کا میسج ملا تھا وہ بنا ایک منٹ کی تاخیر کیے کجھ پولیس آفسرز کے ہمراہ زرنور کی بتائی ہوئی جگہ پہ پہنچ گئے اُن کے ساتھ سیف بھی موجود تھا گاڑی کی اُبتر حالت دیکھ کر احسان صاحب کا دل کانپ اُٹھا تھا اپنے باپ کی آواز پہ زرنور نے فورن سے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا لاک کھول کر وہ جلدی سے اُن کے سینے سے لگ گئ احسان صاحب فکرمند سے اُس کا جائزہ لیں رہے تھے پر سد شکر اُن کہیں چوٹ نظر نہیں آئی۔
ڈ۔۔۔۔۔ڈیڈ۔۔۔۔۔گھ۔۔۔۔گھر چلیں۔زرنور گہرے سانس بھرتی ہوئی بولی
ہاں میرا بچہ۔احسان صاحب اُس کے بال سہلاتے بولے زرنور کسی بچے کی طرح اُن سے لپیٹی ہوئی تھی۔
انکل آپ زرنور کو گھر لیں جائے آرام کریں گی تو رلیکس رہے گی میں پتا کرواتا ہوں یہ کس کی سازش ہے۔سیف نے سنجیدگی سے کہا
میں جاتا ہوں تم سارا معاملہ سنبھال لینا پر آج ہی معلوم ہوجانا چاہیے۔احسان صاحب نے ایک نظر اپنے سینے پہ سر رکھے روتی ہوئی زرنور کو دیکھ کر کہا
آپ بے فکر ہوکر جائے۔سیف نے اُن کو تسلی بخش جواب دیا۔



چلتے ہیں۔ارمغان نے اُس کی تیاری پہ نظر ڈال کر کہا
کیسی لگ رہی ہوں میں؟ارمغان کی نظر میں اپنے لیے پسندیدگی کے تاثرات دیکھ کر طوبیٰ کا دل کیا اپنی تعریف سننے کے لیے تبھی اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔
اچھی لگ رہی ہو۔ارمغان نے مسکراہٹ دباکر کہا طوبیٰ نے ایک خفا نظر ارمغان پہ ڈالی
آپ کو میری تعریف کرنی چاہئے تھی شادی کے بعد میں نے پہلی دفع آپ سے پوچھا اور آپ کا جواب بس یہ کے اچھی لگ رہی ہو۔طوبیٰ نے شکوہ کیا۔
میری نظروں میں اگر اپنے لیے پسندیدگی دیکھ لی تھی تو پوچھا کیوں میری آنکھوں سے زیادہ کیا میری زبان پہ یقین ہے۔ارمغان اُس کو اپنے سامنے کرتا بولا
آپ کی نظریں جو کہے جو تاثر دے پر کبھی کبھی انسان کو منہ سے زحمت کرنی چاہیے کے مادام آپ خوبصورت لگ رہی ہیں آپ سے زیادہ کوئی حسین آج تک میں نے نہیں دیکھا آپ ہر روپ میں خوبصورت لگتی ہے سادگی میں اگر اپنی مثال آپ ہیں تو تیاری میں بھی قیامت ڈھاتی ہیں۔طوبیٰ نے خود ہی سب کہہ سنایا ارمغان بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کیے بیٹھا تھا۔
لو جو تم نے کہہ دیا وہی میں نے کہہ دیا۔ارمغان اُس کا گال سہلاتا بولا
باتیں نہ کریں آپ بس تیار ہوکر نیچے آجائے ہم نے جانا ہے دیر ہورہی ہے۔طوبیٰ ارمغان کا ہاتھ ہٹاتی بولی
افففف ناراض کیوں ہورہی ہو کرتا ہوں تمہاری تعریف۔ارمغان مسکراتا اُس کو منانے لگا پر طوبیٰ بنا اُس کی سنے باہر کو لپکی پیچھے ارمغان اپنے بالوں میں ہاتھ گھماتا رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم!!طوبیٰ نے فیضان صاحب کو سلام کیا
تم دونوں یہاں کیا کررہے ہو۔فیضان صاحب نے ہاتھ میں پکڑی اخبار میز پہ پھینک کر کہا
آرام سے چچا جان کیا ہوگیا ہے آپ کو بیٹی ہے طوبیٰ اپنی شادی کے بعد آئی ہے اُس کا حق ہے یہاں آکر اپنے والدین سے ملنے کا پر آپ اپنی انا کا پرچم بلند کیے ہونے ہیں ورنہ میں غیر نہیں آپ کا سگا بھتیجا ہوں جس سے آپ نے بخوشی اپنی بیٹی کا نکاح کروایا تھا۔ارمغان طوبیٰ کے سامنے آتا ناگوار لہجے میں فیضان صاحب سے کہا جس نخوت سے منہ پُھیر گئے تھے۔
ڈیڈ پلیز۔طوبیٰ کا دل کٹ کہ رہ گیا اپنے باپ کی نفرت دیکھ کر۔
امی۔طوبیٰ نے فیضان صاحب کو کوئی جواب نہ دیتا پاکر اپنی ماں کو مخاطب کیے کہا جو حسرت سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو۔فیضان صاحب گرجدار آواز میں نازیہ بیگم سے بولے جو طوبیٰ کی طرف جانے والی تھی۔
چچا جان ایسا کرنے سے آپ کو کیا حاصل ہوگا آپ اپنی ناراضگی برقرار رکھے پر چچی اور ماریہ سے تو طوبیٰ کو ملنے دے۔ارمغان مٹھیاں بھینچ کے بولا۔
تم مت سمجھاؤ مجھے آج آگئے ہو دوبارہ مت آنا میرا یہ یہاں کا کسی بھی فرد سے تمہارا یا تمہاری بیوی کا کوئی سروکار نہیں۔فیضان صاحب کٹھور لہجے میں بولے
ڈیڈ ایسا تو مت کہے۔طوبیٰ روتے ہوئے تڑپ کے گویا ہوئی۔
تمہارے لیے یہ دروازہ تب کھولے گے جب تم اپنے ہاتھ میں طلاق کے کاغذ لیکر آؤں گی اُس سے پہلے یہاں کا رخ کبھی مت کرنا۔فیضان صاحب کی اِس بات پہ ارمغان کی بس ہوئی تھی تبھی وہ طوبیٰ کا بازوں سختی سے دبوچ کر اپنے ساتھ گھسیٹتا لیں جانے لگا طوبیٰ ساکت سی اپنے باپ کا یہ روپ دیکھ رہی تھی اُس میں اِتنی سکت نہیں تھی کے اپنا بازوں وہ ارمغان سے چھڑواتی۔





ہاد شام کے وقت اپنے گھر آیا تھا ارسلہ کے ساتھ بیٹھ کر اُس کو وقت کا احساس نہیں ہوا تھا ہاد گھر آکر سیدھا اپنے کمرے میں آیا بیڈ پہ بیٹھ کر اُس نے اپنا فون چیک کیا تو نازش کی لاتعداد کالز تھی جن کو دیکھ کر اُس نے زور سے آنکھیں میچ کر کال بیک کی پر دوسری طرح سے نو رسپانس جان کر ہاد نے موبائل سائیڈ پہ کیا اور خود فریش ہونے کے لیے واشروم کی جانب بڑھ گیا۔






عالمگیر موبائل ہاتھ میں لیے زرنور کو کال کرنے کا سوچ رہا تھا پر رات کے نو بج رہے تھے جس سے اُس کو سہی نہیں لگ رہا تھا۔
پہلے تو بارہ بجے کے قریب کال کی تھی آج تو پھر بھی نو بج رہے تھے۔عالمگیر خود کو تسلی دیتا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
ایک بار
دو بار
تین بار
یہ گولڈن گرل کا نمبر کیوں سوئچ آف جارہا ہے۔عالمگیر نے تعجب سے خود سے سوال کیا بہت بار کال کرنے کے بعد جب کوئی جواب موصول نہ ہوا تو وہ منہ بناتا سونے کے لیے لیٹ گیا۔





اب مجھے رونے کی آواز نہ آئے۔ارمغان نے سختی سے سائیڈ پہ لیٹی طوبیٰ سے کہا جو جب سے آئی تھی رونے کا مشغلہ فرما رہی تھی۔
اب کیا میں روؤں بھی نہ۔طوبیٰ نے سوں سوں کرتے کہا
بے حس باپ کی وجہ سے تو نہیں رونا چاہیے۔ارمغان نے فورن سے جواب دیا۔
میرے والد کے بارے میں ایسا نہ بولے۔طوبیٰ اٹھتی بولی۔
جوش ذرہ کم کرو میں نے کیا غلط کہا اگر اُن کو اپنی اولاد کے احساسات کی قدر نہیں تو تم بھی فلحال کجھ نہ کہو جب اُن کو قدر آجائے تو خوشی خوشی رو لینا۔ارمغان نے اپنی طرف سے مشورہ دیا۔
آپ کی وجہ سے ہورہا ہے یہ سب۔طوبیٰ منہ موڑتی ہوئی بولی۔
مجھ پہ بار بار الزام مت لگاؤ میری وجہ سے کجھ نہیں ہوا یہ۔ارمغان نے بے زاریت سے کہا
نہ آپ پہ الزام لگاسکتی ہوں نہ میں رو سکتی ہوں تو بتائے میں کیا کروں۔طوبیٰ نے گھور کر ارمغان کو دیکھ کر کہا
تم یہ بلینکٹ سر پہ لو اور سوجاؤ۔ارمغان نے بلینکٹ اُس کی طرف پھینک کر کہا طوبیٰ کا منہ کُھل گیا جب کی ارمغان دوسری طرف کروٹ لیکر سوچُکا تھا۔





سادیہ بی غور سے ارسلہ کو سوتا ہوا دیکھ رہی تھی اُن کو ارسلہ کی طرح سے فکر لاحق ہوگئ تھی اُن کو ہاد کا اِس طرح سے ارسلہ کے ساتھ فرینک ہونا پسند نہیں آرہا تھا اُن کو پتا تھا نازش کو یہ سب کبھی پسند نہیں ہوگا دوسرا جب خوشی خوشی اُن سے ہاد کی باتیں کرتی تو اُن کی فکر میں مزید اُضافہ ہوجاتا پر وہ خود کو بے بس محسوس کررہی تھی ارسلہ کے اچھے نصیب کی دعا کرتی وہ خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی ناشتہ تیار ہے۔ارسلہ کالج یونی فارم میں ملبوس سادیہ بی سے بولی۔
ہاں بیٹھو میں ٹیبل پہ کھانا لگاتی ہوں۔سادیہ بی نے کہا تو ارسلہ سر کو جنبش دیتی ٹیبل پہ بیٹھ گئ۔
یہ لو۔پانچ منٹ بعد سادیہ بی اُس کے ساتھ بیٹھتی ناشتہ دیتی بولی۔
شکریہ۔ارسلہ نے مسکراکر کہا
کل کیا باتیں ہوئی تمہاری نازش کے ہونے والے شوہر کے ساتھ۔سادیہ بی نے شوہر لفظ پہ زور دیتے کہا وہ نہیں چاہتی تھی ارسلہ اِس کچی عمر میں اپنے دل میں کوئی خواب سجائے جن کی کوئی تکمیل نہیں ہوگی۔
بس ایسے ہی وہ میرے کھانے کی تعریف کررہے تھے اور وہ چاہتے تھے میں اُن کو گانا گاکر سناؤ پر میں انکار کردیا کیونکہ نازش آپی کو اگر پتا چل جاتا تو وہ غصہ ہوجاتی۔ارسلہ نے پہلے پرجوش ہوکر پھر کجھ مایوسی سے بتایا۔
اچھا کیا انکار کرکے ہاد سے تم فاصلہ برقرار کرو نازش کے فرینڈز ہیں تمہارے نہیں آج تم سے باتیں کریں گے پھر نہیں کرے گے جس سے تمہیں تکلیف ہوگی اور میں نہیں چاہوں گی میری بیٹی کسی کے لیے پریشان ہو اِس لیے بہتر یہی کے تم خود اُن سے قطعاً تعلق کرلوں۔سادیہ بی نے نرمی سے اُس کا ہاتھ دباکر کہا ارسلہ کے چہرہ پہ اُن کی بات پہ سایہ لہرایا تھا۔
آپ کی فکر بجا پر ہاد ایسے نہیں ہیں اور وہ کیوں مجھ سے باتیں کرنے بند کرے گے۔ارسلہ نے خود کو تسلی کرواتے ہوئے کہا
کیونکہ وہ نازش کا شوہر ہوگا جس طرح وہ تم سے بات نہیں کرتی ہاد کو بھی منع کرے گی ظاہر ہے پھر ہاد اُس کی سنے گا نہ۔سادیہ بی نے سمجھانے کے غرض سے کہا جس پہ ارسلہ کا دل بوجھ گیا تھا تبھی وہ بنا ناشتہ کیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
میں چلتی ہوئی۔ارسلہ اپنی چادر سر پہ پہنتی بولی
ناشتہ تو کیا ہی نہیں۔سادیہ بی کو ملال ہوا۔
کیفیٹریا سے کرلوں گی۔ارسلہ جواب دیتی باہر کی جانب جانے لگی سادیہ بی نے افسوس سے اُس کی پشت کو دیکھا۔







اُس حادثے کے بعد زرنور نے باہر آنا جانا مکمل طور پہ بند کردیا تھا ایک ڈر سا تھا جو اُس کے اندر پنج مارکر بیٹھا تھا۔
میری بیٹی تو بہادر ہے پھر ایسے کیوں خود کو کمرے تک محدود کرلیا ہے۔احسان صاحب نے زرنور کے پاس بیٹھ کر بولے۔
ڈیڈ وہ لوگ کون تھے مجھے مارنا کیوں چاہتے تھے میری اُن سے کیا دشمنی۔زرنور نے سوالیہ نظروں سے احسان صاحب کو دیکھ کر پوچھا جو اُس کی بات پہ گہری سانس بھر رہے تھے۔
کسی میں اِتنی ہمت نہیں جو تمہیں کجھ کرسکے تمہاری کسی سے دشمنی نہیں پر میرے بہت دشمن ہے اِس لیے میں تمہیں باہر جانے سے منع کرتا تھا اور گارڈز ساتھ رکھنے کا کہتا تھا پر تب تم بہادر بنتی تھی اور اب دیکھو بھیگی بلی بن گئ ہو۔احسان صاحب نے سنجیدگی سے کہا
ڈیڈ ایسا تو نہ کہے اتنے سارے گنز مین اور گاڑیاں تھی میں اکیلی تھی ڈر نہ تو فطری تھا میرا۔زرنور نے منہ بسورتے ہوئے کہا
اچھا اچھا پر اب تم گارڈز کے ساتھ جاؤ گی جہاں بھی جانا ہوا تو۔احسان صاحب نے کہا جس پہ زرنور خاموش ہوئی۔
میں نے آپ لوگوں کو ڈسٹرپ تو نہیں کیا۔سیف تھوڑا سا درواز کھول کر اُن سے پوچھنے لگا
بلکل نہیں آؤ اندر۔احسان صاحب نے مسکراکر اندر آنے کا کہا۔
کیسی ہیں آپ اب دو دن ہوگئے ہیں اب آپ پہلے کی طرح اپنی روٹین پہ آئے اور یہ کیا آپ نے اپنا قیام کمرے تک محدود کرلیا ہے۔سیف نے بے تکلفی سے زرنور سے کہا
آجاؤں گی اپنی روٹین پہ بھی۔زرنور نے مسکراکر کہا
تو آج کہی باہر چلتے ہیں۔سیف نے کہا
آج نہیں پھر کبھی۔زرنور نے آہستہ آواز میں کہا تو سیف نے احسان صاحب کی طرف دیکھا جو پریشان بیٹھے تھے۔





عالمگیر آج پارک آیا تھا جہاں اکثر زرنور آیا کرتی تھی وہ بھی اُس سے ملنے کا سوچ کر آیا تھا پر کافی دیر تک اُس کا انتظار کرنے کے بعد وہ نہ آئی تو اُس نے واپسی کا سوچا پہلے اُس کا نمبر بند آنا اور اب یہاں بھی اُس کی غیرموجودگی جان کر عالمگیر کا دل بے چین ہوا تبھی اُس نے مراد کی طرف جانے کا سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم بیٹھو میں کافی بناتا ہوں۔مُراد نے مسکراکر عالمگیر سے کہا۔
تم کیوں بناؤں گے ملازم یا فائزہ نہیں کیا گھر پہ؟عالمگیر نے بیٹھتے ہی سوال کیا
ملازم تو باہر سامان لینے گیا ہوا ہے اور فائزہ زر کو دیکھنے گئ ہے۔مُراد نے عام لہجے میں بتایا
زر کون؟عالمگیر کے کان کھڑے ہوئے زر کے نام پہ کیونکہ اُس کو پتا تھا زرنور کو سب زر کہتے تھے۔
زرنور احسان جس کے ساتھ تم نے پسوری ڈانس کیا تھا اِتنی جلدی بھول گئے۔مراد نے آنکھ ونک کرتے کہا تو عالمگیر خجل سا ہوگیا تھا۔
اچھا وہ کیا ہوا ہے اُس کو جو دیکھنے گئ ہے۔عالمگیر نے اپنے لہجے کو سرسری رکھنے کی کوشش کرتے پوچھا پر پھر بھی اُس کے لہجے میں بے چینی صاف عیاں تھی۔
اخبار نہیں پڑھتے کیا ڈے آے جی احسان غفار کی بیٹی ہے وہ اُس پہ کجھ دن پہلے جان لیوا حملا ہوا تھا وہ تو صد شکر زر کو کوئی نقصان نہیں ہوا شاید وہ بس اُس کو ڈرا کر انکل احسان کو خبردار کرنا چاہتے تھے یہ بات تو نیوز پیپر میں بھی آئی تھی۔مُراد نے ساری بات اُس کو بتائی عالمگیر ساکت ہوگیا تھا اُس کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں ہوا تھا اُس کو بے اختیار خود پہ غصہ آیا وہ کیسے اِتنا لاپرواہ ہوسکتا تھا جو اُس کے معاملے میں کوئی خبرگیری ہی نہیں رکھی۔
اب کیسی ہے وہ؟عالمگیر نے سنجیدہ سے پوچھا
پہلے سے بہت بہتر اُس کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا بس گاڑی وغیرہ کا نقصان ہوا تھا۔مراد نے بتایا۔
کیا ہم اُن کے گھر جا سکتے ہیں عیادت کے طور پہ میرا تو نہیں پر تمہارا تو وہاں آنا جانا ہوتا ہوگا۔عالمگیر چاہ کر بھی اپنی پریشان چُھپا نہیں پایا۔
ہاں کیوں نہیں۔مُراد نے سر کو جنبش دیتے کہا۔
۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیس منٹ کی مساوات کے بعد وہ دونوں ایک شاندار عمارت کے پاس کھڑے تھے عالمگیر زندگی میں پہلی دفع خود کو کنفیوز محسوس کررہا تھا گیٹ پہ اتنے سارے گارڈز دیکھ کر اُس کو اُلجھ ہونے لگی تھی۔
انکل کی اکلوتی اولاد ہے زر آنٹی کب کا اُن سے علیحدگی اختیار کرلی تھی کیونکہ اُن کو انکل کا پولیس میں ہونا پسند نہیں تھا آئے دن محصول ہوتی دھمکیوں سے وہ تنگ آکر ایک سال کی زر کو اور انکل کو چھوڑ کر چلی گئ تھی۔مراد نے عالمگیر کے تاثرات کا جائزہ لیتے جواب دیا۔
اندر چلیں۔عالمگیر نے بس اتنا کہا
چلو۔مراد نے کہا پھر دونوں گھر کے اندر داخل ہوئے جہاں ہال میں کوئی نہیں تھا ملازمہ نے لاوٴنج میں ہونے کا بتایا تو عالمگیر کو اِشارہ کرتا وہ وہی چلے آئے۔
اسلام علیکم!انکل۔مُراد نے اندر آتے سلام کیا ساتھ میں عالمگیر کو ٹھوکا مارا جو گھور کر سیف کو دیکھ رہا تھا۔
اسلام علیکم!عالمگیر نے بھی ہڑبڑا کر سلام جہاڑا۔
وعلیکم اسلام آؤ بیٹھو۔احسان صاحب اپنی جگہ سے اُٹھتے اُن سے مل کر بولے۔
تم سیف ہو نہ؟مراد نے سیف کو دیکھ کر تصدیق چاہی۔
جی میں ہوں۔سیف نے مسکراکر کہا
آپ کا نام کیا ہے پہلے میں نے آپ کو دیکھا تو پر بات نہ ہوپائی تھی۔احسان صاحب نے عالمگیر سے پوچھا جو نیچے نظریں کی قالین کو دیکھ رہا تھا۔
عالمگیر شیخ نام ہے میرا آبائی گھر اسلام آباد میں ہے جب کی یہاں میں پڑھائی کی وجہ سے قیام پزیر ہوں کیونکہ یہاں میرے فرینڈز تھے۔عالمگیر نے نام کے ساتھ ساتھ ساری تفصیل بتائی مُراد کو ہنسی آئی جس کو چھپانے کی خاطر اُس نے اپنا چہرہ دوسری جانب کردیا۔
بہت اچھے۔احسان صاحب بس اتنا بول پائے۔
زر کہاں ہیں اُس سے ملنا تھا۔مراد نے پوچھا
زرنور کمرے میں ہیں سورہی ہے۔جواب سیف نے دیا تھا۔
اوو اچھا۔مراد سرہلاتا بولا عالمگیر کو اپنا آنا فضول سا لگا۔
