Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Episode 09)

Be Khudi by Rimsha Hussain

میرا بچہ تم کب آئے۔ بی جان اپنے سامنے شہریار کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوتی بولی شہریار اُن کی بیٹی کا بیٹا تھا اور ارسلہ کا دودھ شیریک بھائی تھا کیونکہ ارسلہ کی ماں اور شہریار کی ماں آپس میں منہ بولی بہنیں تھی

آپ تو اِس ارسو کی وجہ سے ہمیں بھول جاتی ہیں تو سوچا میں جاکر آپ کو یاد کرواؤں کے میں بھی ہوں۔شہریار نے شرارت سے ارسلہ کو دیکھ کر کہا مہتاب خان مسکراکر اُن کو دیکھ رہے تھے جب کی نازش بے زاری سے یہ سب دیکھ رہی تھی اُس کو ارسلہ کی خوشی برداشت نہیں ہورہی تھی۔

تمہاری پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟مہتاب خان نے باتوں میں حصہ لیا۔

بہت اچھی۔شہریار نے مسکراکر جواب دیا

آگے کا کیا پلان ہے کجھ سوچا ہے یا نہیں۔مہتاب خان نے دوسرا سوال کیا

ابھی تو پڑھائی پہ فوکس ہے میرا اُس کے بعد انشااللہ جاب کرنے کا سوچا ہے۔شہریار نے آرام سے بتایا۔

تمہارا کمرہ میں سیٹ کرکے آؤں۔ارسلہ کھڑی ہوتی بولی

رکو میں بھی چلتا ہوں۔شہریار بھی اُٹھتا بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارسلہ جانی۔

شہری میں نے کتنی دفع معنیٰ کیا ہے مجھے ایسے ناموں سے مت پُکارا کرو۔شہریار نے ابھی بس منہ کھولا تھا کجھ بولنے کے لیے جب ارسلہ بیچ میں اُس کو ٹوکتی بولی۔

اچھا بابا نہیں کہتا پر ارسو جانوں بات تو سنو۔شہریار تپانے والی مسکراہٹ سجاکر بولا تو ارسلہ کے ہاتھ میں جو اُس کی شرٹ تھی وہ اُس کے منہ پہ ماری۔شہریار شرٹ پکڑتا بیڈ پہ لیٹ کر زور زور سے ہنسنے لگا۔

ارسلہ تاسف سے سرہلاتی اُس کا وارڈروب سیٹ کرنے لگی۔

تم ویسی کے ویسی ہو۔شہریار اُس کو دیکھ کر بولا

میرے حالات بھی ویسے کے ویسے ہیں۔ارسلہ نے سنجیدہ سے کہا

اگنور کرو جو تمہیں اگنور کرتے ہیں۔شہریار نے آرام سے مشورہ دیا

جب اپنے اگنور کرتے ہیں نہ تو چوٹ سیدھا دل پہ لگتی ہے لڑکی ہو یا لڑکا اُس کے لیے یہ بات بہت تکلیف دہ ہے جب اُس کے اپنے قریبی رشتے اُس کو بوجھ سمجھے یا منہوس۔ارسلہ تلخ لہجے میں بولی۔

یار ارسلہ کیوں اُداس ہوتی ہوں میں ہوں بی ہے ہم دونوں تم سے بہت پیار کرتے ہیں پھر کیوں تم انکل اور نازو آپی کا رویہ دل پہ لیتی ہو بچپن سے تو وہ ایسے ہیں تمہارے ساتھ اِس لیے تم نظرانداز کرو یہ اُن کی بدقسمتی ہے مہتاب انکل جو بہت پڑھے لِکھے ایک قابل بزنس مین ہیں اُن کی اِس دقیانوسی سوچ پہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے خالہ کی موت کا زمیدار تمہیں سمجھتے ہیں جب کی زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اُن کی زندگی اتنی تھی اِس لیے وہ تمہیں پیدا کرکے اِس فانی دُنیا سے چلی گئ اگر تم پیدا بھی ہوتی تو یہ اُن کی موت کا وقت مقرر تھا جو ہوکے رہنا تھا اُس میں تمہارا کوئی قصور نہیں پر اب جو انہوں نے تمہارے ساتھ ناانصافیاں کی ہیں نہ اللہ کے بارگاہ میں اُن کو جوابدہ ہونا پڑے گا کے کیوں انہوں نے ایک معصوم بچی سے منہ موڑا کیوں اُنہوں نے اُس کے حقوق پورے کرنے میں کوتاہیاں کی۔ شہریار ارسلہ کے روبرو آتا اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولنے پہ آیا تو بولتا ہی چلاگیا مہتاب خان جو شہریار سے بات کرنے کے لیے آرہے تھے اُس کی گفتگو سن کر واپس پلٹ گئے۔

مجھے اُن سے کوئی شکوہ نہیں بس میں چاہتی ہوں جو وقت بیت گیا سو بیت گیا گُزرا وقت واپس نہیں آسکتا پر جو ہے میں اُس کو خوبصورت بنانا چاہتی ہوں اُن کا پیار سمیٹنا چاہتی ہوں اور رہی بات تمہاری اور بی کی محبت کی تو شہریار میں نے کہی پڑھا تھا انسان اگر اندر سے ٹوٹ جائے تو کسی بھی ماحول سے خوش نہیں ہوتا چاہے آس پاس بہت محبت اور احساس کرنے والے لوگ ہی موجود کیوں نہ ہو میرا بھی یہی حال ہے میں ڈیڈ اور آپی کے رویے سے بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں۔ ارسلہ بوجھے انداز میں بولی

اشفاق احمد کہتے ہیں جس چیز کے لیے تم ترس رہے ہو کوئی دوسرا آپ کی وجہ سے نہ ترسے پھر چاہے وہ رشتے ہوں خوشیاں ہوں یا سکون ارسلہ اِس بات سے پتا ہے کیا سبق ہمیں سیکھنا چاہیے کہ اگر چاہے ہم سے قریبی لوگ پیار نہیں کرتے ہمیں اُن کی محبت کیسے حاصل کرنی ہے یہ سوچنے سے بہتر ہیں جو ہمیں ہم سے زیادہ چاہتے ہیں اُن کی قدر کریں اُن کو بھی پیار کا جواب پیار سے دے انہیں مایوس مت کریں جیسے آپ باقیوں سے ہوئے رہی بات تمہیں محبت سمیٹنی ہے تو میں ہوں نہ تمہارا بھائی جتنا پیار چاہیے مجھ سے لو ناقدروں کو چھوڑو۔ شہریار اُس کو اپنا ساتھ لگاتا بولا تو ارسلہ نے گھور کر اُس کو دیکھا۔

اچھا قاتل نظروں سے مجھ مت تاڑوں اپنے شوہر کو تاڑنا مجھے بس ایک گانا گا کر سنانا۔ شہریار نے فرمائش کرتے کہا

اوکے جب تم کہو۔ارسلہ مسکراکر بولی۔

یہ ہوئی نہ فرمانبردار بہنوں والی بات دل خوش کردیا۔ شہریار شوخ لہجے میں بولا جس پہ ارسلہ نے کان نہیں دھڑے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہ تم مجھے گھور کیوں رہے ہو؟ کافی دیر تک خود پہ عالمگیر کی نظریں محسوس کرتی زرنور تپ کے بولی

تمہیں دیکھے میری آنکھیں اِس میں کیا میری خطا ہے۔ عالمگیر نے جواب دینے کے بجائے گانا گُنگنایا۔

یہ فضول گانوں کے علاوہ تمہیں کجھ اور نہیں سوجھتا کیا۔ زرنور نے بے زاری سے کہا

نہیں کیونکہ تمہیں جب جب دیکھتا ہوں نہ میرے اندر سویا ہوا سنگر جاگ جاتا ہے۔عالمگیر نے دلکش انداز میں کہا۔

سیدھا یہ کیوں نہیں بولتے اندر کا مراثی لات مار کر باہر آتا ہے اور منہ سے میرے بے سُری آواس نکلتی ہیں۔ زرنور نے عالمگیر کو تپانے کے لیے جس پہ عالمگیر سچ مچ تپ گیا۔

تمہارا ٹیسٹ بہت خراب ہے پہلے شک تھا اب یقین ہوگیا ہے۔ عالمگیر جل کے بولا

واٹ ایور۔ زرنور نے اپنا مخصوص جُملا بولا

تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔ عالمگیر غور سے زرنور کو دیکھتا بولا جو بلیک شرٹ کے ساتھ وائٹ پلازوں میں کُھلے ہوئے گولڈن بالوں کے ساتھ نظریں لگ جانے کی حدتک خوبصورت لگ رہی تھی۔

خوبصورت انسان ہمیشہ خوبصورت لگتا ہے۔ زرنور بنا اُس کی باتوں میں آتی بولی

اچھے خاصے رومانٹک موڈ کا بیرا غرق کردیتی ہوں۔ عالمگیر اُس کے جواب پہ بدمزہ ہوتا بولا

فار یوئر کائینڈ انفارمیشین میں تمہاری گرلفرینڈ نہیں اور نہ منگیتر جو تم میرے ساتھ رومانٹک ہونے کی کوشش کررہے ہو۔ زرنور نے ایک نظر اُس پہ ڈال کر کہا

اچھا پہلے تو کسی نے کہا تھا میں نے اُس کو ہرے بھرے خواب دیکھائے تھے اب اپنا بیان بدل بھی دیا۔ عالمگیر مسکراہٹ دبائے بولا تو زرنور گِڑبڑا سی گئ۔

وہ میں نے جسٹ فن کے لیے کیا تھا اِس لیے ڈونٹ بی سیریس۔ زرنور خود کو کمپوز کرتی بولی عالمگیر مسکراتی نظروں سے اُس کو دیکھتے اُس کا ہاتھ تھامنے والا تھا جب زرنور کا سیل فون رِنگ کرنے لگا۔

ہیلو سیف۔ زرنور نے کال ریسیو کرتے جیسے ہی نام لیا عالمگیر کے تاثرات یکدم بدلے تھے۔

اوکے کوئی بات نہیں میں آتی ہوں۔ دوسری طرف جانے کیا کہاں گیا جب زرنور مسکراکر بولی۔

کہاں؟ زرنور اُٹھنے والی تھی جب عالمگیر اُس کی کلائی اپنے شکنجے میں لیتا بولا۔

کیا مطلب کہاں اپنے گھر ایک ضروری کام ہے۔ زرنور اپنے ہاتھ میں موجود عالمگیر کو دیکھتی بولی۔

عالمگیر! پر تم تو یہاں دیر تک بیٹھتی ہو۔

زرنور! بیٹھتی ہوں جب دل چاہتا ہے۔

عالمگیر کجھ پل اُس کا بے داغ شفاف چہرہ دیکھتا رہا پھر جھٹکے سے اُس کی کلائی آزاد کی زرنور عالمگیر کے رویے پہ حیران سی ہوگئ

زرنور کے جانے کے بعد عالمگیر کو بہت لوگوں کی موجودگی کے باوجود بھی پارک خالی خالی سا لگا وہ یہاں بس زرنور کے لیے آتا تھا اب جب وہ یہاں سے چلی گئ تھی عالمگیر کو اپنا آپ یہاں بےکار سا لگا اِس لیے واپسی کا سوچا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

اچھا سوچیں اور اچھا بولیں کیونکہ بدگمانی اور بدزبانی دو ایسے عیب ہیں جو انسان کے ہر کمال کو زوال میں بدل دیتے ہیں۔

تین چیزیں انسان کو باکمال بناتی ہیں

ایک ٹھنڈا دماغ دوسرا میٹھی زبان تیسرا نرم دل۔ سادیہ بی نے جب نازش کو ارسلہ سے بدتمیزی کرتا دیکھا تو ہمیشہ کی طرح سمجھانا چاہا

اوہ بی پلیز یہ کتابی موٹیوشنل باتیں مجھ سے مت کیا کریں یہ لیکچر آپ اپنی چہیتی ارسلہ کو سُنایا کریں کیونکہ بانو قدوسیہ اور اشفاق احمد کو یہ شوق سے پڑھتی ہے میں نہیں اور میری مرضی میں جس سے جو چاہے جیسے چاہوں بات کروں آپ بیچ میں مت ٹوکا کریں آپ کیا چاہتی ہیں یہ ارسلہ۔ نازش نے خاموش کھڑی ارسلہ کی جانب اِشارہ کیا۔

یہ مجھ سے ہاد چھین کر لے جائے اور میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کروں تو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی نیور ایور۔ نازش اپنی بات پھر سے جاری کرتی نخوت سے بولی

جو جس کی قسمت میں ہوتا ہے وہ اُس کو ہی مل کر رہتا ہے کوئی دوسرا انسان آپ کی چیز چُرا تو سکتا ہے پر آپ سے آپ کی قسمت نہیں چُراسکتا اپنے دل سے یہ بدگمانی نکال دو کے ارسلہ ایسا چاہتی ہے کیونکہ ارسلہ کے دل میں ایسا کوئی چور نہیں تمہیں تمہارا ہاد مبارک تمہیں اگر اتنا ڈر ہے تو اُس سے جلدی شادی کی بات کرو تاکہ تمہارے سارے وہم اور خدشات دور ہوجائے۔ سادیہ بی نے سنجیدگی سے کہا جب کی ارسلہ نازش کے الزام پہ تڑپ کے رہ گئ تھی اُس کو اپنا آپ پہلے سے زیادہ بے مول سا محسوس ہونے لگا۔

مجھے کوئی ڈر نہیں آپ نے سوچا بھی کیسے میں اِس سے ڈروں گی جس کو ٹھیک سے چلنا تک نہیں آتا۔ نازش حقارت سے ارسلہ کو دیکھ کر بولی۔

کسی کو کمتر نہیں سمجھتے نازش خدا سے ڈرو اگر اُس نے تمہیں صحتیاب پیدا کیا ہے تو اُس میں تمہارا کوئی کمال نہیں اللہ کا شکر ادا کروں ناکہ غرور کرکے کسی کی دل آزاری کرو دل دُکھانا بہت بُرا گُناہ ہے اور تم یہ کام بچپن سے ارسلہ کے ساتھ کرتی آرہی ہو اگر اُس کو چلنے میں کجھ دقت ہوتی ہے تو اِس میں جو اللہ کا منظور تمہارا کوئی حق نہیں تم اُس کے بارے میں ایسا الفاظ استعمال مت کرو خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے وہ جو چاہے جیسے چاہے جب چاہے جس کے ساتھ چاہے کرسکتا ہے اُس کے قہر سے ڈرو اللہ کو ناراض مت کرو۔ سادیہ بی حقیقتاً افسوس ہوا تھا نازش پہ۔

آپ مجھے بددعائیں دے رہی ہیں۔ نازش تیز آواس میں بولی

سمجھارہی ہوں وقت ایک سا نہیں رہتا۔ سادیہ بی نے جواب دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیڈ میرا رزلٹ دیکھے میں نے فرسٹ پوزیشن حاصل کی ہے۔

ڈیڈ آج میرے اسکول میں پرینٹس میٹنگ ہیں سب کے والدین آتے ہیں آپ بھی میرے ساتھ چلے

ڈیڈ مجھے اپنے کمرے میں ڈر لگتا ہے آج بی بھی نہیں کیا میں آپ کے کمرے میں سوجاؤں۔

ڈیڈ آپ آپی کے لیے چیزیں لاتے ہیں کبھی میرے لیے بھی لایا کریں نہ

ڈیڈ آپ میرے ساتھ کارٹون دیکھے نہ۔

ڈیڈ آپی نے میرا ہوم ورک پیج پہ پانی گِرادیا

ڈیڈ آپی اسکول میں میرے ساتھ نہیں کِھیلتی

ڈیڈ اسکول میں بچے مجھ پہ ہنستے ہیں کیونکہ میں لنگڑا کر چلتی ہوں ڈیڈ اِس میں میرا تو کوئی قصور نہیں نہ مجھے تو اللہ نے ایسا بنایا ہے تو لوگوں کو کیا مسئلہ ہے جب مجھے احساس کمتری نہیں تو کوئی اور کیوں مجھے ڈپریشن میں ڈال رہے ہیں مجھے اُداس کرتے ہیں

ڈیڈ میرے ساتھ آپ بات کیوں نہیں کرتے مجھے گُھمانے کیوں نہیں لیکر جاتے

ڈیڈ میرے سر میں درد ہے آپ مجھے دوائی دے نہ۔

ڈیڈ میرے اسکول میں آج ہماری فیرول پارٹی ہے رزلٹ بھی اناؤس ہوگا آپ بھی ساتھ آئے نہ

ڈیڈ آپی مجھے سے بات نہیں کرتی آپ اُس سے بولے نہ مجھ سے پیار سے بات کیا کریں

ڈیڈ آپی نے میری مارک شیٹ پھاڑدی میں اب کیا کروں گی۔

ڈیڈ میرے کالج کا آج فرسٹ ڈے ہے پلیز مجھے ہیپی وشز دے۔

ڈیڈ آپ کو میں پسند نہیں نہ آپ کی نظر میں منہوس ہوں تو میں کوشش کروں گی آپ کے سامنے نہیں آؤں گی ماں کی ممتا سے اللہ نے بچپن سے ہی محروم کردیا تھا پر باپ کی شفقت سے آپ نے خود دور کردیا آپ نے کبھی مجھے گلے نہیں لگایا اپنے ہونے کا احساس نہیں دلوایا میں بھی تو آپ کی اولاد ہوں آپ آپی کے لاڈ اُٹھاسکتے ہیں تو میرے کیوں نہیں چھوٹی اولاد تو سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔

مہتاب خان اپنے کمرے میں موجود چیئر پہ بیٹھتے ماضی میں کی ارسلہ کی باتیں جس میں ہر ایک خواہش حسرت شکوہ فرمائش تھی جو انہوں نے کبھی پوری کرنے کی کوشش نہیں کی جب بھی وہ اُن کے پاس آتی وہ اُس کو سادیہ بی کے حوالے کردیتے آج اُن کو شہریار کی باتوں نے یہ سب سوچنے پہ مجبور کردیا تھا جو خسارہ وہ کرچُکے تھے سچ ہی تو تھا شہریار کی باتوں میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھے ایک ویل ایجوکیٹڈ انسان تھے وہ تو کیسے وہ ایسی جاہلانہ سوچ سوچنے لگے بھلا اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق ہو یا کوئی چیز اُس کو کون منہوس کہتا ہے جب کی انہوں نے تو ایک معصوم کا دل دکھایا تھا اپنی بیٹی کا۔ایک ندامت کا آنسو مہتاب خان کی آنکھ سے نکلا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہارے ساتھ آخر مسئلا کیا ہے کونسی بات تمہیں پریشان کررہی ہے وہ تم مجھے بتادو میں تمہارا دوست ہوں کیا پتا میرے پاس کوئی حل ہو۔عالمگیر نے گم سم بیٹھے ہاد سے کہا

عالم مجھے خود نہیں پتا میرے ساتھ کیا مسئلا ہے تو تمہیں کیسے بتاؤں۔ہاد سپاٹ اندازمیں بولا

ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر کو مریض کے مرض کا پتا نہ ہو۔عالمگیر نے اپنے انداز میں بات کی۔

تمہاری بے تُکی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں۔ہاد بے زاری سے بولا

میری بے تُکی بات کا مطلب بہت گہرا ہے اور وہ یہ ہے ڈاکٹر یعنی تم مریض مطلب تمہارا دل مرض یعنی تمہارے دل میں کیا بات ہے جو تمہیں پریشان کررہی ہے ظاہر ہے دل کا حال ایک اللہ جانتا ہے دوسرا انسان خود۔عالمگیر نے مسکراکر کہا۔

میرا دل جانے کیوں اب نازش سے شادی کے لیے راضی نہیں مطلب میرا دل اُس سے اُچاٹ ہوگیا ہے مجھے اب اندازے ہورہا ہے کے نازش وہ نہیں جیسی لڑکی میں اپنی ہمسفر کے روپ میں چاہتا ہوں۔ہاد نے دل کی بات آخر عالمگیر کو بتادی۔

دیکھو ہاد یہ اندازہ تمہارا ہے تو سہی پر تم نے بہت غلط وقت اور بہت دیر بعد لگایا ہے میں یہ بات ہمیشہ سے تمہیں سمجھانا چاہتا تھا پر جب تم سنو تب نہ اور اب کیا فائدہ اب تو بات بڑوں میں طے ہوگی اُن کے علم میں آگئ ہے تم نے نازش سے کمیٹمنٹ کی ہے اب تم اپنا ہاتھ چھڑوا بھی نہیں سکتے آسان نہیں یہ۔عالمگیر نے ہاتھ کھڑے کیے کہا

میں نازش سے بات کروں گا وہ میری بات سمجھ جائے گی۔ہاد نے جیسے خودکو یقین دلوایا۔

ہاد نازش کے باپ کو بھی پتا ہے گھر میں اب تمہاری شادی کا سوچ بیٹھے ہیں اور تم ایسی بے وقوفی کرنے کا سوچ رہے ہو جس میں تمہارا نقصان ہے۔عالمگیر نے جیسے اُس کی عقل پہ مت کیا۔

اگر ایسا کجھ ہوگیا میری شادی ہوگئ تو اِس سے بڑا نقصان ہوگا مجھے۔ہاد کے منہ سے بے اختیار یہ بات نکلی۔

کیا مطلب تمہارا اِس بات سے۔عالمگیر کے کان کھڑے ہوئے

مطلب یہ کے ارسلہ مجھے اچھی لگنے لگی ہے شاید محبت کیا ہوتی ہے محبت کہتے کسے ہیں یہ سب اُس سے ملنے کے بعد مجھے پتا چلا ہے۔ہاد نے صاف گوئی سے کہا

تم عقل سے پیدل ہوتے جارہے ہو مطلب حد ہے ارسلہ نازش کی چھوٹی بہن ہاد تم اتنے دل پھینک تو نہیں تھے جو پہلے نازش اور اب اُس کی بہن پہ تمہارا دل آگیا۔عالمگیر کو ہاد کی بات پہ صدمہ ہی تو لگ گیا۔

میں دل پھینک نہیں میرے دل کو ارسلہ اچھی لگنے لگی ہے ایسا کبھی نازش کے معاملے میں نہیں ہوا نازش میری اچھی دوست ہے میں دوستی کو محبت سمجھ بیٹھا میں اور نازش اچھے دوست بن سکتے ہیں پر اچھے ہمسفر نہیں۔یاد نے سنجیدگی سے کہا

ہاد توں بہت غلطی کرچُکا ہے یار ایسا کیسے ہوسکتا ہے تمہیں کوئی سپورٹ نہیں کرے گا بہتر ہے تم اپنے قدم پیچھے لو۔عالمگیر نے پریشانی سے کہا

میرے بس سے باہر ہے سب ارسلہ کا ساتھ میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی اگر وہ میری قسمت میں ہوگی تو میں خود کو دنیا کا خوش قسمت آدمی تصور کروں گا۔ہاد نے گہری مسکراہٹ سے کہا۔

پر ہاد وہ تو ل

عالم پلیز۔ہاد اُس کی بات کا مطلب سمجھتا بیچ میں ٹوکتا بولا

میرے لیے کوئی ایشو نہیں ارسلہ مجھے پسند ہے بس۔ہاد نے سنجیدگی سے کہا

جانتا ہوں پر انکل اور آنٹی۔عالمگیر نے ایک اور خدشا ظاہر کیا۔

پہلے نازش کو سمجھالوں پھر گھروالوں کو ارسلہ کے لیے منالوں گا۔ہاد نے جواب دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج منور حسن احسان کے گھر موجود تھے کوئی ضروری بات کرنے کے لیے اِس لیے ڈنر کے بعد منور حسن کو احسان صاحب اسٹڈی روم میں لائے تھے سیف جب کی اپنی ڈیوٹی پہ تھا زرنور ملازمہ کو چائے بنانے کا کہہ کر لاوٴنج میں براجمان تھی۔

احسان تمہیں نہیں لگتا زر کی شادی کرنی چاہیے اب تمہیں۔منور حسن نے احسان صاحب سے کہا

سوچ تو بہت دِنوں سے میں بھی رہا ہوں جب سے زر پہ حملہ ہوا ہے میرا دل ہر وقت اُس کے لیے پریشان رہتا ہے میں بس کسی مضبوط سہارے کے انتظار میں ہوں تاکہ زر کو اُس سے باندھ کر میں سکون کا سانس لوں۔احسان صاحب نے جواب دیا۔

ہممم سیف کے بارے میں کیا خیال ہے۔منور حسن کی بات پہ احسان صاحب نے اُن کی طرف دیکھا جیسے اندازہ لگانا چاہ رہے ہو جو انہوں نے سُنا وہ سچ تھا یا کانوں کا دھوکہ۔

سیف کے بارے میں مطلب۔احسان صاحب اُلجھ کر بولے

مطلب یہ کے میں سیف کے لیے زر کا ہاتھ مانگتا ہوں۔منور حسن نے مسکراکر کہا

کیا سچ میں۔احسان صاحب خوشی سے چور لہجے میں بولے۔

بلکل سیف سے زیادہ زر کے لیے اور کیا مضبوط سہارا ہوسکتا ہے سیف اُس کو پروٹیکٹ کرسکتا ہے سیف کو تم اچھے سے جانتے ہو وہ کتنا مخلص ہے اپنی شعبے سے۔منور حسن نے کہا

ہاں یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے ماشااللہ سے سیف کی بات ہی الگ ہے میری زرنور کے لیے وہ پرفیکٹ رہے گا مجھے اُس کی طرف سے فکر بھی نہیں ہوگی تمہیں میں بتا نہیں سکتا تم نے میری کتنی بڑی پریشانی حل کردی ہے۔احسان صاحب مشکور لہجے میں بولے۔

تو پھر کیا کہتے ہو تم

پوچھنے کی کیا بات میری طرح سے رشتہ ڈن۔احسان صاحب نے کہا

اتنی بھی کیا جلدبازی ایک دفع زر سے بات کرو کیا پتا اُس کو کجھ اعتراض نہ ہو اولاد کی رضامندی بھی جاننا تو ضروری ہے نہ پھر یہ تو عمر بھر ساتھ رہنے کا فیصلہ ہے۔منور حسن نے مسکراکر کہا

زر میری بیٹی ہے میرا مان میرا فکر اُس کے لیے میں جو فیصلہ کروں گا اور جو بات کروں گا وہ اُس کے لیے حرفِ آخر ہوگا پھر بھی تمہاری تسلی کے لیے زر سے بات کروں گا پر مجھے یقین ہے زر میری بات سے اختلاف نہیں کرے گی۔احسان صاحب کے لہجے میں باپ کا مان بول رہا تھا زرنور جو اُن کے لیے چائے لیتی آرہی تھی اپنے باپ کی آخری بات اور فیصلہ جان کر اُس کو اپنے اندر کجھ ٹوٹتا محسوس ہوا کجھ کھوجانے کا ڈر شدت سے محسوس ہوا پر ظلم تو یہ تھا اب اُس کے لیے جائے فرار بھی کوئی نہ تھا بھلا وہ کیسے اپنے باپ کا مان توڑ سکتی تھی سچ ہی تو کہہ رہے تھے وہ زرنور کی نظر میں اپنے باپ کی بات کے علاوہ اور کجھ نہیں تھا اپنے باپ کے لیے تو وہ اپنی جان بھی وار دیتی یہ تو بس اپنی مرضی کے خلاف شادی کرنا تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہارا کتنے عرصے کا اسٹے ہیں یہاں؟لان میں چہل قدمی کرتے ارسلہ نے شہریار سے پوچھا

تین چار ماہ۔شہریار نے مسکراکر بتایا

تم آئے تو پانچ چھ سال بعد ہو تو بس تین چار ماہ کے لیے۔ارسلہ نے شکوہ کیا۔

کیا کروں مصروفیت بھی تو ہے تم آجاؤ ساتھ۔شہریار نے مفت مشورہ دیا

ہاں میں تو جیسے یہاں ویلی ہوں میرا بھی کالج ہے یہاں۔ارسلہ نے اُس کی نقل اُتار کر کہا

شہریار اُس سے پہلےکجھ کہتا جب گیٹ سے بلیک کلر کی گاڑی آتی نظر آئی جس پہ دونوں کا دھیان اُس کی طرح گیا گاڑی کو دیکھ کر ارسلہ سمجھ گئ ہاد ہوگا۔

یہ کون؟ بلیو شرٹ اور بلیو جینز پینٹ پہنے نفاست سے بالوں کو جیل لگائے ہاد گاڑی سے اُترا تو شہریار نے بت بنی ارسلہ سے پوچھا

ہاد۔ارسلہ نے بس اتنا کہا

ہاد نے سامنے ارسلہ کو دیکھا تو اُس کے چہرہ پہ مسکراہٹ آئی پر شہریار کو ارسلہ کے پاس کھڑا دیکھ کر اُس کے ماتھے پہ بل آئے تھے۔

اسلام علیکم!ہاد دونوں کے روبرو آتا سلام کرنے لگا۔

وعلیکم اسلام آپی اندر ہیں۔ارسلہ نے جھٹ سے کہا تو ہاد کا سر نفی میں ہلنے لگا ارسلہ شرمندہ ہوتی سر جھکا گئ۔

آپ کی تعریف۔ہاد نے خود ہی شہریار سے پوچھ لیا

لوگ تو بہت کرتے ہیں میری ذہانت کی میرے حُسن کی میرے چلنے پِھرنے میرے ہر انداز کی پر اب میں خود اپنی تعریف کرتا اچھا تو نہیں لگوں گا۔شہریار نے لمبی چوڑی بنا مطلب کی بات کی جس پہ ارسلہ نے اُس کو کہنی ماری یہ حرکت ہاد کی زیر نگاہ سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔

ہاد یہ شہریار ہیں میرے کزن۔ارسلہ نے بتایا

اچھا۔ہاد ایک تنقیدی نظر شہریار پہ ڈال کر بولا

آپ کون؟اِس بار شہریار نے پوچھا

ہاد۔ہاد نے بس اتنا بتایا

ہاد آپی کے فیانسی رائٹ۔شہریار اپنے دماغ پہ زور ڈال کر بولا ہاد نے بس سرہلانے پہ اکتفا کیا

اوکے آپ آپی نازو سے مل لے چلو ارسو ہمیں اب باہر چکر لگانا چاہیے۔شہریار ہاد کو جواب دیتا ارسلہ کا ہاتھ تھام کر بولا یاد کو خود پہ ضبط کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔

ایک منٹ رکو تو سہی۔ارسلہ نے شہریار کو آنکھیں دیکھائی۔

ْآپ اندر چلیں۔ارسلہ نے ہاد کو اندر چلنے کا اِشارہ کیا شہریار نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے جب کی ہاد کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی جب ارسلہ نے اپنی کلائی شہریار کے ہاتھ سے آزاد کروائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

طوبیٰ کا یہاں خوشخبری ہے اب آپ کو ساری رنجشیں ختم کرکے اُس سے ملنا چاہیے بیٹی ہے وہ آپ کی ایسے قطعاً تعلق کرنا سہی نہیں۔

بیٹا ہے یا بیٹی؟فیضان صاحب ٹھوڑی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بس اتنا بولے

یہ آپ کیا پوچھ رہے ہیں بیٹا ہے یا بیٹی وہ تو بچے کی پیدائش کے بعد پتا چلے جائے گا اور جو بھی ہو ہمیں دعا کرنی چاہیے اچھی صحتمند کا ہو۔نازیہ بیگم رسانیت سے بولی

کس صدی میں جی رہی ہو اب الٹراسائونڈ سے سے سب پتا چل جاتا ہے خیر اُس نے نہیں کروایا تو کیا ہوا ہمیں یہاں لیکر آئے گے تو خود ہسپتال لیکر جائے گے۔فیضان صاحب پرسوچ انداز میں بولے۔

کیا سچ آپ طوبیٰ کو یہاں لیکر آئے گے۔نازیہ بیگم نے آخری بات سنی ہی نہیں تھی اُن کو بس اب یہ تھا طوبیٰ اتنے وقت بعد آئے گی۔

ہمم کسی کو اب بتانا نہیں ہم اچانک جائے گے۔فیضان صاحب نے اُن کو وارن کیا جس پہ انہوں نے سر کو جنبش دی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

بولوں کیا بات ہے۔نازش نے ہاد سے پوچھا

نازش میں جو بات کرنے جارہا ہوں وہ کہنے سے پہلے میں یہ کہوں گا میری بات تحمل سے سننا اور مجھے سمجھنے کی کوشش کرنا اِس میں تمہاری اور میری بھلائی ہے۔ہاد نے سنجیدگی سے کہا

پہیلیاں کیوں بُجھوارہے ہو تم تو سیدھی باتیں کرتے ہو۔نازش نے حیرت سے کہا

بیٹھو یہاں۔ہاد نے اُس کو اپنے برابر بیٹھایا

ہمم اب بولوں۔نازش نے اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا

کیا تمہیں نہیں لگتا ہمیں شادی کرنے کے فیصلے پہ غور کرنا چاہیے دیکھوں نازش مجھے غلط مت سمجھنا پر مجھے لگتا ہے تمہارا زندگی جینے کا انداز اور میرے زندگی جینے کا انداز بہت مختلف ہے ہمارا ایک ساتھ گُزارا نہیں ہوگا۔ہاد کی بات پہ نازش کا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا تھا۔

یہ سب تمہیں ارسلہ سے ملنے کے بعد ہوا ہے نہ۔نازش اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی چیخ کر بولی

نازش آہستہ۔ہاد نے کھڑے ہوتے تنبیہہ کی۔

کیا آہستہ ہاں کیا آہستہ مجھے سب سمجھ آرہا ہے تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے تمہارا میرے ساتھ کھیچا کھیچا سا انداز میں سب نوٹ کررہی تھی پر میں نے اپنا وہم سمجھ کر نظرانداز کیا پر اب تم مجھے سنہرے خواب دیکھا کر واپس مڑ رہے ہو تو میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔نازش اُس کا گریبان پکڑتی جنونی ہوئی۔

ہوش میں آؤ میں نے بات کرنے سے پہلے کیا کہا تھا میری ساری بات تحمل سے سننا اور ایک تم ہو جو پاگل پن کا مظاہرہ کررہی ہو۔ہاد اُس کو خود سے دور کرتا بولا

مجھے بس اتنا بتاؤ یہ سب تم اُس منہوس ارسلہ کی وجہ کہہ رہے ہو نہ۔نازش نے مٹھیاں بھینچتے کہا

نازش بہن ہے تمہاری احترام سے نام لو اُس کا۔ہاد غصے سے بولا

اوو بڑی ہمدردی ہورہی ہے بڑا احترام کرنے کا بخار چڑھا ہے تمہیں۔نازش طنزیہ بولی

نازش ہم بیسٹ فرینڈز ہیں تم ایک دفع میری بات تو سمجھو ہمارے درمیان دوستی کا رشتہ ہمیشہ رہے گا پر شادی ایک بہت بڑا فیصلہ ہے میں تمہیں وہ خوشی نہیں دے پاؤں گا جو تم ڈیزرو کرتی ہو پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ۔ہاد اُس کو بازوں سے پکڑتا بے بسی سے بولا

ہاؤ کُڈ یو ہاد ہاؤ کڈ یو میں نے تمہارا اعتبار کیا تم سے محبت کی اب تم بیچ راستے میں علیحدہ ہونے کی بات کررہے ہو ہمارا ساتھ سات سال کا ہے جب کی ارسلہ سے ملے تمہیں ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا۔نازش اُس کے سینے پہ مُکے مارتی روتی ہوئی بولی ہاد کو پیشمانی نے آ گھیرا پر وہ اب کیا کرتا دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔

نازش تم کیوں بار بار ارسلہ کا نام لے رہی ہو یہ میرا اپنا فیصلہ ہے میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ تم سے کہا ہے ہمارا گُزارا ممکن نہیں۔ہاد نے اُس کو سمجھانا چاہا پر نازش خاموش رہی کجھ بولنے کو تھا ہی نہیں اُس کے پاس۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارسلہ

ہاد جو واپس جارہا تھا لان میں لگے جھولے پہ ارسلہ اور اُس کی مانوں کو دیکھا تو اُس سے بات کرنی چاہی۔

جی۔ارسلہ نے مسکراکر اُس کی طرف دیکھا

ارسلہ ایک فیور چاہیے تھی تم سے۔ہاد تھوڑا اُس کے پاس جھکتا بولا

جی بولے۔ارسلہ اپنے سوکھے لبوں پہ زبان پھیرتی بولی

اگر کبھی مجھے تمہاری ضرورت پڑے تو تم میرا ساتھ دوں گی نہ میرے ہمقدم کھڑی رہی ہوگی نہ بنا کسی کا خوف ڈر کا سوچے۔ہاد اپنی ہتیھلی اُس کے سامنے پِھیلاتا بولا ارسلہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی اُس کو زرہ سا بھی ہاد کی بات سمجھ نہیں آئی تھی پر جب ہاد نے آنکھوں کے اِشارے سے اپنا ہاتھ آگے کرنا کا کہا تو اُس نے بنا سوچے سمجھے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پہ رکھ دیا۔

اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑی نازش نے یہ منظر جلن بھری نظروں سے دیکھا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕

زر تم فِری ہو تو ایک بات کرنا چاہتا ہوں تم سے۔زرنور جس بات کے ڈر سے دو دن سے اپنے کمرے سے باہر نہیں جارہی تھی آخر تیسرے دن احسان صاحب خود اُس کے کمرے میں آتے بولے

جی ڈیڈ کریں آپ بات۔زرنور گہری سانس خارج کرتی بولی آخر بکری کب تک اپنی خیر مناتی۔

منور نے سیف کا رشتہ تمہارے لیے مانگا ہے میں نے تو جھٹ سے ہاں کردی سیف بہت پیارا بچہ ہے تمہاری حفاظت وہ اچھے سے کرے گا جیسے تئیس سال میں نے کیا۔احسان صاحب بہت مطمئن ہوتے بولے زرنور نے بہت وقت بعد اپنے باپ کے چہرے پہ اتنا اطمینان دیکھا تھا۔

ڈیڈ مجھ سے آپ کیا چاہتے ہیں۔زرنور اُن کے ہاتھ تھامتی بولی

تمہارا کیا خیال ہے میں نے تو ابھی اپنے خیالات بتائے ہیں ہوگا وہی جو تم چاہوں گی اگر تمہیں کوئی اعتراض ہے تو بتادو میں منع کردوں گا۔احسان صاحب نے شفقت سے اُس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر کہا

ڈیڈ آپ نے ہمیشہ میری بات مانی ہے چاہے پھر میری زبان سے نکلی ہو یا دل میں ہو آپ کو پتا لگ جاتا ہے تو آپ نے کیسے سوچ لیا اگر آپ میری زندگی کے بارے میں کجھ فیصلہ کرے گے تو میں انکار کروں گی یقین جانے اگر آپ نکاح کرنے کے ایک منٹ پہلے بتادیتے تو بھی میں نے ہاں کرنی تھی بنا لڑکے کا نام جانے۔زرنور اُن کی گود میں سر رکھتی دھیمے لہجے میں بولی احسان صاحب کو ڈھیروں اطمینان نے آ گھیرا

جیتی رہو میری بچی مجھے تم سے اِس بات کی ہی توقع تھی دیکھنا میرے فیصلے سے تمہیں کبھی مایوسی نہیں ہوگی۔احسان صاحب اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے یقین دلانے لگے دوسری طرف زرنور کی آنکھوں سے ایک باغی آنسو آنکھ سے گِرا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

لائسنس دیکھائے۔کانسٹیبل نے نازش کی گاڑی کے شیشے پہ نوک کرتے کہا تو اُس نے بے زاری سے شیشہ نیچا کیا آج پریشان ہونی کی وجہ سے اُس نے بے دھیانی میں بہت ریش ڈرائیونگ کرچکی تھی جس سے اب کانسٹبل نے اُس کو روک دیا تھا۔

نہیں ہے۔نازش نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا

کیا مطلب نہیں ہے بنا لائسنس کے آپ کو گاڑی چلانے کی اجازت کِس نے دی باہر نکلے آپ گاڑی سے۔کانسٙیبل کی بات پہ نازش نے اپنی آنکھیں گُھمائی۔

شاید تمہیں معلوم نہیں میں کس کی بیٹی ہوں اگر اپنے تن پہ یہ وردی قائم رکھنا چاہتے ہو تو میرے راستے سے ہٹ جاؤ۔نازش نے وارن کرنے والے انداز میں کہا

ایک تو آپ بنا لائسنس گاڑی میں ہے دوسرا ایک پولیس والے کو دھمکارہی ہیں آپ پہ تو میں ایسا کیس کروں گا یاد کرے گی۔کانسٹیبل دھمکی دیتا بولا

نواز کیا بات ہے۔سیف جو دوسری سائیڈ کھڑا تھا اُن کے پاس آتا بولا

سر اِن محترمہ کے پاس لائسنس نہیں ہے اور دوسرا یہ ہمیں اپنے باپ کی دھمکی دے رہی ہیں۔کانسٹیبل نے ساری بات اُس کے گوش گُزار کی سیف نے گاڑی میں بے نیاز سے بیٹھی نازش کو دیکھا جس کو ابھی تک کسی بات کا فرق نہیں پڑا تھا۔

آپ کے پاس لائسنس نہیں یا گھر لینا بھول گئ۔سیف نے نرمی سے پوچھا

گھر سے لانا بھول گئ۔نازش نے بے زاری سے کہا سیف اُس کی بے زاری نوٹ کرتا مبہم سے مُسکرایا

ٹھیک ہے تو آپ ابھی کسی سے کہہ کر لائسنس منگوائے جب تک آپ یہی رہے گی لڑکی ہے تو ہم آپ کا خیال کررہے ہیں۔سیف دلچسپی سے اُس کا چہرہ دیکھ کر بولا۔

لڑکی نہ ہوتی تو کیا تم لوگ مجھے تھانے میں بند کرتے دیکھو مسٹر میں نازش مہتاب خان ہوں اگر تم لوگوں نے ایسا سوچا بھی نہ تو میرا باپ چٹکی میں تم دونوں کو اِس وردی سے فارغ کرتا۔نازش مغرور لہجے میں بولی سیف اُس کی بات پہ ہنس پڑا۔

لاوارث تو ہم بھی نہیں ایک دنیا ہمیں بھی جانتی ہیں۔سیف کالر اکڑا کر بولا

مجھے جانے دو لیٹ ہورہا ہے۔نازش بنا اُس کی بات پہ دھیان دیتی بولی

آپ نے شاید سُنا نہیں میں نے کہا آپ اپنے گھر سے لائسنس منگوائے۔سیف نے دوبارہ اپنی بات کہی۔نازش غصے سے اُس کو دیکھتی اپنا فون نکال کر کسی کو کال کرنے لگی اِتنا وہ سمجھ گئ تھی سامنے والا اتنی آسانی سے اُس کو چھوڑنے والا نہیں تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

طوبیٰ اور ارمغان اپنے کمرے میں تھے جب ملازمہ نے اُن کو فیضان صاحب کے آنے کا بتایا طوبیٰ کا پانچواں مہینہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے ارمغان اُس کو سیڑھیاں چڑھنے سے منع کرتا تھا زرغونہ بیگم نے نیچے والے کمرے کی طرف رہنے کا کہا تھا پر ارمغان نے انکار کردیا تھا پر خیال وہ پوری طرح سے طوبیٰ کا کررہا تھا۔

چچا جان۔ارمغان بڑبڑایا طوبیٰ خوشی سے جلدی سے اٹھنے لگی تو پیٹ میں درد کی ٹیس اُٹھنے لگی ارمغان فورن اس کی طرف متوجہ ہوا۔

آرام سے کیا کررہی ہو تم؟ارمغان فکرمند ہوا

ارمغان ڈیڈ آئے ہیں اتنے وقت بعد۔طوبیٰ اپنا درد بھلائے مسرت بھرے لہجے میں ارمغان سے بولی

جانتا ہوں پر تم ابھی یہاں رہو میں دیکھ آتا ہوں وہ یہاں کیوں آئے ہیں۔ارمغان سنجیدگی سے بولا

ارمغان وہ کیوں آئے ہوگے مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہیں اُن کو بچے کا بھی پتا چل گیا ہوگا ویسے بھی میں یہاں کیا کروں گی مجھے باہر جانا ہے۔طوبیٰ بضد ہوتی بولی

طوبیٰ ہر بات پہ ضد مت کیا کرو جو کہا ہے وہ مانو پہلے میں جاؤں گا پتا تو چلے آج اتنے عرصہ بعد وہ یہاں کیسے آئے ہیں تم اکیلی نہیں آنا میں خود لینے آؤں گا یہ بات یاد رکھو تمہارے پیٹ میں ایک ننہی جان ہے۔ارمغان اُس کے گال پہ ہاتھ رکھتا نرمی سے بولا تو طوبیٰ ناچاہتے ہوئے بھی سرہلانے لگی۔

آپ یہاں کیسے آگئے ہمیں تو اپنے گھر سے نکل جانے کو کہا تھا سارے رشتے ختم کرلیے تھے آپ نے پھر۔ارمغان ڈرائینگ روم میں آتا طنزیہ انداز میں فیضان صاحب سے بولا

تمہارا گِلہ اپنی جگہ درست ہے پر اب میں سارے گلے شکوے دور کرنے آیا ہوں طوبیٰ کو اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں کجھ وقت وہ ہمارے ساتھ رہے۔فیضان صاحب ارمغان کی بات ضبط سے پیتے ہوئے بولے

طوبیٰ جس کے ولیمے پہ آپ نہیں آئے تھے وہ طوبیٰ جو آپ سے ناکردہ غلطی کی معافی مانگنے آئی تھی تو آپ نے اُس کو گھر سے نکل جانے کو بولا تھا۔ارمغان نے پھر کہا

ارمغان

زرغونہ بیگم نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا۔

نہیں امی آپ مجھے بات کرنے دے۔ارمغان سنجیدہ سے بولا۔

دیکھو ارمغان پلیز اب تم بھی پُرانی باتیں بُھلادو ہمیں طوبیٰ سے ملنے دو کہاں ہے وہ۔اِس بار نازیہ بیگم نے نرمی سے کہا

دوا کھاکر آرام کررہی ہے۔ارمغان نے بہانا بنایا۔

اچھا تو وہ کون ہے۔فیضان صاحب طنزیہ مسکراہٹ سے ڈرائینگ روم کے کُھلے دروازے کی طرف اِشارہ کرتے بولے جہاں سیڑھیوں کی ریکنگ کے پاس بڑی چادر پہنے طوبیٰ کھڑی تھی ًطوبیٰ کو وہاں کھڑا دیکھ کر ارمغان کے پورے وجود میں اشتعال بھر گیا تھا۔

آ آ آآہ ہ

چیخ کی آواز پہ سب حواس باختہ ہوکر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے ارمغان نے جب طوبیٰ کو سیڑھیوں سے گِرتا دیکھا تو ٹانگوں نے چلنے نے انکاری ہوگئے اُس کو اپنی بینائی پہ یقین نہیں آیا۔

طوبیٰ جو چادر کو سنبھالتی نیچے اُتر رہی تھی جب اس کا پاؤں چادر سے الجھ گیا جس سے وہ خود کو سنبھال نہیں پائی اور سیڑھیوں سے گِرتی چلی گئ۔

ارمغان ایمبولینس کو کال کرو۔زرغونہ خون میں لت پت طوبیٰ کو دیکھتی بت بنے ارمغان سے بولی جس کی رنگت سفید ہوگئ تھی

اچانک ارمغان ہوش میں آتا طوبیٰ کے ہوش وحواس سے بیگانا وجود کو بانہوں میں بھرتا باہر کی جانب بڑھ گیا باقی سب بھی اُس کے پیچھے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *