Be Khudi by Rimsha Hussain NovelR50567 Be Khudi (Episode 10)
Rate this Novel
Be Khudi (Episode 10)
Be Khudi by Rimsha Hussain
تم آج پھر سے مجھے نظرانداز کر رہی ہو۔آج عالمگیر کو زرنور پارک میں تو نہیں پر شاپنگ مال میں ملی تھی عالمگیر نے اُس سے بات کرنا چاہی تو زرنور اُس کو نظرانداز کرتی سائیڈ سے گُزرنے لگی جب عالمگیر اُس کو بازوں سے پکڑتا ایک الگ کونے میں آتا پوچھنے لگا۔
دیکھو عالمگیر مجھے فلحال تم سے کوئی بات نہیں کرنی ضروری کام ہے مجھے تو پلیز لِیو۔ زرنور اپنا بازوں اُس کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتی بولی۔ .
گولڈن گرل آج تم اتنی سنجیدہ کیوں ہو خیر تو ہے۔ عالمگیر نے تعجب سے پوچھا کہاں وہ ہر وقت اپنے منہ سے انگارے نکالتی تھی اور اب آج کیسے بلکل اجنبی سے زیاد بے گانگی تھی اُس کے لہجے میں جو عالمگیر کو بہت چُبھی تھی۔
تم سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔زرنور نے منہ موڑ کر کہا۔
یہاں دیکھو میری طرف کیا بات ہے کیوں ایسے بیہیو کررہی ہو ناراض ہو کسی بات پہ۔عالمگیر اُس کا چہرہ اپنی طرف کرتا استفسار کرنے لگا۔
کہا نہ مجھے نہیں کرنی تم سے بات دور رہو مجھ سے۔زرنور غصے سے اُس کو دھکا دیتی بولی آس پاس آتے جاتے لوگ دونوں کو ایک نظر دیکھ کر اپنے راستے چل دیے عالمگیر زرنور کے عمل پہ ساکت رہ گیا تھا زرنور کی موبائل پہ کال آئی تو اُس نے اپنا فون کلیچ سے نکالا جس سے اسکرین پہ جگمگاتا نام عالمگیر نے دیکھ لیا
یہ کیوں ہر وقت تمہیں کال کرتا رہتا ہے اور کوئی کام نہیں کیا اِس کو۔اسکرین پہ سیف کا نام دیکھ کر عالمگیر جل بھن کے رہ گیا تھا تبھی اُس کے ہاتھ سے موبائل کھینچ کر بولا
میرے پرسنلز میں مت گھسو۔زرنور ناگواری سے بولی
پہلے میری بات کا جواب دو۔عالمگیر اپنی بات پہ زور دیتا بولا
رشتہ طے ہوگیا ہے میرا سیف سے جلد منگنی بھی ہوجائے گی اِتنا کافی ہے یا اور کجھ بھی جاننا ہے۔زرنور اپنا فون واپس لیتی بولی عالمگیر سن سا زرنور کا چہرہ دیکھنے لگا جہاں کوئی تاثر نہیں تھا اُس کو اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز کانوں تک گونجتی محسوس ہورہی تھی زرنور عالمگیر سے نظریں چُراتی جانے لگی جب عالمگیر اُس کا بازوں دبوچتا دیوار کے ساتھ لگایا۔
یہ کیا بدت
ششش۔
زرنور سختی سے کجھ کہنے والی تھی پر عالمگیر نے اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔
کیا بکواس کی تم نے اندازے ہے تمہیں۔عالمگیر دانت پہ دانت جمائے بولا
دور رہو مجھے سانس نہیں آرہی۔زرنور اُس کو دھکا دیتی بولی جس پہ عالمگیر نے کجھ فاصلہ بنایا۔
اب بولوں۔عالمگیر نے پھر کہا
بکواس نہیں حقیقت ہے تمہارا کوئی حق نہیں مجھ سے سوال جواب کرنے کا۔زرنور بے دردی سے بولی
اچھا تو میرا کوئی حق نہیں کیا میری آنکھوں میں میرے لہجے میں تمہیں اپنے لیے محبت نظر نہیں آتی تم کوئی نادان تو نہیں جو میں تمہارے آگے پیچھے آؤں اور تم اُس بات کا مطلب نہ سمجھ پاؤ۔عالمگیر پہلے افسوس پھر شدت بھرے لہجے میں بولا
نہیں آتی مجھے نظر محبت اور نہ میں دیکھنا چاہوں گی تمہارے اور میرے راستے کبھی ایک نہیں ہوگے اِس لیے اُنہیں جوڑنے کی کوشش مت کرو ورنہ زخمی ہوجاؤ گے۔زرنور اپنے دل کو مارتی بولی
میرے دل کو میرے پورے وجود کو لہولہان کرنے کے بعد تمہارا یہ کہنا بنتا تو نہیں تم صرف میری ہو میرا دل تمہارا طلبگار ہے اور میں تمہیں حاصل کرکے رہوں گا۔عالمگیر مضبوط لہجے میں بولا
بچوں جیسی ضد مت کرو میرے لیے مشکلات مت پیدا کرنا میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں۔زرنور اُس کے سامنے ہاتھ جوڑتی بولی جو عالمگیر نے اُس کے ہاتھ تھام کر اُن پہ بوسہ دیا زرنور اُس کی جرئت پہ حیران ہوتی جھٹ سے اپنے ہاتھ اُس سے دور کیے۔
تم پہ بس میرا حق ہے کسی اور کا نہیں یہ بات ذہن نشین کرلو۔عالمگیر اُس کا گال تھپتھپاکر کہتا چلاگیا زرنور ساکت سی اُس کو جاتا دیکھنے لگی اُس کو عالمگیر کی باتوں سے پہلی دفع خوف محسوس ہوا۔








ہسپتال کے کوریڈور میں موت جیسا سناٹا تھا ارمغان کی نظر جلتی بجھتی لائٹ پہ تھی زرغونہ بیگم دعا مانگنے میں مصروف تھی نازیہ بیگم نے رو رو کر اپنا حال بُرا کردیا تھا ماریہ کو اُنہیں سنبھالنا مشکل لگ رہا تھا فیضان صاحب شرمندگی کے احساس سے اپنا سر جھکائے بیٹھے تھے طوبیٰ کو اِس حال میں دیکھ کر اُن کو اپنی ساری نادنیاں غلطیاں یاد آگئ تھی جس سے اُن کو خود سے نفرت محسوس ہورہی تھی۔
ڈاکٹر میری بیوی اور بچہ کیسے ہیں دونوں۔ڈاکٹر وارڈ سے باہر آئی تو ارمغان فورن سے اُن کے پاس آیا ڈاکٹر نے افسوس سے ارمغان کی بکھری حالت دیکھی تھی پھر پیچھے دیکھا جہاں نرس کمبل میں لپیٹا وجود اُٹھائے کھڑی تھی کجھ غلط ہونے کا احساس ارمغان کو شدت سے ہورہا تھا پر وہ یقین نہیں کرنا چاہتا تھا۔
سوری ہم آپ کے بچے کو نہیں بچا پائے آپ کی بیوی کی حالت بھی زیادہ ٹھیک نہیں آپ کو اُن کی اِس کنڈیشن میں بہت زیادہ خیال کرنا تھا پر خیر اللہ کو جو منظور۔ڈاکٹر پیشورانہ انداز میں کہتی چلی گئ ارمغان دیوار سے پشت ٹیکاتا کھڑا ہوگیا وہ چاہ کر بھی اپنی آنکھوں کے کونے کو نم ہونے سے بچہ نہیں پایا۔
بیٹا تھا۔زرغونہ بیگم نے نازش بیگم سے کہا جو رونے میں مصروف تھی۔
ابھی تو پانچ ماہ ہوئے تھے ایسا کیوں ہوا۔نازیہ بیگم غمگین لہجے میں بولی
بس اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی آپ بس اب طوبیٰ کے لیے دعا کرو اُس کو آپ کی دعا کی ضرورت ہے۔زرغونہ بیگم اُن کو اپنے ساتھ لگاتی بولی۔
ارمغان بھائی آپ کو ہمت کرنی ہے اور آپ ہیں کے ہمت ہار بیٹھے ہیں۔ماریہ ارمغان کے پاس آتی بولی جس پہ ارمغان نے کوئی جواب نہیں۔
بھائی
بھائی
سوری میں ڈیڈ کے ساتھ ضروری میٹنگ پہ تھا اِس لیے آنے میں دیر ہوگئ بھابھی تو ٹھیک ہیں نہ۔ہاد کوریڈور میں آتا پریشانی سے ارمغان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتا بولا اُس کو جیسے یہ بات پتا چلی تھی وہ فورن یہاں آگیا تھا۔
آپی ابھی خطرے سے باہر نہیں آپ دعا کریں۔ارمغان کے بجائے ماریہ نے جواب دیا ہاد نے ارمغان کو دیکھا جو سپاٹ تاثرات لیے کھڑا تھا اُس کو اپنے بھائی کی حالت پہ ترس آیا۔







یہاں بیٹھ کریں ناشتہ کرنے کے لیے ارسلہ سے کہیں۔سادیہ بی ڈائینگ ہال سے ارسلہ کا ناشتہ نکالنے لگی تو مہتاب خان نے سنجیدگی سے کہا سادیہ بی نے کجھ حیرانی سے مہتاب خان کو دیکھا نازش کے ہاتھ تھمے تھے اپنے باپ کی بات پہ اتنے سالوں بعد اُس نے پہلی دفع اُن کے منہ سے ارسلہ نام سنا تھا۔
اُس کو عادت نہیں یہاں کھانا کھانے کی پر تمہیں اتنے سالوں بعد احساس ہوگیا ہے تو میں کہتی ہوں اُس سے۔سادیہ بی اپنی خوشی چُھپاتی سنجیدگی کا لبادہ اُڑھ کر بولی۔
ڈیڈ آپ نے اُس کو یہاں آنے کا کیوں کہا؟سادیہ بی کے جانے کے بعد نازش نے مہتاب خان سے کہا
ناشتہ کریں تاکہ یہاں اور تم اُس سے کجھ مت کہنا۔مہتاب خان نے جواب دینے کے بعد وارن کیا
آپ کو اچانک اُس منہوس کے لیے ہمدردی کیسے ہونے لگی آپ شاید بھول رہے ہیں اُس کی وجہ سے میں اپنی ماں سے دور ہوئی اور آپ اپنی محبت سے۔نازش مٹھیاں بھینچ کر بولی۔
بہن ہے وہ تمہاری ماضی میں جو کجھ ہوا اُس میں قصور ارسلہ کا نہیں میری سوچ کا ہے جس سے تم بھی اپنی بہن سے بدذن ہوگئ ہے مگر جو ہوگیا سو ہوگیا جانے والا وقت لوٹ کر تو نہیں آسکتا مگر جو اب ہے اُس کو میں خوبصورت بنانا چاہتا ہوں ارسلہ کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئی ہے اُس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہوں میں۔مہتاب خان کے لہجے میں پچھتاوہ بول رہا تھا۔
اسلام علیکم گُڈ مارننگ۔نازش کجھ کہنے والی تھی پر شہریار کو آتا دیکھ کر خاموش ہوگئ۔
وعلیکم اسلام اینڈ گڈ مارننگ۔مہتاب خان نے خوش اسلوبی سے اُس کے سلام کا جواب دیا۔
ارے واہ آج تم کیسے یہاں کا راستہ بھول گئ۔ارسلہ کو ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھتا دیکھ کر شہریار نے شرارت سے کہا ارسلہ نے چور نظروں سے مہتاب خان کو دیکھا جو بظاہر تو ناشتہ کررہے تھے پر اُن کا فوکس وہ دونوں تھے۔
شہریار خاموشی سے ناشتہ کرو اور ارسلہ کو بھی کرنے دو۔سادیہ بی نے گھور کر کہا جس پہ شہریار مسکراکر ارسلہ کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پہ سکون چھایا ہوا تھا البتہ اُس کو بیٹھتا دیکھ کر نازش اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئ تھی۔







عالمگیر اِس وقت ہاد کے ساتھ ہسپتال موجود تھا طوبیٰ کی طرف سے ابھی تک ڈاکٹر نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا جیسے جیسے وقت گُزرتا جارہا تھا ارمغان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہورہا تھا اپنی آنے والی اولاد کا صدمہ تو وہ برداشت کرگیا تھا جس کے لیے اُس نے بہت سے خواب دیکھے تھے پر طوبیٰ کو کھونے کا تصور ہی اُس کی جان نکال رہا تھا
ارمغان نے کجھ کھایا ہے؟عالمگیر نے ہاد سے پوچھا۔
کل سے ایک گھونٹ پانی تک کا نہیں پیا۔ہاد نے افسوس سے بتایا۔
تو تم اُنہیں کھانے کے لیے کہو نہ۔عالمگیر پریشانی سے بولا
تمہیں لگتا ہے میں نے نہیں کہا ہوگا سب نے بہت کہا ہے پر وہ تو جیسے نہ بولنے کی قسم کھائے ہوئے ہیں۔ہاد گہری سانس خارج کرتا بولا۔
ایسے تو وہ اپنی حالت خراب کرلیں گے مانا کے اُن کے لیے صدمہ بہت بڑا ہے پر خود سے ایسے غافل ہونا کہا کی دانشمندی ہیں۔عالمگیر ترحم بھری نظروں سے ارمغان کو دیکھتا بولا
تم اگر بھائی کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔ہاد نے چہرہ عالمگیر کی جانب کیے سوال پوچھا
پتا نہیں جب وقت آتا تب دیکھا جاتا ایسے پہلے کجھ کیا کہہ سکتا ہوں۔عالمگیر کندھے اُچکاکر کہا تو ہاد نے نفی میں سرہلایا۔





زرنور اپنے کمرے میں بیٹھی عالمگیر کے بارے میں سوچ رہی تھی اُس دن کے بعد عالمگیر سے اُس کا سامنا نہیں ہوا تھا جہاں اُس بات پہ دل میں اطمینان آیا تھا فکرمندی بھی ہورہی تھی کے آخر دو دنوں سے اُس نے کوئی میسج یا کال کیوں نہیں کیا تھا وہ عالمگیر کو سوچنا نہیں چاہتی تھی پر غیرشعوری طور پہ اُس کی سوچو کا مرکز عالمگیر بنتا جارہا تھا۔
آجائے۔دروازہ نوک ہونے پہ اُس نے کہا
ہائے کیسی ہو؟سیف مسکراکر اندر آتا حال دریافت کرنے لگا۔
میں ٹھیک۔زرنور اُس کے چہرے کا جائزہ لیتی بولی احسان صاحب کے بات کرنے کے بعد اُس نے سوچا تھا سیف اُس کے مطلق کوئی بات ضرور کرے گا پر سیف کا رویہ ویسے کا ویسے تھا دوستانہ کبھی کبھی اُس کو شک ہوتا کے شاید سیف ساری بات سے لاعلم تھا۔
کمرے تک خود کو محدود کرلیا ہے طبعیت تو ٹھیک ہے نہ۔سیف نے نرمی سے پوچھا
ہاں طبعیت ٹھیک ہے باہر جانے کو دل نہیں کرتا اِس لیے پر آج سوچ رہی ہوں اپنی فرینڈ کی طرف جاؤں۔زرنور نے مسکراکر کہا۔
ٹھیک ہے اگر تمہیں کوئی ایشو نہ ہو تو میں ڈراپ کردوں گا تمہیں۔سیف نے خوشدلی سے کہا تو زرنور نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔






میں اندر آسکتا ہوں؟ارسلہ اسائمنٹ بنارہی تھی جب مہتاب خان کمرے کے دروازے پہ نوک کرتے بولے ارسلہ بے یقین نظروں سے اپنے کمرے کے پاس اُن کو دیکھنے لگی جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہوں اُن کی موجودگی کا مہتاب خان کو اپنا آپ زمیں دھنستا محسوس ہورہا تھا ارسلہ کی آنکھوں میں بے یقینی اور حیرانگی دیکھ کر۔
ج جی ڈی ڈیڈ۔ارسلہ بیڈ سے اُترتی بولی اُس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا دل خوش گمان ہونے لگا تھا۔
کیا کررہی تھی؟مہتاب خان کو کجھ اور سمجھ نہیں آیا تو یہی پوچھ لیا۔
کالج کا کام کررہی تھی۔ارسلہ نے جواب دیا
کھڑی کیوں ہو بیٹھ جاؤ باپ ہوں تمہارا۔مہتاب خان نے اُس کو کھڑا دیکھا تو ہلکہ سا مسکراکر بولے۔
جی۔ارسلہ یہ کہتی فاصلے پہ بیٹھ گئ۔
میں جانتا ہوں تمہارے معاملے میں بہت کھٹور پن کا مظاہرہ کرچُکا ہوں تمہارا بچپن میری وجہ سے بے رونق سا ہے تمہارے حصے کا پیار تمہارے حصے کا وقت میں نے کبھی تمہیں نہیں دیا ہمیشہ محروم رکھا تمہاری معصومیت کو نظرانداز کرگیا یہ تک فراموش کرگیا تم نے بھی اپنی ماں کھوئی ہے جب تم ایک منٹ کی بھی نہیں تھی میری اور تمہاری ماں کی پسند کی شادی تھی۔مہتاب خان کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ آگئ تھی پُرانے دنوں کے بارے میں سوچتے ہوئے ارسلہ غور سے اُن کا چہرہ دیکھنے لگی اُس کو اچھا لگ رہا تھا مہتاب خان کو سننا اُس کی سالوں پرانی خواہش پوری ہوگئ تھی کے اُس کا باپ اُس کے ساتھ بیٹھے اُس سے باتِین کریں اور اُس کو وقت دے۔
کالج لائیف سے میں تمہاری ماں کو چاہتا تھا پر ہمارا ساتھ شاید کم تھا اِس لیے تو شادی کے سات سال بعد مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئ تمہاری پیدائش سے پہلے ڈاکٹر نے کہہ دیا تھا کے کجھ پیچیدگیاں ہیں وہ بچہ گِرادے پر وہ نہیں مانی میرے لاکھ کہنے کے باوجود بھی پھر وہ ہوا جس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا نازش میرا عکس ہے جب کی تم اپنی ماں کا عکس ہو صرف چہرے سے نہیں ہر لحاظ سے جس کا اندازے مجھے اب ہورہا ہے میں نے کوشش کی تھی نازش کو بھی ویسا بنانے کی جیسا تم لوگوں کی ماں چاہتی تھی پر نازش کو یہ سب پسند نہیں تھا جس پہ زبردستی میں نے بھی نہیں کی میں یہاں اتنے سالوں بعد تمہارے پاس آیا ہوں اِس اُمید کے ساتھ کہ تم اپنے باپ کو معاف کردوں گی۔مہتاب خان نے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑنے چاہے ارسلہ نے تڑپ کر اُن کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھ دیئے۔
ڈیڈ یہ آپ کیا کررہے ہیں کیوں مجھے گنہگار بنارہے ہیں میں آپ کی بیٹی ہوں بیٹیاں تو باپ کا مان باپ کا غرور ہوتی ہیں مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں بلکہ آپ کو یہاں دیکھ کر جو کیفیت میں محسوس کررہی ہوں وہ میں آپ کو بتانا چاہوں بھی تو نہیں بتاسکتی اِس لیے پلیز آپ پُرانی باتوں کو بھول جائے۔ارسلہ نے نم لہجے میں کہا مہتاب خان نے نرمی سے اُس کی آنکھیں صاف کیے اپنے ساتھ لگایا۔
تمہارا دل بہت وسیع ہے ارسلہ کاش میں قسمت کا لِکھا ہوا سمجھ کر تمہیں قصوروار نہ سمجھتا۔مہتاب خان ندامت بھرے لہجے میں کہا۔
ڈیڈ میں نے کہا نہ آپ پُرانی باتیں بھول جائے میرے لیے کل نہیں آج معنے رکھتا ہے آج میرے ساتھ آپ ہیں مجھ سے پیار سے بات کررہے ہیں میرے لیے یہ بہت ہے اگر آپ بار بار ایسے بات کرے گے تو میں نے ناراض ہوجانا ہے۔ارسلہ نے لاڈ سے کہا تو مہتاب خان ہنس پڑے۔ارسلہ دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے لگی جس نے آج اتنے سالوں بعد باپ کی شفقت بخشی تھی بیشک مشکل کے بعد آسانی ہے۔







دو دنوں بعد طوبیٰ کی حالت ٹھیک ہوئی تھی جب سے اُس کو ہوش آیا تھا سب باری باری اُس کا حال دریافت کرررہے تھے اپنے بچے کے ضائع ہونے کا سن کر جتنا وہ روئی تھی سب لوگوں کے لیے مشکل ہوگیا اُس کو سنبھالنے کے لیے اب وہ بار بار وارڈ کے دروازے پہ نظر جمائے بیٹھی تھی بہت وقت ہوگیا تھا اُس کو ہوش آیا تھا ارمغان اُس سے ملنے نہیں آیا تھا وہ جانتی تھی ارمغان ضرور اُس سے ناراض ہوگا پر وہ اُس سے ملنے بھی نہیں آئے گا یہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا پہلے دکھ سب سے بڑا تھا اُپر سے ارمغان کی لاتعلقی نے اُس کو توڑ کے رکھ دیا تھا اپنی غلطی کا احساس اُس کو شدت سے ہورہا تھا اگر وہ ارمغان کی بات مان لیتی تو آج سب بہت مختلف ہوتا۔
طوبیٰ۔فیضان صاحب کی رنجیدہ آواز سن کر طوبیٰ اپنی سوچو سے باہر آئی اپنے پاس فیضان صاحب کو بیٹھا دیکھ کر اُس کو حیرانی ہوئی کیا وہ اِتنی گم تھی اپنی سوچو میں جو کسی کی موجودگی محسوس نہیں کرپائی۔
جی ڈیڈ۔طوبیٰ زبردستی مسکراہٹ سجاکر بولی
مجھے معاف کردے یہ سب میری وجہ سے ہوا۔فیضان صاحب نے ہاتھ جوڑ کر کہا طوبیٰ جلدی سے اُن کے ہاتھ نیچے کرنے چاہے پر ایسا کرنے سے اُس کو اپنے پیٹ میں شدید درد کا احساس ہوا۔
آ آ آ۔
اُس کی کراہ پر فیضان صاحب اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کے پاس آئے۔
درد ہورہا ہے ڈاکٹر کو بلاؤ؟فیضان صاحب نے پریشانی سے کہا
نہیں ڈیڈ آپ یہاں بیٹھے۔طوبیٰ اُن کا ہاتھ تھامتی بیٹھنے کا اِشارہ کرتی بولی
آپ معافی مت مانگے میری قسمت میں پہلے بچے کی خوشی نصیب نہیں تھی اِس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔طوبیٰ نے آہستہ آواز میں کہا
تمہیں نہیں پتا میرا مقصد تمہیں اپنے ساتھ لیکر ارمغان سے دور کرنا تھا تاکہ جب تمہارا بیٹا ہو تو میں اُس کو اپنے ساتھ رکھتا ارمغان تمہیں اور اپنا بچہ کھودیتا تو میرا بدلا پورا ہوجاتا پر خدا کا کرنا دیکھو میری ناپاک سوچ کی سزا تمہیں ملی۔فیضان صاحب کی آنکھوں کے گوشے نم ہوگئے تھے اپنے باپ کی بات پہ طوبیٰ کو لگا وہ اب دوبارہ سانس نہیں لے پائے گی مگر اُن کی شرمندگی دیکھ کر اُس نے کہا
ڈیڈ ایسا ہونا تھا اور وہ ہوگیا آپ کی وجہ سے نہ تو میری وجہ سے یا کسی اور کی وجہ سے۔طوبیٰ کی بات پہ فیضان صاحب نے اُس کی طرف دیکھا
میں تمہارے سامنے نظر اُٹھانے کے لائق تو نہیں پر اپنے بدنصیب باپ کو معاف کردینا۔اب کی طوبیٰ کی آنکھوں سے بھی آنسو لڑیوں کی مانند بہتے چلے گئے۔








ہاد ایک بار سوچ لو پلیز ایسے کسی اور کے لیے انکار مت کرو۔نازش ہاد کو کال کرتی بے بسی سے بولی۔
نازش پلیز تم مجھے سمجھنے کی کوشش کرو میرا ساتھ تمہیں سوائے اذیت کے اور کجھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہاد اپنی پیشانی مسلتا بولا
تم مجھے ایک بات واضح طور پہ بتاٶ تم ارسلہ سے محبت کرنے لگے ہو نہ اس کی وجہ سے میرا وجود میری فریادیں تمہیں نظر نہیں آرہی۔نازش بڑی مشکل سے اپنا لہجہ نارمل کرتی بولی۔ہاد ارسلہ کی بات پہ کشمکش میں مبتلا ہوگیا اُس کو سمجھ نہیں آیا نازش سے کیا کہے پر ایک نہ ایک دن تو بات سب کو پتا چل جانی تھی۔
نازش
جھوٹ مت بولنا۔نازش نے پہلے سے وارن کیا۔
ہاں میں محبت کرتا ہوں ارسلہ سے اُس کے علاوہ کسی اور کا خیال بھی میرے دماغ میں نہیں آتا میں اُس کو پانا چاہتا ہوں میں اُس کے بنا نہیں رہ پاؤں گا پلیز تم مجھے سپورٹ کرنا۔ہاد کی اِتنی بات پہ نازش کو اپنا ضبط ٹوٹتا محسوس ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایم سو ہیپی فار یو۔زرنور زور سے ارسلہ کو ہگ کرتی بولی
تمہیں پتا ہے مجھے اب تک اپنی قسمت پہ یقین نہیں ہورہا میرے ڈیڈ اب میرے ساتھ ویسے ہیں جیسا میں ہمیشہ سے چاہتی آرہی تھی۔ارسلہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی۔
پاگل میں نہ کہتی تھی ہر چیز کا وقت ہوتا ہے زندگی میں اگر کبھی مشکلیں آتی ہیں تو اللہ بعد میں آسانیاں بھی دیتا ہے تاعمر کے لیے سب کجھ نہیں ہوتا اب دیکھنا تمہاری زندگی میں خوشیوں کی بہار ہوگی۔زرنور نے صدق دل سے کہا
بس آپی کا رویہ بھی ٹھیک ہوجائے۔ارسلہ گہری سانس خارج کرتی بولی۔
ہوجائے گا فکر نہیں کرو۔زرنور نے تسلی دی۔








زرنور ارسلہ کے گھر سے نکلتی واپس اپنے گھر جارہی تھی جب ایک گاڑی اُس کی گاڑی کے آگے آئی زرنور گاڑی سے اُتر کر باہر آئی تو عالمگیر تھا اُس کو دیکھ کر زرنور واپس گاڑی میں بیٹھنے والی تھی پر عالمگیر نے ایک ہی جست میں اُس کو جارلیا۔
بھاگ رہی ہو مجھ سے۔عالمگیر اُس کا بازوں پکڑ کر بولا
میں بھاگنے والوں میں سے نہیں۔زرنور مضبوط لہجے میں بولی
محبت کرتی ہو نہ مجھ سے۔عالمگیر اُس کے کان کے پاس جھکتا بولا زرنور نے زور سے اپنی آنکھین میچ لی۔
نہیں۔عالمگیر کو دور کرتی وہ بس اتنا بول پائی۔
جھوٹ بولنے والا دوزخ میں جاتا ہے اِس لیے سچ بولو۔عالمگیر شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
ایک بار نہیں کہا تو مطلب نہیں بار بار فورس کرنے پہ میرا جواب ہاں نہیں ہوجائے گا۔زرنور نے گھور کر کہا۔
تم مجھے سے محبت کرتی ہو۔عالمگیر اُس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ کر دلکش انداز میں بولا۔
نہیں کرتی۔زرنور نظریں چُراکر بولی
کرتی ہوں
نہیں کرتی
کرتی ہو
نہیں کرتی
یو لو می
آے ڈونٹ
کرتی ہو
نہیں کرتی
کرتی ہو۔
نہیں کرتی۔
اچھا نہیں کرتی
کرتی ہوں۔زرنور کے منہ سے بے ساختہ پھسلا عالمگیر کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آگئ تھی بالآخر اُس نے زرنور کے منہ سے سچ اُگلوا لیا تھا
جانتا تھا۔عالمگیر کالر جاڑ کر بولا
تم نے مجھے اُلجھایا ورنہ ایسا کجھ نہیں۔زرنور نے اپنا بھر رکھنا چاہا۔
یو لو می آے نو۔عالمگیر اپنی بات پہ قائم تھا زرنور زور سے اُس کو پرے کرتی اپنی گاڑی میں بیٹھ گئ۔
اُس کی گاڑی کو دور ہوتا دیکھ کر عالمگیر مسکرا رہا تھا۔







دیکھادی نہ اپنی اوقات چھین لیا نہ مجھ سے میرا پیار۔نازش دندناتی ارسلہ کے سر پہ کھڑی ہوتی بولی۔
یہ آپ کیا کررہی ہیں؟ارسلہ ناسمجھی سے اُس کا چہرہ دیکھ کر بولی
میرے سامنے یہ معصومیت کا ڈرامہ مت کرو سب جانتی ہوں منہوس تو تھی پر آوارہ ہوگی اِس بات کا بھی اب یقین ہوگیا۔نازش زہرخند لہجے میں بولی۔
چٹاخ۔
ارسلہ جو اپنے کردار پہ لگے وار پہ نہیں سنبھلی تھی اچانک مہتاب خان کا نازش پہ ہاتھ اُٹھانا اُس کو مزید پریشان کرگیا۔
ڈیڈ۔نازش اپنے گال پہ ہاتھ رکھتی بے یقینی نظروں سے مہتاب خان کو دیکھنے لگی جن کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہوگیا تھا
میری تربیت ایسی تو نہ تھی جو تم اپنی چھوٹی بہن پہ اِس طرح کا گھٹیاں بہتان لگاؤ پتا بھی ہے کتنا بڑا گناہ ہے کسی کے کردار پہ بہتان لگانا وہ بھی بے قصور پہ بے قصور پر بہتان لگانا آسمان سے بھی زیادہ بھاری گُناہ ہے۔مہتاب خان آج پہلی بار نازش سے تیز آواز میں بات کررہے تھے ارسلہ اپنے منہ ہاتھ رکھتی وہاں سے بھاگ گئ۔
آپ کو کجھ نہیں پتا ہاد مجھ سے اب شادی نہیں کرنا چاہتا وہ کہتا ہے اُس کو ارسلہ سے محبت ہوگئ ہے ڈیڈ ایسا کیسے ہوسکتا ہے وہ تو میرا ہے ہماری شادی ہونے والی تھی۔نازش اپنے بالوں کو جکڑتی عجیب لہجے میں بولی۔
اگر وہ نہیں کرنا چاہتا تو نہ کریں مردوں کا کونسا قال پڑگیا ہے۔مہتاب خان سرجھٹک کے بولے۔
نو ڈیڈ نو اونلی ہاد وہ میرا نہیں تو کسی کا نہیں۔نازش اٹل انداز میں کہتی باہر جانے کے لیے بڑھی مہتاب خان اُس کی حالت کی وجہ سے روکنا چاہتے تھے پر ارسلہ کا خیال آیا تو اُس کے کمرے کی طرح بڑھے۔
۔……..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نازش غصے سے ریش ڈرائیونگ کرتی جارہی تھی اُس کو اپنا سر درد پھٹتا محسوس ہورہا تھا اُس نے اسٹیئرنگ سے ہاتھ ہٹاکر اپنے سر پہ رکھنا چاہا اُس کی ایک غفلت کی وجہ سے وہ سامنے آتی گاڑی نہ دیکھ پائی اور ٹھاہ کی آواز سے دونوں گاڑیوں کا ٹکراؤ ہوگیا تھا۔
یہ یہاں بھیڑ کیوں جمع ہے؟سیف پولیس اسٹیشن سے سیدھا گھر جارہا تھا جب اُس نے لوگوں کو جمع دیکھا تو پوچھا
ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ایک آدمی نے بتایا
واٹ تو تم سب ایمبولینس بولانے کے بجائے یہاں تماشا دیکھ رہو۔سیف اُن کو ملامت کرتا ایک نمبر ڈائل کرنے لگا اُس کے بعد اُس کا اِرادہ ایکسیڈنٹ ہونے والی جگہ پہ جانے کا تھا





طوبیٰ ڈسچارج ہوکر گھر واپس آگئ تھی پر ارمغان نے اُس سے کوئی بات نہیں کی تھی رات کو دیر سے کمرے میں آتا اور صبح اُس کے جاگنے سے پہلی چلا جاتا۔
ارمغان۔ارمغان اپنی فائل لینے گھر آیا تو طوبیٰ موقعے کو غنیمت جانتی اُس سے بات کرنے کا سوچا۔
پلیز۔ارمغان اُس کو نظرانداز کرتا جانے لگا جب طوبیٰ نے اُس کا بازوں تھام کر التجا کی۔ارمغان نے ایک نظر اپنے بازوں پہ رکھے اُس کے ہاتھ پہ ڈالی دوسری اُس کے مرجھائے چہرے پہ۔
بولوں۔ارمغان سرد لہجے میں بولا
آپ ناراض ہیں مجھ سے۔طوبیٰ نے نم لہجے میں پوچھا
تمہیں اُس سے کیا۔ارمغان بنا دیکھے بولا
آپ نے اکیلے نہیں میں نے بھی اپنا بچہ کھویا ہے۔طوبیٰ نے شکوہ کیا
اپنی نادانی اور غفلت کی وجہ سے سمجھی تم۔ارمغان غصے سے بولا
ارمغان سوری۔طوبیٰ مجرمانہ انداز میں بولی
واٹ سوری تمہارے سوری کرنے سے میرا بچہ واپس مل جائے گا۔ارمغان سینے پہ بازوں باندھ کر سنجیدگی سے بولا
نہیں۔طوبیٰ سرجھکا کر بولی
تو میں کیا کروں تمہارے اِس سوری کا میرے منع کے باوجود تم باہر کیوں آئی صبر نہیں ہوا۔ارمغان نے اُس کو جھنجھوڑ کر کہا
ارمغان پلیز مجھ سے ایسے بات مت کریں مجھے تکلیف ہورہی ہے۔طوبیٰ روتے ہوئے اُس کے چہرے پہ ہاتھ رکھتی بولی۔
جو دو دن میں تڑپہ ہوں جس اذیت کی انتہا پہ گُزرا چُکا ہوں وہ کیا اُس کا جواب کون دے گا۔ارمغان نے اُس کو نئ مشکل میں ڈالا
ارمغان میں اب آپ کی ہر بات مانوں گی آپ جو کہے گے وہ کروں گی آپ بس اپنی ناراضگی ختم کردے آپ کی بات ناماننے کی سزا بہت بڑی میں حاصل کرچکی ہوں پر آپ کی یہ بے رخی میری جان نکال رہی ہے۔طوبیٰ نے التجا کی۔
تمہیں معاف کرنا ابھی میرے اختیار میں نہیں۔ارمغان نے سنگدلی کا مظاہرہ کیا۔
ارمغان نے آپ نے تو ہمارے بچے کا آخری دیدار کیا میں نے تو اُس کا لمس تو کیا ایک سیکنڈ کا دیدار بھی نہیں کیا پھر بھی آپ میرے ساتھ ایسے کررہے ہیں۔طوبیٰ اپنے آنسو پیتی شکوہ کناں نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی
وہ بچہ جس کو تمہاری کوکھ میں پلے نو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے۔ارمغان طنزیہ بولا۔
ارمغان
بس طوبیٰ تمہیں اپنے باپ سے بہت محبت ہے ہونی بھی چاہیے آخر ماں باپ کا مقام ہی اتنا بلند ہے تمہارا دل بھی کرتا ہے اُن کی طرف جانے کا تو میری طرف سے اِجازت ہے جتنا وقت چاہو وہاں رہ سکتی ہو۔ارمغان طوبیٰ کی بات بیچ میں ٹوکتا حکم دیتا وہاں سے چلاگیا پیچھے طوبیٰ ساکت سی ارمغان کی باتوں کو سوچنے لگی۔








مہتاب خان کو انون نمبر سے کال آئی تھی پھر جو انہوں نے سُنا وہ اُن کی جان نکالنے کی صلاحیت رکھتا تھا وہ ارسلہ کو اپنے ساتھ لیکر ہسپتال روانہ ہوئے کال پہ اُن کو نازش کے ساتھ ہوئے حادثے کا بتایا گیا تھا سارا راستہ اُن کو دھڑکا لگا رہا ارسلہ روتے ہوئے نازش کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی جب کی شہریار واپس لوٹ گیا تھا ساتھ میں سادیہ بی کو بھی لے گیا تھا وہ جانا تو نہیں چاہتی تھی پر شہریار کے بار بار اِسرار کرنے پہ وہ منع نہیں کرپائی۔
ہسپتال آکر مہتاب خان رسپیشن پہ آکر ایکسیڈنٹ میں آنے والے مریض کے بارے میں پوچھا وارڈ نمبر پتا چلتے وہ وہاں کی طرف گئے
میری بیٹی کیسی ہے؟مہتاب خان نے خوفزدہ لہجے میں پوچھا ان کو ملال نے آ گھیرا تھا صبح اُس کے ساتھ ہونے والی تکرار پھر یہ سب
سیف جو خاموش بیٹھا اُن کی جانب متوجہ ہوا نازش کو ہسپتال وہ لیکر آیا نازش کا چہرہ کجھ خراب تو ہوا تھا پر سیف اُس کو ایک نظر میں پہچان گیا تھا پہلی ملاقات پھر دوسری ملاقات ایسی جان کر اُس کو حقیقتاً نازش کے لیے دلی ہمدرد محسوس ہورہی تھی۔
آپ اُن پیشنٹ کے کیا لگتے ہیں!ڈاکٹر نے سوال کیا۔
بیٹی ہے وہ میری۔مہتاب خان نے فورن سے جواب دیا۔
جی اُن کی حالت ابھی اسٹیبل نہیں۔ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں جواب دیا
ڈیڈ پلیز حوصلہ کریں۔ارسلہ اُن کے کندھے پہ ہاتھ رکھتی غمزدہ ہوتی بولی۔







ہاد۔
عالمگیر ہاد کی آفس کے کیبن کا دروازہ دھڑام سے کھولتا اندر آتا اُس کا نام لیا۔
کیا ہوا اتنے بوکھلائے ہوئے کیوں ہو؟ہاد تعجب سے بولا
ہاد وہ نازش کا بہت بُرا ایکسڈنٹ ہوا ہے۔عالمگیر نے پریشانی سے کہا
کیا مطلب کب کیسے؟ہاد شد ہوتا بولا
پتا نہیں میں ہوسپٹل جارہا ہوں تمہیں چلنا ہے ساتھ تو چلو۔عالمگیر نے کہا
ہاں کیوں نہیں چلو۔ہاد ٹیبل سے اپنا سیل فون اُٹھاتا بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمگیر کے قدم ہوسپٹل میں بیٹھے سیف کو دیکھ کر ٹھٹکے تھے مگر ماحول دیکھ کر اُس نے نظرانداز کیا۔
انکل یہ سب کیا۔ہاد مہتاب خان کے ساتھ بیٹھ کر بولا جو خاموش سے تھے۔
بس بیٹا دعا کرو میری بچی ٹھیک ہوجائے۔مہتاب خان سرد سانس خارج کرتے بولے۔
آپ کو ڈاکٹر نے کجھ بتایا کیسی ہے کنڈیشن اُس کی؟ہاد نے دوسرا سوال کیا۔
ابھی کجھ بتا نہیں رہے مگر جس گاڑی سے اُس کا ٹکر ہوا تھا وہ اُسی وقت اپنا دم توڑگیا میری بیٹی پر اللہ اپنا کرم فرمائے۔مہتاب خان کے دل کو دھڑکا سا لگا تھا۔
فکر مت کریں اللہ سب بہتر کرے گا۔ہاد نے اُن کو حوصلہ دینا چاہا تب تک ارسلہ جو پرے روم میں تھی وہ بھی وہاں آگئ ارسلہ کی سوجھی سرخ آنکھیں دیکھ کر ہاد کا دل ڈوب کے اُبھرا۔
آپ کا بہت شکریہ آپ میری بہن کو وقت پہ ہوسپٹل لیکر آئے اور پولیس کیس ہونے سے بھی بچایا ورنہ زیادہ وقت تو ایسے ہی برباد ہوجاتا ہے۔ارسلہ نے مشکور نظروں سے سیف کو دیکھ کر کہا
اِس میں شکریہ کی کیا بات انسانیت کے لحاظ سے یہ میرا فرض تھا اور میں خود پولیس مین ہوں تو بس اللہ نے وسیلہ بنایا۔سیف ارسلہ کی آواز پہ چونک کر بولا۔
بیٹا اب آپ جاسکتے ہیں آپ نے ہماری بہت مدد کی اُس کا شکریہ۔مہتاب خان سیف سے بولے۔
جی انکل۔سیف بس یہ بول پایا واپس جانے کے لیے اُس کا دل نہیں مان رہا تھا تب تک جب تک ڈاکٹر نازش کے بارے میں کوئی بات نہیں بتاتا۔
آپ روئے نہیں۔ہاد نے ارسلہ کو دیکھ کر بے بسی سے کہا۔
میں رونا نہیں چاہتی پر رونا آرہا ہے آپ دعا کیجئے گا آپی ٹھیک ہوجائے۔ارسلہ نے اپنی نم آنکھیں صاف کیے کہا۔
میں کروں گا ہم سب کر بھی رہے ہیں پر رونے سے کیا ہوگا ابھی نازش کو ہماری دعاؤں کی ضرورت ہے انکل کو دیکھو وہ کتنے خاموش سے ہیں ایسے میں تم بھی اگر روؤ گی تو اُن کو کون حوصلہ دے گا۔ہاد نے ارسلہ کا دھیان مہتاب خان کی جانب کروایا
میں نہیں روتی اب۔ارسلہ اپنا چہرہ صاف کیے معصومیت سے کہا تو ہاد نے بے اختیار نظریں چُرائی۔










ارمغان گھر میں آیا تو گھر میں سناٹا سا محسوس ہوا اُس کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا اپنی طوبیٰ سے کہی بات یاد آئی تو وہ بھاگنے والے انداز میں کمرے میں داخل ہوا جہاں بیڈ پہ طوبیٰ کمفرٹیبل اُڑھے سکون سے سورہی تھی طوبیٰ کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اُس نے گہری سانس لی پھر واشروم چلاگیا فریش ہونے کے لیے دروازہ بند ہونے کی آواز سے طوبیٰ کی آنکھ کُھل گئ۔
ارمغان بیس منٹ بعد واشروم سے آیا تو طوبیٰ کو جاگتا دیکھا تو نظرانداز کرتا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
آپ کے لیے کھانا لگاؤ؟طوبیٰ ہاتھوں کی انگلیاں مڑورتی ارمغان سے مخاطب ہوئی۔
گھر میں سب کہاں ہیں؟ارمغان اُس کا سوال نظرانداز کرتا پوچھنے لگا۔
وہ میں آپ کو بتانا بھول گئ ہاد کی جو دوست ہے نازش اُس کا ایکسڈنٹ ہوگیا ہے تو سب ہوسپٹل گئے ہوئے ہیں۔طوبیٰ نے بتایا تو ارمغان کو یقین نہ آیا۔
واٹ ایکسیڈنٹ۔ارمغان کو لگا شاید اُس نے غلط سُنا ہو۔
جی صبح سے وہی ہے ہاد اور اب چچی جان اور چچا جان بھی گئے۔طوبیٰ نے بتایا۔
رات ہوگئ ہے کسی نے کجھ بتایا کیوں نہیں مجھے وہ بس ہاد کی دوست نہیں اُس کی منگیتر بھی ہے۔ارمغان پریشان سا ہوگیا
آپ کو کیا بتاتے آپ کونسا ڈاکٹر ہیں۔طوبیٰ کے منہ سے بے ساختہ پھسلا تو ارمغان نے گھور کر اُس کو دیکھا جس پہ طوبیٰ نے کمرے سے باہر جانے میں عافیت جانی۔
