Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Episode 12)

Be Khudi by Rimsha Hussain

آپ کو کجھ اور چاہیے؟ارسلہ نے ناشتے کے بعد نازش سے پوچھا

نہیں شکریہ۔نازش آہستہ آواز میں بولی اُس کو ارسلہ سے شرمندگی ہوتی تھی پچھتاوے کے احساس نے اُس کو چاروں طرح گھیرلیا تھا جس سے اُس کو اپنے اندر آئے دن بے چینی محسوس ہوتی۔

اگر کجھ چاہیے تو بتادیجئے گا۔ارسلہ نے نرم مسکراہٹ سے کہا

ایک بات بتاؤ تمہیں سگنگ کرنی آتی ہے نہ۔نازش کو اچانک یاد آیا تو کہا

ہاں بس وہ شوقیہ طور پہ کرلیا کرتی تھی۔ارسلہ نے سادہ لہجے میں بتایا۔

آج مجھے شوق ہوا ہے تمہاری آواز سننے کا کیا تو میرے لیے گانا گاؤ گی۔نازش نے آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

کیوں نہیں۔ارسلہ بس اتنا بول پائی۔

شکریہ میرا پسندیدہ گانا۔نازش نے فرمائش کی۔

میں اپنا گِٹار لاؤ۔ارسلہ کہہ کر کمرے سے باہر گئ

Sang murshad maahi

Paich larha main nay

Mai nay ishq ko murshad

Maan lia

Ye ishq hai Dhada

Saain bara yeh

Yeh ishq hai

Peer karha

Yeh ishq hai

Peer karha

Yeh ishq hai

Peer karha

ارسلہ اپنے کمرے سے گِٹار لیکر آئی تو نازش نے مسکراکر اُس کو دیکھا جس پہ جواباً ارسلہ مسکراتی اُس کا فیورٹ سونگ گانے کی شروعات کرنے لگی۔

Jab ishq ki mouj mein

Pair para

To jag bhar say phir

bair barha

Mojh matti sang

Doob chala

Mera kacha

Ishq garha

Ye ishq hai Dhada

Saain bara yeh

Yeh ishq hai

ارسلہ جو آنکھیں بند کیے گانے میں مصروف تھی کلک کی آواز پہ جھٹ سے اپنی کھولی تو سامنے دروازے کے عین وسط ہاد کو کھڑا پایا جو پرشوق نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا ارسلہ اپنا گِٹار اُٹھاتی جانے لگی جب نازش نے کہا

گانا تو پورا کرو۔

مجھے بس یہی تک آتا ہے۔ارسلہ ہاد کو نظرانداز کرتی بولی وہ بس یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔

کیسی ہو۔ہاد ارسلہ کے جانے کے بعد نازش سے حال دریافت کرنے لگا

تمہارے سامنے ہوں۔نازش نے سنجیدگی سے جواب دیا

ناراضگی بجا ہے تمہارا پر میں دل کے آگے مجبور ہوں۔ہاد سرجھکاکر بولا

میری طرف سے تمہیں کوئی روک ٹوک نہیں ارسلہ کو تم اپنا سکتے ہو۔نازش کی بات پہ ہاد نے جھٹکے سے سراُٹھایا

تم سچ کہہ رہی ہو۔ہاد کو یقین نہ آیا

ہمم۔نازش بس اتنا بول پائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے دیکھ کر بھاگ کیوں گئ آپ؟ہاد نازش سے ملنے کے بعد باہر آیا تو حال میں ارسلہ نظر آئی تو سوال کیا

میں کیوں آپ سے بھاگوں گی۔ارسلہ عام لہجے میں بولی

اِس بات کا جواب تو آپ بہتر دے سکتی ہیں۔ہاد مسکراکر بولا

مجھے نہیں پتا۔ارسلہ جان چھڑوانے والے انداز میں بولی

تو کس کو پتا ہے۔ہاد شرارت سے بولا

آپ مجھ سے ایسے بات مت کریں۔ارسلہ اُٹھتی بولی۔

کیوں نہ کروں۔ہاد نے مسکراہٹ ضبط کیے کہا

کیونکہ مجھے نہیں پسند۔ارسلہ نے بتایا

تو جو پسند ہے وہ بتادے تاکہ میں وہ کہوں۔ہاد نے آرام سے کہا

میں کیوں آپ کو بتاؤ اور آج آپ کیوں مجھ سے ایسے بات کررہے ہیں۔ارسلہ تنگ آکر بولی

کیونکہ میں اب جیسے چاہے آپ سے بات کرسکتا ہوں۔ہاد کی بات پہ ارسلہ نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا۔

میں آپ کا ہاتھ انکل سے مانگنے والا ہوں نازش کو بھی کوئی اعتراض نہیں۔ہاد نے خوشی سے بتایا ارسلہ کو لگا اُس کو سننے میں کجھ غلطی ہوئی ہے۔

آپ کیا کہہ رہے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ارسلہ نفی میں سر کو جنبش دیتی بولی

کیا مطلب کیوں نہیں ہوسکتا ایسا میں محبت کرتا ہوں آپ سے۔ہاد کی خوشی پل بھر میں مانند ہوئی۔

آپ نازش آپی کے ہیں آپ پلیز اُس سے شادی کرے وہ آپ کو بہت چاہتی ہیں میں آپ کو نہیں چاہتی آپ پلیز ہمارے درمیان کجھ غلطفہمی مت لائیے گا مشکل سے آپی کا رویہ میرے ساتھ اچھا ہوا ہے۔ارسلہ پریشانی سے بولی

رلیکس ارسلہ ایسا کجھ نہیں ہوگا ٹرسٹ می نازش بھی مان گئ ہے۔ ہاد نے اُس کو سمجھانا چاہا۔

میں نہیں جانتی آپ بس آپی سے شادی کرلیں۔ ارسلہ دو ٹوک بولی

میں آپ کو چاہتا ہوں۔ ہاد اپنی بات پہ زور دے کر بولا

پر میں نہیں چاہتی یہ بات آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہی۔ارسلہ تیز آواز میں بولی۔

آپ جانتی ہیں میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور میں بھی جانتا ہوں آپ بھی مجھ سے محبت کرتی ہیں میری طرح۔ہاد اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تو ارسلہ نے بے اختیار نظریں چُرائی۔

آپ کا نظریں چُرانا اِس بات کی گواہی ہے کے آگ دونوں طرف سے ہے۔ہاد مسکراہٹ دباکر بولا تو ارسلہ بھاگنے والے انداز میں وہاں سے رفو چکر ہوئی ہاد بالوں میں ہاتھ ڈالتا مسکراکر اُس کو جاتا دیکھنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

سیف کب تم مجھے اُس لڑکی سے ملوارہے ہو ایک ماہ سے کہہ رہا ہوں اور تم ہر بار بہانا بناتے ہو اگر دل بدل گیا ہے تو بتادوں میں احسان سے تم دونوں کی بات کروں جب تک میں لڑکی اور اُس کے خاندان سے نہیں مل لیتا تب تک احسان سے بات نہیں کروں گا۔منور صاحب نے سنجیدگی سے سیف سے کہا جو ابھی پولیس اسٹیشن سے آیا تھا

ڈیڈ جلدی کیا ہے ملوادوں گا۔سیف نے کہا

میری مانوں تو اُس لڑکی کی ضد چھوڑ دو جو چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔منور حسن کی بات پہ سیف نے تڑپ کر اُن کی طرف دیکھا سیف کو ہوسپٹل سے نازش کی حالت کا پتا چل گیا تھا اُس نے پھر حس صاحب کو بھی بتادیا تھا۔

آپ ایسی بات کرکے مجھے تکلیف ہورہی ہے میں اُس لڑکی سے محبت کرتا ہوں اور میرا ایمان ہے وہ جلدی ٹھیک ہوجائے گی اگر نہ بھی ہوئی تو اُس کا ساتھ میرے لیے کافی ہوگا۔سیف نے سنجیدگی سے کہا

مرضی تمہاری میرا کام تھا تمہیں سمجھانا پر اگر تم ایسا نہیں چاہتے تو ٹھیک ہے۔منور صاحب گہری سانس بھر کر بولے۔

💕
💕
💕

زرنور احسان صاحب کے ساتھ رات کا کھانا کھارہی تھی جب کجھ توقف کے بعد احسان صاحب نے اُس کو مخاطب کیا۔

زر ایک بات پوچھنی ہے تم سے۔

جی ڈیڈ پوچھے۔زرنور پانی کا گلاس ہاتھ میں لیتی بولی۔

سیف سے شادی کے لیے تم دلی طور پہ راضی ہو یا بس میرے کہنے پہ ہاں کہی ہے۔احسان صاحب کی بات پہ زرنور کے تاثرات یکدم بدلے تھے۔

آج آپ ایسا کیوں پوچھ رہیں ہیں افکورس میں راضی ہوں۔زرنور مصنوعی مسکراہٹ سے بولی۔

زر تمہارے ساتھ نہ میں نے کل زور زبردستی کی تھی اور نہ آج کروں گا اِس لیے جو بھی بات ہے بلاجھجھک مجھ سے کہہ دو شادی ایک بہت بڑی ذمیداری ہے اور میں نہیں چاہتا اپنی زندگی کا ہمسفر چُننے کا حق میں تم سے چھینوں میرے لیے تمہاری خوشی اور تمہاری پسند اولین ترجیح ہوگی۔احسان صاحب کی بات پہ زرنور نم آنکھوں سے مسکرادی۔

ڈیڈ میں نہیں جانتی میں دلی طور راضی ہوں یا نہیں پر ایک بات جانتی ہوں جس طرح میری خوشی آپ کے لیے ضروری ہے بلکل اُسی طرح میرے لیے آپ کی خوشی ضروری ہے آپ کا ہرحکم سر آنکھوں پہ اگر آپ نے میرے لیے سیف کا انتخاب کیا ہے تو ضرور آپ نے بہتر سوچا ہوگا اِس لیے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔زرنور اپنے دل کی آواز کو دباتی مضبوط لہجے میں بولی۔

جیتی رہو۔احسان صاحب پرسکون ہوکر اُس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔

ڈنر کے بعد زرنور کمرے میں آئی تو اُس کا موبائیل بج رہا تھا اسکرین پہ عالمگیر کا نام دیکھ کر اُس نے گہری سانس لی۔

کیا مسئلا ہے۔زرنور بے زاری سے کال ریسیو کرتی بولی۔

دردِ دل کا مسئلا ہے سینے میں ایک دل ہوتا ہے جو اب کسی اور کا ہوگیا ہے ہر وقت اندر بے چینی پھیلی رہتی ہے اِس کا کوئی علاج ہیں تو بتادے۔دوسری طرف عالمگیر شریر لہجے میں بولا

دل کا مسئلا ہے تو کسی ہارٹ سرجن سے رابطہ کرو۔زرنور نے تنے ہوئے تاثرات سے کہا

افففف اب اِتنا بھی مسئلا نہیں کے سرجن کے پاس جاؤ میرا مسئلا تو پیار کا ہے جو تم سے ہوگیا ہے اے لو یو ٹو کہو تو میرا علاج ہوجائے۔عالمگیر کی بات پہ زرنور نے اپنا ماتھا مسلا۔

تمہارے پاس بس فضول باتیں ہوتی ہیں کرنے کو؟زرنور تنگ ہوتی بولی

پیار بھری رومانس سے بھرپور باتیں بھی ہیں پر یہ شادی سے پہلے کرنا زیب نہیں دیتا سو پلیز تھوڑا ویٹ۔عالمگیر اُس کو جلانے کی خاطر بولا تو زرنور غصے اور شرم سے سرخ ہوئی۔

بہت واحیات انسان ہو بے شرمی تم پہ شروع اور تم ختم ہیں۔زرنور نے غصے سے کہا

نوازش ہے آپ کی ورنہ ہم ناچیز آپ کی اِتنی تعریف کے اہل کہاں۔عالمگیر یہ بات جلے پہ تیل کا کام کیا تھا زرنور نے بنا اب کجھ کہے کھٹاک سے فون رکھ لیا

ٹوں ٹوں کی آواز پہ عالمگیر نے فون کان سے ہٹا کر دیکھا کال کٹ ہوجانے کا جان کر ہنس دیا۔

گولڈن گرل کجھ بھی ہوجائے ہونا تو تم نے میرا ہے چاہے پھر تمہارا ڈی آے جی باپ مانے یا نہ مانے۔عالمگیر تصور میں زرنور کو مخاطب کیے بولا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ارسلہ اپنے کمرے میں یہاں وہاں ٹہلتی پریشانی سے ہاد کے بارے میں سوچ رہی تھی اُس کو رہ رہ کر نازش کا عمل یاد آرہا تھا جو ایکسیڈنٹ پہ اُس نے کیا تھا

یااللہ اب میں کیا کروں گی آپی کا سامنا کیسے کروں گی وہ تو سمجھ رہی ہوگی میں نے اُن کے حق پہ ڈاکا ڈالا ہے۔ارسلہ پریشانی سے بڑبڑائی

کیوں اپنی ٹانگوں کو تھکارہی ہو خاموشی سے ایک جگہ ٹِک جاؤ۔سادیہ بی جو بہت وقت سے اُس کی کاروائی ملاحظہ فرمارہی تھی آخر بول پڑی۔

بی آپ کو پتا ہے ہاد نے کہا وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں بھلا ایسے کیسے ہوسکتا ہے کل تک تو اُن کو آپی سے پیار تھا اور آج مجھ سے آپی کیا سوچے گی میں نے اُن کے ساتھ اِتنا بڑا فراڈ کیا۔ارسلہ سادیہ بی کے پاس آتی عجیب انداز میں بولی۔

ارسلہ پہلے خود کو رلیکس کرو اور مجھے یہ بتاؤ اصل بات کیا ہے جو تمہیں پریشان کررہی ہے نازش کیا سوچے گی یہ بات یا ہاد کو تم سے محبت ہوگئ ہے۔سادیہ بی کی بات پہ ارسلہ سوچ میں پڑگئ۔

دونوں باتیں اُن کو مجھ سے پیار نہیں ہونا چاہیے تھا آپی کا رویہ اتنے عرصے بعد مجھ سے سہی ہوا ہے ہاد کی وجہ سے وہ پہلے کی طرح نہ بن جائے۔ارسلہ افسردہ ہوتی بولی۔

فکر کیوں کرتی ہو ہاد کو تم سے پیار ہے جس کا اظہار وہ نازش کے سامنے کرچُکا ہے اپنے گھروالوں کو بھی بتا چُکا ہے اگر ہاد تمہارا نصیب ہے تو وہ تمہارا ہوگا نازش یا کسی اور کا نہیں۔سادیہ بی کی بات پہ وہ چپ کرگئ۔

تمہیں پتا ہے میں نے کہا تھا ایک دن تمہاری زندگی میں کوئی ایسا آئے گا جو تمہیں تم سے زیادہ چاہے گا اور وہ ایسا سمجھ لو ہاد اگر اللہ نے سالوں بعد تمہارے دامن میں محبت دی ہے تو اپنی کسی بے وقوفی کی نظر مت کرنا۔سادیہ بی نے دوبارہ سے کہا

پر ہاد سے۔ارسلہ بس اتنا بول پائی

میں نے تم جنا نہیں پر پالا ہے دودہ بھلے تم نے اپنی خالہ کا پیا تھا پر میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں میں جانتی ہوں تمہیں بھی ہاد سے محبت ہے بس تمہارے اندر جو احساسِ کمتری ہے وہ یہ سب روک رہی ہے کے تم اِس بات کا اعتراف بلاجھجھک کرو۔سادیہ بی نے مسکراکر کہا تو ارسلہ نے اپنا سر جھکادیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

فیضان صاحب آج امتیاز صاحب کی طرف اپنی غلطیوں کی تلافی کرنے کے لیے آئے تھے جو جانے انجانے میں اُن سے سرذند ہوئی تھی۔

امتیاز میں جانتا ہوں میری غلطیاں بہت ہیں پر میں آج اپنی ساری انا کو دور کیے تم سے معافی کا طلبگار ہوں اُمید ہے تم مجھے معاف کردوگے۔فیضان صاحب آہستہ آواز میں بولے اُن کی بات پہ ڈرائینگ روم میں سناٹا چھاگیا تھا زرغونہ بیگم نازیہ بیگم ارمغان طوبیٰ ہاد یہ سب خاموشی سے کبھی امتیاز صاحب کو دیکھتے تو کبھی فیضان صاحب کو۔

تمہیں تمہاری غلطیوں کا دیر سے ہی اندازہ ہوا تو سہی اور میرے دل میں تمہارے لیے کوئی ناراضگی نہیں بھائی ہو تم میرے بس افسوس ہوا تھا جب تم نے ہمارا آبائی گھر بیچنے کا کہا تھا جہاں ہماری ہر اچھی بُری یادیں جُڑی ہے اُس کے بعد تم نے میرا انکار کو اپنی انا کا مسئلا بنا کر سب کو لیکر چلے گئے یہ بول کر کے اب ارمغان اور طوبیٰ کا نکاح بھی ختم۔امتیاز صاحب کی بات پہ فیضان صاحب شرمندگی کے احساس سے سرجھکاگئے پئسو کی لالچ نے اُن کو اپنے خونی رشتوں سے دور کردیا تھا جن کا احساس سالوں بعد ہوا تھا۔

بھائی صاحب پُرانی باتیں بھول جاتے ہیں جو ہوگیا سو ہوگیا اب بیتے پل کو یاد کیا کرنا جس میں سوائے پچھتاوے اور شرمندگی کے کجھ نہیں۔زرغونہ بیگم کی بات سے سب متفق ہوئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ڈیڈ آج ہم مہتاب خان مینشن جائے گے تاکہ آپ میری رشتے کی بات کریں۔سیف نے اخبار پڑھتے منور صاحب سے کہا۔

ابھی نہیں پہلے میں احسان سے بات کروں گا وہ کیا کہتا ہے اُس کے بعد کجھ سوچا جاسکتا ہے۔منور صاحب نے سنجیدگی سے کہا

تو آپ ابھی اُن کو کال کریں میں مزید اب لیٹ نہیں کرنا چاہتا۔سیف بے صبری سے بولا

صبر سے کام لو اور یہ باتیں کال پہ کرنے جیسی نہیں ہوتی مل بیٹھ کر کریں گے۔منور صاحب نے سہولت سے انکار کیا

پر ڈیڈ آج شام ہم اُن کی طرف چلے گے انکل آپ کی بات سمجھ لیں گے بھلا وہ بھی ایسا کیوں چاہے گے کے اُن کی بیٹی کسی کی اِن چاہی بیوی بنے۔سیف کی بات احسان غفار نے بخوبی سن لی تھی وہ جو آج خود معذرت کرنے آئے تھے رشتے کے لیے یہاں سیف کی بات سن کر انہوں نے گہری سانس ہوا میں خارج کی کل وہ زرنور کی اُداسی محسوس کرچُکے تھے بھلے اُس نے ایسا کجھ کہا نہیں تھا۔

اسلام علیکم۔احسان صاحب کی رعبدار آواز پہ دونوں الرٹ ہوئے تھے۔

وعلیکم اسلام احسان تم کیا سرپرائز دیا ہے۔منور صاحب خود کو کمپوز کرتے اُٹھ کھڑے ہوئے

ہاں بس ایک ضروری بات کرنی تھی۔احسان صاحب سیف پہ نظر ڈال کر بولے

بات تو ہمیں بھی کرنی تھی میں بھی تمہاری طرف آنے والا تھا۔منور صاحب نے کہا

شاید ہماری بات ایک ہی ہو۔احسان صاحب نے پُراسرار لہجے میں کہا تو سیف نے ناسمجھی سے اُن کی طرف دیکھا

مطلب۔منور صاحب ناسمجھی نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولے۔

سیف کو اگر کوئی اور لڑکی پسند ہے تو کوئی بات نہیں وہ اپنی زندگی کے ہمسفر چُننے کا اختیار رکھتا ہے اور میں چاہوں گا زر کی شادی اُس سے ہو جو اُس کو خود سے چاہے جو مجھے مل گیا ہے اِس لیے میں زبردستی مسلط نہیں کروں گا اپنی بیٹی کو۔احسان صاحب نے اپنے ازلی لہجے میں کہا

یہ تو بہت اچھی بات ہے۔سیف کے منہ سے بے اختیار پھسلا تو منور حسن نے گھور کر اُس کو دیکھا۔

میں شرمندہ ہوں تم سے ۔منور صاحب نے کہا

شرمندگی کی کوئی بات نہیں جنہیں زندگی گُزارنی ہے فیصلہ اُن کو کرنا چاہیے میرے لیے بس زر ہے اور میں نہیں چاہوں گا اُس کو کوئی تکلیف ہو۔احسان صاحب نے اُن کی شرمندگی دور کرنا چاہی۔

زر کے لیے کس لڑکے کو پسند کیا ہے؟منور حسن کو اچانک خیال آیا تو پوچھا

پتا چل جائے گا پہلے تم بتاؤ سیف کی شادی کی بات کرنے کب جارہے ہو؟احسان صاحب مسکراکر بولے۔

آج شام۔سیف بے صبری سے بولا تو وہ دونوں ہنس پڑے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ انکل مہتاب سے بات کریں میری اور ارسلہ کے لیے نازش کو اعتراض نہیں ہے انکل کو بھی نہیں ہوگا۔ہاد نے زرغونہ بیگم سے کہا

وہ تو سہی پر کیا اب جانا مناسب لگتا ہے پہلے نازش کا علاج ہوجانے دو اُس کے بعد سوچتے ہیں۔زرغونہ بیگم نے اپنی رائے دی۔

نہیں اب میں مزید دیر نہیں کرنا چاہتا یہی مناسب وقت ہے رہی بات نازش کے علاج کی تو اس وہ یہاں نہیں دوسرے ملک انکل کروانا چاہتے ہیں وہاں اُن کو زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے تبھی میں چاہتا ہوں اُن کے جانے سے پہلے بات ہو۔ہاد نے جلدی سے کہا

ٹھیک ہے امتیاز آئے تو اُن سے مشورہ کرتی ہوں۔زرغونہ بیگم ہار مانتی بولی تو ہاد بھی مطمئن ہوا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

سادیہ بی نازش کے کمرے میں اُس کو دوائی دینے آئی تو اُس کو روزانہ معمول کی طرح چپ دیکھ کر گہری سانس بھر کر رہ گئ۔

مہتاب نے ڈاکٹر سے بات کی ہے اگلے ماہ تم لوگوں کی فلائٹ ہے بہت اچھا ڈاکٹر ہے یقین دلایا ہے کے تم پہلے کی طرح ٹھیک ہوجاؤ گی۔سادیہ بی نے بات کرنے کی غرض سے کہا

آپ ہمیشہ کہتی تھی کسی کا دل مت دُکھایا کرو دل دکھانے والے دوزخ میں جاتے ہیں بہتان لگانا بہت بڑا الزام ہے میں نے وہ بھی گُناہ کردیا جانے وہ بھی میں جانتی تھی شہریار ارسلہ کا دودھ شریک بھائی ہے اُس کے باوجود میں نے ارسلہ کو تکلیف دینے کے لیے اُن دونوں کا نام جوڑ دیا اُس کو رولانے کی خاطر میں خود پستی سے گِرتی گئ اخلاق سے ہٹ کی حرکتیں کی کبھی اُس کو اپنی بہن نہیں مانا بچپن میں اُس کو دھکا دیا جس سے وہ محرومی کا شکار ہوگئ میری زندگی کا وہ دن ایسا نہیں جس دن میں نے ارسلہ کو باتیں نہ سُنائی ہوں طعنہ نہ دیا ہوں منہوس نہ کہا ہو پر اِن سب میں میرا جتنا قصور ہے اُس میں بڑا ہاتھ ڈیڈ کا ہے جب وہ پیدا ہوئی تھی میرا دل کرتا تھا میں اُس کے ساتھ کھیلوں اُس سے پیار کروں پر ڈیڈ مجھے اُس سے الگ کرتے کہتے وہ منہوس ہے میں بچی تھی منہوس کا مطلب نہیں جانتی تھی پورا ایک سال میں وہ وقت دیکھتی جس وقت ڈیڈ گھر نہ ہوتے میں ارسلہ کی طرح چلی آتی پھر ایک دن ڈیڈ نے کہا وہ منہوس ہے تمہاری ماں کو کھاگئ تم اُس کے قریب جاؤں گی تو تمہیں بھی نقصان پہچائے گی اُس دن کے بعد میرا دل بھی اکتاگیا ارسلہ سے اُس کو بُرا کہتے کہتے خود کب بُری بن گئ پتا ہی نہیں چلا اللہ مجھ سے ناراض ہوگیا اِس لیے مجھ سے میری پیاری چیز چھین لی ہاد جو میرا تھا اُس کو ارسلہ کی معصومیت اٹریکٹ کرنے لگی میں ہاد کو چاہتی تھی وہ بھی یہ بات بھی میں جانتی تھی میں اُس سے پیار کرتی ہوں وہ پسند کرتا ہے مجھے پر پسند کو پیار میں بدلتے وقت کہا لگتا ہے میں جیسی تھی اُس کو قبول تھی یہ میرے لیے بڑی بات تھی مجھے اندازہ نہیں تھا پسند پیار میں نہیں بلکہ وہ کسی اور کو چاہنے لگے گا۔نازش ٹوٹے بکھرے لہجے میں سادیہ بی سے باتیں کرنے لگی جن کا دل اُس کی حالت اور باتیں سن کر کٹ کے رہ گیا تھا۔

نازش مایوس کیوں ہوتی ہو ہاد تمہاری قسمت میں نہیں تھا یہ بات قبول کرلوں سب آسان ہوجائے گا۔سادیہ بی نے اُس کو سمجھانا چاہا

میں نے ہاد سے کہا وہ ارسلہ سے شادی کرلیں آپ بتائے کیا میں ارسلہ کو اُس جگہ دیکھ پاؤں گی جہاں خواب میں خود کو دیکھا ہو۔نازش جیسے اُن کی باتیں سن ہی نہیں رہی تھی۔

نازش اللہ نے تمہارے لیے کجھ اور سوچا ہوگا

باہر کجھ مہمان آئے ہیں۔سادیہ بی کی بات بیچ میں رہ گئ جب ارسلہ کمرے میں داخل ہوتی بولی اُس کو دیکھ کر نازش نے اپنا چہرہ صاف کیا۔

اچھا میں دیکھتی ہوں ڈرائینگ روم میں تو بیٹھایا ہے نہ؟سادیہ بی اُٹھتی بولی

جی وہ وہی ہیں۔ارسلہ نے جواب دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *