Be Khudi by Rimsha Hussain NovelR50567 Be Khudi (Episode 02)
Rate this Novel
Be Khudi (Episode 02)
Be Khudi by Rimsha Hussain
مانو کو دیکھا ہے آپ نے کہی۔ارسلہ نے فون پہ بات کرتی نازش سے پوچھا جس کے تاثرات اُس کو دیکھ کر سخت ہوئے ہیں
مجھے کیا کوئی اور کام نہیں جو تمہاری بلی کو دیکھتی رہوں۔نازش فون بند کرتی بولی
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ارسلہ بلاوجہ شرمندہ ہوتی بولی۔
دفع ہوجاؤ یہاں سے اپنا منہوس چہرہ لیکر میرے سامنے نہ آیا کرو۔نازش اُس کو غصے سے سناتی بولی اُس کے اِس طرح تیز آواز بولنے پہ ارسلہ کا وجود خود سے کانپ اُٹھا تھا اِس لیے وہ اپنے آنسو ضبط کرتی اندر کی طرف جانے لگی۔
منہوس لنگڑی۔نازش نے حقارت سے اُس کو جاتا دیکھ کر بولی۔
اللہ کی بنائی ہوئی چیز ہو یا انسان اُن کا مذاق نہیں اُڑایا کرو اللہ سخت خفا ہوتا ہے وہ ہر چیز پہ اختیار رکھتا کب کیا کرجائے ہم انسان نہیں جانتے اِس لیے کسی کی دل آزاری کرنے سے ڈرو۔سادیہ بی نے نرمی سے کہا
آپ یہ باشن مجھے نہ دیا کریں۔نازش نے تنگ ہوتے کہا
اللہ نرمی سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے وہ تو پھر بھی چھوٹی بہن ہے تمہاری تمہارا رویہ اُس کا دل چھلنی کرتا ہے اگر اُس کے دل سے آہ نکل گئ تو کہی کی نہیں رہو گی تم اللہ اپنے معصوم بندوں سے ناانصافی نہیں کرتا۔سادیہ بی نے بُرا مانے بغیر کہا
آپ مجھے ڈرانا چاہتی ہے تو ایسا کجھ نہیں ہوگا میں نازش مہتاب ہو اُس منہوس کو دیکھ کر میرا خون کُھولتا ہے۔نازش نے حقارت سے اُس کا ذکر کرتے کہا
منہوس نام نہیں اُس کا ارسلہ نام ہے۔سادیہ بی کے کہا
آپ اُس کی حمایتی مت بنا کریں۔نازش نے کہا
میں کیوں نہ بنو جب اُس کے اپنے آنکھیں ماتھے پہ رکھیں گے تو کوئی تو اُس کا سہارہ بنے گا کوئی تو اُس کا حوصلہ دے گا نہ۔سادیہ بی نے تاسف سے اُس کا انداز دیکھا تھا۔
ایک پل جو یہاں سکون ہو۔نازش بے زاری سے کہتی اُٹھ گئ جب کی سادیہ بی نے ارسلہ کے پاس جانے کا سوچا جانتی تھی وہ اپنے کمرے میں رونے کا شغل فرما رہی ہوگی۔




تم یہاں کسی ہو گولڈن گرل۔عالمگیر ریسٹورنٹ آیا تو سامنے ٹیبل پہ زرنور کو دیکھا تو ساتھ ہی بیٹھ گیا۔
تم میرا پیچھا کررہے ہو؟زرنور نے گھور کر کہا
تم لڑکیوں کو یہ خوشفہمی کیوں ہوتی ہے کے ہر ہینڈسم ان کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔عالمگیر نے منہ بناکر کہا
ہینڈسم اور وہ بھی تم نائیس جوک۔زرنور اتنا کہتی زور سے ہنسنے لگی عالمگیر مبہوت سا اُس کو بس دیکھتا رہا۔
ایسے گھورو مت۔زرنور کو خود پہ عالمگیر کی پرتپش نظریں محسوس ہوئی تو کہا
کجھ کجھ ہورہا ہے کیا؟عالمگیر نے اُس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا جو پیچ کلر کی شارٹ شرٹ اور ٹراؤزر میں کُھلے بالوں کے ساتھ بے حد پیاری لگ رہی تھی۔
میرے پاس کیوں بیٹھے ہو؟زرنور اُس کا سوال نظرانداز کرتی بولی
دل نے کہا تو بیٹھ گیا تم بھی یہاں اکیلی تھی میں بھی تو سوچا کیوں نہ ایک دوسرے کو کمپنی دے۔عالمگیر نے کہا
مجھے نہیں ضروری تمہاری کمپنی کی۔زرنور نے نخوت سے کہا
پر مجھے تو تھی نہ۔عالمگیر آرام سے کہتا اُس کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لیا۔
یہ میرا ہے۔زرنور نے فورن سے کہا
دیکھنے میں تو امیر لگ رہی ہو پر مظاہرہ بہت کنجوسی کا کررہی ہو۔عالمگیر نے افسوس کرتے کہا جس پہ زرنور نے دانت پیسے۔
ویسے گولڈن گرل تمہارا نام کیا ہے۔عالمگیر نے پھر سے کہا اُس کو زرنور کا غصے سے بھرا چہرہ بے حد پسندوں آرہا تھا۔
مجھے آرام سے لنچ کرنے دو۔زرنور نے تنک نظروں سے اُس کو دیکھا۔
نام بتانے میں کیا حرج ہے۔عالمگیر نے کہا
ڈی آے جی احسان غفار کی بیٹی ہو اِس لیے میرے سے فری ہونے کی کوشش مت کرو۔زرنور نے دھمکی دیتے ہوئے کہا
جیل کرواؤں گی کیا؟عالمگیر ڈرنے کی اداکاری کرتے بولا
کر تو سکتی ہو۔زرنور نے شانِ بے نیازی سے کہا
اچھا پر اُس سے پہلے نام ضرور بتادینا۔عالمگیر نے مسکراہٹ ضبط کرتے کہا تو زرنور کا دل کیا اپنا سر دیوار پہ دے مارے۔




ہیپی برتھ ٹو می
ہیپی برتھ ڈے ٹو می۔
بہتے آنسوؤ کے ساتھ آج وہ پھر اپنی سالگرہ کا دن اکیلے سیلیبریٹ کررہی تھی آج اُس کی اُنیسویں سالگرہ تھی اور ہمیشہ کی طرح نہ اُس کے باپ کو یاد تھا اور نہ بہن کو اگر نازش کی سالگرہ ہوتی تو اُس کا باپ گرینڈ پارٹی ارگنائیز کرتا پر جب اُس کی سالگرہ آتی تو وش کرنا گوارہ نہیں کرتا کوئی ارسلہ نے موم بتی بجھائی اور نائف پکڑ کر بیچوں بیچ کیک کو کاٹا جہاں ہیپی برتھ ڈے منہوس لِکھا ہوا تھا بچپن سے لیکر اپنے لیے یہی نام تو سنتی آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنم دن مبارک ہو۔صبح ارسلہ باہر آئی تو سادیہ بی نے ایک پیکٹ بڑھاکر کہا جس پہ ارسلہ نے ناشتہ کرتے مہتاب خان اور نازش کو دیکھا۔
بے حس لوگوں سے اُمیدیں وابستہ نہیں کرتے کیونکہ سوائے تکلیفوں کے کجھ ہاتھ نہیں آتا۔سادیہ بی نے اونچی آواز میں کہا جس پہ نازش نے اچٹنی نظر ان دونوں پہ ڈالی جب کی مہتاب خان اپنا کورٹ ہاتھ میں لیتے آفس کے لیے نکل گئے۔
تمہاری لیے خوشی کا دن ہے پر ہمارے لیے نہیں تمہاری وجہ سے میں نے اپنی ماں اور ڈیڈ نے اپنی جان سے پیاری بیوی کھوئی ہے۔نازش نفرت آمیز لہجے میں کہتی یونی کے لیے نکل گئ
کیا واقع میں منہوس ہوں؟ارسلہ نے سادیہ بی سے پوچھا
اُن کی سوچ خراب ہے ان کا کہا دل پہ لینا چھوڑ دو سب ٹھیک ہوجائے گا پھر۔سادیہ بی نے کہا
کاش جتنا کہنا آسان ہے کرنا بھی اُتنا آسان ہوتا۔ارسلہ نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا
ارسلہ جی آپ کا فون بج رہا تھا۔ملازمہ نے اُس فون دیتے کہا
شہریار کی کال ہے میں بات کرکے آتی ہوں۔ارسلہ نے اسکرین پہ شہریار نام دیکھا تو مسکراکر کہتی کمرے میں چلی گئ۔



بھائی صاحب سے کہے عقل کے ناخن لیں۔زرغونہ بیگم نے پیپرز دیکھ کر سخت لہجے میں امتیاز صاحب سے کہا۔
میں کیا کہوں اُن سے اپنی بات پہ قائم ہے میری تو سن نہیں رہے۔امتیاز صاحب نے مایوسی سے کہا
اُن کی بات پتھر پہ لکیر نہیں میں اپنے بچے کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گی اُن کو اپنی اولاد کی خوشیاں عزیز نہیں پر مجھے ہے۔زرغونہ بیگم کا پارہ ہائے ہوا تھا۔
موم آپ کیوں اپنا ٹیمپریچر لوز کررہی ہیں۔ہاد زرغونہ بیگم کو اپنے ساتھ لگاتا بولا۔
تو اور کیا کروں میں دیکھو کیا بھیجا ہے انہوں نے اپنوں میں کوئی ایسا کرتا ہے۔زرغونہ بیگم نے کاغذ اُس کی طرف بڑھاکر کہا ہاد نے خاموش تماشائی بنے ارمغان کو دیکھا وہ اتنا تو سمجھ گیا تھا یہ خاموشی کسی اچھی بات کا پیش خیما نہیں بلکہ طوفان کے آنے سے پہلے والی خاموشی ہے۔
ارمغان تمہاری کیا رائے ہے؟ہاد نے اپنے سے دو سال بھائی سے پوچھا
اِس کی کیا رائے ہوگی غیرت کا معاملہ ہے بچپن میں اِن کا نکاح باہم دونوں خاندانوں کی رضامندی سے طے ہوا تھا پھر ہم نے نکاح کیا اب بھائی صاحب کو جانے کس کیڑے نے کاٹا ہے جو طلاق کا مطالبہ کررہے ہیں۔زرغونہ بیگم نے غصے سے کہا۔
موم آپ پریشان نہ ہو میں ارمغان امتیاز ہوں اپنا حق لینا جانتا ہوں چچا جان بھول گئے ہیں اُن کی بیٹی پہ اب اُن کا نہیں میرا حق ہے آپ بس رخصتی کی تیاریاں کریں باقی میں سب سنبھال لوں گا۔ارمغان سنجیدگی سے کہتا باہر نکل گیا۔
کجھ غلط نہ کردے۔زرغونہ بیگم پریشان سی بولی۔
کجھ غلط نہیں ہوگا بیگم آپ رلیکس رہے اب۔امتیاز صاحب نے کہا جب کی سارا معاملہ سوٹ آوٴٹ دیکھ کر ہاد بھی یونی کے لیے نکل پڑا





تمہارا دن ہے آج بتاؤ کیا چاہیے مجھ سے۔زرنور نے سخاوت کا مظاہرہ کرتے ارسلہ سے کہا زرنور ارسلہ کی واحد دوست تھی جس نے کبھی اُس کا مذاق نہیں اُڑایا تھا اور نہ کبھی ساتھ چھوڑا تھا۔
بس یہی کے ہماری دوستی کبھی ختم نہ ہو۔ارسلہ نے کہا
وہ تو رہے گی میں کیوں بھلا اتنی پیاری دوست سے الگ ہونے لگی۔زرنور محبت سے اُس کا گال چومتی بولی۔
تم بہت اچھی ہو۔ارسلہ اس کے گلے لگ کر بولی
جس کے پاس تمہاری طرح مخلص دوست ہوگی اُس انسان کو اچھا تو ہونا ہی ہے۔زرنور نے مسکراکر اُس کو اپنے ساتھ لگاکر کہا۔





طوبیٰ مارکیٹ جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی اُس کی گاڑی ابھی گھر سے کجھ فاصلے پہ دور ہوئی تھی جب سامنے بلیک گاڑی نے اُس کے سامنے کھڑی ہوئی طوبیٰ نے دیکھا تو فورن گاڑی سے اُتری آس پاس دیکھا تو کوئی نہیں تھا
گاڑی سے ارمغان کو نکلتا دیکھا تو اُس کا چہرہ سفید ہونے لگا ارمغان اُس کے پاس آتا جارحانہ انداز میں اُس کی کلائی پکڑی۔
آآآہ
یہ کیا کررہے ہیں پلیز لیو۔طوبیٰ تکلیف ضبط کرتی بولی
ریئلی۔ارمغان نے تمسخرانہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جس پہ طوبیٰ نے شکوہ کرتی نظروں سے دیکھا۔
بڑا شوق ہے مجھ سے الگ ہونے کا۔ارمغان اُس کو کمر سے پکڑ کر قریب کیے بولا طوبیٰ نے سر کو نفی میں جنبش دی۔
چچاجان سے علیحدگی کی بات تم نے کی ہے۔ارمغان نے تنے ہوئے تاثرات سے پوچھا
کونسی لڑکیاں ہوتی ہیں جو اپنی طلاق کی بات کرے گی ارمغان آپ کو غلطفہمی ہوئی ہے میں ہرگز ایسا نہیں چاہتی۔طوبیٰ نم آنکھوں سے اُس کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر بولی۔
چاہنے کا سوچا بھی تو جان سے مار ڈالوں گا۔ارمغان اُس کی پشت گاڑی سے لگاتا تیز آواز میں بولا طوبیٰ کا گلا خشک ہوا تھا ارمغان کا انداز دیکھ کر۔
آپ مجھے ہرٹ کررہے ہیں۔طوبیٰ سے رہا نہیں گیا تو کہا
خُلا کا نوٹس کیوں آیا تھا ہمارے گھر؟ارمغان اُس کی بات نظرانداز کرتا بولا طوبیٰ بنا کجھ کہے نظریں جھکاگئ۔
میری طرف دیکھو۔ارمغان اُس کی ٹھوری سے پکڑ کر چہرہ اُپر کیے بولا۔
کہی اور شادی کروانا چاہتے ہیں میری۔طوبیٰ نے کسی مجرم کی طرح بتایا ارمغان کی رگیں تن گئ تھی اُس کی بات سن کر۔
میری ہو تم صرف میری میرے نکاح میں ہو کسی غیر کا خیال دماغ میں لائی بھی تو اچھا نہیں ہوگا۔ارمغان باور کروانے انداز میں بولا
آپ کو مجھ پہ اعتبار نہیں؟طوبیٰ نے ایک امید سے پوچھا۔۔
نہیں۔ارمغان سفاکی سے کہتا اُس سے دور ہوتا واپس اپنی گاڑی کی جانب بڑھا جب کی اُس کے جواب پہ طوبیٰ کے اندر چھن سے کجھ ٹوٹا تھا






عالم میں آج تمہارے ساتھ چلوں گا۔ہاد نے عالمگیر کو مخاطب کرتے کہا
آج تو ہمارا لونگ ڈرئیو کا موڈ تھا۔نازش نے جیسے اُس کو یاد کروایا۔
میرے سر میں کجھ درد ہے لونگ ڈرائیو پہ پھر کبھی چلیں گے۔ہاد نے مسکراکر کہا
اوکے۔نازش نے بجھے دل کے ساتھ کہا۔
خیریت تو ہے نہ ویسے۔عالمگیر نے پوچھا
ہاں خیریت ہے بس ایسے ہی سوچا آج تمہارے ساتھ چلوں۔ہاد نے کہا
مُراد کے پاس سے چکر لگا آئے گے بہت دنوں سے تمہارا پوچھ رہا تھا۔عالمگیر نے کہا
اوکے جیسا تم کہو۔ہاد نے کندھے اُچکاکر کہا
میں ہمارے آنے کا اُس کو بتادیتا ہوں۔عالمگیر جیب سے موبائل نکالتا بولا جب کی ہاد فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گیا۔
تمہاری گاڑی کا کیا ہوگا؟عالمگیر نے پوچھا
ڈرائیور لیں جائے گا گھر۔ہاد نے سیٹ سے ٹیک لگاکر بولا
مجھے اپسیٹ لگ رہے ہو تم۔عالمگیر نے اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا
اپسیٹ نہیں ہوں۔ہاد نے سنجیدگی سے کہا
پھر کیا بات ہے؟عالمگیر نے جاننا چاہا
چچا جان ارمغان اور بھابھی طوبیٰ کی علیحدگی چاہتے ہیں صبح خُلا کا نوٹس آیا تھا اُن کی طرف سے گھر میں سب پریشان سا ماحول بنا ہے۔ہاد نے سب بتایا
پریشانی سے بھاگنا نہیں چاہیے۔عالمگیر نے کہا
میں بھاگنے والوں میں سے نہیں گھر میں میرا دماغ کام نہیں کرے گا گھر سے دور رہوں گا تو سوچ پاؤں گا چچا جان کو کیسے لائن پہ لانا ہے۔ہاد نے اُس کی طرف چہرہ موڑ کر کہا
چچا کو لائن پہ لانے کا کام تو ارمغان کرلیں گا جانے کیا ہوگیا ہے انکل کو جو اِس طرح کررہے ہیں۔عالمگیر نے کہا تو ہاد نے کندھے اُچکادیئے۔





تم کب آرہے ہو پاکستان؟ارسلہ نے شہریار سے پوچھا
ابھی تو مصروفیت ہے پر انشااللہ جلد آجاؤں گا۔شہریار نے مسکراکر کہا
تم جلدی آنے کی کرو نہ۔ارسلہ نے اُداس ہوکر کہا
میں جانتا ہوں تم یاد کررہی ہو میں بھی کررہا ہوں پر کیا کروں مجبور ہو۔شہریار نے ویڈیو کال پہ اُس کا اُداس چہرہ دیکھا تو کہا
اتنا وقت لگ سکتا ہے تمہیں؟ارسلہ نے دوسرا سوال کیا
چھ سے سات ماہ۔شہریار نے بتایا تو اُس کی اُداسی مزید گہری ہوئی۔
فکر نہیں کرو اِس بار آوٴں گا تو لمبے عرصہ کے لیے آوٴں گا پھر خوب انجوائے کرے گے۔شہریار نے اُس کا موڈ فریش کرنے کی خاطر کہا جس پہ اُس نے اپنے سر کو جنبش دیتے کال کٹ کی۔
مانو بس تم ہی ہو میری پکی سہیلی۔ارسلہ نے پیروں کے پاس سے مانو کو اُٹھاکر کہا
شہری سے دور رہا کرو۔نازش کی اچانک آواز پہ اُس نے حیرت سے اس کو دیکھا
کیا مطلب آپ کا؟ارسلہ کو عجیب لگا
مطلب صاف ہے زیادتی بچی مت بنو۔نازش نے طنزیہ کیا۔
شہریار کزن ہونے کا ساتھ ساتھ دوست ہے میرا۔ارسلہ نے بتایا۔
وہ میری ماں کا بھانجا ہے بس اِس لیے اُس سے اپنا منہوس سایہ دور رکھا کرو۔نازش غصے سے کہتی واک آوٴٹ ہوگئ جب کی ایک بار پھر وہ ارسلہ کے وجود کو چھلنی کرگئ تھی اپنی زہریلی باتوں سے۔




اسلام علیکم!! چچا جان عرف سسر جی۔ارمغان فیاض صاحب کے کیبن کا ڈور اوپن کرتا اندر داخل ہوتا بولا۔
تم یہاں کیا کررہے ہو اندر آنے کیسے دیا تمہیں۔فیاض صاحب نے غصے سے کہا
رلیکس اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں۔ارمغان کیبن کا ڈور لاک کرتا بولا۔
تم دفع ہوجاؤ یہاں سے۔فیاض صاحب نے دھاڑ کر کہا
مجھے کوئی شوق بھی نہیں آپ سے ملنے یا بات کرنے کا میں بس یہ بتانے آیا تھا کے خُلع کے کاغذات بھیج کر آپ نے اچھا نہیں کیا۔ارمغان سنجیدگی سے بولا
تم کل پیدا ہوئے بچے مجھے بتاؤ گے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا۔فیاض صاحب کا میٹر گھوم گیا اُس کی بات پہ۔
اگر بڑے حماقت کرے گے تو مجبوراً بچوں کو ہی سمجھانا پڑتا ہے۔ارمغان رلیکس سا کرسی پہ بیٹھ کر بولا
سائن کردینا میں نے طوبیٰ کا رشتہ اچھی جگہ طے کیا ہے۔فیاض صاحب کی بات پہ اُس نے زور سے مٹھیاں بھینچ لی۔
منکوحہ ہے میری کس حق سے آپ یہ بات کررہے ہیں۔ارمغان تیز آواز میں چلایا جس سے ایک پل کے لیے فیاض صاحب بھی ڈر گئے۔
منکوحہ تھی رہے گی نہیں وہ خود تم سے علیحدہ ہونا چاہتی ہے۔فیاض صاحب خود کو کمپوز کرتے بولے
یہ خناس بس آپ کے دماغ میں ہے۔ارمغان طنزیہ بولا
وہ خود تم سے کہے پھر تو پیپر سائن کرلوں گے نہ۔فیاض صاحب نے مکروہ مسکراہٹ سے کہا
وہ ایسا کبھی نہیں کہے گی۔ارمغان یقین سے بولا
اگر کہے تو۔فیاض صاحب نے کہا
تو میں اُس کو آزاد کردوں گا زبردستی کا قائل میں خود بھی نہیں۔یہ بات ارمغان نے کس دل سے کہی تھی بس وہ جانتا تھا۔









آرام آتا ہے دیدار سے تیرے
مٹ جاتے ہیں سارے غم
ایک بار پھر عالمگیر زرنور کو تنگ کرنے آ پہنچا تھا۔
بہت بُری آواز ہے تمہاری۔زرنور پارک میں کِھیلتے بچوں کی تصویریں لیتی افسوس کرتی بولی
آدھی یونی کی لڑکیاں پاگل ہے میری آواز سن کر میں اگر سنگر بنو تو سارے اسٹوڈیو کو ہلادوں۔عالمگیر کو تو اُس کی بات پہ صدمہ لگ گیا تبھی فورن سے بولا۔
اتنی بے سُری آواز سن کر اسٹوڈیو نے ہل ہی جانا ہے۔زرنور مذاق اُڑانے والے لہجے میں کہتی زور زور سے ہنسنے لگی۔
تمہارا ٹیسٹ بُرا ہے اِس لیے میری خوبصورت آواز پسند نہیں آئی۔عالمگیر بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا۔
اوو۔زرنور بس اتنا بولی
نام آج بتادو۔عالمگیر نے کہا
نام۔سے کیا ہوتا ہے پہچان تو انسان کی اُس کے کام سے ہوتی ہے۔زرنور نے فلسفانہ لہجے میں کہا
نام نہ بتانے کے لیے بات اچھی کی۔عالمگیر نفی میں سرہلاتا بولا۔
اچھا یہ کیمرہ پکڑو میری تصویریں اِن بچوں کے ساتھ کلک کرو۔زرنور کیمرہ اُس کے ہاتھوں میں پکڑاتی بال ٹھیک کرنے لگی۔
گولڈن گرل تمہیں بچے پسند ہیں یا فوٹوگرافی؟عالمگیر کیمرہ سیٹ کرتا بولا۔
بچے بھی اور فوٹوگرافی بھی۔زرنور نے آرام سے بتایا تو عالمگیر نے سرہلایا۔
آخر میں ایک میرے ساتھ بھی لینی ہے۔عالمگیر نے آنکھ ونک کرتے کہا تو زرنور گھوری سے نوازتی بچوں کو اپنے پاس بولانے لگی






طوبیٰ تمہیں ڈیڈ اپنے کمرے میں بلارہے ہیں۔ماریہ نے طوبیٰ کے کمرے میں آتے کہا
خیریت۔طوبیٰ اپنا ڈوپٹہ سر پہ لیتی بولی۔
پتا نہیں جاکر دیکھو کیا بات ہے ۔ماریہ نے لاعلمی ظاہر کی تو طوبیٰ اللہ کا نام لیتی اپنے کمرے سے نکل کر اپنے والد کے کمرے میں آئی۔
اسلان علیکم!آپ نے بلایا۔طوبیٰ کمرے میں آتی بولی۔
وعلیکم اسلام بیٹھو۔فیضان صاحب نے کہا تو طوبیٰ پاس پڑے صوفے پہ ٹِک گئ۔
ہم نے تمہارا رشتہ طے کیا ہے۔فیضان صاحب روعبدار آواز میں بولیں اُس کی بات پہ طوبیٰ کو لگا جیسے اُس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑلیا ہو۔
ڈیڈ میں کسی کے نکاح میں ہوں۔طوبیٰ آہستہ آواز میں بولی۔
اِس جھنجھٹ سے پیچھا چھڑوانا چاہتا ہوں میں تم ارمغان سے کہو خُلع کے پیپرز میں سائن کردے۔فیضان صاحب نے حکیمہ لہجے میں کہا طوبیٰ نے سر اُٹھاکر پھٹی پھٹی نظروں سے اُن کی جانب دیکھا۔
معذرت کے ساتھ ڈیڈ پر میں ایسا کجھ نہیں کہوں گی۔طوبیٰ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی بولی
اپنے باپ کی نافرمانبرداری کرو گی۔فیضان صاحب غصے سے بھڑک اُٹھے۔
سوری پر میں بچپن سے ارمغان کے نکاح میں ہوں اب کسی اور کے لیے میں اُن سے طلاق کی بات نہیں کروں گی۔طوبیٰ نے ڈرتے ہوئے کہا
چٹاخ
فیضان صاحب کا بھاری ہاتھ اُس کے نازک گال پہ نشان چھوڑگیا نازیہ بیگم جو ابھی کمرے میں آئی تھی فورن سے طوبیٰ کو اپنے ساتھ لگایا جو ڈر کے کانپ رہی تھی۔
یہ کیا کررہے ہیں جوان بیٹی پہ ہاتھ اُٹھانا کہاں کی عقلمندی ہے۔نازیہ بیگم نے افسوس سے کہا
اپنی اِس بیٹی کو سمجھادو ارمغان سے خلع کی بات کریں ورنہ میں سارے تعلق ختم کرڈالوں گا۔فیضان صاحب تنفر سے بولے طوبیٰ بنا کجھ کہے کمرے سے نکل گئ نازیہ بیگم نے تاسف بھری نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھا۔







ارمغان موبائل ہاتھ میں لیے اسکرین پہ نمبر دیکھ رہا تھا دل سے بہت بار آواز آئی کال کرو پر وہ نظرانداز کرتا رہا وہ دیکھنا چاہتا تھا طوبیٰ خود سے کیا فیصلہ لیتی ہے اِس لیے وہ اُس سے ابھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا پہلے ہی وہ بہت ڈرا دھمکا چُکا تھا جس کی اُس کو شرمندگی تھی ارمغان گہری سانس بھرتا خود کو ہر چیز سے آزاد کرتا موبائل سائیڈ ٹیبل پہ کرتے سونے کے لیے لیٹ گیا۔





تم میرے گھر آؤ ڈیڈ ملنا چاہتے ہیں تم سے۔نازش نے ہاد کو دیکھتے کہا
کب آنا ہے دن بتاؤ ارمغان کا مسئلا حل ہوجائے تو میں بھی تمہارا انٹرڈیوس کرواؤں گا اپنے گھروالوں سے۔ہاد نے مسکراکر کہا تو نازش کی باچھیں کُھل گئ۔
اوکے تو تم اِس اتوار کو آنا ڈیڈ فری ہوتے ہیں۔نازش نے چہک کر کہا۔
ٹھیک انکل سے تو مل چُکا ہوں اِس لیے ان کو اعتراض نہیں پر ہوگا۔ہاد جوس کا سپ لیتا بولا
نہیں وہ اِس لیے تم سے نہیں ملنا چاہتے بہت ٹائم بعد ملے تھے نہ تو اِس لیے دوبارہ ملنا چاہتے ہیں۔نازش اُس کی بات پہ ہنس کر بولی
میں اتوار کو اپنے آنے کا وقت بتادوں گا۔ہاد نے کہا تو نازش نے سراثبات میں ہلایا۔




بات ہوئی آپ کی بھائی صاحب سے؟زرغونہ بیگم نے امتیاز صاحب سے پوچھا
فلحال تو نہیں ہوئی سوچ رہا ہوں اُن کے گھر جاکر بات کروں۔امتیاز صاحب نے جواب دیا۔
ٹھیک ہے جو بھی کریں پر جلدی کریں۔زرغونہ بیگم نے کہا
اسلام علیکم!ارمغان لاوٴنج میں آتا سلام کرنے لگا پیچھے ہاد تھا جس کا دھیان اپنی فون کی طرف تھا۔
وعلیکم اسلام!دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا
موم لنچ تیار ہے مجھے بھوک لگی ہے۔ہاد نے زرغونہ بیگم سے پوچھا
ہاں لگواتی ہوں ٹیبل پہ۔زرغونہ بیگم کھڑی ہوتی بولی
ہاد تمہارا لاسٹ ایئر ہے یونی میں پھر آگے کیا سوچا ہے تم نے؟امتیاز صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا
فلحال تو کجھ نہیں سوچا ایک دو سال تک کوئی جاب تلاش کروں گا۔ہاد نے آرام سے بتایا
ایک دو سال ہاتھ کجھ ہلکہ کرو چھبیس سال کے ہو دو سال سے ایک کلاس میں اٹکے ہوئے ہو بجائے اب سنجیدہ ہوکر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے کے تم مزید وقت ضائع کررہے ہو۔امتیاز صاحب اُس کی بات پہ ڈپٹ کر بولے
جاب کیوں تلاش کروگے تم ہمارا اپنا بزنس تو ہے۔ارمغان نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔
میں اپنے بٙل بوتے پہ کجھ کرنا چاہتا ہوں۔ہاد نے سنجیدگی سے کہا
تم اپنی قابلیت کے جوہر ہماری کمپنی میں بھی دیکھا سکتے ہو۔امتیاز صاحب نے طنزیہ کیا
وہ تو میں گھر میں دیکھا چُکا ہوں اب دوسروں کو بھی دیکھانا چاہتا ہوں۔ہاد ان کے طنزیہ پہ دانتوں کی نمائش کرتا بولا ارمغان کی ہنس نکل گئ امتیاز صاحب کا لال بھبھو چہرہ دیکھ کر




رات میں زرنور ہاتھ میں کیمرہ لیے ساری تصویریں دیکھ رہی تھی جو اُس نے پارک میں اُتاری تھی تصویریں دیکھتے دیکھتے عالمگیر کی بھی ایک تصویر سامنے آئی جو اُس نے زبردستی اُس کے ساتھ بنوائی تھی۔
گولڈن گرل تم دروازے سے بھی آسکتی تھی اِتنی مشقت کیوں کی۔
آخر میں ایک میرے ساتھ بھی لینی ہے۔
عالمگیر کی باتیں یاد آئی تو اُس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے پھر چونک پڑی۔
میں کیوں اُس فلرٹی کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔زرنور نے تعجب سے خود سے کہا۔
شکل سے اچھا ہے بس ورنہ پورا فلرٹی ہے۔زرنور خود سے بڑبڑاتی سونے کی کوشش کرنے لگی پر آنکھیں جیسے ہی بند کی چھن سے عالمگیر کا مسکراتا عکس سامنے آیا جس سے گھبراکر اُس نے فورن سے اپنی آنکھیں کھول لی۔






پھر کیا فیصلہ لیا تم نے کب ارمغان سے بات کرو گی۔فیضان صاحب نے ناشتے کی ٹیبل پہ طوبیٰ سے کہا
جان سے ماردیں پر یہ بات نہ کریں۔طوبیٰ نے نم لہجے میں کہا
تم نے سمجھایا نہیں اِس کو۔فیضان صاحب نے کڑے تیوروں سے نازیہ بیگم کو گھور کر کہا
ڈیڈ پلیز آپ سم
خاموش نافرمان اولاد اللہ نے دی دو بیٹیاں بیٹا ہوتا تو کبھی میری بات نہ ٹالتا پر تم دونوں میرے سر پہ بوجھ ہو جس کو مجھے سر پہ اٹھاکر چلنا ہے۔فیضان صاحب اپنے اندر کی بھڑاس نکال کر چلے گئے پیچھے وہ تینوں ساکت سی ان کے لہجے میں نفرت محسوس کرنے لگی۔
مانگ لیتی طلاق تو ہمیں یہ بیٹی ہونے کا طعنہ نہ ملتا۔ماریہ ناشتے کی ٹیبل سے اُٹھتی غصے سے بول کر چلی گئ۔
ارمغان سے بات کرو تم فیضان کبھی تمہیں اُس کے ساتھ رخصت نہیں کرے گا۔نازیہ بیگم کی بات پہ اُس نے شکوہ کرتی نگاہوں سے اُن کی طرف دیکھا۔





آج اِتوار تھا ہاد نے آج مہتاب خان سے ملنا تھا نازش بے صبری سے اُس کا انتظار کررہی تھی ہاد اپنے گھر سے تیار ہوتا نکل گیا تھا بلیک ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پینٹ پہنے وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا کالے سیاح بال ماتھے پہ لاپروائی سے بکھرے ہوئے تھے جو اُس کو مزید دلکش بنارہے تھے۔
ہاد مہتاب مینشن پہچا تو نازش کو کال نہیں کی بلکہ خود اندر جاکر اُس کو سرپرائز دینے کا سوچ کر گاڑی سائیڈ پہ کرتا اندر کی طرف بڑھا۔
خاموشی!!!!!!!!!
کیسی ہے یہ؟؟؟؟؟
خاموشی!!!!!!!!!!!!!!
ہاد سیدھا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا تھا وہ یہاں پہلے بھی آچُکا تھا جس سے اُس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی پر جیسے ہی وہ سیڑھیوں کے پہلے زینے پہ اپنا پیر رکھا تو کسی لڑکی کے گانے کی آواز سن کر اُس کے قدم ٹھٹک گئے ہاد اُلٹے پاوٴں لیتا آس پاس نظر ڈورانے لگا آواز اُس کو سیڑھیوں کی سائیڈ سے آنے لگی تو اُس کو تجسس نے آ گھیرا۔
ایک عجیب بازار ہے دُنیا
غم ہنستے نے آؤ
مول خوشی کے پاس نہ ہو تو
غم سستے نے آؤ
ہاد بھول چُکا تھا وہ یہاں کیوں اور کس کام سے آیا تھا گانا گانے والے کی آواز اُس کو اِتنی خوبصورت لگی کے وہ چاہ کر بھی اپنے قدم کو روک نہیں پایا اور وہاں جانے لگا جہاں سے اُس کو گانے کی آواز آنے لگی۔
پروں بنا جو دیکھا پنچھی
مجھ کو میری یاد آئی!!!!!!
میں نے کہا اپنا کوئی؟؟؟؟
ایک بھی آواز نہ آئی۔
ہاد پیچھے نظر گھمائی کسی کو نہ دیکھ کر اُس نے سکون کا سانس لیا پر ایک بے چینی سے بھی ہونے لگی اُس کو لگ رہا تھا جیسے جو گانا گا رہی ہے اُس کو کوئی غم ہے وہ اُس کی آواز میں درد محسوس کر پارہا تھا۔
جن پر مرجھائی بات اپنی
وہ ہونٹ دیکھاؤ کِس کو۔۔۔
مجھے لوگ کہیں تمہیں دٙرد
کسی کا نام بتاؤں کس کو۔۔۔؟
ہاد نے گہری سانس لیکر ادھ بند دروازے کو دیکھا جہاں سے آواز آرہی تھی اُس نے سوچا اندر جاری شاید وہاں نازش ہو پر اُس کو یاد نہ آیا کب نازش نے سنگنگ میں دلچسپی ظاہر کی ہو ہاد کشمکش میں مُبتلا وہی کھڑا ہوگیا۔
تیرا نام بتاؤں کس کو۔۔۔۔؟؟
یہ حال سناؤں کس کو۔۔۔؟؟؟
میں تیرا نام بتاؤں کس کو؟
یہ حال سناؤں کس کو۔۔۔۔۔؟؟
خاموشی!!!!!!!!!
کیسی ہے یہ؟؟؟؟؟
خاموشی!!!!!!!!!!!!!!
تیز ہوا کے زور ہو جو
تِنکا مِلے وہ کہاں۔۔۔۔۔۔
دن بھر اندر توں جِلتا ہے
دل بھر جلے کہاں۔۔۔
اُمیدوں کا آ نام نہ لینا
اور نہ کروں دعا۔۔۔۔۔۔۔
کریں دعا۔۔۔۔۔۔
آنسو کی قسمت میں تھے ہم
آنسو آنِ مِلا۔۔۔۔۔۔۔۔
جو دیکھا ہے وہ ہر اِک دل میں
وہ کھوٹ دیکھاؤں کس کو
مجھے لوگ کہیں تمہیں دٙرد
کسی کا نام بتاؤں کس کو۔۔۔؟
میں تیرا نام بتاؤں کس کو؟
یہ حال سناؤں کس کو۔۔۔۔۔؟؟
میں تیرا نام بتاؤں کس کو؟
یہ حال سناؤں کس کو۔۔۔۔۔؟؟
گانے کی آواز اب بند ہوگئ تھی پر ہاد دروازے سے ٹیک لگاتا ابھی بھی اُس آواز کے زِیر اٙثر تھا ہوش تو تب آیا جب اپنے بازوں پہ کسی کا لمس محسوس ہوا۔
