Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Last Episode)

Be Khudi by Rimsha Hussain

صالحہ بیگم عالم کے کہنے پہ زرنور کا رشتہ احسان صاحب سے مانگ لیا تھا دوسری طرف امتیاز صاحب اور زرغونہ بیگم بھی ہاد کے لیے ارسلہ کا رشتہ مانگ لیا تھا جو انہوں نے خوشدلی سے دے دیا تھا نازش نے بھی رشتے کے لیے ہاں کردی تھی وہ اب آگے بڑھنا چاہتی تھی اُس کو سیف سہی لگا اُس کے فیصلے پہ مہتاب خان مطمئن تھے وہی سادیہ بی ارسلہ کے لیے بے حد خوش تھی اللہ نے اُن کی سن لی تھی اور ارسلہ کی آزمائش ختم ہوگئ تھی سب بڑوں کی رضامندی اور عالمگیر کی ضد کی وجہ سے تینوں کا نکاح ساتھ میں ہال میں منعقد پایا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

میں کیسا لگ رہا ہوں۔ہاد سفید کاٹن کے شلوار قمیض کے اُپر بلیک واسکٹ پہنے بالوں کو جیل کی مدد سے سیٹ کیے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا آج نکاح کا دن تھا سبھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔

ہاد کے سوال پہ عالمگیر جو کف ٹھیک کررہا تھا اُس کی جانب متوجہ ہوا۔

سہی لگ رہے ہو۔عالمگیر مسکراہٹ ضبط کیے بولا

ہممم سہی لگ رہے ہو جیلیس انسان۔ہاد اُس کی نقل اُتار کر بولا

اب میں اپنے نکاح کے دن تو جھوٹ نہیں بول سکتا تھا نہ۔عالمگیر باز نہ آیا تو ہاد نے ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم کی بوتل اُٹھا کر اُس کی طرح اُچھالی جو بروقت عالمگیر نے کیچ کرلی۔

مجھے فیل ہورہا تھا کجھ مسنگ ہے اب یاد آیا میں نے پرفیوم نہیں لگایا تھا شکریہ میرے دوست۔عالمگیر مزے سے کہتا خود پہ پرفیوم چھڑکنے لگا ہاد تاسف سے سرہلاتا خود کو مرر میں دیکھنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ارسلہ کو بیوٹیشن نے تیار کیا تھا جس سے وہ حددرجہ خوبصورت لگ رہی تھی آج اُس نے ملٹی کلر کا شیرارہ پہنا تھا ہاد کی فرمائش پہ ورنہ اتنے بھاری ڈریس میں اُس کو اپنا سانس لینا مشکل لگ رہا تھا لمبے بالوں کا جوڑہ بنائے ڈوپٹہ سیٹ کیا گیا تھا گھبراہٹ سے اُس کے ماتھے پہ ہلکی ہلکی پسینے کی بوندیں چمک رہی تھی اُس کی ایک سائیڈ پہ بے تاثر چہرہ لیے نازش اپنا میک اپ کروا رہی تھی تو دوسری طرف پنک کلر کا لہنگا پہنے میچنگ جیولری اور نفاست سے کیے گئے میک اپ میں زرنور سیلفی لینے میں مصروف تھی آج وہ تینوں ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہی تھی۔

میم آپ ایزی ہوکر بیٹھ جائے۔بیوٹیشن نے ارسلہ سے کہا تو زرنور بھی اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔

ارسلہ گھبرا کیوں رہی ہو آرام سے بیٹھو بار بار نکاح کا دن نہیں آتا اِس لیے اچھے سے انجوائے کرو۔زرنور نے اپنے نیک مشورے سے اُس کو نوازا

نکاح ہے گھبرانے دو شادی کے بعد والے دن انجوائے کریں گی۔نازش نے بھی شرارت سے کہا

یہاں میری جان میں جان نہیں اور آپ لوگوں کو مذاق سوجھ رہا ہے۔ارسلہ خفگی سے بولی۔

جی اب تو آپ کی جان ہاد ہوگے۔زرنور نے اُس کو چھِیڑا تو ارسلہ کا چہرہ لال قندیاری ہوگیا

چلیں جی آپ لوگوں کے نکاح کا وقت ہوگیا ہے۔ماریہ اور فائزہ اُن لوگوں کے پاس آتی بولی

ڈیئر تم دونوں کے دن بھی آئے گے ٹھنڈی آہیں کیوں بڑھ رہی ہو۔زرنور کی زبان کو آج بھی چین نہیں تھا۔

ہائے ہمارے ایسے نصیب کہاں جو ہمارے ہاتھ پہ قلم ہو اور ہم نکاح نامے پہ سائن کریں ہمیں تو اُس قلم سے رجسٹر پہ ڈائیاگرام بنانی ہوتی ہے۔فائزہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھتی غمگین لہجے میں گویا ہوئی جہاں اُس کی بات پہ سب ہنس پڑے وہی ماریہ نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اُس کو تسلی کروائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاد عالمگیر اور سیف تینوں اسٹیج پہ اپنی جگہ بیٹھ کر اپنی اپنی دولہن کے آنے کا شدت سے انتظار کررہے تھے۔

سب سے پہلے زرنور کی طرف لائٹ روشن ہوئی تو عالمگیر کا دل بلیوں کی طرح اُچھل پڑا اِس لیے بنا ارد گرد کی پرواہ کیے اُس کو دیکھے جارہا تھا جو نظریں جھکیں آہستہ آہستہ آرہی تھی۔

یہ آج اِس کے پیروں کو کیا ہوگیا ہے اتنی آہستہ کیوں چل رہی ہے۔عالمگیر کو صبر نہ ہوا تو ہاد کے کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں بولا

تم کیا چاہتے ہو لہنگا پہنے وہ بھاگ کر تمہارے پاس آتی۔ہاد اُس کی بات پہ گھورتا ہوا بولا ایک تو ارسلہ کے آنے کا انتظار دوسرا عالمگیر کی بات نے سہی معنوں میں اُس کو تپا ڈالا تھا۔

میری والی بھی آگئ۔سیف کی بات پہ دونوں نے پہلے اُس کو دیکھا پھر سامنے جہاں شہریار ویل چیئر گھسیٹ کر لارہا تھا شہریار دوبارہ یہاں ارسلہ کی شادی کا سن کر آیا تھا۔

ہاد نے شہریار کو آتا دیکھا تو اُس کا منہ بن گیا تھا یہ اُس کی شہریار سے دوسری ملاقات تھی جس وجہ سے ابھی وہ انجان تھا شہریار اور ارسلہ کے بھائی بہن ہونے سے

زرنور جیسے ہی اسٹیج کے پاس آئی تو عالمگیر نے اپنی چوڑی ہتھیلی اُس کے سامنے کی جب کی نظریں مسلسل زرنور کے چہرے کا طواف کررہی تھی۔

تمہیں عشق بنا کرکے

روحِ دل میں ملا لیں گے

رکھوں ہاتھ تیرے سرپہ

تجھے اپنا بنا لیں گے۔

زرنور نے جیسے ہی اپنا ہاتھ عالمگیر کے ہاتھ پہ رکھا بیک گراؤنڈ میں سونگ پلے ہوا زرنور نے نظر اُٹھا کر عالمگیر کو دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اُس کو ہی دیکھ رہا تھا جس پہ اُس نے زبردست گھوری سے نوازہ۔

تمہیں عشق بنا کرکے

روحِ دل میں ملا لیں گے

رکھوں ہاتھ تیرے سرپہ

تجھے اپنا بنا لیں گے۔

ارسلہ کو لڑکیوں کے بیچ آتا دیکھا تو ہاد کو اپنے دل کی دھڑکن کانوں میں گونجتی محسوس ہوئی جو سہج سہج کے قدم اُٹھا کر اُس کے پاس آرہی تھی ہاد کا گلا خشک ہوا تھا اُس کے تصور میں بھی نہیں سوچا تھا ارسلہ اتنی خوبصورت لگے گی اُس کے بس سادگی میں دیکھا تھا مگر آج تو۔۔۔۔

کیسی اور کے مت ہونا تم

جیتے جی میں مرجاؤں گا

جو تم نے فکر چھوڑی تو

میں ٹوٹ بکھرجاؤں گا

گانے کے یہ جُملے ارسلہ کے کانوں پہ پڑے تو اُس نے ہاد کی طرف التجا کرتی نظروں سے دیکھا جو جذبے لُٹاتی نظروں سے اُس کو ہی دیکھ رہا تھا۔ہاد نے اُس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا

ہے دعاااااااااا

بن میرااااااااا

توں میرااااااا

رہنمااااااااااااا

ارسلہ نے جھجھک کر اپنا ہاتھ ہاد کی چوڑی ہتھیلی پہ رکھ لیا جس پہ ہاد نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا اُور اُس کو اسٹیج پہ چڑھنے میں مدد دینے لگا۔

ہے دعاااااااااا

بن میرااااااااا

توں میرااااااا

رہنمااااااااااااا

نازش کو سب کے سامنے اپنی حالت ایسے دیکھ کر شرمندگی ہورہی تھی جب کی اُس کے برعکس سیف پرسکون تھا اُس کے لیے نازش کا ہونا ضروری تھا لوگوں کی نظروں سے اُس کو فرق نہیں پڑرہا تھا۔

میری دھڑکن تم کو چاہے

میرا دل بن جانا تم

کبھی روٹھ جو جائے دل تو

سینے سے تم لگانا

عالمگیر تھوڑا جھک کر زرنور کے کان کے پاس گانے لگا جس پہ زرنور ساری شرم بلائے طاق کیے بولی

آج تو اپنے مراثی کو سُلادو۔

سنگر بولوں تمہیں فخر ہونا چاہیے تمہارا مجازی خدا ایک اچھا سنگر ہے۔عالمگیر نے آہستہ مگر فخریہ لہجے میں کہا

اچھا سنگر نہیں مراثی۔زرنور نے فورن سے تصدیق کی۔

مجھے اپنا بنا کے رکھنا

اپنوں کی طرح ہر دم

میرا دل تو جُدا ہے تم سے

جیسے سُر سے جدا سِرہم

نا پیار میرا جسمانی

سیدھا روح میں اُتارا ہے

نہ ہوش رہا اب ہم کو جانی

اب تو ہی سہارا ہے

ہے دعاااااااااا

بن میرااااااااا

توں میرااااااا

رہنمااااااااااااا

ہے دعاااااااااا

بن میرااااااااا

توں میرااااااا

رہنمااااااااااااا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ نازش مہتاب ولد مہتاب خان’سیف منور ولد’منور حسن کو پانچ لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے

امامہ صاحب نے سب سے پہلے نازش اور سیف کا نکاح پڑھانا شروع کیا انہوں نے جیسے ہی نکاح کے کلمات پڑھنا شروع کیے نازش نے زور سے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولی آج کے دن کے لیے اُس نے بہت کجھ سوچ رکھا تھا پر ہو سب اُس سے مختلف رہا تھا۔

تو میں یہ سمجھوں مجھ ناچیز کو آپ نے یاد رکھا تھا

قبول ہے

نازش کے کانوں میں سیف کا جُملا گونجا تو اُس نے پُرانی ساری سوچو کو جھٹک کر قبول ہے کہہ دیا۔

کیا آپ نازش مہتاب ولد مہتاب خان’سیف منور ولد’منور حسن کو پانچ لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے

میں کرتا ہوں اور میری محبت ہمارے لیے کافی ہوگی۔

قبول ہے۔

سیف کی باتوں کو یاد کیے نازش نے اِس بار اُس کی ہر بات پہ ایمان لائی اور قبول ہے کہہ دیا۔

کیا آپ نازش مہتاب ولد مہتاب خان’سیف منور ولد’منور حسن کو پانچ لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے

محبت کرتی تھی اب نہیں اللہ نے چاہا تو نکاح کے بعد تمہارے دل میں میرے لیے گنجائش نکل آئے گی اور آخری بات جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو اُن کے عیب تک ہمیں نظر نہیں آتے محبوب کی ہر ادا خوبصورت لگتی ہے دل کو بھاتی ہے اور میرا ایمان ہے تم جلد پہلے جیسی ہوجاؤ گی۔

قبول ہے۔

آخری بار بھی اُس کو سوچ کر نازش نے اپنا آپ سیف کے نام کردیا تھا جو آج خود کو ہواؤں میں محسوس کررہا تھا نازش جیسے جیسے قبول ہے کہہ رہی تھی سیف کو اپنے اندر سکون کی لہر محسوس ہورہی تھی۔

نازش سے پوچھنے کے بعد امام صاحب سیف کی جانب آئے جس پہ اس نے بھی باخوشی اپنی رضامندی کا اظہار کیا اُس کے بعد دعاؤں کا سلسلہ چلا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ زرنور احسان ولد احسان غفار’ عالمگیر شیخ ولد حاجی شیخ کو سات لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

امام صاحب کے پوچھنے پہ زرنور نے نظر اُٹھا کر سامنے بیٹھے عالمگیر کو دیکھا جس کے چہرے سے آج مسکراہٹ جانے کا نام نہیں لیں رہی تھی۔

اچھے خاصے رومانٹک موڈ کا بیرا غرق کردیتی ہوں۔

قبول ہے

عالمگیر کے الفاظ یاد کرکے زرنور کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی تبھی بنا تاخیر کیے قبول ہے کہا

آپ زرنور احسان ولد احسان غفار’ عالمگیر شیخ ولد حاجی شیخ کو سات لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے

۔

میں عالمگیر شیخ ہوں جس کے لیے زرنور احسان پیار محبت پسندیدگی کے سارے جذبات اپنے اندر رکھے گی اُس کو یاد کرے گی اُس کے ملنے کا انتظار بھی کریں گی زرنور عالمگیر بن کر۔

قبول ہے

امام صاحب کے دوسری بار پوچھنے پہ زرنور اپنی اور عالمگیر کی لڑائیاں یاد کرتی قبول ہے کہہ گئ۔

آپ زرنور احسان ولد احسان غفار’ عالمگیر شیخ ولد حاجی شیخ کو سات لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

بھول ہے تصور ہے گُمان ہے خواب ہے جو بھی ہے عالمگیر شیخ تاعمر اِس میں رہنا پسند کرے گا۔

قبول ہے۔

تیسری بار کہتے ہی زرنور نے اپنی آنکھیں بند کی تھی وہ نہیں جانتی تھی آگے کی زندگی کیسی ہوگی پر اُس کو اِتنا پتا تھا عالمگیر کبھی اُس کو نہیں چھوڑے گا ہمیشہ اُس کے ساتھ رہے گا۔

زرنور کی طرف سے رضامندی جان کر عالمگیر کے بے تاب دل کو کجھ سکون میسر ہوا اب اُس کو انتظار تھا کب امام صاحب اُس کی رضامندی جاننے آئے گے۔

عالمگیر کا انتظار بھی جلد ختم ہوا امام صاحب اُس کی طرف آئے جب کی ہاد بُری شکل بنائے کبھی سیف کو دیکھتا تو کبھی عالمگیر کو اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا اُس کو کیوں بیچ میں صبر کی سولی پہ لٹکایا جارہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ ارسلہ مہتاب ولد مہتاب خان’ہاد امتیاز ولد امتیاز علی کو سات لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

امام صاحب کے پوچھنے پہ ارسلہ کی زبان تالو سے چپک گئ تھی زبان کجھ بولنے سے انکاری تھی جب کی ہاد بے چینی سے اُس کے جواب کا منتظر تھا۔

آپ آئے دیکھتا ہوں کوئی کیسے آپ کو کجھ کہتا ہے۔

ق قب قبول ہے۔

ہاد کا کہا جُملا یاد آتے ہی ارسلہ کو اپنا آپ معتبر محسوس ہوا تھا اِس لیے گہری سانس بھر کر اُس نے کہا

آپ ارسلہ مہتاب ولد مہتاب خان’ہاد امتیاز ولد امتیاز علی کو سات لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

آپ ایسا کیوں سوچ رہی ہیں خود کو اتنا لیٹ ڈاوٴن سمجھے گی تو دوسرے بھی آپ کو ایسے سمجھے گے اگر آپ تھوڑا لنگڑا کر چلتی ہے تو اِس میں نہ آپ کا قصور ہے اور نہ کوئی اِتنی بڑی بات.

قبول ہے۔

امام صاحب کے دوسری بار پوچھنے پہ ارسلہ کو پھر ہاد کی باتیں یاد آئی جس سے اُس کو ڈھارس ملی۔

آپ ارسلہ مہتاب ولد مہتاب خان’ہاد امتیاز ولد امتیاز علی کو سات لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

آپ جانتی ہیں میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور میں بھی جانتا ہوں آپ بھی مجھ سے محبت کرتی ہیں میری طرح۔

قبول ہے۔

تینوں دفع قبول ہے کہہ کر ارسلہ نے اپنی آنکھوں کو بند کرلیا تو اُس کی آنکھوں سے ایک موتی گِرا جو اِس دفع خوشی کا تھا آج وہ رو رہی تھی تو خوشی سے وہ خوش تھی ہاد کا ساتھ پاکر۔

شہریار نے امام صاحب سے نکاح نامہ لیکر ارسلہ کے سامنے رکھا اُس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھ کر شہریار نے اپنے ہاتھ کا دباؤ ڈالا جس پہ ارسلہ نے آخری فریضہ بھی انجام دیا۔

ہاد نے بھی دانتوں کی نمائش کے ساتھ قبول ہے کہا تو دعا کے بعد مبارکباد دینے کا دور چلا۔

خوش ہے میری بچی۔سب سے ملنے ملانے کے بعد مہتاب خان ارسلہ کے پاس آئے۔

جی ڈیڈ۔ارسلہ نم لہجے میں بولی

میرا اِرادہ تمہیں اتنی جلدی رخصت کرنے کا نہیں تھا پر حالات ایسے ہوگئے کے دونوں کی شادی کرنی پڑی۔مہتاب خان اُس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولے

مجھے کوئی شکایت نہیں آپ نے جو کیا ضرور ہماری بہتری کے لیے کیا ہوگا۔ارسلہ نے اُن کو پرسکون کرنا چاہا۔

جیتی رہو میری بیٹی۔مہتاب خان اُس کے ماتھے پہ پیار کرتے بول کر اسٹیج سے نیچے چلے گئے

نکاح مبارک ہو۔مہتاب خان کے جانے بعد ہاد سرگوشی نما آواز میں ارسلہ کے کان کے پاس بولا تو وہ خود میں سمیٹ سی گئ

خوبصورت لگ رہی ہیں آپ مجھے اندازہ نہیں تھا کوئی اتنا حسین بھی ہوسکتا ہے۔ ارسلہ کو خاموش دیکھ کر کوئی جواب ناپاکر ہاد ارسلہ کی طرف رخ موڑ کر بولا تو ارسلہ کے ہاتھ غرق آلود ہوئے اُس کو اِس وقت ہاد سے بے حد شرم محسوس ہورہی تھی اُپر سے سب کے سامنے اُس کا یوں مخاطب کرنا ارسلہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے؟

ش ش شکریہ۔ارسلہ اٹک اٹک کر بس یہی بول پائی ہاد کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ اُس کو اپنی اور ارسلہ کی پہلی ملاقات یاد آگئ تھی۔

بس شکریہ اور کجھ نہیں کہیں گی۔ہاد نے چھیڑنے والے انداز میں پوچھا

ا اورک کیا ک کہوں۔ارسلہ نظریں سامنے کیے بولی

پہلے ہکلانا بند کریں میری طرف دیکھے اُس کے بعد کہے نکاح مبارک۔ہاد کی فرمائش پہ ارسلہ کو لگا وہ اب بیہوش ہوئی تو کب ہوئی۔

ن نک نکاح م مبارک۔ارسلہ بنا اُس کی جانب دیکھے بولی

ناٹ فیئر میری طرف تو دیکھا ہی نہیں۔ہاد اُس کا حنائی والا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا بولا

چھ چھوڑے لوگ دیک دیکھ ر رہے ہ ہیں۔ارسلہ گھبراہٹ کا شکار ہوتی اپنا ہاتھ آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی

ظاہر ہے آنکھیں ہیں تو دیکھے گے بھی آپ اُن کو نہیں اپنے مجازی خدا کو دیکھے جو آپ کی ایک نظر کرم کا منتظر ہے۔ہاد کی بات پہ ارسلہ چہرہ موڑ کر ہاد کو دیکھا جس کا چہرہ اُس کی خوشی کی گواہی دے رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *