Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Episode 01)

Be Khudi by Rimsha Hussain

دور کریں اِس کو میری نظروں سے۔ مہتاب خان گرجدار آواز میں بولے خاموش کوریڈور میں ان کی آواز گونجنے لگی تھی۔

ہوش کر مہتاب اِس ننہی بچی کا کیا قصور۔ سادیہ بی نے تاسف سے ان کا چہرہ دیکھ کر کہا جو ہر احساس سے پاک تھا۔

اِس منہوس کا ہی قصور ہے آپ اِس کو میری نظروں سے دور رکھیں۔ مہتاب خان نے نفرت سے کمبل میں لپیٹے وجود کو دیکھ کر کہا ان کی بات پہ سادیہ بی کا کلیجہ منہ پہ آیا تھا۔

بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ سادیہ بی نے جیسے یاد کروایا۔

میری ایک بیٹی ہے بس اِس منہوس کی وجہ سے میری سلما مجھے چھوڑ کر چلی گئ۔ مہتاب خان غمگین لہجے میں بولے۔

اُس کی عمر اتنی تھی۔سادیہ بی نے ٹہرے لہجے میں کہا

اِس کی وجہ سے ہوا ہے نہ یہ پیدا ہوتی نہ میری سلما یہ دنیا چھوڑ جاتی یہ منہوس ہے پیدا ہوتے ہی سلما کو کھاگئ۔ مہتاب خان گرجدار آواز میں بولے۔

💕
💕
💕
💕
💕

صبح اُس کی آنکھ کُھلی تو بے مقصد چھت کو تکنے لگی پھر گہری سانس لیتی اُٹھ کر الماری کی طرف آئی وہاں سے ایک سادہ سا ڈریس لیا پھر فریش ہونے چلی گئ۔

اسلام علیکم ! بی۔ارسلہ تیار ہوتی سادیہ بی کو پیچھے سے ہگ کرتی بولی۔

وعلیکم اسلام اُٹھ گئ میری بچی۔ سادیہ بی مسکراکر بولی۔

جی ناشتہ دے بھوک لگی ہے۔ ارسلہ نے معصوم شکل بناکر کہا

ٹیبل پہ بیٹھو میں لاتی ہوں تمہارا پسندیدہ ناشتہ۔ سادیہ بی محبت سے اُس کا گال چھوتی بولی تو ارسلہ سرہلاتی باہر آئی جہاں ڈائینگ ٹیبل پہ اُس کا باپ مہتاب خان اور پانچ سال بڑی بہن نازش پہلے ہی موجود تھے اور مسکراکر آپس میں کوئی بات کررہے تھے دور ارسلہ نے یہ منظر بڑی حسرت سے دیکھا تھا سادیہ بی نے اُس کو ایک جگہ کھڑا دیکھا تو سرد سانس خارج کی۔

یہاں کیوں کھڑی ہوگئ ہو آؤ نہ وہاں چلتے ہیں۔سادیہ بی نے اُس کا ہاتھ تھام کر کہا

میں اُن کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ارسلہ سنجیدگی سے کہتی دوبارہ کچن کی طرف چلی گئ۔ سادیہ بی نے ایک نظر اُس کی پشت پہ ڈالی دوسری ان باپ بیٹی پہ۔

💕
💕
💕
💕

ہاد

ہاد

یار اُٹھ جا۔عالمگیر اُس کا دوست کب سے ہاد کو جگانے کی کوششوں میں تھا پر ہاد جاگتے ہوئے بھی نہیں اُٹھا۔

ہاد اگر توں اب نہ اُٹھا تو میں نے پانی کی بالٹی تیرے سر پہ گِرانی ہے۔عالمگیر نے دھمکی دیتے ہونے کہا تو ہاد نے اپنی سیاح آنکھیں کھول کر تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھا جو اپنی جیت پہ گردن اکڑا کر کھڑا ہوگیا تھا۔

میں یہاں اِس لیے نہیں آیا کے تم میری پیاری نیند خراب کرو۔ہاد اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بے زار سے بولا

اپنی پیاری سی نیند کو ٹا ٹا بائے بائے کرو کیونکہ ہمیں یونیورسٹی سے دیر ہوگئ ہے۔عالمگیر نے بیڈ پہ بیٹھ کر کہا

کونسا قیامت آجانی تھی ہمارے دیر یونیورسٹی جانے سے۔ہاد کوفت سے بولا

قیامت کا تو پتا نہیں پروفیسر جلال کو جلال ضرور آئے گا۔عالمگیر نے مسکراکر مزے سے کہا

او شٹ آج تو اُن کا ٹیسٹ تھا نہ۔ہاد فورن سے چھلانگ مار کر بیڈ سے کھڑا ہوتا بولا

جی آگیا آپ کو یاد۔عالمگیر نے طنزیہ کیا۔

بدقسمتی سے۔ہاد کہتا زور سے دروازہ بند کرگیا عالمگیر نفی میں سرہلاتا کمرے کا حال درست کرنے لگا کیونکہ جہاں ہاد ہو وہاں گند نہ ہو یہ ناممکنات میں سے تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕

تمہارا نالائق بیٹا کہاں ہیں؟امتیاز صاحب نے اپنی بیگم سے سوال کیا۔

میرے دونوں بیٹے لائق اور فائق ہیں۔زرغونہ بیگم نے بریڈ میں جیم لگاکر اُن کی معلومات میں اضافہ کیا اُن کی بات پہ ارمغان نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔

جی تو آپ کا ایک لائق اور فائق بیٹا کہاں آوارہ گردی کررہا ہے دوسرا تو یہاں موجود ہیں ناشتہ کررہا ہے۔امتیاز صاحب نے ارمغان کی طرف اِشارہ کرکے طنزیہ سوال کیا۔

کمبائن اسٹڈی کے لیے دوستوں کے ساتھ پڑھائی میں وقت کا پتا نہیں لگا تو اپنے دوست کے پاس رُک گیا تھا اور اب وہی سے یونی جائے گا۔زرغونہ بیگم نے اب کی آرام سے تفصیلی جواب دیا۔

پڑھائی تو بہانا ہے بس اُس کو تو موقع چاہیے آوارہ گردی کرنے کا۔امتیاز صاحب نے کہا

آپ ہر وقت میرے بیٹے کا پیچھے نہ رہا کریں۔زرغونہ بیگم ناراض ہوتی بولی جب کی ارمغان مسکراتا باہر جانے لگا وہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے والا تھا جب نظر سامنے والے گھر کی ٹیرس پہ پڑی جہاں آنچل نظر آرہا تھا وہ جانتا تھا وہان کون ہے جو چھپنے کی کوششوں میں ہیں۔

💕
💕
💕
💕

مانو میری طرح تم بھی اکیلی ہو نہ باپ کا پیار ہے نہ ماں کی ممتا۔ارسلہ نے اپنی بلی کے بالوں کو سہلاکر دُکھی لہجے میں کہا جیسے وہ اُس کی بات سمجھ رہی تھی۔

کالج نہیں گئ آج؟سادیہ بی اُس کے پاس آتی پوچھنے لگی۔

ضروری کلاس نہیں تھی میری ویسے بھی وہاں سب میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔ارسلہ نے تلخ لہجے میں کہا۔

مذاق کیوں اُڑاتے ہیں؟سادیہ بی نے سوال کیا

آپ کو جیسے پتا نہیں بچپن سے لیکر آج تک میرا مذاق ہی تو بنا ہے رشتیداروں میں اسکول میں اور اب کالج میں بھی اگر میں لنگڑا کر چلتی ہوں تو اِس میں میرا کیا قصور اگر اللہ نے اُن کو مکمل کیا ہے تو اُس میں اُن کا کیا کمال یہ تو اللہ کی مرضی ہے جسے چاہے جیسا بنائے۔ارسلہ نے نم لہجے میں کہا تو سادیہ بی نے اُس کو اپنے ساتھ لگایا۔

ایسا نہیں ہے کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا مکمل بس اللہ کی ذات ہے دوسرا یہ اگر لوگ تمہارا مذاق اُڑاتے ہیں تو یہ ان کا فعل ہے جس کا حساب اُن کو آخرت میں دینا ہوگا کسی کی دل آزاری کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔سادیہ بی نے نرمی سے اُس کو سمجھایا۔

میں لنگڑا کر کیوں چلتی ہوں؟ارسلہ نے سوال کیا

ہلکی سے لڑکھڑاہٹ ہی تو ہے کونسی بڑی بات ہے اللہ نے تمہیں بہت پیارا بنایا ہے صورت سے بھی اور سیرت سے بھی یہ دونوں چیزیں تم میں ہیں جو تمہاری اِس محرومی پہ بھاری ہے اگر اللہ کسی انسان میں محرومی دیتا ہے تو ساتھ میں ایک خوبی بھی دیتا ہے اِس لیے کبھی بھی اللہ سے اِس بات پہ شکوہ مت کرنا اللہ نے بیشک تمہیں باقیوں سے بہتر بنایا ہے۔سادیہ بھی نے اُس کو اپنے ساتھ لگاکر کہا۔

💕
💕
💕
💕

ہاد ڈارلینگ تمہارا ٹیسٹ کیسا رہا۔نازش اپنا بیگ کاندھے پہ ڈالتی ہاد سے بولی جو موبائل میں بزی تھا۔

بیسٹ تھا۔ہاد نے جواب دیا۔

مجھے مزہ نہیں آئے گا تمہارا یہ لاسٹ ایئر ہے۔نازش نے افسوس سے کہا ہاد اُس سے دو سال سینئر تھا دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔

ہاد کونسا تمہیں انٹرٹین کرنے آتا ہے۔عالمگیر نے طنزیہ کہا

تم چپ رہو میں ہاد سے بات کررہی ہوں۔نازش نے اُس کو آنکھیں دیکھا کر کہا۔

ہم ملتے تو رہیں گے کونسا بڑی بات ہے اٹس ناٹ ایشو۔ہاد نے نازش کا ہاتھ تھام کر کہا

یہ بات تو ہے اور تم بتاؤ کیا پلان ہے۔نازش نے مسکراکر پوچھا

فلحال تو زندگی کا مزہ لینا ہے پھر سوچے گے کیا کرنا ہے۔ہاد نے مزے سے بتایا۔

دیٹس گُڈ۔نازش ہنس کے بولی۔

ساتھ چل رہا ہے یا میں جاؤں۔عالمگیر اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا بولا

تم جاؤ میرا اور ہاد کا باہر لنچ کرنے کا موڈ ہے۔ہاد کے بجائے نازش نے جواب دیا۔

بتایا نہیں تم نے۔عالمگیر نازش کی بات نظرانداز کرتا ہاد سے بولا۔

تم جاؤ میں نے ویسے بھی ابا حضور کے سامنے پیش ہونا ہے حاضری دینے۔ہاد نے کان کی لو کھجاکر کہا۔

ایز یو وش۔عالمگیر اُس سے ہاتھ ملاتا باہر نکل گیا۔

تمہارا یہ دوست میری انسلٹ کرتا ہے اور تم کجھ نہیں کہتے۔عالمگیر کے جانے کے بعد نازش نے شکایت کی۔

اگنور کرو۔ہاد نے آنکھ ونک کرتے کہا۔

شاپنگ پہ بھی چلیں گے۔بازش نے فرمائش کی۔

جو حکم۔ہاد سر کو خم دیتا بولا۔

💕
💕
💕
💕
💕

چل زرنور بتادے تو ڈی آے جی کی بیٹی ہے۔سفید رنگ کی پٹھان نقوش والی لڑکی نے خود کو ہمت دیتے کہا بیڈ سے سفید چادر نکال کر اُس نے بیڈ شیٹ بھی ہاتھ میں پکڑ کر گڑھ لگاکر کھڑکی کے سامنے آکر اُس نے نیچے اونچائی دیکھی تو سانس خشک ہوا پر خود کو حوصلہ دیتی وہ رسی کھڑکی سے باندھنے لگی پھر چادر اور بیڈ شیٹ بھی ملا کر کھڑکی سے لٹک کر نیچے اُترنے کی جدوجہد کرنے لگی۔

میرے اللہ مجھے باحفاظت نیچے پہچانا۔آنکھیں بند کرتی وہ دعائیں مانگنے لگی اُس کا سانس رُک گیا جب رسی ختم ہونے پہ وہ درمیان میں ہی لٹک گئ اُس نے زور سے آنکھیں میچ کر کھول کر نیچے دیکھا جہاں لمبائی اب قدرے کم تھی اللہ کا نام لیتے اُس نے اپنے ہاتھ رسی سے نکال دیئے جس سے وہ نیچے گِری اُس نے آنکھیں کھولی تو نظر بلیک جوتوں پہ پڑی۔

سدا خوش رہو سہاگن رہو۔کسی مردانہ آواز پہ اس نے جھٹکے سے سراُٹھایا جہاں انجانا سا شخص دلچسپ نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا

بکواس بند کرو۔زرنور اُٹھ کر اپنے ہاتھ جہاڑ کر بولی

بکواس کہاں میں تو یہاں تمہیں داد دینے آیا تھا کیسے ٹارزن کی طرح آرام سے نیچے اُترگئ۔عالمگیر پرشوخ لہجے میں بولا وہ یہاں اپنے دوست سے ملنے آیا تھا جب نظر اُپر سے لٹکتے وجود پہ ٹہیرگئ تھی۔

کون ہو تم؟زرنور نے بےزار لہجے میں سوال کیا اُس کو ڈر تھا کہیں کوئی دیکھ نہ لیں۔

ماہ بدولت کو عالمگیر شیخ کہتے ہیں۔عالمگیر نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر ادب سے اپنا تعارف کروایا۔

واٹ ایور۔زرنور اتنا کہتی جانے لگی جب عالمگیر نے آواز دی۔

گولڈن گرل تم دروازے سے بھی آسکتی تھی اِتنی مشقت کیوں کی۔عالمگیر نے اُس کے خوبصورت کندھوں تک آتے گولڈن بالوں کو دیکھتے اُس کو نام دیا۔

واٹ گولڈن گرل۔زرنور اپنے لیے لقب سن کر دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ دیئے۔

نام کیا ہے ویسے تمہارا؟عالمگیر نے مسکراکر سوال کیا وہ سمجھ نہیں پایا وہ کیوں اِس انجان لڑکی سے اتنا فری ہورہا تھا۔

میں ہر عیرے غیرے کو اپنا نام نہیں بتاتی۔زرنور اپنے گولڈن بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتی چلی گئ عالمگیر تو اُس کا انداز دیکھ کر عش عش کر اُٹھا۔

اٹیٹیوڈ گرل۔عالمگیر اُس کو نیا نام دیتا اندر کی طرف چلاگیا۔

مراد کہاں ہیں؟عالمگیر فائزہ اُس کے دوست کی بہن کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔

اندر اپنے کمرے میں۔فائزہ نے بتایا تو عالمگیر اُس کے کمرے کی طرف گیا جہاں وہ کوئی مووی دیکھ رہا تھا۔

کیسا ہے توں۔مراد نے عالمگیر کو دیکھا تو اپنی جگہ سے اُٹھ کر گلے لگ کر بولا

ہینڈسم۔عالمگیر نے مسکراکر کہا

بہت خوشفہم انسان ہو۔مراد نے گھور کر کہا

بس کبھی غرور نہیں کیا۔عالمگیر آرام سے بیڈ پہ لیٹ کر بولا۔

ہاد نہیں آیا ساتھ۔مراد نے ہاد کا پوچھا

وہ اپنی نازو کے ساتھ مصروف ہے۔عالمگیر نے بے زار ہوتے کہا

تم اُس نازش سے اتنا چڑتے کیوں ہو؟مراد نے جاننا چاہا کیونکہ جب جب نازش کا ذکر ہوتا تھا عالمگیر کے چہرے کے تاثرات ایسے ہوجاتے جیسے کڑوا بادام نگل لیا ہو۔

آے ڈونٹ لائیک ہر مجھے وہ ہاد کے ساتھ سوٹ ایبل نہیں لگتی۔عالمگیر نے جواب دیا۔

ہاد کو تو پسندوں ہے وہ۔مراد نے کندھے اُچکاکر کہا۔

بھائی۔فائزہ زور سے دروازہ کھول کر اندر آئی تو عالمگیر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔

فائزہ دروازہ نوک کرتے آتے ہیں۔مراد نے سمجھایا

جی بھائی سوری بھائی وہ زر اپنے کمرے میں نہیں وہ کھڑکی سے باہر نکل گئ۔فائزہ نے پُھولی سانس کے درمیان کہا تو مراد پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا جب کی عالمگیر کی نظروں کے سامنے کجھ دیر پہلے والا منظر آیا چہرے پہ مسکراہٹ آگئ جس سے وہ خود انجان تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕

تمہیں کانچ کی چوڑیاں پسند ہیں؟ہاد نے ونڈو کے باہر لڑکے کے ہاتھ میں چوڑیاں دیکھی جو ان کو بیچ رہا تھا تو اُس نے پاس بیٹھی نازش سے سوال کیا۔

ناپ۔نازش نے آرام سے کہا

لڑکیوں کو تو پسند ہوتی ہیں۔ہاد نے کہا

ہوگی بٹ آے ڈونٹ لائیک میرے اتنے فضول شوق نہیں۔نازش نے آرام سے کہا

خیر یہ فضول شوق تو نہیں۔ہاد سرجھٹک کر بولا۔

مجھے نفیس اور ایکسپینسو چیزیں پسند ہیں میرا اسٹینڈر اِتنا لو نہیں جو میں پچاس روپے کی چوڑیاں پسند کروں۔نازش نے سرجھٹک کر مغرور لہجے میں کہا تو ہاد نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔

تمہارا گھر آگیا۔ہاد نے نازش کے گھر کے باہر گاڑی روکتے کہا۔

تھینکس کل ملے گے۔ہاد بھی گاڑی سے اُترا تو نازش مسکراکر اُس کے گلے لگ کر بولی اُپر ٹیرس پہ کھڑی ارسلہ نے یہ منظر دیکھ کر استففراللہ پڑھ کر اپنی نظروں کا زاویہ بدلا۔

ٹیک کیئر۔ہاد نے کجھ فاصلہ بناکر کہا تو نازش مسکراکر اُس کے گال پہ اپنے لب رکھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مل گئ فرصت گھر آنے کی۔ہاد جو آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتا اندر کی طرف جانے لگا تھا اپنے باپ کو سامنے کھڑا دیکھا تو خجل سے ہوگیا

جی ڈیڈ تھوڑا لیٹ ہوگیا۔ہاد نے مسکراکر کہا

اِس طرح بس دوستوں کے ساتھ وقت ضائع کروگے تو کبھی کامیاب نہیں ہوگے۔امتیاز صاحب نے سختی سے کہا

حضرت علیؓ نے فرمایا ہے

کامیابی حوصلے سے ملتی ہے حوصلے دوستوں سے ملتے ہیں اور اچھے دوست مقدر سے ملتے ہیں اور مقدر انسان خود بناتا ہے

امتیاز صاحب کی بات پہ ہاد نے مسکراکر کہا

وہ سب تو سہی پر اپنے فیوچر پہ بھی توجہ دو۔امتیاز صاحب کے سخت تاثرات کجھ ڈھیلے ہوئے۔

یس ڈیڈ ڈونٹ وری۔ہاد نے لاپرواہ انداز میں کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔

تم کو یاد کرلوں تو

مل

جاتا ہے سکون دل کو

میری

تنہائی کا بہت خوبصورت

سا

علاج ہوتم

ارمغان ہاتھ میں تصویر پکڑ کر شعر پڑھنے لگا پھر تصویر پہ اپنے ہونٹ رکھ کر اُس کو اپنے سینے سے لگاکر سونے کے لیے آنکھیں بندکرلی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اسلام علیکم! ارسلہ نے باہر مہتاب خان کو بیٹھا دیکھا تو سلام کیا۔

ہممم۔مہتاب خان بس اتنا کہہ کر وہاں سے اُٹھ گئے ان کو جاتا دیکھ کر ارسلہ کے چہرے پہ اُداس مسکراہٹ نے بسیرا کیا۔

ارسلہ لیٹ ہورہا تھا تم نے کالج کے لیے جاؤ اللہ کی امان میں۔سادیہ بی اُس کو بیگ اور چادر تھماتی ہوئی بولی۔

کاش ڈیڈ مجھ سے پیار کرتے۔ارسلہ کی بات پہ سادیہ بی کو اُس کے حال پہ ترس آیا جو چھوٹی سی عمر میں ہی محبت کے لیے ترسی آئی تھی۔

اُداس کیوں ہوتی ہو دیکھنا تمہاری زندگی میں کوئی ایسا آئے گا جو خود سے زیادہ تمہیں چاہے سب سے پہلے تمہیں رکھے گا دنیا کی ہر خوشی تمہیں دے گا۔سادیہ بی نے محبت سے اُس کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر کہا جہاں ہروقت مایوسی اور اُداسی ہوتی تھی۔

جس سے اپنا باپ اپنی بہن پیار نہیں کرتے اُس سے کوئی اور کیا پیار کرے گا آپ مجھے ایسے خواب مت دیکھائے جن کی کوئی تعبیر نہیں ایک لنگڑی لڑکی سے شاید کوئی ترس ہمدردی کرلیں پر محبت وہ ناممکن سی بات ہے۔ارسلہ خود کا مزاق اُڑاتی بولی۔

محبت جو ہوتی ہے نہ وہ بہت بڑی چیز ہے جو محبوب کے عیب تک چھپادیتی ہے محبت میں محبوب جیسا بھی ہو سر آنکھوں پہ ہوتا ہے انسان سب ایک جیسے ہوتے ہیں بس جو جس کے لیے محبت کا جذبہ رکھتا ہے اُس انسان کے لیے پھر وہ سب سے زیادہ خاص ہوجاتا ہے چاہے پھر وہ عام شکل وصورت کا مالک کیوں نہ ہو تم تو پھر بھی پریوں جیسا حُسن رکھتی ہو۔سادیہ بی نے اُس کی بات پہ مسکراکر کہا

لنگڑی پری۔ارسلہ طنزیہ کہتی باہر کی طرف جانے لگی سادیہ بی گہری سانس لیکر رہ گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہتاب بات کرنی ہے تم سے۔سادیہ بی نے مہتاب خان سے کہا

ضروری ہے تو کریں ورنہ بعد میں میری اہم میٹنگ ہے آج۔مہتاب خان نے عجلت بھرے لہجے میں کہا

ارسلہ کے مطلق بات ہے۔سادیہ بی نے کہا

کتنی دفع کہا ہے آپ سے اُس منہوس کا نام مت لیا کریں آپ۔مہتاب خان کا موڈ بُری طرح خراب ہوا تھا۔

اُنیس سال سے وہ معصوم بچی بے بلاوجہ تمہاری نفرت برداشت کررہی ہے نہ وہ اپنی مرضی سے پیدا ہوئی ہے نہ اُس کی وجہ سے سلما اس دنیا سے چلی گئ یہ اللہ کے فیصلے ہیں تم کیوں اس بچی کو باپ کی شفقت سے محروم کررہے ہو رحم نہیں آتا تمہیں۔سادیہ بی نے تاسف سے ان کو دیکھ کر کہا

اور کیا کروں میں ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہوں اچھے اسکول میں داخلا کروایا اب اچھے کالج میں ایڈمیشن کروایا ہے اور کیا کروں میں۔مہتاب خان کوفت سے بولے

اُس کو اِن عارضی چیزوں کی ضرورت نہیں تمہارے پیار کی ضرورت ہے جو تم بس نازش کو دیتے ہو یہ بھی خیال نہیں کرتے کے اُس معصوم پہ کیا گُزرتی ہوگی اپنی ذات کو بے مول ہوتا دیکھ کر۔سادیہ بی نے ہمیشہ کی طرف اُن سمجھانا چاہا

نازو اور اُس کا کوئی مقابلہ نہیں مجھے دفتر کے لیے دیر ہورہی ہے خُدا حافظ۔مہتاب خان ان کی بات کا اثر لیے بنا بولے۔

جس طرف ارسلہ کے ساتھ تم کررہے ہو نہ سلما کی روح بھی تڑپتی ہوگی۔سادیہ بی نے پیچھے سے کہا جس کو وہ نظرانداز کرگئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا انکل؟گاڑی کے اچانک رکنے پہ ارسلہ نے گھبراکر پوچھا۔

گاڑی میں کوئی مسئلا ہوگیا ہے شاید آپ ڈرو نہیں میں چیک کرتا ہوں۔ڈرائیور نرم سے کہتا گاڑی سے باہر نکل گیا ارسلہ گھبراکر آیةالکرسی پڑھنے لگی۔

ارسلہ بیٹا انجن گرم ہوگیا ہے میں پاس میں کہی پانی تلاش کرکے آتا ہوں۔ڈرائیور کی بات پہ اُس نے سہمی نظروں سے ان کو دیکھا

میں اکیلی کیسے۔ارسلہ نے ڈرتے ہوئے کہا

ڈرو نہیں بہادر بنو بیٹا میں پانچ منٹ سے پہلے آجاؤں گا۔ڈرائیور نے نرمی سے کہا تو اُس نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

ایکسکیوز می کین آے ہیلپ یو؟دس منٹ گُزرجانے کے بعد جب ڈرائیور نہیں آیا تو ارسلہ گھبراکر گاڑی سے باہر آئی وہ آس پاس سنسان سڑک کو دیکھ رہی تھی جب پاس کسی مرد کی آواز سن کر اُس کا دل اُچھل کر حلق میں آگیا۔

ڈرو نہیں پریٹی گرل میں جسٹ ہیلپ کا پوچھ رہا ہوں۔مراد نے نرمی سے کالج یونیفارم میں ملبوس ارسلہ سے کہا جو خود کو بلیک چادر میں چھپائے چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔

آ آپ ج جائے۔ارسلہ نے ڈر کر کہا

ڈرو نہیں میری بھی ایک بہن ہے تمہاری عمر کی ہوگی پر وہ تیز ہے سو گھبرانا چھوڑ کر اپنا مسئلا بیان کرو۔مراد نے شرارت سے کہا

ڈرا ڈرائیور ان انک انکل نے دی دیر کردی پانی ل لینے گئے ت تھے ان انجن گ گرم ہو ہوگیا ت تھا تو۔ارسلہ نے اٹک اٹک کر کہا

اچھا پہلے تو خود کو رلیکس کرو میں بہت شریف بندہ ہو دوسرا یہ کے تم گاڑی میں بیٹھو میں چیک کر آتا ہوں میری گاڑی بھی پاس اگر کہو تو میں ڈراپ کردوں۔مراد نے اُس کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا جس پہ ارسلہ نے جھٹ سے اپنا سر نفی میں ہلایا۔

آپ کون؟ڈرائیور نے مراد کو دیکھا تو سوال کیا ان کو دیکھ کر ارسلہ کا رکا سانس بحال ہوا۔

میں مراد علی خان اِن کو پریشان دیکھا تو کہا آپ کو بیچ سڑک پہ بچی کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔مراد نے سنجیدگی سے اپنا تعارف کروانے کے بعد کہا

گاڑی خراب ہوگیا تھا پانی تھا نہیں تو جانا پڑگیا۔ڈرائیور شرمندہ ہوتا بولا۔

اور تم پریٹی گرل گھبرانا چھوڑ دو خود کو پُراعتماد بناؤ یہ دنیا ڈرنے والے کو مزید ڈراتی ہے اِس لیے خود کو بہادر بناؤ۔مراد اُس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا تو ارسلہ کا سر خودبخود اثبات میں ملا اُس کو نہیں آیا چند دو تین لوگوں کے علاوہ کس نے اُس سے اتنے مان اور شفقت سے بات کی تھی۔

ویسے میری کوئی خراب اٹینشن نہیں تھی اگر پانچ چھ سال آپ پہلے دُنیا میں آتی تو سوچا جاسکتا تھا۔مُراد نے آنکھ ونک کرتے کہا تو ارسلہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس پڑی اُس کو ہنستا دیکھ کر مراد نے زِیر لب ماشااللہ کہا تھا۔

مُسکراتی رہا کریں۔مراد کی بات پہ ارسلہ نے عجیب نظروں سے اُس کو دیکھا جو کبھی آپ کہہ رہا تھا تو کبھی تم۔

میرا نام تو جان کیا اپنا نام بھی بتادو ڈرائیور تو مصروف تب تک گپیں لگاتے ہیں۔مراد نے مزے سے کہا

ارسلہ مہتاب۔ارسلہ نے اپنا نام بتایا۔

نائیس نیم۔مراد نے کہا

بیٹا گاڑی میں بیٹھو کالج کے لیے لیٹ ہوگیا ہے پہلے ہی۔ڈرائیور کام سے فارغ ہوتا بولا۔

اچھا قسمت نے چاہا تو پھر ملیں گے۔مراد سائیڈ پہ کھڑا ہوتا بولا جس پہ ارسلہ نے مسکراکر سرہلایا ان کی گاڑی کے جاتے ہی مراد اپنی گاڑی کی طرف آیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

عالم یہ سوال تو حل کرنا۔ہاد نے کتاب عالمگیر کی طرف بڑھاکر کہا

دن بدن نالائق ہوتے جارہے ہو۔عالمگیر نے گھورتے ہوئے کہا

زیادہ میرے ابا مت بنو۔ہاد نے ڈبل گھوری سے نواز کر کہا

گائیز کیوں نہ ہم ایک ساتھ لنچ کا پروگرام کریں بہت ٹائم سے پارٹی کا مزہ بھی نہیں لیا۔انمول نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرتے کہا

ڈیٹس بیسٹ آئیڈیا۔نازش تھمب کا اِشارہ دیتی بولی۔

آئیڈیا تو اچھا ہے پر ابھی ٹیسٹ ہیں اور وقت کم تو یہ سب ہم فلحال پینڈنگ پہ کرتے ہیں بعد میں فریش مائینڈ کے ساتھ یہ سب انجوائے کریں گے۔محب نے اپنی رائے دیتے کہا

ہاں یہ بہتر رہے گا۔ہاد نے کہا تو نازش کا منہ اُترگیا۔

سیڈ کیوں ہوتی ہو کل تو ہم ساتھ تھے نہ ویسے بھی ایک دو ہفتوں کی بات ہے۔ہاد نازش کو خاموش دیکھ کر اُس کا ہاتھ تھام کر بولا

اوکے نہیں ہوتی سیڈ۔نازش مسکراکر اُس کے کندھے پہ سررکھتی بولی عالمگیر نے نفی میں سرہلاکر اُن کی اتنی بے تکلفی دیکھی تھی۔

تم دونوں کا شادی کا پلان کب ہے۔انمول نے ہاد اور نازش سے کہا

میری پڑھائی ہوجائے پھر اُس کے بعد ہم سوئیز لینڈ جائے گے ہنی مون پہ۔نازش نے مزے سے بتایا۔

واہ۔انمول ایمپریس ہوتی بولی۔

تمہاری کیا رائے ہے؟محب نے ہاد سے پوچھا

وہی جو فیوچر میں بیگم کہے گی۔ہاد ہاتھ کھڑے کرتے بولا تو سب ہنس پڑے سوائے عالمگیر کے۔

💕
💕
💕
💕
💕

تمہاری اِس حرکت پہ میں کتنا شرمندہ ہوا ہوں اُس کا اندازہ ہے تمہیں۔ڈی آے جی احسان غفار سخت لہجے میں زرنور سے بولے جو ببل چبارہی تھی۔

ڈیڈ مجھے بلاوجہ کی پابندیاں نہیں پسند دوسرا آپ نے اپنے دوست کے گھر مجھے چھوڑ دیا اتنا سخت بے زار ہوئی میں کیا بتاؤں وہ لوگ تو مجھے باہر لان میں جانے بھی نہیں دے رہے تھے۔زرنور شرمندہ ہوئے بنا بولی

ایسا میں نے کہا تھا یہ پابندیاں بلاوجہ نہیں بلکہ تمہاری حفاظت کے لیے ہیں واے یو ڈونٹ انڈرسٹینڈ۔احسان صاحب نے تھک ہار کر کہا

ڈیڈ میرے پیارے ڈیڈ زندگی اور موت گوڈ کے ہاتھ میں ہیں یہ لوگ صرف آپ کو ڈرا سکتے ہیں کر کجھ نہیں کرسکتے بکاز گوڈ جب تک ناچاہے کجھ نہیں ہوسکتا۔زرنور اُن کے سینے پہ سررکھتی لاڈ سے بولی

میری جان میرا تمہارے سوا کون ہے تم بھی ایسے لاپرواہ رہوگی تو میں کیا کروں مجھے ہر وقت تمہاری طرف سے ڈر لگا رہتا ہے احسان صاحب اب نرمی سے بولے

کجھ نہیں ہوتا آپ کی بیٹی زرنور بہت بریو ہے اِس لیے بے فکر رہے۔زرنور سے مزے سے کہا

💕
💕
💕
💕
💕

کِن سوچوں میں ہو؟ماریہ نے طوبیٰ کے سامنے ہاتھ لہراکر کہا

سوچو میں تو نہیں میں۔طوبیٰ نے کہا

اچھا جی تو بیٹھے بیٹھے آپ گم کیوں ہوجاتی ہیں اگر کوئی خیالوں میں آتا ہے تو بتادے۔ماریہ نے شرارت سے کہا

ایسا کجھ نہیں فضول مت بولا کرو تم۔طوبیٰ نے انکار کرتے کہا

سنا ہے ڈیڈ تمہارے لیے رشتہ تلاش کررہے ہیں۔ماریہ نے رازدانہ انداز میں کہا

تمہیں کس نے کہا۔طوبیٰ بے چین ہوتی بولی

امی سے بات کرتے وقت میں نے سن لیا۔ماریہ نے جواب دیا

ڈیڈ کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے۔طوبیٰ بے زاری سے بول کر اپنی ماں کے کمرے میں آئی۔

کیا بات ہے؟نازیہ بیگم نے اُس کا اندازہ نوٹ کرتے کہا

یہ ڈیڈ ایسا کیوں کررہے ہیں؟طوبیٰ نے پوچھا

کیونکہ وہ اب تمہارا بھلا چاہتے ہیں۔نازیہ بیگم نے کہا

میں کسی اور کے نکاح میں ہوں۔طوبیٰ نے جیسے اُن کو یاد کروایا

اُس نکاح کی تمہارے باپ کی نزدیک کوئی اہمیت نہیں خُلع کا نے نوٹس بھیجنے کا سوچ بیٹھے ہیں۔نازیہ بیگم نے اُس کے سر پہ بم گِرایا

امی مجھے نہیں چاہیے خلعٰ۔طوبیٰ نم آنکھوں سے بولی۔

تمہارے چاہنے سے کیا ہوگا جب کی تمہارا باپ کجھ اور سوچ کر بیٹھا ہے۔نازیہ بیگم نے کہا

آپ کجھ کریں نہ۔طوبی کی آنکھوں سے آنسو گِرکر اُس کے سرخ نازک گال بھیگا گئے۔

میں کیا کرسکتی ہوں سوائے تمہاری بہتری کے لیے دعا کرنے کے علاوہ تمہارے باپ نے مجھے کبھی ایسا کوئی حق نہیں دیا جو میں کجھ بولوں۔نازیہ بیگم اُس کے آنسو صاف کرتی بولی۔

بڑوں کی لڑائی میں نقصان بچوں کا کیوں ہوتا ہے؟طوبیٰ نے ایک ایسا سوال کیا جن کا جواب ان کے پاس موجود نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *