Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Episode 11)

Be Khudi by Rimsha Hussain

پورا دن گُزر گیا اب تو بتائے میری بیٹی کسی ہے؟ڈاکٹر جیسے ہی ایمرجنسی وارڈ سے باہر آیا مہتاب خان بے چینی سے پوچھنے لگے۔

جی آپ کو تحمل سے ہماری بات سننی ہوگی۔ڈاکٹر کی سنجیدگی سے بھرپور آواز پہ وہاں موجود سب لوگوں کا رواں رواں کان بن گیا تھا

آپ کی بیٹی کی تو ہم نے اللہ کے کرم سے جان بچالی پر اُن کی دونوں ٹانگیں پیرالائیز ہوگئ ہیں۔بات تھی یا بم جو اُن سب کو اپنے اُپر گِرتا محسوس ہوا مہتاب خان کے قدم لڑکھڑا سے گئے تھے اگر اُن کے پیچھے ہاد یا عالمگیر نہ ہوتے تو یقیناً وہ زمین بوس ہوجاتے۔

ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔سب کو سکتے میں دیکھ کر عالمگیر نے ڈاکٹر سے پوچھا

دیکھے ایکسیڈنٹ شدید قسم کا تھا ایسے میں اُن کا زندہ بچنا کسی معجزے سے کم نہیں دوسری بات کے وہ عمر بھر کے لیے چلنے پِھرنے سے قاصر نہیں ہوگی اگر آپ لوگ اُن کا پروپر علاج کروائے گا تو انشااللہ وہ جلد ٹھیک ہوجائے گی۔ڈاکٹر کی بات پہ ارسلہ کا اٹکا سانس بحال ہوا۔

کیا ہم مل سکتے ہیں۔عالمگیر نے پوچھا۔

ابھی تو وہ نیم بیہوشی میں ہیں کل آپ مل سکتے ہیں۔ڈاکٹر نے جواب دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آر یو اوکے؟زرنور نے حال میں سیف کو خاموش بیٹھا دیکھا تو ساتھ بیٹھ کر پوچھنے لگی۔

ہاں کیوں؟سیف زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولا۔

ویسے ہی آج کجھ پریشان سے نظر آرہے ہو ورنہ تو ہر وقت ایکٹو نظر آتے ہو۔زرنور نے وجہ بتائی

سیف! آج کام زیادہ تھا تو بس تھکان سی ہوگئ ہے۔

تو کمرے میں جاکر آرام کرو نہ رات کے اِس وقت یہاں کیا کررہے ہو۔زرنور نے جیسے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔

ہاں میں بس جارہا تھا۔سیف کھوئے ہوئے انداز میں بولا زرنور کو آج سیف اپنے حواسوں میں نہیں لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

نیا دن طلوع ہوا تو سب نازش کے ہوش میں آتے ہی باری باری ملنے لگے نازش سپاٹ تاثرات سے سب کا چہرہ یک ٹک دیکھتی اگر کوئی کجھ بات کرتا بھی تو وہ جواب نہ دیتی مہتاب خان اُس کے ساتھ ہی بیٹھے تھے جب کی ارسلہ نازش کے غصے کی وجہ سے اندر نہیں گئ تھی کے کیا پتا اب بھی ہوجائے۔

آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟ہاد نے کوریڈور میں ارسلہ کو اکیلا بیٹھا دیکھا تو کہا

کیا یہاں نہیں بیٹھ سکتی میں؟ارسلہ نے اُلٹا اُس سے سوال داغا۔

میرا وہ مطلب نہیں تھا آپ کو نازش کے پاس جانا چاہیے تھا۔ہاد نے ہلکہ سے مسکراکر کہا

وہ غصہ کرے گی۔ارسلہ نے پریشانی سے اپنا مسئلا بتایا۔

نہیں کرتی وہ غصہ وہ تو خاموش ہے بلکل۔ہاد افسوس سے بولا

حادثہ ہوا بھی تو ایسا ہے نہ اللہ جلدی آپی کو صحتیاب کرے۔ارسلہ دکھی لہجے میں بولی۔

تمہارے ساتھ نازش کا رویہ میں نے کبھی ٹھیک نہیں دیکھا کیا تمہیں اُس پہ غصہ نہیں آتا۔ہاد نا چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھا۔

وہ میری بڑی بہن ہے اُن کا حق ہے مجھ پہ غصہ کریں رعب رکھے یا ڈانٹے مجھے کیوں اُن پہ غصہ آئے گا میں اُن سے بہت پیاری کرتی ہوں میری بس ایک ہی تو بہن ہے ڈیڈ اور آپی کے علاوہ میرا کون ہے۔ارسلہ افسردہ ہوتی بولی ہاد جہاں اُس کے جواب پہ لاجواب ہوا تھا وہی دل میں ایک خواہش پیدا ہوئی تھی کے وہ بولے میں بھی تو ہوں۔

آپ بہت اچھی ہیں۔ہاد بے اختیاری میں بول پڑا تو ارسلہ کو نازش کی باتیں یاد آئی تو وہ جھٹ سے اُٹھ کھڑی ہوئی اُس کا اِس طرح اُٹھتا دیکھ کر ہاد ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھنے لگا پر ارسلہ بنا کجھ کہے وہاں سے چلی گئ۔

ارسلہ کو کیا ہوا؟ہاد اُس کی پشت دیکھتا خود سے سوال کرنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہتاب خان نماز پڑھنے کے لیے گئے تو ہاد نازش کی طرف آیا جو چھت کو گھور رہی تھی کجھ ہی دنوں میں نازش بدل سی گئ تھی چہرے کا رنگ زردی مائل ہوگیا تھا ہاد کو نازش کی حالت پہ رحم سا آیا تھا۔

اب تو تمہیں مجھے چھوڑنے کی بہت بڑی وجہ مل گئ۔نازش کی آواز پہ ہاد حیران ہوا اُس کو جب سے ہوش آیا تھا یہ وہ پہلے الفاظ تھے جو اُس کے منہ سے ادا ہوئے تھے۔

نازش یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں۔ہاد گہری سانس بھر کر بولا

مجھے میرے گناہوں کی سزا کتنی بدصورتی سے ملی ہے۔نازش اپنے ہاتھوں سے ڈرپ کھینچتی عجیب لہجے میں بولی

نازش پاگل ہوگئ ہو کیا کررہی ہو۔ہاد اُس کے ہاتھوں کو تھامتا باز رکھنے کی کوشش کرنے لگا

میں مر کیوں نہیں گئ اِس محرومی کی زندگی جینے سے تو اچھا تھا مجھے موت آجاتی۔نازش پاگلوں کی طرح اپنے بال نوچتی بولی شور کی آواز سے ڈاکٹر کے ساتھ نرس بھی آگئ تھی دروازے کے پاس ارسلہ نے روتی ہوئی آنکھوں سے نازش کی یہ حالت دیکھی تھی۔

یہ ایسے بیہیو کیوں کررہی ہے۔دو نرسز نازش کو بیہوشی کا انجیکشن لگانے کی کوشش میں تھی تو ہاد پریشانی سے ڈاکٹر سے بولا

اِن کی جو حالت ہوئی ہے اِن کا دماغ یہ بات قبول نہیں کرپارہا اِس لیے ایسا برتاؤ کررہی ہیں فکر کی کوئی بات نہیں آہستہ آہستہ نارمل ہوجائے گی اِن کو بہت کیئر کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر نے۔تسلی بخش جواب دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیسی ہو گولڈن گرل؟زرنور پارک میں فوٹو کلک کرنے میں مصروف تھی جب عالمگیر عین اُس کے پیچھے کھڑا ہوکر بولا۔پر زرنور نے ایسے ظاہر کیا جیسے سُنا نہ ہو زرنور کے انداز پہ عالمگیر مسکرا پڑا۔

ناراض ہو؟عالمگیر نے پوچھا جس پہ زرنور نے زبردست گھوری سے نوازا تو عالمگیر نے ڈرنے کی اداکاری کی۔

یار ایمرجنسی ہوگئ تھی اِس لیے ایک ہفتے بعد تمہیں اپنا دیدار کا شرف بخشا ہے ورنہ روز تم سے ملنے آتا آے نو یو مسڈ می۔عالمگیر مسکراہٹ ضبط کرتا بولا زرنور کو تو گویا عالمگیر کی بات پہ پتنگے ہی لگ گئے۔

او مسٹر کس خوشفہمی کا شکار ہو کے میں زرنور احسان تمہیں یاد کروں گی تمہارے ناملنے پہ افسردہ ہوگی تم ہو کون جس کے لیے میں ایسے جذبات رکھوں گی ایسا محسوس کروں گی۔زرنور نے تمسخرانہ لہجہ اپنا کر کہا مقصد عالمگیر کو خود سے دور کرنا تھا۔

میں عالمگیر شیخ ہوں جس کے لیے زرنور احسان پیار محبت پسندیدگی کے سارے جذبات اپنے اندر رکھے گی اُس کو یاد کرے گی اُس کے ملنے کا انتظار بھی کریں گی زرنور عالمگیر بن کر۔عالمگیر ایک قدم اُس کی طرح بڑھا کر مضبوط لہجے میں بولا زرنور کا دل زور سے دھڑکا اُٹھا اپنے دل کی اِس بغاوت پہ وہ سخت جھجھنلا سی گئ تھی۔

بھول ہے تمہاری۔زرنور نظریں چُرا کر بولی

بھول ہے تصور ہے گُمان ہے خواب ہے جو بھی ہے عالمگیر شیخ تاعمر اِس میں رہنا پسند کرے گا۔عالمگیر گہری مسکراہٹ سے بولا تو زرنور لاجواب ہوگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سیف مجھے تم سے بات کرنی تھی۔سیف پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے ہوسپٹل جاکر نازش کی طبعیت معلوم کرنے کا اِرادہ رکھتا تھا وہ اُسی سلسلے میں آج جلدی تیار ہورہا تھا جب اُس کے والد منور صاحب کی کال آئی۔

یس ڈیڈ بولیں۔سیف نے کہا

میں نے تمہارے رشتے کی بات احسان صاحب سے کی تھی زرنور مجھے بہت پسند ہے کافی دنوں سے تم سے بات کرنا چاہتا تھا پر مصروفیت کجھ ایسی تھی میں بات کر نہیں سکا۔منور۔صاحب کی بات پہ سیف کجھ پل بول نہ سکا۔

ًڈیڈ انکل سے بات کرنے سے پہلے آپ مجھ سے تو پوچھتے۔سیف پریشان کن لہجے میں بولا

مجھے لگا تمہیں میرا فیصلہ پسند آئے گا زر بہت اچھی لڑکی ہے۔منور صاحب سنجیدگی سے بولے

بیشک وہ اچھی ہے ڈیڈ پر میں اُس سے شادی نہیں کرسکتا آپ کو اِتنی جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔سیف کو سمجھ نہیں آیا اپنی بات اُن کو کیسے سمجھائے۔

سیف جو بھی ہے برحال تمہیں شادی زر سے ہوگی میں احسان کو زبان دے چُکا ہوں۔منور صاحب اٹل انداز میں بولے

میں نہیں کرسکتا۔سیف بے بس ہوا

کوئی معقول وجوہات بتاؤ۔منور صاحب کی بات پہ اُس نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا

ڈیڈ کیا یہ وجہ کم ہے کے میں اُس کو ایسی نظر سے کبھی نہیں دیکھا مجھے بس زرنور سے شادی نہیں کرنی۔سیف جھنجھلا کر بولا

برخودار ہم نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے اگر کسی اور لڑکی کا معاملہ ہے تو بتادو پھر شاید میں احسان سے معذرت کرلوں گا۔منور صاحب سنجیدگی سے بولے جس پہ سیف سوچ میں پڑگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

ایک ماہ بعد!

نازش ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر گھر آگئ تھی اُس کے لیے مہتاب خان نے خاص نرس کا بندوبست کیا تھا سادیہ بی بھی واپس آگئ تھی اور بہت کوشش کرتی نازش کا خیال رکھنے میں ارسلہ کبھی کبھار اُس سے ملنے کمرے میں جاتی نازش سے بولنا چھوڑ دیا تھا بس ہاں ہوں میں جواب دیتی ورنہ سارا وقت خاموش کا قفل لگا بیھٹتی۔

آج موسم بہت اچھا ہے آپ کو لان میں لے چلوں۔نرس نے ویل چیئر نازش کے سامنے کرتے کہا تو نازش نے کاٹ دار نظروں سے اُس کو گھورا۔

آپ جائے۔ارسلہ ہاتھ میں فروٹ کی پلیٹ لاتی نرس سے بولی۔

آپ نے آج صبح سے ناشتہ نہیں کیا تو میں یہ لے آئی۔ارسلہ نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔

تمہیں بہت خوشی ہوئی ہوگی میری ایسی حالت دیکھ کر۔نازش نے بغور اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا

مجھے کیوں آپ کی ایسی حالت پہ خوشی ہوگی میری تو دعا ہے آپ جلد ٹھیک ہوجائے۔ارسلہ رسانیت سے بولی

ریئلی جس طرح میں نے تمہاری ساتھ ساری زندگی رویہ اختیار کیا اُس کے بعد بھی تم ایسا کہوں گی۔نازش کو جیسے یقین نہیں آیا۔

ساری زندگی کہاں گُزری ہیں ابھی تو بہت سارا وقت ہے۔ارسلہ نرم مسکراہٹ سے بولی زندگی میں پہلی دفع نازش کو احساس ہوا تھا اُس نے اپنی زندگی میں کیا خسارہ کیا تھا

کہتے ہیں دل خدا کا گھر ہوتا ہے انسان کی بنائی چیزیں بھلے توڑوں پر انسان کا دل کبھی مت توڑنا کیونکہ وہ اللہ نے بنایا ہے دل اللہ کا گھر ہوتا ہے جو کسی کے دل کو توڑتا ہے وہ سیدھا جہنم میں جائے گا میں نے بچپن سے تمہارا دل دکھایا سگی بہن ہونے کے باوجود میں نے تمہارا تعارف سوتیلی بہن سے بھی بلکہ ایسے تعارف کروایا جیسے ڈیڈ نے ایڈاپٹ کیا ہو مجھے تم سے حسد نہیں تھا تمہارے پاس تھا ہی کیا جس سے میں جیلیس ہوتی پر پھر بھی میں نے بچپن میں غصے میں آکر تمہیں چھت سے دھکا دیا ڈیڈ کو یہی بتایا گیا کے یہ حادثاتی بات تھی پر اللہ جانتا تھا میں نے جان بوجھ کر تمہیں گِرایا تھا تم بہت چھوٹی تھی تمہاری ٹانگ متاثر ہوگئ جس سے تمہارے چلنے میں لڑکھڑاہٹ آگئ تمہاری اِس محرومی کی وجہ میں ہوں۔ڈیڈ تم سے بہت غافل رہتے تھے اگر اُس وقت وہ تمہارے علاج میں کوتائی نہ کرتے تو شاید ایسا نہ ہوتا مجھے افسوس نہیں ہوا تمہارا بات بات پہ مزاق اُڑایا میرے دل میں کبھی تمہارے لیے پیار نہیں جاگا بچی میں تھی اُس وقت ڈیڈ کا رویہ جیسے تمہارے ساتھ دیکھا میں بھی ویسا کرتی رہی میں نے بھی اپنی ماں کھودی پر اب لگتا ہے مجھے ہر چیز کی سزا ملی ہے میری تو دونوں ٹانگیں متاثر ہوگئ ہوں دوسروں کے سہارے پہ آگئ ہوں۔نازش کا چہرہ آنسو سے تر ہوگیا تھا ارسلہ خاموش نظروں سے نازش کو دیکھ رہی تھی۔

آپی آپ پُرانی باتوں کو چھوڑے اور اللہ نے چاہا تو آپ جلد صحتیاب ہوجائے گی ڈیڈ نے بہت اچھے ڈاکٹر سے بات کی ہے آپریشن ہوجائے گا آپ کا تو آپ پہلے جیسی ہوجائے گی اِس لیے افسردہ مت ہو۔ارسلہ نے اُس کو تسلی کروانی چاہی۔

میں بہت مغرور تھی غرور ہمارے رب کو پسند نہیں مجھے سزا تو ملنی تھی۔نازش دھاڑے مار کر روتی بولی ارسلہ کو اُسے سنبھالنا مشکل ہوگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہارا کیا پلان ہے اب۔عالمگیر نے ہاد سے کہا

گھر میں بات کروں گا ارسلہ کے بارے میں۔ہاد نے جواب دیا۔

تم نے ارسلہ کو بتایا کے تمہیں اُس سے محبت ہے۔عالمگیر نے پوچھا

شادی ہوجائے خیر سے پھر بتادوں گا۔ہاد عام انداز میں بولا تو عالمگیر نے خشمگین نظروں سے اُس کو گھورا

مجھے بتادیا نازش کو پہلے سے بتا رکھا تھا اب گھروالوں کو بھی بتادو گے مگر جس سے محبت ہے اُس کو بتایا تک نہیں مطلب جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے۔عالمگیر نے جیسے ہاد کی عقل پہ ماتم کیا۔

میں اُن کو کیا بتاؤ وہ بہت ریزرو سا رہتی ہیں۔ہاد پریشان ہوا۔

میری دعا ہے سب مان جائے ورنہ جو حالات اب بن گئے ہیں سب کو یہی لگے گا کے تم نازش کے ساتھ ہوئے حادثے کی وجہ سے انکاری ہوئے ہو۔عالمگیر نے اُس کو آگاہ کیا۔

اِس بات کا ڈر تو مجھے بھی ہے پر اللہ مالک ہے۔ہاد نے جیسے خود کو تسلی کروائی۔

میری مانوں تو ارسلہ اور انکل کو پہلے اپنے اعتماد میں لو جو مشکل ہے انکل کی تم ایک بیٹی کو ٹھکراکر دوسری کا رشتہ مانگو گے تو وہ مشکل سے دے گے اور ارسلہ تو اللہ میاں کی گائے ہے بھلا وہ کیسے اپنی بہن کے سابقہ منگیتر سے شادی کے لیے ہاں کرے گی۔عالمگیر نے تو ہاد کا رہا سہا بھی سکون غارت کردیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

نیند نہیں آرہی کیا۔سادیہ بی نے بار بار ارسلہ کو کروٹ بدلتا دیکھا تو پوچھا

بی آپی کے ساتھ ایسا نہ ہوتا نہ وہ بہت ڈپریس رہنے لگی ہیں۔ارسلہ نے اپنی بات کی۔

بس بیٹا اللہ کی جو مرضی نازش کے لیے آزمائش کا وقت ہے انشااللہ جلد سب ٹھیک ہوجائے گا۔سادیہ بی نے نرمی سے کہا

آمین پر مجھے اُن کو ایسی حالت میں دیکھا نہیں جاتا بہت تکلیف ہوتی ہے۔ارسلہ نم لہجے میں بولی۔

مایوس مت ہو ارسلہ اللہ سے دعا کرو۔سادیہ بی نے اُس کو سمجھانے کی کوشش کی۔

وہ تو ہر وقت کرتی ہوں.ارسلہ نے گہری سانس بھر کر کہا

تو بس اللہ پر توقل رکھو وہ سب ٹھیک کردے گا۔سادیہ بی اُس کو اپنے ساتھ لگاتی بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہاد سب کے سامنے کسی مجرم کی طرح سرجھکائے بیٹھا تھا باقی سب کی افسوس کرتا نظریں اُس پر تھی ہاد نے اُن کو ارسلہ کے بارے میں بتادیا تھا جس پہ سب ناراض ہوگئے تھے۔

ہاد اِس حالت میں تمہیں نازش کے ساتھ ہونا چاہیے اُس کو اپنی موجودگی کا احساس کروانے کے بجائے تم اُس کی بہن کی محبت کا دعویٰ کررہے ہو مجھے تم سے ایسی اُمید ہرگز نہ تھی۔زرغونہ بیگم ہاد کی بات پہ افسوس کرتی بولی۔

نازش کی کنڈیشن گُزرتے وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجائے گی تم کیوں پھر اُس کو چھوڑنے کی بات کررہے ہو اِتنے عرصے تم دونوں ایک ساتھ تھے اب بیچ راستے میں اُس کو چھوڑنا سراسر اُس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ارمغان کو بھی ہاد کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا۔ارمغان کی بات پہ ہاد کی نظر طوبیٰ پہ پڑی جیسے کہہ رہا ہو آپ بھی بول دے۔

میں ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے یہی کہوں گی کے نازش تمہاری منگیتر ہے اُس کو چھوڑ کر تم غلط کررہے ہو اُس کے والد تمہیں کبھی اپنی دوسری بیٹی کا رشتہ نہیں دے گے۔طوبیٰ نے بھی اُس کو سمجھانا چاہا۔

مجھے تو تم سے کوئی اُمید ہی نہیں تھی۔امتیاز صاحب کی بات پہ ہاد کا منہ بن گیا۔

آپ سب کی بات درست پر میں ایسا اُس کے لیے نہیں کررہا یہ میں نے بہت پہلے نازش کو بھی بتادیا تھا وہ اِس بات سے واقف ہے آپ سب میرا ساتھ دے گے ناکہ میرے خلاف ہوجائے۔ہاد سنجیدگی سے بولا

تم نے نازش کو بتادیا تھا۔زرغونہ بیگم حیران ہوئی۔

جی وہ جان گئ تھی یہ بات۔ہاد نے بتایا۔

عشق اور مشق چُھپائے نہیں چُھپتے۔ارمغان بڑبڑایا تو طوبیٰ جو کجھ فاصلے پہ بیٹھی تھی اُس کو دیکھنے لگی ارمغان کی ناراضگی اُس سے ابھی تک برقرار تھی۔

وہ بچی راضی ہے؟امتیاز صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا

وہ نہیں جانتی یہ بات۔ہاد نے جواب دیا۔

ہم مناسب وقت دیکھ کر مہتاب سے بات کریں گے۔امتیاز صاحب کی بات پہ ہاد کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ نے احاطہ کیا زرغونہ بیگم نے دل ہی دل میں اُس کی مسکراہٹ دیکھ کر ماشااللہ کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔

آپ کی ناراضگی کب ختم ہوگی؟طوبیٰ ارمغان کی پشت پہ سرٹکا کر بولی

کبھی بھی نہیں۔ارمغان نے جھٹ سے کہا

ارمغان پلیز اب معاف بھی کردیں مانا کے میری غلطی تھی آپ کی بات مجھے ماننی چاہیے تھی پر میں نے نہیں مانی کیونکہ مجھے میرے ڈیڈ کے آنے کی خوشی تھی جو مجھ سے ناراض تھے ارمغان بچہ صرف آپ نے نہیں میں نے بھی کھویا جس کو اپنی کوکھ میں پال رہی تھی آپ کو میری دلجوئی کرنی چاہیے تھی آپ شوہر ہیں میرے پر آپ نے کیا کردیا جس وقت مجھے آپ کی زیادہ ضرورت تھی تب آپ نے ناراض ہونا شروع کردیا بنا میری حالت کی پرواہ کیا۔طوبیٰ آج آخرکار پھٹ پڑی ارمغان حیران سا اُس کا یہ روپ دیکھ رہا تھا جو پہلی دفع دیکھنے کو مل رہا تھا۔

رلیکس طوبیٰ کیا ہوگیا ہے میں تو بس تمہیں تمہاری غلطی کا احساس کروانا چاہتا تھا۔ارمغان اُس کی طرف پلٹتا نرمی سے بولا

دو ماہ کم ہے جو ابھی تک آپ اِس کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔طوبیٰ نے شکوہ کیا۔

اچھا ایم سوری آئیندہ نہیں ہوگا۔ارمغان اُس کے کان پکڑ کر بولا تو طوبیٰ نے گھور کر دیکھا۔

میرے نہیں اپنے۔طوبیٰ نے کہا

شادی کے بعد میرا تیرا نہیں ہمارا ہوتا ہے۔ارمغان نے مزے سے کہا تو اِس بار طوبیٰ ہنس پڑی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ وہی ہو نہ جو ایک دفع مراد کے ساتھ آئے تھے۔احسان صاحب پولیس اسٹیشن بیٹھے ہوئے تھے جب وہاں عالمگیر اُن سے ملنے آیا تو وہ اُلجھ کر بولے۔

جی میں وہی ہوں عالمگیر شیخ آپ سے کسی کام کے سلسلے میں آیا ہوں۔عالمگیر بُردباری کا مظاہرہ کرتا بولا۔

ٹھیک بیٹھے کیا بات کرنی ہے آپ نے۔احسان صاحب سرہلاتے بولے

میں آپ کی بیٹی زرنور سے شادی کرنے کا خواہشمند ہوں۔عالمگیر ٹیبل پہ موجود اُن کی گن کو دیکھتا خشک گلا تر کیے بولا یہاں آنا اُس کو احمکانہ فیصلہ لگا۔

برخودار ہوش میں تو ہو جانتے بھی ہو کس سے اور کیا بات کررہے ہو۔احسان صاحب کو عالمگیر کی بات پہ غصے تو بہت آیا مگر پھر بھی تحمل کا مظاہرہ کیے بولے۔

جی انکل میں جانتا ہوں میں کیا بات اور کس سے کررہا ہوں دراصل میں آپ کی بیٹی سے بہت محبت کرتا ہوں آج سے نہیں تب سے جب اُس کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا ایک بیٹی کا باپ بس یہی چاہتا ہے کے اُس کی بیٹی جہاں شادی کرکے جائے وہاں خوش وخرم رہے تو میں آپ کو زرنور کی خوشیوں کی ضمانت دیتا ہوں۔عالمگیر سنجیدگی سے بولا۔

میں تمہیں یا تمہارے خاندان کے کسی فرد کو نہیں جانتا تو میں کیوں تمہاری بات پہ اعتبار کروں گا اور اپنی بیٹی کا رشتہ تمہیں دوں گا جب کی اُس کا رشتہ میں نے کردیا تھا ایس پی سیف منور سے۔احسان صاحب کی بات پہ اُس نے زور سے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ لی۔

یہ آپ کا فیصلہ ہے کیا آپ جانتے ہیں زرنور کی اِس میں دلی خوشی ہے یا نہیں۔عالمگیر نے سنجیدگی سے پوچھا آج وہ سوچ آیا تھا آر یا پار۔

میری بیٹی راضی ہے تبھی میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کون باپ ہوگا جو اپنی بیٹی پہ دباؤ ڈالے گا احسان صاحب کجھ سخت ہوئے

راضی ہونے میں اور دلی خوشی میں بہت فرق ہوتا ہے کیا پتا وہ بس آپ کی محبت میں آپ کی بات کا مان رکھ رہی ہو پر دل میں وہ ایسا نہ چاہتی ہو۔عالمگیر نے ان کو اپنی بات سمجھانا چاہی۔

کیا مطلب تمہارا اِس بات سے؟احسان صاحب کا ماتھا اُس کی بات پہ ٹھٹکا۔

مجھے کہنا چاہیے یا نہیں لیکن کہی نہ کہی وہ بھی مجھے پسند کرتی ہے۔عالمگیر نے بنا سانس لیے کہا

تمہاری بات جھوٹ بھی ہوسکتی ہے۔احسان صاحب نے اُس کو جانچا

جھوٹ ہوئی میری بات تو آپ اپنی پستول سے میرا سر بھون دیجئے گا۔یہ بات عالمگیر نے کس دل سے کی تھی وہ بس خود جانتا تھا۔

اگر تمہاری بات میں صداقت نہ ہوئی تو میں ایسا کرنے سے گریز بلکل نہیں کروں گا۔احسان صاحب کی بات پہ عالمگیر بس سرہلاتا رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *