Be Khudi by Rimsha Hussain NovelR50567 Be Khudi (Episode 03)
Rate this Novel
Be Khudi (Episode 03)
Be Khudi by Rimsha Hussain
نازش۔۔ہاد سیدھا ہوتا مسکراکر اُس کا نام لیا
تم کب آئے اور یہاں کیا کررہے ہو؟نازش نے ہاد سے سوال کرکے ایک تیکھی نظر بند دروازے پہ ڈالی۔
وہ اصل میں آ تو میں تمہارے پاس رہا تھا پر اِس کمرے سے کسی کی مسمرائزنگ آواز سن کر مجھے یاد نہ رہا اور یہاں آگیا۔ہاد نے صاف گوئی سے کہا تو نازش نے زور سے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ لی۔
میں نے ٹیوی پہ سونگ لگایا تھا وہ آواز ہوگی۔نازش نے زبردستی چہرے پہ مسکراہٹ سجاکر کہا
ریئلی پر لگ نہیں رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کوئی ابھی گارہا ہو اندر چلیں۔ہاد نے حیرت سے کہہ کر اندر کی طرف اِشارہ کرکے کہا
ہاد کیا ہوگیا ہے ایک گانے کی آواز ہی تو تھی تم میرے ساتھ چلو ڈیڈ انتظار کررہے ہیں۔نازش جلدی سے ہاد کے قریب ہوتی اُس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔
اوکے جیسا تم کہو۔ہاد کندھے اُچکاکر بولا۔
تھینکس میری ہر بات مانتے ہو اِس لیے بہت پیارے لگتے ہو۔نازش مسکراکر اُس کا گال چومتی بولی تو ہاد مُسکرادیا پر کہا کجھ نہیں۔
بی ہم ڈرائینگ روم میں ہیں آپ ملازمہ کے ہاتھ سے ریفریشمنٹ کا سامان پہنچا دیجئے گا۔نازش ہاد کا ہاتھ پکڑتی ڈرائینگ روم کی طرف جارہی تھی جب اُس نے سادیہ بی کو دیکھا تو کہا سادیہ بی نے ایک نظر اُن کے ہاتھوں پہ ڈالی پر سرہلایا تو وہ دونوں اندر کی طرف جانے لگی جب کی ہاد نے سادیہ بھی کو سلام کرنا گوارا نہیں سمجھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسلہ اپنا گٹار سائیڈ پہ کرتی مرر کے سامنے آتی بالوں کا جوڑا بنانے لگی وہ اِس وقت بلیک گھٹنوں تک آتے فراق اور ٹراوزر میں ملبوس بہت پیاری لگ رہی تھی کالا رنگ اُس کی گوری رنگت پہ بہت جچ رہا تھا۔
ارسلہ کمرے سے باہر آئی تو سادیہ بی کو اکیلے کام کرتا دیکھا تو جلدی سے اُن کے پاس آئی۔
آپ کیوں کررہی ہیں یہ سب کام والی کہاں ہیں؟ارسلہ نے ان کے ہاتھ سے پلیٹ لیکر پوچھا
چھٹی پہ گئ ہے وہ نازش کا ایک فرینڈ آیا ہوا ہے اُس نے کہا ریفریشمنٹ کا سامان لانے کو۔سادیہ بی نے آرام سے جواب دیا۔
ایک فرینڈ کے لیے اِتنا سب کجھ؟ارسلہ نے حیرت سے مختلف قسم کے لوازمات کو دیکھ کر کہا۔
گہرا دوست معلوم ہورہا تھا اِس لیے سوچا اچھے سے سب سیٹ کروں ورنہ وہ غصہ ہوجاتی۔سادیہ بی نے مسکراکر بتایا۔
آپ کی تو طبعیت سہی نہیں نہ میں لیکر جاتی ہوں پھر۔ارسلہ نے ٹرالی اپنی طرف کرکے کہا
بعد میں ناراض ہوگی تم سے۔سادیہ بی نے فکرمندی سے کہا
ڈیڈ اور آپی مجھ سے راضی کب ہوتے ہیں۔ارسلہ اُداس مسکراہٹ سے کہتی ٹرالی گھسیٹ کر کچن سے باہر نکلی۔
اسلام علیکم!!!ہاد مہتاب خان کی کسی بات کا جواب دے رہا تھا جب سلام کرنے کی آواز پہ اُس نے سر اُٹھاکر دیکھا تو ایک انجانا سا چہرہ دیکھ کر اُس نے ناسمجھی سے نازش کو دیکھا تھا ملازمہ تو وہ اُس کو کہیں سے بھی نہیں لگی نازش نے تو سب کو یہ بتایا ہوا تھا وہ اکلوتی ہاد نے غور سے ارسلہ کو دیکھا جو بہت آہستہ آہستہ قدم اُٹھا رہی تھی جب کی اُس کو دیکھ کر مہتاب خان کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے نازش اُس کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کچا چباجانے کا اِرادہ ہو
تم یہاں کیوں آئی ہو۔نازش ہاد کا لحاظ کیے بنا تیز آواز میں ارسلہ سے کہا
وہ یہ۔ارسلہ دھیمی آواز میں اتنا ہی بول پائی
کیا وہ میں یہ۔نازش اور تیز سے دھاڑی۔
نازش رلیکس وہ کانپ رہی ہے تمہارے ڈر سے۔ہاد نے جب ارسلہ کو کانپتا دیکھا تو فورن سے نازش کو ٹوکا۔
ڈرامے ہیں اِس کے۔نازش نخوت سے بولی ارسلہ کو اپنے پیروں پہ کھڑا ہونا مشکل لگ رہا تھا تبھی بنا دیر کیے ڈرائینگ روم سے باہر نکل گئ۔
یہ کیا طریقہ تھا بات کرنے کا وہ کتنی چھوٹی تھی تمہیں آرام سے بات کرنی چاہیے تھی۔ہاد نے تاسف سے نازش کو دیکھ کر کہا اُس کو بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔
ہاد پلیز تم بیچ میں مت بولوں یہ ہمارا پرسنل معاملہ ہے۔نازش نے کوفت سے ہاد سے کہا جس پہ ہاد نے ایک سنجیدہ نظر اُس پہ ڈالی پھر ٹیبل سے اپنا فون لیتا ڈرائینگ روم سے باہر نکل گیا مہتاب خان نے اُس کو آوازیں دی پر وہ ان سنی کرگیا۔
آآہ۔
ارسلہ جو لان میں آئی تھی اب دوبارہ اندر جانے کا سوچتی جارہی تھی جب سامنے آتے وجود کو نہ دیکھ کر اُس سے ٹکراگئ پر اُس کے گِرنے سے پہلے ہی ہاد نے کمر سے پکڑ کر گِرنے سے بچالیا تھا ہاد مبہوت سے ارسلہ کی چہرہ دیکھنے لگا جو آنکھیں زور سے میچ بیٹھی تھی جب کی گالوں پہ آنسو کے نشان واضع تھے رونے کی وجہ سے ناک بھی سرخ ہوگئ تھی۔
سوری۔
ارسلہ نے خود کو کسی کے سہارے پہ دیکھا تو آنکھیں کھول کر ہاد کو اپنے اتنے قریب دیکھا تو فورن سے دور ہوتی بولی۔
کوئی بات نہیں۔
ہاد کا کہا پورا بھی نہیں ہوا جب ارسلہ اندر کی طرف جانے لگی ہاد نے اُس کو تھوڑا لنگڑا کر دیکھا تو شرمندگی ہونے لگی اُس کو لگا شاید وہ اُس کے ٹکرانے کی وجہ سے چوٹ کھاگئ ہے۔
ایکسکیوز می مس۔ہاد نے اُس کو آواز دی تو ارسلہ ناچاہتے ہوئے بھی رک کر سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
سوری میری وجہ سے آپ کو چوٹ لگی۔ہاد نے اُس کے پیر کی طرف اِشارہ کرتے کہا ارسلہ جان گئ وہ کیا سمجھ رہا تھا۔
آپ کو سوری کرنے کی ضرورت نہیں یہ میری مستقل بیماری یا یوں کہے چوٹ تو وہ ہے۔ارسلہ طنزیہ بھرے لہجے میں کہتی اندر کی جانب بڑھ گئ ہاد بہت دیر تک اُس کی بات کا سمجھنے کی کوشش کرنے لگا پر جب کجھ سمجھ نہیں آیا تو کندھے اُچکاکر باہر کی طرف بڑھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں آئی تم ہاد کے سامنے اپنا یہ منہوس حُسن دیکھانے۔ارسلہ جیسے ہی کمرے میں آئی تو نازش نے زور سے اُس کا بازو دبوچ کر کہا
آپی یہ آپ کیسی بات کررہی ہیں۔ارسلہ اپنی تکلیف نظرانداز کرتی بولی
کیوں کجھ غلط کہا کیا۔نازش نے اُس کے بازوں کو جھٹکا دے کر کہا
آپ میرے بارے میں ایسے مت کہے۔ارسلہ نے نم آنکھوں سے اُس کو دیکھ کر کہا وہ ہر بات برداشت کرلیتی تھی مگر اب جب بات اُس کے کردار پہ آئی تو وہ چاہ کر بھی خاموش نہیں ہو پائی۔
سہی تو کہہ رہی ہو سچ ویسے بھی کڑوا ہوتا ہے جانے کتنے مردوں کو پیچھے لگایا ہوا ہے کبھی شہریار
آپی خدا کا خوف کریں آپ مجھ پہ بہتان لگا رہی ہیں۔ارسلہ اُس کی بات بیچ میں روکتی تڑپ کر بولی۔
آئیندہ کے بعد اگر میرے گیسٹ کے آس پاس آئی تو اچھا نہیں ہوگا۔نازش اُس کو وارن کرتی کمرے سے باہر چلی گئ ارسلہ بیڈ پہ اوندھ منہ لیٹتی زاروقطار رونے لگی۔






تم سے بہتر بھی اگر
میسر ہوجائے
اِس دنیا میں ہمیں میری
جاناں
ہم پھر بھی تیرا ہی
انتخاب
کریں گے۔
گولڈن گرل۔زرنور جو آج کیفے آئی ہوئی تھی عالمگیر کو دیکھ کر اُس نے ٹھنڈی سانس خارج کی آج اُس کو پکا یقین ہوگیا یہ بندہ اُس کو فالو کررہا ہے۔
یہاں بھی۔زرنور نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا
بس دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔عالمگیر دلکش انداز میں اُس کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر بولا اُس کے اِس طرح کہنے پہ زرنور نے آنکھیں گُھمائی۔
فالو کرتے ہو نہ مجھے؟زرنور نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا۔
نام بتادو فیس بُک انسٹاگرام ہر سوشل ایپ پہ فالو کردوں گا۔عالمگیر اُس کی بات کا الگ مطلب نکال کر بولا۔
ہمیشہ فضول ہی بولنا۔زرنور نے تاسف سے سر کو جنبش دی۔
بس تمہاری صحبت کا اثر ہے۔عالمگیر کالر جہاڑ کر بولا۔
زرنور احسان نام ہے میرا۔زرنور نے دانت پیس کر آخر اپنا نام بتا ہی دیا۔
زرنور نائیس نیم۔عالمگیر اُس کا نام لیتا مسکراکر بولا۔
ہممم۔زرنور کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
کہاں ابھی تو ہم نے ساتھ میں کافی بھی نہیں پی۔عالمگیر نے اُس کو جاتا دیکھا تو ایسے کہا جیسے ایک ساتھ آئے ہو۔
مجھے تمہارے ساتھ کافی پینے میں دلچسپی نہیں۔زرنور نے آرام سے جواب دیا۔
پر مجھے تو ہے نہ۔عالمگیر اُس کا بازوں نرمی سے پکڑتا اپنی طرف کرکے بولا زرنور اُس کی جرئت پہ عش عش کر اُٹھی۔
تم
عالمگیر شیخ نام ہے۔زرنور جو انگلی اُس کی طرف کرکے کجھ کہنے والی تھی عالمگیر نے آرام سے انگلی اپنے منہ میں ڈال کر کہا
آآآہ
جھنگلی۔عالمگیر نے ہلکہ سا کاٹا تو وہ گھور کر اُس کو نئے نام سے نوازنے لگی۔
گولڈن گرل ایک کافی تو میرے ساتھ پینی پڑے گی۔عالمگیر نے مزے سے کہا۔
عجیب زبردستی ہے۔زرنور نے تنگ آکر کہا
ہے تو ہے۔عالمگیر نے کندھے اُچکاکر کہا تو زرنور ناچار واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گئ۔
تمہاری کوئی گرلفرینڈ ہے؟زرنور نے ایک نظر اُس کو دیکھ کر کہا
میں پہلا خوبصورت مرد ہوں جس کا چکر کسی لڑکی کے ساتھ نہیں۔عالمگیر شوخ لہجے میں بولا
سیدھی بات کرنا تو جیسے تم پہ حرام ہے۔زرنور نے نفی میں سرہلاتے کہا
تمہارا کوئی بوئے فرینڈ ہے؟عالمگیر نے سوال کیا
ہے جہان نام ہے اُس کا ایک مہینہ ہوگیا ہے سوچ رہی ہو بریک اپ کرلوں پہلے تین چار رہ چُکے ہیں پہلے کا نام ہاشم تھا اُس کے بات فارس پھر سعدی یوسف اب سوچ رہی ہوں سالار کو بنالوں گا۔زرنور نے مزے سے جھوٹ پہ جھوٹ بولا جب کی عالمگیر اُس کی بات سچ سمجھ گیا جس سے اُس کا موڈ بُری طرح خراب ہوگیا۔


نازش کمرے میں یہاں وہاں گھومتی ٹہل رہی تھی اُس کو احساس ہوگیا تھا کہ اُس نے ہاد کو ناراض کرلیا تھا جس سے وہ اب فکرمند سی تھی اُس نے اپنا فون ہاتھ میں لیا اور ہاد کا نمبر ڈائل کیا۔
ہاد کمرے میں بیٹھا ہارر مووی دیکھ رہا تھا جب اُس کا فون رِنگ کرنے لگا ہاد نے اسکرین پہ نظر ڈالی تو نازش کالنگ لِکھا آرہا تھا ہاد نے ایک نظر ڈال کر کال کٹ کردی پھر دوبارہ مووی دیکھنے میں مگن ہوگیا۔
اتنا اٹیٹیوڈ۔نازش نے فون کو گھورتے ہوئے کہا اُس نے دوبارہ کال کی تو فون بند تھا نازش نے غصے سے فون کو بیڈ پہ پھینکا اور خود واشروم کی جانب چلی گئ۔




ارمغان۔
طوبیٰ نے ایک آج ہمت کرکے ارمغان کو کال کی تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا جب اُس نے ارمغان کو کال کی تھی۔
کہو۔ارمغان طوبیٰ کی آواز سن کر آنکھیں بند کرکے کھول کر بولا۔
ایک درخواست کرنی ہے۔طوبیٰ نے خود کو مضبوط کرتے کہا
کہو تو کل ملتے ہیں۔ارمغان نے نرمی سے کہا
نہیں بس ایسے کال پہ کہتی ہوں مجھے تم سے طلاق چاہیے۔یہ کہتے ہوئے کتنے ہی آنسو اُس کی آنکھوں سے گِرپڑے دوسری طرف ارمغان کی موبائل پہ سخت ہوئی تھی۔
ہوش میں ہو پتا بھی ہے کیا بکواس کررہی ہو۔ارمغان کی نرمی جھٹ سے غائب ہوئی تھی۔
جانتی ہوں ڈیڈ نے جو کاغذ بھیجے ہیں اُن پہ سائن کر لیجئے گا۔طوبیٰ اتنا کہتی فون بندکرگئ اُس میں مزید ہمت نہیں تھی۔
ارمغان نے زور سے موبائل کو سامنے مرر پہ مارا چھناک کی آواز سے مرر چکنا چور ہوگیا تھا ارمغان کی آنکھیں خون چھلکانے کی حدتک لال ہوگئ تھی۔


اِس بار انہوں نے حد کردی مجھ پہ بہتان لگایا۔ارسلہ سادیہ بی کی گود میں سر رکھتی شکایت کرنے والے انداز میں بولی۔
نظرانداز کیا کرو۔سادیہ بی اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولی۔
میں سچ میں منہوس ہو تو اللہ نے پیدا کیوں کیا امی کیوں چلی گئ میری وجہ سے نہ کاش وہ نہ جاتی تو میرے پاس بھی ماں ہوتی۔ارسلہ کا چہرہ آنسو سے تر تھا سادیہ بی کو اُس کی حالت پہ رحم سا آیا۔
ایسا کیوں کہہ رہی ہو کیا میری محبت میں کمی رہ گئ ہے میں تو یہاں ہوں تو بس تمہاری وجہ سے۔سادیہ بی نے اُس کا دھیان بٹانے کی خاطر کہا
میرا وہ مطلب نہیں تھا آپ تو بہت اچھی ہیں اگر آپ نہ ہوتی تو میں زندہ ہی نہیں ہوتی۔ارسلہ سیدھی ہوکر اُن کے گلے لگ کر بولی۔
میری بچی یہ اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھ کر خود کو پرسکون کرو دیکھنا جلد اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش دور کردے گا۔سادیہ بی اُس کی پیٹھ سہلا کر بولی۔
اللہ سے ہی تو اُمیدیں وابستہ ہے انسانوں سے اُمیدیں لگانا تو بچپن سے چھوڑدیا تھا۔ارسلہ نے اپنی آنکھیں صاف کرتے کہا۔





ہاد لسن
ہاد میری بات سنو۔نازش ہاد کے پیچھے بھاگتی جارہی تھی پر وہ نظرانداز کرتا اپنے ڈپارٹمنٹ جارہا تھا۔
ہاد یار کیا ہوگیا ہے کل کے سوری پر پلیز ایسے بی ہیو نہیں کرو۔نازش ہاد کا بازوں تھام کر روکتی بولی۔
نازش فلحال میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ہاد نے اُس کا ہاتھ اپنے بازوں سے ہٹاکر سنجیدگی سے کہا
کیوں نہیں کرنی، کرنی پڑے گی تم تیسرے کی وجہ سے ہمارا رشتہ خراب کررہے ہو۔نازش نے اُس کا ہاتھ پکڑکر تیز آواز میں کہا سب کی نطریں ان پہ تھی جس کو محسوس کرتے ہاد نازش کا ہاتھ پکڑے کیفیٹریا لایا۔
کسی تیسرے کی وجہ سے میں نہیں بلکہ تم اپنے روڈ بی ہیو سے ہمارا رشتہ خراب کررہی ہو۔کیفٹیریا آکر ہاد نے آہستہ مگر سخت لہجے میں کہا
اوکے مائے مسٹیک۔نازش نے ہاتھ کھڑے کیے کہا
ہمم۔ہاد سیدھا بیٹھ کر بس اتنا بولا
ناراضگی ختم؟نازش نے پوچھا
وہ چھوٹی لڑکی کون تھی تمہارا بات کرنے کا انداز بہت بُرا تھا اُس کے ساتھ۔ہاد اُس کی بات نظرانداز کرتا پوچھنے لگا ارسلہ کے ذکر پہ نازش کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔
کوئی نہیں تھی۔نازش نے ناگواری سے کہا
کوئی نہیں تھی تو تمہارے گھر میں کیوں تھی تم تو بتاتی تھی تم اکلوتی پھر؟ہاد نے پھر سے پوچھا
ایڈاپٹ کیا تھا میرے فادر نے منہوس ہے وہ ایک آنکھ نہیں بھاتی مجھے بس گھر میں کیسے برداشت کرتی یہ بس میں جانتی ہوں۔نازش زہرخند لہجے میں بولتی چلی گئ۔
نازش تم پڑھی لکھی ہوکر ایسے کیسے کہہ سکتی ہو کسی کے بارے میں اور وہ تو بے حد معصوم تھی اور چھوٹی تھی بجائے تم اُس کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کے تم سخت رویہ رکھتی ہو اُس کے ساتھ۔ہاد کو بہت افسوس ہوا نازش کی بات سن کر۔
تمہیں کجھ نہیں پتا اِس لیے اُس کے بارے میں بات مت کرو یہ ہمارا وقت ہے کسی تیسرے کا نام ہمارے بیچ میں نہیں ہونا چاہیے۔نازش نے ہاد کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا جس پہ ہاد نے بس سرہلانے پہ اکتفا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں کیا ہوا ہے؟کلاس کے بعد ہاد نے عالمگیر سے بولا جو موبائل میں ایک نمبر کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
کجھ نہیں۔عالمگیر موبائل کی اسکرین بند کرتا بولا۔
کجھ تو ہوا ہے۔ہاد مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا۔
کراچی سے موم کا میسج تھا وہ چاہتی ہے میں ان کی طرف چکر لگاؤں۔عالمگیر نے بتایا
اووہ تو تم نے کیا کہا؟ہاد سرہلاتا بولا
یہی کے فلحال تو نہیں آسکتا۔عالمگیر نے کندھے اُچکاکر کہا
کیوں ابھی کیا ہے جو نہیں جاسکتے؟ہاد نے تعجب سے کہا
وہ اسائمنٹ انکمپلیٹ ہیں میری ساری جن کو پورا کرکے سمبٹ کروانا ہے جبھی انکار کیا۔عالمگیر گڑبڑاکر بولا۔
سہی ہے میں سمجھا جانے کیا بات ہے۔ہاد سمجھنے والے انداز میں سرہلاتا بولا تو عالمگیر زبردستی مسکرادیا۔


ارمغان آفس چلاگیا۔زرغونہ بیگم لان میں پودوں کو پانی ڈال رہی تھی جب امتیاز صاحب کال کرکے پوچھا۔
پتا نہیں ناشتے کی ٹیبل پہ تو نہیں آیا تھا آج میں اُس کے کمرے میں جاکر دیکھتی ہوں۔زرغونہ بیگم نے امتیاز صاحب سے کہا جو بزنس کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔
اچھا دیکھ لینا مجھے بھی کجھ کام ہے۔امتیاز صاحب نے کہہ کر کال کٹ کردی۔
زرغونہ بیگم ارمغان کے کمرے میں آئی تو گپ اندھیرے نے اُن کا استقبال کیا زرغونہ بیگم نے فون کی ٹارچ آن کرکے سوئچ بٹن تلاش کرکے سب لائیٹس کے بٹن آن کیے پھر کھڑکی سے پردہ ہٹایا تو دن کا سما ہوا انہوں نے اب کمرے پہ دھیان دیا تو سکتے کی حالت میں آگئ جہاں پورے کمرے میں کانچ کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے خود ارمغان اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹا پڑا تھا زرغونہ بیگم دوسری طرف آتی ارمغان کو جگانے لگی۔
ارمغان
ارمغان میرے بیٹے اُٹھ جاؤ۔
زرغونہ بیگم فکرمندی سے اُس کو آوازیں دینے لگی ارمغان جو دس بیس منٹ پہلے سویا تھا اپنی ماں کی آواز پہ بامشکل اپنی آنکھیں کھول کر اُن کی طرف دیکھنے لگا ارمغان کو اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہونے لگا زرغونہ بیگم کی پریشانی ارمغان کی لال ڈورو والی آنکھیں دیکھ کر مزید بڑھ گئ۔
ارمغان طبعیت ٹھیک ہے تمہاری تمہاری آنکھیں کیوں اتنی لال ہوگئ ہے۔زرغونہ بیگم اُس کے بکھرے بالوں میں ہاتھ ڈالتی پریشانی سے بولی
کجھ نہیں موم بس سر میں درد ہے۔ارمغان ٹالنے والے انداز میں بولا
میں ماں ہوں تمہاری تمہیں تم سے زیادہ جانتی ہوں اِس لیے بہانا چھوڑو اور اصل بات بتاؤ۔زرغونہ بیگم گھورتے ہوئے کہا
آپ میرا کمرہ صاف کروائے کسی ملازمہ سے کہہ کر تب تک میں فریش ہوکر آتا ہوں تو ساری بات بتاتا ہوں۔ارمغان بیڈ سے اُٹھتا بولا
خیال سے نیچے کانچ ہیں۔زرغونہ بیگم جلدی سے بولی تو ارمغان مسکراکر اُن کو تسلی کرواتا واشروم کی طرف چلاگیا زرغونہ بیگم بھی ملازمہ کو بُلانے نیچے کی طرف چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بتاؤ کیا بات ہے؟ارمغان تیار ہوتا ہال میں آیا تو زرغونہ بیگم نے پوچھا
موم طوبیٰ مجھ سے طلاق چاہتی ہے۔ارمغان سپاٹ انداز میں کہا
افففف خُدایا آجکل کے بچوں نے تو نکاح کو مذاق سمجھ لیا ہے۔زرغونہ بیگم تاسف سے بولی
کاغذات آپ کے پاس ہیں۔ارمغان نے پوچھا
تو کیا تم اُس پاگل کی بات پہ طلاق دوگے ہوسکتا ہے بھائی صاحب نے اُس کو زبردستی راضی کیا ہو کہ تم سے طلاق لیں۔زرغونہ پریشانی سے بولی
میں اُس کو طلاق کبھی نہیں دوں گا چاہے کورٹ میں ہی کیوں نہ وہ لوگ گھسیٹنا چاہے۔ارمغان اٹل لہجے میں بولا
تو پھر تم کیا کروگے؟زرغونہ بیگم نے جاننا چاہا
میرے نکاح میں ہیں دُنیا کا کوئی قانون مجھے روک نہیں سکتا اُس کو یہاں لانے سے پیار سے بہت بات کرلی اُن سے اب میں اُن کو اُن کے انداز سے سمجھاؤں گا۔ارمغان مضبوط لہجے میں بولا
تو کیا تم ایسے ہی لیں آؤگے اُس کو۔زرغونہ بیگم پوچھا
اور کوئی راستہ نہیں ہے موم اور آپ فکر نہیں کریں اپنے سارے ارمان آپ ہمارے ولیمے پہ پورے کرسکتی ہیں۔ارمغان اب کی مسکراکر بولا تو زرغونہ بیگم بھی ہنس پڑی۔


زرنور کو پارک میں آئے آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا اور وہ لاشعوری طور پہ عالمگیر کا انتظار کررہی تھی جو آج نہیں آیا تھا ورنہ کسی جن کی طرح اُس کے سر پہ مسلط ہوجاتا تھا۔
میں کیوں اُس کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔زرنور اپنے سر پہ ہاتھ مارتی بولی مگر اکیلے اُس کا دل نہیں لگ رہا تھا تبھی واپس جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔



عالمگیر تم ایک بار کراچی آوٴ ہم نے ایک لڑکی پسند کی ہے تمہارے لیے۔صالحہ عالمگیر کی ماں نے کال پہ کہا
موم میرا ابھی شادی کا اِرادہ نہیں اور آپ پلیز میرے لیے لڑکیاں دیکھنا پسند کرنا ختم کریں۔عالمگیر اُن کی بات پہ جلدی سے بولا۔
کیوں ارادہ نہیں بنایا اگر نہیں بنایا بھی تو خیر ہے اب بنالوں کیونکہ مجھے اپنے اکلوتے بیٹے کا گھر آباد کرنا ہے۔صالحہ بیگم نے آرام سے کہا
موم رحم کی گنجائش کریں۔عالمگیر منت کرتا بولا
اگر کوئی لڑکی پسند ہے تو وہ بات کرو یوں بہانے نہیں بناوں۔صالحہ بیگم نے دو ٹوک کہا تو عالمگیر نے زبان دانتوں تلے دبائی
ایسی بات بھی نہیں اب۔عالمگیر نے آہستہ آواز میں کہا۔
تو میں ڈن کروں اُس لڑکی کو تمہارے لیے۔صالحہ بیگم خوش ہوتی بولی
اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا۔عالمگیر اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا
عالمگیر کیوں مجھے اُلجھا رہے ہو اگر مجھے تم نے مطمئن نہیں کیا تو میں لاہور پہنچو گی پھر بات ہوگی آمنے سامنے۔صالحہ بیگم نے حکیمہ انداز میں کہا
آپ ضرور آئے پر فلحال شادی کا ذکر مت کریں عجیب گھٹن سی ہوتی ہے۔عالمگیر نے معصومیت سے کہا
تمہاری یہ گھٹن میں لاہور آتے اچھے سے ختم کروں گی۔صالحہ بیگم اپنی سُناتی کھٹاک سے کال کاٹ گئ۔


نازش بیٹا تمہارے ایکزامز کب ہیں؟مہتاب خان نے ڈنر کے وقت نازش سے سوال کیا
اگلے مہینے۔نازش نے مسکراکر جواب دیا۔
کبھی یہ باتیں اپنی دوسری بیٹی سے بھی کرلیا کرو۔سادیہ بی نے طنزیہ کیا
میری ایک بیٹی ہے۔مہتاب خان سخت لہجے میں بولے
تمہارے ناماننے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی ابھی تمہیں احساس نہیں پر بعد میں ضرور ہوگا سلما کے جانے کے تمہیں چاہیے تھا اُس کی آخری نشانی کو اپنے سینے سے لگاتے پر تم نے اُس کو لاوارث کی طرح چھوڑدیا اُس کو احساسِ کمتری کا شکار بنادیا ہے اُس کا سارا اعتماد ختم ہوگیا ہے تمہاری دیکھا دیکھی میں نازش بھی حد سے زیادہ بُرا رویہ اختیار کرتی ہے اُس معصوم کی غلطی کیا ہے صرف یہ کے وہ اِس دنیا میں آئی۔سادیہ بی غمگین لہجے بولی جس کو نازش نے بے زاری سے سُنا مہتاب خان پہ اُن کی باتوں کا کجھ خاص اثر نہیں ہوا جن کو محسوس کرکے سادیہ بی افسوس ہوا کے انہوں نے کِن لوگوں پہ اپنے الفاظ ضائع کیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا کیا تم نے؟ارسلہ نماز پڑھ کر بیڈ پہ بیٹھی تو سادیہ بی نے پوچھا
جی کھالیا تھا۔ارسلہ نے جواب دے کر ڈوپٹہ اُتار کر سائیڈ پہ کیا۔
اپنے حق کے لیے آواز اُٹھاؤ یہ گھر جتنا نازش کا ہے اُتنا تمہارا ہے خود کو تنہائی میں رکھنے سے بہتر ہے سب کے ساتھ بیٹھو صبح کا ناشتہ سب کے ساتھ کیا کرو لنچ پہ باہر آیا کرو اور ڈنر کرنے وقت بھی اپنے کمرے میں کرنے سے بہتر ہے ڈائینگ ٹیبل پہ آیا کرو نازش ایک دو بار طعنہ دے گی تم نظرانداز کرلینا بعد میں اُن کو بھی عادت ہوجائے گی مہتاب خان تمہیں دور کرتا ہے تو تم دور نہ جاؤ باپ ہے وہ تمہارا اُس پہ اپنا حق جماؤ احساس کرواؤ کے اُس کی ایک اور بیٹی بھی ہے جس کو اُس کے پیار محبت شفقت کی ضرورت ہے اُس کے سامنے لاڈ کیا کرو فرمائش کیا کرو ہر وہ چیز جس پہ تمہارا حق ہے وہ مانگا کرو۔سادیہ بی نے نرمی سے اُس کو اپنی بات سمجھانے لگی۔
آپ کی باتیں ٹھیک پر ایسا کوئی حق مجھے نہیں ملا اُن سے مجھ پہ نظر پڑتے ہی ڈیڈ کے چہرے پہ جو ناگواری آتی ہے وہ میرا دل چیردیتی ہے میں اِتنی بہادر نہیں جو اُن کی نظروں میں بار بار اپنے لیے ناپسندگی دیکھوں۔ارسلہ نے سرجھکاکر کہا
وہ ہی تو میں کہنا چاہ رہی ہوں اپنا حق لوں۔سادیہ بی نے اپنی بات پہ زور دیا۔
چھوڑے نہ بی میں خوش ہوں آپ ہے نہ میرے لیے جن کا پیار صرف میرا ہے۔ارسلہ مسکراکر سادیہ بی سے بولی۔
اللہ تمہیں تمہارے صبر کا اٙجر دے۔سادیہ بی نے اُس کو دیکھ کر دل میں دعا کی۔


مُراد نے فائزہ کا ایڈمیشن کالج کروالیا تھا وہ فارم لیتا کالج سے باہر جارہا تھا جب اُس کی نظر ارسلہ پہ پڑی تو ایک نظر میں ہی اُس کو پہچان گیا تھا تبھی باہر جانے کے بجائے سیڑھیوں کے پاس آیا جہاں ارسلہ بیٹھی ہوئی تھی۔
ہائے لِٹل گرل۔مراد کجھ فاصلے پہ بیٹھ بولا تو ارسلہ نے چونک کر سراُٹھایا
آپ؟ارسلہ نے بس اتنا ہی کہا تھا جب مُراد بول پڑا۔
پلیز یہ مت کہنا آپ کون ؟یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ میں نے آپ کو پہچانہ نہیں؟وغیرہ وغیرہ۔مُراد نے جس انداز سے کہا ارسلہ کی ہنسی نکل گئ۔
ایسی بات نہیں میں آپ کو پہچان لیا میں تو یہ کہنے والی تھی آپ یہاں کیوں کیسے؟ارسلہ نے مسکراکر کہا
جیسا کے میں نے بتایا تھا میری ایک بہن ہے جو تمہاری عمر کی ہے تو بس اُس کا ایڈمیشن یہاں کروانے آیا یہ رہا اُس کا ایڈمیشن فارم۔مراد نے فارم اُس کے سامنے لہرایا۔
اب تو ایکزمز ہونے والے ہیں اِتنا لیٹ ایڈمیشن کیوں۔ارسلہ نے اُلجھ کر پوچھا۔
اُس کا پڑھائی میں بلکل دل نہیں لگتا اب بھی زبردستی مجھے یہ فارم فِل کروانے پڑے گے۔مراد نے ہنس کے کہا۔
اچھا۔ارسلہ نے بس اتنا کہا
تم یہاں اکیلی کیوں ہو کوئی فرینڈ نہیں کیا۔مراد نے پوچھا
میری کلاس میں پندرہ منٹ ہیں اور میری بس ایک فرینڈ ہے جو یونی میں ہوتی ہے کیونکہ دو تین سال مجھ سے بڑی ہے۔ارسلہ نے تفصیلی جواب دیا۔
توں کیا کوئی اور نہیں؟مراد نے پھر پوچھا جس پہ ارسلہ نے نفی میں سر کو جنبش دی۔
اچھا تو مجھے اپنا دوست بنالوں۔مراد نے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھاکر کہا ارسلہ نے پہلے تو بس اُس کے ہاتھ کو دیکھا پھر کہا
فرینڈس۔ارسلہ نے ہاتھ دیئے بنا کہا جس پہ مراد بُرا مانے بنا مُسکرادیا اُس کو ارسلہ کا محتاط رہنا اچھا لگا۔



اسلام علیکم!ارمغان فیضان مینشن آتا ہال میں سب پہ نظر ڈال کر بولا جہاں فیضان صاحب اور اُس کا خاص آدمی موجود تھا پاس ہی نازش بیگم تھی جب کی طوبیٰ اور ماریہ نہیں تھی۔
تم یہاں کیا کررہے ہو؟فیضان صاحب اُس کو دیکھ کر غصے سے بولے
آپ تنگ نہیں آجاتے ایک سوال بار بار کرتے ہوئے۔ارمغان نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا
فضول بولنے سے بہتر ہے کام کی بات کرو۔فیضان صاحب نے ٹوک کر کہا۔
کام کی بات یہ ہے کے میں یہاں اپنی زوجہ محترمہ کو لینے آیا ہوں۔ارمغان صوفے پہ بیٹھ کر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کر بولا۔
تمہارا کوئی حق ایسا نہیں۔فیضان صاحب بھڑک اُٹھے۔
میرا ہی حق ہے اُس پہ نکاح میں ہے وہ میرے آپ یا آپ کا قانون مجھے روک نہیں سکتا میں طوبیٰ کو لینے آیا ہو اور لیکر جاؤں گا دیکھتا ہوں آپ کیسے روکتے ہیں۔ارمغان اٹل لہجے میں بولا۔
طوبیٰ اپنا ضروری سامان لیکر باہر آؤ۔ارمغان نے سیڑھیوں کی ریکنگ پہ طوبیٰ کو کھڑے دیکھا تو کہا
طوبیٰ کشمکش میں کھڑی بس ارمغان کو دیکھتی رہ گئ جو بڑے حق سے اُس کو لینے آیا تھا اور کتنا یقین تھا اُس کے لہجے میں کے وہ ساتھ آئے گی۔
اُس سے کیا بات کررہے ہو مجھ سے بات کرو وہ میری بیٹی ہے جب تک میں نہ کہوں وہ ایک قدم باہر نہیں نکالے گی گھر سے اُس نے تم سے طلاق کا مطالبہ کیا ہے اور تم ہو جس بڑے دھڑلے سے اُس کو لینے پہنچ گئے۔فیضان صاحب اُس کے سامنے آتے ہوئے بولے۔
یہ میرا اور میری زوجہ کا معاملہ ہے سو پلیز آپ دور رہے۔ارمغان تپا دینے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجاتا اُپر کی طرف بڑھا۔
چلو طوبیٰ۔ارمغان سنجیدگی سے اُس کے روبرو آتا بولا
میں نے آپ سے طلاق کا مطالبہ کیا تھا۔طوبیٰ نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا۔
او میں کہہ رہا ہوں اپنا ضروری سامان لو اور چلو میرے ساتھ۔ارمغان سخت لہجے میں بولا
اِس کا گھر یہ ہے طوبیٰ کہیں نہیں جائے گی۔فیضان صاحب بھی اُپر کی جانب آتے بولے
نکاح کے بعد والدین کا گھر اُس کے لیے پرایاں ہوجاتا ہے شوہر کا گھر عورت کے لیے اصل گھر ہوتا ہے۔ارمغان نے آرام سے کہا۔
طوبیٰ جاؤ تم سامان لو اپنا ورنہ بات بگڑ جائے گی۔نازیہ بیگم موقع کو غنیمت جانتی طوبیٰ سے بولی۔
تم خاموش رہو۔فیضان صاحب دھاڑ کر بولے
سننے کی سماعت سے محروم ہو کیا۔ارمغان نے طنزیہ کیا جب کی طوبیٰ بُری طرح بھسی تھی ایک طرف شوہر تھا تو دوسری طرف باپ اُس کو سمجھ نہیں آیا کس کی بات ماننی چاہیے۔
طوبیٰ۔ارمغان نے جس انداز سے اُس کا نام لیا طوبیٰ فورن سے وہاں سے چلی گئ اُس کے جاتے ہی ارمغان کے چہرے پہ فاتحہ مسکراہٹ آئی جب کی فیضان صاحب نے زور سے مٹھیاں بھینچ لی۔
