Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Episode 04)

Be Khudi by Rimsha Hussain

تمہیں کونسی کتابیں چاہیے؟عالمگیر نے گاڑی میں بیٹھی فائزہ سے پوچھا آج وہ مراد کے کہنے پہ اُس کو مارکیٹ لیں آیا تھا جب فائزہ نے کہا کہ اُس کو کتابیں بھی لینی ہے۔

کورس کی کتابیں چاہیے تھی بھائی نے میرا ایڈمیشن کروالیا ہے کالج میں اگلے ہفتے سے روزانہ جایا کروں گی۔فائزہ نے بُرا منہ بناکر کہا

اچھا کیا اُس نے آؤ پہلے کتابیں لیتے ہیں اُس کے بعد مارکیٹ جائے گے۔عالمگیر نے سیٹ بیلٹ کھولتے کہا تو فائزہ نے سرہلایا

وہ دونوں بُکس شاپ اینٹر ہوئے تو زرنور جو پہلے ہی یہاں موجود تھی عالمگیر کے ساتھ کسی لڑکی کو دیکھ کر اُس جانے کیوں اُس کو بُرا لگا وہ فائزہ کو پہچان گئ تھی اُس کے باپ کے دوست کی بیٹی ہے پر عالمگیر کے اُس کے ساتھ کیوں تھا وہ چاہ کر بھی اُن کو نظرانداز نہیں کرپائی عالمگیر کی نظر اُس پڑی تو وہ کجھ حیران سا ہوا آج بہت ٹائم بعد اُس نے زرنور کو دیکھا ایک انجانی سی خوشی اُس کے وجود میں برق رفتاری سے ڈورگئ پر فائزہ کی موجودگی میں وہ نظرانداز کرنے لگا جس پہ زرنور کا پارہ ہائے ہوا تبھی اُس نے بھی اپنا رخ دوسری طرف کیا

زرنور آپ یہاں۔فائزہ نے ابھی ایک دو کتابیں اپنے مطلب کی لی تھی جب اُس نے زرنور کو دیکھا تو خوشی سے اُس کے پاس آکر مخاطب کیا۔

ہاں میں کیوں؟زرنور نے پوچھا

نہیں اُس دن جب آپ ہمارے گھر سے چلی گئ تھی اُس کے بعد اب ملاقات ہوئی ہے نہ تو بس اِس لیے۔فائزہ نے کہا

ہمم کتاب لینے آئی تھی میں یہاں اب میں چلتی ہوں۔زرنور ایک نظر بے نیاز کھڑے عالمگیر پہ ڈال کر فائزہ سے کہتی شاپ سے باہر چلی گئ فائزہ دوبارہ اپنے کام میں لگ گئ عالمگیر کو ایک دفع خیال آیا اُس کے پیچھے جائے پھر نفی میں سرہلاتا فائزہ کی طرف آیا۔

💕
💕
💕
💕

ارمغان تم یہ کیا۔زرغونہ بیگم جو گھر کی صفائی آج اپنی نگرانی میں کروا رہی تھی ارمغان کے ساتھ طوبیٰ کو دیکھا تو حیران سی بولی

موم میں نے آپ سے کہا تھا میں اپنی بیوی کو لیکر آؤں گا تو بس لیں آیا۔ارمغان مسکراکر بولا

طوبیٰ آپ بیٹھو۔زرغونہ بیگم نے خاموشی کھڑی طوبیٰ سے کہا

چچی جان پلیز آپ ان کو کہے مجھے گھر جانے دے ڈیڈ بہت غصے میں ہوگے۔طوبیٰ التجائیہ انداز میں زرغونہ بیگم سے بولی

رشیدہ

رشیدہ

طوبیٰ کی بات پہ ارمغان زور سے ملازمہ کو آواز دینے لگا طوبیٰ کانپتی زرغونہ بیگم کے ساتھ لگ گئ۔

جی صاحب۔رشیدہ فورن سے اُس کے پاس کھڑی ہوتی بولی۔

اِن کو میرے کمرے میں چھوڑ آؤ۔ارمغان نے طوبیٰ کی طرف اشارہ کیے کہا تو وہ سرہلاتی طوبیٰ کے پاس آئی جس پہ طوبیٰ زرغونہ بیگم کو دیکھتی ملازمہ کے ساتھ چل دی۔

یہ کیا تھا ارمغان کس لہجے میں بات کررہے ہوتم طوبیٰ پہ کیا اثر پڑا ہوگا۔زرغونہ بیگم نے افسوس سے ارمغان کی طرف دیکھ کر کہا

آپ نے اُس کی بات نہیں سنی میرے نکاح میں ہے پھر بھی باپ کے پاس جانے کی ہے۔ارمغان تپ کے بولا

حالات اِس طرح بن گئے ہیں وہ بے چاری کیا کرسکتی ہے اُس کو اپنے والدین کا بھی تو سوچنا ہے نہ۔زرغونہ بیگم نے سمجھانا چاہا

شادی کے بعد بیوی کو بس اپنے شوہر کے بارے میں سوچنا زیب دیتا ہے چچا جان کو اُس کی زرہ پرواہ نہیں وہ بس اُس کی دوسری جگہ شادی کرکے اپنا بزنس چمکانا چاہتے ہیں اور یہ بات طوبیٰ کو سمجھ میں نہیں آئے گی۔ارمغان طنزیہ انداز میں بولا

ایسا نہیں کہتے۔زرغونہ بیگم نے ٹوکا

کیوں موم ہمارے ساتھ رشتہ بھی تو اُن کا پئسو کی وجہ سے خراب ہوا نہ طلاق بھی طوبیٰ کو اِس لیے تو دِلانا چاہتے ہیں کیونکہ شیرازی گروپ آف انڈسٹری کے مالک نے اپنے بیٹے کا رشتہ دیا ہے اُن کو اگر بات پکی ہوجاتی تو بیس کروڑ فیضان چچا کو ملتے۔ارمغان بنا اُن کی گھوریوں کی پرواہ کرتا بولا۔

اچھا اب بس کرو کمرے میں جاؤ طوبیٰ سے پیار محبت سے بات کرو تاکہ وہ ایزی فیل کریں۔زرغونہ بیگم نے کہا تو ارمغان نے سرد سانس ہوا میں خارج کی۔

💕
💕
💕
💕

کمینہ پہلے کیسے میرے پیچھے پڑا تھا نام جاننے کے لیے تو مرا جارہا تھا اب کیسے دوسری لڑکی کے ساتھ سیر سپاٹوں میں مصروف تھا اور مجھے زرنور احسان دا ڈے آے جی احسان غفار کی بیٹی کو نظرانداز وہ کر کیسے سکتا ہے۔زرنور گھر آتی سیدھا اپنے کمرے میں آتی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی خود سے باتیں کرکے اُس کا خون کھول رہا تھا عالمگیر کو فائزہ کے ساتھ دیکھ کر وہ سمجھ نہیں پارہی تھی اُس کو کیوں اِتنا بُرا لگ رہا ہے۔

دوبارہ ملے تو لفٹ نہیں کرواؤں گی۔زرنور تھک ہار کر بیڈ پہ بیٹھتی پاؤں جھلا کر بولی مگر اپنے دل کیا کرتی جو باغی بن بیٹھا تھا۔

💕
💕
💕
💕

تم لوگ میرے گھر آؤ کبھی۔نازش نے انمول

،ہاد،عالمگیر اور محب سب کی طرف دیکھ کر کہا۔

تمہاری شادی ہونے والی ہے کیا؟عالمگیر نے پوچھا۔

تمہیں مجھ سے مسئلا کیا ہے؟نازش نے تند نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جو ہربار اُس کی بات پہ اپنا مطلب اخذ کرتا تھا۔

ایک ہو تو بتاؤ۔عالمگیر نے منہ بناکر کہا

عالم کو چھوڑو یہ بتاؤ کب آنا ہے تمہارے گھر۔انمول نے تجسس سے پوچھا

کل فرائیڈے ہے تو مزہ آئے گا۔نازش نے کہا

ٹھیک ہے۔ہاد نے کجھ سوچ کر کہا۔

ویسے تمہارے بھائی کا ولیمہ کب ہے؟محب نے ہاد سے پوچھا

ابھی تو ایسا کوئی سین نہیں۔ہاد نے جواب دیا

ایک ماہ لگ جائے گا نہیں۔عالمگیر نے اپنا اندازہ لگایا

ہوسکتا ہے۔ہاد نے کندھے اُچکائے۔

مجھے بتانا شاپنگ کرنی ہے آفٹر آل میرا سسرال ہے۔نازش نے بال جھٹک کر کہا

ہونے والا سسرال۔عالمگیر نے دانت پیس کر کہا

ایک ہی بات ہے۔نازش نے بے نیازی سے کہا

💕
💕
💕
💕

تم نے میری بہت مدد کی ہے شکریہ۔فائزہ نے مسکراکر ارسلہ سے کہا

شکریہ کی کیا بات ہم کلاس فیلو ہے۔ارسلہ نے سادگی سے کہا

تم بہت صاف دل کی معلوم ہوتی ہو۔فائزہ نے مسکراکر کہا

پتا نہیں آپ کے سامنے ہوں۔ارسلہ نے کہا تو فائزہ ہنس پڑی

کالج کے بعد میرا آئسکریم کھانے کا موڈ ہے تو کیوں نہ تم بھی ساتھ چلو بھائی کے ساتھ جائے گے۔فائزہ نے ارسلہ کا ہاتھ تھام کر کہا

سوری پر میں نہیں چل سکتی۔ارسلہ نے سہولت سے انکار کیا

کیوں نہیں چل سکتی میں اتنے پیار سے کہہ رہی ہوں فائزہ نے منہ بسورتے کہا

بس ایسے ہی۔ارسلہ نے ٹالا

اگر تم اپنی اِس محرومی کی وجہ سے کہہ رہی ہو تو میں اِتنا کہوں گی اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بناو دنیا میں کوئی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا۔فائزہ نے سنجیدگی سے کہا

کہنا آسان ہوتا ہے۔ارسلہ نے کہا

کرنا بھی آسان ہے اگر کوشش کرو تو۔فائزہ نے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔۔

ہیلو لٹل گرل۔فائزہ اور ارسلہ کالج کی گیٹ سے باہر آئی تو مُراد جو فائزہ کو لینے آیا تھا ارسلہ کو دیکھ کر مسکراکر بولا

اسلام علیکم!ارسلہ نے سلام کیا تو مراد نے سلام کا جواب دیا

بھائی آپ ہمیں آئسکریم پارلر لیں چلے بڑی مشکل سے ارسلہ کو راضی کیا ہے۔فائزہ نے مراد سے کہا

کیوں نہیں گاڑی میں بیٹھو دونوں۔مراد نے آرام سے کہا تو دونوں بیک سیٹ کی طرف بڑھی مراد نے ارسلہ کو تھوڑا لنگڑا کر چلتا دیکھا تو اُس کی آنکھوں میں اُلجھن اُبھری کیونکہ وہ ناواقف تھا پر ارسلہ سے کجھ کہا نہیں کہ شاید وہ ہرٹ ہو۔

کونسا فلیور چاہیے۔مراد نے گاڑی آئسکریم پارلر کے پاس روک کر دونوں سے پوچھا۔

ونیلا چاکلیٹ اور اسٹرابیری۔فائزہ نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا

چاکلیٹ فلور۔ارسلہ نے بھی بتایا تو مراد سرہلاتا آئسکریم لینے چلاگیا۔

تمہارا بھائی بہت اچھا ہے۔ارسلہ نے حسرت سے مراد کی جانب دیکھ کر کہا

تمہارا کوئی بھائی نہیں؟فائزہ نے سوال کیا تو ارسلہ نے نفی میں سرہلایا

تو میرے بھائی کو اپنا بھائی سمجھ لو سچی بہت تنگ کریں گے اُن کو۔فائزہ نے چہکتے کہا تو ارسلہ ہنس پڑی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،

فائزہ ایک بات بتاؤ۔مراد ارسلہ کو اُس کے گھر ڈراپ کرتا اپنے گھر کی طرف جارہا تھا جب ایک خیال کے تحت فائزہ سے بولا

کیا بات؟فائزہ نے کہا

ارسلہ کو کیا چلنے میں پروبلم ہوتی ہے یا کوئی چوٹ لگی ہے پیر میں؟مراد نے پوچھا

وہ دراصل بھائی ارسلہ تھوڑا لنگڑا کر چلتی ہے یہ محرومی پیدائشی ہے اُس میں اِس لیے وہ زیادہ تر تنہا رہنا پسند کرتی ہے کہیں باہر آتی جاتی بھی نہیں اُس نے بتایا کے سب اُس کی محرومی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔فائزہ نے دُکھ سے بتایا تو مراد کو ارسلہ سے ہمدردی محسوس ہوئی۔

💕
💕
💕
💕

فیضان صاحب دوسرے دن امتیاز صاحب کی طرف آئے تھے طوبیٰ کو لینے پر ارمغان نے سختی سے طوبیٰ کو اندر رہنے کا کہا تھا۔

دیکھو بھائی فیضان آپ بلاوجہ ضد کررہے ہیں آپ کو کجھ حاصل نہیں ہوگا سوائے ناکامی کے دونوں کا نکاح بچپن میں ہوگیا تھا اب آپ کجھ بھی کہے ارمغان کبھی طوبیٰ کو طلاق نہیں دے گا۔امتیاز صاحب نے رسانیت سے کہا زرغونہ بیگم اور ارمغان ہاد یہ سب خاموش سے تھے۔

اپنے بیٹے سے کہو میری بیٹی کو بے نام رشتے سے آزاد کریں شیرازی مجھ سے تاریخ مانگ رہا ہے شادی کی۔فیضان صاحب کڑے لہجے میں بولے۔

چچا جان میں اتنا بے غیرت نہیں جو اپنی عزت کو کسی اور کے لیے چھوڑو۔ارمغان اُن کی بات پہ ضبط کرتا بولا۔

پولیس تک بات پہنچی تب تو دوگے نہ۔فیضان صاحب نے ڈرانہ چاہا

پولیس کیا کرے گی جب طوبیٰ میرے نکاح میں ہے میں نے کونسا اُس کو اغوا کیا ہے۔ارمغان بے خوفی سے بولا تو فیضان صاحب کلس کے رہ گئے۔

بھائی صاحب گھر کی بات گھر میں رہے تو بہتر ہے اگر بات باہر گئ تو بدنامی آپ کی ہوگی سراسر۔زرغونہ بیگم نے سپاٹ انداز میں کہا۔

طوبیٰ سے بات کرنی ہے مجھے۔فیضان صاحب نے کہا۔

ابھی نہیں ولیمے کے دن جتنی چاہے اُتنی باتیں کرلیجئے گا۔ارمغان نے مسکراکر کہا۔

اپنی بیٹی کو میں لیکر ضرور جاؤں گا آج نہیں تو کل۔فیضان صاحب کھڑے ہوتے ہوئے بولے جس پہ کسی نے دھیان نہیں دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناراض ہو؟ارمغان کمرے میں آتا طوبیٰ سے بولا جو جب سے آئی تھی اُس سے بات کرنے کے روادار نہیں تھی۔

آپ کو فرق پڑتا ہے؟طوبیٰ نے اُلٹا اُس سے سوال کیا۔

تمہیں کیا لگتا ہے پڑتا ہوگا یا نہیں؟ارمغان نے سوال کے بدلے سوال کیا۔

سوال کا جواب دیا جاتا ہے سوال کا سوال نہیں ہوتا۔طوبیٰ نے منہ پھیر کر کہا تو ارمغان بے ساختہ مسکرادیا۔

یہی تو بات ہے میں نے جب پوچھا تو تمہیں بتانا چاہیے تھا کیا بات ہے ناراض ہو یا نہیں پر تم نے جواب نہیں دیا تو میں نے بھی نہیں دیا۔ارمغان نے آرام سے کہا

آپ بہت بُرے ہیں۔طوبیٰ نے کہا

جانتا ہوں۔ارمغان آرام سے بولا

سنگدل ہیں

اور

بے حس بھی ہے

اور

غصیلے ہیں

اور

مجھ سے پیار بھی نہیں کرتے۔طوبیٰ نے رونی شکل بناکر کہا تو ارمغان اُس کی بات پہ ہنس پڑا۔

تمہیں ایسا کیوں لگا مجھے تم سے پیار نہیں۔ارمغان نے دلچسپی سے پوچھا

آپ نے کبھی پیار سے بات نہیں کی بس گھور کر دیکھتے ہیں۔طوبیٰ نے بتایا

اچھا تو کیا تم اِس وقت میرے گھر میں میرے کمرے میں میرے پاس حق سے بیٹھی ہو یہ دلیل کیا کم ہے کہ تم میرے لیے کیا اہمیت رکھتی ہوں۔ارمغان نے پیار بھرے لہجے میں کہا تو طوبیٰ کو اپنے اندر سکون اُترتا محسوس ہوا

طوبیٰ! تو غصہ کیوں ہوتے ہیں؟

ارمغان!تم غصہ جو دلاتی ہوں میری بات نہیں مانتی اِس لیے۔

مطلب ساری قصور میرا ہے۔طوبیٰ حیرت زدہ ہوتی بولی

تو کیا نہیں خُلا کی بات کتنی آسانی سے کردی اِس بات پہ مجھے غصہ نہیں آئے گا تو کیا پیار آئے گا۔ارمغان نے دوبدو کہا تو طوبیٰ نے اپنا سر جھکادیا۔

دیکھو طوبیٰ میں تمہارا شوہر ہوں تمہارے نزدیک باپ کی اہمیت ہے تو میری اور ہمارے درمیان پاک رشتے کی بھی اہمیت ہونی چاہیے چچا جان کی بات ماننا تم پہ فرض ہے پر اگر ناجائز بات کریں تو تمہیں انکار کرنا چاہئے بلاوجہ وہ ہمارا رشتہ ختم کرنا چاہتے جس میں نہ میری مرضی تھی نہ تمہاری تو بتاؤ مجھے زندگی ہم نے ایک ساتھ گزارنی ہے نہ۔ارمغان نے کہا تو طوبیٰ نے سر کو اثبات میں جنبش دی

تو ہمارا حق ہے اپنے لیے اسٹینڈ لینے کا۔ارمغان اُس کا ہاتھ تھام کر بولا۔

پھر ڈیڈ ناراض ہے۔طوبیٰ پریشانی سے کہا

مان جائے گے وہ۔ارمغان نے یقین دلاتے ہوئے کہا۔

💕
💕
💕

گولڈن گرل تم مجھے نظرانداز کررہی ہو۔عالمگیر جانتا تھا زرنور روز پارک میں آتی ہے تبھی وہ وہاں آیا تھا تاکہ اُس سے مل سکے وہ بینچ پہ دس منٹ سے بیٹھا تھا پر زرنور نے ایک بار غلطی سے بھی اُس کی طرف نہیں دیکھا تھا جب عالمگیر کی برداشت ختم ہوئی تو فورن سے کہا

تم ہو کون جس کو میں نظرانداز کروں۔زرنور سپاٹ انداز میں بولی

فرینڈز بن جاتے ہیں تاکہ بار بار تمہارے منہ سے اپنے لیے یہ الفاظ سننے کو نہ ملے۔عالمگیر اُس کی بات پہ بدمزہ ہوتا بولا

نو انٹرسٹڈ۔زرنور نے کہا

بٹ میں ہوں۔عالمگیر نے مسکراکر کہا

اور کوئی لڑکی نہیں کیا جو میرے پاس آئے ہو؟زرنور نے جل کر پوچھا

بتایا جو میں سنگل ہو۔عالمگیر نے یاد کروانا چاہا

مجھے یاد نہیں۔زرنور نے بے نیازی سے کہا۔

اچھا اپنا نمبر دو۔عالمگیر جیب سے اپنا فون نکالتا بولا۔

کیوں کیوں؟زرنور نے گھور کر کہا

باتیں کریں گے جب ملنا ہوا تھا تبھی بات کرسکتے ہیں جگہ ڈسائیڈ کرسکتے ہیں۔عالمگیر نے مزے سے سارا پلان بتایا

زیادہ فری ہونے کی ضروری نہیں۔زرنور نے کہا

کیوں نہیں۔عالمگیر نے کہا

میں تمہیں نہیں جانتی۔زرنور نے باور کروایا

اِتنے دنوں سے مل رہے ہیں نام ایک دوسرے کا جانتے ہیں کیا یہ کم ہے۔عالمگیر نے اُس کی سبز آنکھوں میں دیکھ کر کہا

میں نہیں دوں گی۔زرنور نظریں چُراکر بولی۔

جانتا ہوں مانتا ہوں تم خوبصورت ہو اٹیٹیوڈ دیکھانا بھی جچتا ہے تم پہ مگر اب ختم کرو یہ اور اپنا نمبر بتاؤ۔عالمگیر فرینڈلی انداز میں کہا

اوکے سیو کرو۔زرنور تنگ آتی اپنا نمبر بتانے لگی جو عالمگیر نے مسکراکر گولڈن گرل نام سے اپنے موبائل میں محفوظ کردیا۔

💕
💕
💕

ارسلہ لان میں بیٹھی اپنا اسائمنٹ بنارہی تھی جب داخلی دروازے سے ایک گاڑی آتی دیکھی جس میں تین لڑکے اور ایک لڑکی باہر آئی بلیو شرٹ کے ساتھ وائٹ جینز پینٹ پہنے لڑکے کو دیکھ کر اُس یاد آیا وہ پہلے بھی آچُکا تھا جس سے وہ سمجھ گئ کے یہ سب نازش کے فرینڈز ہیں اِس لیے اپنا دھیان اسائمنٹ کی طرف کیا۔

وہ لڑکی کون ہے؟انمول نے ارسلہ کی طرف دیکھ کر کہا تو وہ سب کی اُس کی جانب دیکھنے لگے

چل کر پوچھتے ہیں۔عالمگیر نے کہا تو وہ گھر کے بجائے ارسلہ کی طرف آئے۔

ہائے سویٹ!گرل۔عالمگیر اُس کے پاس کھڑا ہوتا بولا ارسلہ نے اُن سب کو اپنی طرف دیکھتا پایا تو نروس ہونے لگی ہاد بغور اُس کا جائزہ لینے لگا جو فل وائٹ کلر کے فراق کے ساتھ وائٹ ٹراؤز پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی۔

جی۔ارسلہ نے بس اتنا کہا

تم کون ہو؟محب نے پوچھا

میں ارسلہ مہتاب۔ارسلہ نے کہا تو سب نے ایک دوسرے کو اُلجھن بھری نظروں سے دیکھا

اِتنی پیاری معصوم لڑکی نازش کی بہن تو نہیں ہوسکتی۔عالمگیر ڈرامائی انداز میں بولا۔

میں اُن کی بہن ہوں۔ارسلہ نے جلدی سے کہا

گائیز تم لوگ یہاں کیا کررہے ہو اندر چلو۔نازش اُن کے پاس آتی بولی

نازش تم نے بتایا نہیں تھا تمہاری کوئی بہن بھی ہے۔انمول نے شکایت بھرے لہجے میں کہا اس کی بات پہ نازش نے غصے سے ارسلہ کو دیکھا جس کا نوٹس بس عالمگیر نے لیا تھا ارسلہ گھبراتی اپنی چیزیں اُٹھانے لگی۔

اندر چلو پھر بتاتی ہوں۔نازش چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ سجاکر بولی

تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔عالمگیر نے ارسلہ کو جاتا دیکھا تو کہا

میں کیوں؟ارسلہ ڈر کر بولی

کیوں کیا باتیں ہوگی اور تمہارے بارے میں معلومات بھی ہوجائے گی ہم تو یہاں بہت بار آئے پر تمہیں پہلی بار دیکھا ہے۔عالمگیر نے کہا تو باقی سب نے تائید کرتے سرہلایا

مجھے کام ہے سوری۔ارسلہ معذرت کرتی اندر کی طرف جانے لگی۔

نازش تمہاری بہن ایسے کیوں چل رہی ہے؟انمول نے اُلجھن زدہ لہجے میں نازش سے پوچھا

لنگڑی ہے۔نازش نے حقارت سے کہا اُس نے جس انداز سے کہا وہ انداز ہاد اور عالمگیر کو ایک آنکھ نہ بھایا

بہن ہے تو کجھ عزت کرنا سیکھو۔عالمگیر نے کہا

تم مجھے مت سکھاؤ۔نازش نے کوفت سے کہا

اچھا اب لڑو نہیں اور اندر چلو۔محب نے کہا تو سب اندر کی طرف آئے جب کی نازش ارسلہ کی طرف آئی۔

سادیہ بی پڑوس میں گئ ہیں ملازمہ گروسری کرنے اِس لیے تم ریفریشمنٹ کا انتظام کرو۔نازش ارسلہ کے کمرے میں آتی حکم صادر کرتی جاچُکی تھی ارسلہ اُس کی بات گہری سانس بھرتی باہر کچن کی طرف آئی۔

تم نے کہا تھا ماں باپ کی اکلوتی ہو تو وہ لڑکی کیوں خود کو ارسلہ مہتاب بتارہی تھی۔محب نے نازش کے بیٹھتے ہی کہا۔

تو وہ کونسی میری بہن ہے ایڈاپٹ کیا تھا میرے ڈیڈ نے اِس لیے اپنے نام کے ساتھ میرے باپ کا نام یوز کرتی ہے۔نازش نے صفائی سے جھوٹ بولا

پر وہ اگر تمہارے ساتھ بچپن سے ہے تو کبھی تو ہمارے ساتھ ذکر کیا ہوتا انفیکٹ تم اب بھی نہ بتاتی اگر ہماری ملاقات اچانک نہ ہوجاتی۔ہاد جو اب تک خاموش تھا وہ بولا۔

میں اُس کا کیوں ذکر کرتی میری نظر میں نہ اُس کی اوقات ہے اور نہ کوئی حیثیت اِس لیے پلیز تم لوگ بھی اُس کا ذکر نہیں کرو۔نازش نے اکتاہٹ سے کہا

ارے واہ تم آگئ۔عالمگیر نے ارسلہ کو آتے دیکھا تو شوخی سے بولا۔

چیزیں رکھ کر باہر جاؤ سرو ہم خود کرلیں گے۔نازش نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی۔

مجھے تو تم سرو کرو اور یہ بیکنگ تم نے کی ہے؟عالمگیر ایک ناگوار نظر نازش پہ ڈال کر مسکراکر ارسلہ سے پوچھ کر کیک اور کوکیز کی جانب اشارہ کیا۔

جی میں نے کی ہے۔ارسلہ نے آہستہ سے جواب دیا۔

ریئلی مجھے تو چائے بنانی بھی نہیں آتی۔انمول ایمپریس ہوتی بولی

اب ہر کوئی تمہاری طرح پھوہر تو نہیں ہوتا۔محب نے مسکراہٹ دباکر کہا

مجھے کیک کا پیس اور چائے تو دیجئے گا۔ہاد نے اُس کو عالمگیر کی طرف جاتے دیکھا تو کہا نازش ہاد کو ارسلہ کے ساتھ اتنے احترام سے بات کرتا دیکھ کر کلس کر رہ گئ۔

ارسلہ ہاد کی بات پہ سرہلاتی کٹلی سے چائے نکال کر کپ میں ڈالتی ہاد کی طرف جانے لگی نازش نے اُس کو پاس آتا دیکھا تو اپنا پیر آگے کیا کیونکہ وہ ہاد کے ساتھ بیٹھی تھی اُس کے ایسا کرنے سے ارسلہ کا پیر ان بیلنس ہوا تھا خود کو گِرنے سے تو وہ بچہ پائی پر گرم چائے اُس کا پیر بُری طرح جھلسا چُکی تھی سب فورن سے اپنی جگہ سے اُٹھ گئے تھے ارسلہ کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوا چُکا تھا۔

سوری آپ یہاں بیٹھے۔ہاد شرمندہ ہوتا ارسلہ کو صوفے کی طرف بیٹھانے لگا۔

تم کیا کھڑی تماشا دیکھ رہی ہو بہن کو چوٹ لگی ہے جاؤ جاکر آٹیمینٹ لیکر آؤ۔عالمگیر نے نازش کو اپنی جگہ جما دیکھا تو غصے سے کہا

میری تمہاری ملازمہ نہیں جو ایسے بات کررہے ہو۔نازش جھلا کر بولی۔

انمول اِن کو لڑائی سے فرصت نہیں تم کچن سے مرہم لیں آؤ۔ہاد دونوں پہ ناگوار نظر ڈال کر بولا

انمول ہاد کی بات پہ جلدی سے وہاں سے نکلی۔

اگر رونا آرہا ہے تو رولو۔عالمگیر نے ارسلہ کا لال ہوتا چہرہ دیکھ کر بولا ارسلہ نے کوئی جواب دیا۔

میں خود لگالوں گی۔انمول مرہم لائی تو ہاد لگانے لگا تو ارسلہ نے جلدی سے کہا نازش انگارہ برساتی نظروں سے ارسلہ کو گھور رہی تھی۔

میں لگالیتا ہوں آپ خاموش رہے۔ہاد ٹوکتے بولا

پھر نرمی سے اُس کے پیر پہ مرہم لگانے لگا جو سرخ ہوگیا تھا ارسلہ یک ٹک ہاد کو دیکھ رہی تھی جو بڑی توجہ اور نرمی کے ساتھ اُس کے پیر پہ مرہم لگارہا تھا جب کی عالمگیر مزے سے نازش کا غصے سے بھرا چہرہ دیکھ رہا تھا جو نظروں ہی نظروں میں ارسلہ کو بھسم کرنے کا ارادہ رکھے ہوئے تھی۔

ابھی تو میں نے لگالی ہے پر جب تک پاؤں مکمل طور پہ سہی نہیں ہوجاتا آپ خود لگالیا کریں۔ہاد نے مرہم اُس کی طرف بڑھاکر نرمی سے کہا۔

جی شکریہ۔ارسلہ نے مرہم لیتے ہوئے کہا

اب اپنے کمرے میں جاؤ سارا دن ہمارا اسپوئل کردیا۔نازش نے مزید برداشت نہیں ہوا تو بولی

آرام سے بات کرو۔ہاد نے ٹوکا

آؤ میں لیکر جاتی ہوں۔انمول آگے آتی بولی

آپ سب کا بہت شکریہ پر میں خود چلی جاؤں گی۔ارسلہ نے انکار کرتے کہا اُس کو عجیب لگ رہا تھا اِن سب کو اپنی لیے فکرمند ہوتا دیکھ کر بھلا اُس کو کہا عادت تھی اِس لیے خود ہی اُٹھتی ڈرائینگ روم سے باہر نکلی۔

تم سے اِس بات سے حساب لیا جائے اُس معصوم سے اِس طرح بات کررہی تھی۔عالمگیر دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولا

بکواس بند کرو اپنی۔نازش نے غصے سے دانت پیس کر کہا

سچ کڑوا ہوتا ہے۔عالمگیر گُنگُناتا اُس کو زہر سے بھی زیادہ بُرا لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕

نازش آپی کے سارے فرینڈز بہت مختلف ہیں اُن سے۔رات کے وقت ارسلہ نے سادیہ بی کے پاس لیٹتے ہوئے بتایا۔

سب لوگ ایک دوسرے مختلف ہی ہوتے ہیں۔سادیہ بھی اُس کی بات پہ مسکراکر بولی۔

ہاں پر میں ان سے کتراتی تھی مجھے لگتا تھا وہ بھی آپی کی طرح مجھے منہوس کہے گے لنگڑی ہونے پہ میرا مذاق اُڑاے گے پر ایسا کجھ نہیں تھا وہ سب بہت اچھے سے مجھ سے بات کررہے تھے۔ارسلہ نے بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے کہا

تم لنگڑی نہیں ہو دوبارہ اپنے لیے یہ الفاظ مت نکالنا۔سادیہ بھی اُس کی بات پہ ٹوکتی بولی۔

میرے نہ کہنے سے حقیقیت بدل تو نہیں جائے گی۔ارسلہ نے کہا

اچھا اب سوجاو فضول مت بولو۔سادیہ بی نے کہا تو ارسلہ مسکراکر آنکھیں بند کرگئ اُس کے چمکتے چہرے کو دیکھ کر وہ اندازہ لگاسکتی تھی جو توجہ وہ اپنوں سے چاہتی تھی آج اجنبیوں سے ملی ہے تو وہ خوش ہے۔

💕
💕
💕
💕

عالمگیر سونے کی کوشش کررہا تھا پر جب بہت وقت تک نیند نہیں آئی تو اُس نے زرنور کو کال کرنے کا سوچا۔

میں نے تمہیں اپنا نمبر اِس لیے نہیں دیا تھا کہ رات کے بارہ بجے میری نیند خراب کرو۔عالمگیر نے جیسے کال کی تو زرنور شروع ہوگئ۔

مجھے نیند نہیں آرہی تھی سوچا تم سے پوچھ لوں جاگ رہی ہو یا سورہی ہو۔عالمگیر اُس کی نیند سے بھری آواز سنتا مسکراہٹ دباکر بولا

سیریسلی اِتنی رات کو یہ پوچھنے کے لیے کال کی ہے۔زرنور کو اُس کی دماغی حالت پہ شک گُزرا۔

تو تمہیں کیا لگا میں نے کیوں کال کی ہوگی۔عالمگیر نے سوال کیا

بہت ہی کوئی فضول اور مین انسان ہو۔زرنور تپ کے بولی

اِتنی تعریف مت کیا کرو مجھے شرم آتی ہے۔عالمگیر اُس کے چڑنے پہ محفوظ ہوتا بولا جب کی دوسری طرف زرنور کال کٹ چُکی تھی جس پہ عالمگیر اپنا سا منہ لیکر رہ گیا

💕
💕

ڈیڈ میں ولیمہ چاہتا ہوں اب۔ارمغان نے کہا

ٹھیک ہے تم ساری اریجمنٹس ہاد کے ساتھ مل کر کرو ہال کی بُکنگ وغیرہ یہ سب میں مہمانوں کی لسٹ بتادوں گا جن کو ولیمے پہ انوائٹ کرنا ہے۔امتیاز صاحب نے کہا

ولیمے پہ میں سارے خاندانوں والوں کو انوائٹ کرنا چاہتا ہوں اپنے سرکلز کے لوگ کولیگز وغیرہ اِن سب کو تاکہ سب پتا ہو۔ارمغان نے سنجیدہ سے کہا

جیسے تمہاری مرضی۔امتیاز صاحب نے سر کو جنبش دیتے کہا

کب کی تاریخ ہے ولیمے کی؟ہاد نے پوچھا

اگلے مہینے کی دو تاریخ کو۔ارمغان نے بتایا

مطلب وقت بہت کم ہے۔ہاد نے کہا

بلکل اِس لیے اپنے دوستوں کو بتادو شاپنگز وغیرہ بھی کرلوں طوبیٰ کو میں مشہور بوتیک لیں جاوٴں گا ولیمے کے ڈریس کے لیے۔ارمغان نے طوبیٰ کو دیکھ کر کہا

مجھے کیا شاپنگ کرنی ہے سوائے ایک سوٹ لینے کے۔یاد کالر جہاڑ کر بولا

اپنی ہونے والی بیوی کو تو کروانی پڑے گی نہ۔ارمغان نے شرارت سے کہا تو ہاد ہنس پڑا۔

تمہاری پڑھائی پوری ہوجائے تو میں نازش کو انگھوٹی پہنانے جاوٴں گی باقاعدہ منگنی ہوجائے تو ٹھیک ہے۔زرغونہ بیگم نے کہا

آپ کیوں انگھوٹی ہاد خود پہننا لیں گا۔ارمغان نے ہاد کو دیکھ کر آنکھ ونک کرتا بولا جس پہ ہاد نے سرہلایا۔

جو بھی پر رشتے لینے تو جانا چاہیے نہ اب۔زرغونہ بیگم نے کہا تو سب اُن کی بات پہ متفق ہوئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

دو دن بعد!

احسان صاحب لاوٴنج میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے جب زرنور ان کے پاس آتی ٹیبل پہ پڑا کارڈ اُٹھاکر دیکھنے لگی۔

ڈیڈ یہ کس کے ولیمے کا انویٹیشن کارڈ ہے؟زرنور کارڈ پہ نظر جماکر بولی۔

دوست ہے ایک پُرانہ اُس کے بیٹے کا ولیمہ ہے تم ساتھ چلنا۔احسان صاحب نے مسکراکر جواب دیا

ڈیڈ یہ وہ تو نہیں جن کے پاس ہم جاتے تھے پہلے۔زرنور نے پوچھا

جی وہی ہیں۔احسان سب نے بتایا

اوو واہ پھر تو میں ضرور چلوں گی۔زرنور خوشی ہوتی بولی جس پہ احسان صاحب بھی مسکرا پڑے۔

💕
💕
💕
💕

ہاد نازش کو لیے شاپنگ مال لایا تھا نازش لیڈیز سینٹر کی جانب گئ تو ہاد ایک کال کرنے کے لیے سائیڈ پہ ہوا۔

ہاد تم یہاں ہو میری ہیلپ کرو سمجھ نہیں آرہا کونسا ڈریس لوں۔نازش باہر آتی ہاد کا ہاتھ پکڑتی بولی

کال کرنی تھی تم آؤ۔ہاد نے وجہ بتائی

اچھا اب چلو۔نازش اُس کا ہاتھ تھامتی اپنے ساتھ لیں جانے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم مجھے پِک کرنے آنا تمہاری طرف آنے کے لیے میں چاہتی ہوں نہ اکیلی آؤں اور نہ ڈرائیور کے ساتھ تمہارے ساتھ چلوں گی تو ٹھیک رہے گا۔نازش شاپنگ کے بعد فوٹ کارن میں آتی ہاد سے بولی۔

کہاں چلنا ہے میرے ساتھ؟ہاد اُس کی بعد سمجھ نہیں پایا۔

ولیمہ ہے نہ تمہاری بھائی کا وہاں۔نازش نے بتایا

کیوں انکل نہیں آئے گے کیا؟ہاد نے پوچھا

سوری دراصل ڈیڈ کی اہم میٹنگ ہے حیدرآباد جانا ہے تو وہ نہیں آسکتے۔نازش نے وجہ بتائی

اوکے نو پروبلم تم ریڈی ہوکر میسج کرلینا میں پِک کرلوں گا اپنی بہن سے بھی کہہ دینا وہ بھی تیار رہے۔ہاد آرام سے بولا نازش کو ہاد کی آخری بات سن کر پتنگے ہی لگ گئے۔

وہ کیوں اُس کا کیا کام۔ نازش نے ناگواری سے کہا

کیا مطلب کیا کام بہن ہے وہ تمہاری گھر کی ممبر ہے وہ اُس کو آنا چاہیے۔ ہاد نے کہا

دیکھو ہاد میں بتاچُکی ہوں وہ مجھے نہیں پسند ویسے بھی وہ ایوینٹس میں کہی نہیں جاتی لوگ اُس کا مذاق اُڑاتے لنگڑی جو ہے۔ نازش تمسخرانہ انداز میں بولی۔

اِس لیے تو اُس میں کانفڈنس کی کمی ہے تم اپنے ہی اُس کو سپورٹ نہیں کروگے تو باقی سے کیا اُمید ویسے بھی اگر وہ خود کو قید کریں تو یہ اپنی ذات سے زیادتی ہوئی اُس کو چاہیے لوگوں کی بات نظرانداز کریں نہ کی ہر ایک کی بات دل پہ لیں۔ ہاد نے نرمی سے کہا

تم کیوں اُس کی طرفداری کررہے ہو؟ نازش نے تپ کے کہا

میں کسی کی طرفداری نہیں کررہا بس ایک جنرل بات کررہا ہوں۔ ہاد نے وضاحت دی۔

ارسلہ نہیں آئے گی بس۔ نازش نے دو ٹوک کہا

نازش میری فیملی کو یہ بات بعد میں پتا چلی کے تمہاری کوئی بہن بھی ہے تو مسئلہ ہوسکتا ہے میں ارسلہ کو تمہاری بہن کی حیثیت سے موم ڈیڈ سے ملوانا چاہتا ہوں۔ ہاد نے سمجھاتے ہوئے کہا

بہن نہیں وہ میری۔ نازش نے دانت پیس کر کہا

گھر کا فرد تو ہے نہ۔ ہاد نے یاد کروایا ہو جیسے

مجھے برداشت نہیں ہوتی وہ۔نازش نے کہا

پلیز نازش وہ معصوم ہے اپنی انا کا مسئلہ نہ بناؤ۔ہاد اب کی بیزار ہوا جس پہ نازش خاموش ہوگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

میں فطرتا بہت حساس

ہوں

مجھے دُکھ دیتے ہیں

تلخ رویے

میں تھک جاتی ہوں

سہہ کر

سن کر

بول کر

سوچ کر

اندر ہی اندر

دل میں بوجھ لئے رہتی ہوں

اُداسی میں روح کا

خُلاصہ

مگر

میں اُداسی بانٹ نہیں

سکتی

مجھے خواہش میں بانٹوں

مسکراہٹیں

خوشیاں

آسانیاں

دعائیں

فقط اِس لیے

اپنی سی کوشش

جاری رکھتی ہوں۔

ارسلہ گارڈن میں اپنی مانوں کے ساتھ تھی جب نازش اُس کے پاس آئی۔

کوئی تمہیں میری ساتھ آنے کا کہے تو صاف انکار کردینا۔ نازش نے سختی سے کہا

کوئی مجھے کیوں آپ کے ساتھ لیں جانا چاہے گا۔ ارسلہ کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی۔

زیادہ چلاک بننے کی ضرورت نہیں یہ جو تم معصوم بنی رہتی ہو اُس کو ختم کرو اور میں بتادوں اگر میرے فرینڈز میں کوئی بھی ہاد کے بھائی کے ولیمے پہ چلنے کا کہے تو صاف انکار کردینا ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔ نازش نے وارن کرنے والے انداز میں کہا

ہاد کون؟ ارسلہ کو اب بھی سمجھ نہیں آئی۔

وہی جس کے ہاتھوں سے مرہم لگوارہی تھی بوائے فرینڈ ہے وہ میرا جلد شادی بھی ہوجائے گی اِس لیے دور رہنا اُس سے۔ نازش نے کہا تو اُس کی آنکھوں کے سامنے ہاد کا چہرہ آیا جو بڑی بڑی نرمی اور توجہ کے ساتھ اُس کی پیر پہ مرہم لگا رہا تھا۔

آپ کو کہنے کی ضرورت نہیں میں کیوں اُن کے پاس آوٴں گی۔ ارسلہ اپنی سوچ کو جھٹکتی ہوئی بولی۔

بہتر بھی یہی ہوگا تمہارے لیے۔ نازش تمسخرانہ انداز میں کہتی وہاں سے چلی گئ۔

مانو کب سب ٹھیک ہوگا۔ ارسلہ اپنی بلی کو ہاتھوں میں لیتی افسردہ ہوتی بولی

💕
💕
💕
💕
💕

آپ کو اب مان جانا چاہیے پُرانی باتیں بُھلاکر۔ نازیہ بیگم نے کمزور آواز میں فیضان صاحب سے کہا جو غصے سے ولیمے کا کارڈ دیکھ رہے تھے۔

اُس ارمغان کو لگتا ہے اُس نے مجھے شکست دی ہے پر اصل شکست تو میں اُس کو دوں گا۔ فیضان صاحب آنکھوں میں بدلے کی آگ لیکر بولے۔

شکست کیسی بھتیجا ہے آپ کا۔ نازیہ بیگم نے کہا

تم خاموش رہو اور خبردار جو ولیمے میں جانا کا سوچا بھی تو۔ فیضان صاحب نے سختی سے کہا

بیٹی کا معاملہ ہے لوگ باتیں بنائے گے۔ نازیہ بیگم نے اُن کو سمجھانا چاہا۔

تمہاری بیٹی نے سوچا میری اجازت کے بغیر جائے گی تو میں کیا لوگوں کو منہ دیکھاوں گا۔ فیضان صاحب بھڑک کر بولے

شوہر تھا اُس کا کوئی غیر نہیں۔نازیہ بیگم کو اُن کی بات بُری لگی۔

تمہیں جو کہا ہے اُس پہ عمل کرو مجھے سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں۔ فیضان صاحب نے دانت پیس کر کہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *