Be Khudi by Rimsha Hussain NovelR50567 Be Khudi (Episode 13)
Rate this Novel
Be Khudi (Episode 13)
Be Khudi by Rimsha Hussain
زرنور گارڈن میں پودوں کو پانی دے رہی تھی جب احسان صاحب بھی وہی آگئے۔
زر اِدھر بیٹھو۔احسان صاحب کی بات پہ وہ مسکراتی اُن کی طرف آگئ۔
کوئی بات ہے؟زرنور غور سے اُن کا چہرہ دیکھتی بولی
مجھ سے ملنے ایک لڑکا ملنے آیا تھا عالمگیر شیخ نام تھا اُس کا۔احسان صاحب کی اتنی سی بات پہ زرنور کے چہرہ کی رنگت حددرجہ فق ہوگئ تھی۔
ک کون ہ ے وہ۔زرنور نے خود کو لاتعلق ظاہر کرنا چاہا جب کی اُس کے اٹکنے پہ احسان صاحب مسکرا پڑے۔
مجھے بتانا چاہیے تھا تمہیں میں باپ ہوں تمہارا میرے لیے اولین تمہاری خوشی رہی۔ہے آگے بھی رہے گی۔احسان صاحب نے کہا
آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔زرنور کو ان کی بات سمجھ نہیں آرہی تھی اور جو آرہی تھی وہ سمجھنا چاہ نہیں رہی تھی تبھی پوچھا۔
یہی کے میں نے منور سے معذرت کرلی ہے سیف بھی کیسی اور کو چاہتا ہے اور میں یہ نہیں چاہوں گا تم زبردستی اُس کی زندگی میں رہو عالمگیر کی آنکھوں میں تمہارے لیے محبت دیکھی تھی میں نے پر اُس سے پہلے تم سے بات کرنا چاہتا تھا پر تم نے بتایا ہی نہیں کجھ۔اُن کی بات پہ زرنور نے اپنا سرجھکادیا۔
میں آپ کا مان توڑنا نہیں چاہتی تھی ساری زندگی آپ نے میری ہر خواہش کو پورا کیا سوچا میں بھی زیادہ نہیں تو اِتنا آپ کے لیے کرسکتی ہوں میری زندگی میں رشتیداروں میں کوئی نہیں سب کجھ آپ ہے ماں بھی باپ بھی موم کے جانے کے بعد آپ نے اپنی اتنی ٹف جاب کو بھی دیکھا اور مجھے بھی وقت دیا شاید ہی ایسا کوئی باپ کرتا ہوں اپنی بیٹی کے لیے۔زرنور جذباتی ہوگئ تھی۔
پاگل اولاد ہو تم میری اگر تمہارے لیے نہیں کروں گا تو کس کے لیے کونسا میری ڈھیروں بیٹیاں ہیں ایک تم ہی تھی رہی بات تمہاری ماں کی تو اُس کا میں شکرگُزار ہوں جو جاتے ہوئے تمہاری جیسی پری مجھے دے گئ۔احسان صاحب اُس کے سر پہ چپت لگاکر بولے تو وہ ہنس پڑی
آپ دُنیا کے بیسٹ فادر ہیں۔زرنور اُن کے سینے پہ سر رکھتی بولی
اور تم دنیا کی بیسٹ بیٹی ہو۔احسان صاحب نے بھی اُسی کے انداز میں کہا۔





آپ۔مہتاب خان سیف کو پہچان گئے تھے جب اُس کے ساتھ موجود منورحسن سے وہ انجان تھے۔
اسلام علیکم انکل یہ میرے فادر ہیں منور حسن۔سیف احترام سے کھڑا ہوتا بولا
وعلیکم اسلام بیٹھے۔مہتاب خان نے کہا
دراصل ہم یہاں آپ سے کجھ مانگنے آئے ہیں۔سادیہ بی ملازمہ کے ساتھ کھانے کے لوازمات سیٹ لگوارہی تھی جب منورحسن نے اصل بات کی طرف آئے۔
مجھ سے۔مہتاب خان کو تعجب ہوا
جی میں آپ کی بیٹی نازش کا ہاتھ اپنے بیٹے سے کرنا چاہتا ہوں۔منور صاحب نے سرجھکائے بیٹھے سیف کی طرف اِشارہ کیا
مہتاب خان اُن کی بات سننے کے بعد سادیہ بی کو دیکھا جو خود اُن کی طرف دیکھ رہی تھی
آپ کو شاید علم نہیں میری بیٹی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے جس وجہ سے فلحال ہو چلنے پِھرنے سے قاصر ہے پر انشااللہ وہ جلد ٹھیک ہوجائے گی۔مہتاب خان ایک نظر سیف پہ ڈال کر منورحسن سے بولے
سیف مجھے ساری بات بتاچُکا ہے اگر وہ راضی ہے تو آپ یا مجھے اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور انشااللہ آپ کی بیٹی جلد صحتیاب ہوجائے گی۔منور صاحب نے بے تکلفی سے کہا
آپ کا بیٹا راضی ہے میری بیٹی کا رشتہ کہی اور طے تھا جو کسی بات کی وجہ سے ختم ہوا وہ شاید ابھی نامانے تو آپ کو فلحال کوئی جواب نہیں دے سکتا۔مہتاب خان نے سنجیدگی سے کہا
آپ کو بُرا نہ لگے تو میں اُن سے بات کرنا چاہوں گا دوسرا یہ کے میں نکاح جلد چاہتا ہوں تاکہ اُس کا علاج آپ نہیں میں کرؤاں میں ایس پی ہوں یہاں کسی کیس کی وجہ سے آیا تھا اور اب مجھے آسٹریلیا جانا پڑرہا ہے تو ۔سیف ساری بات کہتا چپ ہوگیا۔
بات پکی ہوئی نہیں اور نکاح کی خواہشات اول کرلی۔منور صاحب سیف کی بات پہ کڑھ کے رہ گئے۔
نازش میری بیٹی ہے میں ایسے ہی اُس کو تمہارے حوالے نہیں کرسکتا۔مہتاب خان انکاری ہوئے
میرے نہیں اللہ کے کردے اور یقین جانے اللہ مایوس نہیں کرتا۔سیف نے جیسے اُن کو لاجواب کردیا مہتاب خان کے پاس اب کجھ بچا نہیں تھا کہنے کو۔







کیا سوچ رہی ہو۔ارمغان نے سوچو میں گم طوبیٰ کو مخاطب کیا
سب ٹھیک ہوگیا پر پتا نہیں اب ہمیں اولاد کی خوشی کب نصیب ہو۔طوبیٰ اُداس لہجے میں بولی
ایسی باتیں مت سوچو اللہ نے جب دینا ہوا دیں دے گا۔ارمغان نے نرمی سے کہا
انشااللہ پر میری کوتاہی کی وجہ آج ہم اپنی اولاد سے محروم ہے۔طوبیٰ افسوس سے بولی
ایسا ہونا طے پایا تھا اب جب سب سہی ہوا ہے تو تم ایسی مایوسی والی باتیں مت سوچو۔ارمغان اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولا
سوری ارمغان میں نے آپ کو بہت ستایا ہے پر پھر بھی آپ میرے ساتھ رہے اُس کے لیے میں آپ کی مشکور ہوں۔طوبیٰ تشکرانہ لہجے میں بولی
تمہارے لیے کجھ بھی۔ارمغان اُس کے ماتھے پہ بوسا دیتے بولا۔







ان دیکھی ان جانی سی پگلی سی
دیوانی سی جانے وہ کیسی ہوگی رے
چپ بیٹھو۔زرنور نے عالمگیر کو آتے ہی گانا گاتا دیکھا تو ٹوکا
سپنوں میں آنے والی نیندیں چُرانے
والی جانے وہ کیسی ہوگی رہے
عالمگیر ہی کیا جو زرنور کے کہنے پہ خاموش ہوجائے۔
کہہ دوں تمہیں یا چپ رہوں
دل میں میرے آج کیا ہے
جو بولوں تو جانوں
گروو تم کو مانوں
ری میکس
دل نے یہ کہا ہے دل سے
محبت ہوگئ ہے تم سے۔
عالمگیر جو کوئی اور گانا سوچ رہا تھا زرنور کی خوبصورت آواز سن کر حیرت سے غوطہ زن ہوگیا اُس کو یقین نہیں ہورہا تھا زرنور گانا گارہی تھی کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کے زرنور نے جواب میں گانا گایا ہو اور اب
عالمگیر اب اُس کے گانے کے الفاظ پہ غور کرنے لگا تو بیہوش ہوتے ہوتے بچا
گولڈن گرل کیوں بھری جوانی میں میرا ہارٹ فیل کروانا چاہتی ہو۔عالمگیر دل پہ ہاتھ رکھتا بولا
سِوائے فضول بولنے کے تمہیں کجھ نہیں آتا نہ۔زرنور بے زار شکل بناکر بولی
آتا ہے نہ تمہیں دیکھنا تمہیں سوچنا تم سے پیار کرنا اور میرا نہیں خیال یہ سب فضول ہے۔عالمگیر دلکش انداز میں بولا
باتیں کرلوں۔زرنور نے منہ بنایا۔
اچھا یہ تو پڑھ کے بتاؤ۔عالمگیر نے پارک میں موجود بچوں کو دیکھا تو اُس کے دماغ میں جھماکا ہوا تبھی اپنی جیب سے موبائیل نکال کر کجھ ٹائپ کرتا زرنور سے بولا جس نے بنا عالمگیر کے چہرہ کے تاثرات نوٹ کیے پڑھ کے سنایا
تیرا میرا بیٹا بڑا کیوٹ ہوگا۔پڑھتے پڑھتے اچانک زرنور کی نظریں عالمگیر کے چہرے پہ پڑی جس کی رنگت ہنسی ضبط کرنے چکر میں سرخ ہوگئ
گھٹیاں بدتمیز ڈیش انسان ہو تم۔زرنور اُس کے کندھے پہ مکے مارتی غصے سے بولی اُس کا رنگ غصے اور شرم کی وجہ سے سرخ انار ہوگیا تھا جب کی عالمگیر جتنی زور سے ہنس سکتا تھا ہنس رہا تھا
سیریسلی مجھے نہیں تھا پتا تمہیں بیٹے کا اتنا شوق ہے اتنی چاہ ہے اتنی تڑپ ہے۔عالمگیر پھر بھی باز نہیں آیا۔
تیرا میرا بیٹا بڑا کیوٹ ہوگا یہ سرمد قدیر کے ایک سونگ کا حصہ تھا جو پارک میں بچے کو دیکھ کر عالمگیر کو یاد آیا تبھی اُس نے زرنور کو تنگ کرنے کی خاطر اُس سے پڑھایا اور ہمیشہ کی طرح زرنور تپ بھی چُکی تھی کیونکہ چاہے زرنور جتنا بھی اُس کو منہ توڑ جواب دے دیتی عالمگیر ایسی بات ضرور کرتا تھا جس پہ سوائے غصے کے زرنور کجھ نہ کرپاتی۔






آپ لوگوں نے سوچ بھی کیسے لیا میں شادی کروں گی۔نازش کو اپنے رشتے کی بات پتا چلی تو وہ آپے سے باہر ہوتی بولی۔
نازش تحمل سے ہماری بات سنو۔سادیہ بی نے اُس کو پرسکون کرنا چاہا ارسلہ پریشان سی اُس کا ردعمل دیکھ رہی تھی جب کی مہتاب خان گہری سوچ میں گم تھے۔
کیا سنوں میں آپ لوگ جانتے ہیں میری کنڈیشن بوجھ لگنے لگی ہوں میں تبھی یہاں سے نکالنے لگے ہیں۔نازش بدگمان ہوئی۔
ایسی سوچ کیسے تم نازش میری جان سیف بہت اچھا ہے ہاد کو بُھلاکر اُس کے ساتھ زندگی جینے کا سوچو ہاد نے تمہاری طرف سے انکار کیا ہے وہ نہیں کرسکتا تم سے شادی سمجھو بات کو۔مہتاب خان بیڈ پہ اُس کی جانب آتے نرمی سے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر سمجھانے لگے
پر میں نہیں کروں گی ایسی حالت میں تو بلکل بھی نہیں۔نازش اُن کے سینے سے لگتی التجا کرنے لگی۔
تم ٹھیک ہوجاؤ گی جلدی اِس لیے ہاں کردو کل وہ ملنے آئے گا تم سے ہاد کے والدین بھی آنا چاہ رہے ہیں میں تم دونوں کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں۔مہتاب خان کی بات پہ جہاں نازش نے تکلیف سے آنکھیں بندکرلی تھی وہی ارسلہ حیران سی اُن کو دیکھنے لگی۔
ڈیڈ۔
ارسلہ نے کجھ کہنا چاہا
جانتا ہوں ہمیشہ تم پہ اپنے فیصلے مسلط کیے ہیں پر یہ فیصلہ تمہارے بھلے کے لیے انکار مت کرنا بہت چاہت سے تمہارا رشتہ مانگا ہے انہوں نے انکار نہیں کرنا چاہتا میں۔مہتاب خان نے سنجیدگی سے کہا تو ارسلہ نازش کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی مہتاب خان کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسلہ کمرے میں آئی تو ہاد کی کال آنے لگی کجھ دیر تو وہ گم سم سی فون کی اسکرین کو دیکھتی رہی پھر کال اُٹھالی۔
مصروف تھیں؟ہاد نے چھوٹتے ہی پوچھا
نہیں۔ارسلہ نے بس اتنا کہا
ناراض ہیں؟ہاد نے ایک اور سوال داغا
نہیں۔وہی جواب۔
آپ کو کیا بات مجھ سے دور کررہی ہے یہ بتادے کونسی بات ہے ایسی جو آپ کو میری طرف قدم نہیں بڑھانے دے رہی۔ہاد نے گہری سانس بھر کر کہا
آپ کو جیسے نہیں پتا کجھ آپ نازش آپی سے رشتہ توڑ کر مجھ سے کیسے رشتہ جوڑ سکتے ہیں آپ تو پہلے اُن کو چاہتے تھے اور آج مجھے کل کو کوئی اور پسند آجائے گی۔ارسلہ نے شکوہ کیا
پہلے جو بھی پر مجھے آپ سے پیار ہے یہ بات دل سے نکال دے آپ کے علاوہ میری زندگی میں کوئی اور ہوگا۔ہاد نے مسکراتے لہجے میں کہا
ایسی باتیں تو آپ نے آپی سے بھی کی ہوگی۔ارسلہ کو اب بھی یقین نہیں آیا
پوچھ لیں ایسا میں نے کبھی اُس سے نہیں کہا پہلی بار آپ سے کررہا ہوں ایسی باتیں۔ہاد نے وضاحت دی۔
میں کیوں پوچھنے لگی اُن سے۔ارسلہ بُرا مان کر بولی۔
تو پھر مجھے پہ اعتبار کرلیں سارے خدشات اپنے اندر سے ہٹا کر کیونکہ ہاد امتیاز بس آپ کا ہے۔ہاد کی بات پہ ارسلہ کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی تبھی بنا کجھ کہے کال کاٹ دی۔






عالمگیر نے آج ہمت کرکے اپنی ماں کو کال کی تھی۔
اسلام علیکم امی کیسی ہیں آپ؟عالمگیر نے پہلے حال چال دریافت کیا۔
وعلیکم اسلام !میں ٹھیک ہوں پر لگتا ہے تم گھر کا راستہ بھول چُکے ہو۔صالحہ بیگم خفا لہجے میں بولی
ایسی بات تو نہیں مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔عالمگیر نے آنکھیں بند کرکے کہا
کونسی بات؟صالحہ بیگم نے اُلجھ کر پوچھا
دراصل امی آپ کا بیٹا جوان ہوگیا ہے اُس کو ایک لڑکی پسند آگئ ہے آپ اُس کا ہاتھ مانگ لیں میرے لیے۔عالمگیر نے آخر بول دیا۔
کہیں وہی لڑکی تو نہیں جس کا مریم نے بتایا تھا۔کجھ دیر بعد صالحہ بیگم نے پوچھا
جی وہ ہے۔عالمگیر نے بتایا
تب پھر مریم کو کیوں جھوٹ ثابت کیا اور تم مکر کیوں گئے تھے؟صالحہ بیگم نے سخت لہجے میں پوچھا
امی اگر میں تب آپ کو بتاتا تو آپ لڑکی سے ملنے کی ضد کرتی میں پہلے اُس کو راضی کرنا چاہتا تھا اُس کے باپ سے بات کرنا چاہتا تھا تب آپ کو وہاں بھیجنا چاہتا تھا تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔عالمگیر نے اپنا دفاع کیا۔
سارے معاملے خود طے کرلیے تھے تو شادی بھی کرلیتے۔صالحہ بیگم نے طنزیہ کیا
اب ایسا تو نہ کریں اب آپ بتائے یہاں کب آرہی ہیں کیونکہ ہاد کے ساتھ میں اپنی شادی بھی چاہتا ہوں۔عالمگیر دانتوں کی نمائش کرتے کہا
بے صبری اتنی اچھی چیز نہیں۔صالحہ بیگم نے پہلے فون کی اسکرین کو گھورا پھر عالمگیر سے کہا
زیادہ تاخیر بھی سہی نہیں۔عالمگیر بھی اُن کا بیٹا تھا فٹ سے جواب دیتے بولا






نازش مہتاب خان کے اسرار کرنے پہ سیف سے ملنے کے لیے راضی ہوگئ تھی پر اُس کا دل مان نہیں رہا تھا وہ لان میں بیٹھی یہی سوچ رہی تھی جب اپنے پاس مردانہ خوبصورت آواز نے اُس کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
اسلام علیکم۔سلام کی آواز پہ نازش نے سر اُٹھایا تو اُس کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا۔
تم۔نازش تقریبً چیخ پڑی جس پہ سیف مسکراتی نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا جو آسمانی شرٹ میں ملبوس تھی بال کھلے ہوئی تھی جب کی وہ ویل چیئر پہ بیٹھی تھی ٹانگوں کے اُپر کپڑا تھا سیف کو کجھ دکھ ہوا پر اُس کو یقین تھا نازش پہلے جیسی ہوجائے گی۔
تو میں یہ سمجھوں مجھ ناچیز کو آپ نے یاد رکھا تھا۔سیف شرارت سے گویا ہوا۔
بدقسمتی سے۔نازش نخوت سے سرجھٹک کر بولی جس پہ سیف نے بُرا نہیں مانا
کیسی ہو۔سیف پاس رکھی چیئر پہ بیٹھتا حال دریافت کرنے لگا
تم سے مطلب۔نازش نے تڑاخ سے جواب دیا
بلکل اب تمہارے سارے مطلب میرے ساتھ ہی تو ہیں۔سیف دلکش انداز میں بولا
دیکھو مسٹر
نازش نے بس اتنا کہا جب سیف نے کہا
ایس پی سیف حسن عرف مستقبل میں تمہارا ہونے والا شوہر۔سیف کی بات پہ اُس نے آنکھیں گُھمائی۔
میری بات تم غور سے سنو میں تم سے پیار نہیں کرتی اِس لیے اپنا رشتہ واپس لو جو لیکر آئے تھے۔نازش نے سخت تاثرات سے کہا
میں کرتا ہوں اور میری محبت ہمارے لیے کافی ہوگی۔سیف کی بات پہ اُس کو اعتبار نہ آیا۔
محبت سیریسلی کونسا ہماری ملاقات رومانٹک تھی جو تمہیں مجھ سے محبت ہوگئ ایک اتفاقی ملاقات کو محبت کا نام نہیں دیا جاتا۔نازش نے ٹوک کر کہا
محبت کے لیے ایک نظر کافی ہوتی ہے میں تم سے ملنا اِس لیے چاہتا تھا تاکہ تمہیں بتاسکوں کے تم انکار مت کرنا میں تمہیں چاہتا ہوں تم بھلے مجھ سے محبت مت کرو پر میری چاہت کی قدر تاعمر کرنا۔سیف اُس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔
میں کسی اور سے محبت کرتی تھی اور میں تو ٹھیک سے چل بھی نہیں سکتی تم کیسے ایسی لڑکی سے شادی کرسکتے ہو۔نازش کا جانے کیوں دل چاہا سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی بات پہ لبیک پڑھے۔
محبت کرتی تھی اب نہیں اللہ نے چاہا تو نکاح کے بعد تمہارے دل میں میرے لیے گنجائش نکل آئے گی اور آخری بات جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو اُن کے عیب تک ہمیں نظر نہیں آتے محبوب کی ہر ادا خوبصورت لگتی ہے دل کو بھاتی ہے اور میرا ایمان ہے تم جلد پہلے جیسی ہوجاؤ گی۔سیف مضبوط لہجے میں بولا تو نازش لاجواب ہوئی اُس کو اپنی قسمت پہ یقینی نہیں آیا کے اُس کی اتنی غلطیوں کے باوجود بھی اللہ اُس کی زندگی میں اتنا چاہنے والا انسان دے گا پر وہ شاید یہ بات نہیں جانتی تھی اللہ تعالیٰ تو انسان کو تب معاف کردیتا ہے جب وہ بس دل میں ہی اپنی غلطیوں کو پچھتاتا ہے یا اُس کو احساس ہوجاتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرلیتا ہے
