Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Episode 08)

Be Khudi by Rimsha Hussain

ہاد تمہیں پتا ہے میں کب سے تمہیں کال کررہی ہوں اور اب تم میری کال ریسیو کررہے ہو۔اسکائپ پہ نازش نے خفگی بھرے لہجے میں کہا

یہ تم نے کیا واحیات ڈریس پہنا ہوا ہے۔ہاد اُس کی بات نظرانداز کرتا ناگواری سے بولا نازش بلیک شرٹ میں تھی جس کا گلا کافی ڈیپ تھا جس وجہ سے ہاد کو اُس کی طرف دیکھنے میں شرمندگی ہورہی تھی۔

کیا ہوگیا ہے اور کیا بُرائی ہے اِس ڈریس میں یہاں سب ایسے ہی پہنتے ہیں میں یہاں ہوں تو ایسے ہی ڈریسنگ کروں گی نہ وہ کہاوت تو سنی ہوگی جیسا دیس ویسا ویس۔نازش نے بے نیازی سے بال جھٹک کر کہا تو ہاد نے ویڈیو کال بند کرکے وائس کال ملانے لگا۔

نازش مجھے تمہارے جینز پہنے پہ کوئی اعتراض نہیں تھا پر میں اِتنا بے غیرت نہیں جو اوپن مائینڈڈ خود کو کہلاتے اپنے ہونے والی بیوی کو نیم برہنہ ڈریسنگ کرنے کی اجازت دوں۔ہاد نے سنجیدگی سے کہا

تم کس ٹون میں مجھ سے بات کررہے ہو پہلے تو ایسے کبھی نہیں بات کی اور اب تمہیں میرے حُلیے میں عیب نظر آنے لگے ہے میں ایسی ہی ہوں تم جانتے ہو یہ بات اور تم نے ایسے ہی مجھے پسند کیا تھا تو اب کیوں کیڑے نکال رہے ہو۔نازش ہاد کی بات پہ چیخ کے بولی۔

میں کال پہ تم سے بحث نہیں کرسکتا پر تمہیں خیال رکھنا چاہیے اگر تم مشرقی ڈریسنگ نہیں کرتی تو نہ کرو پر مغربی کی تو کم سے کم پورے پہنو تاکہ مجھے شرمندہ نہ ہونے پڑے۔ہاد اضطرابی حالت میں چکر کاٹتا بولنے لگا اُس کو جانے کیوں چڑچڑاپن ہورہا تھا

شادی ہوئی نہیں اور تم اب سے مجھ پہ روعب جمارہے ہو شادی کے بعد تم یہ کہو گے جینز مت پہنو شلوار قمیض پہنو جینز کو ہمارے دین نے عورت پہ حرام قرار کیا ہے مجھے نہیں تھا پتا ہاد تم اتنے کم ظرف سوچ کے مالک ہوگے۔نازش نے طنزیہ پہ طنزیہ کیا۔

میں جیسا بھی مرد ہوں پر عورت پردے میں اچھی لگتی ہے اور میں نہیں چاہوں گا میری زندگی میں جو میری ہمسفر کو اُس کے وجود پہ ہرایک کی نظر نہ ہو اگر یہ بات کم ظرف مرد کے زمر میں آتا ہے تو ہاں میں ہوں کم ظرف مجھے ایسا باظرف ہونا بھی نہیں اور اگر تمہیں معلوم بھی ہے عورت کے لیے جینز حرام ہے پھر بھی زیب تن کرتی ہوں بڑے افسوس کی بات ہے۔ہاد نے تاسف سے کہا

زمانہ بدل گیا ہے اب یہ عام بات ہے تم اپنی سوچ بدلوں یہ کیا جاہلوں والی سوچ اپنا لی ہے۔نازش ہاد کی بات پہ شرمندہ ہونے کے بجائے بولی۔

جاہل میری سوچ نہیں اُن لوگوں کی سوچ ہے جو یہ سوچتا ہے زمانہ ترقی یافتہ ہوگیا ہے سہی غلط بھول جاتا ہے سوسائٹی میں رہنے والوں کی سوچ الگ ہوتی ہوگی اُن کے لیے اب یہ عام بات ہے پر ہمارا قرآن ایک ہے وہ نہیں بدلا ہمیں قرآن کے احکامات پہ چلنا چاہے زیادہ نہیں تو اُتنا ضرور جو ہمارے بس میں ہے بجائے اِس کے زمانہ بدل گیا ہے یہ سوچ کر خود کو دلدل میں گھسیٹے۔ہاد نے بے تاثر لہجے میں کہا

آج تمہیں بڑا دین یاد آگیا ہے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا مجھے دبئی کیا جانا پڑگیا ہاد تم نے تو اپنے تیور ہی بدل ڈالے میری ڈریسنگ پہ اعتراض ہونے لگا ہے جو پہلے نہیں ہوا مجھے ہاد سچ سچ بتاؤ کیا بات ہے۔نازش نے کلس کر ہاد سے کہا

ارسلہ۔ہاد بس اتنا بولا نازش کو جب کی ارسلہ نام سن کر تن بدن میں آگ لگ گئ تھی۔

کیا ارسلہ؟نازش نے دانت پہ دانت جمائے

وہ تم سے کتنا چھوٹی ہے پھر بھی اُس کا پہناوا رخ رخاؤ دیکھو کتنا ایمپریسیو ہے کیا تم اُس کی طرح نہیں ہوسکتی۔ہاد نے گہری سانس بھر کر کہا

واٹ ہوش میں ہو تم تم چاہتے ہو میں خود کو اُس منہوس ارسلہ کی طرح بناؤ جو پیدا ہوتے ہی میری ماں کو نگل گئ۔نازش غصے سے بولی

تم نے تو کہا تھا ارسلہ کو اڈاپٹ کیا تھا انکل نے۔ہاد الرٹ ہوتا بولا نازش کی سیٹی گم ہوئی تھی

تم نے میرا موڈ بُری طرح سے آف کیا ہے اب مزید میں اپنا دماغ خراب کرنا نہیں چاہتی۔نازش ہاد کے سوال سے بچتی کال کاٹ گئ تھی دوسری طرف ہاد کا دماغ بُری طرح سے اُلجھ چُکا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕

مانو یہ بسکٹ کھاؤ۔ارسلہ نے مسکراکر اپنی بلی کو بسکٹ دیا پھر وہ مسکراکر اُس کے بال سہلانے لگی۔

ارسلہ تمہارے فون پہ کال آرہی تھی سن لینا۔سادیہ بی موبائل اُس کو تھماتی خود چلی گئ ارسلہ نے اپنی گود میں بیٹھی مانو کو گھاس پہ بیٹھایا اور خود سیل فون چیک کرنے لگی جہاں ہاد کی کال آئی ہوئی ہاد کا نام دیکھ کر اُس کو انجانی خوشی محسوس ہونے لگی اور جھٹ سے کال بیک کیا۔

کیسی ہیں؟ہاد نے پہلا سوال کیا

اسلام علیکم!میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں اور کیسے کال کی۔ارسلہ نے ایک سانس میں پوچھا

وعلیکم اسلام!میں بلکل ٹھیک ہوں اور کال اپنے سیل فون سے کی۔ہاد بھی اُس کے انداز میں بولا تو ارسلہ ہنس دی ہاد کے چہرے پہ بھی تبسم کِھلا۔

مجھے نہیں تھا پتا کال اپنے فون سے کی جاتی ہے۔ارسلہ نے مصنوعی افسوس سے کہا

پھر تو آپ کو میرا شکرگُزار ہونا چاہیے اِتنی بڑی بات اور معلومات میں نے آپ کو مفت میں فراہم کی ہے۔ہاد اُس کی بات سمجھتا مسکراکر بولا

جی جی آپ کا بہت سے بہت بڑا شکریہ۔ارسلہ نے کہا پھر ہاد سنجیدہ ہوتا بولا

کیا ہم مل سکتے ہیں۔

جی آپ آجائیں یہاں۔ارسلہ نے خوشدلی سے کہا

گھر پہ نہیں کہی باہر۔ہاد نے جھجھک کر کہا جانے کیوں اُس سے بات کرنے پہ وہ محتاط رہتا تھا۔

باہر کہاں بی تو کبھی اجازت نہیں دے گی۔ارسلہ کے اُداس ہوکر بتایا۔

آپ تیار ہوجائے میں اُن سے اجازت لوں گا۔ہاد نے جیسے سارا مسئلہ حل کردیا۔

ایک بات پوچھو آپ سے؟ارسلہ نے اجازت لینی چاہی۔

ضرور۔بدلے میں ہاد نے کہا

اگر آپ کی شادی ہوجائے گی آپی سے تو کیا آپ مجھ سے بات کرنا چھوڑدے گے؟ارسلہ کو جو بات پریشان کررہی تھی وہ اُس نے ہاد کے سامنے بیان کی۔

نہیں ایسا کیوں کروں گا میں آپ کو کس نے کہا یہ۔ہاد نے سنجیدگی سے پوچھا

کسی نے بھی نہیں میرے دل میں بات آئی تو سوچا آپ سے پوچھ لوں۔ارسلہ اُس کی بات پہ مطمئن ہوتی بولی

اپنے دماغ کو فضول سوچو میں مت الجھایا کرو تیار ہوجاؤ میں آتا ہوں لینے۔ہاد کی بات پہ وہ خوشی خوشی تیار ہونے چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕

طوبیٰ صبح سے اپنی طبعیت میں بوجھل پن محسوس کررہی تھی دوا کھانے کے بعد بھی جب افاقہ محسوس نہیں ہوتا دیکھا تو ڈریسنگ کے سامنے خود پہ پرفیوم چھڑکتے ارمغان سے بولی۔

ارمغان۔

جی جانِ ارمغان۔ارمغان مسکراکر اُس کی طرف متوجہ ہوا جس کے چہرے کا رنگ پیلا زد ہوا تھا۔

تمہاری طبعیت ٹھیک ہے ہلدی کی طرح کیوں ہوگیا ہے تمہارا چہرہ۔ارمغان اُس کا ہاتھ پکڑکر بیڈ پہ بیٹھاتا خود گھٹنوں کے بل بیٹھ کر استفسار کرنے لگا۔

سر میں چکر آرہے ہیں آپ آفس جارہے ہیں تو مجھے ہوسپٹل بھی لیں چلے چیک اپ کے لیے۔طوبیٰ ارمغان کو اپنے لیے فکرمند ہوتا دیکھ کر مسکراکر بولی۔

کیوں نہیں تم آؤ ہم چلتے ہیں۔ارمغان کو اُس کو اپنے ساتھ کھڑا کیے بولا

میں چادر پہن لوں پھر آتی ہوں۔طوبیٰ نے مسکراکر کہا

میں انتظار کررہا ہوں۔ارمغان نے جواب دیا

💕
💕
💕

آپ کو مجھ پہ اعتبار نہیں کیا جو ارسلہ کو میرے ساتھ آنے پہ روک رہی ہیں۔ہاد نے بامشکل اپنے لہجے میں دھیما رکھا ورنہ اُس کو سادیہ بی کا ارسلہ کو اُس کے ساتھ جانے پہ روکنا بُرا لگ رہا تھا۔

بات اعتبار کی نہیں نازش کو پسند نہیں ارسلہ اُس کے فرینڈز میں کسی سے بھی بات کریں تو آپ اُس سے زیادہ بے تکلف نہ ہو ارسلہ حساس طبعیت کی مالک ہے میں نہیں چاہتی بعد میں اُس کو کسی قسم کی کوئی تکلیف ہو۔سادیہ بی نے سنجیدگی سے کہا

نازش کو کیوں بُرا لگتا ہے میں خود اگر ارسلہ کو لیجانا چاہتا ہوں تو۔ہاد نے بے زاری سے کہا

اُن کے لیے ارسلہ کا وجود منہوس ہے باپ یا بہن اُس کو دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔سادیہ بی نے تلخ حقیقت بیان کی۔

ارسلہ کو تو انکل نے ایڈاپٹ کیا تھا نہ۔ہاد نے اُلجھ کر پوچھا

ایسا کس نے کہا ارسلہ مہتاب خان اور سلما خان کا خون ہے وہ کوئی ایڈاپٹ ہوئی نہیں ہے۔سادیہ بی کو ہاد کی بات بے حد بُری لگی۔

نازش نے تو۔ہاد اتنا کہہ کر چُپ ہوگیا

اُنیس سالوں سے ارسلہ بے قصور ہوکر اپنے والد اور بہن کی ناگواریت اور بلاوجہ کی نفرت برداشت کررہی ہے اُس کے پیدائش پہ کجھ مسائل تھے جس سے مہتاب خان کی بیوی سلما ارسلہ کو جنم دیتی اِس فانی دُنیا سے وفات پاگئ مہتاب خان کی محبت کی شادی تھی بہت پیار کرتا تھا سلما سے اُس کے جانے کے بعد کبھی دوسری شادی کا خیال نہیں لایا اپنے دماغ نازش کی زمیداری اُس نے خود سنبھالی تو ننہی سی ارسلہ کو میں نے گود لیا زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے ہم سب یہ جان کر بھی کجھ ایسا کرجاتے ہیں جس سے اللہ تو خفا ہوتا ہے بعد میں انسان کی زندگی سے سکون میں روٹھ جاتا ہے مہتاب کو لگتا ہے ارسلہ منہوس ہے تبھی سلما اب اُس کے پاس نہیں وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اُس کی زندگی اِتنی تھی اُس کی دیکھا دیکھی میں نازش کے اندر بھی ارسلہ کے لیے بے پناہ نفرت پیدا ہوگئ وہ بھی ہر وقت اُس کو سناتی رہتی غصہ ہوتی جب دل چاہتا اپنا سارا غصہ اُس معصوم پہ نکالتی جس کی غلطی بس یہ ہے کہ اِس گھر میں پیدا ہوئی تین سال کی تھی جب مجھے پتا چلا اُس کے چلنے میں لڑکھڑاہٹ ہے میں نے مہتاب سے یہ بات کی اگر وقت پہ اُس کا علاج ہوجاتا تو وہ صحتیاب ہوجاتی پر مہتاب خان کی لاپرواہی پہ ارسلہ اِس محرومی کا شکار ہوگئ محبت کی ترسی تو تھی پر احساس کمتری کا شکار بھی ہونے لگی اُس کی بس دُنیاوی ضروریات پوری ہوتی ہیں باقی اُس کا وجود سوائے بوجھ کے اور کجھ نہیں۔سادیہ بی نے ہر ایک بات اُس کے گوش گُزار کی۔

وہ تو پیدائش سے ہی لڑکھڑاکر چلتی ہے یا کوئی حادثہ پیش آیا تھا۔ہاد اُن کی ساری بات پہ کتنے پل کجھ بول نہ پایا اُس کو نازش کے جھوٹ پہ افسوس ہوا۔

بتانا چاہیے تو نہیں پر بتادیتی ہوں نازش آٹھ سال کی تھی تب جب اُس نے تین سالہ ارسلہ کو چھت سے دھکا دیا تھا جس وجہ سے یہ ہوا مہتاب نے نازش کو تو کجھ نہیں کہا ارسلہ کا علاج بھی تب کروایا جب پانی سر سے گُزرچُکا تھا ارسلہ کو کبھی نہیں بتایا میں نے وہ صاف دل کی ہے پر میں نہیں چاہتی وہ اپنے دل میں کجھ غلط سوچ رکھے اُس کو یہی لگتا ہے وہ پیدائشی ایسی ہے جب کی نازش جانتے ہوئے بھی اُس کا مذاق اُڑاتی ہے وجہ وہ خود ہے پھر بھی۔سادیہ بھی دُکھ سے کہا ہاد تو کجھ کہنے کے لائق نہیں بچا تھا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا ری ایکشن دے اُس کو نازش سے نفرت محسوس ہورہی تھی تو دوسری طرف ارسلہ کے لیے ہمدردی کے ساتھ اور کجھ بھی محسوس ہورہا تھا جس سے ابھی وہ انجان تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو بُرا لگا ہوگا بی کے انکار پہ۔ارسلہ نے شرمندگی سے پوچھا

پہلے لگا تھا پر اب نہیں۔ہاد نے مسکراکر کہا

بی کو میرا باہر رہنا زیادہ پسند نہیں میرے لیے وہ پریشان رہتی ہیں۔ارسلہ نے وضاحت دی۔

میں سمجھتا ہوں آپ پریشان مت ہو اور اچھا کرتی ہیں وہ آپ کو زیادہ باہر جانے نہیں دیتی باہر جائے گی تو آپ کو آپ کی معصومیت کو نظر لگ جائے گی۔ہاد مسکراکر کہتا پورچ میں موجود اپنی گاڑی میں بیٹھتا سٹارٹ کرتا چلاگیا ارسلہ کتنی دیر تک ہاد کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی پر جب کجھ سمجھ نہیں آیا تو اندر کی طرف مڑگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

طوبیٰ شرمائی سی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی ہوئی تھی جب کی ارمغان کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ تھی ہسپتال جانے پہ اُس کو جو ڈاکٹر نے خوشخبری سنائی اُس پہ ارمغان خود خوشقسمت تصور کررہا تھا اُس نے محبت بھری نظر طوبیٰ پہ ڈالی جس کا رخ ونڈو کی جانب تھا۔

خوش ہو؟ارمغان نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر پوچھا

بہت۔طوبیٰ نے سرجھکائے جواب دیا۔

کیسا محسوس ہورہا ہے؟ارمغان نے دوسرا سوال کیا۔

جیسے کوئی خواب ہو۔طوبیٰ نے جھٹ سے جواب دیا۔

یہ خواب نہیں ہماری زندگی کی خوبصورت حقیقت ہے۔ارمغان اتنا کہہ کر اُس کے ہاتھ کی پشت پہ اپنے لب رکھے۔

آپ کو بچے پسند ہیں؟اب کی طوبیٰ نے جاننا چاہا

بہتت۔ارمغان نے مسکراکر جواب دیا۔

آپ کو کیسا محسوس ہورہا ہے یہ جان کر کے آپ باپ کے رتبے پہ فائز ہونے والے ہیں۔طوبیٰ نے متجسس ہوکر پوچھا۔

میں جو خوشی محسوس کررہا ہوں نہ اُس کو بتانے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں بس اتنا کہوں گا جو میں ابھی محسوس کررہا ہوں نہ وہ تمہیں پالینے کے بعد بھی محسوس نہیں کرپایا ہوگا جب کی میرا ماننا تھا میں تم سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔ارمغان پہلے سنجیدگی سے پھر آنکھوں شرارت لیے بولا۔

ایوی نہیں کہتی میں آپ سچ میں بُرے ہیں۔طوبیٰ منہ بسور کر اُس بازوں پہ مُکہ مارکر کہا جواب میں ارمغان کا جاندار قہقہقہ گاڑی میں گونجا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ڈیڈ میں پاکستان واپس جانا چاہتی ہوں۔نازش نے مہتاب خان سے کہا

کیوں کیا کوئی بات ہوئی ہے جو پاکستان جانا ہے ہمیں تو ابھی اور یہاں رکنا تھا نہ۔مہتاب خان نے فکرمندی سے پوچھا

رکنا تو تھا پر اب اور نہیں میرے یہاں آنے سے ہاد مجھ سے دور ہورہا ہے اور میں اُس کو خود سے دور ہوتا نہیں دیکھ سکتی۔نازش نے سنجیدگی سے کہا

پیار کرتا ہے وہ تم سے ایسا تھوڑئی ہوگا جو تمہارے یہاں آنے سے اُس کی محبت میں کوئی کمی ہوگی۔مہتاب خان نے نرمی سے اُس کو اپنے پاس بیٹھا کر کہا

مجھے اب بے سکونی ہورہی ہے آپ پلیز میری ٹکٹ کنفرم کرائے۔نازش نے ضد کی تو مہتاب خان نے اُس کے ساتھ اپنے لیے بھی پاکستان جانے کی ٹکٹ کنفرم کروائی۔

💕
💕
💕
💕
💕

عالمگیر آج پھر پارک آیا تھا جہاں اُس کو زرنور بینچ پہ بیٹھی نظر آئی زرنور کو دیکھ کر اُس کے وجود میں خوشی لہر ڈورگئ وہ قدم قدم چلتا اُس کے پاس جانے والا تھا جب کوئی لڑکا زرنور کے سامنے کھڑا ہوا عالمگیر کے قدموں کو فورن سے بریک لگی تھی لڑکے کی پشت ہونے کی وجہ سے وہ سہی سے دیکھ نہیں پایا مگر جیسے ہی وہ زرنور کے برابر بیٹھا تو اُس کو یاد آیا اُس نے اِس لڑکے کو زرنور کے گھر دیکھا تھا عالمگیر نے ایک نفرت بھری نظر زرنور کے چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ اور اُس کے ہاتھ میں موجود آئسکریم کو دیکھا جو ابھی اُس لڑکے(سیف) نے دی تھی

سیف سے بات کرتی زرنور کی نظر سامنے عالمگیر کے پہ پڑی تو اُس کے مسکراتے لب فورن سے سمیٹ گئے تھے عالمگیر کی نظر میں ایسے تاثرات دیکھ کر اُس کا دل ڈوب کے اُبھرا تھا۔

عالمگیر طنزیہ مسکراہٹ چہرے پہ سجاتا اپنے قدم پیچھے کی جانب لینے لگا زرنور ساکت نظروں سے اُس کو دور جاتا دیکھ رہی تھی اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا عالمگیر اُس کو ایسے کیوں دیکھ رہا تھا اگر دیکھ بھی رہا تھا تو اُس کو کیوں اِتنا بُرا لگ رہا تھا۔

کیا ہوا آئسکریم کھاؤ پِگھل جائے گی۔سیف نے اُس کا دھیان آئسکریم کی طرف کیا تو وہ سر کو جنبش دیتی اُس کی طرف متوجہ ہوکر ٹھنڈی سانس خارج کرنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ارسلہ لان میں ٹہلتی ہاد کے بارے میں سوچ رہی تھی ہاد کو سوچتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پہ دھیمی مسکراہٹ تھی جس وہ انجان تھی۔

آپ آئے دیکھتا ہوں کوئی کیسے آپ کو کجھ کہتا ہے۔

ہاد کا کہا جُملا اُس کے دماغ میں آیا تو مسکراہٹ مزید گہری ہوئی پھر یکدم مسکراہٹ سمٹ گئ تھی۔

یہ میں کیا سوچ رہی ہوں یااللہ مجھے معاف کیجئے گا وہ تو نازش آپی کے ہیں میں کیوں اُن کو یاد کررہی ہو ان کے بارے میں سوچ رہی ہوں یہ تو غلط ہے پلیز میرے اللہ معاف کیجئے گا۔ارسلہ اپنے ہاتھ آسمان کی جانب کھڑے کیے معافی طلب کرنے لگی۔

مجھے کیوں اچھا لگ رہا ہے ہاد کے بارے میں سوچنا۔ارسلہ دل کے ہاتھوں مجبور لاشعوری طور پہ ہاد کو سوچنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕

اللہ تمہیں ڈھیر ساری خوشیاں نصیب کرے۔زرغونہ بیگم خوشی سے نہال ہوتی طوبیٰ کی نظر اُتارنے لگی۔

شکریہ چچی جان۔طوبیٰ مسکراکر بولی

میں نازیہ کو کال پہ بتادوں گی دیکھنا پھر کیسے ساری ناراضگی بھول بھلا کر آجاتے ہیں۔زرغونہ بیگم نے اُس کو تسلی دیتی ہوئی بولی

اُن کو آنا ہوتا تو کب کا آچُکے ہوتے پر اُن کو بس اپنی انا پیاری ہے میں یا میری خوشیاں کوئی معنی نہیں رکھتی۔طوبیٰ کا لہجہ تلخ ہوگیا

ایسے مایوسی والوں باتیں مت کرو اللہ بہتر کریں گا۔زرغونہ بیگم نے اُس کو اپنے ساتھ لگاکر کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاد کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا آسمان پہ نظر جمائے ہوئے تھا اُس کی سوچو کا مرکز ارسلہ تھی وہ اُس کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا پر پھر بھی اُس کی سوچے بھٹکتی ارسلہ کی طرف آرہی تھی اُس کو بُرا تو نہیں لگ رہا تھا پر نازش کا خیال آتے ہی وہ ٹھنڈی سانس خارج کرتا وہ شدید جھنجھلاہٹ کا شکار تھا دل میں بے چینی سے پھیل گئ تھی جس کا حل بھی اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہے۔

💕
💕
💕
💕
💕

گولڈن گرل تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔عالمگیر زور سے اپنا ہاتھ دیوار پہ مارکر بولا

مجھ سے تو کبھی مسکراکر بات نہیں کی اور اُس انجان کے ساتھ آپ باتیں کررہی تھی کیا وہ اُس کے لیے اتنا اہمیت کا حامل تھا جو اُس کے گھر پہ بھی موجود تھا۔عالمگیر اضطرابی کیفیت میں خود سے پوچھ رہا تھا۔

مجھے ایسے نہیں آنا چاہیے تھا بات کرتا پوچھتا ویسے بھی ہمارے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں جو میں اُس کو بلیم کررہا ہوں۔عالمگیر خود کی کیفیت سے پریشان تھا کبھی اُس کو زرنور غلط لگ رہی تھی تو کبھی خود اپنا آپ غلط لگ رہا تھا۔

💕
💕
💕
💕

ہاد آج ارسلہ سے ملنے اُس کے کالج آیا تھا چھٹی کا وقت تھا سب لڑکیاں گیٹ سے باہر آرہی تھی پر اُس کو بے تابی سے ارسلہ کے آنے کا انتظار تھا جو آخر میں نظر آئی تھی اُس کو دیکھ کر ہاد مُسکرادیا تھا۔

آپ یہاں۔ارسلہ نے ہاد کو کالج کے باہر کھڑا دیکھا تو حیرت سے استفسار کرنا چاہا

گاڑی میں بیٹھو۔جواب میں ہاد نے اُس کے لیے فرنٹ سیٹ کا ڈور کھول۔

مجھے لینے ڈرائیور انکل آتا ہوگا۔ارسلہ نے جھجھتے ہوئے بتایا۔

تیس منٹ بعد آئے گا تب تک آپ بیٹھے کالج کے پاس جو کیفے ہیں وہاں چلتے ہیں۔ہاد نے نرمی سے کہا ارسلہ کی دھڑکن بے ہنگم انداز میں دھڑکی تھی جس پہ قابو پاتی وہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئ اُس کے بیٹھنے کے بعد ہاد گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پہ آیا۔

آپ کو کوئی بات کرنی تھی کیا؟ارسلہ پہلے سوال کیا۔

کیا کسی کام کسی بات کے علاوہ آپ سے نہیں مل سکتا؟ہاد نے سوال کے اُپر سوال کیا

ایک الزام تھوڑئی ہوتا ہے

مفت میں نام تھوڑئی ہوتا ہے

اِک نظر دیکھنے ہیں آکے تجھے

تجھ سے کجھ کام تھوڑئی ہوتا ہے

وقت ہوجائے گِر میسر بھی

وقت پہ ہر کام تھوڑئی ہوتا ہے

دراصل لوگ بنا بات اور کام کے نہیں ملتے تو اِس لیے پوچھا۔ارسلہ نے وجہ بتائی۔

میں ملتا ہوں بے وجہ بھی بے مقصد بھی۔ہاد نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

ڈرائیور انکل آگیا ہوگا میں جاؤ۔ارسلہ نے گھبراکر کہا

جائے۔ہاد اُس کا گریز دیکھتا سنجیدگی سے بولا ارسلہ ہاد کی اجازت پہ ایسے گاڑی سے اُترگئ جیسے کسی قیدی کو سالوں بعد رہائی مل ہو

💕
💕
💕
💕
💕
💕

عالمگیر

عالمگیر

زرنور نے کیفے کے باہر عالمگیر کو جاتا دیکھا تو اُس کو آواز دینے لگی پر بھیڑ کی وجہ سے عالمگیر سن نہ سکا اِس لیے زرنور بھاگ کر اُس کے پاس جانے لگی۔

عالمگیر کب سے تمہیں آوازیں دے رہی ہوں اور تم ہو جو سن ہی نہیں رہے۔زرنور اُس کے روبرو آتی پُھولے سانس کے درمیان بولی

مجھے کیوں آواز دے رہی تھی؟عالمگیر نے سنجیدگی سے پوچھا

وہ مجھے پتا لگا تھا تم ہمارے گھر آئے تھے؟زرنور کو کجھ اور سوجھا تو بہانا بناکر کہا

ہاں آیا تھا۔عالمگیر نے جواب دیا

کیوں آئے تھے؟زرنور نے بغور اُس کے چہرے کے تاثرات جانچتے ہوئے سوال کیا۔

ایسے ہی۔عالمگیر نے ٹالا

اچھا اُس دن پارک میں مجھے دیکھ کر واپس کیوں چلے گئے تھے؟زرنور نے ایک اور سوال کیا جو اُس کو بے چین کیے ہوئے تھا۔

کام یاد آگیا تھا ویسے بھی تم مصروف تھی کسی اور کے ساتھ۔عالمگیر کا لہجہ چُھبن زدہ ہوگیا تھا

وہ سیف تھا ڈیڈ کے فرینڈ کا بیٹا پولیس میں ہے اور ہمارے گھر اُس کا اسٹے ہے بہت اچھا ہے میں بہت دنوں سے باہر نہیں گئ تو سیف نے کہا تو میں نے انکار نہیں کیا۔زرنور نے وضاحت دی جس پہ عالمگیر مطمئن نہیں ہوپایا تھا۔

اچھا مجھے کیا۔عالمگیر نے خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

اوکے میں چلتی ہوں۔زرنور نے عالمگیر کا روکھا لہجہ محسوس کیا تو جانے میں عافیت سمجھی۔

رُکو کافی پیتے ہیں ساتھ میں۔عالمگیر کو اپنے لہجہ کا احساس ہوا تو فورن نارمل ہوتا زرنور سے بولا

آر یو شیور میرے ساتھ کافی پینی ہے۔زرنور نے شریر لہجے میں پوچھا

کیوں اِس میں کیا بڑی بات ہے سیف کے ساتھ آئسکریم کھاسکتی ہو میرے ساتھ کافی پینے میں کیا مسئلا ہے۔عالمگیر ناچاہتے ہوئے بھی طنزیہ کرنے لگا۔

کیا تم جیلیس ہورہے ہو۔زرنور نے گہری مسکراہٹ سے پوچھا۔

میں کیوں ہونے لگا جیلیس۔عالمگیر یہاں وہاں چہرہ گھماتا ہوا بے نیازی سے بولا

اچھا خیر اندر چلتے ہیں۔زرنور نے کیفے کی طرف اِشارہ کیا تو عالمگیر نے سر کو جنبش دی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

اسلام علیکم!ارسلہ نے مہتاب خان اور نازش کو واپس آتا دیکھا تو خوشی سے سلام جہاڑا۔

میرا سامان روم میں سیٹ کروا دیجئے گا میں آرام کروں گا۔مہتاب خان سادیہ بی سے کہتے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئے۔

کیا تم ہاد سے ملتی رہی ہو۔مہتاب خان کے جاتے ہی نازش نے چُھبتے ہوئے لہجے میں ارسلہ سے پوچھا

نازش اتنے وقت بعد آئی ہو اور آنے سے ارسلہ کو ڈرانے لگی ہو وہ کیوں ملے گی ہاد سے تمہارا دوست خود یہاں آتا تھا ارسلہ پہ غصہ کرنے سے اچھا ہے اُس سے جواب طلب کرو۔سادیہ بی فورن سے ارسلہ کے دفاع میں بولی ارسلہ کی آنکھ نم ہوگئ تھی جس سے وہ بار بار آنکھیں جھپک کر اپنے آنسوؤ پہ بندھ باندھے بیٹھی ہوئی تھی۔

آپی کبھی تو مجھ سے پیار سے بات کیا کریں بہن ہوں میں آپ کی۔ارسلہ نے پہلی دفع شکوہ کیا۔

شٹ اپ میری بہن نہیں تم۔نازش شدید غصے کا اظہار کرتی وہاں سے چلی گئ ارسلہ نے دُکھ سے اُس کو جاتا دیکھا جب کی سادیہ بی نے افسوس سے۔

جانے کب مجھے اِن کا پیار میسر ہوگا۔ ارسلہ نے مایوسی سے کہا

اللہ نے چاہا تو اِن کا دل تمہارے لیے نرم کردے گا تم بس مایوس مت ہوا کرو اللہ بہتر کرنے والا ہے۔ سادیہ بی نے ازلی نرم لہجے میں اُس کو تسلی دی

شدت سے انتظار ہے مجھے جب اللہ تعالیٰ میری بھی سنے گے۔ ارسلہ نے اُداس مسکراہٹ سے کہا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

سیف تم یہاں کیا کررہے ہو اتنی رات میں؟ زرنور پانی پینے کے لیے کچن میں آئی تھی جب اُس کو پہلے سے ہی سیف کچن میں موجود دیکھا تو پوچھا۔

آج مجھے آنے میں دیر ہوگئ تھی اِس لیے کھانا گرم کرنے آیا تھا۔ سیف نے جواب دیا

اوو تو کسی ملازم سے کہتے خود کیوں آئے۔ زرنور نے فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پوچھا

کھانا مجھے کھانا تھا اِس لیے رات بھی بہت ہوگئ ہے وہ اپنے کوارٹر میں آرام کررہے ہوگے مجھے ٹھیک نہیں لگا اپنی وجہ سے اُن کی نیند خراب کرنا اِس لیے خود چلا آیا۔ سیف نے مسکراکر جواب دیا تو زرنور ایمپریس ہوئی۔

اچھی سوچ ہے آپ کی۔ زرنور نے کہا

شکریہ تمہیں کجھ چاہیے؟ سیف نے پوچھا

اممم نہیں میں بس پانی پینے آئی تھی۔زرنور نے سہولت سے انکار کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہیں تو مجھ سے ملنے کی توفیق نہیں ہوئی اِس لیے میں خود چلی آئی۔ نازش سیڑھیوں سے آتے ہاد کو دیکھ کر بولی

تم کب آئی۔ ہاد اپنے سامنے نازش کو دیکھ کر حیران ہوا۔

دو دن ہوگئے ہیں تم بتاؤ کیسے ہو؟نازش مسکراکر اُس کے گلے لگنے کے لیے بڑھی پر ہاد کے بیچ میں ہاتھ رکھ دیا۔

میں ٹھیک ہو تم بیٹھو۔ہاد اپنی ماں سے نظریں چُراتا نازش سے بولا جس کو ہاد کی حرکت سخت ناگوار لگی تھی۔

ملنے کیوں نہیں آئے مجھ سے؟نازش نے بیٹھتے ہی پوچھا

مجھے نہیں تھا پتا تمہارے آنے کا۔ہاد نے جواب دیا

اچھا حیرت ہے دو دن سے کوئی میسج کال وغیرہ بھی نہیں کی کیا مصروفیت ہوگئ ہے تمہاری مجھے بھی تو پتا چلے۔نازش طنزیہ بولی

تم یہاں مجھے باتیں سنانے کے لیے آئی ہو۔ہاد بے زاری سے بولا زرغونہ بیگم اُن دونوں پہ نظر ڈالتی وہاں سے چلی گئ۔

تم اپنا انداز دیکھ رہے ہو کتنے چینج ہوگئے ہو بات بات پہ کاٹ کھانے کو ڈورتے ہو پہلے مجھ سے میرا حال دریافت کردیا کرتے تھے اب ایسا کیا ہوگیا ہے جو تم یوں اجنیبوں کی طرح رویہ روادار کررہے ہو کیا کوئی اور مل گئ ہے۔ نازش تیز آواز میں بولی

نازش سوچ سمجھ کر بولوں تم اِس وقت میرے گھر پہ ہو اور میں قطعاً برداشت نہیں کروں گا کے تم مجھ سے ایسے بات یا ایسے سوال جواب کرو۔ ہاد اپنے غصے پہ ضبط کیے بولا

اچھا اب تمہیں میں برداشت سے باہر لگ رہی ہوں پر میری ایک بات یاد رکھنا ہاد اگر تم مجھے چھوڑنے کا سوچ رکھے ہوئے ہو تو ایسا کجھ نہیں ہونے دوں گی میں۔ نازش کھڑی ہوتی اُس کو وارن کرنے لگی۔

میں ایسا کجھ نہیں سوچتا تمہارے دماغ میں جانے کیوں ایسا خناس بھرگیا ہے۔ ہاد نازش کی باتوں پہ جھنجھلا کر رہ گیا تھا۔

امید ہے تمہاری بات سچ ہوگی۔ نازش کجھ مطمئن ہوتی بولی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طبعیت کیسی ہے تمہاری۔ ارمغان طوبیٰ کے ساتھ بیٹھتا بولا

طبیعت بلکل ٹھیک آپ آج جلدی آگئے آفس سے۔ طوبیٰ نے مسکراکر جواب دے کر پوچھا

ہمم بس بیوی کی یاد آرہی تھی سوچا چلا جاؤں کیا پتا وہ بھی مجھے یاد کررہی ہو۔ارمغان شرارت اُس کے کندھے سے اپنا کندھا ٹکراکر بولا

جی نہیں مجھے آپ یاد نہیں آرہے تھے اِس لیے آپ اپنے آفس جاسکتے ہیں۔طوبیٰ نے مسکراہٹ دباکر کہا

اچھا جی ایسا ہے۔ارمغان مصنوعی گھوری سے نوازتا بولا

بلکل میں اپنے بے بی سے پرسنل باتیں کررہی تھی اور اب آپ آگئے ہماری پرائیویسی ڈسٹرب ہوگئ۔طوبیٰ نے جیسے افسوس کیا

ایسی کیا باتیں ہورہی تھی جو میں نے ڈسٹرب کردیا۔ارمغان دلچسپی سے بولا

کہا جو پرسنل باتیں تھی اب پرسنل باتیں ہر کسی کو تو نہیں بتائی نہیں جاسکتی نہ۔طوبیٰ کی بات پہ ارمغان سر جھٹک کر مُسکرادیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ارسلہ لان میں موجود پودوں کو پانی ڈال رہی تھی جب کوئی آہستہ قدموں سے چلتا ہوا اُس کے پیچھے کھڑا ہوکر اُس کے کان کے پاس جھکا

کیسی ہو؟

آ آ آ آ

ارسلہ جو مگن انداز میں پودوں کو پانی ڈال رہی تھی اپنے بلکل پاس مردانہ آواز سن کر اُس کے ہوش اُڑگئے تبھی اُس کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئ۔

ہششش کیا ہوگیا میں ہوں شہریار۔ شہریار اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھتا بولا تو ارسلہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ پھر حیرت کے بعد خوشی کے رنگ اُس کی آنکھوں میں اُبھرے شہریار مسکراہٹ دباکر اُس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ رہا تھا۔

شہری تم یہاں اچانک کیسے۔ اسلہ مسکراتی اُس کے بازوں پہ تھپڑ مارتی بولی۔

ارسلہ ہاں میں یہاں وہ بھی اچانک سوچا تمہیں سرپرائز کروں۔ شہریار زور سے اُس کے بازوں پہ تھپڑ رسید کرتا اُسی کے انداز میں بولا

بہت بدتمیز ہو تم۔ ارسلہ اُس کو گھورتی بولی

شکریہ مادام۔شہریار نظریں جھکا کر ادب سے بولا تو ارسلہ کِھلکھلا اُٹھی۔

اندر چلے بی سے بھی ملنا ہے پھر نازو آپی انکل سے بھی۔ شہریار نے کجھ توقف کے بعد کہا

ہاں چلو نہ سب تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوگے۔ ارسلہ ماتھے پہ ہاتھ مارتی بولی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *