Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Khudi (Episode 05)

Be Khudi by Rimsha Hussain

عالمگیر تم فری ہو تو میری طرف آجاؤ۔مُراد نے کال پہ عالمگیر سے کہا

فری ہوں آتا ہوں تمہاری طرف ہاد سے بھی پوچھ لیتا ہوں پھر دونوں ساتھ آتے ہیں۔عالمگیر ٹی وی کا ولیوم کم کرتا مُراد سے بولا

ٹھیک ہے میں انتظار کرتا ہوں۔ مراد نے کہا تو عالمگیر اُس سے بات کرنے کے بعد ہاد کو کال ملانے لگا۔

بولو عالم کیا بات ہے؟ ہاد نے کال اُٹھاتے ہوئے پوچھا

بنا بات کے کال نہیں کرسکتا کیا؟ عالمگیر نے سوال کیا

کرسکتے ہو۔ ہاد نے کہا

تیار رہنا میں لینے آرہا ہوں پھر مل کر مراد کی طرف جانا ہے۔ عالمگیر نے جس مقصد سے کال کی تھی وہ بتایا

مجھے کیا تیار ہونا ہے توں آجا پھر چلتے ہیں۔ ہاد گہری سانس لیکر بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور سب ٹھیک ہے؟آدھے گھنٹے بعد وہ مراد کے گھر موجود تھے تبھی مُراد نے ہاد کی طرف دیکھ کر پوچھا۔

ہاں الحمد اللہ ۔ہاد نے مسکراکر کہا

پر زیادہ دیر تک ٹھیک نہیں ہوگا اب۔ عالمگیر کی ٹیرھی نظر سے ہاد پہ ڈال کر کہا

کیوں۔ مراد نے پوچھا ہاد کا دھیان بھی اُس کی طرف ہوا۔

یونی میں اِس کا لاسٹ ایئر ہے پھر آنٹی اِس کی منگنی کا سوچ رہی ہے نازش تو ابھی سے اِس کو اپنے پیچھے بھاگتی ہے منگنی کے بعد تو ہاد کا اللہ ہی مالک ہے۔ عالمگیر مصنوعی افسوس سے اپنی بات کہتا آخر میں زور زور سے ہنسنے لگا مُراد اُس کی بات سمجھ کر خود بھی ہنس پڑا پر ہاد نے گھور کر عالمگیر کو دیکھا۔

تمہیں مسئلہ کیا نازش سے وہ ہماری فرینڈ بھی ہے پر ایک تم جس اللہ جانے کس بات کا بیر ہے۔ ہاد نے آج جاننا چاہا

میری فرینڈ نہیں تیری فرینڈ پھر بیسٹ اب گرل فرینڈ سے منگیتر بننے والی ہے میں تو بس تیری وجہ سے برداشت کرتا ہوں۔عالمگیر نے کوفت سے کہا

نازش اچھی لڑکی ہے۔ ہاد نے نرمی سے کہا

پتا ہے کتنی اچھی ہے مجھے وہ تیرے ساتھ سوٹ ایبل نہیں لگتی۔ عالمگیر جل کے بولا

پھر کون لگتی ہے تمہارے خیال سے ہاد کے لیے کِس طرف کی لڑکی ہونی چاہیے۔ مُراد نے دلچسپی سے سوال کیا

جو پیاری ہو معصوم ہو شو آف نہ کرتی ہوں ڈریسنگ کا سینس ہو صاف دل کی مالک ہو اپنی حدود جانتی ہو۔ عالمگیر نے سنجیدگی سے کہا۔

نازش کا ڈریسنگ سینس اچھا ہے وہیسے بھی آجکل سب لڑکیاں ایسے کپڑے پہنتی ہے دوسری بات وہ بس میرے ساتھ ہی فری ہوتی ہے اور دل کا کیا ہے دل میں کون جھانکتا ہے کے کیسا ہے دل کا حال تو بس اللہ جانتا ہے اور جتنی تم خوبیاں بتارہے ہو وہ سب ایک لڑکی میں تو نہیں ہوسکتی۔ ہاد اُس کے سارے اعتراض رد کرتا بولا۔

ہوسکتی ہے

ہوسکتی۔

مُراد اور عالمگیر نے ایک ساتھ کہا تو ہاد نے عجیب نظروں سے اُن کو گھورا جو اب ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس رہے تھے۔

اچھا تم دونوں کی نظر میں ہے کوئی؟ہاد نے پوچھا

نازش کی بہن کتنی معصوم تھی ڈریسنگ بھی بہت اچھی تھی اُس کی۔ عالمگیر نے مسکراکر بتایا۔

کسی کی شخصیت کا اندازہ اُس کے پہناوے سے لگانا سراسر حماقت کے سِوا کجھ نہیں۔ہاد نے سنجیدگی سے کہا۔

میں پہناوے کی بات تو نہیں کروں گا پر میرا بھی ایک لڑکی سے سامنے ہوا تھا بہت ڈفرنٹ تھی باقی لڑکیوں سے اپنے آپ کو خود تک رکھنا جانتی تھی معصوم سادہ دل کی۔ مُراد نے ارسلہ کو یاد کرتے بتایا۔

شاید تم لوگ ٹھیک ہو پر جب مجھے کوئی بات بُری لگے گی نازش میں تو میں اُس سے کہوں گا۔ ہاد نے گہری سانس لیتے کہا

💕
💕
💕
💕

آج ارمغان اور طوبیٰ کا ولیمہ تھا جو ہال میں منعقد کیا گیا تھا ہاد ساری تیاریاں دیکھ رہا تھا عالمگیر کے ساتھ مل کر کہ کہیں کمی پیشی نہ ہوجائے جب کی انہوں نے ارمغان کو تیار ہونے کے لیے بھیج دیا تھا۔

ہاد سب تیاری ہوگئی ہیں اب میں نکلتا ہوں گھر کے لیے خود بھی تیار ہونا ہے۔ عالمگیر ایک بھرپور نگاہ خوبصورت سے سجے ہال پہ ڈال کر کہا

میں بھی چلتا ہوں دیر ہوگئ ہے نازش کو بھی پِک کرنا تھا۔ ہاد اُس کی بات سن کر بولا

اب کیا تم نے پِک اینڈ ڈراپ کی سروس بھی شروع کی ہے کیا؟عالمگیر طنزیہ کیے بنا نہ رہ پایا۔

بکواس نہیں کرو۔ ہاد نے گھور کر کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرنور ولیمے کے لیے تیار ہوگئ تھی اُس نے گولڈن کلر کا فراق پہنا تھا جس کے بازوں نیٹ کے تھے گولڈن بالوں کو اُس نے کھول کر پنز لگائی ہوئی تھی میک اپ کے نام پہ ہونٹوں پر ڈارک لپ اسٹک لگائی تھی جس سے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اپنی تیاری پہ وہ ایک تنقیدی نظر ڈال کر وہ باہر آئی جہاں احسان صاحب اُس کا انتظار کررہے تھے۔

ڈیڈ میں تیار ہوں چلیں۔ زرنور مسکراکر احسان صاحب کے پاس آتی بولی

ماشااللہ میرا بچہ تو بہت پیارا لگ رہا ہے۔ احسان صاحب نے مسکراکر کہا

شکریہ ڈیڈ۔ زرنور خوش ہوتی بولی پھر وہ دونوں ہال میں جانے کے لیے نکل پڑے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمگیر بلیک شیروانی پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے بہت جاذب نظر آرہا تھا خود پہ ڈھیر سارا پرفیوم چھڑکنے کے بعد وہ ہاتھ میں گاڑی کی کی اور اپنا سیل فون اُٹھاتا ہال جانے کے لیے نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاد نیوی بلیو کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس نفاست سے بالوں کو سیٹ کیا تھا جب کی پیروں میں پیشاوری چپل پہنے وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا ہاد تیار ہوتا سیدھا نازش کو لینے آیا جو اُس کو پانچ منٹ ویٹ کا کہتی اپنے کمرے میں چلی گئ تھی ملازمہ نے اُس کے سامنے جوس رکھا تو اُس نے ارسلہ کے بارے میں پوچھا جس پہ اُس نے اُس کے کمرے میں ہونا کا بتایا تو ہاد اُٹھ کر وہاں جانے لگا۔

دروازہ لوک ہونے پہ ہاد نے نوک کیا تو ارسلہ نے دروازہ کھولا مگر اپنے سامنے ہاد کو کھڑا دیکھا تو اُس کو حیرت ہوئی ہاد اُس کے حیران تاثرات دیکھ کر مُسکرادیا۔

آپ یہاں۔ ارسلہ نے حیرت سے مُنہ کھلے کہا

جی میں یہاں اور آپ تیار نہیں ہوئی ہمارے ساتھ نہیں چلنا کیا؟ ہاد نے مسکراکر اُس کو سادہ حُلیے میں دیکھ کر کہا

کہاں نہیں چلنا؟ ارسلہ نے حیرت سے اُس سے اُلٹا سوال پوچھا

نازش نے آپ کو بتایا ہوگا میرے بھائی کا ولیمہ ہے میں نے اُس سے کہا تھا تقریب میں آپ کو ساتھ لانے کا میں اُس کو لینے آیا تھا پھر سوچا آپ کو دیکھ آتا ہوں تیار ہوئی ہیں یا نہیں۔ہاد نے کہا تو اُس کو کجھ دن پہلے نازش کی بات یاد آئی۔

نہیں میرا وہاں کیا کام کونسا میں کسی کو جانتی ہوں آپ جائے یہاں سے۔ ارسلہ بے رخی سے کہتی دروازہ بند کرنے لگی پر ہاد نے اپنا ہاتھ آگے کرلیا۔

جاننے کے لیے ملنا ضروری ہوتا ہے اور ملنے کے لیے باہر جانا ضروری ہوتا ہے اگر آپ کہی آئے گی جائے گی نہیں تو کسی کو کیسے پہچانے لگی۔ ہاد نے نرم لہجے میں کہا۔

مجھے کسی کو نہیں جاننا پہچاننا۔ ارسلہ نے کہا

آپ کو آنا چاہیے میں اتنا کنوینس کررہا ہوں۔ ہاد نے ایک اور کوشش کی۔

وہ نہیں آنا چاہتی تو کیوں بار بار اصرار کررہے ہو۔ نازش تیار ہوتی باہر آئی تو ہاد کو نہ پاکر ارسلہ کے کمرے میں آئی اُس کو شک ہوا شاید ہاد یہاں آیا ہو اور ایسا ہی تھا جس پہ نازش نے ضبط کیے رکھا تھا۔

تم آگئ میں نے کہا تھا تو تمہارا کام تھا اِن کو منانا۔ ہاد نے ناراض ہوکر نازش سے کہا

میں نے بہت کہا تھا پر یہ نہیں مانی ضدی ہے بہت اپنے علاوہ کسی کی نہیں سنتی۔ نازش ہاد کے سامنے آتی اُس کا ہاتھ پکڑتی طنزیہ بھری نظروں سے ارسلہ کو دیکھ کر بولی

اچھا کرتی ہے اپنے علاوہ کسی کی سننی چاہیے بھی نہیں پر اب آپ کے پاس دس منٹ ہیں فٹا فٹ تیار ہوجائے۔وہ بھی ہاد تھا اپنے نام کا ایک

میں اگر نہیں آنا چاہتی تو آپ ضد کیوں کررہے ہیں۔ ارسلہ تنگ آکر بولی

ہاد ہمیں دیر ہو رہی ہے۔ نازش نے اُس کو احساس کروانا چاہا

آپ ریڈی ہوجائے فورن سے۔ ہاد نے پھر سے ارسلہ سے کہا

جاو ہوجاو تیار۔ نازش بیزار سی ارسلہ سے بولی تو اُس نے سرہلایا جس پہ ہاد کے چہرے پہ جاندار مسکراہٹ نے بسیرا کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرنور احسان صاحب کے ساتھ ہال میں آگئ تھی احسان صاحب پہلے ہی اندر چل گئے تھے مگر زرنور اب تیز تیز قدموں سے جا رہی تھی جب اُس کا پیر کسی کنکر سے ٹکرایا وہ گِرنے کو تھی جب دو مضبوط بازوں نے اُس کو اپنے حصار میں لیا زرنور نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو عالمگیر مسکراکر اُس کو دیکھ رہا تھا عالمگیر کو دیکھ کر اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ جب کی عالمگیر مبہوت سے اُس کا خوبصورت روپ دیکھ رہا تھا۔

تم یہاں میرا پیچھے کررہے ہو نہ۔ زرنور نے ویسے ہی اُس کے حصار میں ہوتے مشکوک نظروں سے دیکھ کر کہا

یہ سوال میں بھی پوچھ سکتا ہوں۔ عالمگیر بنا اُس کو چھوڑے بولا

پوچھ لو میرا جواب یہ ہوگا پہلے آئینے میں اپنی شکل دیکھو۔ زرنور نے مزے سے بتایا

گولڈن گرل سچ بتاؤ یہاں کیسے تم۔عالمگیر سنجیدگی سے بولا

میرا ولیمہ ہے وہ اٹینڈ کرنے آئی ہوں۔زرنور نے معصوم شکل بناکر کہا

فضول کم بولا کرو۔ عالمگیر اُس کی بات پہ تپ کے بولا

بے وقوف اپنے سوال پہ بھی تو پھر غور کرو نہ۔ زرنور نے گھور کر کہا تو اُس نے اپنی اور زرنور کی پوزیشن پہ غور کیا تو جلدی سے اپنا ہاتھ اُس کی کمر سے ہٹاکر سیدھا کھڑا کرکے خود دور ہوا۔

میرے دوست کے بھائی کا ولیمہ ہے آج۔ عالمگیر یہاں وہاں نظر گھماکر بولا

میرے فادر کے دوست کے بیٹے کا ولیمہ ہے آج۔ زرنور نے مسکراہٹ دباکر کہا

تو اندر چلو نہ باہر کھڑی ہوکر ولیمہ انجوائے کرو گی کیا۔ عالمگیر نے کہا

اندر چلتی ہو پر پہلے تم یہ بتاؤ میوزک وغیرہ کا سسٹم ہے کے نہیں۔زرنور نے رازدانہ انداز میں پوچھا

کیوں تم نے ڈانس کرکے ڈانس فلور توڑنا ہے۔ عالمگیر نے طنزیہ کیا

اور نہیں تو کیا۔ زرنور نے گردن اکڑاکر کہا

تو میں تمہارے ساتھ ہوگا۔ عالمگیر نے دانتوں کی نمائش کی۔

آتا ہے بھی ڈانس یا میرا بھی خراب کروگے؟ زرنور نے کنفرم کرنا چاہا

جو بھی گانا ہو میں کروں ڈانس ہر چیز کا ٹیلینٹ ہے مجھ میں۔ عالمگیر نے فخریہ بتایا

اچھا ایسا ہے تو سونگ سرپرائزنگ ہے جو ڈانس کا وقت ہوگا تب پتا لگیں گا تمہیں کونسا گانا ہے آفٹر آل تم میں ہر چیز کا ٹیلینٹ ہے۔ زرنور نے چیلینج کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا۔

اوکے چیلینج ایکسپٹ۔ عالمگیر نے مسکراکر کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاد اُن دونوں کو لیے ہال میں پہنچ گیا تھا ارسلہ جو نروس تھی وہاں زرنور کو دیکھ کر اُس کی جان میں جان آئی تھی کے کوئی تو اُس کا پہچان والا ملا زرنور نے جب ارسلہ کو دیکھا تو فورن سے اُس کے پاس آئی۔

ارسلہ واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز۔زرنور اُس کے گلے ملتی ہوئی بولی۔

آپی کے فرینڈ نے کہا تو بس۔ ارسلہ نے اتنا بتایا

بہت پیاری لگ رہی ہو۔ زرنور نے ستائش بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جو اسکن کلر کے شارٹ فراق کے ساتھ ٹراؤ پہنے بنا کسی میک اپ کے بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔

شکریہ۔ ارسلہ اپنی تعریف پہ سرخ ہوتی بولی

ہاہاہاہا تم بلش کررہی ہو۔ زرنور اُس کے سرخ گالوں پہ بوسہ دیتی ہنس پڑی۔

چل کے بیٹھتے ہیں۔ ارسلہ نے کہا تو زرنور اُس کو سائیڈ پہ لیں گئ۔

کیا ہوا پریشان ہو۔ ارمغان نے بے چین سی طوبیٰ سے پوچھا جس کی نظریں سامنے انٹرینس پہ تھی۔

امی اور ڈیڈ نہیں آئے اور نہ ماریہ۔ طوبیٰ نے افسردہ لہجے میں کہا

ناراض ہے انشااللہ جلد مان جائے گے۔ ارمغان نے اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر رلیکس کرنا چاہا

پر آج تو اُن کو آنا چاہیے تھا۔ طوبیٰ مایوس ہوئی۔

اب نہ آئے تو اُن کی مرضی ہم نے تو انوائٹ کیا تھا نہ۔ ارمغان نے کہا

صرف انوائٹ کرنے سے کیا ہوتا ہے آپ کو چاہیے تھا آپ ڈیڈ سے اپنے رویے کی معافی مانگتے تب شاید وہ آجاتے۔ طوبیٰ ارمغان سے بدگمان ہوتی بولی۔

طوبیٰ یہاں بہت سارے لوگ ہیں اِس لیے اپنے لہجے اور غصے پہ قابوں کرو اور مسکراؤ۔ارمغان نے بامشکل اپنا لہجہ نارمل کیے کہا

مجھ سے نہیں ہوتی یہ منافقت۔طوبیٰ نفی میں سرہلاتی بولی تو ارمغان نے زور سے مٹھیاں بھینچ لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لٹل گرل تم یہاں۔مراد نے ارسلہ کو دیکھا تو اُس کے پاس آتا خوشگوار لہجے میں بولا۔

جی۔ ارسلہ کے مسکراکر کہا

کیسے پر؟ مراد نے جاننا چاہا

نازش آپی کے فرینڈ ہے نہ ہاد اُنہوں نے کنوینس کیا تو آنا پڑا۔ ارسلہ کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے تو بس اِتنا کہا۔

نازش آپی تو کیا تم نازش کی بہن ہو۔مراد حیران ہوتا بولا

جی میں بہن ہوں اُن کی۔ ارسلہ نے بتایا

یقین نہیں آرہا۔ مراد ہنس کے بولا

آپ یہاں کیسے؟ ارسلہ نے پوچھا

ہاد میرا دوست ہے۔ مراد نے بتایا تو ارسلہ نے سرہلایا

سب اسٹیج پہ ہیں تم بھی وہاں چلو یہاں اکیلے بور ہوجاؤ گی۔مراد نے اُٹھتے ہوئے کہا

آپ جائے میں یہاں ٹھیک ہوں ویسے بھی میری دوست آتی ہوگی ڈی جے کے پاس گئ ہے۔ارسلہ نے انکار کرتے کہا

اوو نائیس۔مراد مسکراکر بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیار ہوجاؤ سب سے پہلے تمہیں ڈانس کرنا ہے پھر میری باری ہے۔زرنور چڑانے والے انداز میں عالمگیر سے بولی

گولڈن گرل تمہیں ایوی مجھے ایزی لیں رہی ہو۔عالمگیر آئبرو اُچکاتے کہا

ایکسپینسو بھی لوں گی پر ڈانس کے بعد۔ زرنور ایک ادا سے بال جھٹک کر سائیڈ پہ ہوگئ اُس کے ایسے کرنے سے عالمگیر سینے پہ ہاتھ رکھ کر گِرنے کی اداکاری کرنے لگا پھر مسکراکر ڈانس فلور کی طرف آیا۔

Agg lavan majboori nu

Aan jaan di pasoori nu

Zehar bane Haan Teri

Pee javan mai poori nu

Aana si o nai aaya

Dil bhang bhang mera takraya

Kaga bol ke dus jaavein

Paavan gheyo de choori nu

Raawan ch baawan ch o

Nu lukawaan koi mainu na roke

Mere dhool judaiyaan de,

Tenu khabar kivein hove

Aa ja ve dil tera

Poora ve na hove

Aa baniyan banaiyaan di

Gal baat kivein howe

Aa ja ve dil tera

Poora ve na hove

زرنور کا منہ لٹک گیا تھا عالمگیر کو اتنی مہارت سے ڈانس کرتا دیکھ کر اُس کو تو لگا تھا اِس گانے پہ بنا کسی پریکٹس کے کوئی ڈانس نہیں کرسکتا پر اب اُس کو احساس ہورہا تھا عالمگیر کو ایزی لیکر اُس نے کتنی بڑی غلطی کی۔

Bhul gaye majburi nu

Duniya de dastoori nu

Sath tera hai bathera

Poora kar zaroori nu

Aa na si o nai aaya

Raasta na dikhlaaya

Dil hummara de sahara

Khaashishaat adhuri nu

Wari main javaan,main tenu

Bulawaan Gal sari taan howe

Mere dhool judaiyaan de,

Tenu khabar kivein hove

Aa ja ve dil tera

Poora ve na hove

Aa baniyan banaiyaan di

Gal baat kivein howe

Aa ja ve dil tera

Poora vi na hove

زرنور عالمگیر کے ساتھ ڈانس اسٹیپ کرنے لگی تو یکدم ہال میں ہوٹنگ کا شور اُٹھا تھا احسان صاحب اپنی بیٹی کو بس دیکھتے رہ گئے جب کی عالمگیر کی بتسی اندر ہی نہیں جا رہی تھی

Mere dhool judaiyaan de,

Sardaari na hove

Mere dhool judaiyaan de,

Aaaahhhhhhaaaaa

Mere dhool judaiyaan de,

Sardaari na hove

Dildaran di sub yaaaraan di

Aazari na hove

Dildaran di sub yaaaraan di

Aazari na hove

Aaa chalein le k tujhe

Hai jaha silslay

Tu hai wahi,

Hai Teri kami

Bana de saza de

Panah de hume

Bana de saza de

Panah de hume

Agg lavan majboori nu

Aan jaan di pasoori nu

Zehar bane Haan Teri

Pee javan mai poori nu

Aana si o nai aaya

Dil bhang bhang mera takraya

Kaga bol ke dus jaavein

Paavan gheyo de choori nu

Raawan ch baawan ch o

Nu lukawaan koi mainu na roke

Poora vi na hove

Poora vi na hove

گانے کے آخر میں عالمگیر نے زرنور کا ہاتھ تھام کر اپنے سامنے کیا زرنور نے اپنا سر عالمگیر کے سر سے جوڑا جس پہ عالمگیر نے گہری سانس اندر کھینچی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماننا پڑے گا ڈانس کمال کی کرتے ہو۔ وہ دونوں نیچے آئے تو زرنور کرسی پہ بیٹھتی عالمگیر سے بولی جو پانی پی رہا تھا

میں نے تو پہلے ہی کہا تھا مجھے ایزی مت لینا۔ عالمگیر مسکراکر بولا

ویسے تمہیں اِتنا اچھا ڈانس کیسے آیا تمہیں کیسے پتا میں یہی گانا سوچ کے بیٹھی ہوں۔ زرنور نے کجھ حیرت سے کہا

کیونکہ آجکل ہر ایک کی زبان پہ یہی گانا ہوتا ہے میرے ڈول جدائیاں دی تینوں خبر وی کی ہوئے آ جا وے دل میرا پورا وی نہ ہوئے ۔عالمگیر نے باقاعدہ گانا گاکر بتایا تو زرنور کا قہقہ چھوٹ گیا عالمگیر کا انداز ہی کجھ ایسا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم بھی ڈانس کرتے تو اچھا تھا۔ نازش نے ہاد کی طرف دیکھ کر کہا

پہلے بتاتی نہ۔ ہاد نے ہنس کے کہا

اب کونسا تقریب ختم ہوئی ہے کوئی رومانٹک سے گانا آن کرواو پھر اُس پہ کپل ڈانس کرتے ہیں۔ نازش خوش ہوتی بولی

ابھی تو نہیں ہوسکتی میں تھک گیا ہوں۔ ہاد نے انکار کرتے کہا

میرا کتنا دل تھا۔ نازش نے منہ بناکر کہا

میں نہیں کررہا تم جاکر کرو نہ انمول محب میں سے۔ ہاد نے مسکراکر کہا تو نازش نے سر کو جنبش دی۔

نازش اسٹیج پہ گئ تو ہاد کی نظر ارسلہ پہ پڑی جو بے زاری سے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی ہاد نے ارسلہ کو اکیلا دیکھا تو اُس کے پاس چلا آیا

کیا ہوا بور ہورہی ہیں؟ ہاد نے نرمی سے پوچھا

مجھے عادت نہیں ایسی تقریب میں آنے کی تو بس۔ارسلہ نے جھجھک کر کہا

اکیلی کیوں بیٹھی ہیں پھر ہمارے ساتھ باتیں کریں نہ۔ ہاد نے حل بتایا

میں کیا کروں آپ لوگوں سے بات مجھے بس گھر جانا تھا۔ارسلہ نے کہا

اچھا ایسا کریں آپ میری والدہ کے پاس بیٹھے بور نہیں ہوگی۔ ہاد نے کہا

اُن کے ساتھ کیوں۔ ارسلہ گھبراکر بولی

گھبرا کیوں رہی ہیں اکیلے بیٹھنے سے اچھا ہے اُن کے ساتھ رہے تھوڑی بہت گفتگو بھی ہوجائے گی۔ ہاد نے مسکراکر کہا تو ارسلہ کو اُس کی بات ٹھیک لگی اِس لیے کھڑی ہوئی۔

آپ نازش کی بہن ہو پر کبھی آپ سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ زرغونہ بیگم نے مسکراکر ارسلہ سے کہا

میں کبھی یہاں نہیں آئی اور نہ آپ تو بس اِس لیے۔ ارسلہ نے جواب دیا

ہاں پر ماشااللہ سے بہت پیاری ہو آپ۔ زرغونہ بیگم اُس کی ٹھوری چھو کر بولی ہاد بھی اُن کے ساتھ ہی بیٹھا تھا جب نازش سب سے بے خبر انمول کے ساتھ تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مزہ آیا وہاں؟ سادیہ بی نے مسکراکر ارسلہ سے پوچھا جو نائٹ ڈریس پہنے اُن کے پاس آئی تھی لیٹنے۔

مزہ کیا آنا تھا خوامخواہ بور ہوئی۔ ارسلہ نے منہ بناکر کہا

ایک جگہ بیٹھی ہوگی نہ لوگوں سے بات وغیرہ کرو گی تو اچھا محسوس ہوگا پر تم میری سنو تب نہ۔ سادیہ بی نے ڈپٹ کر کہا

میرا مذاق بناتے ہیں لوگ۔ ارسلہ نے اُداسی سے کہا

ارسلہ میری بچی کتنی بار کہا ہے وہ اُن لوگوں جا فعل ہے تم اُن کی باتوں پہ توجہ مت دو یہ جو لوگ ہوتے ہیں نہ اچھے بھلے انسان میں سے بھی نقص نکالتے ہیں کیونکہ اِن کے لیے نیک اور اچھی صرف اپنی ذات ہوتی ہے دوسروں کو نہ یہ خوش ہوتا دیکھ سکتے ہیں اور نہ آگے بھرتا تمہارے بائی پیر میں بس ہلکی سی لڑکھڑاہٹ ہے اور کجھ نہیں خدانخواستہ معذور نہیں جو لوگوں سے چھپتی پِھرتی ہو ہر انسان نامکمل ہے مکمل صرف اللہ کی ذات ہے ہم انسان دوسرے انسان کا مذاق اُڑاکر کجھ وقت کے لیے لطف اندروز ضرور ہوتے ہیں پر اللہ ہم سے ناراض ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ کی بنائی ہوئی تخلیق کے بارے میں کجھ غلط کہنے والے ہم ہوتے کون ہے ہم بس اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا ہی کرسکتے ہیں پر ہر ایک کی بات کو دل پہ لینا سراسر بے وقوفی حماقت کے سِوا کجھ نہیں اِس میں کسی اور کا نقصان نہیں بلکہ خود کا ہوتا ہے بولنے والا تو بول جاتا ہے بنا سامنے کا لحاظ کیے بنا یہ سوچے کے اُس کی بات کسی کا دل بھی دُکھا سکتی ہے۔ سادیہ بیگم نے آہستہ اور محبت سے اپنی بات کی۔

بی میں خود چاہتی ہوں ہر ایک کی بات اگنور کروں پر مجھ سے نہیں ہوتا میں کمزور ہوں بہت کمزور۔ارسلہ نے بے بسی سے کہا

اپنی کمزور کو طاقت بناؤ۔سادیہ بی نے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا

میں کوشش کروں گی۔ ارسلہ نے مسکراکر کہا

تم کوشش کرنا راستے اللہ بنائے گا۔ سادیہ بی نے کہا تو ارسلہ گہری سانس بھرتی سونے کے لیے آنکھیں بند کرگئ۔

💕
💕
💕
💕

آرام سے۔ ارمغان نے سختی سے طوبیٰ سے کہا جو اپنی جیولری کو نوچ نوچ کر اُتار رہی تھی۔

آپ مجھ سے بات مت کریں۔ طوبیٰ بنا اُس کی طرف دیکھ کر بولی

ریئلی میں بات مت کرو۔ ارمغان ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آتا اُس کا رخ اپنی طرف کیے بولا

میں فلحال تھک گئ ہوں آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتی۔ طوبیٰ نے اپنے ڈر کو قابو کیے کہا

بحث مجھے پسند بھی نہیں پر میں یہ کہوں گا دوسروں کے لیے ہمارا خوبصورت رشتہ خراب کرنے کوشش مت کرو۔ ارمغان نے سنجیدگی سے کہا

جنہیں آپ دوسرا بول رہے ہیں وہ والدین ہیں میرے۔ طوبیٰ نے جیسے یاد دلانا چاہا

وہی والدین جو تمہاری اور میری طلاق چاہتے تھے بنا کسی جواز کے۔ ارمغان طنزیہ بولا

انہوں نے کجھ سوچا ہوگا اِس لیے ویسے بھی والدین اپنے بچوں کی بہتری چاہتے ہیں۔ طوبیٰ خفت مٹانے کے غرض سے بولی۔

تمہاری اُس نا ہونے والے رشتے میں کتنی بہتری تھی خود پتا چل جائے گا۔ ارمغان سرسری نظر اُس پہ ڈالتا واشروی کی طرف چلاگیا۔

آپ کا کیا مطلب تھا اپنی آخری بات پہ جو آپ نے کہی۔ ارمغان دس پندرہ منٹ بعد فریش ہوکر باہر آیا تو طوبیٰ سے پوچھا

تھک گئ ہو نہ آرام کرو۔ ارمغان ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑا ہوتا بولا

میری بات کا جواب دے آپ۔ طوبیٰ نے جھنجھلا کر کہا تو ارمغان نے اُس کے دونوں بازوں سختی سے دبوچ لیے۔

لیو۔ طوبیٰ خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرتی بولی

سنو زوجہ میں تمہارا شوہر ہوں تو بس میرے پہ توجہ ہونی چاہیے تمہیں پر تمہاری توجہ میرے علاوہ ہر ایک پہ ہے جو میں برداشت نہیں کروں گا۔ ارمغان سردمہری سے بولا تو طوبیٰ کو اپنے پورے وجود میں سنساہٹ ڈورتی محسوس ہوئی۔

ا ر مغ ا ن۔ طوبیٰ نے ٹکرو میں اُس کا نام لیا

جانِ ارمغان بہت خاص ہو تم میرے لیے اِس لیے ایسی کوئی بے وقوفی مت کرنا جس سے میرے دل سے اُتر جاؤ۔ارمغان اُس کے ماتھے پہ عقیدت بھرا لمس چھوڑ کر بولا

یو ہرٹ می۔طوبیٰ نے اپنی آنکھیں زور سے میچ کر کہا تو ارمغان شرمندہ سا ہوتا اُس کے بازوں پہ اپنے گرفت نرم کی۔

میں ایسا کبھی نہ کروں پر تم مجھے مجبور کرتی ہو۔ارمغان نے صفائی دینی چاہی۔

آپ کا کوئی قصور نہیں بس میں ہی غلط ہوں۔طوبیٰ چڑ کر بولی

جی بلکل آج کا دن ہمارے لیے خاص تھا پر تم سارا دن منہ پُھلا کر بیٹھی رہی جس سے ہمارا فوٹو شوٹ بھی نہ ہوسکتا کتنی خوبصورت میمریز ہوتی ہیں یہ پر تم ہمارے رشتے کو سمجھنے اور وقت دینے کے بجائے بلاوجہ کی بحث کرکے مجھے غصہ دلارہی ہو۔ارمغان کی بات پہ طوبیٰ کو پہلی بار اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

سوری۔طوبیٰ نے سر جھکا کہا

اِٹس اوکے پر آئیندہ خیال رکھنا میاں بیوی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے اُتنا ہی کمزور بھی اگر ہم ایک دوسرے کو سمجھے گے نہیں وقت نہیں دے گے تو کیسے ہمارا رشتہ مضبوط ہوگا بات بات لڑائی ہوگی تو ہمارا رشتہ کمزور ہوجائیں گا۔ارمغان نے اُس کو اپنے ساتھ لگاکر نرمی سے سمجھانے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *