Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283 Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 8)
Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan
اپنے روم میں آکر اس نے عائش کا دیا ہوا پیکٹ لرزتے ہاتھوں سے کھولا تو اسکی پسندیدہ چاکلیٹس اس کے جھولی میں گر گئی۔۔۔۔ اور ساتھ میں ایک کارڈ بھی۔۔۔۔ اور بلاشبہ یہ خوبصورت رائیٹنگ سے لکھی گئی تحریر عائش کے ہاتھوں کی تھی۔۔۔۔
“””میں نے محبت کا چہرہ نہیں دیکھا۔۔۔۔ میں نے بس تمہیں دیکھا ہے۔۔۔۔اور اگر محبت کی کوئی صورت ہوتی تو وہ ہوبہو تمہارے جیسے ہوتی””””””
“”””””بغض اوقات ہم کسی شخص سے محبت کرنا نہیں چھوڑتے۔ لیکن ان سے فاصلہ ضرور اختیار کر لیتے ہیں۔۔۔ تاکہ اپنے دل و جذبات کی ناقدری ہونے سے بچا سکیں””””””
تحریر پڑھ کر حورم نے جھرجھری لی۔۔۔۔میں اپنی غلطی سدھار لوں گی عائش ۔۔۔۔
اس کے آنکھوں کے سامنے وہ منظر لہرایا جس طرح اس نے گلے لگایا تھا ۔۔۔حورم نے لبوں پر ایک انجانی خوشی نے بسیرا کیا۔۔۔۔ تمہاری خاموش گستاخیاں ۔۔۔۔۔ کیا ہے یہ لڑکا۔۔۔۔ اتنا پیار کوئی کیسے کر سکتا ہے۔۔۔۔ اور پھر کئی دفعہ اس نے وہ تحریر پڑھی۔۔۔۔
چاکلیٹس اٹھا کر دراز میں رکھنے لگی تھی تو ایک چاکلیٹ اوپن تھا۔۔۔۔ اس نے کھولا تو آدھا چاکلیٹ اندر موجود تھا۔۔۔۔
یہ اب مجھے جان بوجھ کر زچ کر رہا ہے۔۔۔ سوچ کر اس نے وہ چاکلیٹ کھا لی۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
صارم۔۔۔۔ ایک بات بتانی تھی آپکو۔۔۔۔ وہ جو ہاتھوں پر موئسچرائزنگ کریم لگا رہی تھی صارم کو ڈریسنگ روم سے نکلتے دیکھ کر آواز دی۔۔۔۔۔۔
جی جان صارم ۔۔۔۔۔۔۔ اسکے قریب آکر اسکے گرد بازو حائل کرکے گویا ہوا۔۔۔۔۔
آپ ناراض تو نہیں ہوں گے نا۔۔۔ ادینہ نے انجانے خوف کے تحت پوچھ لیا ۔۔۔۔
تمہیں تو سو خون بھی معاف ہے ۔۔۔۔۔ اور نرمی سے اس کے بالوں پر اپنے لب رکھ کر اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
آیان ایزل کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔ اس نے آج صبح ہی مجھے کال کرکے بتایا تھا۔۔۔ لیکن آریز بھائی نے ارمغان کے لئے ایزل کا سوچا تھا تو۔۔۔۔۔
آئی تھنک مجھے نہیں لگتا ارمغان ایزل کے لئے ایسے کوئی فیلنگز رکھتا ہے۔۔۔۔ جب بھائی نے اسے اپنا فیصلہ سنایا تھا میں نے اسکے آنکھوں میں چھپی تڑپ دیکھی تھی ۔۔۔کسی کو چاہنے کی۔۔۔ مگر وہ اپنے ڈیڈ کو انکار نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ میں بھائی سے بات کرلوں گا۔۔۔۔۔ اور ارمغان کی رائے بھی معلوم کرلوں گا ۔۔۔۔۔ وہ سب تم مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔تم ذرا میرا فون دینا۔۔۔۔ عائش اور عایز سے بات کرلیں ویڈیو پر۔۔۔۔ بہت مس کر رہا ہوں۔۔۔۔
ادینہ نے اسے فون دیا اس نے ایک ساتھ عائز اور عائش کو کال ملائی۔۔۔۔۔
السلام وعلیکم پاپا اینڈ مما۔۔۔ عائز نے ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا۔۔۔۔
وعلیکم السلام کیسا ہے میرا بچا۔۔۔ صارم اپنے جگر کے ٹکڑے کو دیکھ کر نہال ہو رہا تھا۔۔۔۔
ایم گڈ پاپا۔۔۔۔ مما کیسی ہے آپ۔۔۔
میں ٹھیک مما کی جان ۔۔۔۔۔ادینہ کا دل بھر آیا ۔۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔۔ عائش نے کال اوکے کرکے موبائل سامنے رکھا۔۔۔۔عام دنوں کی نسبت بکھری ہوئی حالت۔۔۔۔ شاور لینے کے بعد بال برش نہیں کئے تھے بس ویسے ہی ماتھے پر بکھرے پڑے تھے۔۔۔۔۔
عائش تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ صارم نے اس کے مرجھائے چہرے کو دیکھ کر بے چینی سے استفسار کیا۔۔۔۔
جی پاپا میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ نپے تلے انداز میں کہہ کر بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔۔۔
لگ تو نہیں رہا۔۔۔۔صارم نے انہماک سے اس کے اجڑے سراپے پرنظر ڈالی ۔۔۔۔۔۔
پاپا ایگزامز ہیں نا۔۔تو نیند پوری نہیں لی۔۔۔ آپ سنائیں سب ٹھیک ہیں گھر میں۔۔۔۔۔
ہاں سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔
پاپا میری ڈاکومنٹس میں نے اپ کو اور ڈیڈ کو میل کر دی ہے۔۔۔ میں نے جن جن یونیورسٹیز کے لئے اپلائی کیا تھا سب نے میری اکیڈیمک ریکارڈ کے پیش نظر ایپلیکیشن ایکسپٹ کرکے ایڈمیشن دینے کے لئے ہامی بھرلی ہے ۔۔۔۔اپ خود سلیکشن کرلیں کہ کہاں بھجوانا ہے۔۔۔۔۔ ادینہ اس کے چہرے کی طرف محویت سے دیکھ رہی تھی جو نظریں چرائے نیچے دیکھ کر بات کر رہا تھا۔۔۔۔کسی قسم کے تاثر سے حالی انداز تھا۔۔۔۔۔
پاپا بھائی کو یو کے بیجھ دے۔۔۔۔ بہت رہ لیا میں نے اکیلے۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ عائز نے جلدی سے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی ۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے سوچ لیں گے۔۔۔صارم نے بے دلی سے جواب دیا۔۔۔۔ وہ عائش کے ہاسٹل جانے کے حق میں نہیں تھا تو فارن۔۔۔۔۔ ادینہ عائش کو دیکھ کر دوہری اذیت کا شکار تھی۔۔۔۔ تو کیا اس نے جلدبازی کرکے اپنے بیٹے کو خود سے بدگمان کرکے دور کر دیا ہے۔۔۔۔ تو کیا اس کی عمر بھر کی دُعائیں اور محبت رائیگاں گئی۔۔۔۔
اوکے پاپا میں ذرا بزی ہوں بعد میں بات کرتے ہیں۔۔۔۔ اور سکرین سے اسکا چہرہ غائب ہوگیا۔۔۔۔
اوکے پاپا میرا بھی سٹڈی ہاور سٹارٹ ہوگیا۔۔۔ لو یو مما پاپا۔۔۔ اینڈ مس یو۔۔۔ عایز نے بھی کال کاٹ دی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بھائی آپ سے بات کرنی تھی۔۔۔۔ رات کو سب لاونج میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ صارم نے آریز کو محاطب کیا۔۔۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔۔۔۔ آریز متوجہ ہوا۔۔۔
ادینہ کا بھانجا آیان ایزل کو لائک کرتا ہے۔۔۔۔ اس نے ادینہ سے بات کی بٹ آپ نے ارمغان کے لئے بولا تھا تو ہم ایان کو انکار کر دیں گے۔۔۔۔۔۔صارم ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہاں بات تو میں نے کی تھی ارسلان سے لیکن اس کی ایزل سے ابھی تک بات نہیں ہوئی۔۔۔۔۔ ہم چلے جائیں گے کسی دن۔۔۔۔ دونوں ہی اپنے بچے ہیں اسے جس کے لئے ہاں کرنی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔۔۔۔ ارمغان نے چونکتے ہوئے سر اٹھایا اور یقین دہانی کے لئے اچٹتی نگاہ صارم پر ڈالی تو وہ بھی اس کی طرف متوجہ تھا ۔۔۔ ایک آنکھ ونک کرکے صارم مسکرا دیا تو ارمغان جھینپ گیا۔۔۔۔۔
بھائی آپ ایک بار پھر ارمغان سے پوچھ لے شائید اسے کوئی پسند ہو اور آپکے حکم عدولی نہ ہونے کی وجہ سے چھپ ہو۔۔۔۔
صارم کی زومعنی بات کا مفہوم وہ سمجھ گیا تھا۔۔۔ اسلئے باپ کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔۔۔۔
ہاں بھئی برخوردار ۔۔۔۔ایسا کچھ ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟ آریز نے کاٹ دار نظروں سے گھور کر پوچھا۔۔۔۔
جی ڈیڈ۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اگر آج بھی نہیں بولا تو کبھی نہیں بول پائے گا۔۔۔۔۔
کون ہے۔۔۔۔
ڈیڈ ووہ۔۔۔۔۔۔ وہ اب بھی ہچکچا رہا تھا۔۔۔۔۔اتنی چھوٹی عمر کی لڑکی کا بول کا سب کا ری ایکشن شدید ہوگا ۔۔۔۔۔
میں بتاتا ہوں ۔۔۔۔ اب یہ تو بولنے سے رہا۔۔۔۔ اگر اتنا جگر والا ہوتا تو اسی ٹائم بتا دیتا جب آپ لوگوں نے ایزل کا نام لیا تھا۔۔۔۔۔۔ارمان جو ایک فائل سائن کروانا بھول گیا تھا اسکی بے وقت انٹری کارآمد ثابت ہوئی ۔۔۔۔۔
سب لوگ متجسس سا ارمان کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔
کیا نام ہے اس کا۔۔۔ ہاں وہ چھوٹی آفت۔۔۔ جو ریسٹورنٹ میں سب لوگوں کے سامنے ہمارے ارمغان کے گلے لگی تھی اور پھر دوسرے دن اڑ کر آفس تک بھی پہنچ گئی اور آفس میں آئیس کریم کی ڈیمانڈ کرنے لگی۔۔۔۔۔بلا آفس میں آئیس کریم کہاں سے اگئی۔۔۔۔
مان سٹاپ اٹ ۔۔۔ سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ دیکھ کر ارمغان نے غصے سے اسے سرزنش کی۔۔۔۔۔
مطلب بات اتنی آگے بڑھ چکی ہے ایک دوسرے کے گلے بھی ملے اور ہمیں ہی لاعلم رکھا گیا ہے۔۔۔۔ اس کی موم نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
ایویں بات آگے بڑھی ہے۔ ۔۔۔ وہ تو فرینڈز کے ساتھ کھانا کھانے آئی تھی اور والٹ گھر بھول آئی تھی میں وہاں میٹنگ اٹینڈ کرنے گیا تھا تو مجھے دیکھ کر بل پے کرنے کا بولا۔۔۔ ارمغان نے ندامت سے سر جھکا کر اپنی صفائی دی۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔ اور اس آفت کا نام وام ہے بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔ ادینہ کا چہرہ ہنس ہنس کر سرخ پڑ چکا تھا ۔۔۔۔
وہ ارسلان آنکل کی چھوٹی زہریلی مصیبت۔۔۔۔ ارمان مزید گویا ہوا تو ارمغان نے تیکھی چتونوں سے اسے گھورا۔۔۔۔
حبا ۔۔۔۔ حورم نے جلدی سے نام لیا تو ارمغان نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
یاررر۔۔۔پیار کرنا ہی تھا تو کسی بڑی میچور سلجھی ہوئی لڑکی سے تو کرلیتے ۔۔۔ اب وہ تو خود بچی ہے۔۔۔۔۔رو رو کر اپنی ضدیں منواتی ہیں۔۔۔۔اریز کو اسکی بچکانہ حرکتیں یاد آگئی۔۔۔۔
واٹ۔۔۔قسم لے لے سر۔۔۔ ایک نمبر کی دادی اماں ہے۔۔ کہاں سے بچی لگتی ہے وہ۔۔۔ ارمان کو اس کی باتیں یاد اگئی تو خباثت سے ارمغان کی طرف دیکھ کر گویا ہوا ۔۔۔۔۔
اسلئے آپ لوگوں کو نہیں بتایا۔۔۔ پتہ تھا مجھے آپ لوگ ایسا بولیں گے ۔۔۔ کہ چھوٹی بچی ہے۔۔۔ ناسمجھ ہے۔۔۔ ارمغان نے پزل ہوکر کان کھجائیں۔۔۔۔
ارمان تمہیں کیوں تپ چڑھی ہے۔۔۔ کوئی پنگا ونگا لیا ہے کیا اس بچی سے۔۔۔۔ آریز نے اس کے لہجے میں حبا کے لئے چھپا
غصہ دیکھ کر پوچھ لیا۔۔۔۔
کیونکہ ہمارے محترم پی اے صاحب کی شان میں گستاخی جو کی تھی اس نے۔۔۔۔۔ملازم کہہ کر اسے آرڈر دیا تھا کہ تم جاکر آئیس کریم لے آو۔۔۔ پورا دن ادھر ادھر گھوم کر مفت تنخواہ لیتے ہو۔۔۔ ارمغان نے اب مان سے اپنا پورا بدلہ لیا ۔۔۔۔اسکی گل افشانی پر ارمان بوکھلا گیا۔۔۔۔۔ سب کے مشترکہ قہقہے گھونجنے لگے۔۔۔۔۔
یہ سائن کردے بھول گیا تھا میں صبح سویرے میں نے ملتان کے لئے نکلنا ہے۔۔۔۔۔ارمان نے ایک فائل اس کے سامنے رکھی۔۔۔ ارمغان نے سائن کرکے فایل اس کے حوالے کردیا۔۔۔۔
اوکے میں جارہا ہوں۔۔۔ بٹ ایک دفعہ پھر سے سوچ۔۔۔ ورنہ پوری زندگی تختہ دار پر لٹک کر گزارو گے۔۔۔ ارمان نے جاتے جاتے مخلصانہ مشورہ دیا۔۔۔ تو ارمغان کے تنے اعصاب کو دیکھ کر گڑبڑا کر نکل گیا۔۔۔۔۔
بھائی عائش نے کچھ ڈاکومنٹس میل کی ہیں آپ پڑھ لے کہ کونسی یونیورسٹی ٹھیک رہے گی۔۔۔۔۔ وہ بضد ہے باہر جانے کے لئے ورنہ یہاں بھی اچھی خاصی تعداد میں یونیورسٹیز ہے۔۔۔۔۔
حورم کے رگ و پے میں سنسنی پھیلنے لگی۔۔۔۔۔اس کے سینے میں اٹھتے منہ زور جذبات پتھر سے ہوگئے ۔۔۔اعصاب جھنجھنا اٹھے ۔۔۔۔تو کیا عائش سچ بول رہا تھا وہ واقعی جارہا ہے ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں چیک کرتا ہوں۔۔۔۔ وہ اٹھ کر اپنے روم کی طرف بڑھا تو حورم بھی ٹرانس کی کیفیت میں اپنے روم کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔۔
دروازہ بند کرکے وہ نیچے کارپٹ پر ہی بیٹھ گئی۔۔۔۔ پھر جلدی سے دراز کھول کر عائش کا دیا گیا کارڈ نکال کر پڑھنے لگی۔۔۔۔
و۔۔و۔۔ہ نہیں جائے گا۔۔۔ میں روک لوں گی اسے ۔۔۔۔ وہ ٹھیک بولتا تھا ناقدری کرنے والوں کو عمر بھر پچھتاؤں کی زد میں رہنا پڑتا ہے۔۔۔۔وہ خود سے ہمکلام ہوتی سونے کی کوشش کرنے لگی کہ ڈور ناک ہوا۔۔۔۔ اس نے خود کو کمپوز کرکے دروازہ کھولا تو سامنے آریز کو دیکھ کر دروازے سے ہٹ گئی۔۔۔۔۔
اس کی سرخ سوجھی آنکھیں رونے کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔۔۔
تم روئی ہو۔۔۔۔ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں چھپا کرب اسے تکلیف دے رہا تھا۔۔۔۔
ڈیڈ عائش کو روک لے پلیز۔۔۔۔ مم۔۔م۔میرے لئے ۔۔۔۔ وہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے نا آپکی بہت مانتا ہے۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ م۔م مجھے عائش چاہیے ڈیڈ۔۔۔۔ آپکی حورم کو عائش چاہیے ۔۔۔۔ م۔م۔میں مر جاوں گی۔۔۔۔اس کے منت بھرے انداز میں کہنے پر آریز نے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔۔ وہ آریز کے سینے سے لگ کر بکھری حالت میں اپنی شرم حیا بالائے طاق رکھ کر اپنے محبت کا کھلے عام اعتراف کر رہی تھی۔۔۔۔۔
حورم ریلیکس میرا بچا۔۔۔۔ آریز نے اس کا سر اوپر اٹھایا اور اسکے انسو پونچھ لئے۔۔۔۔
وہ جانتا ہے ؟؟؟؟ وہ کرتا ہے پیار؟؟؟
اور یہی وہ وقت تھا جب حورم نے عائش کے روح او ضمیر پر لگے محبت کے الزام کو اپنے سر لے کر اسے بری کر دیا ۔۔۔۔ وہ اپنے حصے کی سزا بھگت چکا تھا۔۔ یا شائد اب بھی سولی پر لٹکاتھا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔ ہمت ہی نہیں ہوئی ڈیڈ اسے بتانے کی۔۔۔۔ اب اسے کیا بتاتی کہ اس نے عائش کا دل صرف دکھایا نہیں تھا توڑا بھی تھا۔۔۔۔
حورم۔۔۔۔ آریز کے لب سرسرائے اپنی بیٹی کی
جنونیت دیکھ کر۔۔۔۔۔
میں بات کرلوں گا اس سے۔۔۔۔ تم ٹینشن مت لو اور آرام سے سو جاؤ ۔۔۔۔
اس کے اوپر کمفرٹر سیٹ کرکے سر پر بوسا دے کر وہ روم سے نکل گیا۔۔۔۔۔ لیکن خود کی حالت بے حال ہوگئی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ارسلان کے گھر کے بڑے سے لاؤنج میں وہ سب بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔ صارم آریز حنا ادینہ اور ایان کی مدر شازمہ اور ایان خود۔۔۔۔۔
صارم اب بتا بھی دو تم سب کا ایک ساتھ میرے گھر پر دھاوا بولنے کی وجہ۔۔۔۔
ارسلان جو سب کو ایک ساتھ اپنے گھر دیکھ کر شیش وپنج میں مبتلا تھا پوچھ ہی لیا۔۔۔۔۔
ہاں بھئی مجھ سے بات کرو نا۔۔۔ آریز نے ارسلان اور صارم کو باہم سر جوڑے کھسر پھسر کرتے دیکھ کر اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔
ج۔۔جی بھائی ارسلان نے تابعداری کا ثبوت دیا ۔۔۔
چھوٹی منہ بڑی بات ۔۔۔۔ ہم اپنے ایزل اور حبا کا رشتہ پکا کرنے آئے ہیں ۔۔۔۔ آریز نے گویا بم پھوڑا۔۔۔۔ ایزل کے ساتھ حبا کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔۔۔۔ جان زلزلوں کی زد میں چلی گئی۔۔۔حبا کے من میں اسی خواہش نے انگڑائی لی کہ کاش عائش کے لئے اسکا نام لیا جائے ۔۔۔۔
جی بھائی ۔۔۔ دونوں ہی آپکے بچے ہیں۔۔۔۔ ارسلان رسانیت سے بولا۔۔۔۔۔
یہ شازمہ ایان کے لئے ایزل کا ہاتھ مانگنے آئی ہے ۔۔۔ سوچا تو میں نے بھی تھا ایزل کے لئے لیکن اب ایان کو ایزل پسند تھی تو تھوڑی سی ردوبدل کی گئی۔۔۔۔
بھائی وہ ایزل ۔۔۔ ارسلان نے کچھ کہنے کے لئے پر تولے کہ ایزل کے چہرے پر ایک تاریک سایہ دیکھ کر شازمہ نے بات اچک لی۔۔۔
ہمیں ایزل کے پاسٹ کے بارے میں ادینہ نے سب کچھ بتا دیا ہے۔۔۔۔ اس بچی کا اس میں کوئی قصور نہیں۔۔۔ اور میرے بچے کو پہلی دفعہ کوئی لڑکی اچھی لگی ہے۔۔۔یا پھر یوں کہیں کہ محبت خود غرض ہوتی ہے۔۔۔ ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں کہ اس کی منگنی ہوئی تھی یا نکاح۔۔۔۔ آپ پلیز انکار مت کیجئے گا۔۔۔۔ آج جس جہاں آپکی بچی کھڑی ہے کل کو کوئی اور بھی کھڑی ہوں گی جو اپنے ماضی کا خوف دل میں سمائے اپنے حال کو دیکھنے سے ڈرتی ہوگی۔۔۔۔۔۔ کسی کو تو سٹیپ لینا ہے نا۔۔۔ شازمہ کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا ۔۔۔۔
جی انکل۔۔۔۔ جب چن لیا جائے تو چہرہ معنی نہیں رکھتا ،،، ماضی نہیں پوچھا جاتا،،،،،کردار پر تبصرے نہیں کئے جاتے۔۔۔۔۔گزری ہوئی وابستگیاں نہیں پوچھی جاتی بس خوش آمدید کہا جاتا ہے ۔۔۔۔ ایان کے اتنے کھرے لہجے اور لفظوں نے سب نفوس کے دھڑکنوں کو متزلزل کردیا۔۔۔۔ میں کوئی بڑے بڑے دعوے نہیں کرتا لیکن اتنا بولنا چاہوں گا کہ آپ کی بیٹی میرے ساتھ خوش اور مطمئن رہے گی۔۔۔۔
یہ آپ لوگوں کا بڑپن ہے بھابھی۔۔۔ ارسلان متاثر ہوئے بغیر نا رہ سکا۔۔۔۔
ایزل اپنے بے ہنگم دھڑکنوں کو سلانے خاموشی سے اٹھ کر اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔۔
اور میں چاہتا ہوں حبا کو تم میری جھولی میں ڈال دو۔۔۔۔ ارمغان کے لئے۔۔۔۔۔ آریز کی بات سن کر حبا کو لگا کہ وہ دوسرا سانس نہیں لے پائے گی۔۔۔۔ غم اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں وہ بھی اٹھ کر اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔۔
ارمغان تو مجھے خود بھی بہت عزیز ہے بھائی ۔۔۔۔ بس آپ جب چاہے حبا کے نام کے ساتھ ارمغان کا نام جوڑ دے ۔۔۔۔۔ ارسلان کو تو بیٹھے بیٹھے گھر پر ہی اتنے قابل ہونہار داماد مل گئے۔۔۔ اس کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔بھئی میری طرف سے تو ہاں ہیں۔۔۔۔۔ مبارک باد کا شور اٹھا۔۔۔ سب بہت خوش تھے۔۔۔۔ اگر کسی کو اعتراض تھا تو وہ حبا تھی ۔۔۔۔ جو دل میں عائش کے سپنے سجائے بیٹھی تھی اور اب ملا تو اس کا بھائی۔۔۔۔ میں تمہارا جینا حرام کردوں گی ارمغان فاروقی ۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔۔۔۔ اب انکار بھی تم خود ہی کرو گے۔۔۔۔۔اپنے روم میں ادھر ادھر چکر لگا کر خود سے ہمکلام تھی۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ایزل کالنگ۔۔۔۔۔
ہاں ایزل بولو۔۔۔۔ کیسی ہو ۔۔۔۔ عائش نے سرسری انداز میں پوچھا۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔ عائش میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔اللہ نے میری دعائیں اور التجائیں سن لی۔۔۔۔ تمہاری ممانی آئی تھی میرا رشتہ لیکر۔۔۔ تمہارے پاپا اور ڈیڈ بھی ساتھ تھے۔۔۔۔
تو کیا کہا ارسلان انکل نے۔۔۔۔۔ عائش نے دلچسپی سے پوچھ لیا ۔۔۔۔۔
ڈیڈ نے ہاں کردی ۔۔۔۔ دکھی دلوں کی فریادیں اس طرح بھی سن لی جاتی ہے مجھے گمان بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔
تم بہت اچھی ہو ایزل۔۔۔۔۔ یو ڈیزرو بیٹر۔۔۔۔۔ ایان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے تم ملی۔۔۔۔۔۔
اور ہاں ۔۔۔۔۔ آپکے گھر والوں نے ارمغان بھائی کے لئے حبا کا ہاتھ مانگ لیا۔۔۔۔۔
واٹ۔۔۔۔ عائش کے منہ سے بلا اختیار نکل گیا ۔۔۔۔اور حبا مان گئی۔؟؟؟ ۔۔۔۔۔
اس سے پوچھا کس نے ہے۔۔۔۔ پاپا ہمارے لئے اچھا ہی سوچھیں گے۔۔۔ اور پھر ارمغان بھائی تو لاکھوں میں ایک ہے۔۔۔۔۔
چلو اچھا ہے۔۔۔ میں خوش ہوں تمہارے لئے ایزل۔۔۔۔
آئی نو۔۔۔۔ تھینکس۔۔۔
موبائل جیب میں رکھ کر پیچھے مڑا تو شارق کو خود کو گھورتے پایا۔۔۔۔
ایزل اور حبا کی بات پکی ہوگئی ۔۔۔ ایان اور ارمغان کے ساتھ۔۔۔۔۔ مختصرا بتا دیا۔۔۔۔۔
تو تمہارے چہرے پر بارہ کیوں بجے ہیں ۔۔۔۔۔ تمہاری نہیں ہورہی اسلئے ۔۔۔ مریض عشق۔۔۔۔ شارق نے ہوا میں تیر چھوڑا ۔۔۔۔۔
کل حورم کا برتھڈے ہے۔۔۔۔ اس کے لئے گفٹ لینے جانا ہے۔۔۔ اگر ساتھ چلنا ہے تو آجاؤ۔۔۔۔ اسکی بات کو مکمل نظر انداز کرکے وہ جانے لگا۔۔۔۔
عائش بس کر یار۔۔۔۔ اسے ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔ اگر پڑتا تو سالوں بیت گئے تھوڑی سی جگہ تو دے نہیں پائی اپنے دل میں۔۔۔۔۔
اور مجھے تمہارے ان فلسفوں سے کوئی فرق نہیں پڑ نے والا۔۔۔ چلو۔۔۔۔۔ میں اندر سے کھوکھلا ہوں مکمل۔۔۔۔۔
یہ ہم جیولری شاپ پر کیا کرنے آئے ہیں۔۔۔۔شارق نے حیرت سے اس کے سنجیدہ مگر پرسکون چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔
مگر عائش کو موبائل میں مصروف دیکھ کر چپ ہوگیا۔۔۔۔۔
پاپا میرے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کریں جلدی۔۔۔۔
ایک خوبصورت ہرٹ شیف لاکٹ جسمیں الفابیٹ A اور H بہت خوبصورتی سے لکھا گیا تھا اس کے سامنے کھڑے ہوکر پرائس ٹیگ چیک کرکے صارم کو وائس مسیج سینڈ کردیا۔۔۔۔۔۔
عائش تو پاگل ہے۔۔۔ اس میں ہیرے جڑے ہیں۔۔۔ہے۔۔۔۔۔ پتہ ہے تمہیں کتنے کا ہے۔۔۔۔؟؟؟
دس لاکھ۔۔۔ اندھا ہوں میں کیا ۔۔۔ مجھے بھی نظر آرہا ہے۔۔۔۔۔
بلکل آج تو مجھے بھی یقین ہوگیا ہے ۔۔۔ کہ تو واقعی اندھا ہوگیا ہے ۔۔۔۔ سنکی انسان۔۔۔۔
کیوں تمہیں پہلے شک تھا کیا۔۔۔۔
موبائل پر نوٹیفیکیشن آیا ۔۔۔ تو عائش کے آنکھیں مسکرا دی۔۔۔۔
لو یو پاپا۔۔۔۔ دوسرا مسیج سینڈ کردیا۔۔۔۔
پےمنٹ کرکے وہ لوگ شاپ سے نکلے۔۔۔۔
اب یہ دےگا کہاں پر اور کب؟؟؟ اتنا کمینہ تو پہلے نہیں تھا۔۔۔۔۔
رات کو بارہ بجے۔۔۔۔۔ تیار رہنا۔۔۔۔ اور میں ایک شریف لڑکا ہوں۔۔۔۔۔
عائش تو اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی پاگل کردے گا۔۔۔ شارق جھنجھلایا۔۔۔
دعا کرو کبھی تمہیں کسی سے شدت سے پیار نا ہوجائے۔۔۔۔اور نا کبھی تمہارا مان ٹوٹے۔۔۔۔ یہ اس طرح مجھے دیکھنا بند کردے۔۔۔۔ میں الریڈی کسی کی سحرزدہ آنکھوں کا اسیر ہوں۔۔۔۔
تم لا علاج ہو عائش۔۔۔۔ شارق نے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
م۔م۔میں نہیں جا رہا عائش۔۔۔ وہ تمہارا افریقی نسل کا کتا آنکھوں سے ہی کاٹتا ہے ۔۔۔۔۔ عائش اسے زبردستی آپنے ساتھ گھسیٹ کر لایا تھا۔۔۔۔
ہم بیک سائیڈ سے جائیں گے یار۔۔۔ تم بند کردو اپنی بک بک۔۔ عائش نے اسے ڈانٹا۔۔۔
ہائے اللّٰہ کیا زمانہ اگیا۔۔۔۔ اب بندہ اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح جائے گا۔۔۔۔ شارق نے اسے شرم دلانی چاہی۔۔۔۔۔
ادھر ہی کھڑا رہنا۔۔ اگر کوئی گڑ بڑ محسوس ہوئی تو جلدی سے مسڈ کال دینا۔۔۔۔ ہوڈی میں اپنا چہرہ چھپا کے وہ پائپ کے ذریعے اوپر چڑھ کر حورم کے ونڈو کے قریب کھڑا گیلری میں کھڑا ہوکر اپنی سانسوں کو ہموار کرنے لگا۔۔۔۔
روم میں گھپ اندھیرا تھا۔۔۔۔
حورم کے بیڈ کے قریب پہنچ کر نائٹ بلب کی روشنی میں اسے تکنے لگا۔۔۔۔ واہ جی کیا شان بے نیازی ہے۔۔۔۔ میری نیندیں حرام کرکے خود سکون کی نیند سو رہی ہے۔۔۔۔
ہیپی برتھڈے مائے لو۔۔۔ بیڈ کے سرہانے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کان میں ہلکی سی سرگوشی کی۔۔۔۔
عائش۔۔۔۔۔۔۔حورم نیند میں کسمسائی ۔۔۔۔۔
ششششش۔۔۔۔۔اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔۔۔۔
آپ جان چھڑانا چاہتی تھی نا۔۔۔ شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ کتنا بڑا ظرف رکھتی تھی آپ۔۔۔ میرا ہر دکھ جاننے کے باوجود بھی مجھے دکھ دیتی ہو۔۔۔۔
عائش م۔۔م۔۔میں۔۔۔۔۔۔وہ سسکی۔۔۔۔ بند آنکھوں سے اشک بہنے لگے۔۔۔۔۔
آنسو نہیں۔۔۔۔ یہ بہت قیمتی ہے۔۔۔ اگر تھوڑا سا بھی حق ہوتا تو ان موتیوں کو میں یوں ضائع نہیں ہونے دیتا ۔۔۔۔۔
جیب سے ڈبی نکال کر چین ہاتھوں میں لیکر دیکھتا رہا۔۔۔۔
اس کے گلے میں پہنانے لگا تو روشنی کم ہونے کی وجہ اس کی گردن کے ساتھ ہلکا سا ہاتھ ٹچ ہوا تو وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا۔۔۔ لاک نہیں لگا پایا تو ایک گرہ لگا کر چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔
ایک احسان کرنا مجھ پر۔۔۔۔ میرے احساسات میں کسی اور کو شراکت دار مت بنانا ۔۔۔۔۔ پیار تو نہیں کر پائی آپ بس کبھی نا چھوٹنے والی عادت ہی بنا لیں ۔۔۔۔
ماتھے پر اپنے لب رکھ کر کچھ دیر تک سانسیں روکے رکھی۔۔۔ اور پھر چل پڑا۔۔۔۔۔۔
عائش ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی۔۔۔ اور لائٹ آن کردی۔۔۔۔ وہ کہی بھی نہیں تھا۔۔۔۔
وہ تھا ابھی یہاں۔۔۔۔ یہ اسکی خوشبو ۔۔۔۔ یہ میرا خواب نہیں تھا وہ خواس باختہ ادھر ادھر گھومنے لگی۔۔۔۔۔۔ پھر اپنے گردن پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔جلدی سے مرر کے سامنے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔ یہ چین۔۔۔۔۔۔چین لاک نا لگنے کے باعث لڑھک کر گردن سے گرنے لگا تھا کہ اس نےدیوانگی سے اسے تھام لیا۔۔۔۔۔ ۔ وہ سچ میں آیا تھا۔۔۔ چین ہاتھ میں لیکر اسے دیکھا۔۔۔۔ اور بے اختیار چوم لیا۔۔۔۔۔ پھر دوبارہ وہ پہنے لگی۔۔۔۔۔ وال کلاک پر نظر پڑی تو بارہ بج کر بیس منٹ تھے۔۔۔۔
میں کیسے بھول گئی۔۔۔ ہر بار تو وہ سب سے پہلے مجھے وش کرنے پہنچ جاتا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ بالکنی میں آئی تو گھر سے کچھ فاصلے پر اندھیرے کونے میں وہ شارق کے ساتھ کھڑا صرف اسکا سایہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ارے یار یہ بھٹکی روح تو جاگ رہی ہے۔۔۔۔۔ تم نے جاگتے برتھڈے وش کیا تھا کیا؟؟؟۔۔۔ اس نے مارا نہیں تمہیں۔۔۔.. چہرہ دکھا اپنا۔۔۔۔ شارق الجھن سے اسے دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
سو رہی تھی یار اس وقت۔۔۔۔ میرے احساس سے جاگ گئی ہوگی یا شائد پھر عایز کے کال سے۔۔۔۔
او مسٹر مجنون۔۔۔ جاگتی آنکھوں سے سپنے دیکھنا چھوڑ۔۔۔ تمہارے احساس سے جاگتی ہوگی۔۔۔۔۔ ہنہنہنہنہ ۔۔۔۔ شارق نے اسکا مذاق اڑایا۔۔۔۔
چلو اب۔۔۔۔تمہارے اس عاشقی کے چکروں میں میری نیندیں حرام ہوگئی ہے۔۔۔۔ شارق جمائی روکنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔
یار پلیز بس کچھ دیر اور۔۔۔۔۔عایش نے منت کی۔۔۔۔
ایک سیکینڈ بھی نہیں۔۔۔۔ اور اسے گھسیٹ کر لے گیا۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
