Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 15)

Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan

نکاح اسپیشل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عائش بیٹا فلیٹ سے باہر نکلو جلدی۔۔۔۔ تمہارے لئے سرپرائز ہے۔۔۔۔عائش نے جیسے ہی میسج سین کیا۔۔۔۔ موبائل صوفے پر پھینک کر وہ عجلت میں اٹھا ۔۔۔۔

شارق عائز جلدی نیچے پہنچو۔۔۔۔ اسکے آنے کا ویٹ بھی نہیں کیا اور سر پٹ بھاگا۔۔۔ دو دو سیڑھیاں ایک ساتھ اترتا وہ نیچے پہنچا۔۔۔۔ اور آنکھیں پھیلائے حیرانی اور بے یقینی سے جیسے ہی سامنے نظر پڑی۔۔۔ ہٹانا بھول گئی ۔۔۔۔

اسکی نیو ماڈل اسپورٹس بائیک اور کار سامنے تھی۔۔۔۔ اور ساتھ میں ایک تھری فیس سوٹ پہنے ایک شخص مؤدب سا کھڑا تھا۔۔۔۔۔

وہ بکھرے تنفس سے اس شخص کے پاس پہنچا تو اس نے دو لفافے عایش کو تھما دئیے ۔۔۔۔ اس نے جلدی سے ایک لفافہ پھاڑا ۔۔۔ اس میں بائیک کی کیز کے ساتھ ایک چھوٹا سا کارڈ تھا ۔۔۔۔

ایڈوانس ہیپی برتھڈے مائی سن۔۔۔ اینڈ لو یو سو مچ۔۔۔۔

لو یو سو مچ ڈیڈ ۔۔۔ اس نے کارڈ چوما۔۔۔۔۔

اور پھر دوسرا لفافہ کھولا تو اسمیں سامنے کھڑے سپورٹس کار کی کیز تھی۔۔۔۔ اور ساتھ میں ایک کارڈ۔۔۔۔۔

یہ تیرے ہی فیصلے ہیں کہ آج دور ہیں ہم۔۔۔

ورنہ تجھ سے زیادہ قریب میرے کوئی نا تھا۔۔۔

مجھے آزماتی ہے تیری کمی

میری ہر کمی کو ہے تو لازمی۔۔۔

ہیپی برتھڈے جان صارم۔۔۔۔۔۔۔۔

دو لائینز پر مشتمل کارڈ میں وہ اپنا پیار جتا گیا تھا۔۔۔۔

عایز اور شارق نیچے آگئے تو وہ عائز سے چمٹ گیا۔۔۔۔اور ہاتھ پکڑ کر گول گول گھومنے لگا۔۔۔۔آئی لو یو پاپا اینڈ ڈیڈ۔۔۔ پھر عائز کو اس طرح جھولتا ہوا چھوڑ کر وہ شارق کے پاس گیا اور اسکو گھمانے لگا۔۔۔۔

مجھے چکر آرہے ہیں چھوڑ مجھے کمینے۔۔۔۔ شارق لڑکھڑایا۔۔۔۔

بھائی ہوا کیا ہے۔۔۔ اور یہ کس کی گاڑی اور بائیک ہے۔۔۔۔۔ عائز ہونقوں کی طرح منہ کھولے سامنے گاڑی اور بائیک کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

یہ میرا برتھڈے گفٹ ہے۔۔ پاپا اور ڈیڈ کی طرف سے۔۔۔۔۔ اور عایز کو زور سے کس کرکے وہ گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔۔ اور گاڑی سٹارٹ کرکے زن سے بھگا لے گیا اور کچھ ہی منٹ کے بعد واپس لے آیا۔۔۔۔ پھر بائیک پر حسرت سے ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔

شکر ہے تمہاری تیسری محبوبہ بخیریت پہنچ گئی۔۔۔۔۔۔شارق بھی خوش تھا اس کے لئے۔۔۔۔

ہائے میں واری جاؤں اپنے پاپا اینڈ ڈیڈ کی الفت بھری عنایتوں پر۔۔۔۔۔

اور اسکا یہ اتاولہ پن اور دیوانگی دور بالکنی میں کھڑی دو سبز آنکھیں بڑی توجہ و الفت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کیا کبھی یہ شخص اسکا ہو پائے گا۔۔۔ جس کو اس نے خود ٹکرا کر اپنےآپ سے بدظن کرک پردیس کا باسی بنایا تھا ۔۔۔۔۔ عائش کے کردار کی پختگی کی وہ خود گواہ تھی ۔۔۔ وہ کوئی نفس پسند بندہ نہیں تھا ۔۔ جو کسی بھی حسین چہرے کو دیکھ کر بہک جاتا۔۔۔۔ اسکی محبت کی طاقت اسے یہاں تک لے کر آئی تھی۔۔۔۔ اس نے غیر عورت پر کبھی دوسری نگاہ تک نہیں ڈالی اور اس نے اسکے کردار کو اس کی ماں کی نظروں میں مشکوک بنایا تھا۔۔۔۔۔۔

مجھے بھی کس کرو نا۔۔۔ شارق نے جل کر کہا۔۔۔۔

وہ بھائی ہے میرا۔۔۔۔

تو میں کیا سالا ہو تیرا ۔۔۔۔ شارق بھلا کم تھا کسی سے۔۔۔۔۔

سالے کی بہن کو کرتے ہیں کس۔۔۔۔ بے غیرت انسان۔۔۔۔ اب تمہاری بہن خود ٹھکرا کر چلی گئی ساتھ میں تیری بھی قمست پھوٹی۔۔۔۔

میں آپی کو بلا کر لاتا ہوں۔۔۔۔۔ عایز جانے لگا تو عایش نے اسکا بازو پکڑ کر کھینچ لیا ۔۔۔۔۔

اسے کوئی حق نہیں ہے ہمارے خوشیوں میں شریک ہونے کا۔۔۔۔ اب کے بار تمہیں بھی مہارت سے دھتکار دے گی ۔۔۔۔ چھوڑو اسے۔۔۔ ہم اپنی لائف جیتے ہیں۔۔۔ بہت ہوگیا عشق و محبت کا کھیل۔۔۔۔ کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا۔۔۔ سوائے ذلالت کے۔۔۔۔ وہ لڑکی محبت کے م سے بھی ناواقف ہے۔۔۔اب تمہارے بھائی کو بھیک میں ملی ہوئی خیرات نہیں چاہئے۔۔۔۔۔۔ اسے بھی تو پتہ چلے نا اس نے عایش فاروقی کی محبت کی توہین کی ہے جو لاکھوں دلوں میں بستا ہے۔۔۔ وہ دونوں کو ساتھ بٹھا کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تو نظریں بالکنی میں کھڑی وجود سے ٹکرائی۔۔۔۔ دور سے بس وہ ایک حسین موم مجسمے کی طرح آنکھوں کو تسکین دے رہی تھی۔۔۔۔ جب کے قریب پہنچ کر وہ چھ فٹ کے ایک مضبوط انسان کو محبت میں مات دے گئی تھی ۔۔۔۔۔ مایوسی سے سر جھٹک کر گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔۔

بارہ بجے عائش کی برتھڈے تھی۔۔۔۔ وہ لوگ اچھی خاصی شاپنگ کررہے تھے۔۔۔۔ ساتھ میں کیک بھی آرڈر کردیا تھا۔۔۔۔ وہ گھر والوں کے سامنے ہی کیک کاٹتا ویڈیو کال پر۔۔۔۔۔اسے آنے میں کافی دیر ہوگئی اسلئے کھانا اپنے ساتھ پیک کرکے لے آئیں ۔۔۔۔۔

چھوٹے سے ہال کو شارق بیلون اور پھولوں کی تازہ لڑیوں سے سجانے لگا۔۔۔۔ اور عائز کھانا گرم کرکے ٹیبل پر لگانے لگا۔۔۔ جبکہ حورم اپنے روم میں تھی۔۔۔۔۔

عشاء کی نماز پڑھ کر وہ باہر نکلی تو سب کو افراتفری میں تیاریوں میں مصروف پایا۔۔۔۔

شارق میں کچھ ہیلف کردو۔۔۔۔ شارق کے قریب آکر مدہم لہجے میں بولی۔۔۔۔۔

نہیں آپ رہنے دے۔۔۔ شارق کر لے گا۔۔۔۔۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ عائش نے سہولت سے انکار کردیا۔۔۔۔۔

آپ جاکر ٹیبل پر بیٹھ جائے ہم آرہے ہیں ۔۔۔۔ عائز نے کھانا لگا دیا۔۔۔۔

وہ بوجھل قدموں سے ٹیبل تک ائی۔۔۔

عائز نے اسکی آنکھوں میں چبھن نوٹ کی۔۔۔۔اور پوچھ لیا ۔۔۔۔

آپی طبیعت ٹھیک ہے آپکی۔۔۔ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا۔۔۔

یہ عائش میرے ساتھ ایسا بیہیو کیوں کررہا ہے ۔۔۔۔

کیسا بیہیو۔۔۔۔ عائز کا دل کسی نے مٹھی میں جھکڑ لیا اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر۔۔۔۔

اگنور کر رہا ہے مجھے۔۔۔۔ بات بات پہ کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔

آیک طرف تو اچھا ہے نا اپی۔۔۔ آپکو تنگ تو نہیں کرتا۔۔۔۔ چھوڑو اسے۔۔۔۔

تت تم۔۔۔۔ تم جانتے ہو۔۔۔ احساس اہانت سے چہرہ سرخ ہوگیا۔۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔ سب جانتا ہوں میں۔۔۔ عائش شارق آکر کھانا کھا لو۔۔۔۔ مزید وہ کچھ بھی نہیں بول سکتا تھا۔۔۔۔

خاموشی سے کھانا کھایا گیا تو سب اٹھ گئے ۔۔۔۔

حورم بھی اپنے روم میں آگئی تو تھوڑی دیر بعد عائز اسکے پیچھے اگیا۔۔۔

یہ بھائی نے خریدا ہے آپکے لیے۔۔۔۔ ایک شاپر ٹیبل پر رکھ کر وہ چلا گیا۔۔۔۔ اس نے شاپر کھولا تو ایک پیاری سی مسٹرڈ نیٹ میکسی تھی۔۔۔فل سلیوز جس کے بیک اور فرنٹ گلے پر سفید موتی لگے ہوئے تھے۔۔۔۔ اور اور اس کے ساتھ میچنگ اسکارف تھا ۔۔۔ حورم کے آنکھوں میں ستائش تھی۔۔۔۔ ابھی بارہ بجنے میں 3 گھنٹے تھے اس نے تھوڑا سا ارام کرنے کا سوچا۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^

کیک آچکا تھا۔۔۔ وہ تینوں بھی تیار ہوگئے تھے۔۔۔ آدھا گھنٹا باقی تھا۔۔۔۔

عائز لگتا ہے تمہاری بہن سو گئی ہے۔۔۔ تم نے اسے بتایا تھا نا۔۔۔۔ عائش استہزایہ ہنسا۔۔۔۔

واٹ۔۔۔۔ عایز کیوں بتائے گا۔۔۔۔ تمہیں خود بتانا چاہیے تھا ڈفر۔۔۔۔۔ شارق نے اسے لتاڑا ۔۔۔

کوئی انتہائی قسم کے بےغیرت انسان ہو تم۔۔۔۔۔

وہ خود اٹھا اور حورم کے روم کا دروازہ ناک کیا۔۔۔ مگر شاید وہ واقعی سو رہی تھی ۔۔۔۔ نا آواز دی نا دروازہ کھولا۔۔۔۔

اگر اسے اتنی فکر ہوتی نا تو اسے انویٹیشن کی ضرورت قطعی نہیں ہوتی۔۔۔۔ عائش جتاتے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔

بھائی اپنا ایگو سائڈ پہ رکھ اور جاکر دیکھ لے۔۔۔ کیا پتا آپکے بلانے کا ویٹ کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ آفٹر آل برتھڈے بوائے ہو۔۔۔۔ آپکے لئے اتنا بڑا دن ہے۔۔۔ پچھلے سال کتنا روکھا پھیکا سا سیلیبریٹ کیا تھا۔۔۔ اٹلیسٹ اس بار گھر کا کوئی فرد تو ہے پاس۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔

اس نے ڈور ناک کیا اور ساتھ میں آواز بھی دی تھوڑا سا دھکا لگایا تو دروازہ کھل گیا۔۔۔۔ وہ اندر داخل ہوا تو حورم کے پرفیوم کی مسحور کن خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔۔۔

وہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر جھکی میڈیکل باکس سے کاٹن اور فائیوڈین نکال رہی تھی لاک کلک کے ساتھ پیچھے مڑ کر دیکھا تو عایش کے نظروں سے نظریں ٹکرائی ۔۔۔۔عایش کو لگا جیسے پوری دنیا ساکت ہوگئی ہو ۔۔۔۔۔

سفید رنگت پر چھائی لالی۔۔۔۔۔سرخ ناک خوبصورت گرین آئیز پر سایہ فگن گھنی خمدار پلکیں۔۔۔۔ بغیر کس سنگھار کے صرف لبوں پر پنک کلر لپ گلوز لگایا تھا۔۔۔ اسکے تیکھے نقوش نے اسے مبہوت کردیا۔۔۔ بال پشت پر بکھرے پڑے تھے ۔۔۔۔

کمرے میں چھایا سکوت اور عایش کی نظروں کی وارفتگی محسوس کرکے حورم کا دل دھک دھک کرنے لگا۔۔۔

مم۔میں آرہی تھی و۔وہ مم۔میرے سس۔سر کا زخم۔۔۔۔ عایش کے آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ کر سٹپٹا کر بات مکمل نہیں کر پائی تو ہاتھ میں پکڑے کاٹن اور فائیوڈین کو دیکھا۔۔۔

بیوٹیفل ۔۔۔۔۔۔ وہ سحر ذدہ سا بولا ۔۔۔۔۔

عائش ۔۔۔ حورم نے دوبارہ اسے پکارا ماحول میں چھایا طلسم ٹوٹ گیا۔۔۔۔

اسکے ہاتھ سے کاٹن لیکر فائوڈین لگا کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

کہاں؟؟؟؟؟ تو اسکی طرف پشت کرکے وہ مڑی۔۔۔۔اور اشارے سے اسکو جگہ دکھائی ۔۔۔

کیا کیا آپ نے اس کے ساتھ۔۔۔۔۔زخم دیکھ کر ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔

برش کرنے لگی تھی بال تو ۔۔۔۔

احتیاط سے کرتی نا ۔۔۔ پھر سے خون بہنے لگا تھا ۔۔۔۔ اس نے خون صاف کرکے پٹی لگا دی ۔۔۔۔

بال باندھ لے پھر باہر اجائے۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔ ٹشو نکال کر اسکے ہونٹ صاف کر دیے۔۔۔۔ بغیر اس کے بھی گھائل کردیا ہے۔۔۔۔

اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے جلدی جلدی بال باندھ لئے اور اسکارف سیٹ کرکے باہر نکل ائی۔۔۔۔

واوووو۔۔۔ ماشاءاللہ ماشاءاللہ ۔۔۔ یو لک گارجئیس ۔۔۔ عائز نے دل سے سراہا۔۔۔دل تو گلے لگانے کا کر رہا تھا مگر عائش کی دی گئی وارننگ بھولا نہیں تھا۔۔۔۔

مطلب حد ہے خود جو مرضی کرلے ہم گلے بھی نہیں لگا سکتے۔۔۔ اسکی بڑبراہٹ عائش نے واضح سن لی ۔۔۔۔۔ تو متبسم ہوا ۔۔۔۔

وہ سب کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔۔ دس منٹ باقی تھے۔۔۔۔ عائش کا موبائل رنگ ہوا ۔۔۔۔ اس نے آن کیا تو گروپ کال کیوجہ سے سب ایک ساتھ سکرین پر نظر اگئے۔۔۔ اسکی مما اور موم ایک ساتھ۔۔۔ ارمغان حبا دوسری طرف ۔۔۔ زارش بھی موجود تھی۔۔۔سنینہ اسفند ملیحہ ۔۔۔ ایزل کے ساتھ ایان تھا۔۔۔ اور لاسٹ میں ارسلان اور مہک ۔۔۔ سب کے دلوں میں بستا تھا عائش تو پھر اسکے اتنے بڑے دن پر کیسے اسکے ساتھ کیوں نہیں ہوتے ۔۔۔۔ وہ سب اتنے دور تھے مگر دلوں کے قریب تھا۔۔۔ ادھر حورم اسکے پاس تھی مگر دل سے دور تھی ۔۔۔۔۔

موم ڈیڈ اور پاپا کہاں گئے۔۔۔ عایش کی بے تاب نظریں جن دو افراد کو دیکھنے کے لیے بے چین تھی وہ نہیں تھے ۔۔۔۔۔

وہ ابھی آرہے ہیں باہر ہیں۔۔۔۔ ادینہ نے جلدی سے جواب دیا ۔۔۔۔۔

بارہ بجنے میں صرف دو منٹ تھے ۔۔۔۔ عایز نے موبائل پکڑ کر بیک کیمرہ ان کیا۔۔۔ عائش نے چھری اٹھائی مگر ابھی تک اس نے آریز اور صارم کی آواز نہیں سنی۔۔۔۔

وال کلاک نے بارہ کا ہندسہ عبور کیا تو سب ایک ساتھ برتھڈے وش کرنے لگے۔۔۔۔

چھری پر اس کی گرفت سخت ہوگئی ۔۔۔ آنکھیں بھر آئی کہ پیچھے سے ہی دو ہاتھوں نے اسکے کمر کے گرد حصار باندھ لیا ۔۔۔۔۔

ہیپی برتھڈے جان صارم۔۔۔۔۔ اور ساتھ میں کان میں سرگوشی ہوئی ۔۔۔۔۔۔

پاپا۔۔۔۔۔ لبوں نے صرف جنبش کی آواز نہیں نکلی۔۔۔۔ اور سرعت سے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔

پاپا ڈیڈ ۔۔۔۔انکھیں دھندلا گئی۔۔۔۔ مم۔میں خواب تو نہیں دیکھ رہا نا۔۔۔ ایک ساتھ دونوں کے گلے لگا اور دونوں نے ہی اسے پیار کیا۔۔۔۔

کیسا لگا سرپرائز میرا بچا۔۔۔ اسفند کی آواز موبائل سے ائی۔۔۔۔

دل کو چھو جانے والا انکل۔۔۔۔ عائش نے بڑی چاہ سے اپنے پاپا اور ڈیڈ کو دیکھا ۔۔۔۔۔

دونوں نے عائش کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کیک کاٹا ۔۔۔۔

پھر صارم اور آریز سب سے ملے۔۔۔ عائز تو باپ کے سینے سے چپک کر اسکا شفقت بھرا لمس محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔

جب آنا ہی تھا تو اپنے گفٹس ایڈوانس کیوں بھجوائے۔۔۔۔ عائش نے شکوہ کیا ۔۔۔

اگر سارا سرپرائز ایک ساتھ دیتے تو تمہارے اس خوبصورت چہرے پر اتنے حسیں رنگ کہاں دیکھنے کو ملتے۔۔۔۔اریز نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔

عائش نے باری باری سب کو کیک کھلایا… کافی دیر تک وہ لوگ ساتھ بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے۔۔۔۔

بھئی ہم تو تھک گئے ہیں لمبا سفر کرکے آئے ہیں اور پھر بارہ بجے تک ویٹ کرنے کے لئے ادھر ادھر بھٹکے رہے۔۔۔ تو ہم تو چلے سونے۔۔۔۔صارم اٹھنے لگا تو سب ایک ساتھ اٹھ گئے ۔۔۔۔

حورم بچا تم آرہی ہو میرے ساتھ۔۔۔ جاتے جاتے حورم سے بھی پوچھ لیا۔۔۔۔

نہیں پاپا آپ عائش اور عایز کو اپنے ساتھ سلا دے مین ڈیڈ کے ساتھ ہی سو جاؤںگی۔۔۔۔۔حورم نے آگے بڑھ کر اس کے گال پر پیار کیا۔۔۔۔۔

چلو ٹھیک ہے۔۔۔بھائی میری بیٹی کا خیال رکھنا۔۔۔۔ ساتھ میں آریز کو بھی وارن کیا۔۔۔۔۔

وہ عائش شارق اور عائز کو لیکر شارق کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ عایش کے روم میں حورم کےساتھ اسکے ڈیڈ تھے۔۔۔۔۔

بہت مشکل تھا چاروں کا ایک ساتھ بیڈ پر سونا۔۔ شارق بضد تھا ہال میں سونے کے کئے۔۔۔بٹ صارم اسکے باہر سونے کے حق میں نہیں تھا۔۔۔۔ اسلئے مجبوراً ایک دوسرے سے جڑ کر لیٹ گئے۔۔۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔ آپ لوگ ایسے اچانک۔۔۔۔ مجھے بھی نہیں بتایا۔۔۔ آریز جو سونے لگا تھا حورم کے سوال پر رح اسکی طرف موڑ کر مسکرایا۔۔۔۔

جی بیٹا خیریت ہے۔۔۔۔ تم سو جاؤ باقی باتیں کل کرلیں گے۔۔۔۔۔

جی۔۔۔۔۔۔ گڈ نائٹ۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^^

وہ صارم کے بازؤں پر سر رکھ کو آنکھیں بند کئے لیٹا تھا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔ بار بار حورم کا دلکش سراپا اس کے نگاہوں میں آرہا تھا۔۔۔۔۔ کیا وہ اتنی حسین ہے کہ میں نے آج تک کسی اور لڑکی کو دوسری نظر دیکھ بھی نہیں۔۔۔۔ شکر ہے پاپا لوگ آگئے اس کے ساتھ چلی جائے گی۔۔۔۔

عائش نے پاس لیٹے شارق کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔

شارق۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔

مجھے باہر جانا ہے۔۔۔۔

کس لئے۔۔۔۔۔

فرسٹ محبوبہ سے ملنے۔۔۔۔

دیکھ عاشی تو سیکنڈ محبوبہ سے مل میں منع نہیں کروں گا۔۔۔۔ بٹ یہ رسکی ہے یار۔۔۔۔شارق کو جب کبھی اپنی بات منوانے ہوتی وہ اسے عاشی ہی بلاتا۔۔۔۔۔

ابے چپ کر تو۔۔۔۔۔ دادا مت بن۔۔۔۔ عائش نے ڈپٹا۔۔۔۔

دماغ کا سکریو ڈھیلا تو نہیں ہوگیا۔۔۔۔ اسکا باپ موجود ہے۔۔۔ادھر پہلو میں تمہارا باپ ہے۔۔۔۔۔شارق نے اسے شرم دلانی چاہی۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا بس ایک منٹ کے لئے تو سمبھال لے۔۔۔ اس سے برتھڈے گفٹ لینا ہے۔۔۔۔عایش نے انکھ دبائی۔۔۔۔

کک۔۔کیا کرنے والا ہے عاشی۔۔۔۔۔

ذیادہ کچھ نہیں بسسسسس۔۔۔۔

یہ تم دونوں کیا کھسر پھسر کر رہے ہو سوجاؤ۔۔۔ صارم نے اس کو اپنے قریب کرکے سینے سے لگا دیا ۔۔۔۔۔

چل بیٹا حورم نا سہی اپنے باپ سے ہی پیار کرلے ۔۔۔۔ شارق نے اپنے قہقے کا گلا گھونٹا۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^

صبح ناشتے کے بعد صارم عائش کو لیکر حورم کے روم میں چلا گیا ۔۔۔۔۔

حورم اپنے باپ کے کندھے سے لگ کر اسے ایگزیبیشن کے بارے میں بتا رہی تھی ۔۔۔۔۔کہ عایش اور صارم کو کمرے میں انٹر ہوتے دیکھا تو وہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔

عائش آریز کے ساتھ بیٹھ گیا اور ساتھ میں صارم۔۔۔

سٹڈی وغیرہ کے بابت پوچھنے کے بعد صارم نے عائش کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔۔۔۔

عائش ۔۔۔۔

جی پاپا۔۔۔۔۔

کتنا پیار کرتے ہوں اپنے پاپا سے۔۔۔۔۔

یہ تو آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں نا ۔۔۔۔ عائش کے چلتی سانسوں کی ڈور اسکے پاپا کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔۔ عائش نے اس کے ہاتھ کی پشت پر ہونٹ رکھ دئے۔۔۔

ہممم۔۔۔میری ایک بات مناؤگے۔۔۔۔ صارم مدعے پر ایا۔۔۔۔۔

ایک بات کیوں ہزاروں لاکھوں تو بولے۔۔۔ بلکہ حکم کرے۔۔۔۔ آپکا بیٹا آنکھ بند کرکے مان لے گا۔۔۔۔

سوچ لو۔۔۔ بات بہت بڑی ہے۔۔۔۔صارم پرکھنا چاہتا تھا اسے۔۔۔۔۔

اوہ پاپا۔۔۔۔ آپ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ اور ایسی کیا بات ہے جس کے لئے آپ اتنے تمہید باندھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

اگر میں تمہاری شادی کرنا چاہوں تو۔۔۔۔۔۔۔ اسے لگا صور پھینکا گیا ہو سماعتوں میں۔۔۔۔۔

شش۔شادی۔۔۔۔عایش کی حیرت میں گھٹی گھٹی آواز نکلی۔۔اعصاب سن ہوگئے ۔۔۔۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوگئی ۔۔۔۔ اتنی جلدی۔۔۔ مم۔میں تو ابھی پڑھ رہا ہوں نا۔۔۔ عائش کے حواس جھکڑ لئے گئے تھے۔۔۔۔۔ مگر باپ کے سامنے کسی طرح طرح ردعمل نہیں کرپا رہا تھا ۔۔۔۔دماغ کے پردوں پر رات کے کئی مناظر لہرانے لگے جب حورم اس کے ہی لائے گئے سوٹ میں اس کے سامنےاپنی خوشربا حسن لئے کھڑی تھی۔۔۔۔

اور ایسا ہی کچھ حال سامنے بیٹھے وجود کا بھی تھا ۔۔۔احساسات جیسے سرد ہوگئے۔۔۔ سینے میں خوف سے سہما دل پھڑپھڑانے لگا۔۔۔ کیا اس نے عایش کو کھو دیا۔۔۔زرد پھیکی رنگت کے ساتھ وہ اٹھ کر باہر جانے لگی۔۔۔۔ مزید کچھ سننے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔۔۔پلٹ کر دیکھا تو غیر ارادی طور پر نظریں عائش کی حالی نظروں سے الجھنے لگی۔۔۔اور اسکی آنکھوں میں سلگتی چنگاریاں دیکھ کر دل مسوس کر رہ گئی۔۔۔ عائش کو حورم کی بےحسی پر غصہ آنے لگا۔۔۔۔

کک۔کس سے۔۔۔۔عایش کا خون خشک ہونے لگا تھا۔۔۔

بتادوں گا۔۔۔ پہلے ہاں تو کرلو۔۔۔ میری پسند کی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔

عایش۔۔۔۔اسے خاموش دیکھ کر صارم نے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر پکارا ۔۔۔

جج۔۔۔جی پاپا۔۔۔۔ مم میں کرلوں گا۔۔۔۔ آپ کو جس سے بھی کروانی ہے۔۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنے باپ کو انکار نہیں کرپایا۔۔۔۔ اگر کرتا بھی تو کس امید کے سہارے۔۔۔

آئی ایم پراوڈ آف یو میرا بچا۔۔۔۔ صارم نے اسکا ماتھا چوما۔۔۔۔۔ اسے اب کوئی انٹرسٹ ہی نہیں رہا تھا سننے میں کہ اس کے باپ نے کس کا سوچا ہے ۔۔۔۔ بس اٹھ کر روم سے نکلا اور شارق کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ فلیٹ سے باہر لے ایا۔۔۔۔

شارق اسکے سنجیدہ اور پتھریلے تاثرات دیکر ہول اٹھا۔۔۔۔۔ گاڑی کی کیز شارق کو دیکر خود فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

شارق نے چپ چاپ گاڑی سٹارٹ کردی۔۔۔ ایک خاموش جگہ پر اس نے شارق کو گاڑی روکنے کا کہا۔۔۔۔

عائش ۔۔۔ بےدردی سے اسے ہونٹ کچلتے دیکھ کر اس نے عائش کو پکارا ۔۔۔۔۔

کیا بول رہے تھے انکل۔۔۔۔شارق ہراساں اسے تکنے لگا ۔۔۔۔۔

شارق سس۔سب ختم ہوگیا ۔۔۔۔ نڈھال سا گاڑی کے پشت سے سر ٹکا دیا۔۔۔۔۔

میرے احساسات میرے جزبات م میرا مان سب کچھ تہس نہس ہوگیا۔۔۔۔ضبط ٹوٹا اور وہ شارق کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔۔۔۔۔

عاشی بول بھی دو جان جانے لگی ہے۔۔۔ شارق کا تنفس بگڑنے لگا ۔۔۔

پاپا میری شادی کروانا چاہتے ہیں ۔۔۔مم۔مطلب آج ہی نکاح۔۔۔۔

کس سے۔۔۔ تم نے انکار کیوں نہیں کیا۔۔۔ تم بتا دیتے نا کہ تم حورم۔۔۔

نہیں بتا سکا۔۔۔ اپنے باپ کا بھرم نہیں توڑ سکتا تم جانتے ہو نا میرے سانسوں میں بستا ہے میرے پاپا۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک مان تھا نا ٹوٹنے والا مان۔۔۔۔

تو کیا کرے گا اپنی محبت کو قربان کردے گا۔۔۔۔۔شارق تلملایا۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔ کردوں گا۔۔۔۔۔حورم کا چیپٹر یہاں پر کلوز۔۔۔۔ روح تک گھایل ہوچکا تھا اس کا۔۔۔۔سوگ منانے کا وقت شروع ہوگیا ۔۔۔

دکھ رحم اور تاسف بھوری نگاہوں سے اپنے دوست کو دیکھ کر اسے آج پہلی بار اسے محبت کے صحیح معنی سمجھ میں آئی ۔۔۔ جو عائش فاروقی اپنے پاپا صارم فاروقی سے کرتے تھے۔۔۔۔وہ لو ایڈکٹ انسان تھا۔۔۔

چلو گھر چلتے ہیں۔۔۔۔ پاپا ویٹ کر رہے ہوں گے۔۔۔۔

ایک دم سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے اس نے شارق کے کندھے پر سر رکھ دیا ۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^

واٹ۔۔۔۔ ڈیڈ آپ لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہیں عائش کے ساتھ۔۔۔۔ اریز اس کے پاس آکر اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے لگا تو وہ بھڑک اٹھی۔۔۔۔ آپ نے میری محبت کی بھیک مانگی کر میری محبت کی توہین کردی ۔۔۔۔اور اپنا سر بھی جھکا لیا ۔۔۔ اتنی کمزور نہیں تھی میں ڈیڈ۔۔۔سمبھل جاتی۔۔۔۔ زبردستی ایک رشتے میں بندھنے سے بہتر تھا کہ میں تھوڑا تکلیف سہہ لیتی ۔۔۔ مگر ایک من چاہی بیوی بن کر ساری عمر آہیں تو نہیں بھر سکتی۔۔۔ اس نے عائش کی نظروں کا گریز اور بے رخی دیکھی اور محسوس کی تھی ۔۔۔۔

میں نے کسی سے بھیک نہیں مانگی۔۔۔ بس اپنی خواہش کا برملا اظہار کیا صارم اور گھر والوں کے سامنے۔۔۔۔۔ آریز نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔۔

ڈیڈ۔۔۔۔ عائش کا کیا۔۔۔ وہ راضی تو ہو گیا بٹ کیا گارنٹی ہے کہ وہ کبھی مجھے وہ مان سمان دے پائے گا تو من چاہی بیوی کو ملنا چاہیے ۔۔۔۔

ہمارا بچا ہے وہ ۔۔ کسی غیر کے ہاتھوں نہیں سونپ رہے ہیں کہ تمہیں بیوی والا مقام درجہ نہیں دےگا۔۔۔ ہم نے جو فیصلہ لیا ہے سوچ سمجھ کر لیا۔۔۔۔۔اب تم شام تک تیار رہنا۔۔۔ نکاح ہوگا۔۔۔۔ مجھے اور صارم کو واپس بھی جانا ہے۔۔۔ کافی سارے کام پینڈنگ چھوڑے ہیں۔۔۔۔

نکاح۔۔۔۔ حورم نے اپنا حلق تر کرنا چاہا۔۔۔۔

ہاں بغیر نکاح تو یہاں ہمیشہ کیلئے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔

تو چھوڑ کیوں رہے ہیں آپ مجھے یہاں۔۔۔آپ لوگوں کے ساتھ چلی جاؤں گی نا۔۔۔۔ کونسا وقت بھاگا جارہا ہے۔۔۔ وہ بھی ابھی پریکٹیکل لائف میں انٹر نہیں ہوا۔۔۔ اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے دے ۔۔۔۔ اسکے خواب پورے کرنے دے۔۔۔۔

عایش کی ڈگری مکمل ہوجائے اس کے ساتھ پھر تم واپس چلی انا۔۔۔۔۔ میں مزید بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔۔یہ صارم کا فیصلہ تھا۔۔۔۔ تمہارے رشتے آرہے ہیں تو صحیح ہے کہ بات سامنے آئے تو سب لوگوں کی نظر تم پر سے ہٹ جائے گی۔۔۔۔۔دو ٹوک فیصلہ سنا کر وہ چلے گئے۔۔۔

وہ اور صارم پتہ نہیں کہاں نکل گئے ۔۔۔۔۔ وہ اپنے روم میں بند ہوگئی ۔۔۔۔

عائش اور شارق گھر اگئے۔۔۔۔ تو عایز کو بے چینی سے انتظار کرتے پایا۔۔۔۔

یہ گھر میں سب اتنے پر اسرار کیوں ہورہے ہیں۔۔۔کوئی بتائے گا مجھے۔۔۔۔ مجھ سے کیا چھپایا جا رہاہے۔۔۔ دبے دبے غصےمیں بولا۔۔۔۔

عایش اس کے قریب ایا۔۔۔ اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگایا اور اپنے سر پر رکھا ۔۔۔۔ تمہیں اپنے بھائی کی قسم مرتے دم تک میرے بارے میں پاپا یا کسی سے کچھ بھی نہیں بولو گے کہ میں حورم سے پیار کرتا تھا ۔۔۔۔ بس وہ باب ختم ۔۔۔۔۔ آنسووں کا پھندہ خلق سے اتارا ۔۔۔۔

عایز کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیوں ایسا بول رہا ہے۔۔۔۔جلدی سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔

عایز ۔۔۔۔ صارم انکل اپنی مرضی سے اسکی شادی کروانا چاہتے ہیں۔۔۔۔

ایسے کیسے۔۔۔ یہ مذاکرات اس لئے ہو رہے تھے۔۔۔ پاپا ایسا کیسے کرسکتے ہیں بھائی کے ساتھ۔۔۔ میں بات کرتا ہوں ان سے۔۔۔ وہ غصے سے گرجا۔۔۔۔

عائز میں مقروض ہوں اپنے باپ کے بے لوث محبتوں کا۔۔۔۔۔ وہ پیار کرتے ہیں ہم سے۔۔۔ ان کے لئے ایک کیا سو حورم کو بھی چھوڑنا پڑے تو ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا ۔۔۔۔

پاگل ہو کیا۔۔۔ سب پیرنٹس کرتے ہیں بچوں سے پیار۔۔۔ صرف ہمارے پیرنٹس نے نہیں کیا کہ سود سمیت واپس مانگ لے ۔۔۔بچوں کی خوشیاں ضبط کرے۔۔۔ میں نہیں ہونے دوں گا یہ ۔۔۔۔ عایز کا دماغ ماؤف ہورہا تھا اپنے بھائی کے بزدلی پر ۔۔۔۔

میں نے دیکھی ہے آپ کی تڑپ آپکی بے چینیاں بے تابیاں ۔۔۔۔انسو پلکوں کا بند ٹوٹ کر گالوں پر بہنے لگے۔۔۔۔۔

قسم دے دی تمہیں۔۔اس نے کوئی اس امید بھی تو نہیں دلائی تھی نا ۔۔۔۔ میرے دل میں اس کے لئے جتنے جزبات تھے وہ ابھی سے ختم۔۔۔۔۔نا کوئی حوصلہ نا اشارہ دیا تھا اس نے ۔۔۔۔۔ باقی سمجھدار ہو۔۔۔ عائش نے چھبا تیر اس کے دل میں پیوست کردیا۔۔۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^^

عایش۔۔۔۔۔وہ گیلری میں کھڑا اسموکنگ کر رہا تھا کہ شارق نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہکارا۔۔۔۔۔

ہممممم ۔۔۔

وہ انکل لوگ آگئے اور ساتھ میں مولوی صاحب بھی۔۔۔۔۔۔۔اگر یہ لوگ نکاح یہاں پر کروانا چاہتے ہیں تو ضرور لڑکی بھی یہاں کی رہنے والی ہوگی نا۔۔۔۔ اور اتنی ایمرجنسی میں نکاح کیوں۔۔۔۔تم نے پوچھا نہیں تھا کہ کون سی لڑکی۔۔۔۔۔شارق متعجب سا بول رہا تھا ۔۔۔۔

مجھے نہیں ہے انٹرسٹ۔۔۔۔ یہاں کی ہے پاک کی ہے یا کہیں اور کی۔۔۔ اتنا بڑا شاک لگا تھا مجھے۔۔۔۔ اتنی ہمت ہی نہیں ہوئی کہ پوچھ لیتا لڑکی کون ہے باپ کون ہے۔۔۔ ذات کونسی ہے۔۔۔۔ بس پاپا کو پسند ہے ایکسپٹ کرلوں گا۔۔۔۔

پھینکو اسے چلو۔۔۔۔۔اسکے ہاتھ سے سیگریٹ لیکر نیچے پھینک دیا اور اسے بازوؤ سے پکڑ کر اندر لے آیا۔۔۔ جہاں آریز , صارم عائز صارم کے دو تین دوست اور بھی تھے جسکو عائش جانتا تھا ۔۔۔۔۔ صارم نے اپنے پاس اسے بٹھادیا۔۔۔ اور مولوی صاحب کو اشارہ کردیا نکاح شروع کرنے کا۔۔۔۔۔

عائش نے پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر رومال نکال کر سر پر باندھ دیا۔۔۔۔

کچھ دعائیں پڑھ کر مولوی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کردیا۔۔۔۔۔

عائش فاروقی ولد صارم فاروقی آپکا نکاح حورم فاروقی ولد آریز فاروقی بغوض حق مہر پچاس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت طے پایا ہے ۔۔۔ کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔

اسے لگا ساتوں آسمان دھڑ دھڑ اسکے سر پر گرنے لگے ہیں۔۔۔۔صحیح معنوں میں آسمان ٹوٹ کر کیسے سروں پر برستے ہیں اس آج معلوم پڑا۔۔۔۔وہ ساکت و جامد مقابل بیٹھے بھائی کی طرف دیکھنے لگا پھر ساتھ بیٹھے شارق کو حالی نظروں سے ۔۔۔۔اسے لگا سننے میں کوئی غلطی ہوگئی ہوگی ۔۔۔۔۔مگر دونوں کی سرد ٹھٹھرا دینے والی نظریں دیکھ کر اسے یقین اگیا۔۔۔۔دونوں کا حال عائش جیسا تھا۔۔۔۔

ماحول میں سکوت چھایا ہوا تھا سب کی نظریں عائش کے چہرے پر ٹکی تھی کہ مولوی صاحب نے پھر سے گلہ کھنکار کر نکاح کے بول پڑھنے شروع کر دئیے۔۔۔۔

عائش فاروقی ولد صارم فاروقی آپکا نکاح حورم فاروقی ولد آریز فاروقی سے طے پایا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔

صارم نے اس کے کندھے پر ہولے سے ہاتھ رکھا۔۔۔۔

قق۔۔قبول ہے۔۔۔۔ اس نے ہکلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

اس طرح دوسری اور تیسری بار بھی بے حسی سے اقرار کرنے کے بعد مولوی صاحب نے نکاح نامہ اس کے آگے کردیا جس پر اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے سائن کئے۔۔۔۔

مولوی صاحب بمعہ شارق آریز صارم اور دو تین گواہوں کے اندر روم میں گیا حورم سے پوچھنے ۔۔۔ باہر آگئے سب لوگ تو مبارک باد کا شور گونج اٹھا ۔۔۔۔صارم نے عائش کو گلے لگا کر پیار کیا۔۔۔ پھر آریز عایز شارق باقی سب مبارک باد دے رہے تھے وہ بغیر کسی احساس کے بس خاموشی بیٹھا رہا۔۔۔۔ حورم نے اس کے ذات کی بکھری کرچیاں سمیٹنےاور ان پر مرحم رکھنے کے بجائے زخموں کو ناسور بنا کر چھوڑ دیا تھا۔۔۔ اسے لگا جیسے ہر زخم سے خون بہنے لگا ہے۔۔۔۔

عائش حورم سے ملو جاکر۔۔۔۔ صارم کے کہنے پر وہ اٹھا۔۔۔

ملنا تو وہ بھی چاہ رہا تھا۔۔۔ اسکے آنکھوں کی ویرانی اور سردپن دیکھ کر شارق نے اسے منع کردیا ۔۔۔۔

عایش بعد میں مل لینا ۔۔۔۔شارق نے موقع کی نزاکت کو سمجھ کر اس کا بازو پکڑا۔۔۔ مگر عایش نے جھٹک دیا۔۔۔۔۔ اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا روم میں داخل ہوگیا۔۔۔۔۔

حورم جو خود گومگو کیفیت میں مبتلا تھی اچانک عائش کے روم میں آنے پر بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

کیا سوچ کر یہاں آئی تھی۔۔۔۔ ماسٹر مائنڈ گیمر۔۔۔۔ گھٹنوں کے بل چل کر آپکے پاس آکر منتیں کرتا تھا۔۔۔ محبت کی بھیک مانگتا تھا۔۔۔ اپنی آنا اپنا غرور اپکے قدموں میں بچھا دی۔۔۔ نفرت کرتی تھی نا مجھ سے تو اب یہ نکاح شادی کا ڈھونگ کس لئے رچا رہی ہیں۔۔۔۔ اس قدر تذلیل کے بعد بھی آپکو لگا کہ میں آپ کو خوش رکھوں گا۔۔۔ اگر پاپا پہلے بتا دیتے کہ آپ سے کروارہے ہیں میری شادی تو میں انکار کر دیتا۔۔۔۔ اپکو ذیادہ محبت توجہ راس نہیں اتی۔۔۔۔ایک من چاہی بیوی کی جگہ آپکو ان چاہی ہیوی بننا پسند تھا۔۔۔۔ پتہ ہے اپکو پاپا نے آپکا نام نہیں بتایا ۔۔۔۔ میں ہر لمحے بھیانک موت مرا ہوں۔۔۔۔ مر گیا آپ سے عشق کرنے والا عائش۔۔۔میں نے اسی وقت دل میں پلتے محبت کے پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا ۔۔۔۔کہ میں اپنے باپ کے ساتھ حیانت نہیں کرسکتا۔۔۔ وہ بھینچے ہوئے تند تیز لہجے میں گرج رہا ۔۔۔ یہ تو کہی سے بھی وہ نرم گو پرسکون سا عائش نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔

حورم کا پور پور جل کر بھسم ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اس کی ستم ظریفی پر وہ تلملا اٹھی ۔۔۔۔۔

عائش مجھے ڈیڈ کی قسم ۔۔۔ نہیں جانتی تھی میں۔۔۔ پلیز ایسا مت بولو۔۔۔ اس کے قریب آکر اس کے گال پر ہاتھ رکھنا چاہا تو اس نے بےرحمی سے جھٹک دیا۔۔۔۔

ہاتھ مت لگانا ۔۔۔ میرے ہاتھ لگانے سے تو آپ پارسا بنتی تھی۔۔۔۔۔۔ سخت کڑوہ لہجہ تھا۔۔۔۔

احساس تذلیل و تضحیک سے اسکا چہرہ متغیر ہوگیا۔۔۔۔۔۔

چھ سال جیسے آگ کی گرم بھٹی پر بیٹھ کرگزارے ہیں ۔۔۔۔ بہت کچھ سہا ہے میں نے آپکی بے رخی آپکا مار آپکا منہ موڑنا۔۔ ذلیل کروانا۔۔۔۔ درد اتنا دینا چاہیے دوسروں کو جب خود کی باری آجائے تو برداشت کرنے کا حوصلہ ہو۔۔۔

میں نے لاحاصل کی تمنا چھوڑ دی تھی۔۔۔۔ اسلئے یہاں چلا آیا تھا۔۔۔ اور آپ۔۔۔۔۔ اس نے زور سے بال مٹھیوں میں بھیچ لئے ۔۔۔۔۔

عایش نہیں۔۔۔ خود کو تکلیف تو مت دو۔۔۔۔ حورم کراہ اٹھی ۔۔۔۔۔

یہ آپ دے رہی ہے بار بار مجھے ۔۔۔ کبھی دھتکار کر کبھی اپنا بنا کر۔۔۔۔

وہ جانے لگا۔۔۔ پھر واپس دو قدم پیچھے اگیا۔۔۔۔

آپ نہیں جا رہی پاکستان ۔۔۔۔ ڈیڈ لوگوں کو منع کردو ۔۔۔۔۔۔

کک۔کیوں۔۔۔۔۔ وہ تو خود جانا چاہتی تھی باپ کے اسرار پر بھی نہیں رک رہی تھی مگر عائش کا لہجہ اور بول آنے والی طوفان کی پیشن گوئی کر رہے تھے۔۔۔۔

جتنا میں جھیل چکا ہوں اس سے ذیادہ سہنا ہوگا اپکو۔۔۔۔ تمسخرانہ مسکراہٹ اچھالتا اسکے سرخ تپتے گال پر اپنا انگوٹھا مسلتے کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^