Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 3)

Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan

عائش کو ہاسٹل شفٹ ہوئے دس دن گزر گئے اور یہ دن حورم نے جیسے جلتی انگاروں پہ گزارے۔۔۔۔ یہ دس دن جیسے صدیوں پر محیط تھے۔۔۔ایک سیکنڈ کی لئے بھی وہ عائش کے خیالوں سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر پائی ۔۔۔۔ اس کی وجہ سے عائش کی عزت نفس مجروح ہوئی تھی۔۔۔۔اور اس کا مداوہ کرنے کے لئے حورم کے پاس سوائے پچھتاؤں کےکچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ ادھر ادینہ کے چہرے پر اپنے بیٹے کے لئے چھایا تفکر اسے سکون نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔ وہ گھنٹوں عائش کے روم میں پائی جاتی۔۔۔۔ ایک انجانی کشش اسے عائش کے طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔۔ دل بے تابی سے عائش عائش کا راگ الاپ رہا تھا۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~

ادینہ۔۔۔۔ صارم نے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس بال برش کرتی ادینہ کو ہولے سے پکارا۔۔۔۔۔

جی۔۔۔۔۔۔

تم نے اچانک عائش کو ہاسٹل شفٹ کروانے کا ڈیسیجن کیوں لیا ۔۔۔۔۔ایک کی جدائی تو سہہ نہیں سکتی تھی۔۔۔ اب دوسرے کو بھی ۔۔۔۔

کیونکہ وہ خود جانا چاہتا تھا کہ وہ پروپر فوکس نہیں دے پا رہا تھا اپنی سٹڈی پر۔۔۔۔صارم کے بازو پر سر رکھ آنکھیں بند کر دی۔۔۔ خلق میں گلٹی ابھر کر معدوم ہو گئی ۔۔۔۔۔ اور اپنی بیس سالہ خوشگوار ازدواجی زندگی میں یہ پہلا جھوٹ تھا جو ادینہ نے صارم سے بولا۔۔۔۔

یار ترس جاتا ہوں دیکھنے کو۔۔۔ ادینہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا بولا۔۔۔۔

میرے دل سے پوچھے صارم۔۔۔۔ ماں ہوں میں۔۔۔ مجھ پر کیا بیتی ہوگی۔۔۔۔ مگر میں اپنے بچوں کو زندگی کا ہر باب اچھے سے یاد کروانا چاہتی ہوں۔۔۔۔آپ جیسا بنتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔

بٹ وہ تو زارش کی شادی میں آنے سے بھی منع کر رہا تھا۔۔۔۔

آئے گا وہ۔۔۔ میں لیکر آؤں گی۔۔۔۔ پرومس۔۔۔۔۔ اب سو جائے آپ۔۔۔۔۔ ادینہ نے اسے قائل کر ہی لیا ۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~~

مما میں کوئی ردی پیپر نہیں ہوں کہ یوں اٹھا کر آپ نے مجھے ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔۔۔۔ اب جب خود اپنی مرضی سے یہاں بھیج ہی دیا ہے تو پھر کیوں آئی ہے آپ یہاں۔۔۔ عائش سخت برہم اور الجھا الجھا نظر آیا۔۔۔۔

میں نے بول دیا کہ تم آؤں گے تو مطلب آوگے۔۔۔ تمہارے پاپا اور ڈیڈ کے سوالوں کے جواب نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔

مما میں کوئی کٹ پتلی نہیں ہوں ۔۔کہ میری زندگی کی ڈور آپ اپنے ہاتھوں میں رکھ کر مجھے نچھوا رہی ہے۔۔۔ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔۔۔ لیکن میری اپنی بھی کوئی سلف ریسپکٹ ہے۔۔۔ جب جی چاہا گھر سے نکال دیا جب جی چاہا پھر بلا نے اگئی۔۔۔۔ مجھے کوئی بھی صفائی کا موقع دئے بغیر آپ نے ہاتھ اٹھایا اور فیصلہ صادر کیا۔۔۔ صفائی کا موقع تو قتل کرنے والے مجرم کو بھی دیا جاتا ہے۔۔۔۔مگر یہاں تو آپ نے پتہ نہیں کس خوف کے زیر اثر سنوائی کی۔۔۔۔عائش نے اپنا اشتغال چھپانے کے لئے گہرا سانس ہوا کے سپرد کردیا۔۔۔

مما۔میں پاپا کی نسبت آپ سے بہت کلوز تھا۔۔۔ میرے بن کہے آپ سب کچھ سمجھ لیتی تھی۔۔۔جانتی تھی آپ مجھے میں نے آج تک کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔۔۔۔۔ پیار کسی قید میں رکھنے والی چیز نہیں ہے کہ بس تالہ لگا دو مقفل کردو۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ شدت اور طلب بڑھ جاتی ہے۔۔۔اس لئے کاسئہ عشق لے کر آپ کی لاڈلی کے چرنوں میں بیٹھ کر محبت کی بھیک مانگی۔۔۔اب اس میں میرا کیا دوش کہ میں نے حورم کو بہن کی نظر سے نہیں دیکھا۔۔۔ اور آپ نے ہی میری عزت کے پرخچے اڑا دئے ۔۔۔بٹ آئی سوئیر مما میں ان کی بہت ریسپکٹ کرتا ہوں۔۔۔۔۔

اور تمہارے اور حورم کے بیچ جو عمر کا فرق ہے سب سے قابل اعتراض بات وہ ہے۔۔۔ادینہ الجھن کا شکار تھی۔۔۔۔۔

مما کونسی کتاب میں لکھا ہے یہ۔۔۔۔ اگر ایک لڑکا اپنی عمر سے دس پندرہ سال چھوٹی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے مگر کچھ سال بڑی لڑکی سے کیوں نہیں ۔۔۔۔۔عائش بپھر گیا۔ اور ہاں آب تو چھوڑ آیا ہوں فاروقی مینشن۔۔۔ کرلو اپنی بیٹی کو وداع دھوم دھام سے۔۔۔ میں جاؤں بھاڑ میں۔۔۔۔

ہوگیا تمہارا ۔۔۔ جب میں نے بول دیا کہ تم نے زارش کی شادی میں آنا ہے تو مطلب آنا ہے۔۔۔۔یہ فضول بے تکی باتیں نہیں سننی۔۔۔۔تمہارے پاپا سے وعدہ کیا ہے۔۔۔ کہ تمہیں شادی میں لے کر آوں گی۔۔۔ قطیعت سے کہہ کر اس نے عائش کی بولتی بند کی۔۔۔۔۔

اجاؤں گا۔۔۔۔۔بس خوش ۔۔۔۔۔ بلا تردد مان گیا۔۔۔۔

اوکے تھینکس ۔۔۔۔۔عائش کے اسی گال پر بوسہ دیا جہاں تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔ لو یو مائی بوائے۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~

عائز کالنگ۔۔۔۔۔ موبائل پر بلنک کرتا نام جگمکا رہا تھا ۔۔۔۔۔

اسلام وعلیکم بھائی۔۔۔۔ عائز نے سلام میں پہل کی۔۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔ کیسا ہے تو۔۔۔۔ بھائی کو یاد کرنے کا وقت مل گیا۔۔۔۔۔ ہلکا شکوہ کیا عائش نے۔۔۔۔۔

بھائی کو بھولا ہی کب تھا۔۔ بس ایگزامز ہو رہے تھے۔۔۔ گھر فون کیا تو مما سے پتہ چلا کہ زارش آپی کی شادی ہے اور آپ بھی ہاسٹل شفٹ ہوگئے ہیں۔۔۔خیرت تو ہے نا۔۔۔۔

ہاں بس چھوڑو یہ سب۔۔۔۔ تو اتنا دور ہے نظروں سے۔۔۔

دور نہیں ہوں بھائی دل کے پاس ہوں اپکے۔۔۔ آپ پلیز مجھے بتا دے۔۔۔ عجیب سی کومگو کیفیت کا شکار ہوں۔۔۔ کہ آپ تو کبھی ہاسٹل جانے کے حق میں تھے ہی نہیں۔۔۔ اس طرح اچانک کیسے۔۔۔۔

ٹرسٹ کر سکتا ہوں تم پر؟؟؟ ۔۔۔۔۔ اضطرابی کیفیت میں پوچھا گیا۔۔۔

بھائی ہوں اپکا۔۔۔۔ کرلو۔۔۔۔

میں حورم سے پیار کرتا ہوں۔۔۔ اور یہ بات حورم کو بتا دی تو ہماری مما محترمہ کو بھی پتہ چل گئی ۔۔۔۔ اور مما تو ایسی غصہ تھی کہ میں نے کوئی خدانخواستہ کوئی مرڈر کیا ہو۔۔۔۔۔ بغیر لگی پٹی دل کا بھڑاس نکال دیا۔۔۔

حورم اپی۔۔۔۔۔بھایی آپ مذاق کر رہے ہیں نہ۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔ میں سچ میں پیار کرتا ہوں۔۔۔ پانچ سال سے۔۔۔

بھائی آپ ایک نظر اٹھا لیں گے تو لائینز لگ جائے گی اتنے تو خوبرو ہیں آپ۔۔۔ تو پھر حورم آپی کیوں۔۔۔۔

حورم میں کیا برائی ہے؟؟۔۔۔۔

برائی نہیں ہے۔۔۔ وہ ہماری بہن ہے۔۔۔۔اور بڑی یے۔۔۔عائز تو بحر حیرت میں غوطہ زن تھا۔۔۔

پاپا کی بیٹی ہے یا مما کے ساتھ جہیز میں آئی تھی۔۔اور بڑا تو میں لگ رہا ہوں اس سے۔۔۔۔ یہ فلسفہ مجھ پہ مت جھاڑ۔۔۔اپنے زیریں حیالات اپنے تک محدود رکھ۔۔ میں نے اپنے دل پر چھایا بوجھ کم کرنے کے لئے تم سے بات کی ہمارے رشتے پر روشنی ڈالنے کے لئے نہیں۔۔۔اب تو میرے وجود میں محبت اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہیں ۔۔۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔۔ عشق میں عمر کی قید نہیں۔۔۔۔۔عائش نے مستقل مزاجی سے جواب دیا۔۔۔۔

سوری بھائی میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔لیکن مما بول رہی تھی کہ رشتہ آیا ہے حورم آپی کے لئے اور سب راضی بھی ہے۔۔۔ بٹ ابھی تک آپی نے ہاں نہیں کی۔۔۔۔۔

ہاں کرے گی بھی نہیں وہ۔۔۔۔ چھوڑو تم یہ بتاؤ سٹڈی کیسی جا رہی ہے؟؟؟

فرسٹ کلاس۔۔۔ آپ لوگوں کی بہت یاد آتی ہے اب تو شادی ہورہی ہے زارش آپی کی تو دل بہت اداس ہے۔۔۔۔۔

چھوڑ یار میری شادی میں پھر انجوئے کر لینا ۔۔۔۔ عائش کو پتہ تھا گھر سے دور رہنا کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا ۔۔۔ اسکا دھیان ہٹانے کے لئے فون شارق کو تھما دیا۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~

یار عائش جلدی کر ۔۔۔ تمھاری بارات لے کر نہیں جارہے جو سج دھج کہ تیار ہو رہے ہو۔۔ اور نہ ہی تمہاری معشوقہ تمہیں گھاس ڈالتی ہے۔۔۔ پھر اتنی تیاری کیوں۔۔۔

آج زارش کی بارات تھی۔۔۔۔ مہندی میں وہ ہزار منتوں کے ںاوجود بھی نہیں گیا۔۔۔۔

نہیں جناب میں اس بے حس کے سحر رفاقت سے نکل آیا ہوں۔۔۔ اب غم ہجر کی طویل راتیں میرا مقدر ہے۔۔۔۔ اور مجھے سجنے سنورنے کی بلا کیا ضرورت ۔۔۔ میں تو ہر طرف مرکز نگاہ بنا رہتا ہوں۔۔۔۔

وہ دونوں عائش کی بائیک پر روانہ ہوگئے۔۔۔۔

حورم زارش کے ساتھ سٹیج پر کھڑی تھی مگر نگاہ بار بار ہال کے انٹرس کی طرف جارہی تھی۔۔۔

کیا ہوا حورم ۔۔۔ کسی کا ویٹ کر رہی ہو۔۔۔۔ زارش نے اسے بے چینی سے پہلو بدلتے دیکھ کر سوال کیا۔۔۔۔

ن۔ن۔نہیں آپی۔۔۔

مہمان آنا سٹارٹ ہوگئے تھے ۔۔۔۔حورم ذرا عائش کو فون لگا کل بھی نہیں آیا تھا آج بھی دیر کردی ۔۔۔ کیسا بھائی ہے۔۔ زارش کو الگ عائش کی غیر موجودگی سے زیادہ بے نیازی کھٹک رہی تھی ۔۔۔۔

م۔م۔م میں ۔۔۔۔۔ وہ ابھی جائیں گے ۔۔۔۔حورم الفاظ کا گلہ گھونٹےہوئے بولی۔۔۔۔۔

وہ تو خود وسوسوں اور توہمات کا شکار تھی عائش کو لیکر ۔۔۔ پتہ نہیں وہ اب گریزاں ہوگا اس سے۔۔۔۔ محبت کا گراف گر کر نفرت میں بدل گیا ہوگا ۔۔۔۔ وہ عائش کے رویہ کو سوچ کر ہی پریشان تھی۔۔۔

زہے نصیب ۔۔۔ بھابھی فتنہ کے مبارک قدم ہال میں پڑھ گئے ہیں سر۔۔۔۔ارمان نے دور سے ارسلان کے ہمراہ آتی حبا کو دیکھ کر ارمغان کی توجہ دلائی۔۔۔۔

ارمغان نے فتنہ کے لفظ پر ارمان کو گھوری سے نوازہ۔۔۔ارمان کو بلکل وہ ایک گھر کے فرد کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔۔۔۔

نہیں نہیں سوری۔۔۔۔ فتنہ نہیں آفت پلس مصیبت۔۔ ارمان نے تصحیح کی۔۔۔ارمغان نے سر ہلایا۔۔۔۔

ہیلو آفت ہاؤ آر یو ۔۔۔۔ ارمغان ارسلان سے ملنے لگا تو ارمان نے جھک کر حبا کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔

ہنہنہنہنہ۔ منہ فٹ ۔۔۔حبا نے منہ پھلا کر رخ موڑ دیا۔۔۔ اب باپ کے سامنے تو اپنا تین گز زبان چلانے سے رہی ۔۔۔

ارمغان نے سامنے کھڑے اپنے خالق کے تخلیق کردہ شاہکار مجسمے کو دیکھا۔۔۔ جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھا۔۔۔اپنی کیفیت پر وہ خود جھنجھلایا۔۔۔۔ آج تو حبا نے اس پر دوسری نظر ڈالنے کی ہمت بھی نہیں کی۔۔۔۔

ہیلو برو ۔۔۔ شکر ہے تمہیں یاد تو آگیا کہ تمہاری ایک عدد بہن بھی ہے جس کی آج رخصتی ہونے والی ہے۔۔۔اس کو ڈولی میں بٹھانا ہے۔۔۔ ارمغان کے آواز پر حورم اور ادینہ دونوں کے کان کھڑے ہوگئے۔۔۔۔بے ساختہ دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ادینہ کے چہرے پر خوشی سے بھر پور تاثرات رقص کرنے لگے۔۔۔۔

ارمغان سے مل کر وہ صارم کے پاس گیا۔۔۔ صارم نے کتنی دیر اسے خود میں بھینچے رکھا تھا۔۔۔

برخوردار باپ کی یاد نہیں آتی تمہیں۔۔۔۔

آتی ہے پاپا بہت زیادہ آتی ہے۔۔۔ بس اتنا کہہ کر آواز رندھ گئی تو چہرہ موڑ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ اٹھ کر خود ہی آگئی اور عائش کو سینے سے لگایا۔۔۔

نیلی آنکھوں میں سمندر امڈ ایا۔۔۔ اس کی وجہ سے آج عائش اپنے مما پاپا سے دور تھا۔۔۔ وہ تو دنیا و مافیہا سے بیگانی بس عائش کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ تو کیا واقعی اس نے ہمارے درمیان رشتے پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔۔۔۔ اسی سمے عائش کی غیر ارادی نظریں گرین آئیز سے ٹکرائی تو لب بھینچ کر سرد مگر بے بس نظروں کا زاویہ تبدیل کیا ۔۔۔۔۔لیکن حورم نے اس کی آنکھوں میں شخصیت کی بکھری کرچیاں بآسانی دیکھی تھی۔۔۔ اس کی بے رخی اس پر گراں گزر رہی تھی۔۔۔۔

میں معافی مانگ لوں گی۔۔۔۔ وہ پیار کا دعویٰ دار ہے نا۔۔۔ معاف کردے گا ۔۔۔ بلا اردہ نظریں پھر سے عائش کو ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔ اور پھر وہ اسے ڈیڈ کے ساتھ بیٹھا دکھا۔۔۔ ڈیڈ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خود کے قریب کیا تھا۔۔۔

ایکسیوزمی ۔۔۔۔ مے آئی سیٹ ہیر۔۔۔۔ شارق کو خزاں کی مانند ایزل کی پرسوچ نگاہیں کافی دیر سے اپیل کر رہی تھی اس لئے خود کو آنے سے روک نہیں پایا۔۔۔ وہ جو کونے والے ٹیبل پر سب سے الگ تھلگ بیٹھی کسی اور جہاں کی باسی لگ رہی تھی۔۔۔۔اول تو وہ اس طرح پرہجوم جگہوں پر جانے سے کتراتی تھی۔۔ تنہائی پسند تھی ۔۔۔ خالی الذہنی کی کیفیت میں آسمان پر ٹمٹماتے ستاروں کو یک ٹھک دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔

سوچوں کا تسلسل چوٹ گیا۔۔۔۔

شارق تم۔۔۔ ہاں بیٹھو نا۔۔۔ سپاٹ چہرہ کسی بھی قسم کے تاثر سے پاک۔۔۔۔

تھینکس۔۔۔۔ ویسے یہاں اکیلی بور نہیں ہورہی ہو تم۔۔۔۔وہاں سب کے ساتھ گھل مل کر انجوائے کرو۔۔۔

مجھے اس طرح کے ہنگامے لوکوں کا بھیڑ قطعی نہیں پسند۔۔۔ کوفت ہوتی ہے مجھے۔۔۔بٹ ڈیڈ کو نا نہیں بول سکتی میں۔۔۔ میرے بے رنگ زندگی میں ان رنگ برنگے محفلوں کی کوئی وقعت نہیں ہے ۔۔۔ تیکھے پن سے بھرپور بےزار لہجہ تھا۔۔۔۔۔

کم ان یار۔۔۔ کوئی بوڑھی روح تو اندر نہیں گھسی نا۔۔۔ اپنی عمر دیکھو تم۔۔اس عمر میں لڑکیاں کتنی شوخ و چنچل ہوتی ہے۔۔۔ لوگوں سے مراسم بڑھا لو۔۔۔ فرینڈز بناو۔۔۔ یہ جو تم نے ایک ذلیل انسان کی وجہ سے اپنے آپکو ایک خول میں بند کیا ہے اس سے باہر نکلو۔۔۔اپنے کل کو فراموش کرو۔۔ اپنے آج میں جیو ایزل۔۔۔

شارق۔۔۔۔ وہ منمھنائی۔۔۔

کیا شارق۔۔۔ یار تمہاری وجہ سے میری میرے اتنے سوبر سے انکل جینا چھوڑ چکے ہیں۔۔۔تم ان کا سہارا بنو۔۔ خود سے الجھنا چھوڑو۔۔۔ ایہ جو اپنی آنکھوں میں تم نے درد ، کسک ، بےچینی،سموئی ہے نہ اس کو اتار کر پھینک دو۔۔۔۔

یہ لو۔۔۔ چاکلیٹ ٹیبل پر رکھ کر اشارہ کیا۔۔۔ آج سے ہی کڑوی تلخیاں بھول کر میٹھی یادیں بنانا شروع کردو۔۔۔ اور یہ جا وہ جا۔۔۔ اسے خیرتوں میں ڈوبتا چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔

پاگل ۔۔۔ اسفند انکل کی کاپی۔۔۔۔۔

عائز کی کال آرہی تھی تو وہ سائیڈ پر چلا گیا کسی پرسکون جگہ تاکہ آرام سے بات کر لے۔۔۔۔

ابھی فون بند کرکے واپس مڑنے ہی والا تھا کہ سامنے حورم کو کھڑا دیکھا۔۔۔۔

کیا؟؟؟ ایک آئی برو اچکا کر سنجیدگی سے استفسار کیا۔۔۔۔

آئی ایم سوری ۔۔۔ میرا مما کو کچھ بھی بولنے کا اردہ نہیں تھا اس نے میرے او اسفند چاچو کی باتیں سنی۔۔۔ میری کوئی غلطی نہیں۔۔۔ معاف کردو پلیز۔۔۔۔

اوکے معاف کردیا۔۔۔ خوش۔۔۔

وہ جانے لگا تو حورم نے اس کی مضبوط کلائی اپنے نرم ہاتھوں سے پکڑی۔۔۔

حورم محبت اور رشتوں میں عزت نفس بڑی ضروری اور اہم چیز ہوتی ہے۔۔۔ نروٹھے پن سے کہہ کر اپنی کلائی اس کے ہاتھ سے چھڑوالی۔۔۔۔

ایکسیوزمی ۔۔۔۔ کہہ کر وہ چلا گیا۔۔۔۔

شارق جو عائش کے پیچھے یہاں تک آیا تھا اسے حورم کے ساتھ محو گفتگو دیکھ کر تھوڑا دور رکا تھا چل کر حورم کے پاس آگیا ۔۔۔

شارق وہ عائش کیسے اس طرح مجھے اگنور کر سکتا ہے۔۔۔۔

ایک طرف انکل کی بیٹی ہوتو دوسری طرف دوست کا پیار جنون۔۔ کشمکش میں الجھا ہوا ہوں کہ اپکو کیا کہہ کر بلاؤ۔۔۔ مگر خیر ۔۔۔۔ ایک بات بتاتا چلو ۔۔ لوگ تو خاموشی کی بھی زبان سمجھ لیتے ہیں یہاں پر ایک چھ فٹ کا انسان کئی سال سے محبت کی بھیک مانگ رہا تھا آپ کو تھوڑا سا بھی رحم نہیں آیا۔۔۔۔ میں بھی کیا کرنے لگا ہوں۔۔ بس الفاظ کا ضیاع۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~

ارمغان ۔۔۔۔ ارسلان ایزل کو لے کر کافی ڈسٹرب رہتا ہے۔۔ اس لئے میں نے اس سے پرومس کیا ہے کہ میں ایزل کو اپنے گھر کی بہو بناوں گا۔۔۔ تمہیں تو پتہ ہے ان کی لائف میں اے اتار چڑھاؤ کا۔۔۔ جس نے اس سلجھی ہوئی معصوم بچی سے اس کی زندگی کی رونقیں چھین لی۔۔۔۔۔آریز نے گویا دھماکہ کیا۔۔۔۔ سب کے ناشتہ کرتے ہاتھ رک گئے ۔۔۔۔

بھائی ارمغان سے اس کی مرضی جانے بغیر آپ اتنی بڑی حماقت کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔۔ صارم ارمغان کے سپید پڑتے چہرے پر تاسف سے نظریں جمائے آریز کو ناگواری سے مخاطب کرکے شکوہ کیا۔۔۔۔

ہاں تو ابھی بتا رہا ہوں نا۔۔۔ کون سا یہ کسی کے پیار میں پاگل ہے۔۔۔ شادی کی عمر ہوگئی ہے۔۔۔ ابھی تک تو کوئی لڑکی پسند کر لینی چاہئے تھی نا۔۔۔۔ تسلی رکھو باپ ہوں ۔۔۔ بہتر ہی سوچا ہوگا۔۔۔۔ مجھے اپنے بچوں پر مان ہے۔۔۔۔

کاش وقت پر ڈیڈ کو بتایا ہوتا حبا کا۔۔۔۔۔تو آج ان کی آنکھوں میں بیٹے کو لے کر جتنا مان تھا وہ بھرم تو نہیں ٹوٹتا ۔۔۔۔۔ارمغان نے ضبط کمال کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔

ہاں برخوردار چپ کا روزہ بھی توڑ۔۔۔۔ آریز نے ارمغان کو مخاطب کیا جو کب سے شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اپنے باپ کو کس طرح انکار کردے ۔۔۔

ڈیڈ ایزل بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔لیکن۔۔

ہاں مجھے بھی وہ بچی بہت پسند ہے۔۔۔۔ اور میری بھی یہی خواہش تھی کہ میں اسے اپنے گھر کی رونق بنا دو۔۔۔۔ ارمغان کی پوری بات سننے سے پہلے ہی حنا فاروقی نے اپنے دل میں پھلتی خواہش کو لفظوں کا رنگ دے دیا ۔۔۔۔

ہاں پھر تو ٹھیک ہے شب کام میں دیری کیسے۔۔۔ میں آج ولیمہ پر ہی ارسلان کو خوشخبری سنادوں گا۔۔۔ آریز کے چہرے سے خوشی صاف عیاں تھی۔۔۔

ارمغان کے سینے پر سانپ لوٹ رہے تھے ۔۔۔۔پیرنٹس کے چہروں پر چھائی خوشی دیکھ کر وہ سرد مہری سے ناشتہ چھوڑ کر اپنے روم میں چلے گئے۔۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~