Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283 Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 29)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 29)
Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan
حبا یہ کیا کھاتی پھرتی ہو تم۔۔۔ یہ چیزیں تمہیں کون لاکر دیتا ہے۔۔۔ یہ مکس چاٹ۔۔۔ یہ چاٹ مصالحہ ۔۔۔۔ ارمغان نے اس کے ہاتھ سے چاٹ کا باؤل غصے سے چھین لیا۔۔۔۔
آپ شرافت سے مجھے واپس کردے ورنہ میں چلا چلا کر پورا گھر سر پر اٹھا لوں گی ۔۔۔۔ حبا اس کے ہاتھ سے باؤل لینے لگی ۔۔۔۔ آپ خود کچھ بھی لیکر نہیں اتے۔۔۔ بوریاں بھر بھر کر پیسے جمع کرتے ہو۔۔۔ کیا کرو گے اسکا اگر بیوی پر خرچ ہی نہیں کرنے ۔۔۔۔۔
اس سے میں دوسری شادی کروں گا۔۔۔ اور ایسی بیوی لاؤں گا۔۔۔ جو یہ گندگی کھانے سے مکمل پرھیز کرتی ہو ۔۔۔ میری بات مانتی ہو ۔۔۔۔ اور میرے بچوں کو ہیلتھدی خوراک کھلاتی ہو ۔۔۔ ارمغان نے اسکی کمزور نس دبا دی۔۔۔۔
ہاں تو میرا دل کرتا ہے نا یہ کھٹی چیزیں کھانے کا۔۔۔ میں شوقیہ تھوڑی کھاتی ہوں۔۔۔ اور یہ تو آپکے بے بی کو پسند ہوتی ہے وہ ڈیمانڈ کرتا ہے۔۔۔ ارمغان اسکی چالاکی پر عش عش کرنے لگا۔۔۔
ہاں صحیح کہا بچے اپنی مما پر جاتے ہیں اب تم ایک نمبر کی پوھڑ اور گندھی مما ہو تو تمہارے بچوں کو بھی یہی چیزیں پسند ہیں ۔۔۔۔ اور مجھے ایسے بچے بلکل نہیں چاہئے ۔۔۔ تم کرو اپنے شوق پورے میں بھی دوسری شادی کرکے رہوں گا ۔۔۔ارمغان نے باؤل اس کی طرف کھسکایا۔۔۔۔۔
نہیں نا۔۔۔ میں بھی نہیں کھاتی ۔۔۔۔ یہ لے جائیں آپ۔۔۔ اس نے باؤل دور سرکایا ۔۔۔۔ یہ تو مان بھا۔۔۔۔۔۔ حبا نے نچلا لب ہونٹوں میں زور سے دبایا۔۔۔۔۔
ہنڈرڈ پرسنٹ لگا تھا مجھے یہ سب اسی منحوس مان کا کیا دھرا ہے ۔۔۔ ورنہ گھر میں سب کو سٹریکٹلی وارن کیا تھا ۔۔۔ میری حکم عدولی بس وہی گدھا کرتا ہے ۔۔۔۔ ہو لینے دو اس کی شادی اسکی بیوی کو ایسی الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا دوں گا کہ گھر ہر وقت میدان جنگ کا منظر پیش کرے گا ۔۔۔ ارمغان کو رہ رہ کر مان پر غصہ آرہا تھا۔۔۔ کیسے اسکی بیوی کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا ۔۔۔
خبردار ان کو کچھ بھی کہا تو۔۔۔۔ وہ تو میرا بہت خیال رکھتے ہیں ۔۔۔ پرسوں بھی املی آلو بخارے کی سپیشل چٹنی لیکر آئے تھے۔۔۔۔ حبا روانی میں اسکے تعریفوں کے پل باندھنے لگی یہ جانے بغیر کہ اسکے ہسبنڈ کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔۔۔ کنپٹی کی رگیں پھڑکنے لگی۔۔۔۔ نہایت طیش کے عالم میں وہ ارمان کو فون کرنے لگا۔۔۔۔ مگر شاید قسمت اس پر کچھ ذیادہ مہربان تھی کہ فون سوئچڈ آف آرہا تھا۔۔۔۔۔
اب دوسری شادی نہیں کریں گے نا۔۔۔ اب تو نہیں کھا رہی میں ۔۔۔ حبا معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ کر ارمغان کے سرخ چہرے کو نظر انداز کرکے پوچھ بیٹھی۔۔۔۔
میں تو نہیں کر رہا ۔۔۔ مگر اس ارمان کی جلدی کروادوں گا۔۔۔۔۔ارمغان نے اسکو گود میں بٹھایا اور اسکی گردن میں منہ چھپا کر اپنے غصے کو شانت کرنے کی کوشش کرنے کے لئے لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^
حورم کے موبائل الارم کی چنگھاڑتی آواز نے ان کے نیند میں خلل ڈالی ۔۔۔۔ حورم نے اسے آف کرکے دوبارہ عائش کے سینے پر سر رکھا ۔۔۔۔۔
پھر کچھ یاد آنے پر اس نے نائٹ بلب کی سبز روشنی میں عائش کے دل کے مقام پر لکھے گئے اپنے نام کے ٹیٹو پر انگلی پھیری ۔۔۔۔ اور پھر وہاں اپنے لب رکھے۔۔۔۔۔ غنودگی میں ہی عائش کے لب مسکرائے۔۔۔۔۔
عائش۔۔۔۔۔
ہممممم ۔۔۔۔ عائش نے ہنکارہ بھرا۔۔۔۔
نماز پڑھنی ہے۔۔۔ حورم نے اپنے گرد بندھے اسکے ہاتھ کو ہٹانا چاہا۔۔۔۔
پڑھ لیں ۔۔۔ اس نے بغیر کسی مزاحمت کے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔۔۔۔
اور تم۔۔۔۔۔
میں بھی پڑھ لوں گا۔۔۔ اللّٰہ نے اتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے۔۔۔ شکرانے کے نوافل ادا کرنا تو بنتا ہے۔۔۔۔
حورم نے جھک کر اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور فریش ہونے چلی گئی۔۔۔۔۔
فریش ہونے کے بعد اس نے عائش کے لئے کپڑے نکالے اور اسے اٹھایا جو پھر سے سونے لگا تھا۔۔۔۔۔
عائش کے لئے تھوڑا آگے جائے نماز بچھایا۔۔۔خود اس کے پیچھے کھڑی ہوکر نماز پڑھنے لگی۔۔۔ حشوع و خضوع سے نماز پڑھنے کے بعد ایک ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں ۔۔۔
کیا مانگنے لگی ہے آپ ۔۔۔۔ عایش نے منہ پر ہاتھ پھیر کر پوچھا۔۔۔جو بہت لگاوٹ کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں آنکھیں بند کرکے دست سوال تھی۔۔۔۔سفید دوپٹے کے ہالے میں اسکا پرنور صاف شفاف چہرہ بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند سے بھی حسین لگ رہا تھا۔۔۔۔
تمہارا عمر بھر کا ساتھ اور دائمی خوشیاں۔۔۔۔ زندگی کے ہر سفر میں تمہارے قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتی ہوں۔۔۔ حورم اپنے نرم مدھم بااعتماد آواز سے بولی۔۔۔ تو عایش نے اسکے ہاتھوں کے پیالے کو کھول کر ایک ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرا اور دوسرا حورم کے۔۔۔۔۔ تو کچھ آنسو حورم کی آنکھ سے گر کر اس کے دوپٹے میں جذب ہوگیے۔۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔۔ میرے کسی بات یا عمل سے ہرٹ ہوئی ہیں آپ۔۔۔ تو آئی ایم ایکسٹریملی سوری۔۔۔۔ عائش سراسیمگی کیفیت میں بولنے لگا۔۔۔۔
پتہ ہے عائش تم گھر چھوڑ کر چلے گئے تو میرے دل میں تمہارے لیئے احساسات بھی یکسر تبدیل ہوگئے ۔۔۔ جس سے میں خود قطعی انجان تھی۔۔۔ میں آرہی تھی بار بار تمہارے پیچھے مگر اظہار کرنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔ اور جب تم پاکستان چھوڑ کر جانے لگے تب مجھے رئیلائز ہوگیا کہ تم نے صرف مجھے خود کا عادی نہیں بنایا مجھے تم سے بے انتہا محبت ہونے لگی تھی۔۔۔۔ اور گھر سے نکلتے وقت مجھے ایک پل کو لگا کہ تمہیں ناراض کرکے میں نے ہمیشہ کےلئے کھو دیا ہے۔۔۔ میں تمہاری یادوں میں صرف خود سے نہیں سب سے ،، ہر چیز سے غافل ہوچکی تھی۔۔۔۔ تمہاری وہ پورٹریٹ بھی میری اپنی سوچ کی تخلیق تھی۔۔۔ پھر ڈیڈ کو پسند آئی تو لے گئے ۔۔۔۔
دعائیں ایسی بھی پوری ہوسکتی ہے ۔۔۔ معجزات ایسے بھی رونما ہوتے ہیں ۔۔۔ سپنے ایسے بھی حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔۔اج تم میرے پاس ہو۔۔۔ ہم ایک پاک اور مقدس رشتے میں بندھ گئے ہیں تو مجھے تمہارے بےلوث محبت نے اتنی ہمت دی ہے اپنے جذبات اور احساسات عیاں کرنے کا تو آج میں اپنے پورے ہوش و حواس اورسچے دل سے اعتراف کرتی ہوں کہ مجھے یعنی تمہاری حورم کو عائش فاروقی سے جنون کی حد تک پیار ہوگیا ہے۔۔۔۔ حورم شدت جذبات سے لبریز الفاظ میں اظہار کرکے عائش کے سینے سے لگی۔۔۔اور اسکا کہا گیا ایک ایک لفظ عائش کے سلگتے سینے پر ٹھنڈے پانی کے پھوار جیسے برستا رہا۔۔۔۔
عائش کل رات مدہوشی میں اسکا محبت بھرا اعتراف سن کر ششدر تھا مگر اتنے واضح الفاظ میں بیان کردہ اظہار محبت اور اپنے پیار کی فتح پر وہ جیسے آسمانوں میں اڑنے لگا۔۔۔
میری محبت کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا کر میرا دل کرتا ہے کہ آپکو ریوارڈ سے نوازدوں۔۔۔۔
عایش کے زومعنیت بھرے انداز میں کہنے پر وہ سر اٹھا کر اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
کس قسم کا ریوارڈ۔۔۔۔۔
کہ جن پیارے لبوں سے اتنا پیارا اظہار کیا ہے اسے چھوم لو ۔۔۔ مگر اس وقت جہاں ہم بیٹھے ہیں تو یہ بطور مسلمان ہمیں زیب نہیں دیتا تو اسکو بعد کے لئے ادھار رکھتے ہیں ۔۔۔۔ اور اب آپ نے سو جانا ہے اپنی نیند پوری کرنی ہے۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا آپکے ڈارک سرکلز بنے۔۔۔ یا اپنے اس حسین چہرے پر جھریاں پڑ جائے۔۔۔۔
مگر جھریاں تو پڑ سکتی ہے نا۔۔۔ تم سے پہلے میں بڑھاپے کے زینے طے کروں گی۔۔۔ حورم اسے چڑانے لگی۔۔۔
میں اپکو بوڑھا ہونے نہیں دوں گا۔۔۔۔اتنا پیار دوں گا کہ آپ وقت کے ساتھ ساتھ پھر سے جوان ہوتی جاوگی۔۔۔۔عایش نے اسے جائےنماز سے اٹھاکر باہوں میں بھر لیا اور اسے بیڈ پر لٹایا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔۔
خدا قسم!!! اگر میں کسی ریاست کا شہزادہ ہوتا تو آپ جن لمحوں میں مسکراتی میں ان لمحوں میں ایک غلام لازمی آزاد کرواتا ۔۔۔۔ عائش واپس اسی پوزیشن میں لیٹ گیا ۔۔۔ حورم کا سر اپنے سینے پر رکھ کر آنکھیں موندھ گیا۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^
آج ابیان ہاؤس میں جشن بہاراں جیسا سماں تھا۔۔۔ ناشتے کے ٹیبل پر سب ساتھ ناشتہ کرکے ایک ہیپی فیملی کا منظر پیش کر رہے تھے۔۔۔ اریشہ کی خوشی دیدنی تھی ۔۔۔ وہ سب کے ہاتھوں باری باری سے لاڈ اٹھوا کر ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔
موم آپ سے ایک بات کرنی تھی۔۔۔ اریشہ کا پیٹ بھر گیا تو شازمہ کو مخاطب کرکے کہا ۔۔۔۔
جی میرا بچہ۔۔۔۔
ابیان بھائی کی بات پکی کر لیتے ہیں جب آپ کی عدت پوری ہو جائے پھر ہم دھوم دھام سے شادی کروادیں گے۔۔۔۔۔
ابیان نے گلا کھنکھار کر اریشہ کو متوجہ کرکے آنکھوں میں تنبیہہ کی مگر اسکی گھوریوں کو خاطر میں لائے بغیر وہ بات کنٹینیو کرنے لگی ۔۔۔۔
میری گڑیا نے کسی کو پسند کر لیا ہے کیا۔۔۔ ایان نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرکے پوچھا۔۔۔۔
جی بھائی۔۔۔۔ وہ اسفند انکل کی بیٹی سنینہ مجھے اور بھابھی کو بہت پسند ہے۔۔۔۔ اس نے ایزل کو بھی انولو کر لیا۔۔۔۔۔
وہ تو مجھے بھی ابیان کے لئے کافی پسند تھی۔۔۔۔ میں نے تو ڈھکے چھپے الفاظ میں اسفند اور ملیحہ سے اظہار بھی کیا تھا ۔۔۔ ان لوگوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔۔ شازمہ نے تو اپنے تئیں رشتہ بھی پکا کیا تھا۔۔۔۔۔
کیوں ایس پی صاحب ۔۔۔۔ یہ تیلی تم نے جلائی کر آگ لگائی ہے نا ؟؟؟ اور بھڑکانے کے لئے بھابھی اور بہن کا سہارا لیا ہے ۔۔۔ ایان اسکی ٹانگ کھینچے لگا۔۔۔۔۔
ابیان نے آنکھ ونک کرکے تائید کی ۔۔۔ تو سب نے مشترکہ قہقہ لگایا۔۔۔۔
چھپے رستم نکلے تم۔۔۔ میں اج اسفند انکل سے ملکر بات پکی کرتا ہوں۔۔۔ پھر باقاعدہ رسم کر لیں گے۔۔۔۔ ایان کہہ کر جانے لگا کہ ابیان بھی اسکے ہمراہ باہر نکلنے لگا ۔۔۔۔
بھائی نکاح کروائیں نا میرا۔۔۔ اس طرح تو سنینہ پھر میرے سامنے آنے سے کترائے گی اور میں بھی بغیر کسی جائز رشتے کے زبردستی اس پر حق جتا نہیں سکتا ۔۔۔۔ ابیان نے مسکرا کر دل کی بات کہہ ڈالی۔۔۔۔۔
تو ضرورت کیا ہے رخصتی سے پہلے مل کر بچی کو ایمبیرس فیل کروانے کی۔۔۔۔۔ ایان نے بظاہر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کر استفسار کیا۔۔۔۔
بھائی پلیز۔۔۔۔اپ ہی تو بھائی دوست اور باپ سب کچھ ہو۔۔۔۔ ابیان نے اسکے گرد حصار باندھ لیا اور اسکو گال پر پیار کیا۔۔۔۔ اور یہ سچ بھی تھا ایان نے باپ کے جیل جانے کے بعد ایک باپ بن کر اسے پالا تھا ۔۔۔۔ اسکی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی ۔۔۔۔
چل مکھن نا لگا۔۔۔ کروادوں گا۔۔۔۔ ایان نے اسکے سر پر بوسہ دی اور اپنے روم چلا گیا۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
فاروقی مینشن میں ڈاییننگ ٹیبل پر موجود سب نفوس کے موبائل پر ایک ساتھ میسیج نوٹیفیکیشن آیا۔۔۔ اور کچھ ایسا منظر ابیان ہاؤس اور ارسلان ہاؤس کے مکینوں کے موبائل پر بھی دکھنے لگا۔۔۔۔ جہاں عائش اور حورم کی شادی کی ویڈیوز اور پکچرز ایک ساتھ سکرین پر پلے ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔
فاروقی مینشن کے مکینوں میں سب سے پہلے حنا فاروقی نے میسیج کھولا۔۔۔ مگر اگلے پل بےیقینی سے آنکھیں کھول کر پوری ویڈیو دیکھنے لگی۔۔۔ ان کی دیکھا دیکھی سب نے سرعت سے اپنے موبائل کھولے اور عائش کے پہلو میں دلہن بنی حورم کو دیکھ کر سب خوشگوار حیرت سے گنگ ہوگئے۔۔۔۔
ناٹ فئیر۔۔۔۔ مجھے کسی نے بتایا تک نہیں۔۔۔ آریز نے سامنے موجود صارم کو غصیلی نظر سے دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔ یہ سب تمہاری کارستانیاں ہیں نا۔۔۔۔ عائش تم سے پوچھے بغیر سانس بھی نہیں لیتا۔۔۔۔۔ اور یہ ادینہ بھی اس سلسلے میں گئی ہے نا۔۔۔
صارم نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔۔۔ مجھے معاف رکھے آپ لوگ۔۔۔۔یہ آئیڈیا آپکے چہیتے صاحبزادے کا تھا ۔۔۔۔ بقول اس کے فاروقی خاندان کے لاڈلے سپوت کی شادی اتنی روکھی پھیکی تو نہیں ہوسکتی ۔۔۔کچھ رنگ بھنگ ڈالنی چاہئے تھی اسے ۔۔۔ اور آپ سب جانتے ہیں عائش نے کوئی بھی کام کبھی صحیح طریقے سے کیا ہے کیا۔۔۔۔ ۔ اسکو دولہا بننا تھا۔۔۔ اپنی بیوی کو دولہن بنتے دیکھنا تھا ۔۔۔ میں نے جسٹ درخواست منظور کروائی۔۔۔آپ کئی دنوں سے اپنے مشن ہر تھے۔۔۔۔ تو آپکو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں لگا۔۔۔۔۔ اور بھابھی کو ادینہ بہانے سے ساتھ لیکر جارہی تھی مگر حبا کی طبیعت کے پیش نظر وہ رک گئی۔۔۔۔ صارم نے سارا ملبہ عائش کے کندھوں پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دیا ۔۔۔۔
اس کمینے کے تو میں نے ٹکڑے ٹکڑے کرکے چیل کوؤں کو کھلانے ہیں۔۔۔ ابھی گیا تھا میں وہاں۔۔۔ مجھے بتانے میں کیا حرج تھا ۔۔۔ کچھ دن اور رک جاتا ۔۔۔ بہن کو پورے رسم ورواج کے ساتھ رخصت کرواتا۔۔۔ یہ ذلیل تو اس وقت بھی شارق کے ساتھ روم شئیر کرتا تھا۔۔۔ تب میں سمجھا کہ ایمرجنسی نکاح ہوا ہے تو ایڈجسٹ ہونے کے لئے ٹائم لیگا۔۔۔تھوڑی بھی بھی بھنک نہیں لگنے دی کہ اس کے دماغ میں کیا کھچڑی پک رہی ہے۔۔۔۔ ارمغان غصے سے پھنکارتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
عائش سب کے دلوں کی دھڑکن تھا۔۔۔۔اسکے لئے ارمغان نے اپنی شادی ارجنٹ کروائی تھی اور عائش نے اسے بتانے کی زحمت نہیں کی۔۔۔۔
ابے یار یہ پروگرام تمہارے آنے کے بعد بنا تھا ۔۔۔ صارم نے تسلی دیکر اسکے دماغ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔
تم لوگ چھوڑو یہ سب ۔۔ دیکھو تو میرے بچے کمال لگ رہے ہیں۔۔۔ما شاہ اللّٰہ ۔۔۔ اللّٰہ نظر بد سے بچائے۔۔۔کتنے پیارے ۔۔۔مکمل۔۔۔ جیسے ایک دوسرے کے لئے ہی بنے تھے۔۔۔ حنا نے سب کو پھر سے ویڈیو او پکچرز کی طرف متوجہ
کیا۔۔۔۔۔
ہاں نا حورم آپی تو بلکل ڈول لگ رہی ہے۔۔۔ حبا نے کمپلینٹ دیا۔۔۔۔
اور آپکا بے باک بیٹا کس طرح میری معصوم بیٹی کو تاڑ رہا ہے۔۔۔ صارم نے عائش کو ڈھیٹوں کی طرح حورم کر تکنے پر جملہ کسا تو آریز نے قہقہ لگایا۔۔۔۔
بچہ ہے۔۔۔ اپنی بیوی کو دیکھنے میں کیا قباحت ہے۔۔۔۔
چلو بھئی مبارک ہو سب کو شادی کی۔۔۔۔ صارم کو ڈیوٹی پر جانا تھا۔۔۔
صارم نیند اچھے سے آئی نا۔۔۔۔ آریز نے اسکے سرخ لہو آنکھوں اور مرجھائے چہرے کو دیکھ کر ٹانٹ کیا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ صارم نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔ایک تو بیس بائیس سال کے عرصے میں ادینہ پہلی بار گھر اور اس سے دور گئی تھی۔۔۔ ساری رات جیسے کانٹوں پہ سو کر گزاری تھی۔۔۔ گئی تو وہ ایک ہفتہ کے لئے تھی مگر ارادہ کل ہی اسے واپس بلوانے کا تھا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ دکھ رہا ہے ہمیں۔۔۔۔۔ ہمیں تم سے سیمپتھی ہے ۔۔۔۔ حنا نے بھی حصہ لیا۔۔۔
صارم نے دونوں پر ایک کاٹ دار نظر ڈالی اور چلا گیا۔۔۔۔۔ جبکہ ارمغان لوگوں کا ارادہ تو عائش کی جم کر دھلائی کرنے کا تھا۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^
موم بھابھی یہ دیکھیں ۔۔۔۔اریشہ نے اپنا موبائل دونوں کے سامنے رکھا جس میں عائش اور حورم کی شادی کی ویڈیو شو رہی تھی۔۔۔۔
ہائے کتنا سوہنا لگ رہا ہے میرا بھائی۔۔۔ ایزل کی نظریں تو عایش پر جم گئی۔۔۔۔
اور حورم آپی بھی بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔۔ میری غیر موجودگی میں کروادی شادی۔۔۔ ناٹ فئیر ۔۔۔۔ اریشہ کو افسوس ہورہا تھا ۔۔۔۔
اللہ خوشیاں نصیب کرے بچوں کو ۔۔۔ شازمہ نے صدق دل سے دعا دی۔۔۔۔ آمین۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^
اسفند ملیحہ سنینہ بھی موبائل کھولے تعجب سے سکرین کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔
شکر الحمد للّٰہ میرے بچے کے نصیب میں اسکا پیار لکھ دیا گیا۔۔۔۔ اسفند نے عائش کے کھلکھلاتے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔۔۔۔
بابا حورم آپی کتنی لکی کے نا جس کو عائش جیسا ہینڈسم ہسبند ملا۔۔۔۔ عائش کی دیوانی سنینہ نے اپنا نظریہ پیش کیا۔۔۔۔
تمہارا ویلا بھائی لکی ہے جسے حورم جیسی میچور اور پیاری لڑکی ملی۔۔۔ اسفند نے سنینہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔
ایویں ویلا۔۔۔ اتنی چارمنگ پرسنالٹی ہے میرے بھائی کی۔۔۔ایک دنیا دیوانی تھی ان کی۔۔۔۔سنینہ عایش کے خلاف کہاں سن سکتی تھی۔۔۔۔
اچھا بابا معاف کردے۔۔۔ بس تمہارا عزیز از جان بھائی تو کروڑوں میں ایک ہے۔۔۔۔ اسفند نے ہتھیار ڈال دیے ۔۔۔۔
ملیحہ بھی دونوں کی نظر اتاری رہی تھی۔۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^
اسلام وعلیکم اینڈ گڈ مارننگ مما ۔۔۔۔ عائش اور حورم ابھی سو کر اٹھے تھے اور فریش ہوکر باہر نکلے تو ادینہ عایز اور شارق پہلے سے وہاں موجود تھے ۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام گڈ آفٹر نون بیٹا۔۔۔ مارننگ کب کا گھر کےلئے نکل چکا ہے ۔۔۔۔ ادینہ نے دونوں کو گلے لگا کر پیار کیا۔۔۔ پھر وہ شارق اور عایش کے گلے لگا جبکہ حورم ادینہ کے ساتھ کچن میں چلی گئی۔۔۔۔
بھائی آپکی شادی کی ویڈیو میں نے اور شارق بھائی نے سب فیملی والوں کو بھیج دی ہے۔۔۔ سب شاکڈ ہیں۔۔۔مگر ارمغان بھائی کے ہاتھوں آپ پکا مروگے ۔۔۔۔ اسکا ری۔ایکشن کافی جارہانہ ہے ۔۔۔۔ عایز نے وائس نوٹ اسے سنائے تو عایش مسکرانے لگا ۔۔۔۔ بولنے دو۔۔۔۔ کیوںکہ سامنے سے وہ مجھے کچھ بول نہیں پائیں گے۔۔۔۔ اور پاس بیٹھے شارق کے کندھے پر سر رکھ دیا۔۔۔۔ جبکہ عایز اب کچن میں ادینہ اور حورم کے پاس چلا گیا۔۔۔۔۔
خوش ہے نا تو ۔۔۔۔ تمہاری دعائیں رائیگاں نہیں گئی۔۔۔ شارق نے اس کے بال بگاڑے ۔۔۔۔
بتا نہیں سکتا کہ کتنا خوش ہوں میں۔۔۔۔ اور مطمئن بھی ۔۔۔ عائش کے سماعتوں میں حورم کا کیا گیا اعتراف محبت کا گھونجنے لگا ۔۔۔۔
چلو اب میرے کام پر لگ جاؤ۔۔۔ ابھی فری ہوکر بابا کو فون ملاؤ اور ان کو میرے اور اریشہ کے رشتے کے لئے کنوینس کرو ۔۔۔ ابھی اریشہ کا فون آیا تھا کہ ایان بھائی سنینہ اور ابیان بھائی کے رشتے کے بابت ہمارے گھر جا رہے ہیں تو لگے ہاتھوں دونوں فرائض سے سبکدوش ہو جائیں گے۔۔۔۔
ویسے بھی شادی میری سٹڈی کمپلیٹ ہونے کے بعد ہوگی تب تک اریشہ کو اپنی ماں اور بھائیوں کے ساتھ پیار بھرے یادگار پل بنانے دو ۔۔۔۔ شارق اسے تفصیل سے بتانے لگا۔۔۔۔
ہاں وہ عایز کی بات بھی بتانی ہے مما کو ۔۔۔۔ وہ نورین کو لائک کرتا ہے۔۔۔۔ عائش نے اپنے بال سنوار کر کہا۔۔۔۔
ہاں اس نے کال رات بتایا تھا مجھے۔۔۔ اچھی لڑکی ہے۔۔۔ پڑھی لکھی نہیں ہے مگر ہمارے گھر کے ماحول میں جلدی ایڈجسٹ ہوکر مووو آن کرلے گی ۔۔۔۔۔ جب عایز کو اعتراض نہیں تو ۔۔۔ زندگی اس نے گزارنی ہے نا کہ ہم نے۔۔۔۔ شارق نے رسانیت سے جواب دیا۔۔۔۔
بلکل۔۔۔۔ عائش نے کچن میں کھڑی حورم کوگہری نظروں کے حصار میں لے کر کہا۔۔۔۔۔
جبکہ شارق نے تاسف سے سر ہلایا ۔۔۔۔ یہ لڑکا سدھرنے والا نہیں تھا۔۔۔۔
آنٹی۔۔۔۔۔ ہماری بھابھی کو نظر کا ٹیکا لگا دینا ۔۔۔ شارق نے اونچی آواز میں دہائی دی تو عائش نے اسے تیز تند نظروں سے گھورا۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^
اسفند کے گھر ایان کے ساتھ ایزل اور اریشہ بھی آئے تھے ۔۔۔ سنینہ کی بات پکی کرکے جب اسفند نے اریشہ کےلئے شارق کی پسندیدگی ظاہر کی تو وہ شرماتی سنینہ کے روم میں چلی گئی۔۔۔ آیان نے اپنی موم کے مشورے سے جواب دے دیا۔۔۔۔ جہاں ایک طرف دونوں اپنے بھائیوں کے لئے خوش ہو رہے تھے وہاں دوسری طرف اپنی بات پکی ہونے پر ایک جگہ جم کے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ اور ایک دوسرے سے نظریں چرا رہی تھی۔۔۔۔ سنینہ کے نکاح کے لیے ایان نے اسفند کو کنوینس کر ہی لیا تھا ۔۔۔ نکاح کا رسم سادگی سے طے کرنے کا ارادہ تھا ۔۔۔ جبکہ شادی پھر ڈھائی ماہ بعد پورے دھوم دھام سے ہوگی۔۔۔۔۔
اریشہ چلو گڑیا ۔۔۔ ایان اس کو لینے سنینہ کے روم میں آیا ۔۔۔۔
جی بھائی۔۔۔۔
اور سنینہ بیٹا۔۔۔ ہمارے گھر آنے کی تیاریوں میں لگ جائے کیونکہ جتنا اتاولہ میرا بھائی ہو رہا ہے وہ اتنے میں سے مانے گا بھی نہیں۔۔۔۔ ایان نے سنینہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تو مارے خفت اس نے دوپٹے میں منہ چھپا لیا۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^
یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔ ساری زندگی تو پاپا کے نام کردی ہے اور بچوں کےلئے کچھ دن اور رک نہیں سکتی آپ ۔۔۔ صارم کے بار بار اصرار پر ادینہ نے عائش کو اپنے جانے کے پروگرام سے اگا کیا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا ۔۔۔۔
ہاں تو تمہارے پاس حورم کو چھوڑ کے جارہی ہوں نا ۔۔۔ وہاں تمہارے پاپا اکیلے ہوتے ہیں۔۔۔ اور صارم سے بات ہوگئی میری ۔۔۔ ابھی نورین کی اماں سے ملنا ہے ۔۔۔ اگر اسے کوئی اعتراض نا ہو تو ہم نورین اور عایز کا نکاح کرکے اسے اپنے ساتھ پاکستان لے جائیں گے۔۔۔۔۔ ہمارے پاس ہی رہے گی وہ ۔۔۔ تاکہ آہستہ آہستہ ہمارے گھر کے طور طریقے سیکھ جائے۔۔۔ادینہ نے اسے صارم کا فیصلہ سنایا ۔۔۔
شام کو وہ لوگ نورین کی امی سے ملے تو اسکی امی اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی کرامت پر اس کے سامنے سر بسجود ہوگئی۔۔۔۔ وہ اس بات کو تسلیم ہی نہیں کر پا رہی تھی کہ اتنے اونچے خاندان کے چشم وچراغ کا اسکی بیٹی کے لئے رشتہ آیا ہے۔۔۔۔ اور پھر سب کے صلاح و مشورے سے اس نے نورین اور عایز کا نکاح پڑھوایا اور اسے کافی ساری دعاؤں کے سائے تلے ادینہ کے ہمراہ رخصت کردیا۔۔۔۔۔
عائز اسے اپنے ساتھ شاپنگ پر لیکر گیا اور اپنی پسند کی شاپنگ اسے کروادی ۔۔۔ مگر وہ ابھی تک عائز سے خود مخاطب نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اپنے اور اس کے سٹیٹس کا سوچ کر وہ احساس کمتری کا شکار تھی۔۔۔۔ اس کے لئے سب کچھ ایک خواب کی طرح تھا۔۔۔۔ کہاں عائز جو ایک خاندانی رئیس تھا اور کہاں وہ ایک ادنی سی ملازمہ کی بیٹی۔۔ جو دوسروں کے ٹکڑوں پر پل کر اور لوگوں کی اترن پہن کر جوان ہوئی تھی۔۔۔ وہ تذبذب کا شکار تھی ۔۔۔۔
صارم واقعی ایک آئیڈیل ہسبنڈ کیساتھ کیساتھ ایک آئیڈیل فادر بھی ثابت ہوئے۔۔۔ جس نے کبھی اپنے بچوں پر بےجا روک ٹوک نہیں کیا ۔۔۔ اسے ایک حد تک خودمختار رکھا ۔۔۔ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا اختیار دیا۔۔۔۔ عایز کی پسند کا سن کر وہ کچھ لمحے کشمکش کا شکار تھا مگر اپنے بیٹے کی خواہش کا احترام کرکے آمادہ ہوگیا ۔۔۔۔۔
عائز نے نورین کے لئے رنگ خرید کر اسے پہنایا۔۔۔۔ مگر اس کا چہرہ کسی قسم کے تاثر سے بات حالی تھا۔۔۔۔۔
یار کچھ تو بولو نا۔۔۔ تین گھنٹوں سے لگاتار میں بک بک کئے جارہا ہوں اور تم نے چپ کا روزہ رکھا ہے کیا؟؟؟ عایز نے اکتاہٹ سے کہا۔۔۔۔۔
مجھے تم جیسے بڑے صاب لوگوں کی طرح باتیں کرنا نہیں اتی۔۔۔ تم خود ہنستے تھے میرے اوپر ۔۔۔ اب اگر کچھ بولی تو تم مینڈ کرو گے۔۔۔۔ بات کرتے ہوئے اس کی آواز بھر آئی ۔۔۔۔۔
میں ہنستا نہیں تھا۔۔۔۔ مجھے اچھی لگتی تھی تمہاری ٹوٹی پھوٹی انگریزی ۔۔۔۔ عایز نے اسکے مینڈ بولنے پر امڈنے والے قہقے کا گلہ دبایا ۔۔۔۔۔
تم سیکھ جاؤگی نورین ۔۔۔۔۔ اگر نہیں سیکھنی تو بھی چلے گا یار میں نے تمہاری انگریزی کا اچار ڈالنا ہے کیا ۔۔۔۔۔ عائز اسے اپنے خول سے باہر نکال رہا تھا۔۔۔۔
ہاں پر حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ میں ایک کام والی کی بیٹی ہوں۔۔۔۔ نورین نے اسے آئینہ دکھایا۔۔۔۔۔
محنت سے کمانے والا اللہ کو بہت پسند ہوتا ہے۔۔۔ اگر تم لوگ حلال کی کمائی کا کھاتے تھے تو کونسی غلط بات ہوگئی۔۔۔ مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔ تمہیں ایک بات بتاؤں۔۔۔ میری مما میرے پاپا کے گھر آتی تھی ارمغان بھائی اور حورم لوگوں کو ٹیوشن پڑھانے۔۔۔ مگر میرے پاپا کو ان سے پیار ہوگیا تو ان سے شادی کرلی۔۔۔ وہ بھی تو ایک طرح محنت کرکے کماتی تھی۔۔۔۔ انہوں نے تو کبھی خود کو دوسروں سے کمتر نہیں سمجھا۔۔۔۔ اور تم اب فاروقی خاندان کی بہو ہو۔۔۔۔ کسی کا تمہارے ماضی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔۔۔ تمہاری شناخت کے لئے میرا نام ہی کافی ہے ۔۔۔۔ عایز بہت پیار سے اسکی برین واشنگ کر رہا تھا۔۔۔ بیشک وہ ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی مگر کافی سمجھدار اور سلجھی ہوئی بچی تھی۔۔۔۔
تم سمجھ رہی ہو نا۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔ اور تم مجھے نوری کہہ کر بلایا کرو۔۔۔ مجھے اماں ابا سب اسی نام سے بلاتے ہیں ۔۔۔۔ نورین نے قدرے ٹھہرے انداز میں کہا ۔۔۔۔۔
عمر کتنی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔ عائز نے سنجیدگی سے استفسار کیا ۔۔۔۔
سولہ سال ۔۔۔۔۔ یک لفظی جواب ملا ۔۔۔۔
میں تم سے بڑا ہوں۔۔۔ اگر تم مجھے آپ کہہ کر بلاوگی تو مجھے اچھا لگے گا۔۔۔ میں فورس نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔ عایز نے کہہ کر گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔ آئیندہ خیال رکھوں گی۔۔۔۔ اماں بھی بولتی ہے شوہر کو آپ کہہ کر بلانا چاہیے ۔۔۔۔۔
گڈ گرل ۔۔۔۔۔ اسلئے تو اچھی لگتی ہو مجھے۔۔۔ جلدی بات مان جاتی ہو ۔۔۔۔عائز اس کے ناک کو ہلکا سا دبایا۔۔۔۔
آپ بھی بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔ نورین اسکی اچھائی کی قائل ہوگئی ۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
