Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283 Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 11)
Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan
اناونسمنٹ ہوچکی تھی۔۔۔۔۔ وہ سب کھڑے ہوگئے ۔۔۔۔ عائش حوصلہ کرکے آگے بڑھا۔۔۔ اور آریز کے گلے لگا ۔۔۔۔ کچھ موتی آریز کے آنکھوں سے گرنے لگے ۔۔۔ پھر وہ اسفند سے ملا پھر ارمغان ۔۔۔ اور اب وہ صارم کے قریب آیا جو کب سے خود پر جبر کئے کھڑا تھا۔۔۔ عائش کے گلے لگتے ہی وہ رونے لگا۔۔۔۔۔
پاپا اگر کوئی دیکھے گا نا کہ آئی جی صارم فاروقی جو خطروں سے کھیلنے والا کھلاڑی ہے بڑے بڑے دشمنوں کو چٹکیوں میں مات دیتا ہے وہ اس طرح رو رہا ہے تو ہر جگہ یہ نیوز پھیل جائے گی پھر آپ کے نام کی جو وحشت دشمنوں کو خوفزدہ کرتی ہے وہ ختم ہو جائے گی اور ایسا آپکا بیٹا کبھی نہیں چاہے گا۔۔۔ عائش بولتے بولتے خود پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔۔۔۔۔
عائش۔۔۔۔ ارمغان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسکو مخاطب کیا۔۔۔۔ دیر ہو جائے گی۔۔۔۔
صارم نے اسکو مزید خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔
پاپا بس کردے نا۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔عائش اسکے آنسو صاف کرنے لگا ۔۔۔۔۔
میں نے اک عمر خرچ کی ہے تم پر
تم میرا قیمتی اثاثہ ہو
صارم کے کہے گئے الفاظ آگ کے گولے بن کر عائش کے سینے پر برس رہے تھے۔۔۔۔ عائش بار بار صارم کو چھوم رہا تھا۔۔۔۔
پاپا عائش آپ سے بہت پیار کرتا یے۔۔۔۔۔ خود سے بھی ذیادہ۔۔۔۔۔
جانتا ہوں میں ۔۔۔ صارم ہولے سے بولا۔۔۔۔
اور آگے بنے لائن میں کھڑا ہوکر اپنی باری کا ویٹ کرنے لگا ۔۔۔۔
شارق عائش کا خیال رکھنا۔۔۔ صارم پیچھے سے پکارا۔۔۔۔
انکل عائش میں میری بھی جان بستی ہے۔۔۔ آپ بے فکر رہے ۔۔۔۔ بس دعا کیجئے گا ہمارے لئے ۔۔۔۔ کہ ہم کامیاب لوٹے۔۔۔۔۔شارق نے ہمت کا مظاہرہ کیا ورنہ وہ خود بھی ٹوٹ رہا تھا۔۔۔۔ گھر سے دور اپنوں سے دور وہ بھی جارہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ لوگ نظروں سے اوجھل ہوگئے تو صارم دم سادھے بیٹھ گیا۔۔۔۔
بھائی میں عائش کے بغیر کیسے رہوں گا۔۔۔ میری طاقت میرا غرور تھا میرا بیٹا ۔۔۔۔
بس اتنے میں حوصلہ ہار گئے۔۔۔۔ عائز بھی تو تھا نا کب سے ۔۔۔۔ اب تو سٹرونگ بنو۔۔۔ یہ چند سال ایسے پھونک مار کر گزر جائیں گے۔۔۔ اور ہمارا بچہ ہمارے پاس ہوگا۔۔۔۔۔۔ان شاءاللہ ۔۔۔۔
آریز کو اپنی بیٹی کی فکر کھائے جو رہی تھی۔۔۔۔ وہ تو خود عائش کو روکنا چاہتا تھا لیکن حورم نے منع کیا تھا۔۔۔ اگر اسکو لائف میں آگے بڑھنا تھا کچھ بن کے دکھانا تھا تو وہ کون ہوتی ہے ان کے پاؤں میں زنجیر ڈال کر قید کرنے والی ۔۔۔۔
عائش کا جہاز آسمان کی بلندیوں میں غائب ہونے لگا تو سب بوجھل قدموں سے واپس آگئے ۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^
وہ بیڈ پر بکس پھیلا کر بیٹھی کوئی اسائمنٹ لکھنے میں مصروف تھی جب ارمغان لوگوں کی واپسی ہوئی۔۔۔
حبا یار پانی پلادو۔۔۔۔ تھکاوٹ چہرے سے عیاں تھی۔۔۔۔
نظر نہیں آرہا آپکو میں سٹڈی کر رہی ہوں۔۔ خود اٹھ کر پی لے۔۔۔۔ منہ پھٹ جواب ایا۔۔۔۔
ارمغان کا ماتھا ٹھنکا ۔۔۔۔ کیا چیز ہے یہ لڑکی۔۔۔۔
اٹھ کر خود پانی پیا اور خود کو سرزنش کرنے لگا۔۔۔۔
اور کرلو بچی سے پیار اور شادی۔۔۔۔ یہی ہونا تھا۔۔۔۔
ڈریسنگ روم جاکر نائٹ ڈریس پہن کر وہ واپس آیا تو وہ ابھی تک اسائمنٹ لکھنے میں بزی تھی۔۔۔۔
یہ اپنے بکس سائڈ پر کرو۔۔۔ تھک گیا ہوں میں سونا ہے مجھے۔۔۔ صبح جلدی اٹھ کر آفس جانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ارمغان اعصابی تھکن کا شکار تھا۔۔۔ ایک تو جان سے پیارے بھائی کے بچھڑنے کا دکھ ۔۔۔۔دوسرا خود سے دس سال چھوٹی بچی کے ساتھ شادی کرکے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارنا۔۔۔۔
اس نے کتابیں سمیٹی ۔۔۔۔ ہاں آپ کو آفس جانا ہے مجھے تو جیسے سارا دن آرام کرنا ہوتا ہے ۔۔ مجھے بھی کالج ہی جانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ دوبدو جواب دیا ۔۔۔۔
شادی کے دوسرے دن کون کالج جاتا ہے حبا۔۔۔۔۔ارمغان سکتے میں تھا۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔ یک لفظی جواب دیا حبا نے۔۔۔ میں نے ڈیڈ سے بات کرلی ہے اس نے پرمیشن دے دی۔۔۔ آریز کے سختی سے منع کرنے پر اس نے دوبارہ اسے انکل کہنے کی جرات نہیں کی۔۔۔ آج صبح سے ہی وہ بار بار انکل بول کر اسے محاطب کر رہی تھی۔۔۔۔ تو اس نے ٹوکا تھا۔۔۔ کہ باقی سب کی طرح وہ بھی اس گھر کا فرد ہے سو ڈیڈ کہہ کر بلایا کرو۔۔۔۔۔
اور کالج میں کس کو پتہ کہ میری شادی ہوئی ہے۔۔۔۔ سب میرا مذاق اڑائیں گے نا کہ اتنی چھوٹی عمر میں شادی کروادی گھر والوں نے نے ۔۔۔ ابھی تو میرے کھیلنے کودنے کے دن تھے۔۔۔۔ حبا کا لہجہ خود بخود بھیگ گیا۔۔۔۔
تو رو کیوں رہی ہوں۔۔۔ ہم کونسا یہاں تم پر مظالم ڈھا رہے ہیں ۔۔۔۔ اور تم پر کوئی روک ٹوک نہیں ۔۔۔۔ جو من میں آئیں کرو۔۔۔۔۔ارمغان تو بس صرف اسکو اپنے نام کروانا چاہتا تھا شادی اتنی جلدی کرنے کے حق میں وہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔ اسے احساس تھا حبا کا بچپنا سب کے سامنے تھا۔۔۔۔
تو پھر آپ میرے لئے دوسرا روم سیٹ کروادے نا۔۔۔۔ میں یہاں آپکے ساتھ کمفرٹیںبل نہیں ہوں۔۔۔۔ کل رات بھی مجھے صوفے پر نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
تو کس نے بولا تھا وہاں سونے کو۔۔۔۔ یہ اتنا بڑا بیڈ جو ہے۔۔۔ارمغان کو اس کی بیوقوفی پر غصہ آیا۔۔۔۔
م۔م۔میں آپکے ساتھ ۔۔۔۔۔ شرم و حیا سے اس کی پلکیں لرزی۔۔۔سر جھکا کر بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔۔
حبا میں نے کل رات کو بولا تھا نا میں تمہیں سپیس دے رہا ہوں۔۔۔۔ تو پھر یہ جھجھک کیوں۔۔۔۔
م۔م۔میں حورم آپی کے ساتھ سو جاؤں گی۔۔۔۔ حبا بضد تھی۔۔۔۔۔
یہ غلط ہے حبا ۔۔۔۔۔ سب کی نظروں میں آکر ہمارے درمیان موجود رشتے کو بے مول کردو گی تم۔۔۔۔۔
وہ ہونٹ بھینچے بیٹھی تھی۔۔۔۔ اس کے قریب آکر اس نے حبا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ۔۔۔۔۔
میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔ اور میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم اس وقت میرے روم میں میری بیوی کی حیثیت سے میرے ساتھ ہو۔۔۔ تمہاری رضامندی کے بغیر میں تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔ مگر میں یہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنے رشتے کا اشتہار لگوائیں اور مجھے ہر ایک کو وضاحتیں دینی پڑے۔۔۔۔ میری بیوی ہوکر دوسرے کمرے میں رہ کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم کہ میں تمہارے ساتھ زبردستی کر رہا ہوں۔۔۔۔؟؟؟ وہ بہت تحمل سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
ن۔نن۔نہیں۔۔۔۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔
تو پھر یہ پھیلاوا سمیٹو سو جاو۔۔۔ میں کل سے خود تمہیں کالج ڈراپ کرکے پھر آفس چلا جاؤں گا۔۔۔۔ وہ بچوں کی طرح اسے ٹریٹ کر رہا تھا۔۔۔۔یہ سب کچھ اتنا آسان بھی نہیں تھا جتنا وہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے بکس اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔۔ خود جاکر کپڑے چینج کرکے بیڈ کے دوسرے طرف جاکر لیٹ گئی۔۔۔۔ تو ارمغان نے لائٹ آف کردی۔۔۔۔۔
سنیں۔۔۔۔ وہ جو رح موڑ کر اپنی جگہ لیٹ گیا حبا نے پکارا۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔
و۔وہ میں نیند میں لاتیں مارتی ہوں ہاتھ پیر چلاتی ہوں۔۔۔ وہ جو رخ اسکی جانب کرکے اسے دیکھنے لگا تھا نائٹ بلب کی روشنی میں اس کے معصوم چہرے پر چھائی تشویش نوٹ کرگیا۔۔۔۔۔
تو؟؟؟ ارمغان نے بھنویں اچکائی۔۔۔۔
اس نے گڑبڑا کر نظر اٹھائی ۔۔۔۔۔ آپ کی نیند ڈسٹرب ہوگی نا اور اگر زور سے لات ماری تو آپکو لگ بھی سکتی ہے۔۔۔۔ ایزل آپی نے بچپن سے ہی میرے ساتھ سونا چھوڑ دیا تھا کہ میں نیند میں اس کو ہرٹ کرتی ہوں۔۔۔۔ آج تو وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑنے کا اردہ کر چکی تھی۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔اور اتنے چھوٹے سے پیروں سے کتنا ہرٹ کروگی ۔۔۔۔ میں تمہاری ایزل آپی کی طرح نازک اندام نہیں ہوں۔۔۔۔ سو جاؤ۔۔۔۔
گڈ نائٹ ۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
رات کے کسی پہر بال کھینچنے پر اسکی آنکھ کھلی تو ایان کو اپنے پہلو میں لیٹتے دیکھ کر اس نے جھٹ سے آنکھیں واہ کیے۔۔۔۔ پھر اپنے سراپے پر نظر دوڑائی ۔۔۔کل کی طرح آج بھی وہ ایان کے آنے سے پہلے ولیمہ کے ڈریس میں ہی سو گیی تھی۔۔۔ دوپٹہ اسی طرح سر پر پنوں کی مدد سے سیٹ تھا جو تھوڑا سا بالوں میں الجھ گیا تھا تو بال کھینچنے لگے تھے۔۔۔۔ وہ آرام سے اٹھ کر ڈریسنگ روم میں گئی اور نائٹ ڈریس پہن کر واپس آکر اپنی جگہ لیٹ گئی۔۔۔
من چاہا شخص آنکھوں کے سامنے ہو تو نیند کسی کافر کو آئے گی۔۔۔۔۔ اس نے ایان کے سینے پر رکھا گیا اسکا ہاتھ ہٹایا اور خود وہاں سر رکھ کر لیٹ گئی۔۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔۔ نیند میں ہلچل محسوس کرکے ایان آنکھوں میں خماری لئے بوجھل لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔۔
نیند نہیں آرہی۔۔۔۔ اس کے سینے پر انگلی پھیر کر بولی۔۔۔۔
میں سمجھا سانس نہیں آرہا۔۔۔۔ پرانی بات کا حوالہ دے کر اسے چھیڑا۔۔۔ تو وہ جھینپ گئی۔۔۔۔
آپ بلکل بھی اچھے نہیں ہے۔۔۔۔۔
اب کیا کرے تمہاری من موہنی صورت نے میرے دل کے تاروں کو انجانے میں چھیڑا تھا۔۔۔ میں کتنی راتیں سو نہیں سکا۔۔۔ بس تمہارا معصوم لمس مجھے بے چین کئے رکھتا تھا۔۔۔۔ اور تم نے سنینہ کو بھی جلی کٹی سنائی ہوگی نا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔ آپکو کیسے پتہ ۔۔۔۔ اس نے حجل ہوکر سر اوپر اٹھایا تو ایان نے دوبارہ اسکا سر اپنے سینے پر رکھا۔۔۔۔۔
کسی نے بھی نہیں۔۔۔۔ میں خود بھی گلٹی تھا تو تمہارا ہونا بھی لازمی تھا۔۔۔۔
آپ نے اپنا گلٹ ختم کرنے کے لئے مجھ سے شادی کی۔۔۔۔ ایک انجانا خوف اس کی رگوں میں سرائیت کرنے لگا۔۔۔۔۔اسکی ساکت اور تشنہ نظریں ایان پر مرکوز تھی۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ پیار کرنے لگا تھا۔۔۔۔ لائف میں پہلی بار کسی لڑکی کے اتنے قریب ہوکر اسے محسوس کیا تھا۔۔۔۔ اور وہی احساس خون میں دوڑنے لگا تھا۔۔۔۔۔ والہانہ پن اور دھڑلے سے اس کے کانوں میں طلسم پھونک کر اس کے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ بکھر دئے۔۔۔۔
آپکو پتہ ہے عائش نے آپ سے پہلی ملاقات میں ہی آپکے جزبات جان لئے تھے۔۔۔۔
کافی گہرا انسان ہے تمہارا بھائی ۔۔۔۔ الجھا ہوا۔۔۔ مجھے آج تک اسکی سمجھ نہیں ائی۔۔۔۔ لگتا ہے بہت سے راز اپنے سینے میں مدفن لئے پھرتا یے۔۔۔ آنکھیں بلکل سرد اور حالی ۔۔۔ ایان کا تجزیہ سو فیصد درست تھا۔۔۔۔۔
بلکل۔۔۔ سب ایسا بولتے ہیں۔۔۔ بٹ ہم سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔۔۔
دیکھا ہے میں نے۔۔۔۔ اب اپنے بھائی کو چھوڑ دو اپنے ہسبنڈ پر تھوڑا توجہ دو۔۔۔۔ بہت ترس گیا ہے تمہارے لمس کو محسوس کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔
اسکے گرد بازوؤ حمائل کرکے اس کے ماتھے پر لب رکھ دئے ۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
عائز ائیرپورٹ پر ان کے استقبال کے لئے موجود تھا۔۔۔۔ دور سے ہی وہ دونوں نظر آگئے تو وہ دوڑتا ہوا گیا اور عائش کے گلے لگ کر جھول گیا۔۔۔۔۔
آپکو اندازہ بھی نہیں ہے کہ میں کتنا خوش ہوں۔۔۔۔ آئی ایم سو ایکسائٹڈ۔۔۔۔ وہ اسے ساتھ لئے گول گول گھما کر چھومنے لگا۔۔۔۔
یار بس کردو نا۔۔۔۔ یہ تم سب لوگوں کو ایک ہی بیماری لگی ہے۔۔۔ کچھ رحم کرو مجھ پر اگر میری سکن خراب ہوگئی نا تو سب کے سب ہر تیزاب انڈیل دوں گا۔۔ ۔۔۔۔ عایش نے اسے ڈانٹا ۔۔۔
ویلکم ویلکم ۔۔۔۔۔۔۔
سنو سنو سنو لوگوں۔۔۔۔۔۔۔ آج میں عائز فاروقی ہواؤں میں اڑ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ سب لوگ مڑ مڑ کر اس چھوٹے سے حوبصورت سترا سال کے بچے کو توصیفی نگاہ سے دیکھ رہے تھے جو اپنے بھائی کو سالوں بعد اپنے روبرو دیکھ کر والہانہ پن سے اسے چھوم رہا تھا۔۔۔۔
عایز میں بھی آیا ہوں ڈوڈ ۔۔۔ مجھ سے سوتیلوں والا سلوک کیوں۔۔۔۔ شارق نے دونوں کو ایک دوسرے میں مدغم دیکھ کر منہ پھلایا۔۔۔۔۔
ارے شارق بھائی آپ تو اپنوں سے بھی بڑھ کر ہو۔۔۔ عایز اب اسکے گلے لگا۔۔۔۔۔۔
دونوں کے بازوؤں کے حصار میں وہ باہر نکلا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہ لوگ اپنے عائش کے لئے خریدے گئے فلیٹ میں چلے گئے۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^
وہ چینج کرکے ڈریسنگ روم سے باہر آیا تو حبا کو یونیفارم پہنے ہاتھوں میں برش لئے بالوں کے ساتھ مذاکرات طے کرتے پایا۔۔۔۔
کیا ہوا ؟؟؟
میری پونی مما یا آپی ہی بناتی تھی۔۔۔ چوٹی نہیں بن رہی۔۔۔۔ آنسوؤں کا گولہ گلے میں اٹک کر بولی ۔۔۔
بس اتنی سی بات۔۔۔۔ میں ٹرائی کرتا ہوں۔۔۔۔
اس کے ہاتھ سے برش لیکر بالوں سنوارنے لگا۔۔۔
یار اتنی چھوٹی سے ہو تو اتنے لمبے بال کیوں رکھے ہیں۔۔۔۔ ارمغان نے اس کے کمر سے نیچے تک آتے خوبصورت سلکی بالوں کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
ڈیڈ کو پسند ہیں ہمارے بال ۔۔۔
وہ بار بار کوشش کر رہا تھا مگر زیادہ گھنے اور سلکی بال ہاتھوں سے پھسل پھسل کر پشت پر گر رہے ہیں۔۔۔ ایک تو اسکا دل بھی بہک رہا تھا۔۔۔ مشکل سے خود پر کنٹرول رکھا تھا۔۔۔۔
ویسے حبا کافی اچھا فٹبال کھیل لیتی ہو۔۔۔۔ شوخ سے بھرپور آواز تھی ۔۔۔۔۔
ک۔۔کک۔کیا مطلب۔۔۔ میں تو فٹبال نہیں کھیلتی۔۔۔۔ حبا تحیر سے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔پھر جیسے اسکی زومعنی بات کا مفہوم سمجھ کر وہ قندھاری ہوگئی۔۔۔۔ تو اس نے بات بدل دی۔۔۔
حبا ۔۔۔ نہیں بن رہی۔۔۔۔ تم موم یا مما کے پاس چلی جاؤ۔۔۔ کافی تگ ودو کے بعد بھی وہ ناکام رہا۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں سے برش لیکر وہ کھڑی ہوگئی تو گھنے بالوں کا آبشار پشت پر بکھرنے لگا ۔۔۔۔۔
وہ اسکی پشت پر کھڑا تھا۔۔۔۔۔ دوقدم قریب ہوکر اسکے سر پر اپنے لب رکھے تو وہ کرنٹ کھا کر آگے ہوئی۔۔۔۔
آ۔۔آپ مجھ سے دور رہے۔۔۔۔ اور کہتی ہوئی روم سے نکل گئی ۔۔۔۔۔ارمغان نے زور سے مٹھیاں بھینچی اور ٹیبل کو لات ماری۔۔۔۔۔
اس نے دیکھا کہ حنا کچن میں مصروف ہے تو ادینہ کے روم کا ڈور ناک کیا۔۔۔۔ صارم جو ڈیوٹی پر جانے کے لئے ادینہ کی مدد سے تیار ہورہا تھا اس نے اندر آنے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔
حبا کو دیکھ کر دونوں مسکرائے۔۔۔۔
ہاں بیٹا کیا ہوا۔۔۔ صارم نے اس کو خود سے لگایا ۔۔۔۔
و۔۔و۔۔ہ پاپا میں۔۔۔۔ وہ بولتے ہوئے ہچکچا رہی تھی ۔۔۔۔۔ادینہ جو ساری رات رو رو کر اب کسلمندی کا شکار تھی حبا کے قریب آگئی۔۔۔۔۔
بال بنانے ہیں ۔؟؟؟ ادینہ نے اسکے ہاتھ میں برش دیکھ کر پوچھ لیا تو اس نے کسی تابعدار بچے کی طرح جلدی سر ہلایا۔۔۔۔۔
کیوں بھئی ہمارے بچے نے ہلف نہیں کی؟؟؟ صارم نے اسے چھیڑا تو کان کی لوو تک سرخ ہوگئی ۔۔۔۔ مگر ادینہ کا ذہن کہیں اور بھٹکا ہوا تھا۔۔۔۔
صارم آپ نیچے جائے میں اسے تیار کرواکر آتی ہوں۔۔۔ وہ صارم کو منظر سے غائب کرواکر حبا سے اکیلے میں بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
صارم جیسے ہی روم سے باہر گیا تو اس نے حبا کو آڑے ہاتھوں لے لیا ۔۔۔۔۔
حبا تم ابھی اٹھارہ سال کی ہوجاوں گی نا۔۔۔ بس عائز سے دو ماہ چھوٹی ہو۔۔۔استفہامیہ انداز تھا۔۔۔
جی مما۔۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہونا چاہیئے نا شوہر کے حقوق کا۔۔۔۔ اگر ارمغان بچی سمجھ کر تمہیں سپیس دے رہا ہے تو یہ اسکا بڑپن ہے۔۔۔۔
وہ مضطرب سی ادینہ کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔
یہی سوچ رہی ہو نا کہ مجھے کیسے پتہ چلا۔۔۔۔ کم از کم ارمغان نے نہیں بتایا۔۔۔۔ یہ تم دونوں کا پرسنل میٹر ہے مگر تمہیں سمجھانا میرا فرض۔۔۔۔ اگر شوہر کی ضرورت گھر میں پوری نہیں ہوتی نا تو وہ باہر ۔۔۔۔۔۔
ن۔نن۔نہیں۔۔۔ حبا اسکی وضاحت سے پہلے بول اٹھی ۔۔۔ وہ مجھ سے پیار کرتے ہیں۔۔۔ کسی اور کے بارے میں کیوں سوچیں گے۔۔۔ سب کچھ اتنی جلدی میں ہوگیا کہ ۔۔۔۔۔اسکے تو ہاتھ پیر کانپنے لگے اتنی بھی وہ بچی نہیں تھی کہ ادینہ کے باتوں میں چھپی تنبیہ بھی نا سمجھ سکے۔۔۔۔
آگے سے ایک خوبصورت سا فرنچ ہیر سٹائل بنا کر اس نے چوٹی بنائی جو اسکے پشت پر جھولنے لگی۔۔۔۔
گڈ۔۔۔ میری بیٹی تو کافی سمجھدار ہے۔۔۔۔ چلو اب نیچے چلتے ہیں ۔۔۔ تمہیں کالج سے اور ارمغان کو آفس سے دیر ہو جائے گی۔۔۔۔
ادینہ کو جتنا سمجھانا تھا وہ سمجھا گئی ۔۔۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔۔ اس نے نیچے ڈائیننگ ٹیبل پر آکر سب کو مشترکہ سلام کیا۔۔۔۔
چشم بدور ۔۔۔۔ آجاؤ میری جان۔۔۔میرے گھر کی رونق اگیی۔۔۔آریز نے باہیں پھیلا کر اسے گلے لگایا ۔۔۔۔
ارمغان کے ساتھ خالی کرسی پر وہ بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ اگر دس سال لگاتار پریکٹس کروں تب بھی ایسا نہیں بن پائے گا مجھ سے۔۔۔ ارمغان نے جھک کر اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تو وہ مسکرادی۔۔۔۔ اور وہاں بیٹھے سب لوگ اسکی معصومیت بھری مسکان پر نثار ہوگیے۔۔۔۔۔
ارمغان تم اسے ڈراپ کروگے اور پھر چھٹی میں ڈرائیور لے آئے گا۔۔۔۔ آریز نے حکم دیا۔۔۔۔
جی ڈیڈ۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^
دن پر لگا کر اڑنے لگے۔۔۔ ارمغان کی شادی کو ایک سال ہوگیا تھا۔۔۔۔ اور حبا کو دینے والا وقت کافی طویل ہوگیا تھا۔۔۔ دونوں اب کافی حد تک ایک دوسرے کے قریب آ چکے تھے بٹ میاں بیوی والا کوئی رشتہ دونوں کے مابین نہیں تھا۔۔۔
عائش کو بھی ایک سال ہوگیا تھا اور اب وہ کافی حد تک ایڈجسٹ ہوچکا تھا۔۔۔۔ بس حورم کو کبھی کبھی کوئی شعر کوئی غزل لکھ کر سینڈ کردیتا۔۔۔ ایک بار بھی بات نہیں ہوئی ۔۔۔۔
بھائی اٹھے نا۔۔۔۔آپ ویک اینڈ میرے ساتھ سپینڈ کرنے والے تھے نا۔۔۔ آپ نے پرومس کیا تھا ۔۔۔۔ عائز اسکے فلیٹ پر آیا تھا اور اسے جگاتے ہلکان ہوچکا تھا لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہورہا۔۔۔۔۔
عائز نے کمفرٹر اس کے اوپر سے کھینچ لیا۔۔۔۔
یاررر۔۔۔۔عایش نے آنکھیں کھولی مگر عائز کے نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر اس نے آنکھیں میچی۔۔۔۔۔ اسکی سرد نظریں عائش کے چوڑھے سینے پر بنے ٹیٹو پر اٹک گئی تھی۔۔۔۔۔ اور وہ لمحوں میں ہونق ہوا تھا ۔۔۔۔
اپنے چھوٹے بھائی کے گہری نگاہوں سے خائف ہوکر اس نے ہاتھ بڑھا کر شرٹ اٹھائی اور پہن لی۔۔۔۔۔
آپ اتنے آگے بڑھ گئے ہیں بھائی۔۔۔۔ یہ کب بنوایا ہے۔۔۔۔دونوں ہاتھ پہلوؤں میں جمائے پوچھا۔۔۔۔۔۔
چھ سال پہلے۔۔۔۔ اور مجھے خود اپنی پیار کی حد کا نہیں پتہ۔۔۔۔۔اپنے بھائی کے تیکھے سوال پر وہ مدہم لہجے میں بولا۔۔۔۔
آپکی اتنی دیوانگی دیکھ کر بھی آپی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔۔شارق اور عایز کے ساتھ وہ اتنا فرینک تھا کہ وہ لوگ کچھ بھی پوچھ سکتے تھے وہ چھپاتا نہیں تھا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔ اسے صرف ہمدردی تھی ۔۔۔۔ اور مجھے بھیک میں ہمدردی یا محبت دونوں نہیں چاہیئے تھی ۔۔۔۔۔
تم ویٹ کرو میں جلدی سے فریش ہوکر آتا ہوں۔۔ شارق کو بول دو ناشتہ تیار کرے میرے لئے ۔۔۔۔
میں بنا دوں گا ۔۔۔۔ آپ جاکر ریڈی ہوجائے۔۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^
ویک اینڈ پر وہ سب ساتھ میں لنچ کرتے۔۔۔ ابھی وہ کھانا کھا کر گپ شپ لگا رہے تھے کہ آریز نے حورم کو پکارا۔۔۔
حورم۔۔۔۔۔
جی ڈیڈ۔۔۔۔
یوکے میں ایگزیبیشن ہورہا ہے۔۔۔ میں نے تمہارا نام بھیج دیا تھا ۔۔۔۔ تمہیں نیکسٹ ویک جانا ہے اپنی مما کو ساتھ لیکر موسم کے حساب سے خریداری کرلو۔۔۔۔
ڈیڈ مم۔۔میں کیسے اتنی دور اکیلے جاؤں گی ۔۔۔ اور آپ نے مجھ سے پوچھے بغیر کیوں کیا یہ سب۔۔۔۔۔
مجھے بھی جانا تھا مگر اب مجھے رکنا پڑ رہا ہے ۔۔۔۔۔ میں پہلے جرمنی جاؤں گا پھر واپسی پر تمہیں ساتھ لے آؤں گا۔۔۔ اور اکیلے کیسے۔۔۔۔ تمہارے بھائی ادھر ہی تو ہے۔۔۔۔ اس نے بھائی کا لفظ جان بوجھ کر لے لیا۔۔۔۔
ہاں ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائی۔۔۔۔ عائش لوگوں سے بھی مل لو گی۔۔۔ تمہاری بھی آوٹنگ ہوجائے گی۔۔۔صارم نے بھی تائید کی۔۔۔۔۔
اس نے خاموشی اختیار کی۔۔۔ مگر موقع ملتے ہی وہ اپنے باپ کے سر پر سوار ہوگئی ۔۔۔۔
آپ جانتے ہیں نا وہ میری وجہ سے گیا ہے اور جان بوجھ کر پھر آپ مجھے اس کے پاس بھجوا رہے ہیں۔۔۔ اب وہ تھوڑا سنبھل گیا ہوگا پھر سے میں اسے ٹوٹا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔وہ بپھر گئی ۔۔۔۔۔
چلو تیاری شروع کردو۔۔۔ تم ابھی تک اپنے ڈیڈ کو نہیں جان پائی جو فیصلہ لیتا ہوں وہ اٹل ہوتا ہے۔۔۔۔ اگر تم نہیں جاؤں گی تو میری ناراضگی سہنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرو۔۔۔۔
وہ پیر پٹخ کر چلی گئی۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^
عائز کے ساتھ اسکی بات ہوگئی اور اس نے عائش کو بتانے سے منع کردیا ۔۔۔۔۔۔اسکا ارادہ کسی ہوٹل میں رکنے کا تھا۔۔۔ اور یہ کام عائز کے سپرد کردیا تھا اس نے۔۔۔۔
مگر آپی اگر پاپا یا ڈیڈ کو پتہ چل گیا کہ آپ بھائی کے پاس نہیں رہ رہی کسی ہوٹل میں سٹے کر رہی ہیں تو سب مائنڈ کریں گے۔۔۔۔۔
تم وہ سب چھوڑ دو۔۔۔ یہاں سے جتنے بھی لوگ ایگزیبیشن کے لئے جارہے ہیں سب کے لئے رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ وہ بادل ناخواستہ راضی ہوگیا۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^
