Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283 Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 25)
Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan
ڈور ناک پر اس کی نیند سے بوجھل آنکھیں کھلی۔۔۔۔۔اور بیڈ کے دوسری طرف حورم کو سوتے دیکھ کر اسے خوشگوار طمانیت کا احساس ہوا۔۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر حورم کو اپنی طرف کھینچ لیا جو کٹی ہوئی پتنگ کی طرح اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔
کیا ہے ۔۔۔۔ حورم نے اس اچانک افتاد پر بھاری پپوٹوں کو کھولنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
یہ فاصلے اور دوریاں بس دو تین دنوں کی مہمان ہے پھر آپ عائش فاروقی کی سلطنت کی ملکہ ہوگی ۔۔۔۔۔ اس کے کانوں میں میٹھی سرگوشیاں کرتا وہ اس کی سانسیں ساکت کر گیا ۔۔۔۔۔۔
پھر اس کے چہرے پر جابجا اپنے محبت بھرا لمس چھوڑنے لگا ۔۔۔۔۔
عائش ۔۔۔۔حورم کی لمبی گھنیر پلکیں لرز رہی تھی۔ اور چہرے پر بکھرتے حیا کے رنگوں کو دیکھ کر اسکی ناک کو چھو کر وہ سیدھا ہوا۔۔۔۔۔
سنا تھا حالی پیٹ دوا ذیادہ جلدی اثر دکھاتی ہے مگر خیر ۔۔۔۔۔یہاں تو طبیب صاحبہ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اس مریض عشق کا علاج کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہے ۔۔۔ اس کی الفاظ کی گہرائی سے حورم کا چہرہ مارے خفت سے سرخ ہوگیا۔۔۔اس کی پرفسوں قربت میں مزید بہکتی کہ اس کی آنکھوں کی شوخی اسے سلگا گئی اور خود کو اس کے گرفت سے آزاد کرکے واشروم میں بند ہوگئی۔۔۔
کچن میں جاکر اس نے ناشتہ تیار کیا اور عائش کے ساتھ ہی ناشتہ کرنے لگی۔۔۔۔
ان لوگوں کو رخصت کرواکر وہ برتن سمیٹنے لگی کہ اپنے گرد بازوؤں کا حصار محسوس کرکے وہ مسکرائی۔۔۔۔۔
میرے پاپا جب گھر سے نکلتے ہیں تو۔۔۔۔۔۔
مما اسکو کس کرتی ہے۔۔۔ عائش کی ادھوری بات حورم مکمل کی۔۔۔۔
حورم نے اسکی طرف رخ موڑ کر اسکے ماتھے پر لب رکھے ۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا اور کسی جولی مولی کے منہ مت لگنا۔۔۔۔۔ اسکے دھمکی آمیز لہجہ سے پیار چھلک رہا تھا۔۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ بن گئی نا روایتی بیوی ۔۔۔۔ جیلس ہو رہی ہے آپ۔۔۔ مجھے منہ لگانے کی جرات آپ کے علاؤہ کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔۔۔۔
ہاں ہوں جیلس۔۔۔۔ عائش کو ہگ کرکے اسنے اقرار کیا۔۔۔۔
یہ بندہ ناچیز آپ کی امانت ہے ۔۔۔ کبھی خیانت نہیں کرےگا۔۔۔آزما کر دیکھو اسے خود میں بھینچ کر کہا۔۔۔۔۔
دعا کرنا پیپر اچھا ہو ۔۔۔ اور شام میں تیار رہنا شاپنگ پر جانا ہے۔۔۔
اللہ تمہارا خامی و ناصر ہو۔۔۔۔ حورم نے صدق دل سے دعا دی ۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
ایک نمبر کی کمینے اور ذلیل انسان ہو تم۔۔۔ شارق گاڑی میں بیٹھا اسکا بے صبری سے ویٹ کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ گھڑی پر بھی نظر ڈالتا ۔۔۔۔۔ عایش کے بیٹھتے ہی اس پر شرر باز نگاہ دل کر ملامت کرنے لگا ۔۔۔۔
یار کان پک گئے ایک ہی بات سن سن کر ۔۔۔ کچھ نیا بولو نا۔۔۔۔ عائش نے ناگواری سے سیٹ بیلٹ باندھ لی۔۔۔۔۔
ایسا کیوں نہیں کرتا اپنی بیوی کو ساتھ لے آتا ۔۔۔ نظروں کے سامنے بھی رہتی اور تمہارا من بھی لگ جاتا ۔۔۔ سب کرتے ہیں شادی۔۔۔ بیویاں سب کی ہوتی ہے ۔۔۔ مگر تم نے تو مجنون کا ریکارڈ توڑ دیا۔۔۔۔۔ شارق پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔۔۔۔۔
میں نہیں چاہتا ان پر میرے علاؤہ کسی کی نظر پڑے ورنہ ان سے ایک لمحہ دوری برداشت نہیں ۔۔۔میرا بس چلتا تو انہیں دنیا کی نظروں سے چھپا کر اپنے دل کے ایک خاص کونے میں پیوست کردیتا۔۔۔۔ عائش جذبات سے بوجھل لہجے میں بول کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^
بریک ٹائم میں وہ دونوں کینٹین میں بیٹھے تھے۔۔۔ شارق برگر کھا رہا تھا اور عائش حورم کے ساتھ میسج پہ بات کر رہا تھا ۔۔۔ شارق ایک بائیٹ خود لیکر دوسرا عائش کو کھلا رہا تھا۔۔۔
جولی عادت سے مجبور پھر سے چئیر دونوں کے قریب کھسکا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ عائش ایک کاٹ دار نظر اس پر ڈال کر دوبارہ موبائل میں گھسنے لگا۔۔۔۔۔
ہیلو ۔عائش۔۔۔۔ کیسے ہو۔۔۔۔ خاصا بے باک انداز تھا ۔۔۔۔
عائش کے ماتھے پر شکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔۔۔۔
جی فرمائیں۔۔۔۔ کوئی کام تھا۔۔۔۔ شارق نے آخری بائیٹ عایش کو کھلا کر ٹشو سے ہاتھ صاف کرکے پوچھ لیا۔۔۔۔
عائش سے بات کرنی تھی ۔۔۔تم سے نہیں۔۔۔۔۔ جولی عایش کے ضبط سے سرخ آنکھوں کو دیکھ کر حقارت سے بولی۔۔۔۔
وہ فری نہیں ہے۔۔۔۔دکھ نہیں رہا تمہیں۔۔ اپنی بیوی کے ساتھ بزی ہے۔۔۔۔ شارق نے لفظ’ بیوی’ پر زور دیکر کہا۔۔۔۔
وہی تو پوچھنا ہے اس سے۔۔۔ کہ ایسا کیا ہے اس لڑکی میں جو مجھ میں نہیں ہے۔۔۔۔ یہ اس کے پیچھے دیوانہ ہے۔۔۔ میں ملی ہوں ان سے مجھے تو کچھ خاص نہیں لگا ان میں۔۔۔ جولی اپنی ہی دھن میں بول کر مقابل کو طیش دلا رہی تھی ۔۔۔۔
رئیلی۔۔۔شارق نے زہرخند لہجے میں بھنویں سکیڑ کر کہا۔۔۔ اس میں وہ سب کچھ ہے جو تم میں نہیں ہے۔۔۔وہ سراپا محبت ہے۔۔۔۔ جس کے عشق کے سائے تلے عائش سانس لے رہا ہے۔۔۔۔ وہ ایک مہذب حیا دار اور شفاف کردار کی لڑکی ہے ۔۔۔۔ اور اسکے تعارف کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ عائش کی بیوی ہے۔۔۔ من چاہی۔۔۔۔ عائش کے ماتھے کی تنی رگیں دیکھ کر شارق نے جواب دیا ۔۔ عایش کو حورم کے بات کا مان رکھنا تھا ورنہ اسکا منہ اچھے سے بند کرواسکتا تھا ۔۔۔ وہ جانتا تھا شارق سمبھال لے گا۔۔۔ عائش نے تشکر آمیز نظروں سے شارق کو دیکھا۔۔۔۔۔
مجھے کوئی ایشو نہیں۔۔۔ ایک کیا دس بیویاں بھی ہو اس کی۔۔۔۔ بس یہ مجھے اپنا لے۔۔۔۔ نگاہیں عائش کے مسکراتے چہرے پر مرکوز کرکے وہ ڈھٹائی سے بولی۔۔۔ حورم کے “مس یو” بولنے پر عایش کے تنے اعصاب پرسکون ہوگئے۔۔۔ ایک الگ الوہی چمک تھی عایش کے چہرے پر جو اس وقت جولی کو سلگا رہی تھی ۔۔۔۔۔
مگر ہمیں ایشو ہے۔۔۔۔ شکر مناؤ کہ اسکی بیوی نے اسے کسی ایرے غیرے کے منہ لگنے سے منع کیا ہے ورنہ تم اس کا جنونی ردعمل دیکھ نہیں پاتی ۔۔۔۔ عائش اٹھ کر جانے لگا تو شارق بھی اسکے ہمراہ چلنے لگا۔۔۔۔ جولی کرب سے دل میں پنپتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں لگ گئی۔۔۔
تم کیوں اسکی بیوی کی حمایتی بن رہے ہو۔۔۔ عقب سے جولی نے بھڑکتی چنگاری کو اور ہوا دی۔۔۔۔۔
کیونکہ عائش کی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ میری بہن بھی ہے۔۔۔۔ کرختگی سے کہہ کر اس نے جولی کے حواسوں کو جھنجھوڑا ۔۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^
وہ کچن میں کھڑی شازمہ کے لئے ہلکا پھلکا ناشتہ تیار کر وارہی تھی کہ ارسہ گنگناتی ہوئی آگئی اور فروٹ باسکٹ سے ایپل اٹھا کر دھونے لگی۔۔۔
ویسے سنا ہے تمہاری چھوٹی بہن پریگننٹ ہے۔۔۔ تم سے ایک قدم آگے نکلی۔۔۔ اور تمہارے تو دور دور تک ماں بننے کے کوئی اثار نظر نہیں آرہے۔۔۔ استہزائیہ انداز میں کہہ کر ہاتھ میں پکڑے ایپل کے بائیٹس لینے لگی۔۔۔۔
میری تو چھوڑو۔۔۔ اڑتے اڑتے کچھ خبریں ہماری گھر تک بھی پہنچی ہے کہ تم نے سوشل میڈیا پر کسی کے ساتھ زبردست قسم کا افئیر چلایا تھا اور پھر لڑکے کو فورس کیا رشتہ بھیجنے کیلئے لیکن افسوس لڑکے کی ماں نے تمہیں دیکھتے ہی ریجکٹ کردیا۔۔۔ وجہ پوچھ سکتی ہوں۔۔۔۔ ایزل نے کافی گہرا وار کیا۔۔۔۔۔
بکواس بند کرو۔۔۔۔ مجھے کسی نے ریجکٹ نہیں کیا۔۔ میں نے خود انکار کیا تھا۔۔۔ کیونکہ میں ایان سے محبت کرتی ہوں۔۔۔ ارسہ کا ٹمپر لوز ہونے لگا۔۔۔۔
میرے ہسبنڈ سے دور رہنا۔۔۔ میں شریف ہوں مگر اتنی بھی نہیں کہ اپنے حق کے لئے آواز بھی نا اٹھا سکوں۔۔۔ تم جیسوں کو ان کی اوقات منٹوں میں یاد دلاسکتی ہوں۔۔۔۔ایزل نے انگلی اٹھا کر سے وارن کیا۔۔۔ مگر اگلے لمحے ارسہ کا ہاتھ ہوا میں معلق ہوا مگر ایزل کے چہرے پر چھاپ چھوڑنے سے پہلے کسی نے روک لیا تھا۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بھابھی پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔ اریشہ نے اسکا ہاتھ زور سے جھٹک دیا۔۔۔۔۔اور شرم آنی چاہیے تمہیں ایک شادی شدہ مرد پر ڈورے ڈال رہی ہو جو تمہیں بہن جتنا مان دے رہا ہے۔۔۔۔ اریشہ غصے سے پھنکاری۔۔۔۔
تم کون ہوتی ہو مجھ سے سول جواب کرنے والی۔۔۔۔ چٹکیوں میں تمہیں اس گھر سے چلتا کروادوں گی۔۔۔۔ پتہ نہیں کس غلاظت کے ڈھیر سے ابیان اٹھا کر لے آیا ہے تمہیں جو۔۔۔۔۔۔
ارسہ۔۔۔۔ دل دہلانے والی وحشت ناک دھاڑ سے کچن میں موجود تینوں نفوس کی سانسیں اٹکنے لگی۔۔۔۔
اگر ایک اور لفظ میری بہن کے بارے میں بولا تو ذبان گدی سے کھنیچ نکال دوں گا۔۔۔۔ اور اپنا سامان باندھو تاکہ تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آوں۔۔۔ مجھے اپنے گھر میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہئے اور نا ہی اپنی بہن کے ساتھ کوئی ذیادتی برداشت کروں گا۔۔۔اریشہ کے خلاف بولنے والوں کو میں صفحہ ہستی سے مٹانے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔تمہیں موم کی وجہ سے بخش دیا۔۔۔۔ جب ہم در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے تب تو تمہارے باپ نے پلٹ کر پوچھا بھی نہیں۔۔۔ یہ تو شکر ہے بڑے ماموں کو اللّٰہ تعالٰی نے وسیلہ بناکر بھیجا اور ہمیں سہارا دیا۔۔۔۔ یہ میری موم کا بڑپن ہے کہ تمہیں اپنے گھر میں رہنے دے رہی ہے۔۔۔۔ ابیان اس سے اگلے پچھلے سارے حساب بے باک کرنے لگا۔۔۔
اریشہ کو سینے سے لگا کر اسکا ماتھا چومتے ہوئے وہ کچن سے نکل گیا۔۔۔۔ پیچھے ارسہ زلزلوں کی زد میں تھی ۔۔۔۔۔ ایک تنفر بھری نظر ایزل پر ڈال کر وہ بھی چلی گئی۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^
وہ حورم کو اپنے ساتھ شاپنگ پر لے آیا۔۔۔ اسی مال کے سامنے سے گزرتے ہوئے پرسوں اس نے برائیڈل ڈریسز کی فوٹوز لے کر صارم کو بھیجی تھی کہ مما ان میں سے پسند کرلے۔۔۔ اب دوبارہ وہ یہاں حورم کو لیکر آیا تھا۔۔۔۔
اپنی ماں کے پسند کا برائیڈل ڈریس اس نے حورم کو دکھایا تو ان کی نظروں میں ستائش دیکھ کر دل ہی دل میں اپنی مما کی چوائس کو داد دی۔۔۔۔ ڈریس کے ساتھ حورم نے سینڈل اور جیولری بھی لینی تھی۔۔۔ اسلئے وہ عائش کے ساتھ دوسرے فلور پر اگئی۔۔۔۔
عائش کو سینڈل پسند ہی نہیں آرہے تھے۔۔۔۔ بالآخر حورم تھک کر اسے ڈانٹنے لگی۔۔۔۔
عائش بس کردو نا۔۔۔ میں مزید چل نہیں سکتی۔۔۔
یہ ہیل والے شوز پہن کر کون شاپنگ کرنے جاتا ہے۔۔ جو آپ پہن کر آگئی ہے ۔۔۔ حیرت ہے مجھے کس طرح لوگ اس میں کمفرٹیںبل ہوکر چلتے پھرتے ہیں۔۔۔۔ آپکو چلنے میں دقت ہو رہی ہے نا تو چلے آپ بیٹھ جائے میں دیکھتا ہوں کچھ فلیٹ شوز ۔۔۔۔۔اسے صوفے پر بٹھا کے وہ خود اس کے لئے شوز دیکھنے لگا اور بغیر ہیل کے ایک جوتا اٹھا کر اسکے قریب دوزانوں بیٹھ کر اسکا جوتا اتارنے لگا۔۔۔ حورم نے جلدی سے اپنا پاؤں پیچھے کردیا۔۔۔۔
تم ہاتھ مت لگاؤ پیروں کو۔۔۔ میں کردوں گی۔۔۔
کیوں۔۔۔ ایک آئی برو اچکا کر پوچھا گیا۔۔۔۔
ہسبنڈ ہو تم ۔۔۔ اچھا نہیں لگتا۔۔۔ حورم نے اتھل پتھل سانسوں کے بیج جواب دیا۔۔۔۔
اوہ کم آن۔۔۔۔آپ ایسی دقیانوسی خیالات بھی رکھ سکتی ہے۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ اسکا پیر واپس سامنے لاکر اپنے گھٹنے پر رکھا تو سفید پیر انتہائی سرخ ہوگئے تھے۔۔۔ عائش نے سرزنشی نظروں سے حورم کو دیکھا تو وہ نظریں چرانے لگی۔۔۔۔
خود پر ستم کرکے آپ مجھے تکلیف دیتی ہے۔۔۔۔ دونوں پیروں سے باری باری ہیل نکال کر اسے فلیٹ کمفرٹیںبل شوز پہنانے لگا۔۔۔۔
عائش شوز تو چینج کروادئے مگر میں واقعی میں تھک چکی ہوں۔۔۔ بس جلدی جلدی شاپنگ کمپلیٹ کرے نا کیوں خود کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ہلکان کر رہے ہو ۔۔۔۔ حورم اکتائے لہجے میں بولی۔۔۔۔
ٹھیک ہے چلے۔۔۔۔ فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔
میچنگ سینڈل اور ایک سمپل جیولری سیٹ کا انتخاب عائش نے خود کیا۔۔۔۔ اسے تو جیولری پسند بھی نہیں تھی مگر دلہن یہ کے لباس کا ایک لازمی جزو ہوتا ہے۔۔۔ جس کے بغیر دلہن نامکمل دکھتی ہے۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنے مگن تھے کہ اچانک سامنے آتی لڑکی کیساتھ عائش کا زوردار تصادم ہوا۔۔۔۔ عائش تو اپنی مضبوط جسامت کی وجہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا البتہ وہ لڑکی کچھ قدم پیچھے لڑکھڑائی دور ہوئی ۔۔۔۔ اور طیش کے عالم میں سامنے والے کی غلیظ گالیوں سے حاطر مدارت کرتی مگر اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی اس کے لب سل گئے۔۔۔۔
جبکہ مقابل دونوں نفوس تیز تند نگاہوں سے لڑکی کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔
تم عائش کو فالو کر رہی تھی نا۔۔۔ حورم نے کرختگی سے پوچھا ۔۔۔۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں وہاں ٹپک جاتی ہو تم۔۔۔
ایکسکیوزمی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیوں پیچھا کروں گی۔۔۔ یہ اتفاق تھا جسٹ ۔۔۔۔ جولی نے کینہ توڑ نظروں سے عائش کے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔
اچھے سے جانتی ہوں میں تم جیسوں کو ۔۔۔ عایش سے دور رہو۔۔۔۔ اگلی بار بار ہمارے راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو انجام برا ہوگا۔۔۔۔
دیکھئے مسز عائش۔۔۔۔ یہ خناس اپنے دماغ سے نکالو۔۔۔ تم لوگ اس وقت میری ملکیت میں کھڑے ہو ۔۔ جولی نے متانت سے کہہ کر مال میں ہر طرف سنہری لائیٹننگ سے دلکش بڑے بڑے حروف میں لکھی گئی” جولی مال” کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
اگر یہ تمہاری ملکیت ہے تو ہم بھی حیرات مانگنے نہیں آئے ۔۔۔۔ اور ہم اس جیسے کئی مال خریدنے کی استطاعت رکھ سکتے ہیں۔۔۔۔حورم متنفر نظر اس پر ڈال کر عائش کے بازو پر سر رکھ کر آگے بڑھنے لگی لیکن پھر کسی خیال کے تحت دو قدم پیچھے کی طرف لیکر جولی کے روبرو کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔
پہلی ملاقات کی نسبت آج حورم اسے مسمرائز کر گئی ۔۔۔ وہ واقعی مشرقی حسن کی دیوی تھی ۔۔۔۔ خوبصورت تیکھے نقوش اور اس پر چار چاند لگانے والی گرین آئیز اور اسکے اوپر گھنیر پلکوں کا جھالر ۔۔۔۔ گلابی کٹاؤدار بھرے بھرے ہونٹ ۔۔۔ وہ محویت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ دونوں ساتھ کھڑے ہوکر ایک شاندار کپل لگ رہے تھے۔۔۔۔۔
پرسوں ہماری شادی ہے ۔۔۔۔ باہر سے کوئی انوائیٹڈ نہیں ہے مگر یہ آفر صرف تمہارے لئے ہے۔۔۔ حورم کے خوبصورت لبوں پر ایک دل جلانے والی مسکان سجی تھی۔۔۔۔۔ جولی کے آنکھوں میں نفرت کے شعلے بھڑکنے لگے۔۔۔۔
تم خاموش کیوں تھے؟؟؟ اسکا منہ بھی تو توڑ سکتے تھے تم ۔۔۔ بڑی آئی سستے سے مال کی ملکیت کا رغب جھاڑنے والی ۔۔۔ حورم کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر عایش مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
بلکل توڑ سکتا تھا۔۔ مگر وہ کیا ہے نا میری بیوی نے مجھے ہر کسی کے منہ لگنے سے منع کیا تھا۔۔۔ عائش نے سر اسکی طرف خم کرکے جی دار لہجے میں کہا تو حورم کی مسکراہٹ بھی گہری ہوگئی۔۔۔۔
اور بیگم آپکی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وہ کوئی سستا مال نہیں یہاں کے سب سے مہنگے ترین مالز میں سے اس کا شمار ہوتا ہے ۔۔۔ وہ ایک بلینئر کی بیٹی ہے۔۔۔۔ عایش نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔۔۔۔
ہا تو مجھے کیا۔۔۔۔ حورم نے اسکی بات جیسے ہوا میں اڑائی ۔۔۔۔
عائش کے موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آیا تو کوٹ کے پاکٹ سے موبائل نکال کر مسیج دیکھ کر ہنسنے لگا۔۔۔اور فون واپس پاکٹ میں رکھنے لگا کہ حورم نے پھرتی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔
کس کے میسیجز پر اتنے مسکرا رہے ہو۔۔۔ دکھاؤ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ یہ اپکا سوتن پلس بھائی ہے۔۔۔۔ عائش موبائل حورم کو پکڑا کر گاڑی میں سامان رکھنے لگا ۔۔۔۔۔
تم نے پھر اسے کوکنگ کرنے کا بولا تھا ۔۔۔ ہمیشہ بے چارے کو پیستے رہتے ہو۔۔۔۔ حورم نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔۔
آپ تھک گئی ہے اور جب گھر جائیں گے تب آپ کوکنگ کروگی اسلئے آپ کی سہولت کے لئے اسے بول کر آیا تھا ۔۔۔۔
میں آرڈر کر رہی ہوں کچھ ۔۔۔ شارق کو میں نے منع کردیا ۔۔۔۔ حورم نے عائش کے موبائل سے آرڈر کردیا۔۔۔۔۔
مگر آپ تو۔۔۔۔۔۔
کھا لوں گی میں ایک دن باہر کا ۔۔۔ ڈونٹ وری ۔۔۔ حورم نے عائش کی بات کاٹ کر کہا۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
موم میرا نا گول گپے کھانے کا بڑا من کر رہا ہے۔۔۔ حبا ہال میں ادینہ اور حنا کے ساتھ بیٹھی تھی کی اچانک بول اٹھی ۔۔۔۔
ارمغان آجائے تو لے جائے گا تمہیں۔۔۔۔ اور ویسے بھی تمہارے لئے ہیلتھدی ڈائٹ پلان کیا ہے۔۔۔ یہ سب چیزیں مضر ہے تمہاری صحت کے لئے بھی اور بے بی کے لئے بھی۔۔۔۔ تمہاری زارش آپی بھی شوق سے کھاتی تھی پھر ان کا بچہ بھی کتنا ویک تھا۔۔۔ تم بھی ہیلتھدی فوڈ کھاؤ ۔۔۔۔۔حنا اسے پیار سے سمجھانے لگی ۔۔۔۔
بھابھی بچی ہے نا۔۔۔ میں بھی تو کھاتی تھی یہ سب چیزیں پھر عائش تو کافی صحت مند تھا۔۔۔ ادینہ کےنظروں سامنے عائش کا سرخ گول ٹال مٹول چہرہ گھومنے لگا تو اس نے اذیت سے آنکھیں میچی ۔۔۔۔
ہاں ماشاءاللہ سے ہمارا بچہ تو اتنا گولو مولو تھا۔۔۔ کہ اگر حورم کی نظر سے بچا کر اٹھا لیتے تو ہاتھ دکھ جاتے۔۔۔۔ حنا نے بھی تائید کی۔۔۔۔
اور اللہ کی قدرت دیکھو دونوں شادی کے بندھن میں بھی بندھ گئے ۔۔۔ بس اب اللہ عایش کے دل میں حورم کے لئے محبت ڈال دے۔۔۔ بڑوں کے فیصلوں پر سر جھکا تو دیا مگر عمر بھر کا ساتھ ہے۔۔۔ عایش کو لیکر حنا کو بھی کافی حدشات لاحق تھی۔۔۔
وہ اپنی من مانی کرنے والا اور اپنے طریقے سے جینے والا لڑکا تھا ۔۔۔ ایک بار کسی چیز کی ٹھان لیتا تو اسے حاصل کئے بنا سکون نہیں آتا اسے۔۔۔۔جنونی تھا میرا بچا۔۔۔ اور اب اسکی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر اس پر مسلط کیا گیا ہے ۔۔۔ حنا کو رہ رہ کر عایش کی فکر ستائے جا رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ اس کے برعکس ادینہ کافی مطمئن تھی۔۔۔۔
بھابھی وہ صارم فاروقی کا بیٹا ہے ۔۔۔۔اسے رشتے نبھانے آتے ہیں۔۔۔۔ کسی کا کہا گیا جملہ کانوں میں بازگشت کرنے لگا تو ادینہ نے لفظ بہ لفظ دہرایا۔۔۔
جانتی ہوں اپنے بچے کو ۔۔۔ حنا کے لہجے میں عائش کے لیے بے پناہ چاہت پنہاں تھی۔۔۔۔
مما میں کھا سکتی ہوں نا اب۔۔۔ حبا کو پھر سے اپنے گول گپے یاد اگئے۔۔۔۔
ہاں بیٹا مگر ابھی کون لیکر جائے گا تمہیں ۔۔
میں لیکر جاؤں گا اپنی بیٹی کو ۔۔۔۔ چلو۔۔۔ صارم اسی وقت ڈیوٹی سے واپس آیا تھا ۔۔۔ مگر حبا کی فرمائش پر وہ اسے ساتھ لیکر چلنے لگا۔۔۔۔
صارم بس ایک پلیٹ کھلانا اسے۔۔۔ ادینہ نے پیچھے سے آواز دی ۔۔۔۔
کیوں تمہیں ایک پلیٹ لیکر کھلاتا تھا۔۔۔ صارم نے طنز کے میٹھے تیر چلائے ۔۔۔ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھی۔۔۔تو ادینہ نے زبردست گھوریوں سے نوازا۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^
حبا کو تیسرے پلیٹ کے لئے ہاتھ بڑھاتے دیکھ کر صارم نے روک لیا۔۔۔۔
بس بیٹا ۔۔۔ تمہاری مما کو بھی دو ہی کھلایا کرتا تھا۔۔۔ دیکھو میں ایک انصاف پسند پولیس والا ہوں۔۔۔ چلو ہاتھ صاف کرلو۔۔۔ اور دیکھو لوگ کس طرح رک رک کر مجھے دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ کہ اتنا بڑا پولیس آفیسر اپنی بیٹی کو یہاں سے چیزیں کھلا رہا ہے۔۔۔ صارم اپنے اردگرد لوگوں سے مکمل بے نیازی برت کر حبا کے ہاتھ صاف کرنے لگا۔۔۔۔ جو بے یقینی اور ششدر نگاہوں سے آئی جی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ بیٹی کے لئے اتنا تو کر سکتے ہیں نا اپ۔۔۔ حبا نے جلدی سے ہاتھ صاف کرکے کہا۔۔۔۔
صارم نے گول گپے والوں کو پیسے دینے چاہیے تو وہ لینے سے ہچکچا رہا تھا۔۔۔
صاب رہنے دو۔۔۔ آپکی بیٹی سے پیسے لیتے اچھا تھوڑی لگے گا۔۔۔۔ اور یہ تو بس دوسو روپے ہوگئے آپ اتنے زیادہ کیوں دے رہے ہیں۔۔۔۔
یہ ان چیزوں کے پیسے نہیں ہے۔۔۔ بلکہ یہ چیزیں کھا کر میری بیٹی کے چہرے پر جو یہ خوشی نظر آرہی ہے آپ کو۔۔۔ یہ اسکے عوض بس تھوڑا سا انعام ہے۔۔۔ رکھ لو۔۔۔
صارم نے اسے پیسے تھما دیے۔۔۔ صارم سے حبا کو بچپن سے ہی ارسلان کی وجہ سے کافی لگاؤ تھا۔۔۔ اور اب تو اسکی بہو بھی بن گئی تھی۔۔۔اتنی سے فرمائش پر وہ اپنا عہدہ اپنی وقار سائڈ پر رکھ کر اسے ایک ریڑھی والے کے پاس سے بول گپے کھلانے لایا تھا۔۔۔۔ وہ بے اختیار صارم کے سینے سے لگی۔۔۔ تھینکس پاپا۔۔۔ لو یو ۔۔۔۔۔
لو یو ٹو پاپا کی جان۔۔۔ صارم نے اسکے سر پر بوسہ دیا اور گاڑی کی طرف قدم بڑھا دیئے ۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
اپنی ماں سے اتنے بدگمان نہیں ہوتے بچے کہ معاف ہی نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ مسیج لکھ کر سینڈ کردیا ۔۔۔۔۔
عائش موبایل سکرین پر نظریں گاڑھے چپ و بے تاثر ساکت بیٹھا تھا۔۔۔
عائش۔۔۔شارق نے ہولے سے اسکا کندھا ہلایا تو وہ چونک گیا۔۔۔۔
ہمم۔۔۔۔۔۔
کس کا میسیج ہے۔۔۔۔
اس نے کچھ کہے بغیر موبائل شارق کو پکڑوایا۔۔۔۔
تم ابھی تک اپنی مما کی طرف سے دل صاف نہیں کرسکے۔۔۔۔
ایک زہرخند مسکان عائش کے لبوں پر ابھری ۔۔۔ میں یا مما۔۔۔۔ کیا ناجائز خواہش کی تھی میں نے ۔۔۔ بس شدت سے حورم کا ساتھ مانگا تھا نا۔۔۔ اور جب سب کی رضامندی سے ملاپ ہوگیا تب بھی مما نے ایک بار بھی مجھے مبارک باد نہیں دی۔۔۔ محبت کرنا گناہ تو نہیں۔۔۔ مطلب وہ اب بھی خوش نہیں۔۔۔ آخر میں اس کی آواز بھاری ہوگئی۔۔۔۔ حورم نے روم سے نکل کر اسکے کپکپاتے وجود کو دیکھا جو ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔ اس کی شکستہ حالت اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ اپنے اندر اٹھنے والے طوفان کو دبانے کے کوشش کر رہا ہے۔۔۔ ورنہ وہ چٹان جتنا مضبوط شخص اتنا کمزور نہیں تھا۔۔۔۔ جتنا اب اسکا رواں رواں بے چین ہورہا تھا۔۔۔
حورم کو دیکھ کر شارق نے باہر جانے میں ہی عافیت سمجھی۔۔۔۔عایش کی مذاق میں کی جانے والی بات کہی نا کہی سچ بھی تھی۔۔۔۔عائش کو سہارا دینے اسکی بیوی آگئی تھی۔۔۔ مگر شارق کے احسانات کو وہ چاہ کر بھی نظر انداز نہیں کرسکتا ۔۔۔۔
بیٹھو شارق ۔۔۔۔ عائش نے شارق کو روکنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ حورم کی آواز کانوں میں پڑی۔۔۔
حورم کے آنے سے میرے دل میں تمہارا جو مقام ہے وہ تبدیل کرنا ناممکنات میں شمار ہوگا ۔۔۔ مجھے اپنی ہیپی لائف میں حورم اور شارق دونوں کا ساتھ چاہئیے۔۔۔۔۔۔ دونوں کے بغیر عایش نامکمل ہے۔۔۔ حورم تو مجھے انتہائی صبر آزما انتظار کے بعد اب ملی ہے ۔۔۔ لیکن جب میں ہجر کی کٹھن راتیں تنہا کاٹ رہا تھا تب مجھے دلاسہ دینے صرف تم تھے۔۔ سب جانتے ہیں کہ میں چن چن کر انتخاب کرنے کا قائل ہوں۔۔ مجھے آس پاس لوگوں کی بھیڑ نہیں پسند۔۔۔ سچا اود مخلص دوست ہزار منافق دوستوں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔۔۔ جو تم نے وفا کرکے ثابت بھی کردیا۔۔۔۔۔ عائش نے اسے اسکی جگہ واپس بٹھایا ۔۔۔ حورم اسکے دوسرے سائڈ پر آکر بیٹھ گئی۔۔۔ جس کے دونوں ہاتھوں میں مہندی لگی تھی ۔۔۔۔ ابھی نورین اسے مہندی لگوا کر گئی تھی۔۔۔ اس گاؤں کی بچی نے اتنی مہارت سے منہدی لگوائی کہ کتنے لمحے تک حورم بھی تعجب سے اپنے ہاتھوں کی سرخ ہے ہتھیلیوں پر نقش کی گئی اس کے ہاتھوں کے گلکاری دیکھ رہی ساکت تھی۔۔۔
لگ گئی مہندی ۔۔۔ عائش اپنا ہر درد تکلیف پس پشت ڈال کر اسکے ہاتھوں کی مہندی دیکھنے میں محو ہوگیا۔۔۔۔۔
جبکہ شارق ابھی تک عائش کے بولے گئے الفاظ کے زیر اثر تھا۔۔۔۔ عائش نے شارق کو لیکر کبھی اپنے جذبات عیاں نہیں کئے تھے۔۔۔وہ ہمیشہ سردمہری اور سنجیدگی کا ٹیگ ماتھے پر لگا کر گھومتا تھا۔۔۔ مگر آج اتنا کھلم کھلا اسے اپنے دل میں اتنے اونچے مسند پر بٹھا کر اسے آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
شارق تم بھی دیکھ لو حورم نے میرے نام کی مہندی لگائی ہے۔۔۔۔ حورم کی مہندی لگی ہتھیلیاں اس کے آگے کربولا تو شارق نے بھی توصیفی نظروں سے اسے دیکھ کرماشاءاللہ کہا ۔۔۔۔
میں ذرا اریشہ سے بات کرکے آتا ہوں۔۔۔ ناراض ہوگئی ہے ۔۔۔ شارق نے موبائل سکرین سامنے کرکے آنے والے کال کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
اوکے جاؤ۔۔۔۔
عائش مما تم سے بہت پیار کرتی ہے۔۔۔ تم نے بدگمانی کی جو دبیز چادر اوڑھ لی ہے اس سے خود کو آزاد کرلو ۔۔۔۔
انہیں میں نے قسم دی تھی کہ وہ تمہارے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائیں گی ۔۔۔۔ تم نے اس دن بھی بولا تھا نا کہ مما کیوں چپ تھی۔۔۔ جب سب لوگ ہماری شادی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔۔۔۔تو وجہ میری دی ہوئی قسم کا مان رکھنا تھا۔۔۔۔۔
تو انہیں اب خوش ہونا چاہیے تھا نا کیونکہ انکا بیٹا خوش ہے ۔۔۔۔ایک مسیج تک گوارا نہیں کیا نکاح کے بعد۔۔۔۔ عائش کا شکوہ بجا تھا ۔۔۔۔
ہاں تو تمہیں کرلینا چاہیے تھا نا۔۔۔ تمہارے لئے اتنا بڑا دن تھا۔۔۔ اپنی خوشیوں میں ماں کو شامل کرنا تم پر واجب تھا۔۔۔۔ جس سے تم غفلت برت چکے ہو۔۔۔۔ پیش قدمی کرنی چاہیے تھی تمہیں۔۔۔۔حورم مصلحت سے معاملہ سلجھا رہی تھی۔۔۔
اسلام وعلیکم بھائی اینڈ بھابھی۔۔۔۔ عائز عجلت میں داخل ہوا۔۔۔۔
یہ کونسا وقت ہے آنے کا۔۔۔ اتنی دیر کیوں لگا دی۔۔۔۔ عائش نے گھڑی میں ٹاٹم چیک کرکے متفکرانہ انداز میں پوچھ لیا۔۔۔۔
بھائی آپ دونوں کو تو یاد ہی نہیں رہا کہ ایک عدد معصوم سا بھائی بھی ہے۔۔۔ جو شادی اٹینڈ کرے گا۔۔۔ یہ اپنے لئے شاپنگ کی ہے۔۔۔ اس نے بیگ ٹیبل پر کر رکھ کر کہا۔۔۔۔
باولے ۔۔۔ تمہارے اور شارق کے لئے ایک جیسی شاپنگ کروائی ہیں ہم نے۔۔۔ اپنے خاص دن پر میں اپنے چہیتوں کو بھول سکتا ہوں بھلا۔۔۔عائش نے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔۔
واٹ۔۔۔ پہلے بتا نہیں سکتے۔۔۔ ایویں اپنی پاکٹ منی اڑا دی ۔۔۔۔ عایز نے منہ کے زاویے بگاڑ کر کہا۔۔۔۔۔۔
واووو۔۔۔ مہندی۔۔۔۔ یہ کس نے لگوائی ۔۔۔ عایز حورم کے مہندی لگے ہاتھوں کی طرف دلچسپی سے متوجہ ہوگیا۔۔۔۔
یہ نورین نے۔۔۔ اچھی ہے نا۔۔۔ اور یہاں عائش کا نام بھی لکھا ہے جو اسے خود ڈھونڈنا ہے۔۔۔۔ حورم کے چہرے پر چھائے قوس و قزح کے رنگ دیکھ کر عائش کا دل بغاوت پر اتر ایا۔۔۔۔ مگر عائز کی موجودگی سے دل میں امڈتی حواہش کو تپکی دیکر سلا دیا۔۔۔۔
^^^^^°°°°°°^^^^^^°°°°°
عائش ادھر آو ذرا۔۔۔۔ یہ بال باندھ لو میرے۔۔۔۔ حورم نے عائش کو آواز دی جو کل کے پیپر کےلئے تیاری کر رہا تھا۔۔۔۔ کل لاسٹ پیپر تھا اور شام کو پھر دونوں کی شادی کا چھوٹا سا فنکشن۔۔ جس میں عائش کے کلاس کی کچھ فیلوز اور عایز کی کچھ روم میٹس کو مدعو کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔
عائش نے ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر رکھا گیا کیچر اٹھایا اور بالوں کا جوڑا بنا کر اس کو کیچر میں مقید کیا۔۔۔۔ حورم کو اس نے جلدی ہاتھ دھونے سے منع کیا تھا ۔۔۔۔ مہندی اس نے سپیشل اس کے لئے آرڈر کرکے منگوائی تھی۔۔۔۔
میں سوچ رہی تھی کہ کل میک اپ کے لئے جاؤں تو بالوں کی تھوڑی سے کٹنگ کروالوں۔۔۔لنتھ بھی کم ہوجائے گی۔۔۔ اور۔۔۔۔
مجھے پسند ہیں آپکے لمبے بال ۔۔۔ ایک انچ کٹنگ کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔۔۔۔ ابھی حورم کی بات کمپلیٹ بھی نہیں ہوئی تھی کہ عائش نے درشتی سے کاٹ دی۔۔۔۔
آپ سو جائے۔۔۔ مہندی خراب نہیں کرنی تاکہ کلر گہرا اجائے۔۔۔ وہ لیٹ گئی تو اس کے اوپر کمفرٹر اوڑھا کر وہ لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
کیا ہوا؟؟؟ روشنی چھب رہی ہے آنکھوں میں؟؟ عائش نے اسے بے چینی سے کروٹ بدلتے دیکھا تو استفسار کیا۔۔۔۔
نہیں تم کام کرو ۔۔۔
آپ آرام کرلیں میں شارق کے روم میں جاکر تیاری کرلوں گا وہ خود بھی جاگ رہا ہے۔۔۔۔ مجھے کل آپ بلکل فریش چاہیے ۔۔۔۔ چہرہ کسی کی قسم کی اکتاہٹ بے زاری اور کوفت سے بلکل مبرا ۔۔۔اس کی سائیڈ کا لمپ آف کرکے اس نے بھاری لہجے میں کہ کر اس کے ماتھے پر اپنا نرم لمس چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^
اس نے جلدی لنچ کرلیا تو عائز حورم اور نورین کو سیلون لیکر چلا گیا۔۔۔ انہیں وہاں تیار ہونا تھا۔۔۔۔ جبکہ عائش کا پیپر تھا تو وہ اسے پھر پک کرنے آنے تھا ۔۔۔۔۔ عائش نے فیمل بیوٹیشن سے اس کے لئے اپائنٹمنٹ لیا تھا۔۔۔۔
اسکا میک اپ کیا گیا تو بیوٹیشن نے ہیر سٹائل کا پوچھ لیا۔۔۔ تو اس کے کہنے پر بالوں کا بن بنا کر اس میں موتی لگا دیے ۔۔۔۔
بھاری گولڈن کلر کے فراک میں ملبوس سر پر ریڈ بھاری کامدار شال پہنے ۔۔۔ جس میں مہارت سے اس کے بالوں کو کور کیا تھا۔۔۔ گلے میں ایک نازک سا ڈائیمڈ سیٹ پہنے جو صارم نے ارڈدر کیا تھا۔۔۔اور اسکے ساتھ ہلکے سے بندے کانوں میں آویزاں کئے۔۔۔ ایک ہاتھ کی سفید مرمری کلائی میں دو گولڈ کے کڑے اور دوسرے ہاتھ میں شال کے ہم رنگ سرخ چوڑیاں پہنے اور ساتھ میں تھوڑی سی ہیل والے گولڈن سینڈل۔۔۔۔ ہلکے پھلکے میک اپ سے مزین چہرہ ۔۔۔۔ اپنے سجے سنورے روپ پر نظر ڈال کر وہ خود جیسے جم گئی ۔۔۔ جبکہ عائش کا سوچتے ہوئے اسکے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرنے لگے اور دل ایک الگ تڑلے دھڑکنے لگا۔۔۔۔
یو لک گارجئیس ۔۔۔ بیوٹیشن نے اسکے خوبصورتی کو سراہا ۔۔۔ لباس کا انتخاب کرتے وقت پردے کا حاصل خیال رکھا گیا تھا ۔۔۔۔ آستین فل تھے۔۔۔۔
نورین کو اندر بلایا گیا تو وہ ساکت و جامد بس حورم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ارے باجی میرا یہ حال ہے تو آپکے شوہر تو دیکھ کر ہوش کھو دیں گے۔۔۔ نورین نے آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھ کر اس کے چہرے پر پھونک مار دی۔۔۔ اب آپکو نظر نہیں لگے گی ۔۔۔
تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ نورین کے لئے بھی عایش نے ایک اچھا سا فینسی سوٹ خریدا تھا۔۔۔ اس وقت اپنے روزمرہ خلیے کے برعکس کہیں سے بھی کام والی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ بلکہ اپر کلاس کی ایک ماڈرن لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔ فقیری بھی اچھے اچھے حسن کھا جاتی ہے۔۔۔ حورم کے کہنے پر اس کے بالوں کی کٹنگ کروائی گئی تھی ۔۔۔ اور ہلکا سا میک اپ بھی ۔۔۔۔ وہ بڑی بڑی آنکھوں والی اور خوبصورت نین نقوش کی مالک وہ پتلی سی لڑکی جو ہمہ وقت بڑے سے دوپٹے میں خود کو چھپاتی پھرتی تھی آج اسے حیران کر گئی۔۔۔۔
عائش کا میسیج اسے موصول ہوچکا تھا جو باہر اسکا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔
عائش کی بے باک نظروں کی گستاخیاں آج کل ویسے بھی اسے خائف کرتی تھی اور اب اس حالت میں اس کے پاس جانا تو سوہان روح بنا ہوا تھا۔۔۔ وہ نورین کے ہمراہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہر نکل آئی تو عائش کو دیکھ کر ہتھیلیاں پسینے سے نم ہوگئی۔۔۔۔ وہ گاڑی سے ٹیک لگائے محو انتظار تھا۔۔۔ حورم پر نظر پڑتے ہی وہ پھرتی سے اس کے قریب آنے لگا۔۔۔ اس کے بڑھتے قدموں سے حورم کی دھڑکنوں کی رفتار بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
پلک چھپکائے بغیر اس کے سجے سنورے روپ کو پرتپش اور محویت بھری نظروں سے دیکھ کر وہ واقعی حواس کھونے لگا ۔۔۔ ہلکی سی تیاری نے اسکے دوآتشہ حسن کو اجاگر کیا تھا۔۔۔۔ کوئی اتنا حسین کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔
صاب جی نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔ نورین کی آواز اسے سپنوں کی دنیا سے کھینچ لایا۔۔
نورین کتنی دفعہ بولا ہے صاب نا کہا کرو۔۔۔ تم مجھے بھائی بھی تو بول سکتی ہو نا۔۔۔۔ مجھے تو اس نام سے بڑے بزرگوں وآلی فیلنگز آتی ہے۔۔۔ اپنی خفت مٹانے کے لئے وہ کوفت سے بولا تو اسکی بکھرے حواس دیکھ کر حورم کے لب متبسم ہوئے۔۔۔۔
چلے۔۔۔۔ عائش نے اس کے گرد بازوؤں کا حصار باندھا۔۔۔۔۔
اسکے لئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے احتیاط کے ساتھ اندر بٹھایا ۔۔۔۔
گھر پہنچ کر اسے اسکے روم میں بجھواکر وہ شارق کے روم میں تیار ہونے چلا گیا۔۔۔ عایز شارق دونوں اس کا ہی ویٹ کر رہے تھے۔۔۔
اسنے اپنے لئے ایک سادہ سا سوٹ لیا تھا۔۔۔۔ چینج کر کے بالوں کو جیل سے سیٹ کردیا اور اپنے کلر فل بینڈز اٹھا کر پہنے لگا کہ عائز نے اسکے ہاتھ سے چھین لیے۔۔۔ یہ لوفرانہ پلس عاشقانہ عادتوں کو خیرآباد کہئے اب۔۔۔۔ شادی ہو رہی ہے آپکی تو ایک مہذب انسان بن جائیں۔۔۔ یہ رنگز بھی نہیں پہنے۔۔۔۔اسکے سارے رنگز بیڈز جو ہمہ وقت اسکے ہاتھوں کی زینت بنے ہوتے تھے اٹھا کر ڈسٹ بن کے نظر کردئیے۔۔۔ پھر عایز نے اپنی طرف سے لیا گیا شادی کا گفٹ اسکے سامنے کھولا اور ڈائمنڈ رنگ نکال کر اسے پہنایا۔۔۔۔
عایش حیرت سے اسکی یہ ساری کاروائی ملاحظہ کر رہا تھا۔۔۔۔ اب بن گئے ہو عائش فاروقی سن آف صارم فاروقی۔۔۔ عائز نے تفاخر سہ کہہ کر پرفیوم کی بوتل اٹھا کر اس پر آدھی بوتل سپرے کردی۔۔۔۔ اور اسکے گالوں پر باری باری بوسے دیے کر اسکے سینے سے لگا۔۔۔۔
میں ابھی فیس کو واش کرکے آیا تھا۔۔۔ عائش نے اپنے فیس کو ہلکا سا سہلا کر اسے چھڑایا۔۔۔۔
ہاں اب جا کر اپنی بیوی کا فیس بھی سرف ایکسل دھو لو۔۔۔ عایز نے ٹونٹ کیا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ تم نے حورم کو کس کیا ؟؟؟ عائش نے سخت برہم ہو کر پوچھا۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ آپکی بیوی ابھی بن گئی ہے۔۔۔ میری بہن پہلے سے تھی۔۔۔ اب اتنی پیاری لگ رہی تھی تو من کیا کس کرنے کا۔۔۔۔ عائز اسکے شدید تاثرات دیکھ کر محفوظ ہو رہا تھا۔۔۔۔
کہاں پہ کس کیا ہے۔۔۔ عایش اسے گردن سے پکڑ کر ہلکا سا دھاڑا۔۔۔۔
یہاں۔۔۔۔ عائز نے دوبارہ اس کے گال پر پیار کرکے کہا۔۔۔۔۔
عائش نے اسکو زور سے صوفے پر پٹخ دیا ۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ آپ کا حق تھا نا پہلے چھونا۔۔۔۔
چچچچچ۔۔۔ عایز گن گن کر بدلے لے رہا تھا ۔۔۔۔
تمہارے کچھ ذیادہ پر نہیں نکل آئے آج۔۔۔ یہ کس کے سہارے پر شیر بنے ہوئے ہو۔۔۔ عائش کے اندر اشتغال برپا تھا ۔۔۔۔۔
لو یو بھائی۔۔۔۔ لو یو سو مچ۔۔۔ عائز اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ کرکے اس کے چوڑے سینے سے لگا ۔۔۔۔۔ تو عائش کے انگارو بنے وجود پر ٹھنڈی پھوار بہنے لگی۔۔۔۔ اور اسکا سر اوپر کرکے اس ایکشن ککا ری ایکشن دے دیا۔۔۔۔
میں نے آپکی بیگم کو یہاں کس کیا تھا۔۔۔ عایز نے سنجیدگی سے کہہ کر عائش کے ماتھے کو چھوا۔۔۔۔ ڈونٹ وری اب اتنا بے وقوف بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔
اب آپکو پاپا کی طرف سے بھیجنے والا ایک من پسند تخفہ پیش کرنے والا ہوں۔۔۔۔ عائز نے معنی خیزی سے کہہ کر آنکھ دبائی ۔۔۔
من پسند تخفہ تو پاپا دے چکے ہیں اور دوسرا تو۔۔۔ عائش کے خوبرو چہرے پر ویرانی چھا گئی ۔۔۔۔
روم کا دروازہ کھلا اور سامنے موجود انسان کو دیکھ کر عائش کی نگاہیں ٹھٹھک گئی ۔۔۔۔ وہ سن ہوتے وجود کے ساتھ بےیقینی آنکھوں میں سمائے مقابل پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔
مما۔۔۔۔۔ بغیر آواز کے ہونٹوں نے جنبش کی۔۔۔ اور پھر بجلی کی سی تیزی سے وہ وہ بھاگ کر اسکے سینے سے لگا۔۔۔۔
ادینہ کے آنکھوں سے نمکین موتیوں کی لڑیاں بہنے لگی۔۔۔۔ اس نے عایش کو خود میں بھینچا اور پھر اسکے چہرے کو لگاتار چومنے لگی۔۔۔۔
میرا بچا۔۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔۔
آپکے عائش نے آپکو بہت مس کیا مما۔۔۔ ہر جگہ اپکی کمی مجھ پر گراں گزری ۔۔۔ سب بولتے ہیں عائش سٹرونگ ہے روتا نہیں۔۔۔ مما رات کی تاریکیاں گواہ ہے آپکو یاد کرکے آپکی ایک آواز سننے کے لئے میں تڑپتا رہا روتا رہا بکھرتا رہا ۔۔۔ یہ یہ شارق اس سے پوچھو۔۔۔ یہ تھک جاتا تھا مجھے سمیٹتے سمیٹتے۔۔۔۔ وہ ہذیانی کیفیت میں بول رہا تھا جبکہ ادینہ اسکے دل میں ابلتے لاوے کو بہانے دے رہی تھی۔۔۔۔۔
اگر تم درد میں تھے تو تکلیف میں تمہاری مما بھی ہوتی ۔۔۔۔ عائش تم میرے اور صارم کی جینے کی وجہ ہو۔۔۔۔ میں کبھی تم سے بدگمان ہوئی ہی نہیں بس وقتی غصہ تھا۔۔۔ پیار کرنا گناہ نہیں ہوتا تمہارا طریقہ غلط تھا۔۔۔۔تم فورس کر رہے تھے حورم کو اسلئے میں آپے سے باہر ہو گئی ۔۔۔اپنی مما کو معاف کردو ۔۔۔
نہیں مما آپ کیوں معافی مانگنے لگی۔۔۔ میں مانتا ہوں میرا طریقہ غلط تھا مگر میرا پیار سچا تھا ۔۔۔۔ حورم میرا عشق تھا میرا جنون ۔۔۔ کیسے میں اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھ سکتا۔۔۔۔آپ نے مجھے سمجھنے سے پہلے مجھے خود سے اور گھر سے دور کردیا۔۔۔ بس میں یہ ایکسپٹ نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔۔۔ عایش ادینہ کے ماتھے کا بوسہ لیتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔۔
میں نے دور کردیا تو جیسے تم نے شرافت کا مظاہرہ کرکے مان لیا تھا ۔۔۔ ادینہ کی بات پر وہ کرنٹ کھا کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
کئی بار میں نے تمہیں بالکنی سے حورم کے روم میں آتے جاتے دیکھا ہے ۔۔۔۔ تب سے تمہارے ڈھیٹ پن کی میں کافی اسیر ہوچکی ہوں ۔۔۔۔ عائش کا کان پکڑ کر اس نے گویا اس کے کانوں میں صور پھونکا تو سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی۔۔۔۔
اور یہ تمہارا باڈی گارڈ ۔۔۔ اب اس نے دوسرے ہاتھ سے شارق کے کان کو پکڑا ۔۔۔ اس کی تو میں ۔۔۔۔ سب پھٹی پھٹی نگاہوں سے ادینہ کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔۔
دل و جان سے مشکور ہوں جو یہ چوبیس گھنٹے تمہیں میسر تھا اور تم جیسے سرپھرے عاشق کو سنبھالنے کے لئے کافی تگ ودو کرتا تھا۔۔۔۔
ادینہ نے کہہ کر اس کو بھی پیار کرکے خود سے لگایا ۔۔۔۔
عائش بھائی وہ گیشٹ آگئے ہیں۔۔۔ نورین نے دروازے کے باہر سے آواز لگائی۔۔۔۔
انگلش کا جنازہ۔۔۔ عائز زیرلب بڑبڑایا۔۔۔۔۔
مما آپ حورم سے ملی۔۔۔۔ عائش جلدی سے برش اٹھا کر بالوں کو سیٹ کرنے لگا۔۔۔۔
اس سے مل کر ہی آرہی ہوں۔۔۔ ادینہ اس کے چہرے کا بغور جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔
کیسی لگ رہی تھی؟؟؟ سرسری سا پوچھا ۔۔۔۔
میرے بیٹے کی پسند ہمیشہ ہنڈرڈ پرسنٹ ہوتی ہے۔۔۔۔ لاجواب ۔۔۔ بہت پیاری ۔۔۔ ادینہ کو اس کے چہرے پر چھائے رنگ اتنے بھلے لگ رہے تھے کہ بلا ارادہ بولتی چلی گئی۔۔۔۔۔
اور آپکا بیٹا ۔۔۔۔ عایش ایک نظر خود پر ڈال کر اس کے روبرو کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔۔
شہزادوں کے حسن کو مات دینے والا ۔۔۔ بہت پیارا۔۔۔۔ ادینہ نے ایک بار پھر سے اسے خود سے لگایا۔۔۔۔
پاپا نہیں آئے۔۔۔۔ یا پھر گھر سے کوئی اور۔۔۔ موم ڈیڈ۔۔۔۔
نہیں صارم کو تو کسی کیس کے سلسلے میں جانا تھا۔۔۔ اور بھابھی بھائی سب کو سرپرائز ویڈیوز پکس سینڈ کردیں گے۔۔۔ حبا کی طبیعت ناساز ہے ڈاکٹر نے سفر کرنے سے منع کیا کے تو ایسی حالت میں بھابھی اسے اکیلے چھوڑ کر نہیں آ سکتی ۔۔۔۔ اسلئے ہم نے سب کو سرپرائز دینے کا پلان بنایا ہے۔۔۔۔۔
وہ باہر نکلے تو عائش اور عایز کے تقریباً تمام دوست آئے ہوئے تھے۔۔۔۔ حورم کو باہر لاکر عائش کے ساتھ بٹھایا گیا۔۔۔ سب لوگوں کے نظروں میں دونوں کپل کے لئے ستائش تھی۔۔۔عائش کے سب وہ فلوز انوائیٹڈ تھے جو اسکو صرف دوست کی حد تک مانتے تھے۔۔۔ فوٹوگرافر کیمرے کی آنکھ میں اچھے اچھے لمحے قید کرنے میں لگا ہوا تھا۔۔۔
حورم۔۔۔ عائش نے پاس بیٹھی خوشبو میں رچی بسی حورم کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔
بندہ دو بول تعریف ہی کر دیتا ہے۔۔۔ اتنا ہینڈسم ہسبند ملا ہے۔۔۔۔ اگر شرما رہی ہیں آپ تو بے شک منہ سے کچھ نا بولے بس ایک پیار بھری نظر تو ڈالے نا۔۔۔۔ اتنا برا بھی نہیں لگ رہا۔۔۔۔عایش کے متبسم لب اور پھیل گئے۔۔۔۔
حورم نے بے ساختہ اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ عائش کی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر وہ جز بز ہوتی نظریں جھکانے لگی تھی کہ کیمرے کی آنکھ نے اس حوبصورت پل کو مخفوظ کردیا۔۔۔۔۔
عائش تمہاری خوبصورتی کسی تعریف کی مختاج نہیں۔۔۔ لفظوں کی ہیر پھیر مجھ سے نہیں ہوتی ۔۔۔۔ صرف اتنا کہوں گی کہ تمہارا ساتھ پاکر میں خود کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی تصور کرتی ہوں ۔۔۔۔ حورم کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھآ ۔۔۔۔۔
پیار کریں گی آپ مجھ سے۔۔۔ عایش نے اسکے ہاتھ کی نازک انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسکے گلابی پڑتے چہرے کو خمار بھری آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔۔
جی۔۔۔۔ حورم نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
مہندی نہیں دیکھنی تم نے ۔۔۔ حورم نے اسکا دھیان ہٹانے کو بات بنائی ۔۔۔۔
دیکھوں گا۔۔۔ مگر ابھی نہیں۔۔۔ فرصت سے ۔۔۔۔ خالق کائنات کے اس خوبصورت تخلیق کو سراہنے کے لئے وقت کو قیمتی بنانا پڑے گا ۔۔۔ رات کو جی بھر کر دیکھنا ہے۔۔۔ عائش نے اپنے ہاتھ میں موجود اس کے ہاتھ کی پشت کو سہلا کر کہا۔۔۔۔۔ تو حورم کے ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیلنے لگی۔۔۔۔
عائش نے اردگرد سے بے نیاز ہوکر اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور عقیدت سے اسکی پیشانی پر ہونٹ ثبت کئے۔۔۔۔۔
واوووووو۔۔۔ ہوٹنگ شروع ہوگئی۔۔۔۔
لکی گرل۔۔۔۔ ہاؤ رومانٹک ۔۔۔۔ عائش تو پکا مجنون نکلا ۔۔۔ دبی دبی سرگوشیاں سماعتوں میں گونجی لگی تو حورم نے حجل ہوکے نگاہیں جھکا دی۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
