Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283 Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 27)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 27)
Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan
اس نے جلدی لنچ کرلیا تو عائز حورم اور نورین کو سیلون لیکر چلا گیا۔۔۔ انہیں وہاں تیار ہونا تھا۔۔۔۔ جبکہ عائش کا پیپر تھا تو وہ اسے پھر پک کرنے آنے تھا ۔۔۔۔۔ عائش نے فیمل بیوٹیشن سے اس کے لئے اپائنٹمنٹ لیا تھا۔۔۔۔
اسکا میک اپ کیا گیا تو بیوٹیشن نے ہیر سٹائل کا پوچھ لیا۔۔۔ تو اس کے کہنے پر بالوں کا بن بنا کر اس میں موتی لگا دیے ۔۔۔۔
بھاری گولڈن کلر کے فراک میں ملبوس سر پر ریڈ بھاری کامدار شال پہنے ۔۔۔ جس میں مہارت سے اس کے بالوں کو کور کیا تھا۔۔۔ گلے میں ایک نازک سا ڈائیمڈ سیٹ پہنے جو صارم نے ارڈدر کیا تھا۔۔۔اور اسکے ساتھ ہلکے سے بندے کانوں میں آویزاں کئے۔۔۔ ایک ہاتھ کی سفید مرمری کلائی میں دو گولڈ کے کڑے اور دوسرے ہاتھ میں شال کے ہم رنگ سرخ چوڑیاں پہنے اور ساتھ میں تھوڑی سی ہیل والے گولڈن سینڈل۔۔۔۔ ہلکے پھلکے میک اپ سے مزین چہرہ ۔۔۔۔ اپنے سجے سنورے روپ پر نظر ڈال کر وہ خود جیسے جم گئی ۔۔۔ جبکہ عائش کا سوچتے ہوئے اسکے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرنے لگے اور دل ایک الگ تڑلے دھڑکنے لگا۔۔۔۔
یو لک گارجئیس ۔۔۔ بیوٹیشن نے اسکے خوبصورتی کو سراہا ۔۔۔ لباس کا انتخاب کرتے وقت پردے کا حاصل خیال رکھا گیا تھا ۔۔۔۔ آستین فل تھے۔۔۔۔
نورین کو اندر بلایا گیا تو وہ ساکت و جامد بس حورم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ارے باجی میرا یہ حال ہے تو آپکے شوہر تو دیکھ کر ہوش کھو دیں گے۔۔۔ نورین نے آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھ کر اس کے چہرے پر پھونک مار دی۔۔۔ اب آپکو نظر نہیں لگے گی ۔۔۔
تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ نورین کے لئے بھی عایش نے ایک اچھا سا فینسی سوٹ خریدا تھا۔۔۔ اس وقت اپنے روزمرہ خلیے کے برعکس کہیں سے بھی کام والی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ بلکہ اپر کلاس کی ایک ماڈرن لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔ فقیری بھی اچھے اچھے حسن کھا جاتی ہے۔۔۔ حورم کے کہنے پر اس کے بالوں کی کٹنگ کروائی گئی تھی ۔۔۔ اور ہلکا سا میک اپ بھی ۔۔۔۔ وہ بڑی بڑی آنکھوں والی اور خوبصورت نین نقوش کی مالک وہ پتلی سی لڑکی جو ہمہ وقت بڑے سے دوپٹے میں خود کو چھپاتی پھرتی تھی آج اسے حیران کر گئی۔۔۔۔
عائش کا میسیج اسے موصول ہوچکا تھا جو باہر اسکا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔
عائش کی بے باک نظروں کی گستاخیاں آج کل ویسے بھی اسے خائف کرتی تھی اور اب اس حالت میں اس کے پاس جانا تو سوہان روح بنا ہوا تھا۔۔۔ وہ نورین کے ہمراہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہر نکل آئی تو عائش کو دیکھ کر ہتھیلیاں پسینے سے نم ہوگئی۔۔۔۔ وہ گاڑی سے ٹیک لگائے محو انتظار تھا۔۔۔ حورم پر نظر پڑتے ہی وہ پھرتی سے اس کے قریب آنے لگا۔۔۔ اس کے بڑھتے قدموں سے حورم کی دھڑکنوں کی رفتار بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
پلک چھپکائے بغیر اس کے سجے سنورے روپ کو پرتپش اور محویت بھری نظروں سے دیکھ کر وہ واقعی حواس کھونے لگا ۔۔۔ ہلکی سی تیاری نے اسکے دوآتشہ حسن کو اجاگر کیا تھا۔۔۔۔ کوئی اتنا حسین کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔
صاب جی نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔ نورین کی آواز اسے سپنوں کی دنیا سے کھینچ لایا۔۔
نورین کتنی دفعہ بولا ہے صاب نا کہا کرو۔۔۔ تم مجھے بھائی بھی تو بول سکتی ہو نا۔۔۔۔ مجھے تو اس نام سے بڑے بزرگوں وآلی فیلنگز آتی ہے۔۔۔ اپنی خفت مٹانے کے لئے وہ کوفت سے بولا تو اسکی بکھرے حواس دیکھ کر حورم کے لب متبسم ہوئے۔۔۔۔
چلے۔۔۔۔ عائش نے اس کے گرد بازوؤں کا حصار باندھا۔۔۔۔۔
اسکے لئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے احتیاط کے ساتھ اندر بٹھایا ۔۔۔۔
گھر پہنچ کر اسے اسکے روم میں بجھواکر وہ شارق کے روم میں تیار ہونے چلا گیا۔۔۔ عایز شارق دونوں اس کا ہی ویٹ کر رہے تھے۔۔۔
اسنے اپنے لئے ایک سادہ سا سوٹ لیا تھا۔۔۔۔ چینج کر کے بالوں کو جیل سے سیٹ کردیا اور اپنے کلر فل بینڈز اٹھا کر پہنے لگا کہ عائز نے اسکے ہاتھ سے چھین لیے۔۔۔ یہ لوفرانہ پلس عاشقانہ عادتوں کو خیرآباد کہئے اب۔۔۔۔ شادی ہو رہی ہے آپکی تو ایک مہذب انسان بن جائیں۔۔۔ یہ رنگز بھی نہیں پہنے۔۔۔۔اسکے سارے رنگز بیڈز جو ہمہ وقت اسکے ہاتھوں کی زینت بنے ہوتے تھے اٹھا کر ڈسٹ بن کے نظر کردئیے۔۔۔ پھر عایز نے اپنی طرف سے لیا گیا شادی کا گفٹ اسکے سامنے کھولا اور ڈائمنڈ رنگ نکال کر اسے پہنایا۔۔۔۔
عایش حیرت سے اسکی یہ ساری کاروائی ملاحظہ کر رہا تھا۔۔۔۔ اب بن گئے ہو عائش فاروقی سن آف صارم فاروقی۔۔۔ عائز نے تفاخر سہ کہہ کر پرفیوم کی بوتل اٹھا کر اس پر آدھی بوتل سپرے کردی۔۔۔۔ اور اسکے گالوں پر باری باری بوسے دیے کر اسکے سینے سے لگا۔۔۔۔
میں ابھی فیس کو واش کرکے آیا تھا۔۔۔ عائش نے اپنے فیس کو ہلکا سا سہلا کر اسے چھڑایا۔۔۔۔
ہاں اب جا کر اپنی بیوی کا فیس بھی سرف ایکسل دھو لو۔۔۔ عایز نے ٹونٹ کیا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ تم نے حورم کو کس کیا ؟؟؟ عائش نے سخت برہم ہو کر پوچھا۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ آپکی بیوی ابھی بن گئی ہے۔۔۔ میری بہن پہلے سے تھی۔۔۔ اب اتنی پیاری لگ رہی تھی تو من کیا کس کرنے کا۔۔۔۔ عائز اسکے شدید تاثرات دیکھ کر محفوظ ہو رہا تھا۔۔۔۔
کہاں پہ کس کیا ہے۔۔۔ عایش اسے گردن سے پکڑ کر ہلکا سا دھاڑا۔۔۔۔
یہاں۔۔۔۔ عائز نے دوبارہ اس کے گال پر پیار کرکے کہا۔۔۔۔۔
عائش نے اسکو زور سے صوفے پر پٹخ دیا ۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ آپ کا حق تھا نا پہلے چھونا۔۔۔۔
چچچچچ۔۔۔ عایز گن گن کر بدلے لے رہا تھا ۔۔۔۔
تمہارے کچھ ذیادہ پر نہیں نکل آئے آج۔۔۔ یہ کس کے سہارے پر شیر بنے ہوئے ہو۔۔۔ عائش کے اندر اشتغال برپا تھا ۔۔۔۔۔
لو یو بھائی۔۔۔۔ لو یو سو مچ۔۔۔ عائز اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ کرکے اس کے چوڑے سینے سے لگا ۔۔۔۔۔ تو عائش کے انگارو بنے وجود پر ٹھنڈی پھوار بہنے لگی۔۔۔۔ اور اسکا سر اوپر کرکے اس ایکشن ککا ری ایکشن دے دیا۔۔۔۔
میں نے آپکی بیگم کو یہاں کس کیا تھا۔۔۔ عایز نے سنجیدگی سے کہہ کر عائش کے ماتھے کو چھوا۔۔۔۔ ڈونٹ وری اب اتنا بے وقوف بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔
اب آپکو پاپا کی طرف سے بھیجنے والا ایک من پسند تخفہ پیش کرنے والا ہوں۔۔۔۔ عائز نے معنی خیزی سے کہہ کر آنکھ دبائی ۔۔۔
من پسند تخفہ تو پاپا دے چکے ہیں اور دوسرا تو۔۔۔ عائش کے خوبرو چہرے پر ویرانی چھا گئی ۔۔۔۔
روم کا دروازہ کھلا اور سامنے موجود انسان کو دیکھ کر عائش کی نگاہیں ٹھٹھک گئی ۔۔۔۔ وہ سن ہوتے وجود کے ساتھ بےیقینی آنکھوں میں سمائے مقابل پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔
مما۔۔۔۔۔ بغیر آواز کے ہونٹوں نے جنبش کی۔۔۔ اور پھر بجلی کی سی تیزی سے وہ وہ بھاگ کر اسکے سینے سے لگا۔۔۔۔
ادینہ کے آنکھوں سے نمکین موتیوں کی لڑیاں بہنے لگی۔۔۔۔ اس نے عایش کو خود میں بھینچا اور پھر اسکے چہرے کو لگاتار چومنے لگی۔۔۔۔
میرا بچا۔۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔۔
آپکے عائش نے آپکو بہت مس کیا مما۔۔۔ ہر جگہ اپکی کمی مجھ پر گراں گزری ۔۔۔ سب بولتے ہیں عائش سٹرونگ ہے روتا نہیں۔۔۔ مما رات کی تاریکیاں گواہ ہے آپکو یاد کرکے آپکی ایک آواز سننے کے لئے میں تڑپتا رہا روتا رہا بکھرتا رہا ۔۔۔ یہ یہ شارق اس سے پوچھو۔۔۔ یہ تھک جاتا تھا مجھے سمیٹتے سمیٹتے۔۔۔۔ وہ ہذیانی کیفیت میں بول رہا تھا جبکہ ادینہ اسکے دل میں ابلتے لاوے کو بہانے دے رہی تھی۔۔۔۔۔
اگر تم درد میں تھے تو تکلیف میں تمہاری مما بھی ہوتی ۔۔۔۔ عائش تم میرے اور صارم کی جینے کی وجہ ہو۔۔۔۔ میں کبھی تم سے بدگمان ہوئی ہی نہیں بس وقتی غصہ تھا۔۔۔ پیار کرنا گناہ نہیں ہوتا تمہارا طریقہ غلط تھا۔۔۔۔تم فورس کر رہے تھے حورم کو اسلئے میں آپے سے باہر ہو گئی ۔۔۔اپنی مما کو معاف کردو ۔۔۔
نہیں مما آپ کیوں معافی مانگنے لگی۔۔۔ میں مانتا ہوں میرا طریقہ غلط تھا مگر میرا پیار سچا تھا ۔۔۔۔ حورم میرا عشق تھا میرا جنون ۔۔۔ کیسے میں اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھ سکتا۔۔۔۔آپ نے مجھے سمجھنے سے پہلے مجھے خود سے اور گھر سے دور کردیا۔۔۔ بس میں یہ ایکسپٹ نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔۔۔ عایش ادینہ کے ماتھے کا بوسہ لیتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔۔
میں نے دور کردیا تو جیسے تم نے شرافت کا مظاہرہ کرکے مان لیا تھا ۔۔۔ ادینہ کی بات پر وہ کرنٹ کھا کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
کئی بار میں نے تمہیں بالکنی سے حورم کے روم میں آتے جاتے دیکھا ہے ۔۔۔۔ تب سے تمہارے ڈھیٹ پن کی میں کافی اسیر ہوچکی ہوں ۔۔۔۔ عائش کا کان پکڑ کر اس نے گویا اس کے کانوں میں صور پھونکا تو سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی۔۔۔۔
اور یہ تمہارا باڈی گارڈ ۔۔۔ اب اس نے دوسرے ہاتھ سے شارق کے کان کو پکڑا ۔۔۔ اس کی تو میں ۔۔۔۔ سب پھٹی پھٹی نگاہوں سے ادینہ کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔۔
دل و جان سے مشکور ہوں جو یہ چوبیس گھنٹے تمہیں میسر تھا اور تم جیسے سرپھرے عاشق کو سنبھالنے کے لئے کافی تگ ودو کرتا تھا۔۔۔۔
ادینہ نے کہہ کر اس کو بھی پیار کرکے خود سے لگایا ۔۔۔۔
عائش بھائی وہ گیشٹ آگئے ہیں۔۔۔ نورین نے دروازے کے باہر سے آواز لگائی۔۔۔۔
انگلش کا جنازہ۔۔۔ عائز زیرلب بڑبڑایا۔۔۔۔۔
مما آپ حورم سے ملی۔۔۔۔ عائش جلدی سے برش اٹھا کر بالوں کو سیٹ کرنے لگا۔۔۔۔
اس سے مل کر ہی آرہی ہوں۔۔۔ ادینہ اس کے چہرے کا بغور جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔
کیسی لگ رہی تھی؟؟؟ سرسری سا پوچھا ۔۔۔۔
میرے بیٹے کی پسند ہمیشہ ہنڈرڈ پرسنٹ ہوتی ہے۔۔۔۔ لاجواب ۔۔۔ بہت پیاری ۔۔۔ ادینہ کو اس کے چہرے پر چھائے رنگ اتنے بھلے لگ رہے تھے کہ بلا ارادہ بولتی چلی گئی۔۔۔۔۔
اور آپکا بیٹا ۔۔۔۔ عایش ایک نظر خود پر ڈال کر اس کے روبرو کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔۔
شہزادوں کے حسن کو مات دینے والا ۔۔۔ بہت پیارا۔۔۔۔ ادینہ نے ایک بار پھر سے اسے خود سے لگایا۔۔۔۔
پاپا نہیں آئے۔۔۔۔ یا پھر گھر سے کوئی اور۔۔۔ موم ڈیڈ۔۔۔۔
نہیں صارم کو تو کسی کیس کے سلسلے میں جانا تھا۔۔۔ اور بھابھی بھائی سب کو سرپرائز ویڈیوز پکس سینڈ کردیں گے۔۔۔ حبا کی طبیعت ناساز ہے ڈاکٹر نے سفر کرنے سے منع کیا کے تو ایسی حالت میں بھابھی اسے اکیلے چھوڑ کر نہیں آ سکتی ۔۔۔۔ اسلئے ہم نے سب کو سرپرائز دینے کا پلان بنایا ہے۔۔۔۔۔
وہ باہر نکلے تو عائش اور عایز کے تقریباً تمام دوست آئے ہوئے تھے۔۔۔۔ حورم کو باہر لاکر عائش کے ساتھ بٹھایا گیا۔۔۔ سب لوگوں کے نظروں میں دونوں کپل کے لئے ستائش تھی۔۔۔عائش کے سب وہ فلوز انوائیٹڈ تھے جو اسکو صرف دوست کی حد تک مانتے تھے۔۔۔ فوٹوگرافر کیمرے کی آنکھ میں اچھے اچھے لمحے قید کرنے میں لگا ہوا تھا۔۔۔
حورم۔۔۔ عائش نے پاس بیٹھی خوشبو میں رچی بسی حورم کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔
بندہ دو بول تعریف ہی کر دیتا ہے۔۔۔ اتنا ہینڈسم ہسبند ملا ہے۔۔۔۔ اگر شرما رہی ہیں آپ تو بے شک منہ سے کچھ نا بولے بس ایک پیار بھری نظر تو ڈالے نا۔۔۔۔ اتنا برا بھی نہیں لگ رہا۔۔۔۔عایش کے متبسم لب اور پھیل گئے۔۔۔۔
حورم نے بے ساختہ اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ عائش کی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر وہ جز بز ہوتی نظریں جھکانے لگی تھی کہ کیمرے کی آنکھ نے اس حوبصورت پل کو مخفوظ کردیا۔۔۔۔۔
عائش تمہاری خوبصورتی کسی تعریف کی مختاج نہیں۔۔۔ لفظوں کی ہیر پھیر مجھ سے نہیں ہوتی ۔۔۔۔ صرف اتنا کہوں گی کہ تمہارا ساتھ پاکر میں خود کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی تصور کرتی ہوں ۔۔۔۔ حورم کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھآ ۔۔۔۔۔
پیار کریں گی آپ مجھ سے۔۔۔ عایش نے اسکے ہاتھ کی نازک انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسکے گلابی پڑتے چہرے کو خمار بھری آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔۔
جی۔۔۔۔ حورم نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
مہندی نہیں دیکھنی تم نے ۔۔۔ حورم نے اسکا دھیان ہٹانے کو بات بنائی ۔۔۔۔
دیکھوں گا۔۔۔ مگر ابھی نہیں۔۔۔ فرصت سے ۔۔۔۔ خالق کائنات کے اس خوبصورت تخلیق کو سراہنے کے لئے وقت کو قیمتی بنانا پڑے گا ۔۔۔ رات کو جی بھر کر دیکھنا ہے۔۔۔ عائش نے اپنے ہاتھ میں موجود اس کے ہاتھ کی پشت کو سہلا کر کہا۔۔۔۔۔ تو حورم کے ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیلنے لگی۔۔۔۔
عائش نے اردگرد سے بے نیاز ہوکر اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور عقیدت سے اسکی پیشانی پر ہونٹ ثبت کئے۔۔۔۔۔
واوووووو۔۔۔ ہوٹنگ شروع ہوگئی۔۔۔۔
لکی گرل۔۔۔۔ ہاؤ رومانٹک ۔۔۔۔ عائش تو پکا مجنون نکلا ۔۔۔ دبی دبی سرگوشیاں سماعتوں میں گونجی لگی تو حورم نے حجل ہوکے نگاہیں جھکا دی۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
